No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عرفہ ڈھیلا ڈھالا ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہن کر اب آئینے کے سامنے کھڑی ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی۔ جب آئینے میں اچانک اپنی دائیں گال پر ایک چھوٹا سا پمپل لشکارے مارتا دکھائی دیا تو اس کا صدمے سے برا حال ہو گیا۔
افففففففف، سر پر ہاتھ مارا۔ کیا کچھ نہیں کرتی تھی ان منحوس پمپلز کے خاتمے کے لئے۔ ہزاروں ٹونے ٹوٹکے، ادویات، کڑوے کسیلے معجون، ہوم ریمیڈیز بھی ٹرائی کر کر کے مگر یہ منہوس کہیں نا کہیں سے نکل ہی آتے تھے۔
اب کیا کروں، اس نے پیر پٹخے۔
ہمممممم ایلوویرا، اگر اب کچھ دیر ایلوویرا کی مساج اس منہوس پر کی، تو صبح تک ٹھیک ہو جائے گا،، پاؤں میں چپل پہنتی خود سے ہی باتیں کیے گئی۔
مگر اس حلیے میں باہر کیسے نکلوں،
پھر شال اٹھا کر اپنے گرد پھیلائی۔ اور چپکے سے باہر نکل آئی۔
لان میں پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا اور ایلوویرا کے گملے تک ڈرتے ہوئے آئی۔ کیونکہ ادھر قدرے ملگجہ سا اندھیرا تھا۔ ابھی اس کا پیس توڑنے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ پیچھے سے گلا کھنکھارے جانے کی آواز پر وہ اچھل کر پیچھے مڑی۔ سامنے ہی وہ پرشوق نگاہیں عرفہ پر جمائے ہاتھ اپنے پیچھے باندھے دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جو گال پر بہانے سے ہاتھ رکھ کر وہ پمپل خود سے اور اس سے چھپا چکی تھی۔ سیام اس کی اس معصوم حرکت پر دل کھول کر مسکرایا۔
عرفہ کے ماتھے پر بل آئے۔
کیا کر رہی ہو ادھر،،، سیام نے نرمی سے پوچھا۔
آپ سے مطلب،، اس کا لہجہ کافی سرد تھا۔ سیام نے ٹھنڈی آہ بھری۔
میرے سارے مطلب اب تمھی سے نکلتے ہیں مسز ملک عرفہ سیام،، سیام نے کہتے بہت کچھ جتایا تھا۔
وہ بغیر ایلوویرا لیے واپسی کو پر تولنے لگی۔ جب سیام اس کی راہ میں حائل ہوا تھا۔ اور بڑے بھر پور طریقے سے شعر پڑھ کر اسے چھیڑتے اس کے پمپل پر چوٹ کی کہ وہ دیکھ چکا ہے اسے۔
کاش تیرے منہ پر پمپل کے داغ ہوتے،،،
چاند تو تم ہو ہی ستارے بھی ساتھ ہوتے،،،
وہ لب دانتوں میں دبا کر مسکرایا تھا اور حسبِ معمول وہ بری طرح چڑھ گئی تھی تبھی اس کے پہلو سے نکل کر جانے لگی۔ مگر اتنی ہی تیزی سے سیام نے اس کی کلائی تھامی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑیں مجھے،،، وہ بری طرح مچلی۔ اس کے مچلنے سے شال سرک کر ان دونوں کی قدم بوسی کر چکی تھی۔ عرفہ بوکھلائی تھی۔
مگر وہ ایک جھٹکے سے کھینچ کر اسے سینے سے لگا چکا تھا۔ کمر کے گرد ہاتھ مضبوطی سے حمائل ہوئے۔ وہ تڑپتی رہی مگر اس آہنی گرفت سے نکلنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ رات کے گیارہ بجے، لان میں رات کی رانی کی مہک چہار سو پھیلی تھی۔ ملگجے اندھیرے میں بانہوں میں ایک نرم و نازک وجود، سالہا سال کے تمام سوئے جزبات انگڑائیاں لے کر بیدار ہوئے تھے۔ دل یوں تھا جیسے کانوں میں دھڑک رہا ہو۔ سیام کی نگاہ اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھی۔ بلکہ اس نے اپنا ہاتھ اس کے جوڑے میں پھنسا کر ایک جھٹکے سے کالے سیاہ ناگن کی طرح بل کھاتے بال بھی کمر پر کھول دئیے تھے۔ جھک کر کندھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کی تو عرفہ کی آنکھوں کے آگے چاند تارے ناچے۔
میں آخری مرتبہ بول رہی ہوں، چھوڑیں مجھے،، وہ پھر غرائی۔ سیام گہرا مسکرایا۔
اگر چھوڑیں مجھے آخری مرتبہ بول رہی ہو تو آگے کیا بولو گی پکڑیں مجھے،،؟ دلچسپی سے کہتے اب اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے۔ عرفہ بری طرح مچلتے پتھر کی ہو گئی تھی جیسے اور اب حیرت و صدمے سے اسے دیکھے گئی۔
سیام نے موقع کا فائدہ اٹھایا تھا شاید۔ تبھی ایک ہاتھ اس کے بالوں میں پھنسا کر اس کے حیرت سے ادھ کھلے گداز لب اپنے ہونٹوں کی شدت بھری گرفت میں لیے تھے۔
عرفہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اس کا اس پر الٹا اثر ہی ہوا تھا ۔ کہ اس کے عمل میں شدت ہی آئی تھی۔ اتنی شدت کے عرفہ کو لگا وہ اس کی جان لینے کے در پہ ہے۔
عرفہ نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا تھا۔ شال بھی اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ نم آنکھیں صاف کرتی اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔ اور وہ جیسے اسے چھو کر پتھر کا بنا گئی تھی۔
تبھی وہ کافی دیر شال اٹھا کر ادھر ہی کھڑا رہا۔ بلکہ اپنے آپ کو کوسا تھا کہ کیوں اسے خود سے دور کیا۔ کیوں اپنی جان اور اس کی جان ہجر کی سولی پر چڑھائے رکھی۔ کیوں اسے خود سے بدظن کیا تھا۔
وہ شال لیے کچھ سوچ کر اندر آیا تھا۔
❤️❤️❤️💗❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سلمیٰ بیگم اپنا سامان پیک کر رہی تھیں۔ اور مومی ان کے پاس بیٹھی انھیں بغور دیکھ رہی تھی۔ بلکہ ان کے ساتھ مل کر ان کا سامان بھی پیک کروا رہی تھی۔
امی اتنی اچانک یہ سب،، وہ بیزار ہونا نہیں چاہتی تھی مگر منہ بنا کر بولی۔ سلمیٰ بیگم مسکرائیں۔
اتنی جلدی کہاں مومی، اتنی عرصے سے تو کوششوں میں مصروف تھے بار بار درخواستیں دیں اب اگر حاضری منظور ہو ہی گئی ہے تو ہنسی خوشی ہمیں رخصت کرو، میری بچی،،،
سلمیٰ بیگم نے اس کے کرلی بال کان کے پیچھے اڑسے۔ جو ہر وقت منہ چومنے کو بے تاب رہتے تھے۔
امی، ایک بات پوچھوں؟ مومی پرسوچ سی بولی۔
اونہہہہ،،، پوچھو،، سلمیٰ بیگم مصروف سی بولیں۔
وہ پیپرز کا کیا بنا ،، وہ خلع کے پیپرز کا،، مومی نے جھجھکتے پوچھا تو سلمیٰ بیگم نے اس کے جھکے سر کو بغور دیکھا۔
وہ پیپر یہ الماری میں پڑے ہیں، تم ہر طرح سے آزاد ہو، اپنی مرضی سے جہاں چاہے جب چاہے آ جا سکتی ہو، جو مرضی کر سکتی ہو، کسی بھی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تم پہ، نا کوئی تمھیں کچھ کہے گا، وعدہ ہے یہ میرا باقی رہی ان پیپرز کی بات تو میں کوئی ٹینشن لے کا اللہ تعالیٰ کے گھر نہیں جا سکتی، صرف یہ پچیس دن انتظار کرنا ہے تمھیں بس ہمارے عمرے سے واپسی تک کا انتظار ، اگر چھبیسویں دن تمھارے سائن اس پیپر پر موجود ہوئے تو اس سے اگلے دن تاشو بھی اس پر سائن کر دے گا اوکے،، تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں مومی،،
جی میں سمجھ رہی ہوں امی، ٹھیک ہے جیسا آپ چاہیں،، اسے پتا تھا اب اس کی ماں ہی کافی ہے اس کے لئے اب اسے کسی سے ڈرنے، کسی سے دبنے یا کسی کے بھی رعب میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر تشویش تو اس بات کی تھی کہ اتنے دن وہ کیسے اکیلے اس کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے گزارے گی۔ مگر خیر، اسے اب کیا پرواہ ہو سکتی تھی وہ تو اپنی مرضی کی مالک تھی اب۔
مومی کے سوال پر سلمیٰ بیگم کو ہفتے پہلے کی رات کا وہ منظر یاد آیا جب ہفتے بھر پہلے تابش نے ان سے ایک موقع مانگا تھا۔ کئی مہینوں سے سب بڑے اکھٹے عمرے پر جانے کی درخواستیں دے رہے تھے جو اچانک منظور ہو گئی تھیں۔ پہلے تو کبھی کوئی مسئلہ ہو جاتا کبھی کوئی ۔
اور اب دا جی، سلمیٰ بیگم، عمران، صدیقہ، فیضان اور شازیہ بیگم سب عمرے پر جا رہے تھے۔ تابش نے مومی کو منانے کے لئے بس ان کے عمرے سے واپسی کے دن تک کا وقت مانگا تھا جو کہ انھوں نے فراغ دلی اور خندہ پیشانی کا مظاہرہ کرتے اسے دے دیا تھا۔ تابش نے یہی کہا تھا کہ اگر وہ آئے اور مومی نے اس دن ان پیپرز پر سائن کر دئیے تو اس کے اگلے دن وہ بھی کر دے گا۔ سلمیٰ بیگم نے اس کی بات سے اتفاق کرتے حامی بھر لی تھی۔ اور اب مومی کو بھی سمجھا دیا تھا۔ اور وہ اب سمجھ بھی گئی تھی۔ اب اسے اس رشتے کے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا نا ان دو بولوں سے کوئی سروکار تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سب تیار تھے۔ اور آج تو مومی اور عرفہ بھی تیار تھیں۔ سب بڑوں کو ائیر پورٹ چھوڑ کر آنا تھا۔
عرفہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو بغور دیکھ رہی تھی۔ لائٹ گرین اور ییلو، امتزاج کی فراک میں بالوں کا اونچا سا جوڑا بنائے سکارف اور حجاب سے خود کو اچھی طرح کور کیے وہ بے تحاشا خوبصورت لگ رہی تھی۔ مگر ایک ہفتے سے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا رو رو کر خود ہی ہلکان ہو رہی تھی۔ منفی سوچوں نے جان توڑ دی تھی۔ وہ جو چار سال پہلے اس قدر نفرت کا پرچار کر کے گیا تھا۔ اب لوٹ کر اتنی اچانک اتنی محبت کہاں سے جاگ پڑی تھی۔ تو ضرور بس اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اب بیوی کی یاد آئی تبھی اسے یوں اچانک کوئی اظہار کیے بغیر اپنی محبت کا احساس دلائے بغیر چھوا اس نے۔
وہ تو بری طرح اسے ذلت و آہانت کے گڑھے میں اتارتے دھتکار کر گیا تھا۔ ٹھکرا کر گیا تھا۔
میرے ماتھے پہ سیاہ رنگ سے لکھا ہے منحوس
میں بن ٹھن کے بھی ٹھکرائی ہوئی لگتی ہوں
تو اب یہ سب کیا تھا وہی جو اسے لگ رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو سامنے آتا وہ اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رکا تھا۔ وہ نظر بچا کر گزر جانا چاہتی تھی یا چھپ جانا تبھی اپنے کمرے کی جانب واپس پلٹی مگر وہ ایک مرتبہ پھر اس کی راہ میں حائل ہوا تھا۔ اور اس کی کلائی تھامی۔
کدھر جا رہی ہو،،؟ مخاطب کرنے کو بےتکا سوال پوچھا۔ وہ بھی جلی بیٹھی تھی۔ تبھی پھنکار کر بولی تھی۔
“یہ میک اپ ریموو کرنے کے آپ کو یہ نا لگے کہ میں آپ کو متاثر کرنے کے چکروں میں اتنا خوار ہوئی ہوں یا یہ محنت کی ہے،،
اس کے سرد لہجے میں چبھن سی تھی ۔ سیام کو اپنے ہی الفاظ پر افسوس ہوا۔
وہ باتیں اب تک دل پر لگا کر بیٹھی ہو،، نرمی سے پوچھا تھا۔
جی، کیونکہ وہ باتیں نہیں پتھر تھے جو آپ نے میری عزتِ نفس اور نسوانیت پر برسائے تھے، آئی ہیٹ یو، میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی، کوئی تعلق نہیں میرا آپ سے، سمجھے آپ، نا چاہتے ہوئے بھی لہجہ بھیگ چکا تھا۔ وہ اس پتھر سے سر پھوڑتا نہیں چاہتی تھی۔ مگر پھوڑ رہی تھی۔
کیوں نہیں ہے تعلق عرفہ، اور میرا تو ہر تعلق ہر واسطہ صرف اور صرف تم سے ہے، تم مجھے معاف بھی کرو گی، اور مجھے اپناؤ گی بھی، وہ بھی بہت جلد،،
لہجے معنی خیز تھا۔ وہ جانے کیا سوچ کر بیٹھا تھا۔ پر فی الحال کلائی نرمی سے چھوڑ دی تھی۔
وہ وہاں سے جلدی سے لاؤنج میں آئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ سب ائر پورٹ پر موجود تھے۔
وہ کیمل کلر فراک میں بلیک سکارف سے حجاب کیے بہت ہی خوبصورت اور دلکش لگ رہی تھی۔ کافی دیر سے بار بار ماتھا پسینے سے عرق آلود ہو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی بلیک سن گلاسز کے پیچھے سے وہ بار بار اسے دیکھ رہا ہے۔ مگر پرواہ کسے تھی۔ اس کے لئے بھی عجیب سی بے چینی تھی۔
وہ نہیں جانتی آس پاس ہی ملک ارشمعان کھڑا اسے بڑے پیار سے نہارنے میں مصروف ہے۔
اپنا خیال رکھنا ہاں،، کسی بھی قسم کا کوئی سٹریس لینے کی ضرورت نہیں، میں رابطے میں رہوں گی اپنی بچی کے ،اپنا بہت خیال رکھنا،
سلمیٰ بیگم نے مومی کا ماتھا چوما۔
مومی باقی سب سے ملنے لگی جب تابش سلمیٰ بیگم کے پاس آیا تھا۔
آپ ٹینشن فری ہو جائیں پھپھو، میں مونا کا بہت خیال رکھوں گا، اس پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا وعدہ ہے آپ سے، آپ بس بے فکر ہو کے جائیں،،
سلمیٰ بیگم کے گلے لگا وہ ان سے عہد و پیماں باندھ رہا تھا۔
تمھارے بھروسے پر ہی تو چھوڑ کر جا رہی ہوں تابش، یاد رکھنا مجھے شکایت کا موقع نہیں ملے چاہیے،، انھوں نے کہا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ادھر شازیہ، فیضان، صدیقہ اور عمران عرفہ کو گھیرے کھڑے تھے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے اب انھیں اہم فیصلے لینے تھے اور اہم قدم اٹھانے تھے۔
شازیہ نے عرفہ کے دونوں ہاتھ تھام رکھے تھے۔
(جبکہ وہ دور کھڑا کن اکھیوں سے اپنی کارستانی ملاحظہ فرما رہا تھا)
ہمارے بعد سیام بہت اکیلا ہو جائے گا عرفہ، تابش کے پاس تو مومی ہوگی، کیا تم ہمارے پورشن میں شفٹ ہو جاؤ گی، سیام کا خیال رکھو گی،، میں بیماری کی ماری پیچھے سے بیٹے کی فکر ہی کھائے جائے گی، تم ہو گی اس کے پاس تو میں بے فکر ہو جاؤں گی،، بولو تم ہوگی نا ادھر شفٹ ، وعدہ کرو مجھ سے ،،
شازیہ بیگم نے بڑی آس امید سے پوچھا تھا جبکہ سامنے والی کی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔ بیمار ماں جیسی محبت دینے والی چچی کو انکار کرنا موت کے برابر لگ رہا تھا۔ تبھی دھیمے سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
شازیہ نے فرطِ جذبات میں اسے سینے میں بھینچ لیا۔ سب نے اسے ماتھے پر بوسا دیا۔
ایک دور کھڑا بندہ اس کے اثبات میں سر ہلانے پر خوشی سے نہال ہوتا گہرا مسکرایا تھا۔
اناؤنسمنٹ ہوئی تو وہ سب اندر چلے گئے تھے۔ واپسی پر دونوں گاڑیوں میں بلکل خاموشی چھائی رہی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ہاسپٹل کے سرد سے روم میں ہارٹ سرجری کے بعد نوید احسن کی آنکھ کھلی تو پتہ چلا۔
زندگی میں کیا کھویا کیا پایا۔ سود و زیاں کا احساس روح کو کچوکے لگا رہا تھا۔
بلکہ پایا کیا تھا۔ بس دنیاوی دولت و عشرت
جبکہ چین، سکون، آرام، اولاد، باوفا بیوی کی محبت، سب کچھ کھو دیا تھا سب کچھ،
اور آج جب اس چیز کا احساس ہوا کہ وہ دنیا میں کس قدر تنہا ہے تو اپنے ادھورے اور خالی پن پر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔
بڑی خوشی خوشی اپنی غرض کو پانے کے لئے سراج مینش چلا تھا. مگر راستے میں ہی ہارٹ اٹیک نے سینے میں سانس الجھا دی تھی۔ دل کے دو وال بند ہو چکے تھے۔ جو سرجری سے کھولے گئے تھے۔ اب پچھتاوؤں کا احساس نے بے چین کر رکھا تھا کہ کب ٹھیک ہو اور کب بیوی کے پیروں میں گر کر معافی مانگ لے۔ اور اپنی اولاد کو دیکھے اور اپنے سینے سے لگا لے۔ مگر ابھی اس میں بھی وقت تھا کہ ڈاکٹرز نے کچھ دنوں تک کا مکمل بیڈ ریسٹ بتایا تھا۔
اور اب ملک شجاعت اس کے سرہانے بیٹھا کڑوے کڑوے منہ بنا رہا تھا۔
کیا یار نوید احسن، یہ کیا تک تھی بیمار ہونے کی اب مزید وقت لگ جائے گا مومنہ بیٹی کو سراج مینشن سے لانے کے لئے،، وہ جھنجھلایا بیٹھا تھا. نوید احسن نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ مگر اندر آتی ڈاکٹر سیرت سراج مینشن کے نام پر ضرور چونکی تھی۔
نوید احسن تھوڑی دیر بیٹھ کر جا چکا تھا۔ اور اب سیرت نوید احسن کی فائل چیک کر رہی تھی۔ اور ساتھ ساتھ نوید احسن سے تعارف کا مرحلہ بھی پار کر چکی تھی۔
آپ کو پتہ ہے انکل میں ملک فیضان سراج کی بیٹی ہوں،، اس نے بتایا تو نوید احسن خوش ہو گئے۔
کیا واقعی،، کیسی ہے میری مومنہ، کس پر گئی ہے،،
وہ تو بلکل آپ پر گئ ہے، مگر آپ جانتے ہیں وہ پچھلے دنوں اسی ہاسپٹل داخل تھی، نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا اس کو، اس کا نکاح اس سے نو سال بڑے تایا عمران کے بیٹے، تابش سے کیا ہوا ہے ، بہت ہی زیادہ سٹریس، اور زہنی دباؤ کا شکار تھی، جس سے صاف ظاہر تھا وہ سراج مینشن میں بلکل بھی خوش نہیں تھی، آپ جلد از جلد اسے وہاں سے لے جائیے گا انکل، کہیں کچھ ہو ہی نا جائے اسے وہاں،،
سیرت کی بات پر نوید احسن چونکے اور بے چین سے ہوئے تھے۔ سیرت انھیں مومنہ کی کنڈیشن تفصیل سے بتاتی رہی۔
اس کی کنڈیشن کا سن کر نوید احسن بھی سوچنے پر مجبور ہو چکے تھے کہ وہ سراج مینشن میں خوش نہیں تو وہ اسے وہاں سے نکالنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔
ملک شجاعت اور ان کا بیٹا ارشمعان پلکوں پر بٹھا کر رکھیں گے میری بچی کو،،
بند آنکھوں کے پیچھے سہانے سپنے بننے لگے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شام کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔ اور وہ سب اپنے اپنے رومز میں موجود تھے۔ آخر تابش ہی اپنے روم سے باہر نکلا تھا۔ اور ملازمہ کو ڈنر بنانے کا بولا۔
عرفہ اپنے روم میں بےچینی سے ادھر سے ادھر ٹہلتی بےدردی سے اپنی ہی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ وعدہ بھی کر چکی تھی اور اب اپنی جان بھی حلق میں اٹکی ہوئی تھی۔
اونہہہہہہ،،، بھاڑ میں جائیں، باہر سے منگوا کر کھا لیں گے کھانا، میں کیوں مرنے والی ہو رہی ٹینشن لے لے کے، وہ پیر پٹختی اپنی الماری کی جانب گئی تھی۔ مگر الماری کھول کر غش ہی پڑا تھا کہ اس کی الماری سے اس کی ہر چیز غائب تھی۔ (یا پیچھے سے ملازمہ کو بول کر غائب کروائی گئی تھی) وہ بری طرح جھنجھلائی تھی۔ مگر چچی سے کیا وعدہ وفا کرنے کا ارادہ اب بھی شاید نہیں تھا۔ تبھی مومی کے روم میں چلی گئی تھی۔
ادھر مومی کونسا پھولوں کی سیج پر بیٹھی تھی وہ بھی اتنی ہی بے چین تھی۔ انھوں نے ایک دوسرے کو کمپنی دی تو کچھ دل بہل گیا۔
چند گھنٹوں بعد ہی ملازمہ ڈنر کے لئے بلانے آئی تھی۔
وہ دونوں ڈنر کے لیے ٹیبل پر بیٹھیں۔ حیرت انگیز آج ٹیبل پر سب مومی کی پسند کی ڈیشز تھیں۔ وہ جو صبح سے بریک فاسٹ کر کے اپنے کمرے میں بند تھی۔ اب لزیز کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو سے بھوک جاگ اٹھی تھی۔ مومی نے جلدی سے بریانی پلیٹ میں ڈالی تھی۔
ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا تبھی سیام کچن میں چلا آیا تھا۔ عرفہ نے پہلو بدلا۔
چلو یار عرفہ، میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں، کہ تم آؤ اور مجھے کھانا بنا کہ دو قسم سے بہت زیادہ بھوک لگی ہے،،
وہ بہت بے تکلف انداز میں دوستانہ طریقے سے بولا کہ ایک مرتبہ تو عرفہ بھی دنگ رہ گئی تھی اس کے شوشوں پر۔
آپ ادھر ہی بیٹھ کر کھا لیں، عرفہ نے اس کے مسئلے کا حل پیش کیا۔
رائٹ کھانا یہاں کھا بھی لیا تو صبح میں نے تاشو کا آفس جوائن کرنا ہے، اس کی تیاری میں مدد چاہیے شرٹ بھی پریس کروانی ہے، آ جاؤ یار، اس نے آئیبرو اچکائی جیسے اس وعدہ خلاف کو اس کا وعدہ یاد دلانا چاہتا ہو۔
آپ اپنی شرٹ مجھے دے دیں میں پریس کر کے دے دوں گی،، عرفہ اس جن سے اپنا دامن بچانا چاہتی تھی۔
عرفہ اپنا اور سیام کا کھانا نکالو، اور جاؤ اس کے ساتھ، شازیہ چچی ابھی کچھ دیر پہلے ہی وائس میسج پر پوچھ رہی تھیں کہ عرفہ گئی ادھر کہ نہیں ، اگر فون آیا تو کیا بولو گی، تم پرامس کر چکی ہو ان سے، تاشو نے نرمی سے اسے سمجھایا۔
ناچار اسے اٹھنا ہی پڑا۔ اپنے اور اس جن کے لئے کھانا نکال کر وہ مرے مرے سے قدموں سے چلتی اس کے ساتھ دوسرے پورشن آئی۔
عرفہ نکلی تو مومی اپنی پلیٹ اٹھا کر ٹیبل سے اٹھنے لگی تھی جب ایک آواز پر قدم ٹھٹھک کر رکے۔
مونا، پلیززززز،،، کوئی بھی نہیں، شروع سے سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی عادت ہے، اب کوئی نہیں ہے تو بھوک ہی مر جائے گی، ادھر ہی بیٹھ جاؤ پلیز،،
اس کے حکمیہ کی بجائے التجائیہ سے لہجے نے مومی کو حیران کیا تھا۔ وہ جانا چاہتی تھی مگر ادھر ہی بیٹھ گئی کہ اس شخص کے ہونے نا ہونے سے اب اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مگر تاشو اب پرسکون سا رغبت سے کھانے میں مصروف تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
