No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ
یاد رہتا ہے کسے
گزرے زمانے کا چلن
سرد پڑ جاتی ہے چاہت
ہار جاتی ہے لگن
اب محبت بھی ہے کیا؟
ایک تجارت کے سوا
ہم بھی نادان تھے جو اوڑھا
بیتی یادوں کا کفن
ورنہ جینے کے لیئے سب کچھ بھلا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پہ کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ
جانے وہ کیا لوگ تھے
جن کو وفا کا پاس تھا
دوسرے کے دل پہ کیا گزرے گی
یہ احساس تھا
اب ہے پتھر کے صنم
جن کو احساس نہ غم
وہ زمانہ اب کہاں
جو اہل دل کا راس تھا
اب تو مطلب کے لیے نامِ وفا لیتے ہیں لوگ
جب بھی جی چاہے نئی دنیا بسا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پے کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ
دو دن سے ملک تابش سراج اپنے کمرے میں بند تھا۔ ایک قیامت تھی جو سراج مینشن پر ہو کر گزری تھی۔
سب اپنے اپنے کمروں میں بند دبکے بیٹھے تھے۔ جیسے باہر نکلے تو کوئی اور طوفان آ جائے گا۔
ملک فیضان سراج کو ہارٹ کا مائنر سا اٹیک بھی آ چکا تھا۔ شازیہ بیگم رو رو کر پاگل ہو چکیں تھیں کہ ان کی تربیت میں آخر ایسی کونسی کمی رہ گئی تھی کہ ان کی سیرت ایسی نکلی۔
اصلی نام تو سیرت تھا مگر سب نے پیار سے بگاڑ کر سارا کر دیا تھا۔ وہ سارا جو سیرت کی کالی اور زہریلی نکلی۔
رہے دا جی تو وہ اتنا ہی گرجے برسے تھے جتنا ان سے بھڑکا گیا تھا۔ ایک مرتبہ پھر سراج مینشن میں ان کی جلالی آواز گونجی تھی۔
سراج مینشن میں موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔جب اس سناٹے کو چیرتا لاؤنج میں رکھا وائرلیس فون چنگھاڑ اٹھا تھا۔ ان سب کے فونز پر میسجز آئے تھے جب وہ سب ایک مرتبہ پھر لاؤنج میں اکھٹا ہو چکے تھے۔ سب کے دل دہل چکے تھے۔ چہروں پر خون نچڑ آیا تھا۔
بس مومی اور عرفہ اپنے اپنے کمروں میں دبکی بیٹھیں تھیں۔
دا جی، سلمیٰ، شازیہ، صدیقہ، عمران اور فیضان اور سیام سب لاؤنج میں چلے آئے تھے۔ سب کے چہرے فق تھے۔
کیونکہ تابش تین دن کے بعد آج اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ لال انگارا چہرہ اور پھٹتی ہوئی تنی رگیں۔ اس نے آ کر فون اٹھا کر سپیکر پر ڈالا تھا۔نمبر بیرون ملک تھا۔
“سارا بول رہی ہوں، ملک تابش سراج مجھے طلاق کب دو گے،، سیرت کی آواز سراج مینشن کے لاؤنج میں گونجی۔ شازیہ بیگم دوپٹہ میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ کاش ایسی ناخلف، ناہنجار اور نافرمان اولاد کا گلا وہ پیدا ہوتے ہی گھونٹ دیتی تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔
میں ملک تابش سراج بقائمی ہوش حواس ملک سیرت فیضان تم جسیی بنجارن بکھارن کو بھیک سمجھ کر طلاق دیتا ہوں،
طلاق دیتا ہوں،
طلاق دیتا ہوں،
تابش سراج کی آواز بھی بھاری گونجدار تھی۔ وہ بول رہا تھا اور کسی نے بھی اس کو روکنے کی یا چپ کرانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ سیرت جیسی لڑکیاں تابش جیسے شوہر ڈیزرو ہی نہیں کرتیں ہیں۔ یہ الفاظ سن کر ایک مرتبہ تو فون کے دوسری جانب بھی موت کا سا سناٹا چھایا تھا۔
میں اور میرا خاندان دقیانوسی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت غیرت مند بھی ہیں مس سیرت، اسی لئے امید کرتا ہوں کہ آئندہ زندگی میں کبھی تم سراج مینشن کے اردگرد بھی نا پھٹکتی نظر ہمیں نہیں تو زندہ زمین میں گاڑھ دی جاؤ گی، کبھی لوٹ کر مت آنا، زندگی تم پر حرام ہو جائے تب بھی نہیں یا زمانے کی ٹھوکروں میں روند دی جاؤ تب بھی نہیں،،
ملک تابش سراج کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی۔ سیرت کو آگ لگی۔
تم یو فضول انسان تم بددعائیں دے رہے ہو مجھے،، وہ پھنکاری۔
نہیں تم جیسی چیپ، گھٹیا اور دو ٹکے کی لڑکی کو تمھارے جیسی ہی لڑکیوں کی حقیقت بتا رہا ہوں،،
تابش نے بول کر کھٹاک سے فون رکھا تھا اور صوفے پر بیٹھتا چلا گیا۔
یہ، یہ ہے میرا نصیب،، دا جی پھر دھاڑے تھے۔
پہلے بیٹی نے رسوا کیا، زمانے کو منہ دکھانے کے لائق نا چھوڑا، آخر اسی کے نقشِ قدم پر چلتی ہوئی اب رہی سہی کسر پوتی پوری کر رہی ہے، ارے میں نے تو کسی کا کبھی دل نہیں دکھایا کبھی کسی کا برا نہیں کیا تو ہر بار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے کیوں میرا سر جھکا دیا جاتا ہے، کیوں میری ہی اولادوں نے میری زندگی حرام کر رکھی ہے ،، آخر قصور کیا ہے میرا،،
دا جی برداشت نہیں کر پائے تھے تبھی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔ سلمیٰ بے تحاشا روتی ان کے قریب آئیں تھیں۔ ان کے آگے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے تھے۔
مجھے معاف کردیں دا جی خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں، میں اپنے کیے ہر عمل پر پچھتائی ہوں، آپ کا دل دکھا کر روئی ہوں مجھے معاف کر دیں،،
وہ بھی رو پڑیں تھیں۔
دا جی نے سلمیٰ کے جڑے ہاتھ تھام لیے تھے اور عرصہ دراز کے بعد اپنی اجڑی برباد ہو چکی لخت جگر کو سینے سے لگا کر پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے تھے۔ سلمیٰ نے بھی آج رو رو کر اپنا تمام غم غلط کیا تھا۔ وہ تو آج تک یہی دعائیں مانگتی رہیں تھیں کہ الله کرے کہ کوئی بھی لڑکی ان کے نقشِ قدم پر چل کر خود کو بھیڑیوں کے حوالے کرتے برباد نا کرے مگر جو قسمت کو منظور۔
دا جی نے کافی دیر بعد سلمی کو خود سے الگ کیا تھا۔
سب سن لو، میں نے ایک فیصلہ کیا ہے جس پر آج، ابھی، اور اسی وقت عمل ہوگا، نہیں تو میرا مرا منہ دیکھو گے سب،، عمران فیضان مولوی صاحب کا بندوبست کرو، نکاح ہوں گے، رخصتی بچیوں کے زرا بڑے ہونے پر، آج ہی، مومی کا تابش کے ساتھ اور عرفہ کا سیام کے ساتھ،،
دا جی نے اٹل لہجے میں حتمی فیصلہ سنایا تھا۔
سلمیٰ نے صدمے سے گنگ دا جی کو دیکھا۔ اپنی معصوم سی گڑیا کا چہرہ آنکھوں کے آگے لہرایا۔ بےبسی کی انتہا سے پہلو بدلا۔ آج ہی تو سالوں بعد باپ نے سینے سے لگایا تھا۔ آج ہی ان کے حکم عدولی کیسے کر دیتیں۔ اور وہ بھائی جنھوں نے اس وقت انھیں سہارا دیا جب وہ مکمل برباد ہو چکی تھیں اس بھائی کا وہی بیٹا جو مکمل برباد ہو چکا تھا کیسے انکار کر کے احسان فراموشی کر دیتیں۔
تابش تو جیسے پتھر کا بت بنا بیٹھا تھا جس پر اب کبھی کسی چیز کا جیسے اثر ہونا ہی نہیں تھا۔
(مگر سیام کے قدموں سے ضرور زمین کھسکی تھی۔ یہ کیا بول دیا تھا دا جی نے، ابھی تو تابش کے کی آنکھوں میں اپنی بہن کی وجہ سے خود کے لئے بےپناہ نفرت محسوس کر رہا تھا کجا کہ اب اس کی بہن سے ہی نکاح کر لیتا، اور بھلا ان کی عمر ہی کیا تھی، بھلا اسے کیا دلچسپی تھی عرفہ سے، اس نے تو ہمیشہ اسے چھوٹی بہن ہی سمجھا تھا)
مگر سمجھنے اور ہونے میں بھی تو فرق ہوتا ہے ناں۔
سنیں دا جی، میں صرف ایک ہی شرط پر یہ نکاح کروں گا، کہ مومی کو اپنی آئندہ کی زندگی میرے تابع رہ کر گزارنی پڑے گی، وہ ہنسے گی تو میری مرضی سے، روئے گی تو میری مرضی سے، حتی کے سانس بھی لے گی تو میری مرضی سے، کہیں آنا جانا، اٹھنا بیٹھنا سب میری مرضی سے ہوگا، مومی کا بھی اور یہ قوائد وضوابط عرفہ پر بھی لاگو ہوں گے،،
تابش کہہ کر خاموش ہوا تھا۔اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ سلمیٰ بیگم نے پہلو بدلا۔ بولنے کو منہ کھولا کہ سراسر ان کی معصوم بچی پر ظلم ہے۔ مگر دا جی نے ہاتھ اٹھا کر انھیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
عمران، فیضان نکاح کی تیاری کرو،، دا جی بول اپنے کمرے میں گئے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
میں یہ نکاح ہر گز نہیں کروں گا،تماشا ہے کیا؟ سمجھ کیا رکھا ہے آپ لوگوں نے یہ مزاق ہے ہمارا یا گڈے گڈی کا کھیل،، سیام چلایا اور کمرے کی تمام چیزیں تہس نہس کیں تھیں۔
چٹاخ،،،،،،،،،،،
سیام کو شازیہ بیگم سے ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا۔
تماشا تو تمھاری بہن نے بنا دیا ہے ہمارا، اب رہی سہی کسر تم پوری کر دو، اب خدا کے لئے سیام یا دا جی کا حکم مانتے ہوئے یہ نکاح کر لو یا مجھے اور اپنے باپ کو تھوڑا تھوڑا زہر لا دو، تاکہ ہم مریں اور ہماری ایک مرتبہ ہی اس نافرمان اولاد سے جان چھوٹ جائے جو جانے کون سے گناہوں کی سزا دے رہی ہے ہمیں،،
شازیہ بیگم پھٹ پڑیں تھیں۔ اب تو رو رو کر آنکھیں بھی خشک ہو چکیں تھیں۔ اور سیام کے پاس کچھ اور کہنے کو یا مزید احتجاج کرنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔
ادھر عرفہ اپنی قسمت کے کیے جانے والے اس فیصلے پہ حیران پریشان تو تھی مگر بلکل خاموش تھی کہ اس میں اتنی سمجھ بوجھ تو تھی کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔
مگر مومی حران پریشان سی گھر میں ہوئی اس غیر معمولی ہلچل پر حران سی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مما یہ کیا ہے،، کچھ ہی دیر بعد سلمیٰ بیگم نے نم آنکھیں لیے مومی کو سرخ پوشاک زیب تن کروائی تھی۔
“جو کچھ بھی ہے میری بچی، ہمیں دا جی کی مات ماننی ہے ابھی دا جی کے ساتھ ایک انکل آئیں گے وہ آپ سے جو بھی پوچھیں آپ نے یس بولنا ہے اور جہاں وہ بولیں ادھر سائن کر دینے ہیں، میں آپ کی مما ہوں آپ کی ولی مطلب آپ کی گارڈین تو جو کچھ میں نے کہا ہے آپ نے وہی کرنا ہے،،
سلمیٰ بیگم نے اس کو اس کی سمجھ بوجھ کے مطابق اچھے سے سمجھا دیا تھا۔ وہ معصومیت سے سر ہلاتی گئی یہ جانے کہ بغیر کہ اس یس کے بعد اور سائن کرنے کے بعد اس کی زندگی پرخار راہوں کی ڈگرپر گامزن ہونے والی ہے۔ اسے سانس بھی کسی کی مرضی کے مطابق لینا ہوگا۔
مومی اور عرفہ سلمیٰ کے روم میں تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد دا جی، عمران اور فیضان کے ساتھ مولوی صاحب اندر آئے تھے۔
پہلے عرفہ کی رضامندی اور سئن لیے گئے پھر مومی سے۔ باہر بھی ایجاب وقبول کا مرحلہ طے پا گیا۔
ہر طرف مبارک باد کا شور سا اٹھا تھا۔ ملک تابش سراج کے وحشت سے بھر پور چہرے پر خطرناک قسم کی سنجیدگی طاری تھی۔ جبکہ سیام کا چہرہ بھی دیکھنے لائق تھا بڑی مشکل سے ضبط کیے بیٹھا رہا۔
سیکھ لے ہم سے کوئی ضبط جنوں کے انداز
برسوں پابند رہے پر نہ ہلائی زنجیر
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ فرہاد کے ساتھ دوسرے دن مانچسٹر چلی آئی تھی۔ ایک چھوٹا سا کاٹیج تھا جہاں انھیں رہنا تھا یہ سپنوں کی دنیا تھی۔ اگلے دن ہی وہ یونی بھی دیکھ آئی تھی۔ اور ملک تابش سراج سے طلاق بھی مل گئی تھی۔ اب کیا چاہیے تھا کچھ بھی نہیں۔
اب بس سپنوں نے اڑان بھرنی تھی۔
وہ کاٹیج میں اپنے روم میں اپنے بیڈ پر بیٹھی خیالوں کی دنیا میں کھوئی مسکرا رہی تھی جب فرہاد کاظمی کھانے کی ٹرے لیے مسکراتے اندر داخل ہوا اور آ کر اس کے سامنے بیٹھا۔
خوش ہو؟ سو کالڈ پابندیوں اور گھٹن سے آزاد ہو کر؟
ہاں بہہہہہہہہہت،،، وہ آنکھیں بند کر کہ ایک جزب سے بولی۔
کوئی پچھتاوا یا کوئی کسک میں،، فرہاد نے اس ٹٹولا۔
بلکل نہیں، زرا برابر بھی نہیں وہ ڈیزرو کرتے تھے اسے،، وہ لاپروائی سے کہتی اس کے ساتھ کھانا کھانے لگی۔
سنو فرہاد،
اونہہہ،،،
ہم نکاح کب کریں گے،، سیرت مدعے پر آئی۔
فرہاد کاظمی بے تحاشا چونکا تھا۔
اففففف یار،، سانس تو لو، کیا پاکستانی ٹیپکل عورتوں کی طرح آتے ساتھ ہی یہ نکاح شادی کی بات لے کر بیٹھ گئی ہو، تم یہاں ڈاکٹر بننے آئی ہو یا بچے پیدا کرنے،، فرہاد کا لہجے میں عجیب چبھن سی تھی۔ سیرت جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔
اوکے سوری، میں اپنی یونی پر کونسٹریٹ کرتی ہوں،، وہ صلح جو لہجے میں بولی۔
اونہہہ گڈ،، اس نے ہنکارا بھرتے کھانے پر توجہ دی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ایک ہفتہ ہو چکا تھا مومی اپنے گھر کی روٹین اور ماحول سے فل بیزار، اب اکتا چکی تھی۔
فیضان اور شازیہ بیگم اپنے پورشن میں ہی رہتے ۔ سیام نے ہفتے بھر سے شکل نہیں دکھائی تھی۔ عرفہ بھی اپنے کمرے میں بند رہتی۔ وہ پورے سراج مینشن میں بولائی بولائی پھر رہی تھی۔
یہ آخر سب کو ہو گیا تھا۔
تاشو بھی تو جانے کہاں گم تھا اتنے دن سے۔
تبھی زہن میں جھماکا ہوا۔ کیوں نا پڑھائی کے بہانے تاشو کے پاس جایا جائے اور اس سے آئیسکریم کے لئے کہا جائے۔
پہلے بھی تو جب جب وہ بولتی تھی عرفہ کی بھی عید ہو جاتی۔ تاشو اس کے منہ سے نکلتے ہی اسے اور عرفہ کو آئسکریم کھلانے لے جاتا تھا۔
وہ ہاتھوں میں بکس تھامے تاشو کے روم میں داخل ہوئی تھی۔ شام کا وقت تھا۔ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ تاشو یقیناََ فریش ہو رہا ہوگا۔
وہ صوفے پر بیٹھ کر ببل گم چباتی پاوں جھلا کر ویٹ کرنے لگی۔ ٹی پنک ٹی شرٹ کے نیچے بلو جینز کی پینٹ پہنے۔ میگی نوڈلز کی پونی ٹیل بنائے وہ اب روم میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔
تابش ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا تھا اور اپنے روم میں مومی کو بیٹھے دیکھ حیرت کا جھٹکا سا لگا۔ حالانکہ یہ اس کے لئے حیرت کی بات تھی مومی کے لئے نہیں۔
مومنہ کیا کر رہی ہو یہاں، بغیر پرمیشن لیے کیوں آئی میرے روم میں،، اس نے خطرناک حد تک سنجیدگی سے پوچھا تو مومی کی بڑی بڑی براؤن آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تھیں کہ وہ کب سے مونا سے مومنہ بنی۔
تاشو مجھے پڑھا دیں ناں،، یہ میتھس،،
شٹ اپ مومنہ،، جسٹ شٹ اپ،خبردار مجھے اس فضول نام سے پکارا ، وہ دھاڑا۔ وہ اچھل کر صوفے سے کھڑی ہوئی تھی۔
تو کیا جس طرح ڈانٹ رہے ہیں گبّر کہوں آپ کو،، وہ کڑوے کڑوے منہ بناتی کیوٹ سے انداز میں بولی اور جلتی پر جیسے تیل ڈال گئی۔ اور جب کھڑی ہوئی تو تابش کو اس کے لباس نے سر تا پا جھلسا ڈالا تھا۔
گیٹ لاسٹ مومنہ،، دفع ہو جاؤ میرے روم سے،،
وہ دھاڑا تھا اور مومی کو اس کا بلاوجہ چیخنا چلانا سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
لیکن مجھے پڑھنا،،
اس کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ چکے تھے جب وہ دانت پیستا اس کی جانب لپکا۔ اسے بازو سے پکڑ کر سلمیٰ بیگم کے روم میں لایا تھا۔
لا کر بہت بری طرح ایک جھٹکے سے اس بیڈ پر پٹخا تھا۔ سلمیٰ بیگم حیران ہوئیں۔
کیا ہوا تابش یہ کیا،،؟
پھپھو اس کے پاس ڈھنگ کا لباس نہیں ہے کیا؟ آئندہ میں اسے یا عرفہ کو ایسے بےہودہ لباس میں نا دیکھوں، امی کو بھی بتا دیجئے گا، نہیں تو لباس سمیت آگ لگا دوں گا،،
وہ کہتا تن فن کرتا وہاں سے نکلا تھا۔
سلمیٰ بیگم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اور مومی نے بے تحاشا حیرت سے اپنا یوں پٹخا جانا ملاحظہ کیا تھا۔ اس کا سر بیڈ کراؤن سے لگتے لگتے بچا تھا۔
ان سے اور مجھ سے یہی شرطِ وفا ٹھہری ہے
وہ ستم ڈھائیں مگر،،،،،،،، ان کو ستمگر نا کہوں
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
