Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

لاہور کے کمرشل ایریا پر بنی ایک پچاس منزلہ عمارت کا مالک ملک شجاعت کروفر سے بلڈنگ کے ففتھ فلور میں بنے اپنے شاندار ترین آفس میں داخل ہوا تھا۔
جہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ان کی کمپنی کا ٹینڈر حاصل کرنے کو بزنس کی دنیا بڑے بڑے نام شامل تھے۔
مگر ملک شجاعت نے سب کا فارغ کر دیا تھا یہ بول کر کہ وہ یہ ٹینڈر کسی کو دے چکے ہیں۔ جبکہ ملک شجاعت نے بس نوید احسن کو ہاتھ سے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
سب کے ارمانوں پر پانی پڑا تھا۔ تبھی کچھ غصے میں تو کچھ لوگ جھنجھلاتے ہوئے وہاں سے نکلے تھے۔
اب اس آفس میں ملک شجاعت اور نوید احسن آمنے سامنے بیٹھے تھے جبکہ ملک شجاعت کا اکلوتا خوبرو بیٹا ملک ارشمعان ، کھڑکی میں ، دونوں ہاتھ پیچھے اپنی کمر پر باندھے ، شیشے کے اس پار جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔

تو نوید احسن ٹینڈر چاہیے تمھیں؟ ملک شجاعت نے انتہائی پراسرار طریقے سے پوچھا تو نوید احسن چونکا۔
ججی،، جی،، بلکل چاہیے،، نوید نے خوش ہو کر کہا تھا۔
نا صرف یہ ٹینڈر تمھیں ملے گا بلکہ ہماری کمپنی تمھاری کمپنی سے وہ ڈیل سائن کرے گی جس کو سائن کرنے کا خواب تم سالوں سال سے دیکھتے آئے ہو ، اب سوال یہ ہے کہ ہم تمھارے لئے اتنا کیوں کریں، ظاہر سی بات ہے کوئی غرض کوئی رشتہ ہو تو ہی کوئی کسی کے لئے کچھ کرتا ہے ناں تو ایسا کرو، ہم ایسا کرتے ہیں کہ اپنی دوستی کو رشتے داری میں بدل لیتے ہیں، تمھاری بیٹی اور میرا بیٹا،، کیا خیال ہے،،
ملک شجاعت نے سکون سے کہا جبکہ ملک شجاعت کی ہر بات پر نوید احسن کی آنکھوں میں چمک کا اضافہ ہی ہوا تھا۔ لیکن ان کی آخری بات پر نوید حیرت سے گنگ ضرور ہوئے تھے۔
مم،، میری کون سی بیٹی،، میری تو کوئی بیٹی ہے ہی نہیں،، وہ گڑبڑائے۔ جبکہ سامنے والا قیمتی سگار پیتے گہرا مسکرایا کہ نوید احسن کی ہسٹری جیوگرافی جو جانتا تھا۔

ارے جانے بھی دو نوید احسن، تم پیدا کر کے بھول گئے،،تمھاری بیوی سلمیٰ بیگم اور اس کی بیٹی ملک مومنہ نوید احسن ،یاداشت واپس آئی کہ نہیں،، تم گھامڑ ہو جو بھول گئے مگر میں نے اپنے بیٹے کی خواہش پوری کرنے کو تمام ڈیٹیلز نکلوائی ہیں اس بچی کی،، دراصل ٹو دی پوائنٹ بات کرتا ہوں، اتفاق سے کالج آتے جاتے دیکھا ارشمعان نے اسے، اور محبت کرنے لگا، اس سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر بچی باحیا ہے، بات تک نہیں کی اس سے،، مگر اب اس پگلے نے اسے حاصل کرنا اپنی ضد بنا لیا ہے، بچی کا اتا پتا نکلوایا تو معلوم پڑا کہ وہ تمھاری بچی ہے، اب جاؤ نوید احسن ٹینڈر تو آج ہی تمھارے نام ہوا لیکن اگر چاہتے ایک دو ماہ میں یہ ڈیل بھی سائن ہو جائے تو بچی کو اس کی ماں سے چھین کر لاؤ کسی قیمت پر کسی بھی طریقے سے،، ملک شجاعت نے حتمی فیصلہ سنایا تھا۔ پیچھے کھڑکی پر کھڑے اس مغرور سے بندے کو لبوں پر ایک مخصوص نام سن کر گہری مسکراہٹ نے چھوا تھا۔

اوہہہ،،، تو بیٹی ہوئی تھی سلمیٰ کی،، نوید احسن کھویا کھویا سا بولا۔ وہ شخص جس نے دنیا بھر کی دولت کمائی تھی۔ مگر اب بھی اور سے اور کی تلاش میں تھا۔ مگر افسوس سکون اور اولاد جیسی دولت سے محروم تھا۔
اوکے جو آپ نے بول دیا، سمجھو ہو گیا، اب تو دنیا کی کوئی طاقت میری بچی کو مجھ سے ملنے سے نہیں روک پائے گی،، نا ہی کوئی مجھے اسے اپنے پاس لانے سے روک پائے گا، باپ ہوں اس کا کون روکے گا مجھے،،
ملک نوید احسن نے کہا تو سامنے موجود دونوں باپ بیٹا فاتحانہ سا مسکرائے۔ نوید احسن ان سے مصافحہ کرنے کو آگے بڑھا۔
ارے یار ہونے والے سمدھی ہو گلے لگو،، ملک شجاعت نے نوید احسن کو پمپ کیا وہ بھی خوشی خوشی ان کے سینے سے لگ کر زہن میں مختلف تانے بانے بنتے وہاں سے نکلا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

چار سال بعد سیام نے سراج مینشن قدم رکھا تھا۔ سب بڑے مین پورشن کے لاؤنج میں ہی موجود تھے۔ سب سے ملا۔
ماں نے سینے میں بھینچا تو برسوں بعد روح کو قرار آیا تھا۔ اور ادھر شازیہ بیگم کونسے گلے؟ کس سے شکوے؟ اب بیٹے کے سینے سے لگی چھم چھم نیر برسا رہی تھیں۔ سب سے مل کر پاس بیٹھ گیا۔ متلاشی نگاہیں کسی کو ڈھونڈنے کو چاروں جانب اٹھیں۔ مگر ناکام لوٹیں۔ نا وہ دشمنِ جاں نظر آ رہی تھی نا مومی۔
بلکہ مومی کی رخصتی کی باتیں اور تیاری کی شروعات کے پلین زور و شور سے جاری تھے۔ سیام نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا تھا۔ تبھی کچھ سوچ کر بڑوں کی باتیں سننے لگا۔

چائے بھی ملازمہ نے ہی آ کر سرو کی۔ بڑے کافی خوش تھے۔
مگر ادھر ملک تابش سراج تھا۔ جو بےچینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ کن اکھیوں سے بار بار حسرت بھری نگاہ اندر کی داخلی دروازے کی جانب ڈال لیتا۔وہ صبح سے اپنے کمرے میں بند تھی۔ لنچ بھی سلمی بیگم اس کے پاس لے کر گئیں تھیں۔ دل تو چاہ رہا تھا ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے ایک مرتبہ دیکھ ہی آئے کہ وہ اتنا بڑا صدمہ کیسے برداشت کر رہی ہے۔
اس کی اس قدر خاموشی حیرت انگیز ، ناقابلِ ہضم اور ناقابلِ یقین بلکہ تشویشناک تھی۔ ملک تابش جانتا تھا جب کبھی اس پر اس حقیقت کا تدارک ہوگا وہ بہت زیادہ شور مچائے گی ۔ چیخے گی چلائے گی۔ احتجاج کرے گی۔ مگر اسے منا لیا جائے گا۔
کچھ وہ اپنے طریقے سے رعب جما کر زور زبردستی اسے جبراً منا ہی لے گا۔ مگر یہ کیا؟
الٹی پڑ گئیں سب تدبیروں کہ مترادف سب اس کی سوچ کے برعکس ہوا تھا۔
کیا یہ سب برداشت کرنا اس کے لئے اتنا ہی آسان ہی کہ وہ خاموش ہو کر اپنے کمرے میں گوشہ نشین ہے یا یہ خاموشی کسی بہت بڑے بہت بھیانک طوفان کی آمد کا ہیش خیمہ ہے۔ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا تبھی بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔

سیام نے گلا کنکھارا،، دا جی میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں، اب اگر آپ لوگ رخصتی کی بات کر ہی رہے ہیں اور اب جبکہ میں بھی وقت پر آ گیا ہوں تو میں بھی رخصتی چاہتا ہوں،،
اس نے نگاہیں جھکائے (بلکہ شازیہ بیگم سے نگاہیں چرا) کہ دا جی کے سامنے اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ گہرا مسکرائے۔ جبکہ باقی سب اور تابش نے بری طرح چونک کر اسے بغور دیکھا تھا۔
ارے سانس تو لو، تھوڑا آرام تو کر لو پھر سنتے ہیں تمھاری فریاد بھی،، دا جی نے کچھ اس انداز سے کہا کہ ایک مرتبہ تو سیام بھی سٹپٹایا تھا۔ تبھی بیگ لے کر کھڑا ہوا۔
میں تھک گیا ہوں، آرام کروں گا،، وہ کہتے بیگ گھسیٹتا اپنے پورشن کی جانب آ گیا۔ گزرتے وقت کی گردش نے اسے مزید طاقت ور گندمی رنگت میں مردانہ وجاہت کا شہکار بنایا تھا۔

بے چین خوش فہم نگاہیں اپنے پورشن میں بھی ایک پمپل والے کیوٹ سے چہرے کی متلاشی تھیں۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے آنے کا سن کر وہ اپنے پورشن میں شفٹ ہو کر اپنے روم میں نظر بند ہو چکی ہے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

مومنہ ستے چہرے اور پتھرائی ہوئی نگاہیں لیے جو کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز تھیں بیڈ پر گھٹنے فولڈ کیے۔ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی تھی۔

اتنی بڑی حقیقت ماں نے چھپائی تھی۔ کیوں آخر کیوں؟ پھر اس کیوں کا جواب دماغ خود ہی دیتا چلا گیا۔
ماں بھی تو مجبور ہے۔ بھائیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والی اس کا ماں اور وہ خود ان کا احسان کیسے چکا سکتے تھے۔ شاید ایسے۔
ماں مجبور تھی باپ اور بھائیوں کے آگے۔ کیسے احسان فراموشی کرتی۔ تو بیٹی ہی قربان کر دی۔
وہ جانتی تھی۔
اچھی طرح جانتی تھی۔
اس کے احتجاج کا، چیخنے چلانے کا رتی بھر بھی فرق نہیں پڑنے والا تھا کسی کو۔ ماں کو احسان فراموش کیسے بنا سکتی تھی۔ کیسے ان کی قربانی ضائع جانے دیتی۔
یقینا امی نے ان کے احسان کا بدلہ ایسے چکایا۔ اس جنگلی وحشی کے سامنے مجھے قربانی کا بکرا بنا کر۔
جینے کی تمنا ہی اندر کہیں مرنے لگی تھی۔ اپنا آپ بہت ہلکا اور اپنی ہستی انتہائی بے وقعت لگنے لگی تھی۔ اپنی جگہ سے ایک ٹرانس کی کیفیت میں اٹھی تھی۔
آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔ بچپن سے سجنے سنورنے کا کتنا شوق تھا مگر اس آدمی کی نحوست ایسی پڑی تھی زندگی پر کہ سجنا سنورنا بھول ہی گئی تھی اور سادگی کو ہی اپنی شخصیت کا آئینہ دار بنا لیا تھا۔
لیکن اب اپنا ہی چہرہ مسخ شدہ لگا تھا۔ تو کراہیت کا احساس ہوا تھا۔ یہ چہرہ یہ شخصیت جس نے مسخ ڈالی تھا۔ اب کیا مزید ساری زندگی اسی کے ہاتھوں کہ کٹھ پتلی بننا تھا۔ ایسے ہی گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنی تھی۔ اس کے دل سے جیسے ہر خواہش مر چکی تھی۔ ہر ارمان مٹ چکا تھا۔ جینے کی تمنا پوری طرح ختم ہو چکی تھی۔

مجھے اب ڈر نہیں لگتا
نا ہی فرق پڑتا ہے
کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو آزمانے سے
کسی کے آزمانے سے
کسی کو یاد رکھنے سے
کسی کو بھول جانے سے…
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو چھوڑ دینے سے
کسی کے چھوڑ جانے سے
نا شمع کو جلانے سے
نا شمع کو بجھانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
اکیلے مسکرانے سے
کبھی آنسو بہانے سے
نا اس سارے زمانے سے
حقیقت سے فسانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کی نا رسائی سے
کسی کی پارسائی سے
کسی کی بیوفائی سے
کسی دکھ انتہائی سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
نا تو اس پار رہنے سے
نا تو اس پار رہنے سے
نا اپنی زندگانی سے
نا اک دن موت آنے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا

واقعی نا اسے اب دنیا کی کسی بھی چیز فرق پڑتا تھا نا ہی ڈر لگتا تھا۔
جب انسان کے دل و دماغ سے جینے کی تمنا ختم ہو جائے تو جسم و روح دونوں نڈھال ہو جاتے ہیں ۔ اور یہی ملک مومنہ سراج کے ساتھ ہوا تھا یا ہو رہا تھا۔ تبھی وہ بے تحاشا نڈھال ہوتے ہوئے
کٹی پتنگ کیطرح ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر دبیز کارپٹ پر گرتی چلی گئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سب رات کو ڈنر کے لئے ڈائننگ ہال میں موجود تھے۔ سوائے عرفہ جو کہ طبیعت کی خرابی کا بول کر اپنے روم میں تھی اور مومی کے۔
کسی کی بھی جرات نہیں ہوئی تھی حالانکہ سلمیٰ بیگم کا بھی حوصلہ نہیں پڑا تھا کہ وہ مومی کو چھیڑتی۔ سو اسے ڈنر کے لئے بلانے نہیں گئیں تھیں۔
اور اس معاملے میں تو ملک تابش سراج بھی اپنی من مانی نہیں کرسکتا تھا کہ بقول تابش کے ہزاروں بار عرفہ اور مومی کو باور کرایا گیا تھا کہ وہ جب تک اپنے اپنے رومز میں ہیں تب تک عافیت میں ہیں۔
مگر دو جانیں تھیں جو تقریباً سولی پر لٹکی ہوئیں تھیں۔ اب اپنے ہی بوئے کانٹوں سے ہاتھ اور وجود زخمی ہو رہا تھا تو بلبلا رہے تھے۔ اور یہی شغل جب خود فرما رہے تھے تب جانے کیوں پتھر کے بن چکے تھے۔
سلمیٰ بیگم نے خاموشی سے اپنا اور مومی کا کھانا ٹرے میں لگایا اور اس کے کمرے کی جانب جانے لگیں۔ ملک تابش سراج جو اب پوری طرح تاشو بن جانا چاہتا تھا۔
مومی کا تاشو
چور نگاہوں سے سلمیٰ بیگم کے تعاقب میں نظریں اس کمرے تک اٹھیں۔
مگر ٹرے چھناکے سے زمین بوس ہونے کی اور سلمیٰ بیگم کی دلخراش چیخ سن کر سب بے تحاشا چونکے تھے۔
اور وہ جس کی چھٹی حس پہلے ہی کسی حادثے کے ہونے کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی ہر لحاظ بالائے طاق رکھتا اس کمرے کی جانب بھاگا تھا۔
وہ اندر آیا تو سلمیٰ بیگم اس کا ڈھلکا سا سر اپنی گود میں رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
مومی،، میری بچی،، آنکھیں کھولو، اپنی مجبور ماں کی غم کی داستان سن لو، پھر ناراض ہو کر جدھر مرضی چلے جانا،، سلمیٰ بیگم کی آہیں تھیں کہ کوڑے تھے جو تاشو کی روح پر برسے تھے۔
مونا،،،،،،،،،،،،،،
آٹھ سال بعد بے حد بے چین ہو کر اسے ایسے پکارا تھا۔ مگر وہ اب ان کی سننے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھی تبھی جسم ٹھنڈا پڑتا جا رہا تھا۔ اور ملک تابش سراج کو یوں لگا کہ اس کے جسم سے بھی جان نکل جائے گی۔ سب گھر والے بے حد گھبرا چکے تھے۔ تابش نے اسے بازوؤں میں بھرا۔ اور باہر کی جانب تیزی سے قدم بڑھائے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ان کا ، اور تشویشناک حد تک ان کی باڈی بلکل بھی رسپونڈ نہیں کر رہی ہے، شاید ان کے دل و دماغ میں جینے کی کوئی امنگ کوئی خواہش نہیں ہے تبھی ایسا ہے، کہ کوئی بھی کسی بھی قسم کی میڈیسن ان پر اثر نہیں کر رہی ہے، اور ایسا بہت کم کیسز میں ہوتا ہے جب پیشنٹ اپنی لائف سے اس قدر بیزار اور مایوس ہو چکا ہو کہ اپنی زندگی سے زیادہ انھیں اپنی موت کو خواہش ہو، اور ائم سوری ٹو سے آپ کے پیشنٹ کے ساتھ یہی پرابلم ہے، اب یا تو ان کی پرابلم حل کریں یا انھیں مرنے کے لئے چھوڑ دیں،،
ڈاکٹر سبین نے ان سب پر جیسے بجلی گرائی تھی۔ سلمیٰ بیگم نے ایک زخمی سی نگاہ اپنے سامنے کھڑے اپنی بیٹی کے مجرم کی جانب دیکھا جس نے ان کی بیٹی کے دل و دماغ سے جینے کی امنگ ہی نوچ کر پھینک دی تھی۔

سلمیٰ بیگم ماہی بے آب کی طرح تڑپی تھیں۔ زندگی کے ہر قدم پر اپنے ناتواں کندھوں پر موجود احسانات کا بوجھ اٹھائے اپنی لاڈلی اکلوتی بیٹی کو خون کے آنسو روتے دیکھا تھا۔ ۔مگر اب بس ہو چکی تھی۔
ان کی بھی اور مومی کی بھی۔اب وہ اپنی بچی کو لے کر ایک پل کا بھی سمجھوتہ نہیں کرنے والی تھیں۔ کبھی بھی نہیں۔ ڈاکٹر کو ہاتھ سے اشارہ کیا تھا اور ایک نگاہ دا جی کی جانب دیکھ کر سب کو دیکھا اور ڈاکٹر کے ساتھ آئی سی یو کے اندر گئیں تھیں۔ جہاں وہ اس ظالم و بے حس دنیا سے بیگانہ کہیں اور کی ہی تیاریوں میں تھی۔ تبھی چہرے پر آٹھ سال پہلے والی آسودگی چھائی تھی۔
سلمیٰ بیگم قریب آ کر اس پر جھکی تھیں۔ اس کے ہاتھ پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
مومی میری جان،، سلمیٰ نے پکارا تو اس کی سانسیں بے ترتیب سی ہوئیں۔ نیم غنودگی میں اس نے اپنی زرا سی آنکھیں کھول کر ماں کو شاید آخری بار دیکھنا چاہا۔

مومی،، میری جان ، دیکھو تمھاری امی تمھیں کھو نہیں سکتی، اب تمھاری امی بہت بہادر بن جائے گی، کسی سے نہیں ڈرے گی، تم وہی کرنا جو تمھارا دل کرے، جو تمھارا دل چاہے، کوئی تمھیں کچھ بھی نہیں کہہ پائے گا،، اور سنو سب سے اہم بات جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ، وکیل سے بھی تو ملنا ہے، میں تمھارے ٹھیک ہونے تک خلع کے پیپر بنوا کر رکھوں گی، اور اس سے سائن کروا لوں گی، پھر بس تمھیں سائن کرنے ہوں گے اٹھ کر،، ٹھیک ہے ناں،،
سلمیٰ بیگم نے ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر پر عزم اور پریقین لہجے میں کہا تھا۔ ان باتوں سے مومی کی نگاہوں میں زندگی کی رمق اب صاف دکھائی دے رہی تھی۔

جبکہ پورے خاندان کے ساتھ آئی سی کے دروازے پر کھڑے ملک تابش سراج کے سر پر ایک مرتبہ پھر آسمان گرا تھا یا پیروں تلے سے زمین کھینچ لی گئی تھی اسے کچھ پتا نا چلا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️