No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ دکھ بھی دے تو کر نہیں سکتی اسے جدا
لپٹی ہوئی بدن سے یہ آکاس بیل ہے
حاصل ہوئی تو چیز کی وقعت نہیں رہی
جس گھر میں قید ہوں وہ رشتوں کی جیل ھے
سنو عرفہ تمھاری چھوٹی مما نے سالن منگوایا ہے یہ ڈونگا اٹھاؤ اور فورا دے کر آؤ،، صدیقہ بیگم نے مصروف سے انداز میں کہا عرفہ کے ہوش اڑے۔ ڈونگا اٹھائے بغیر باہر نکلنے لگی تو صدیقہ بیگم کے ماتھے پر بل پڑے۔
کیا بدتمیزی ہے عرفہ میں نے تمھیں کیا کہا ہے۔
امی میں مومی کو بلانے جا رہی تھی وہ دے آئے گی،، عرفہ منمنائی۔ چار سال سے کہاں سامنا کیا تھا اس سڑے بینگن کا۔ بڑی مشکل سے دامن بچا رکھا تھا اپنا۔
کیوں تمھاری اپنی ٹانگیں ٹوٹی ہوئیں ہیں جو مومی کو آرڈر دینا ہے تم نے، اور تمھیں آخر تکلیف کیا ہے اپنے سسرال جاتے ہوئے، ساری زندگی وہیں گزارنی ہے تو اب کیا موت پڑتی ہے،، صدیقہ بیگم نے اسے بری طرح جھڑکا تو وہ ڈونگہ اٹھا کر نم آنکھیں لیے ڈرتی ڈرتی دوسرے پورشن میں آئی۔
وہ اور شازیہ بھی نوٹ کر چکیں تھیں کہ وہ اپنے سسرال میں تل بھی نہیں دھرتی ہے۔ تبھی آج صدیقہ بیگم نے اس جھڑک کر آج ادھر روانہ کیا تھا۔
وہ آئی بلا کو ٹال تو کا ورد کرتی دوسرے پورشن کی جانب گئی تھی۔
دوسرے پورشن میں حسبِ معمول کافی سناٹا تھا۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سیام ایم بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد اب آگے پڑھائی کرنے کے لئے کینڈا جانے کے چکروں میں تھا۔ تمام تیاری مکمل تھی۔ اب بس بڑوں کو منانے کا پہاڑ سر کرنا تھا جو کہ ناممکن ہی لگ رہا تھا۔ رات وہ کافی بحث کر چکا تھا۔امی بابا سے ۔ رات کا احتجاجا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ اب بھی بھوکا پیاسا اپنے کمرے میں بند تھا۔
عرفہ کچن میں آئی ڈونگا شازیہ بیگم کو تھما کر کافی دیر ان کے ساتھ بیٹھی باتیں کرتی رہی تھی۔
وہ بتاتی رہیں کہ کافی دن سے بیمار ہیں اسی لئے صدیقہ بیگم ہی کھانا بنا کر بھیج رہی تھیں۔ گھر بھی اوندھا پڑا ہوا تھا۔ کام والی نے بھی شازیہ بیگم کی بیماری کا خوب ہی فائدہ اٹھایا تھا۔ اور بس لگتا ہے اپنی جان ہی چھڑاتی رہی تھی۔
عرفہ کافی سے زیادہ شرمندہ ہوئی۔ اور جلدی سے سارا کچن صاف کیا۔ جھوٹے برتن سنک میں جمع کر کے دھوئے۔
شازیہ بیگم کا تھا ہی کون ان لوگوں کے علاوہ ۔ عرفہ کو بہت زیادہ شرمندگی نے آن گھیرا تھا وہ کیسے اتنی بے حس ہو کر اتنی غفلت اختیار کر سکتی تھی۔
اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔ پھر دو گھنٹے لگا کر وہ سارے گھر کی ڈسٹنگ کر چکی تھی۔ شازیہ بیگم کے کمروں کی چادریں اور پردے بھی چینج کر دئیے۔ ایک جن کے کمرے سے دو فٹ دور ہی رہنے میں عافیت سمجھی تھی۔
ابھی وہ بڑی دلجمعی سے فرش دھونے میں مصروف تھی۔ جب سیام اپنے کمرے سے نکل کر باہر آیا اور اپنا چمچماتا گھر دیکھا تو حیرت ہوئی۔ باہر پچھلے برآمدے میں سے شڑاپ شڑاپ پانی کا پائپ اور جھاڑو چلنے کی آواز پر وہ تجسس کے مارے ادھر گیا۔
وہ دوپٹہ کندھے سے لے جا کر کمر پر باندھے توجہ سے اپنے کام میں مصروف تھی۔ سیام کے دل کو جانے کیوں سکون سا ملا ۔ مگر دماغ تھوڑا بددماغ ہی تھا۔
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں،، اچانک ہی آنے والی اس سڑے بینگن کی آواز پر وہ اچھل کر پائپ سمیت پیچھے مڑی تھی۔ پائپ سے نکلتے تیز بہاؤ والے پانی نے سیام کا مزاج درست کرتے ہوئے اس کے ہوش ٹھکانے لگائے تھے۔۔
واٹ دا،، یہ کیا بدتمیزی ہے،، وہ چلایا۔ عرفہ نے بھاگ کر ٹیپ بند کیا تھا۔
کام کر رہی تھی میں،، وہ اطمینان سے پائپ لپیٹتی بولی۔
سیام نے اسے بغور دیکھا۔ صاف شفاف چہرے پر ایک دو جگہ پمپل اپنا جلوہ دکھا رہے تھے۔ نرم و نازک وجود مگر لہجے اب پر اعتماد سا تھا۔
سیام کا خود کا رنگ گندمی مائل تھا۔ تبھی وہ اسے سڑا بینگن کہتی تھی جس کا سیام کے فرشتوں کو بھی کو بھی خبر نا تھی۔
یو نو واٹ، چاہے جتنی بھی کوششیں کر لو، جتنے مرضی حربے آزما لو، جو چاہے کر لو، مجھے کبھی متاثر نہیں کر پاؤ گی، نا میں کبھی تمھاری طرف مائل ہو سکتا ہوں، نا کبھی مجھے تم میں کوئی دلچسپی ہو سکتی ہے،،
وہ بڑے سکون سے بولا تھا جبکہ ہتک و ذلت کے احساس سے عرفہ کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑا تھا۔ جو وہ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ عرفہ کی آنکھیں تیزی سے پانی سے لبا لب بھری تھیں۔
یوں لگتا تھا جیسے کسی نے مٹھی بھر مرچیں آنکھوں میں ڈال دیں تھیں۔
عرفہ نے پائپ اور جھاڑو وہیں گرایا تھا۔ اور اپنے الفاظ اس بےحس، پتھر دل گھٹیا شخص پر ضائع کیے بغیر، کچھ بھی کہے بغیر تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی آئی تھی۔ اب یہ تو طے تھا کہ وہ زندگی میں کبھی پلٹ کر اس شخص کو دیکھے گی بھی نہیں۔ اس کی زندگی میں شامل ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔ موت کو گلے لگا لے گی۔ مگر اس کے سامنے کبھی اپنے وجود کو یوں ارزاں نہیں ہونے دے گی۔
وہ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے بڑی دیر تک اس جگہ کو گھورتا رہا جہاں سے وہ ابھی ابھی گئی تھی۔ وہ جانے کونسی انا کی تسکین کے لئے اسے زہنی ٹارچر کرتا آ رہا تھا مگر آج ابھی ابھی اسے اس کی نم آنکھیں دیکھ کر ادراک ہوا تھا کہ وہ ان آنکھوں کے نمکین پانیوں میں پوری طرح ڈوب چکا ہے۔ اسے پر اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ وہ اس کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ تبھی اس کا سرخ چہرہ دیکھ سیام کو اپنا دل جیسے ڈوبتے سورج کی طرح اتھاہ گہرائیوں میں اترتا محسوس ہوا تھا۔
اب عافیت اسی میں تھی کہ اپنے دل کی اس بدلتی کیفیت سے فرار ہونے کا رستہ اختیار کیا جائے ۔ تبھی وہ واپس اپنے روم میں گیا تھا اپنا بیگ اٹھایا اور سیدھا دا جی کے پاس آیا۔ ان سے جھوٹ بولا کہ امی بابا نے اجازت دے دی ہے اب بس ان کی اجازت درکار ہے۔
بھلا دا جی کو کیا اعتراض ہونا تھا انھوںنے نے بھی اسے اجازت دے دی۔ تبھی وہ سراج مینشن سے نکلتا چلا گیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ اس کی عصمت کا لٹیرا بڑی دیدہ دلیری سے آج پھر اس کے کمرے میں چلا آیا تھا۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی فرہاد پھر سے میرے کمرے میں آنے کی،، وہ پھنکاری۔
جن تجوریاں کے خزانے لٹ چکے ہیں ان کو تالے نہیں لگائے جاتے میری جان،، وہ خباثت سے بولتا ہنس دیا۔ اور بیڈ پر پسر کر لیٹ گیا۔
چار سال سے یہی تو ہو رہا تھا۔ فرہاد کاظمی کی دانست میں وہ اس کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہا تھا۔
جبکہ سیرت وہ حرام زندگی گزار رہی تھی۔ ایسا ہی تو ہوتا ہے سیرت جیسی لڑکیوں کے ساتھ۔ جو لڑکیاں اپنے گھر کی چار دیواری کے اقدار و روایات سے آزادی چاہتی ہیں وہ زمانے کی ٹھوکروں پر رکھ دی جاتی ہیں۔
فرہاد نے اسے منا لیا تھا جب وہ اس کے بیوی کا معلوم ہونے پر ناراض ہوئی تھی۔ اس نے بڑی چاپلوسی سے اسے منایا تھا۔ ہاتھ آیا شکار تو وہ بھی نہیں جانے دیتا تھا۔ خاص کر وہ من پسند شکار جس پر اس نے اتنا پیسا لگایا ہو۔ جب وہ اس کی باتوں کے جال میں کسی صورت نہیں پھنسی اور نکاح پر اصرار کیا تب اس نے بہت مکاری اور دھوکے سے سیرت کے کھانے میں نشہ آور چیز ملا دی تھی۔
تب سے اب تک وہ جب جی چاہتا زور زبردستی سے اپنی من مرضی کر لیا کرتا تھا۔
اور سیرت کھلی آنکھوں سے اپنی بربادی کا تماشا دیکھتی رہی۔ مگر مجبوری تو یہ تھی کہ وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔
واپسی کے لئے تمام کشتیاں جلا کر نکلی تھی۔
فرہاد کاظمی سے جان چھڑاتی تو جانے کن کے چنگل میں جا کر پھنستی۔ ویسے بھی وہ اگر ایم بی بی ایس کر پا رہی تھی تو فرہاد کاظمی کی فائنانشل سپورٹ سے۔ خود کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ہر طرف سے خالی دامن تھی۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے تک وہ مکمل اس کی مھتاج تھی۔ بڑے ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کی شاید کچھ اچھا ہو بھی جاتا اس کے ساتھ لیکن اگر وہ اتنے سارے دل اتنی بری طرح نا دکھاتی۔
اب تو اپنا بویا کاٹ رہی تھی۔
ایم بی بی ایس کا آخری سال تھا۔ کچھ دنوں سے طبیعت کچھ گری گری بھی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ فرہاد کاظمی کی ناجائز اولاد پیدا کر کے وہ مزید زلت و رسوائیوں کی کھائیوں میں گرنے والی ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مزید چار سال بعد۔۔۔۔۔۔
سب بڑے خاندان میں ہوئی کسی کی ڈیتھ میں گئے ہوئے تھے۔ آج سنڈے تھا اور انتیس سالہ مشہور بزنس ٹائیکون ملک تابش سرج آج گھر پر تھا۔ دیر تک سوتے رہنے کے بعد وہ بلیک ٹراؤزر اور لائٹ بلو ٹی شرٹ میں گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔
بریک فاسٹ بھی نہیں کیا تھا سو اب بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ تائم دیکھا ایک بج رہا تھا۔
لاونج میں میں آ کر بے اختیار نگاہ رگِ جاں کے روم تک اٹھی۔ ایک نرم مسکراہٹ نے گھنی مونچھوں تلے خود بخود عنابی لبوں کو چھوا۔
کیوں نا اپنی جان کو حسب معمول پریشان کیا جائے۔
جب سے سیام کینڈا گیا تھا عرفہ دوسرے پورشن میں شازیہ بیگم کے پاس شفٹ ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ اکثر بیمار رہتی تھیں۔ فیضان کام پر جاتے تو ان کی دیکھ بھال والا کوئی نہیں ہوتا تھا تو یہ زمہ داری بھی عرفہ نے سنبھال لی تھی۔ بی ایس سی اچھے نمبرز سے پاس کر کے اس نے خود ہی پڑھائی کو خیر آباد بول دیا تھا۔
شازیہ اور فیضان نے اپنی انسلٹ سے بچنے کے لئے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ ان کا لاڈلہ سپوت بھی بگھوڑی بہن کی طرح انھیں پیٹھ دکھا کر بھاگا ہے۔
مومی اب بی ایس سی کے فائنل ایر میں تھی۔ اب اس نے سب جھنجھٹوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ بلکہ چار سال سے چھوٹی موٹی انتقامی کارروائیاں کر کے اس گبر کی اولاد سے اپنا بدلہ بھی لیتی رہی تھی اور اسے مبڑی صفائی سے مختلف طریقوں سے پریشان بھی کرتی آئی تھی۔ جو کہ سامنے والا اچھی طرح جانتا تھا ناصرف اگنور کرتا بلکہ یہ انتقامی کارروائیاں انجوائے بھی کرتا تھا۔ میٹرک کے واقعہ کے بعد اس نے نا ملک تابش کو دوبارہ منہ لگانے کی ضرورت سمجھی تھی نا ہی اس سے الجھی تھی۔
اسے ملک تابش سراج کی موجودگی میں اپنے کمرے تک محدود ہونا آ گیا تھا۔ گھر والوں کے طے کئے گئے اصولوں سے سمجھوتا کرنا بھی آ گیا تھا۔
ہاں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ملک تابش سراج نے جو خود کے لئے اس کے فل میں نفرت کا بیج بویا تھا اب اس کے ساتھ وہ بھی بڑا ہو کر تناور درخت بن چکا تھا۔ وہ اسے اپنے دشمن اول کی صف میں رکھے ہوئے تھی۔ جانی دشمن۔ جس سے دوستی یا صلح ناممکن سی بات تھی۔
ملک تابش آہستگی سے چلتا اس کے روم تک آیا تھا۔ ہلکے سے دور ناک کیا۔ وہ جو خود رات چھپ چھپ کر مووی دیکھنے کے بعد ابھی گہری نیند میں تھی۔ بمشکل ہی مسلسل ہوتی دستک سے آنکھ کھلی۔ میگی نوڈلز پوری کمر اور چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔
یہ سمجھ کر کہ دروازے پر کون ہو سکتا تھا اس نے بہت گندا اور کڑوا سا منہ بنایا۔
اففففففف دنیا پر اور کون پیدا ہوا ہے مجھے پریشان کرنے والا اس گبر کی اولاد کے علاوہ۔
مسلسل ہوتی دستک کی وجہ سے اسے ناچار اٹھنا پڑا۔ دوپٹہ اٹھا کر سر پر اوڑھا اور پاؤں میں چپل اڑسی۔
کلک کی آواز پر ہی تابش نے اپنی نرم مسکراہٹ گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب کی تھی۔
جی،،
دروازہ کھول کر وہ خمار آلود سرخ چہرہ لیے اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت باہر آئی تھی۔ کہ ایک مرتبہ تو ملک تابش بھی کے ہوش ہی اڑ گئے تھے۔
بہت بھوک لگی ہے، کھانا گرم کر کے لگا دو،، وہ سنجیدگی سے کہتا کچن میں جانے کے لئے مڑا تھا۔
کاش میں تمھیں زہر دے سکتی، گببر کی اولاد،
دل میں ہی بول پائی۔ مومی نے مکا بنا کر ہوا میں لہرایا کہ کاش اے کاش وہ یہ مکا اس کی پہلو میں رسید کر کے اس کا پہلو سینک سکتی۔
اس کہ یہ حرکت وہ لاؤنج میں موجود کھڑکی کے شیشے میں اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔ تابش نے دانتوں تلے لب دبایا۔
مومی پاؤں پٹختی کچن میں آئی تھی۔ کھانا گرم کر کے دینے کا مطلب تھا اس لینڈ لارڈ کے لئے تازہ روٹیاں ڈال کر دینا۔ جو کہ اس وقت اسے زہر لگ رہا تھا۔
وہ کچن میں آئی تو وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا بظاہر اپنے بے حد قیمتی موبائل فون میں لگا ہوا تھا۔
مومی نے فرج سے آٹا نکالا۔ اور مہارت سے پیڑے بنانے لگی۔ اب ملک تابش بڑی فرصت سے اس کے جائزے لینے میں مصروف تھا۔
میرون شلوار قمیض میں دوپٹہ سر پر جمائے وہ پہلے سے بڑھ کر حسین لگ رہی تھی۔ کیچر میں مقید کرنے کے چکر میں میگی نوڈلز بغاوت پر اترتے کمر پر اپنی من مرضیاں کرتے دوپٹے سے جھانک جھانک کر دعوتِ نظارا دے رہے تھے۔
مومی جانے کیا پوچھنے بہت اچانک پیچھے مڑی تھی۔ مگر اسے خود کو یوں عجیب طریقے سے تکتے پا کر کیا پوچھنے والی تھی بھول ہی گئی۔
ملک تابش نے فورا زاویہ نگاہ بدلا تھا۔
اونہہہہہہ،،، قابلِ نفرت بندہ، اب بھی غور فرما رہا ہو گا کہ کس چیز کو بہانہ بنا کر بےعزتی کروں۔ مومی دل ہی دل میں تلملائی۔ کبھی کسی زمانے وہ اس کا کتنا اچھا دوست ہوا کرتا تھا مگر اب دشمنِ اول کی صف اول میں شامل تھا۔
میرے دل سے ستمگر تونے اچھی دل لگی کی ہے
کہ بن کے دوست اپنے دوستوں سے دشمنی کی ہے
میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے
مجھے غم دینے والے تو خوشی کو ترسے
وہ بڑی مہارت سے روٹی بنا رہی تھی۔ گھر داری بہت اچھے سے سیکھی تھی۔ صدیقہ اور سلمی بیگم سے۔ تین تازہ روٹیاں بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ کر اس کے سامنے رکھی۔ مٹر قیمہ اور مکس سبزی اوون میں گرم کی۔ اور نکال کر ٹیبل پر رکھی۔
کٹنگ بورڈ پر اس کے ہاتھ بڑی تیزی اور مہارت سے تازہ سلاد کاٹ رہے تھے۔
تازہ سلاد بنا کر سامنے رکھی۔ جگ میں تازہ پانی بھر کر پاس رکھا۔ بھوک تو ادے بھی بہت لگی تھی۔ مگر یہ بلا سر سے ٹل جاتی پھر ہی کوئی نوالہ حلق سے اترنا تھا سو وہ اب کھانا لگا کر باہر نکلتی اپنے کمرے کا رخ کرنا چاہتی تھی۔ مگر کوئی ایسا نہیں چاہتا تھا۔
کچھ میٹھا ہی بنا دو،، تابش بول کر پھر پلیٹ پر جھکا۔
رئیلی،،، مومی دل میں چلا ہی تو اٹھی تھی۔ تم جیسے کریلے پلس نیم چڑھے کو بھی میٹھے کی تمنا ہے۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی یہ بندہ میتھا بہت کم بلکہ برائے نام ہی کھاتا تھا اور اب یہ بھی جانتی تھی کہ وہ محض اسے پریشان کرنے کو یہ اوچھی حرکتیں کر رہا تھا۔ مومی نے دل میں دانت کچکچائے۔ اور الماری سے پاستا نکالا۔ تاکہ فروٹ سیلڈ بنا کر اس کے منہ پر مارے۔
تو پھول بنے پت جھڑ کا تجھ پہ بہار نا آئے کبھی
میری ہی طرح تو تڑپے تجھ کو قرار نا آئے کبھی
جیئے تو اس طرح کہ زندگی کو تو ترسے
میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے
کاش وہ اپنی نفرت لفظوں میں بیان کر سکتی تو ملک تابش سراج کے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے کہ اس نے اپنے ساتھ اور اس کے ساتھ کیا کر دیا ہے۔
وہ اس کے کھانا فنش کرنے سے پہلے فروٹ کٹنگ کر کے سیلڈ مکس کر چکی تھی۔ تبھی پلیٹ میں نکلا کر اس کے سامنے رکھی۔ اب جب وہ کھانا کھا ہی چکا تھا تو اس کے یہاں سے دفعان ہونے کے چانس دکھائی دے رہے تھے۔ تبھی مومی نے اپنے لئے ایک روٹی ڈالی تھی۔
وہ اس کی پیٹھ کو گھور کو رہ گیا۔ کاش کے پورے استحقاق سے بول سکتا کہ میرے ساتھ ہی نہیں کھا سکتیں تھیں کھانا۔ مگر خود کے ہی کارنامے تھے۔جو وہ یوں اس کے سائے سے بھی گریز برتی تھی۔
حیرت انگیز وہ بیٹھا آہستہ آہستہ سیلڈ کھاتا رہا۔ کہ شاید وہ ظالم روٹی بنا کر اسی ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھا لے۔ مگر یہ ملک تابش سراج کی خام خیالی ہی تھی۔ تبھی وہ ٹرے میں کھانا لگا کر اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔
ملک تابش سراج نے ایک سرد سی آہ بھری۔
یقینا ایک آگ کا دریا ہوگا جو اسے پار کرنا پڑے گا۔ اور شاید یہ بھی اس کی خام خیالی ہی تھی کہ آٹھ سال سے ہر چیز پر سمجھوتہ کرنے والی ملک مومنہ تابش سراج اس بات پر سمجھوتہ کر لے گی کہ اپنا وجود ملک تابش سراج کو سونپے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
