Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

صبح عرفہ کی آنکھ کھلی تو وہ اب تک اس کہ بانہوں میں مقید تھی۔ عرفہ کی پشت سیام کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔
سیام،، سیام اٹھیں،، آج آفس نہیں جانا کیا آپ نے،، عرفہ نے اس کے بازوؤں کا حصار توڑنے کی جدوجہد کی۔
کیا یار عرفہ سونے دو سکون سے،، وہ دوبارہ سے بازو لاک کرتا آنکھیں موند گیا تھا۔ عرفہ جھنجھلائی۔
اچھا مجھے تو اٹھنے دیں جا کر ناشتہ بناؤں،،
نو،، ایسے زیادہ مزے کی نیند آتی ہے، اور اب چپ چاپ لیٹی رہی،، شوہر کے آرام کا خیال ہی نہیں، چہرے پر پمپل نکل آئیں گے اگر شوہر کی نافرمانی کی تو،، سیام نے اس کی پچھلی گردن پر اپنی گال رب کی۔
صاف اسے زچ کرنے والی باتیں تھیں۔
اور آپ جانتے ہیں بیوی کو پریشان کرنے سے آپ جل کر اور سڑے بینگن بن جائیں گے،، عرفہ نے بھی آج حساب بے باک کرنے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔
گڈ سڑا بینگن اور سڑی بینگنی کی جوڑی کمال کی ہے مگر بینگنی کے منہ پر پمپل نا نکلیں تو،، اثر کسے تھا بس اسے تپانا جانتا تھا اور وہ تپ بھی گئی۔
صبح کے نو بج گئے سیام،، وہ دانت پیس کر بولی اور سیام کا تمام نشہ ہرن ہوا تھا۔ نرمی سے بازو پیچھے کر کے جھٹکے سے اٹھا۔
کیسی بیوی ہو دن چڑھے شوہر کو پلو میں چھپائے بیٹھی ہو، آخر کام وام پہ بھی بھیجنا ہے کہ نہیں،،، گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے سیام نے شوشا چھوڑا تو اب کی بار عرفہ کے مکے نے اس کا پہلو سینکا تھا۔
آؤچ،،، وہ قہقہے لگاتا پہلو میں ہاتھ پھیرتا اٹھ بیٹھا تھا۔ عرفہ اسے گھورے گئی۔ جانے کس مٹی کا بنا تھا اور اسے زچ کر کے اسے کیا ملتا تھا۔ وہ اب انگڑائیاں لیتا واش روم گھس گیا تھا۔
عرفہ نے سر پکڑا۔ یہ نمونہ اسی کا مقدر تھا کیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

نوید احسن ٹانگ پر ٹانگ جمائے ڈرائینگ روم کے صوفے پر شان سے بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں عجیب سی بے چینی تھی۔ اور تابش ان کے بلکل سامنے بیٹھا۔ ہاتھ کی مٹھی بنا کر چن پر ٹکائے انھیں بغور دیکھ (کم گھور زیادہ) رہا تھا۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں،، اتنے سالوں بعد آپ کس مقصد سے سراج مینشن تشریف لائے ہیں،، اور کیوں؟ تابش نے سرسراتے لہجے میں پوچھا تھا۔
مجھے سلمیٰ سے ملنا ہے اپنی بیٹی مومنہ نوید احسن سے ملنا ہے ابھی،، نوید احسن کا لہجہ اب التجائیہ سا تھا۔
پہلی بات وہ مومنہ نوید احسن نہیں ہے،، مومنہ ملک تابش سراج ہے،، ( تابش نے دانت پیستے “نہیں” پر زور دیا تھا) دوسرا پھپھو عمرے پر گئی ہیں اور مجھے یقین ہے یہاں ہوتی بھی تو آپ کی شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتیں، تیسرا مونا کو ملازمہ کے ہاتھ میسج بھیج دیا ہے، اگر اس کی مرضی ہوئی تو ملے گی آپ سے،، نہیں تو آپ کو یہاں سے تشریف لے جانا پڑے گا،،
تابش نے کوئی لگی لپٹی رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی تبھی زرا سیدھے سبھاؤ ہر بات بول دی تھی۔
خدا کے لئے مجھے میری بچی سے ملنے دو میں سلمیٰ سے بھی معافی مانگ لوں گا، مگر خدارا مجھے میری بچی سے ایک مرتبہ ملنے دو تابش سراج،،
ان دو ہفتوں میں اپنی اولاد کا سن کر ایسی پدرانہ شفقت جاگی تھی کہ وہ اپنی گڑیا سے ملنے کو پل پل تڑپے تھے۔ تبھی اب بے چینی حد سے سوا تھی۔

ادھر ملازمہ نے مومی سے آ کر کہا تھا کہ اس کے بابا نوید احسن اس سے ملنے آئے ہیں۔ وہ ہونق سی بنی اس کی شکل دیکھے گئی۔
کون ملنے آیا ہے مجھ سے، زرا ایک مرتبہ پھر بتانا،، ؟
آپ کے بابا نوید احسن، مونا بی بی،، ملازمہ نے ایک مرتبہ اور بتایا۔ غیر یقینی سی تھی۔ کونسی بات چھپی تھی اس سے، وہ تو سب جانتی تھی۔ اپنی ماں کا راتوں کو اٹھ اٹھ کر رونا، ماہی بے آب کی طرح تڑپنا، نیند میں بڑبراتے رہنا، سب جانتی تھی۔ تو وہ آدمی اب کیا لینے آیا تھا ان کی زندگی میں،، اسے شدید نفرت سی محسوس ہوئی تھی۔
جاؤ بول دو انھیں کہ میں نوید احسن نامی کسی شخص کو نہیں جانتی اور اجنبیوں سے میں ملنا پسند نہیں کرتی،، مومی نے کہہ کر اپنا موبائل اٹھایا تھا اور سلمیٰ بیگم کا نمبر ڈائل کیا۔

ملازمہ باہر آئی تھی۔ اور من وعن وہی بات بتائی تھی جو مومی نے بولی تھی۔ یہ بات سن کر تابش روح تک سرشار ہوا تھا۔ جبکہ نوید احسن نے بری طرح پہلو بدلہ۔ پھر اس کی لاکھ منت سماجت کے باوجود مومی باہر نہیں آئی تھی۔ اسے خالی ہاتھ خالی دامن واپس لوٹنا پڑا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

چار سالہ نیہا رو رو کر پاگل ہو رہی تھی۔ آج وہی ہوا تھا جس کا سیرت فیضان سراج کو شروع دن سے ڈر تھا۔ اس کا جس اسکول میں ایڈمیشن کروایا تھا۔ وہاں پیرنٹس میٹنگ تھی۔ اور نیہا ہزاروں مرتبہ کا سوال پوچھ پوچھ کر آج بری طرح رو دی تھی کہ میرے پاپا کدھر ہیں اور وہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے۔
یہ تو صد شکر کہ اسے اتنی عقل تھی کہ وہاں کے ہاسپٹل میں کہہ سن کر اس نے ہاسپٹل کے ریکارڈز میں اپنے شوہر کا نام فرہاد کاظمی ہی لکھوایا تھا۔ اور انھیں پیپرز کے زریعے نیہا کے برتھ سرٹیفکیٹ پر بھی والد کے نام والے باکس میں فرہاد کاظمی کا ہی نام آیا تھا۔ مگر وہ اب اسے کہاں سے لاتی۔ نیہا کی آج معصوم سوالات اسے خون کے آنسو رلا رہے تھے۔
سیرت نے بے چارگی سے اسے دیکھا تھا۔

نیہا کیا ہو گیا ہے میری جان،، پلیز پیشنس رکھو، ہم بابا کہ پاس جلد ہی جائیں گے،، اوکے ایسا کرتے ہیں نیہا کے نانو کی طرف چلتے ہیں،، ٹھیک ہے ناں،،
سیرت نے اسے مختلف باتوں سے بہلایا۔ مگر اب یہ تو وہ طے کر چکی تھی کہ سراج مینشن ضرور جائے گی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سراج مینشن کے لاؤنج میں خوشیاں اور برکتیں سمٹ آئیں تھیں۔ ایک ہنگامہ سا برپا تھا۔ ہنسی اور قہقہوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ داجی، عمران، صدیقہ، فیضان ، شازیہ اور سلمیٰ بخیرو عافیت عمرے جیسا فریضہ ادا کر آئے تھے ۔ مگر آنکھوں میں اب بھی حسرتیں ہی حسرتیں تھیں کہ ایک مسلمان کا اس پاک جگہ، روح پرور مناظر سے دل بھر ہی نہیں سکتا تبھی اب انشاءاللہ حج کا ادا کرنے کی پکی نیت بنا لی تھی۔

وہ جوش وخروش سے انھیں وہاں کی ایک ایک بات بتا رہے تھے۔ تابش سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔
سیام کارنامہ سرانجام دے کر چہک رہا تھا جبکہ عرفہ چھوئی موئی سی بنی شازیہ بیگم کے پہلو میں بیٹھی تھی۔
مومی سلمیٰ بیگم سے چپک کر بیٹھی گزرے دنوں کا احوال بتا اور سن رہی تھی۔

تابش گہری سوچ میں تھا۔ جو ہو چکا تھا اور جو ہونے والا تھا کون جانتا تھا وقت کس کے حق میں کون سا فیصلہ سنائے گا۔
کافی دنوں سے نوید احسن کی ٹینشن لگی تھی۔ وہ ان دنوں مسلسل گھر آتا رہا تھا۔ مونا نے ہر مرتبہ ملنے سے انکار کیا۔ مگر وہ بار بار آتے رہے۔ اور اب کچھ دن پہلے ایسی بات ہوئی تھی کہ تابش اندر تک ہل کر رہ گیا تھا۔

لاؤنج کے بیرونی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔ سب متوجہ ہوئے تھے۔ نوید احسن اندر آتے دکھائی دیئے تو سلمیٰ بیگم کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔
نوید احسن کی نگاہ سامنے اٹھی تو پلٹنا بھول گئی تھی۔ ہاف وائٹ شلوار قمیض میں سلیقے سے شال اوڑھے وقت تو اسے جیسے چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔ بیالیس سالہ وہ اور بھی زیادہ صوبر، حسین، پاکیزہ اور خوبصورت لگ رہی تھی۔

سلمیٰ نے نفرت سے انھیں دیکھا ۔ آج برسوں کے بعد ان کی جوانی برباد، ان کی زندگی ضائع کر کے ان کا ہرجائی مجرم ان کے سامنے آیا تھا ،کس نیت سے، کس مقصد سے، یا ابھی کچھ برباد کرنا باقی تھا یا کچھ رہ گیا تھا ان سے چھیننے کو۔
سلمیٰ نے نفرت سے منہ پھیرا مگر اگلا لمحہ سب کو حیرت انگیز حد تک متحیر کر دینے والا تھا جب نوید احسن نے آ کر ان کے پیروں کو ہاتھ لگایا تھا۔ سلمیٰ بیگم بوکھلا کر اپنی جگہ سے اٹھ کر پیچھے ہٹی تھیں۔ تب نوید احسن نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے رکھے تھے۔

خدا کے لئے سلمیٰ مجھے معاف کر دو، جانتا ہوں تمھاری پوری زندگی برباد کر کے معافی کا لفظ کس قدر چھوٹا ہے، میں برا، میں گناہگار، مگر تم تو اچھی ہو تم تو الله تعالیٰ کی نیک بندی ہو ناں تو اسی خدا کی رضا کے لئے مجھے معاف کر دو،، کیونکہ اسے معاف کرنا اور معاف کر دینے والے پسند ہیں سلمیٰ بیگم،،
نوید احسن پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔اپنی بچی سے ملنے کو تڑپ رہے تھے۔ اس کے زرا سے دنوں کی بے رخی سینے کو کاٹنے کو دوڑتی تھی تو اللہ تعالیٰ اور اس کی ایک نیک بندی کو تو سالہاسال سے ناراض کر کے بیٹھے تھے یہ سوچ سوچتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ان کے تبھی یوں تڑپتے ہر بار اپنی بچی سے ملنے آتے تھے سجدے میں گر گر کر بھی بڑی معافی مانگی تھی اور اب سلمیٰ بیگم کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے۔
سامنے ہی سلمیٰ بیگم اور مومنہ بھی بہت ہی زیادہ شدت سے رو دی تھی۔ بلکہ سب کی ہی آنکھیں اشکبار تھیں۔

میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آپ کو دل سے معاف کیا نوید احسن، مگر یہ آپ کی خام خیالی ہے کہ میں اب سراج مینشن سے کہیں بھی جاؤں گی، سلمی بیگم نے اذیت کی انتہاؤں کو چھوتے یہ لفظ ادا کیے تھے۔ اور انھیں یہ اچھی طرح باور بھی کروا دیا تھا۔ کہ اب ان کی زندگی میں یہ گنجائش نہیں کہ وہ ان کے ساتھ چل پڑتیں۔ ہر گز نہیں یہ الگ بات کہ آج بھی وہ انھیں کے نام پر بیٹھی تھیں انھیں کی بیوی تھیں۔

وہ مومنہ کے سامنے آئے تھے۔ ہاتھ جوڑے ہی۔
بابا،،، مومی تڑپ کر ان کے سینے سے لگی تھی۔ پھر باپ بیٹی نے جو آنسو بہائے تھے الاامان الحفیظ۔ اپنے ساتھ سب کو ہی رلایا تھا۔
مومی تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی مگر کاش سب کے سامنے بول پاتی کہ بابا کہاں تھے آپ، کہاں تھے اس وقت جب مجھے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، جب زندگی مجھ پر تنگ کر دی گئی ، جب میں سانس بھی گھٹ گھٹ کر لیتی رہی، جب مجھ سے میرا بچپن، میرے خواب میری ہر خواہش چھین لی گئی۔

سامنے ہی تابش کھڑا تھا جانے کیوں یہ منظر دیکھ اندر تک سکون اترا تھا۔ اپنا وہ عمل یاد آیا۔ ہاں اب وقت کے ہاتھ نے اس کے ہاتھ میں مونا کو پانے کی آس و امید تھما دی تھی۔
مونا اپنے بابا کے ساتھ اپنے روم میں گئی تھی۔ وہ جانا چاہتے تھے مگر مونا نے انھیں جانے نہیں دیا اور ڈھیر ساری باتیں کرنے کے لئے اپنے روم میں لے آئی۔

ادھر باہر ابھی سب کے چہرے پرسکون ہوئے ہی تھے کہ سراج مینشن کے دروازے پر آئی سیرت کو ایک بچی کی انگلی تھامے کھڑا دیکھ سب کے چہروں پر پھر وحشت چھائی تھی۔
اے لڑکی تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی اس دہلیز پر قدم رکھنے کی،، میں تمھاری بوٹی بوٹی کر کے چیل کووں کو کھلا دوں گا،، دا جی غضبناک انداز میں اپنی جگہ سے اٹھے تھے۔

رک جائیے دا جی اسے میں نے یہاں بلایا ہے،، تابش نے دا جی کو کہتے سکون سے کہا۔ سب نے حیرت سے پھٹی آنکھیں لیے اس کی جانب دیکھا تھا۔
میں نے بھی الله تعالیٰ کی رضا کے لئے اسے معاف کر دیا،، آپ لوگ بھی کر دیں، زمانے کی ستائی ہوئی ہے، اب اچھی طرح اپنوں کی اور اپنی چار دیواری کی قدر آ چکی ہے اسے،، اپنی زندگی تو برباد کر لی مگر اب اپنی بچی کو معاشرے کے بھیڑیوں کے بیچ دوسری سیرت بنتے نہیں دیکھنا چاہتی،، معاف کر دیجئے اسے،،
تابش نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ سیرت جو دہلیز پر کھڑی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی دا جی قدموں میں آ کر گری تھی۔
آج سراج مینشن میں یوم حساب تھا تبھی شاید سب کا ضبط آزمایا جا رہا تھا۔ صدیقہ بیگم دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔ کیونکہ وہ سب کے پیروں میں گر گر کر معافی مانگ رہی تھی۔ عجیب رقت بھرا سماں تھا۔ سب رو رہے تھے آخر کار اس کی حالت دیکھ سب کو رحم آ ہی گیا تھا۔

تابش نیہا کو گود میں اٹھائے باہر چلا آیا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اتنی معصوم سی بچی اپنی ماں کی یہ حالت دیکھے اسے شرمندہ اور دوسروں کے قدموں میں گرتا دیکھے اور اس کے ننھے سے دماغ میں کوئی سوال پیدا ہو۔ وہ کرلی بالوں والی کیوٹ اور باتونی سی بچی تھی جو بہت جلد تاشو سے فرینک ہو گئی تھی۔
تابش کو یاد آیا سیرت کا کچھ دن پہلے اس کے آفس آنا ۔ اس کے سامنے گڑگڑانا اور اپنی ساری کہانی سنا دینا۔ اب کی بار سیرت نے اس سے کچھ نہیں چھپایا تھا۔ نا کوئی جھوٹ بولا تھا سب کچھ بتا دیا تھا۔
سیرت کی اس قابل رحم حالت پر اسے ترس آیا تھا۔ اور پھر دابش نے اپنے دل کی گہرائیوں سے الله تعالیٰ کی رضا کے لئے، اور الله تعالیٰ کی رضا کے بعد مونا کی رضا کے لئے اسے معاف کر دیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ شاید اس کے اسے معاف کر دینے سے مونا بھی اسے معاف کر کے اس کی ہو جائے۔
اے کاش کہ ایسا ہو جائے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤❤️

مرض جب بھی پوچھا گیا
ہنس کے بولے محبت ہے

آج دو دن ہو چکے تھے۔ سیرت سراج مینشن شفٹ ہو گئی تھی۔ زندگی نارمل روٹین کی جانب واپس آ رہی تھی۔ مومی سے اس کا سامنا بہت کم ہی ہوا تھا۔
نوید احسن آتے رہے تھے ان سے ملنے۔ مگر مومی اور سلمیٰ ان کے ساتھ ان کے گھر نہیں گئی تھیں۔ مگر کب تک ،

مونا اپنے کمرے میں کھڑی کے پاس کھڑی تھی۔ دو دن ہو گئے تھے بڑوں کو واپس لوٹے۔ مگر وہ پیپر اس نے نکال کر بھی نہیں دیکھے تھے سب سے عجیب اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ وہ ان پیپرز کے بارے میں پوری طرح بھول ہی گئی تھی۔ اور نا کسی بڑے نے اس سے زکر کیا تھا۔
اب جب کے وہ کھڑکی میں کھڑی تھی تو سامنے کے منظر نے اس کے دل میں ایک عجیب سی سوئی سی چبھو ڈالی تھی۔ اسے خود اپنی کیفیت پر شدید حیرت اور غصہ آ رہا تھا۔

تابش آفس سے تھکا ہارا گھر آیا تھا جب لان میں ہی اسے نیہا کھیلتی دکھائی دے گئی۔ وہ اسی کے پاس چلا آیا۔ سیرت تابش کی گاڑی کی آواز سن کر پہلے سے بنائی گئی گرما گرم کافی کا مگ لے کر جھٹ سے باہر آئی تھی۔ سامنے کا منظر دیکھ اسے اندر تک سکون ملا۔
بدخصلت اور خود غرض انسان بھلا کب بدلتا ہے اب بھی اس کی سوچ اتنی ہی پست اور خود غرض ہی تھی۔ وہ یہ کہ اب اس شاندار سے شخص کو پانے اور اس کے ساتھ ایک نارمل اور آئیڈیل زندگی گزارنے کے بیچ میں صرف ایک مومنہ نامی کانٹا ہی تھا جو نکل کر بیچ میں سے ہٹ جاتا تو اسے ایک آئیڈیل شوہر اور نیہا کو ایک پرفیکٹ پروٹیکٹر باپ مل جائے گا۔
وہ مسکراتی تابش تک آئی۔
یہ لو تاشو،، گرما گرم کافی، تمھیں میرے ہاتھ کی بہت پسند تھی ناں،،
معاف کرنا سیرت مگر میرا نام تابش سراج ہے تو بہتر ہے تم مجھے وہی بولا کرو، اور اب مجھے کافی نہیں چائے پسند ہے،،
تابش نے سنجیدگی سے کہا مگر اس نے اثر نہیں لیا تھا دیکھ چکی تھی کھڑکی پر وہ کھڑی دیکھ رہی ہے تبھی زرا نیہا کے بہانے دو قدم اور قریب آئی تھی تابش کے۔ اور مسکرا کر کھڑکی میں کھڑی ہوئی مونا کو ہاتھ ہلا کر وش کیا۔ مگر مسکراہٹ تو ایسی تھی جیسے سیرت مونا سے کہنا چاہتی ہو۔
دیکھا کتنا مکمل منظر ہے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مومی نے غصے سے پھٹتے دماغ کے ساتھ ڈریسنگ کی ہر چیز تہس نہس کر کے زمین بوس کی تھی۔
لگتا تھا اس فراڈ شخص نے اس رات اپنے ہر لمس کی حدت کے ساتھ اپنی محبت اپنا عشق اس کی رگوں میں اتار دیا تھا۔ تبھی اب وہ جل رہی تھی اگر وہ جل رہی تھی تو کیا یہ محبت تھی۔
شاید،
اب جب کہ ہمیشہ سے وہ یہ چاہتی تھی کہ سراج مینشن کے پنجرے سے آزاد ہو جائے تو وہ اتنے دنوں سے کیوں پڑی تھی اس قید خانے میں۔ صیاد کے اس دام سے نکل کیوں نہیں گئی تھی اب جبکہ پنجرے کا دروازہ بھی کھول دیا گیا تھا۔
اس نے اپنے بال ہاتھوں میں جکڑے۔ اگر وہ تکلیف میں تھی تو وہ کیوں اب اتنے سکون میں تھا۔
(پاگل اتنا نہیں سمجھ پائی تھی کہ وہ محبت کا مارا پگلا تو اس بات پر ہی سرشار ہوا پھر رہا تھا کہ مونا نے وہ پیپر بڑوں کے آنے پر سائن نہیں کیے تھے بلکہ ان کا زکر تک نہیں کیا تھا۔)

باہر سے نوید احسن کی آواز آ رہی تھی۔ اسے اب اس کاغذ کے رشتے کے تماشے اس کھیل کا آخری داؤ آزمانا تھا۔ تبھی غصے میں اپنے دو تین ڈریس بیگ میں ٹھونسے تھے۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر بیگ اٹھا کر باہر لاؤنج میں آئی تھی جہاں سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔وہ باہر نکلی تو سب نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

امی میں بابا کے ساتھ جا رہی ہوں کچھ دن ان کے پاس رکوں گی،، مومی نے اطمینان سے کہا تھا۔ نوید احسن اور سیرت کھل اٹھے تھے اس کے اس فیصلے پر۔ جبکہ اس نے سب کے سروں پر بم پھوڑا۔ اور ایک بندے کے تو دل پر قیامت ہی گرائی جو جیتا تھا تو اسے ہی دیکھ کر۔
مومی بھی قسم کھا کر کمرے سے باہر نکلی تھی کہ آج اگر اس بندے نے اسے اپنی ضد کے رہتے روکا تو وہ آج ہی وہ پیپر سائن کر کے سلمیٰ بیگم کے حوالے کر کے جائے گی۔
مگر وہ تو پتھر بنا دھواں دھواں چہرہ لیے چپکے سے وہاں سے اپنے روم میں جا چکا تھا۔

مومی کو یہ بھی کہاں گوارا ہوا تھا۔ دل میں سوئیاں سی چبھیں۔
اونہہہ،، اب بچپن کی ساتھی جو مل گئی ہے اب کونسی مونا، اور کہاں کی مونا،، دل نے بین کیے۔ دہائیاں دیں۔ مگر وہ ڈھیٹ بنی ایک شخص کو کانٹوں پر گھسیٹ کر سب سے مل کر نوید احسن کے ساتھ ان کے احسن ولا چلی آئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️