Orhli Mohabbat By Wahiba Fatima Readelle50092

Orhli Mohabbat By Wahiba Fatima Readelle50092 Last updated: 16 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Orli Mohabbat

By Wahiba Fatima

جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ

یاد رہتا ہے کسے گزرے زمانے کا چلن سرد پڑ جاتی ہے چاہت ہار جاتی ہے لگن اب محبت بھی ہے کیا؟ ایک تجارت کے سوا ہم بھی نادان تھے جو اوڑھا بیتی یادوں کا کفن ورنہ جینے کے لیئے سب کچھ بھلا لیتے ہیں لوگ ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ

جانے وہ کیا لوگ تھے جن کو وفا کا پاس تھا دوسرے کے دل پہ کیا گزرے گی یہ احساس تھا اب ہے پتھر کے صنم جن کو احساس نہ غم وہ زمانہ اب کہاں جو اہل دل کا راس تھا اب تو مطلب کے لیے نامِ وفا لیتے ہیں لوگ جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ ایک چہرے پے کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ

دو دن سے ملک تابش سراج اپنے کمرے میں بند تھا۔ ایک قیامت تھی جو سراج مینشن پر ہو کر گزری تھی۔ سب اپنے اپنے کمروں میں بند دبکے بیٹھے تھے۔ جیسے باہر نکلے تو کوئی اور طوفان آ جائے گا۔ ملک فیضان سراج کو ہارٹ کا مائنر سا اٹیک بھی آ چکا تھا۔ شازیہ بیگم رو رو کر پاگل ہو چکیں تھیں کہ ان کی تربیت میں آخر ایسی کونسی کمی رہ گئی تھی کہ ان کی سیرت ایسی نکلی۔ اصلی نام تو سیرت تھا مگر سب نے پیار سے بگاڑ کر سارا کر دیا تھا۔ وہ سارا جو سیرت کی کالی اور زہریلی نکلی۔

رہے دا جی تو وہ اتنا ہی گرجے برسے تھے جتنا ان سے بھڑکا گیا تھا۔ ایک مرتبہ پھر سراج مینشن میں ان کی جلالی آواز گونجی تھی۔ سراج مینشن میں موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔جب اس سناٹے کو چیرتا لاؤنج میں رکھا وائرلیس فون چنگھاڑ اٹھا تھا۔ ان سب کے فونز پر میسجز آئے تھے جب وہ سب ایک مرتبہ پھر لاؤنج میں اکھٹا ہو چکے تھے۔ سب کے دل دہل چکے تھے۔ چہروں پر خون نچڑ آیا تھا۔ بس مومی اور عرفہ اپنے اپنے کمروں میں دبکی بیٹھیں تھیں۔ دا جی، سلمیٰ، شازیہ، صدیقہ، عمران اور فیضان اور سیام سب لاؤنج میں چلے آئے تھے۔ سب کے چہرے فق تھے۔ کیونکہ تابش تین دن کے بعد آج اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ لال انگارا چہرہ اور پھٹتی ہوئی تنی رگیں۔ اس نے آ کر فون اٹھا کر سپیکر پر ڈالا تھا۔نمبر بیرون ملک تھا۔

"سارا بول رہی ہوں، ملک تابش سراج مجھے طلاق کب دو گے،، سیرت کی آواز سراج مینشن کے لاؤنج میں گونجی۔ شازیہ بیگم دوپٹہ میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ کاش ایسی ناخلف، ناہنجار اور نافرمان اولاد کا گلا وہ پیدا ہوتے ہی گھونٹ دیتی تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔

میں ملک تابش سراج بقائمی ہوش حواس ملک سیرت فیضان تم جسیی بنجارن بکھارن کو بھیک سمجھ کر طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، تابش سراج کی آواز بھی بھاری گونجدار تھی۔ وہ بول رہا تھا اور کسی نے بھی اس کو روکنے کی یا چپ کرانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ سیرت جیسی لڑکیاں تابش جیسے شوہر ڈیزرو ہی نہیں کرتیں ہیں۔ یہ الفاظ سن کر ایک مرتبہ تو فون کے دوسری جانب بھی موت کا سا سناٹا چھایا تھا۔

میں اور میرا خاندان دقیانوسی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت غیرت مند بھی ہیں مس سیرت، اسی لئے امید کرتا ہوں کہ آئندہ زندگی میں کبھی تم سراج مینشن کے اردگرد بھی نا پھٹکتی نظر ہمیں نہیں تو زندہ زمین میں گاڑھ دی جاؤ گی، کبھی لوٹ کر مت آنا، زندگی تم پر حرام ہو جائے تب بھی نہیں یا زمانے کی ٹھوکروں میں روند دی جاؤ تب بھی نہیں،، ملک تابش سراج کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی۔ سیرت کو آگ لگی۔ تم یو فضول انسان تم بددعائیں دے رہے ہو مجھے،، وہ پھنکاری۔ نہیں تم جیسی چیپ، گھٹیا اور دو ٹکے کی لڑکی کو تمھارے جیسی ہی لڑکیوں کی حقیقت بتا رہا ہوں،،

تابش نے بول کر کھٹاک سے فون رکھا تھا اور صوفے پر بیٹھتا چلا گیا۔