Orhli Mohabbat By Wahiba Fatima Readelle50092

Orhli Mohabbat By Wahiba Fatima Readelle50092

Last updated:

1.0(1 ratings)
Episodes
16
Views
64.1K
Status
—

About this novel

Orli Mohabbat

By Wahiba Fatima

جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ

یاد رہتا ہے کسے
گزرے زمانے کا چلن
سرد پڑ جاتی ہے چاہت
ہار جاتی ہے لگن
اب محبت بھی ہے کیا؟
ایک تجارت کے سوا
ہم بھی نادان تھے جو اوڑھا
بیتی یادوں کا کفن
ورنہ جینے کے لیئے سب کچھ بھلا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ

جانے وہ کیا لوگ تھے
جن کو وفا کا پاس تھا
دوسرے کے دل پہ کیا گزرے گی
یہ احساس تھا
اب ہے پتھر کے صنم
جن کو احساس نہ غم
وہ زمانہ اب کہاں
جو اہل دل کا راس تھا
اب تو مطلب کے لیے نامِ وفا لیتے ہیں لوگ
جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پے کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ

دو دن سے ملک تابش سراج اپنے کمرے میں بند تھا۔ ایک قیامت تھی جو سراج مینشن پر ہو کر گزری تھی۔
سب اپنے اپنے کمروں میں بند دبکے بیٹھے تھے۔ جیسے باہر نکلے تو کوئی اور طوفان آ جائے گا۔
ملک فیضان سراج کو ہارٹ کا مائنر سا اٹیک بھی آ چکا تھا۔ شازیہ بیگم رو رو کر پاگل ہو چکیں تھیں کہ ان کی تربیت میں آخر ایسی کونسی کمی رہ گئی تھی کہ ان کی سیرت ایسی نکلی۔
اصلی نام تو سیرت تھا مگر سب نے پیار سے بگاڑ کر سارا کر دیا تھا۔ وہ سارا جو سیرت کی کالی اور زہریلی نکلی۔

رہے دا جی تو وہ اتنا ہی گرجے برسے تھے جتنا ان سے بھڑکا گیا تھا۔ ایک مرتبہ پھر سراج مینشن میں ان کی جلالی آواز گونجی تھی۔
سراج مینشن میں موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔جب اس سناٹے کو چیرتا لاؤنج میں رکھا وائرلیس فون چنگھاڑ اٹھا تھا۔ ان سب کے فونز پر میسجز آئے تھے جب وہ سب ایک مرتبہ پھر لاؤنج میں اکھٹا ہو چکے تھے۔ سب کے دل دہل چکے تھے۔ چہروں پر خون نچڑ آیا تھا۔
بس مومی اور عرفہ اپنے اپنے کمروں میں دبکی بیٹھیں تھیں۔
دا جی، سلمیٰ، شازیہ، صدیقہ، عمران اور فیضان اور سیام سب لاؤنج میں چلے آئے تھے۔ سب کے چہرے فق تھے۔
کیونکہ تابش تین دن کے بعد آج اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ لال انگارا چہرہ اور پھٹتی ہوئی تنی رگیں۔ اس نے آ کر فون اٹھا کر سپیکر پر ڈالا تھا۔نمبر بیرون ملک تھا۔

“سارا بول رہی ہوں، ملک تابش سراج مجھے طلاق کب دو گے،، سیرت کی آواز سراج مینشن کے لاؤنج میں گونجی۔ شازیہ بیگم دوپٹہ میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ کاش ایسی ناخلف، ناہنجار اور نافرمان اولاد کا گلا وہ پیدا ہوتے ہی گھونٹ دیتی تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔

میں ملک تابش سراج بقائمی ہوش حواس ملک سیرت فیضان تم جسیی بنجارن بکھارن کو بھیک سمجھ کر طلاق دیتا ہوں،
طلاق دیتا ہوں،
طلاق دیتا ہوں،
تابش سراج کی آواز بھی بھاری گونجدار تھی۔ وہ بول رہا تھا اور کسی نے بھی اس کو روکنے کی یا چپ کرانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ سیرت جیسی لڑکیاں تابش جیسے شوہر ڈیزرو ہی نہیں کرتیں ہیں۔ یہ الفاظ سن کر ایک مرتبہ تو فون کے دوسری جانب بھی موت کا سا سناٹا چھایا تھا۔

میں اور میرا خاندان دقیانوسی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت غیرت مند بھی ہیں مس سیرت، اسی لئے امید کرتا ہوں کہ آئندہ زندگی میں کبھی تم سراج مینشن کے اردگرد بھی نا پھٹکتی نظر ہمیں نہیں تو زندہ زمین میں گاڑھ دی جاؤ گی، کبھی لوٹ کر مت آنا، زندگی تم پر حرام ہو جائے تب بھی نہیں یا زمانے کی ٹھوکروں میں روند دی جاؤ تب بھی نہیں،،
ملک تابش سراج کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی۔ سیرت کو آگ لگی۔
تم یو فضول انسان تم بددعائیں دے رہے ہو مجھے،، وہ پھنکاری۔
نہیں تم جیسی چیپ، گھٹیا اور دو ٹکے کی لڑکی کو تمھارے جیسی ہی لڑکیوں کی حقیقت بتا رہا ہوں،،

تابش نے بول کر کھٹاک سے فون رکھا تھا اور صوفے پر بیٹھتا چلا گیا۔

Episodes

Episode 1


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

پورے لان میں شور ہنگامہ اور ایک طوفانِ بدتمیزی سا برپا تھا ۔ لان کے درمیان نیٹ لگا کر بیڈ منٹن کھیلا جا رہا تھا۔ ایک جانب ملک کامران سراج کا اکیس سالہ لاڈلا پوتا ملک تابش سراج تھا جبکہ نیٹ کی دوسری جانب مومنہ اور سارا تھیں جو اب تک بڑی مہارت سے تابش کا مقابلہ کر رہیں تھیں۔
حاضرین میں سلمیٰ بیگم، صدیقہ بیگم، شازیہ بیگم سیام اور عرفہ تھے۔۔
وہ پسینے سے نہا چکا تھا مگر ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اٹھارہ سالہ سارا اور بارہ سالہ مومی بھی تو ہار ماننے کو تیار نہیں تھیں۔۔ ان کے قہقہے پورے لان میں گونج رہے تھے۔ سلمیٰ بیگم انتہائی محبت سے اپنی اکلوتی لختِ جگر مومنہ کو مہارت سے کھیلتے دیکھ رہیں تھیں جسے یہ گیم تابش نے ہی بڑی محنت سے سکھائی تھی۔
ییےےےےےےےےےےے،،،،،،،، کچھ ہی دیر میں مومی اور سارا کی خوشی سے دمکتی آوازیں پورے لان میں گونجیں۔۔ کیونکہ تابش ہار چکا تھا۔

تاشو آپ ہار گئے،،، مومی مسکراتی اس کے قریب آئی جو زمین پر پڑا نروٹھے پن سے منہ چڑاتی سارا اور مومنہ کو گھور رہا تھا۔ مومنہ نے صلح جو انداز میں اپنا مومی ہاتھ اس کے آگے بڑھایا۔ جو وہ تھام کر اٹھ بیٹھا۔
مونا، دیٹس ناٹ فئیر، اپنے ہی گرو کو ہراؤ گی تم، دشمنوں کے ساتھ مل کر،، اس کا افسوس اب تک کم نہیں ہو رہا تھا۔ تبھی مومی کو گھورتے کہا وہ شرمندہ سی ہو کر سر جھکا گئی۔

یہ تو ٹیلنٹ کی بات ہے، اب شاگرد میں گرو سے زیادہ گٹس ہوں تو کیا کیا جائے،، سارا ابھی تک اسے چڑا رہی تھی۔
وہ غصے میں اٹھ کر واک آؤٹ کر گیا تو سارا سب کے ساتھ ہائی فائی کر کے قہقہے لگا کر ہنستی رہی۔

یہ طویل و عریض رقبے پر بنا سراج مینشن تھا۔۔جس کے آگے پیچھے دو پورشن بنے ہوئے تھے۔
جسے ایک چھوٹی سی دیوار الگ کرتی تھی۔ مگر دونوں گھر الگ ہوتے ہوئے بھی یوں لگتا تھا جیسے پورا سراج مینشن ایک ہی دھاگے میں پرویا ہوا ہے۔
جہاں ملک کامران سراج کی تین اولادیں بستی تھیں۔ سب سے بڑا بیٹا ملک عمران سراج اور ان کی بیوی صدیقہ بیگم جن کی دو اولادیں تھیں۔ سب سے بڑا اور پورے سراج مینشن کا لاڈلا اکیس سالہ ملک تابش سراج اور ان کی چودہ سالہ بیٹی عرفہ تھی۔
دوسرے پورشن میں ملک فیضان سراج اور ان کی بیگم شازیہ جن کے ہاں بھی دو اولادیں اٹھارہ سالہ سارا اور سولہ سالہ بیٹا سیام تھیں۔

اس کی بعد چھوٹی بیٹی سلمیٰ تھیں۔ جن کے جینے کی وجہ ان کی بارہ سالہ بیٹی مومنہ سراج ہے۔۔ جنھوں نے اپنے والد ملک کامران سراج کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے اپنی پسند سے غیر برادری میں شادی کی تھی۔
داجی نے سلمی کا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے سے طے کر رکھا تھا۔ مگر جب سلمی نے اپنی من مرضی کرتے ہوئے کورٹ میرج کر لی تو ملک کامران سراج کو بے تحاشا سبکی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور تبھی ان کے کندھے شرمندگی سے جھک گئے۔۔
یہ سلمیٰ بیگم کی بدقسمتی کہ بہت جلد شوہر نے اپنے اصل رنگ دکھانے شروع کر دئیے۔ نوید احسن ایک انتہائی لالچی، خود پرست اور رنگین مزاج آدمی ثابت ہوا۔ اول تو وہ حسن پرست آدمی کوئی اولاد چاہتا ہی نہیں تھا۔ اسی لئے ہی دو مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ امید سے ہوئیں اور انھیں پتا ہی نا چلا کہ نوید نے انھیں کچھ غلط میڈیسنز دیں ہیں اور وہ بری طرح بیمار ہوئیں اور اس دنیا میں لانے سے پہلے ہی اپنی اولادیں کھو بیٹھیں۔ مگر جسے الله رکھے اور کچھ سلمیٰ بیگم شوہر کے کرتوت معلوم ہو جانے پر محتاط ہو گئیں پھر جب مومنہ پیدا ہونے والی تھی تو وہ گھٹیا، بے حس شخص انھیں ہاسپٹل میں تڑپتا چھوڑ کر بیرون ملک فرار ہو گیا۔
تب سلمیٰ کے دونوں بھائی ہی تھے جو دا جی کی ناراضگی کے باوجود بہن کو سہارا دینے کو آگے بڑھے۔ ناصرف انھیں سہارا دیا بلکہ انھیں اپنے ساتھ سراج مینشن واپس لے آئے۔ ان کا بے تحاشا خیال رکھا۔ بھابھیاں بھی بے حد سلجھی ہوئیں تھیں۔ جنھوں نے سلمیٰ بیگم کو کوئی طعنہ تشنہ دینے کی بجائے ہر ممکن ان کا خیال رکھا تھا۔ ان کی گود میں موجود وہ گھنگھرالے بالوں اور براؤن آنکھوں والی ننھی سی گڑیا گھر بھر کی جان تھی۔ جو اب بارہ سال کی ہو چکی تھی۔
سلمیٰ بیگم نے لاکھ کوشش کی مگر اب تک دا جی انھیں معاف نہیں کر پائے تھے تبھی ان سے کبھی ہمکلام نہیں ہوئے تھے ۔ہاں مومی میں دا جی کی جان ضرور اٹکی ہوئی تھی۔

دونوں پورشن الگ تھے۔ مگر وہ سب ہر وقت ایک ساتھ رہتے تھے۔ سلمیٰ اور مومنہ عمران سراج والے پورشن میں ہی رہتیں تھیں۔ فیضان نے لاکھ چاہا کہ سلمی ان کے پاس رہے۔ مگر عمران سراج مان کر نہیں دئیے۔

دونوں بھائیوں کا سامان کی لوڈنگ کا کاروبار تھا۔ ان کے اپنے ٹرالر اور کرینز تھے جن سے بھاری مشنری ایک شہر سے دوسرے شہر لے جائی جاتی تھی۔ گھر میں بے حد خوشحالی تھی۔ مگر اپنی کار صرف دو ہی تھیں جو ابھی عمران اور فیضان کے زیراستعمال تھیں۔

سب بچے ایک ساتھ کھیلتے کودتے بڑے ہوئے تھے۔ اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ تابش سراج کی اپنی کزن سارا میں دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی جو کہ تقریبا سب ہی نوٹ کر چکے تھے۔ تبھی دا جی نے سارا اور تابش کا تب نکاح کر دیا تھا جب سارا میٹرک میں تھی۔ اسے آگے پڑھنے کی اجازت ہی اسی نکاح کے شرط پر دی گئی تھی۔
اور اب سارا گرلز کالج میں ایف ایس سی میں اپنے کالج میں ٹاپ کر چکی تھی۔
تابش بے تحاشا خوش تھا۔ کہ من چاہے جیون ساتھی کو اپنا بنا چکا تھا اسے اور کیا چاہیے تھے۔ وہ سارا کے کافی لاڈ اٹھاتا تھا۔ اس کی ہر ڈیمانڈ پوری ہوتی۔ اور اکثر ان ڈیمانڈز میں وہ باتیں بھی شامل ہوتیں جو دا جی کے اصولوں کے خلاف ہوتیں تھیں۔
مگر یہ ملک تابش سراج تھا ان کا لاڈلا پوتا جو ان سے ہر بات منوانا جانتا تھا۔ زندگی اپنے ڈگر پر
یونہی رواں دواں تھی۔ کون جانتا تھا اس پرسکون زندگی کے موسم میں کون کونسے طوفان اٹھنا باقی تھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سارا اپنے گرلز کالج سے نکل کر اب اپنے روٹ کی جانب مڑی تھی جب ایک گاڑی کے پہیے اس کے بے حد قریب چرچرائے تو وہ بے تحاشا چونکی۔ مگر کار میں موجود اس شخص کو دیکھ کر اس کے لبوں کو ہلکی سی شرمیلی سی مسکان نے چھوا۔ وہ مسکراتے اس کے اشارہ کرنے پر آ کر کار میں بیٹھ گئی۔
“مجھے یوں بلکل اچھا نہیں لگتا، آپ کو کتنی مرتبہ کہا میں ایسے نہیں مل سکتی آپ سے،، سارا نے پہلو بدل کر فرہاد کاظمی سے کہا جو ہونٹوں پر گہری مسکان سجائے اسے ہی نہارنے میں مصروف تھا۔
میں یہی تو کہنے آیا ہوں کہ رزلٹس کے بعد اس گرل کالج سے تو جان چھوٹ ہی گئی ہے اب تھرڈ ائر میں یونی میں آؤ یار، فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی ہو، معمولی بات تو نہیں، مجھے بھی ایسے روز روز سڑکوں پر ملنا اچھا نہیں لگتا، اور اگر تم نے اپنا ڈاکٹر بننے کا ڈریم پورا کرنا ہی ہے تو اپنے خاندان کے تمام دقیانوسی تصوّرات کو پیچھے چھوڑ کر میرے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، تمھیں یونی آنا ہو گا،، نہیں تو دوسرا آپشن تو ہمیشہ موجود ہی ہے ہمارے پاس،،
فرہاد کاظمی نے ضدی لہجے میں کہا۔ سارا نے بری طرح اپنی انگلیاں چٹخائیں۔
دا جی کبھی بھی نہیں مانیں گے،، سارا نے بےچینی سے کہا۔
تو وہ ملک تابش سراج کس مرض کی دوا ہے، اسے کہو دا جی کو منائے گا، جس سے نکاح ہی تم نے صرف اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کیا ہے، اور مت بھولو سارا میں نے اپنے دل پر کےٹو جتنا پہاڑ رکھ کر تمھیں اس فضول، بیک ورڈ آدمی سے نکاح کی اجازت دی تھی، تاکہ ہم با آسانی اپنا ہر مقصد پورا کر سکیں، تمہیں اس سراج مینشن سے بے دھڑک باہر نکلنے کی اجازت ہو، ٹرپس پر اسی وجہ سے میرے ساتھ جا پائیں تم، اور خاص کر اس کالج میں ایڈمیشن ہوا تمھارا، اس تابش کے زریعے ، اب بھی اسے ہی بولو کہ تمھیں اجازت لے کر دے، تاکہ ہم دونوں اکھٹے ایک ساتھ آگے اپنی منزل کی جانب بڑھیں،،
فرہاد کی لہجے میں ان دیکھی آنچ اور حقارت سی تھی ملک تابش سراج کے زکر پر۔
اوکے میں جلد ہی کوشش کروں گی،
نہیں تمھیں آج ہی کوشش کرنی ہے،،اگر نہیں تو سارا تم جانتی ہو میں نے مانچسٹر یونیورسٹی میں بھی اپلائے کیا ہوا ہے، وہاں سے پوزیٹیو رسپانس ملنے پر تم جانتی ہو ناں تم نے پرامس کیا ہوا ہے کہ سب کچھ پیچھے چھوڑ کر تم میرے ساتھ چلو گی،، فرہاد نے اس کا سرد سا ہاتھ تھام کر ایک امید بھری نگاہ اس پر ڈالی۔
تو سارا نے بے اختیار ہی نگاہیں چرا لیں۔
نہیں فی الحال میں آج کوشش کروں گی کہ دا جی تابش کے کہنے پر مان جائیں،، فرہاد ہم ٹھیک تو کر رہے ہیں ناں، میرا ضمیر مجھے ہر وقت ملامت کرتا رہتا کہ میں ایک بے قصور انسان کو محض اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہی ہوں،،،
شٹ اپ سارا،، کوئی بےقصور نہیں ہیں وہ تمھارے بیک ورلڈ، دقیانوسی گھر والے، جنھیں اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ ان کے گھر کی بیٹی کیا چاہتی ہے، آخر اس کی اپنی کیا مرضی ہے، بس بیٹوں کی فکر ہے، اس تابش کو تو بڑا ایم بی کرنے کے یونی بھیج رکھا ہے،، فضول مت سوچو، اور اپنی منزل پر کونسٹریٹ کرو،، فرہاد نے اسے بری طرح جھڑکا۔

اوکے مجھے جانا ہوگا،،، سارا نے کہتے اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر گاڑی سے نیچے اتر آئی۔ اب اسے بس پر بیٹھ کر سراج مینشن پہنچنا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ پاؤں جھلاتی تاشو کے روم تک آئی تھی۔ آ کر دروازے پر ہلکی دستک دے کر اندر داخل ہوئی۔ وہ جو کرکٹ کٹ میں کہیں باہر جانے کو بلکل تیار کھڑا تھا بزی سا بالوں میں برش کرتا آئینے میں سے مومی کو دیکھا جس کے چہرے کے زاویے بگڑ رہے تھے۔ جو یقیناً سلمیٰ بیگم سے ڈانٹ پھٹکار سن کر اس کے پاس آئی تھی۔ تابش کو ہنسی آئی مگر ضبط کر گیا کہ اگر ہنس پڑتا تو یقینا مومی کا بھونپو گھنٹے بھر کے لئے سٹارٹ ہو جاتا جو وہ سننے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھا۔
واٹ ہیپنڈ مونا،، کیا ہوا مومی ڈول کو،، تابش نے اسے پیار سے پچکارا۔
وہ دھپ سے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔ لائٹ گرین فراک پہنے کرلی بال دو پونیوں میں مقید تھے بیٹھ کر وہ گندے گندے منہ بنانے لگی۔
تاشو،، مما کے ساتھ کیا پرابلم ہے، صرف اتنا ہی تو پوچھا تھا میرے پاپا کدھر ہیں، مجھے ہوم ورک میں ان پر خود سے easy (مضمون) لکھنا ہے ،، تو مجھے ان کے بارے میں معلوم ہوگا تو لکھوں گی ناں، میں نے تو انھیں دیکھا بھی نہیں،، انسلٹ کر کے نکال دیا مجھے روم سے،،
وہ رونی سی شکل بنا کر اپنی خاطر داری کی ڈیٹیلز بتانے لگی۔
تابش نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ اسے دل سے افسوس ہوا اور اپنی پھپھو کے لئے دکھ جو مومنہ کے اس سوال کو لیکر جانے کتنے دہرے عذاب سے گزری ہوں گی۔
ادھر آؤ میں لکھواؤں،، تابش نے اپنی کِٹ بیڈ پر رکھی اور اس کے پاس صوفے پر جا بیٹھا۔
وہ خود نو سال کا تھا جب یہ چھوٹی سی گڑیا ان کے گھر آئی تھی۔ تابش سارا اور باقی سب گھر والوں نے اس کا عرفہ سے بھی بڑھ کر خیال رکھا تھا۔
تابش اکثر اسے ہوم ورک کروایا کرتا تھا۔ کبھی مومنہ اور عرفہ کو سارا پڑھایا کرتی کبھی تابش۔
ہر کھیل کود میں وہ سب ساتھ ساتھ ہی رہے تھے۔ اور بیڈمنٹن بھی تابش نے ہی مونا کو سکھایا تھا۔ مومنہ عرفہ کی دیکھا دیکھی اسے تاشو ہی کہتی تھی۔
اب بھی وہ کافی خوبصورتی سے اسے مضمون لکھوا چکا تھا۔
او یہ تو اتنا ایزی تھا تاشو،، وہ سکون سے بولی۔

ہاں ایزی تو تھا یہ تمھارے میگی نوڈلز کو سلجھانے جتنا ایزی تھا،، تابش نے ہمیشہ کی طرح اس کی پونی کھینچ کر اس کے کرلی بالوں کو میگی نوڈلز کہا۔ ایک تو کرلی اوپر سے اتنے گھنے کہ جنھیں سلجھاتے ہوئے ہی سلمیٰ بیگم اکتا جاتیں تھیں۔
حسبِ معمول مومی بری طرح چڑ گئی۔
تاشو،، آپ کے سر پر ہی ہوں گے میگی نوڈلز، خبردار، جو میرے ہیئرز کو کچھ کہا،، اس نے چھوٹی سی فنگر اٹھا کر وارننگ دی۔ تو تابش قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تبھی سارا ہلکی سی دستک دے کر روم میں داخل ہوئی تھی۔
تابش کا چہرہ کھل گیا تھا۔ سارا اندر داخل ہو گئی۔

مونا جاؤ عرفہ کے پاس بیٹھ کر اپنا ہوم ورک کمپلیٹ کرو،، میں ابھی آ کر باقی کا چیک کروں گا اگر مسٹیکس ہوئیں تو یہ تمھارے میگی نوڈلز پکا کر کھاؤں گا،،
تابش نے اسے زرا خود پر سنجیدگی طاری کرتے کہا مگر سامنے بھی دا گریٹ نوڈلز گرل تھی۔
اووو،،، تاشو ایسے کیوں نہیں کہتے کو آپ کو سارا آپی سے باتیں کرنی ہیں،، مومنہ مسکراتی اپنی نوٹ بک اٹھا کر وہاں سے رفو چکر ہوئی تھی۔ ملک تابش سراج گہرا مسکرایا اور پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوا جو کنفیوز سی صوفے پر بیٹھی جانے کن سوچوں میں گم تھی۔

Continue,,,,,,,,,,

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

1.0 / 5 · 1 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

cute love storyInnocent HeroineRomantic Love StoryUrdu Novels