No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ اپنا سامان اطمینان سے پیک کر رہی تھی اور وہ کمرے میں ادھر ادھر چکر لگاتا بری طرح جھنجھلا رہا تھا۔ ظالم سماج نے رخصتی واپس لے لی تھی۔ تاشو مومی کو لینے گیا تھا۔ اب تین بعد شہر کے بڑے ہال میں ایک بہت بڑا ریسپشن تھا جس کے بعد ان کی دلہنیں باقاعدہ طور پر ان کے کمروں میں پہنچائی جانی تھی۔ تبھی سیام کڑوے سے منہ بناتا دانت کچکچا رہا تھا۔ یہ دا جی کا حکم تھا۔
اور سڑے بینگن کو سر تاپا جلا کر چھیڑ دیا گیا تھا۔ اب تو اپنے کمرے میں ایک سیکنڈ بھی وہ موجود نا ہوتی تو دل بیٹھنے لگتا تھا کجا کہ اسے پورشن سے ہی نکال دیا جائے۔۔ وہ عرفہ کا چوری چوری مسکرانا دیکھ رہا تھا۔
اس سڑے بینگن کا فق چہرہ دیکھ عرفہ دانتوں تلے لب دبا کر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوئی۔ تبھی وہ جارحانہ تیور لیے اس کی جانب لپکا۔
عرفہ بھاگ کر ڈریسنگ میں بند ہونا چاہتی تھی۔ مگر اس کی یہ کوشش سیام نے بری طرح ناکام بنائی تھی۔ وہ اب کھل کر قہقہے لگا کر ہنسی۔ سیام نے سختی سے اسے کمر سے جکڑ کر خود میں بھینچا۔
اس گستاخی کا مطلب،، آئبرو اچکائی۔
آپ کی یہ سڑے بینگن جیسی شکل دیکھ کر ہنسی آ رہی ہے،، ہاہاہا،، ہاہاہا،،، وہ ہنسے گئی۔ سیام کو بھی ہنسی آئی مگر پی گیا۔
اور مجھے یہ تمھارا تازہ تازہ لشکارے مارتا پمپل بڑا اچھا لگ رہا ہے،، سیام نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
کیا،، کدھر سیام،، او نو، عین ریسپشن کے موقع پر پمپل،، ناٹ اگین،، عرفہ کا دل کیا اس پمپل کا سر پھوڑ دے۔ تبھی رونے والی ہو گئی۔ اور اسے دور ہٹا کر آئینے کی جانب دیکھا تاکہ اپنا تازہ تازہ پمپل دیکھ کر اس پر ماتم کر سکے۔
تمھارے دیکھنے سے وہ کیا ڈر کے مارے غائب ہو جائے گا،، سیام نے اطمینان سے کہا اور اسے بانہوں میں بھرے رکھا۔
سیام ہٹیں پیچھے مجھے دیکھنے دیں کدھر ہے،، وہ جھنجھلائی۔ موڈ بری طرح خراب ہوا تھا۔ پمپل والی دلہن اففففففف۔
اب سیام مزے لے رہا تھا اس کی جھنجھلاہٹ کے۔
تبھی جھوٹ بول کر دانتوں تلے لب دبا رکھا تھا۔
ادھر ہے یہ دیکھو،، سیام نے اس کے ناک کے پاس اشارہ کیا۔
کدھر،، عرفہ کو غش پڑا۔ اپنا چہرہ ٹٹولہ۔
ادھر، سیام نے اس کی ناک کے قریب اپنے لب رکھے۔
سیام میں اس پمپل کے ساتھ دلہن نہیں بنوں گی،، اس نے منہ بسورا۔
گڈ،، بڑا اچھا فیصلہ ہے، تم دا جی سے جا کر بولو کہ دلہن نہیں بننا تمھیں، بس ایسے ہی میرے پاس رہنا ہے، کہیں نہیں جانا،، وہ مطلب کی بات پر آیا۔
عرفہ نے اس بات پر اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ سیام کا قہقہہ چھوٹ گیا۔
بہت برے ہیں آپ سیام، میرا سارا موڈ خراب کر دیا،، عرفہ نے بری طرح مچلتے اس کے سینے پر مکے برسائے۔ سیام ہنسے گیا۔ وہ اس کی گرفت سے نکلتی اپنا سامان اٹھا کر روم سے نکلنا چاہتی تھی۔ جب سیام نے تیزی سے آ کر ڈور لاک کیا تھا۔ عرفہ نے آئیبرو اچکائی جیسے پوچھنا چاہتی ہو اب کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ۔
اب اگر جا ہی رہی ہو تو،، اپنے شوہر پر اتنا ظلم ڈھانے کے جرم کی پاداش میں میں تم سے خراج وصول کرنے والا ہوں،، سیام نے اطمینان سے کہا۔
کک کیا مطلب،، عرفہ کا کانفیڈینس اڑنچھو ہوا۔
مطلب سمجھانے کا وقت نہیں میرے پاس،، سیام نے عجلت میں اس بازوؤں میں بھرا۔ اس کے ارادے سمجھ کر عرفہ نے اپنا ماتھا پیٹا۔
سیام،،، چھوڑیں مجھے،، وہ چلائی اور دانت کچکچائے جیسے دانتوں کے تلے سیام کی گردن کاٹے گی۔
مگر جب اس نے اسے بیڈ پر لٹا کر اپنی منمانیاں شروع کیں تو عرفہ کو خود کو اس کے سپرد کرنا ہی پڑا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ پارٹی میں حجاب اور اپر کے ساتھ آئی تھی تو نوید احسن نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اس کی جانب آئے۔
پہلے تو میری پرنسز صرف اچھی لگ رہی تھی مگر اب تو گورجس اور بہت بیوٹیفل لگ رہی ہے،، نوید احسن نے اس کی تعریف کی تو وہ مسکرائی۔ پہلے جو اسے پارٹی میں آکورڈ سا فیل ہو رہا تھا اب وہ بڑے کانفیڈینس سے اپنے بابا کا بازو تھامے سب سے مل رہی تھی۔
ارشمعان پھر قریب آیا تھا مومی کو حلق کڑوا ہوا۔
ہیے گورجس،، ایسے بھی بہت بیوٹیفل لگ رہی ہو،،
ارشمعان نے کہا وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
تھینکس،، وہ اتنا ہی بول پائی۔
مگر ابھی تو تم نے ریڈ لپ اسٹک لگا رکھی تھی،، ارشمعان کی اس بات پر مومی کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
ابھی اتنا پرسنل سوال پوچھنے کا کوئی حق نہیں دیا میں نے آپ کو ارشمعان،، مومی نے سنجیدگی سے کہا۔
یعنی تم مجھے میری لمٹس بتا رہی ہو،، ارشمعان پوچھ بیٹھا۔
جی بلکل،، مومی نے بھی بےلچک انداز میں کہا تھا۔
پھر ساری پارٹی میں ارشمعان کا موڈ آف ہی رہا تھا مگر یہاں پرواہ کسے تھی۔
پارٹی کے اختتام پر سب مہمان رخصت ہو چکے تھے ۔ ملک شجاعت اور ارشمعان بھی ابھی نکلے تھے۔ نوید احسن، مومی کے قریب بیٹھے تھے جو اطمینان سے صوفے پر بیٹھی کسی گہری سوچ میں تھی۔
کس سوچ میں گم ہو میری پرنسز،،
اب وہ کیا بتاتی کہ ایک شخص نے پاگل کر چھوڑنا اسے۔ “کچھ نہیں پاپا،، وہ تھکن سے چور لہجے میں بولی۔
کیسا لگا تمھیں ارشمعان، میں جانتا ہوں فیصلہ کرنا مشکل ہے، مگر اتنا بھی نہیں، وہ ملک تابش سراج کافی عجیب بندہ ہے، چھوٹی اور تنگ زہینیت کا مالک، ساری زندگی گھٹ گھٹ کر گزارو گی،، ارشمعان کافی براڈ مائنڈڈ بندہ ہے، کھل کر جینے والا اور،،
پاپا پلیز،، وہ جیسے بھی ہیں، میرے شوہر ہیں،، اور اگر وہ اپنی چیزوں کو لے کر، خود سے جڑے لوگ کو لے کر بلکہ خاص طور پر مجھے لے کر پوزیسو ہیں تو پھر مجھے تنگ اور چھوٹی زہینیت کے بھی قبول ہیں، کہ وہ نہیں چاہتے مجھ پر زرا سی بھی کسی غیر کی نظر پڑے، اور اگر کوئی مجھے بھرے بازار میں ننگے سر لے جانا پسند کرے تو میں لعنت بھیجتی ہوں ایسے براڈ مائنڈڈ پر، سوری پاپا یہ میری ذاتی رائے ہے، آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں، پہلے میں چڑتی تھی اس بات پر مگر آج مجھے ریلائز ہوا کہ وہ چاہتے تھے کہ اپنی امانت کو دنیا سے چھپا کر رکھیں، مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری حفاظت کرتے ہیں، مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچاتے ہیں، مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری اتنی کئیر کرتے ہیں، رہی بات ان کے سابقہ رویے کی تو ان کی بھی ان کے پاس ٹھوس وجوہات تھیں جن میں سے سب سے بڑی اور قابلِ ذکر وجہ تو یہ تھی کہ ایک ایسی لڑکی جس کے بابا بھی اس کے پاس نہیں تھے کہیں وہ معاشرے کی کسی برائی کا شکار نا ہو جائے اس کے قدم ڈگمگا نا جائیں،، کچھ وقت لگا مگر سمجھ آ ہی گئی،
نوید احسن نے اسے بغور دیکھا۔ کیسے وہ جان بوجھ کر کی گئی ملک تابش سراج کی برائی پر چٹخی تھی (یوں تو وہ اپنے دل کی بات لبوں پر لانے والی نہیں تھی تو ایسے ہی سہی) اور اپنے دل کہ ہر بات بتاتی چلی گئی۔
وہ بول کر اپنی انگلیاں چٹخاتی خاموش ہوئی تھی۔ وہ جو اپنا موبائل کچن میں چارجنگ پر لگا بھول گیا تھا واپس لینے آیا تھا مومی کا ایک ایک لفظ نے اس کے دل کو نیزے کی انی کی طرح چیرا تھا۔
ارے ارشمعان کیا ہوا بیٹا،، نوید احسن نے کہا تو مومی نے چونک کر سر اٹھایا۔ اور اس کا دھواں دھواں چہرہ دیکھا۔
کچھ نہیں انکل اپنا فون لینے آیا تھا،،
پاپا میں اپنے روم میں جا رہی ہوں بہت تھک گئی،، صبح آپ مجھے سراج مینشن چھوڑ آنا،، وہ کہتے اوپر کی جانب گئی تھی۔
ارشمعان موبائل لے کر تن فن کرتا وہاں سے نکلا تھا۔ مومی اپنے روم میں آئی تو اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ ابھی تک اس کا منتظر ہوگا اور اس کے سر پر یہ افتاد آن پڑے گی۔ وہ جو پہلے ہی جس ارادے جس نیت سے آیا تھا۔ پاکٹ میں سے بلکل چھوٹی سی شیشی نکال کر رومال پر کلوروفام گرایا۔ پھر جب وہ روم میں داخل ہوئی تو اس کی کوئی مزاحمت کام نہیں آئی تھی مومی بےہوش ہو کر اس کے بازوؤں میں گری تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
تابش نے اسے بیڈ کے قریب لے جا کر نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔ وہ اسے کہیں لے جانا چاہتا تھا۔ مگر پھر کچھ سوچا۔ نہیں رات کے اندھیرے میں تو بزدل اور کم ہمت لوگ لے کر جاتے ہیں وہ تو اسے اس کے پاپا اور اس منحوس آدمی کے سامنے سے لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
کل جب وہ پارٹی میں آیا تھا تو صرف نوید احسن نے اسے دیکھا تھا۔ مگر وہ اس شخص کا بہانے بہانے سے اسے چھونا اچھے سے دیکھ چکا تھا۔ تبھی دل جان پر جیسے کسی نے پیٹرول ڈال کر آگ دکھا دی تھی۔ وہ نوید احسن کے سامنے بڑے دھڑلے سے مومی کے روم میں چلا آیا تھا۔
جیسے وہ جی جان سے جلا تھا اس بندے کو یہ باور کروانا از حد ضروری تھا کہ وہ کس کی ملکیت ہے کس کی عزت ہے۔ جسے وہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھول کر بیٹھا تھا۔
تابش نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ اس کے جسم پر اس شخص کا لایا لباس دیکھ کر تابش کو پھر آگ لگی۔ کچھ سوچ کر مسکرایا۔ کمرے کی لائٹ آف کی۔ پہلے اس کا اپر اور حجاب نرمی سے ریموو کیا۔ پھر روم میں میکسی کی زپ کھلنے کی آواز گونجی تھی۔
کچھ ہی دیر بعد اس نے اٹھ کر لائٹ جلائی تو مومی کے جسم پر تاشو کی شرٹ تھی۔ اور وہ وائٹ میکسی فرش پر پڑی تھی۔ جس کی شاید یہی اوقات تھی۔ بلکہ تاشو کا تو اس کو آگ لگانے کو دل کر رہا تھا۔ مگر وہ اس مومی گڑیا کی جانب متوجہ ہوا۔ بیڈ پر نیم دراز ہو کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے پر گرایا اور خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔
منہ زور جزبات تھے جو بے لگام ہوئے جا رہے تھے مگر اس نے خود پر کڑے پہرے بٹھائے رکھے۔ آنکھیں موندی اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
صبح کے نو بجے وہ اندھی طوفان بنا احسن ولا داخل ہوا تھا۔ رات اس نے بہت ہنگامہ مچایا تھا۔ ملک شجاعت اسے سنبھالنے کی ناکام سی کوشش کرتے رہے مگر اس نے جیسے زمین آسمان ایک کر دیئے تھے۔ اسے ہر حال میں اپنی پسند اپنی محبت چاہیے تھی۔ جس پر وہ کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرنے والا تھا۔ ارشمعان کو یہ کسی طور گوارا نہیں تھا کہ مومی جو اس کی پسند تھی اس پر کسی اور کو ترجیح دے۔
تبھی وہ آج صبح ہی اس سے بات کرنے چلا آیا تھا۔ سامنے ہی نوید احسن اسے اتنی صبح آتے دیکھ حیران ہوئے تھے۔ مگر جلد ہی بات کی تہہ تک پہنچ گئے تھے آخر کو جہاندیدہ آدمی تھے۔
کیا ہوا ارشن، خیرہت اتنی صبح اور یہاں؟
جی انکل، خیریت ہی ہے مگر مجھے مومی سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے،؟ وہ لگی لپٹی رکھے تو اس کو ارشمعان کون کہے۔
ابھی،، نوید احسن نے آئیبرو اچکائی۔
جی بلکل،، ابھی، ارشمعان نے ہٹ دھرمی سے کہا۔ مگر نوید احسن اس کی ضد کا انجام جانتے تھے ویسے بھی یہ حقیقت جتنی جلدی اس پر آشکار ہوتی اتنا ہی بہتر تھا کہ آخر مومی کیا چاہتی ہے۔ کہ اب نوید احسن کو مومنہ کی خوشی سے بڑھ کر دنیا کی کوئی چیز نہیں تھی۔
(وہ جانتے تھے داماد جی کی آمد بھی اور مومی کے روم میں اس کی موجودگی بھی۔ کیونکہ ابھی ابھی وہ داماد جی کے اٹھانے پر ہی اٹھے تھے جس نے آ کر بڑی دیدہ دلیری سے انھیں کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو سوتے ہوئے ہی لے جا رہا ہے کیونکہ اسے کوئی سرپرائز دینا چاہتا ہے۔ نوید احسن اس کی اتنی دلیری پر دنگ اثبات میں ہی سر ہلا پائے تھے)
شیور، کر سکتے ہو بات،، نوید احسن بول کر ڈائینگ حال میں چلے گئے تھے اب آگے کی گارنٹی تو وہ بھی نہیں دینے والے تھے ناں۔ ارشمعان مومی کے روم تک گیا۔
وہ جو اندر اسے چادر اوڑھا چکا تھا۔ کلوروفارم کی کچھ زیادہ ہی ڈوز دے ڈالی تھی تبھی وہ ہوش میں ہی نہیں آ کر دے رہی تھی۔ تابش نے اس کا چہرہ تھپتھپایا مگر وہ نہیں اٹھی تو تابش نے ایک سرد سی آہ بھری۔
پھر سسر جی کو جانے کی اطلاع دے کر آیا۔ کیونکہ جو اپنی میگی جان کے لئے سرپرائز تیار کر رکھے تھے اگر دا جی کا یا کسی بڑے کا فون آ جاتا کہ تیاریاں کرنی ہے جلد گھر پہنچو تو وہ بیچ میں ہی سب دھرے کے دھرے رہ جاتے۔ اسی لئے اسے بانہوں میں بھرا تھا۔
کہ تبھی دروازے پر ہونے والی دستک سے وہ چونکا تھا۔
مومنہ،،، مومی،، پلیز اوپن دا ڈور مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے یار،،
ارشمعان کی آواز سن کر تابش کے لبوں کو گہری مسکان نے چھوا تھا۔ اس کے کلیجے کو ٹھنڈ جو پڑنے والی تھی۔ تبھی اسے کسی گڑیا کی طرح بازوؤں میں اٹھایا۔ ایک ہاتھ اور بازو سے اسے سنبھالا اور دوسرے سے پاکٹ سے لائٹر نکال کر زمین پر پڑی اس میکسی کو آگ دکھائی۔
آگے پڑھ کر پورا دروازہ کھول دیا۔
سامنے کا منظر ارشمعان نے صدمے سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ وہ شرٹ لیس اسے بازوؤں میں بھرے کھڑا تھا۔ بلکہ اس کی شرٹ مومی کے جسم کی زینت بنی ہوئی تھی۔ اور وہ ایسے اس کے بازوؤں میں تھی۔ وہ اس کے روم میں کیا کر رہا تھا۔ میکسی کو آگ لگائی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ملک تابش سراج کہنا چاہتا تھا کہ اس کے جسم پر موجود کپڑوں پر بھی کسی اور کا سایہ برداشت نا کروں یہ تو پھر اس کی میگی گرل تھی۔
جی کوئی کام تھا آپ کو میری بیوی سے،، تابش کا سرسراتا لہجہ ارشمعان کے کانوں اور آنکھوں سے لہو نکل رہا تھا جیسے۔
پلیز جو بھی بولنا ہے جلدی بولیں، میں نے سسر جی کو بول دیا ہے اپنی بیوی کے ساتھ کچھ اسپیشل پرسنل پلان کر رکھا ہے تو ہم لیٹ ہو رہے ہیں،، وہ عجلت بھرے انداز میں لاپروائی سے بولا۔
جب ارشمعان خاموشی سے ایک سائیڈ ہو گیا تو اطمینان سے کندھے اچکاتا اسے لئے باہر نکل آیا۔ لا کر نرمی سے اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور زن سے گاڑی نکال لے گیا۔
پیچھے ارشمعان نے عجیب سی نظروں سے فضا میں اٹھتے دھوئیں کو دیکھا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
