No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شازیہ بیگم کی طبیعت خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ جلدی واپس لوٹ آئیں تھیں۔۔اور اب اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں۔ چار سال سے گھٹ گھٹ کر جی رہی تھیں۔ بیٹی نے اگر اچھا نہیں کیا تھا تو بیٹے نے بڑے پھولوں کے ہار پہنا دئیے تھے۔
وہ سیام اور عرفہ کے بیچ ہونے والی آخری گفتگو اچھی طرح سن چکیں تھیں۔ تبھی چار سال سے بیٹے سے کلام کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ دا جی اور فیضان سے تو اس کی بات ہوتی ہی رہتی تھی۔
ادھر چار سال سے وہ کونسا سکھی تھا۔ ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا ہر طریقہ سے دل کو سمجھا لیا مگر اب کی بار وہ بری طرح ناکام ہوا تھا۔ فیل ہوا تھا۔ محبت کے شکنجے نے اس کی روح تک میں بڑی بری طرح اپنے پنجے گاڑے تھے۔ جب راہِ فرار بھی کسی کام نہیں آیا تو اب تو دل کرتا تھ اڑ کر پاکستان اپنی دشمنِ جاں کے پاس پہنچ جائے۔سیام کو یہ معلوم ہونے پر کہ وہ انھیں کے گھر میں رہتی ہے کیسی انوکھی سی خوشی ہوئی تھی ۔ویسے بھی پڑھ لکھ کر بیشک بڑا کوئی کامیاب انسان بن جاتا مگر گھر کا سکون جب نصیب میں نا ہو تو وہ کامیابی کس کام کی۔ اس کے علاوہ بھی احساسِ جرم ہر روز روح کو کچوکے لگاتا تھا کہ بیمار ماں کو اس وقت جب انھیں سب سے زیادہ اس کی ضرورت تھی۔ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا آیا۔ تف ہے اس جیسی اور سیرت جیسی اولادوں پر۔ تبھی اب پچھتا کر واپسی کی راہیں استوار کرنے لگا تھا۔
عرفہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی۔ جب لاؤنج میں رکھا لینڈ لائن فون چنگھاڑ اٹھا۔ وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتی لاؤنج میں آئی۔
فون چنگھاڑنا بند نہیں ہوا تھا۔
اففف کیا مصیبت ہے اسے۔ عرفہ نے برا سا منہ بنایا۔ فون اٹھا کر کان کو لگایا۔
ہیلو،،؟ سامنے والا آواز سن کر صوفے پر بی5ھتا چلا گیا۔
ہیلو،،؟ دوسری مرتبہ بولا اور فون کو گھورا۔
“بات نہیں کرنی تو میں رکھنے لگی ہوں، زیادہ پیسہ آ گیا ہے تو اپنی ماں بہن پہ خرچ کرو، ہمیں پریشان مت کرو،، وہ چلائی۔
عرصہ دراز کے بعد سیام کے لبوں نے گہری مسکان کو چھوا تھا۔
پیسے بیوی پر بھی خرچ کیے جا سکتے ہیں،، ایک جتاتی سی بھاری جانی پہچانی آزاد ائر پیس میں سے گونجی تو وہ بری طرح چونکی۔ مگر ساتھ ہی ماتھے پر بےشمار بل بھی آئے۔ زبان تالو سے چپک گئی جب کے سامنے والا تو چاہتا تھا کہ آج وہ بولتی رہے اور وہ سنتا رہے۔
کیسی ہو،،؟ بڑی دیر بعد اس کی سانسوں کی مدھر زیروبم سننے کے بعد وہ پوچھ بیٹھا۔ عرفہ نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ مگر کاش بول دل میں آئی بات بولنے کی خود کو اجازت دیتی کہ تمھاری غیر موجودگی میں بلکل ٹھیک اور خوش ہوں ۔
مگر اس نے خاموشی سے جا کر فون اندر شازیہ بیگم کو تھما دیا اور خود کچن میں چلی آئی۔
اس کی آنکھوں میں چھپا کرب دیکھ شازیہ بیگم کسی نتیجہ پر پہنچی تھیں۔ تبھی آج عرصہ دراز کے بعد بیٹے سے بات کی تھی۔
آ گئی بھگوڑی اولاد کو بیمار ماں کی یاد،،؟ شازیہ بیگم کے چبھتے لہجے نے سامنے والے کو مزید شرمندہ کیا۔
ائم سوری ماں،، کیا آپ مجھے معاف نہیں کر سکتیں، پلیز، مجھے معاف کر دیجیئے،، بھیگا سا لہجہ تھا سامنے والے کا۔ شازیہ بیگم نے کچھ سوچا۔
ایک شرط پر،، اگر منظور ہے تو معافی بھی مل سکتی ہے،،
امی مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے آپ حکم کریں،،
عرفہ کو طلاق دے دو،، شازیہ بیگم نے اطمینان سے کہا جبکہ دوسری جانب اب اسے سانپ سونگھ چکا تھا۔ کئی لمحے تو وہ بول بھی نہیں سکا۔ اب ڈائریکٹ انکار بھی تو نہیں کر سکتا ہے۔ خود ہی تو بول بیٹھا تھا حکم کریں۔
ٹھیک ہے، میں پاکستان آ رہا ہوں، ہمیشہ کے لئے آپ کے پاس، اس ٹاپک پر آ کر بات کروں گا آپ سے،، اس نے مبہم سے انداز میں بہانہ تراشا۔
تو ٹھیک ہے معافی بھی تب ہی مل جائے گی،، شازیہ بیگم نے بول کر فون رکھ دیا تھا۔
ادھر اس نے اپنا سر پکڑا۔ کیا پتہ تھا کہ وقت کے ساتھ محبت ہاتھوں سے سوکھی ریت کی طرح پھال جائے گی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پورے آٹھ سال بعد پاکستان کی سرزمین پر پاؤں رکھا تھا۔ ایک کامیاب ہارٹ سرجن بن کر۔
اس کے علاوہ زندگی کے ہر امتحان میں بری طرح فیلئر تھی وہ،
ایک بہت بڑی لوزر،
جس نے اپنے تمام رشتے، عزت، نسوانیت، خوداری اور انا ہار کر یہ مقام اور دولت حاصل کی تھی۔
قید تنہائی کی شکار آزاد سی سیرت اب بس انھیں اپنوں کی قید کی ٹھنڈی چھاؤں میں رہنا چاہتی تھی۔ اتفاق سے ہاسپٹل سراج مینشن کے قریب ہی تھا بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ اس نے جان بوجھ کر سراج مینشن سے قریبی ہسپتال میں ہی اپلائی کیا تھا۔
مما، ہم کدھر آئے ہیں، سیرت باہر بینچ پر کیپ کے انتظار میں بیٹھی گہری سوچ میں تھی۔ پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ہاسپٹل میں اپلائی کیا تھا۔ چار سال پہلے جب ایم بی بی ایس کمپلیٹ کر کے ہاؤس جاب مکمل کر کہ ایک اچھی جاب ملی تو فرہاد کاظمی کے منہ پر تھوک کر اسے اپنی زندگی سے نکال باہر کیا تھا۔ مگر افسوس اس کی ناجائز بیٹی گود میں آ چکی تھی۔ جب سیرت نے اس بیٹی کو فرہاد کاظمی کے حوالے کرنا چاہا تو تب اس نے یہ بول دیا کہ یہ بچی میری نہیں ہے۔ جس کی ہے اسے دو۔
تب سیرت نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنی بچی کی پرورش کی تھی اور اب وہ چار سال کی ہو چکی تھی۔
پاکستان سے پرکشش مراعات حاصل ہوتے نظر آئے تو سر کے بل دوڑی چلی آئی۔ کیونکہ ہاسپٹل کی جانب سے گھر اور گاڑی دونوں مل رہے تھے۔
ہم نانو کے پاس آئے ہیں بیٹا،، سیرت نے مسکرا کر اپنی گڑیا کو دیکھا۔ تبھی کیب آ گئی ۔ ڈرائیور نے اس کا سوٹ کیس کیب میں رکھا۔ سیرت نے نیہا کا ہاتھ تھاما اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شام کے سائے گہرے ہو گئے تھے۔ اور ابھی تک سلمیٰ، صدیقہ بیگم اور دا جی گھر نہیں لوٹے تھے۔ وہ بڑی شدت سے بوریت اور یکسانیت کا شکار تھی۔ اس منہوس مارے گبر کی اولاد سے بچ کر صبح سے اپنے کمرے میں نظر بند تھی۔
اچانک طبیعت خراب ہوتی محسوس ہوئی۔
افففف،، مجھے تو شاور لینا تھا،، مومی سر پر ہاتھ مار کر اٹھی۔ کپڑے لے کر واش روم گئی تو بھنا اٹھی۔ واش روم میں پانی نہیں آ رہا تھا۔ اس نے برا سا منہ بنایا۔
اب کیا کروں،،؟
زہن میں جھماکا ہوا۔ سراج مینشن کو کچھ عرصے پہلے ہی جدید طرز پر دوبارہ رینویٹ کرایا گیا تھا اور اوپر تین چار کمروں میں اضافہ کر کہ واش روم بھی بنایا گیا تھا۔
وہ کپڑے اور اپنا سامان لے کر اوپر گئی۔
وہ جو لان میں اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا تھا مومی کو اوپر جاتے دیکھ ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔ بے تحاشا تجسس اور وہم و وسوسوں نے آن گھیرا۔
یہ مونا، اوپر واش روم میں کیا کرنے گئی ہے۔ اپنے روم میں واش روم ہونے کے باوجود۔ کہیں کوئی اور بات تو نہیں ۔ کہیں سیل فون تو نہیں رکھا ہوا۔کسی سے بات کرنے گئی ہو۔ نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔نہیں نہیں مجھے اس پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے۔
دل نے اسے بری طرح جھڑکا۔
وہ تو تمھیں سیرت پر بھی اندھا اعتماد تھا۔۔ کیا ہوا ملک تابش،،؟ وہ سچ مچ ہی تمھیں اندھا ثابت کر کے ٹھینگا دکھا کر چلی گئی،، نہیں؟
دماغ نے دہائی دی۔
آخر اپنے دل و دماغ کے ہاتھوں مجبور وہ بھی اوپر اس کے پیچھے چلا آیا۔ اور باہر بےچینی سے ادھر ادھر چکر لگا کر اس کے باہر آنے کا ویٹ کرنے لگا۔
و
مومی شاور لے کر باہر نکلی تھی اور سامنے ہی اس جن کو کھڑا دیکھ ہڑبڑا کر اپنے دونوں ہاتھ فورا سے پہلے پیچھے چھپائے تھے۔
مومنہ کیا ہے تمھارے ہاتھوں میں،؟ کیا چھپایا ہے دکھاؤ مجھے،، سرخ چہرہ اور لال انگارا آنکھیں لیے اس نے مومنہ سے پوچھا۔
ادھر مومی کی آنکھیں حیرت و صدمہ سے پھیل گئیں تھیں وہ کیا سمجھ رہا تھا آخر۔ مومی نے بری طرح نفی میں سر ہلایا۔
مومنہ دکھاؤ مجھے،، کیا ہے تمھارے ہاتھوں میں؟ تم نے سیل فون رکھا ہوا ہے کیا،،؟ دکھاؤ مجھے،،؟ وہ دھاڑا۔
ناچاہتے ہوئے بھی مومی کی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہے تھے۔ یوں لگتا تھا کسی نے مٹھی بھر مرچیں آنکھوں میں ڈال دیں۔ کلیجہ نوچ لیا جو یوں سینے میں درد و جلن کو طوفان سا اٹھا تھا۔
آ،،، آپ عرفہ کو بلا لیں،، میں اسے دکھا دوں گی، مم، میرے ہاتھ میں کیا ہے،، اس نے روتے ہوئے اس بے حس پتھر شخص سے سر پھوڑا۔
نو،، تم مجھے ہی دکھاؤ گی کیا ہے تمھارے ہاتھ میں،،
نہیں میں آپ کو نہیں دکھاؤں گی آپ عرفہ یا شازیہ مامی کو بلا لیں،، نسوانیت نے بین کیے۔ عزتِ نفس کرلائی۔ مگر سامنے والے پہ اثر بھی تو ہو۔
مومنہ کیوں چاہتی ہو کہ اتنے سالوں بعد ایک مرتبہ پھر میں تم پر ہاتھ اٹھاؤں، اور بخدا اب اگر میرا ہاتھ اٹھ گیا تو میں لحاظ کیے بغیر ادھیڑ کر رکھ دوں گا تمھیں، دکھاؤ مجھے،،؟ وہ چلایا تھا۔
بےبسی کی انتہا تھی۔ مومنہ نے ہاتھ آگے کیا۔ ہاتھ میں پکڑا پیکٹ اس کے پیروں میں دے کر مارا تھا۔ انداز یوں تھا جیسے منہ پر مارا ہو لو دیکھ لو۔ میرا کفن۔
پھوٹ پھوٹ کر روتے وہ بھاگتے نیچے اپنے کمرے میں جا کر بمد ہوئی تھی۔
ملک تابش کا دل کیا چلو بھر پانی میں ڈوب مرے۔ اپنی بے اعتباری کی وجہ سے کیسی شرمندگی حصہ میں آئی تھی۔ یہ دن بھی دیکھنا تھا جب خود سے ہی بے تحاشا نفرت محسوس کی تھی اس نے۔ کب تک وہ کسی سے ملی بے اعتباری اور بد اعتمادی کسی کے دامن میں بھرتا رہے گا۔
وہ بھی وہاں سے یوں نیچے آیا تھا جیسے اوپر ایک پل بھی رکا تو دم گھٹ کر مر جائے گا۔
اب وقت تھا اپنی ہر غلطی ہر گناہ کے مداوے کا۔ اپنے ہر ظلم کا حساب دینے کا۔ ہر ظلم کے ازالے کا۔
کیا یہ ممکن ہوگا۔ وہ اب سوچ ہی سکتا تھا۔
کچھ دیر بعد ہی دا جی لوگ آئے تو وہ دا جی سے بات کرنے ان کے روم میں گیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اتنا تو اثر کر جائے میری وفائیں او بے وفا
ایک روز تجھے یاد آئیں اپنی جفائیں او بے وفا
پشیماں ہوکے روئے تو ہسی کو ترسے
تیرے گلشن سے زیادہ ویران نا کوئی ویرانہ نا ہو
اس دنیا میں نا کوئی تیرا اپنا تو کیا بیگانہ نا ہو
کسی کا پیار کیا تو بے رخی کو ترسے
میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے
مجھے غم دینے والے تو خوشی کو ترسے
رات گہری تھی وہ ڈنر کرنے بھی اپنے روم سے باہر نہیں نکلی تھی اور کای نے اس کہا بھی نہیں تھا۔ اب سلمیٰ بیگم ٹرے میں اس کے لئے کھانا لے کر آئیں تھیں جسے وہ کھانے سے صاف انکار کر چکی تھی۔
وہ سلمی بیگم کی گود میں منہ دئیے نیم جان سی لیٹی تھی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اس بات کے گواہ تھے کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کے دل و جاں بلکہ روح تک پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ سلمیٰ بیگم نے یاسین کی تلاوت مکمل کی اور زرا سا جھک کر اس کے ملیح مگر سوگوار چہرے پر پھونک ماری اور یاسین چوم کر عقیدت سے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
شاید مومنہ اسی بات کا انتظار کر رہی تھی۔
آپ کو پتا ہے امی، میں اس آدمی سے کس قدر شدید نفرت کرتی ہوں،؟ مومنہ نے کہا تو ہمیشہ کی طرح سلمیٰ بیگم نے بےبسی کے احساس سے چور اس کی آنکھوں میں جھانکا جہان براؤن آنکھوں میں اس شخص کا زکر کرتے دنیا جان کی نفرت، حقارت و قہر سمٹ آیا تھا۔
چلیں میں آپ کو بتاتی ہوں کہ میں ملک تابش سراج سے کتنی نفرت کرتی ہوں، اتنی نفرت کہ اگر وہ مر بھی جائے تو یقین کریں امی میں جشن مناؤں،، مومنہ نے آنکھیں موندے کہا جیسے اس دلفریب نظارے کو بند آنکھوں سے دیکھ کر محسوس کر رہی ہو۔
مومی،،،،، سلمیٰ بیگم روح تک کانپ اٹھی تھیں۔ حقیقت سے جو واقف تھیں جس سے ان کی بیٹی بلکل ناواقف تھی۔ سلمیٰ بیگم نے اسے ٹوکنا چاہا مگر آج وہ شاید سالہا سال کی بھڑاس نکال دینا چاہتی تھی۔
بیشک وہ آپ کا بھتیجا ہے اور ہمیشہ کی طرح آپ یہ بول کر میرا منہ بند مت کروانا کہ مجھ سے اتنا بڑا ہے، ہونہہ مگر میں اس سے اتنی نفرت کرتی ہوں امی کہ سوچ ہے آپ کی،، بچپن سے لے کر آج تک آپ جانتی ہیں اس نے کیا کیا، اس نے میری شخصیت مسخ کر رکھ دی امی، میری نسوانیت کی دھچیاں اڑائیں، ہر بار میرے پندار کو روند ڈالا، امی مجھے نفرت ہے اس آدمی سے، اس کے نام سے اس کی شکل سے، اس نے اتنی بار میرے کردار پر سوال اٹھائے کہ اب تو لگنے لگا ہے کہ میں واقعی ایک بدکردار لڑکی ہوں امی ،،
مومنہ کا یہ کہنا تھا کہ سلمیٰ بیگم کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت ٹپ ٹپ برسے تھے مگر وہ آج جان بوجھ کر نظر انداز کر کے اپنے دل کی ہر بات بتا دینا چاہتی تھی۔
اچھا سنیں ناں امی، آپ ایسا کریں میری جلد از جلد شادی کر دیں تاکہ میں اس جہنم سے آزاد ہو سکوں،، مومی نے اطمینان سے اپنے ہر مسئلے کا حل بتایا۔
اور سنیں میں اس زلیل، بے حس، بددماغ اور قابلِ نفرت شخص کی ہر ظلم و زیادتی کے بعد سالوں سے جو بات سوچتی آئی ہوں وہ آج آپ سے شئیر کرنا چاہتی ہوں میری شادی اس سراج مینشن سے ہزاروں کلو میٹر دور کرنا، بلکہ ایسا کرنا بیرونِ ملک کر دینا تاکہ اگلی زندگی میں دوبارہ کبھی مجھے اس منحوس سراج مینشن اور اس منحوس شخص کی شکل نا دیکھنی پڑے، کبھی بھی نہیں، اور ہاں پتا ہے بعد میں آپ کو ہی مجھے ملنے آنا پڑا کرے گا کیونکہ میں تو اس زلالت مینشن میں ایک قدم بھی نہیں رکھوں گی، امی ٹھیک ہے ناں، ایسا ہی کریں گی ناں آپ،، مومنہ نے زرا سا سر اٹھا کر ماں کی آنکھوں میں جھانکا جہان سے ساون بھادوں برستے سلمیٰ بیگم نے دھیمے سے اثبات میں سر ہلایا تو وہ تو جیسے ہر بوجھ سے آزاد ہو کر سکون سے آنکھیں موند گئی۔
پلٹ کر آنکھ نم کرنا مجھے ہر گز نہیں آتا
گئے لمحوں کا غم کرنا مجھے ہر گز نہیں آتا
محبت ہو تو بے حد ہو نفرت ہو تو بے پایاں
کوئی بھی کام کرنا مجھے ہر گز نہیں آتا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ناشتے کی ٹیبل پر عام دنوں کی طرح غیر معمولی ہلچل سی تھی۔ مومنہ سلمی بیگم کے پہلو میں اپنی پلیٹ پر مکمل جھکی ہوئی تھی مبادا کہیں نگاہ سامنے اٹھے اور حلق تک کڑوا ہو کر سارا دن خراب نا ہو جائے۔
تبھی دا جی نے سربراہی کرسی پر بیٹھے گلا کھنکارا تھا۔
ان کے پہلو میں ہی رکھی کرسیوں پر تایا اور چچا جان براجمان تھے۔ اور ان کے ساتھ ہی ان کا چہیتا سنجیدگی سے بیٹھا بڑی رغبت سے بریک فاسٹ سے انصاف کر رہا تھا۔
بھئ کافی دنوں کی سوچ بچار، اور صلاح مشورے کے بعد ہم بڑوں نے ایک فیصلہ کیا ہے،، دا جی نے بلند و رعب دار آواز میں کہا تو سب کے ساتھ مومنہ نے بھی بلا ارادہ دا جی کی جانب دیکھا تھا۔
وہ یہ کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ملک تابش سراج کو اس کی امانت سونپ دی جائے، مطلب کہ اس کی منکوحہ ملک مومنہ سراج کو اس کے ساتھ رخصت کر دیا جائے،،
یہ سن کر قریب بیٹھے ملک تابش سراب کے لبوں کو ایک مبہم سی فاتحانہ مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
بات تھی کے پھندا جو مومنہ کے گلے میں لگا تھا۔
یا زمین اس کے سر پر الٹائی گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس کی روح پر کوڑے برسائے گئے تو وہ بلبلا اٹھی۔ اس کی ٹانگوں میں ہوتی واضح لرزش سلمیٰ بیگم نے بھی دیکھی تھی۔
بے یقینی کی انتہا سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے قریب بیٹھی ماں کو دیکھا تو وہ جان بوجھ کر نگاہیں چرا کر سر جھکا گئیں۔
وہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔ سلمیٰ بیگم کا دل دہل چکا تھا۔ ابھی وہ رات کیا باتیں کر رہی تھی۔ اور اب یہ اتنا بڑا انکشاف۔ کیا رنگ لائے گی اس کی اتنی نفرت۔
بچی شرما گئی شاید،، دا جی مسکرائے تھے۔ ملک تابش سراج نے ایک نگاہ اس بند دروازے کی جانب دیکھا۔
ارادہ چٹانوں سا مضبوط تھا۔ ہاں وہ منا لے گا اسے۔
پر کیا یہ سب اتنا آسان تھا۔؟
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
