Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ اندھی طوفان بنا سراج مینشن آیا تھا۔ سرخ لہو چھلکاتی آنکھوں سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ابھی لہو ٹپکے گا۔ عرفہ جو کہ جب مومی کو لے کر گئے تب سو رہی تھی بعد میں اٹھی تو گھر میں کسی کو موجود نہیں پایا ملازمہ سے پوچھا تو مومی کا پتہ چلا اور اب وہ کب سے کسی کے انتظار میں بے چین سی لاؤنج کے ادھر ادھر چکر لگا رہی تھی۔ تابش کو دیکھ کر اس کی جانب لپکی۔
بھیا،، کیسی ہے مومی وہ ٹھیک تو ہے ناں،، عرفہ نے تابش کا بازو پکڑ کر پوچھا تھا۔
اور تابش کی بس ہوئی تھی۔
گڑیا،،،،،،،،، وہ کنپٹیاں سہلاتا صوفے پر ڈھے گیا تھا عرفہ تو گھبرا ہی گئی۔
بھائی کیا ہوا؟ مومی ٹھیک تو ہے ناں؟ آپ بتاتے کیوں نہیں کچھ،،
گڑیا،، میں نے بہت ظلم کیے ناں تم دونوں پر، تم دونوں کا جینا حرام کر دیا، زندگی تم دونوں پر اس قدر تنگ کر دی کہ اب وہ زندہ رہنا ہی نہیں چاہتی، مجھ سے رشتہ جوڑنے سے بہتر اسے موت کو گلے لگانا لگ رہا ہے،، گڑیا میں کیا کروں، میں کیسے اپنے کیے ہر عمل کا مداوا کروں،
وہ ماتھے پر ہاتھ رکھے رو پڑا تھا۔ عرفہ خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھے گئی۔
ادھر آؤ گڑیا، پہلے تم مجھے معاف کر دو پلیز،، تابش نے پاگل ہوتے عرفہ کے سامنے ہاتھ جوڑے جو اس نے تڑپ کر تھام لیے۔
یہ کہا کر رہے ہیں آپ تاشو،، بھیا،، وہ روہانسی ہوئی۔
اچھا آج بتاؤ، اپنے دل کی بات بتاؤ، بس ایک مرتبہ مجھے معاف کر دو، اب وہی ہوگا جو تم لوگ چاہو گی، تم مجھے اپنے دل کی بات بتاؤ، اپنی مرضی بتاؤ تم سیام کے ساتھ رہنا چاہتی ہو کہ نہیں،،
تابش نے بھیگی نگاہوں سے عرفہ کی جانب دیکھا جبکہ اس کے دونوں ہاتھ عرفہ نے بے تحاشا روتے تھام رکھے تھے۔ اس نے نگاہیں جھکا کر آہستگی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
ملک تابش سراج کو سمجھنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا تھا۔
ٹھیک ہے عرفہ، اب چاہے کچھ بھی ہو جائے وہی ہوگا جو تم دونوں چاہو گی،، مگر عرفہ میں اسے اب کھو نہیں سکتا، منانا چاہتا ہوں، وہ مان جائے گی ناں، وہ مجھے معاف کر دے گی ناں، میں اب اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں جینا چاہتا، وہ مان جائے گی، عرفہ میں نے اپنے ان ہاتھوں سے اپنی زندگی ایک بددعا بنا دی ہے، پلیز میرے لئے دعا کرو عرفہ، نہیں تو اب کی بار تمھارا بھائی ٹوٹ کے مر جائے گا،،

ملک تابش سراج نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں تھیں۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اگلے دن ڈاکٹرز نے کافی تسلی بخش جواب دیا تھا۔ گزشتہ رات مومی کی حالت کافی تشویشناک رہی۔ مگر اب وہ سنبھل رہی تھی مگر بے ہوش تھی۔ پوری طرح تسلی تب ہونی تھی جب وہ مکمل ہوش میں آتی۔ اب موجود تھے۔

وہ ہاسپٹل کی سرد سی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ چار سال بعد اسے دیکھ رہا تھا جو سلمیٰ بیگم کے پاس بیٹھی مسلسل انھیں کچھ کھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سیام نے نگاہیں اس کے معصوم چہرے سے ہٹانا ضروری نہیں سمجھی تھیں۔ اور ستم یہ کہ اس کی اتنی محویت کے باوجود اس نے ایک بار بھی اس کی جانب دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا۔
تابش جانے کیوں مگر ہاسپٹل سے رات سے غائب تھا۔ باقی سب موجود تھے اور وہ عمران سراج کے ساتھ ابھی ابھی ہاسپٹل آئی تھی۔ اور اتنے عرصے بعد وہ اپنی تمام تر حسنِ سادگی سمیت اس کے سامنے سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی۔
مگر اپنے محبوب کی یہ بےتوجہی اسے بری طرح چبھ رہی تھی۔ تکلیف دے رہی تھی۔
اے کاش کہ وہ اس کی دسترس میں آئے تو وہ اپنے سابقہ ہر برے رویہ کی معافی مانگ کر اسے یہ یقین دلا پائے کہ ملک سیام سراج نے اس سے کتنی محبت کی ہے۔
وہ کینٹین تک جاتی دکھائی تھی۔ سیام سب سے نگاہیں بچا کر اس کے پیچھے گیا تھا۔ لابی سے گزرتے اپنے پیچھے اتنے قریب کسی کی آہٹ محسوس کر کے وہ بری طرح ڈری تھی۔ اور جھٹکے سے پیچھے مڑی۔ وہ ٹھٹھک کر رکا تھا۔

کیا ہوا،،؟ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈال کر سکون سے پوچھا۔
وہ بغیر جواب دئیے مڑ گئی تھی۔ سیام کے دل کو کچھ ہوا۔
کیسی ہو،،؟ پھر سوال کیا ۔ مگر وہ اب بھی اس سے مخاطب نہیں ہوئی تھی۔ سچ کہتے ہیں ایک چپ سو کو ہراتی ہے۔ اور اب اس کی یہ چپ سیام کو بری طرح کھلی تھی۔ تبھی وہ جز بز ہو کر فل اکتا کر بولا تھا۔
عرفہ پلیز، مجھ سے بات کرو،، وہ تیز قدم اٹھاتی اس سے تنگ آ کر واپسی کے لئے ہی مڑ گئی اور تقریباً وہاں سے بھاگ ہی گئی تھی۔
سیام خالی خالی نگاہوں سے حیرت سے کھڑا وہیں جما رہا جہاں وہ اسے چھوڑ کر گئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ مومنہ کی طبیعت کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔ اور اب وہ ہوش میں تھی اور صرف سلمیٰ بیگم سے تھوڑی سی بات چیت کی تھی۔ دا جی اور سب بڑے ضد کر کے اس کے پاس رکے ہوئے تھے۔ مگر سلمیٰ بیگم نے پہلے عرفہ کو تابش کے پاس اور پھر شازیہ کو زبردستی سیام کے ساتھ گھر روانہ کر دیا تھا۔ کہ ان کی خود کی طبیعت کچھ سیٹ نہیں تھی۔
عرفہ کافی بنا کر تابش کے روم کی جانب آ رہی تھی جب اسے ادھر آتے دیکھا اور وہ کھڑکی کی اوٹ میں ہو گئی تھی۔

شازیہ بیگم کو ان کے کمرے تک پہنچا کر وہ دا جی کے حکم پر ان کا پیغام تابش تک پہنچانے اس کی تلاش میں جھجھکتے ہوئے اس پورشن تک آیا تھا۔ اور اب روم سے باہر کھڑے ہو کر ہلکی سی دستک دی تھی۔
یس کم ان،، اندر سے بوجھل سی آواز آئی۔ سیام اندر داخل ہوا۔ تو وہ بلیک شلوار قمیض میں صوفے پر سر ٹکائے سوگوار سا بیٹھا تھا۔ سیام کچھ پل تو کچھ بول بھی نہیں سکا۔
کچھ کام تھا،، تابش نے اپنی وحشت زدہ سی سرخ آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
دا جی آپ کو ہاسپٹل آنے کا بول رہے تھے، آپ نے فون بھی نہیں اٹھایا تو مجھ سے بول دیا کہنے کو،،
کیسی ہے وہ،، اس کی لہجے میں صدیوں کی شکست اور تھکن تھی۔
کافی بہتر رات تک ڈسچارج مل جائے گا، اسی لئے دا جی آپ کو بلا رہے تھے،، سیام نے کہا اور بول کر جانے لگا۔
سنو سیام، عرفہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو بہتر یہی ہے کہ تم اسے ڈائورس دے دو،، ملک صاحب نے سیام کے سر پر بھی بم پھوڑا۔ وہ حیرت و صدمے سے تابش کو دیکھے گیا۔
“اس طرح تو مومی بھی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو کیا آپ اسے دے رہے ہیں ڈائیورس ، اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو میں بھی دے دوں گا، مگر آپ کے دینے کے بعد،
سیام نے اطمینان سے کہا تھا۔ تابش نے اسے بغور دیکھا۔
میں مونا سے محبت کرتا ہوں اسی لئے ایسا کچھ نہیں کرنے والا،، وہ دانت پیس کر بولا تھا۔
تو آپ سے کس کمبخت نے بول دیا کہ میں عرفہ سے محبت نہیں کرتا،، میں بھی عرفہ سے بہت محبت کرتا ہوں اور ایسا کچھ نہیں کرنے والا،،، اس نے اب بھی سکون سے تابش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے کہا تھا۔
عرفہ ایسا نہیں چاہتی،، تابش نے آخری بار آزمایا۔
مومی بھی ایسا نہیں چاہتی،، سیام نے جتایا۔
میں اسے منا لوں گا، تابش کا لہجہ پرعزم تھا۔
میں بھی اپنی بیوی کو منا لوں گا،، سیام بھی کونسا کم تھا۔

ایک آخری بار کوشش کرنے کا چانس میں تمھیں دیتا ہوں سیام، جیسے میں پھپھو سے مانگنے والا ہوں، آخری موقع ، تو تمھیں بھی دیا، اس کے بعد بھی اگر عرفہ کا فیصلہ تمھارے خلاف ہوا تو میں زرا لحاظ نہیں کروں گا اب کی بار،، تابش کا لہجہ بےلچک اور سرد سا تھا۔

میری بہن نے آپ کی زندگی برباد کی، اس گلٹ میں، میں اپنوں سے اپنی بیوی سے بہت روڈلی بیہیو کرتا رہا، بہت دور ہوتا چلا گیا اب ضروری نہیں کہ وہ بدلا مجھ سے لیں آپ، میری زندگی برباد کر کے، میں عرفہ کو خود سے کبھی بھی دور نہیں ہونے دوں گا،، ائم سوری نا ہی آپ کی بات مانوں گا،،
وہ سنجیدگی سے کہتا وہاں سے نکلا تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس سن سی ہوئی کھڑی تھی۔ جزبات سے بوجھل اس کی یہ باتیں اسی کے بھائی کے سامنے کیا گیا اتنی دیدہ دلیری سے یہ اظہارِ محبت سن کر بھی اس کا دل بلکل خاموش تھا۔ ہر جزبے سے عاری۔
اس کے دل کی دنیا تو وہ جو اجڑ چکی تھی اور اب وہ اس پر اپنے ارمانوں کی سیج سجانا چاہتا تھا کتنا پاگل تھا ناں۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ملک ارشمعان نے اپنے پر آسائش کمرے کی ہر چیز تہس نہس کر رکھی تھی۔ قیمتی پرفیوم کمرے سے باہر فرش پر گر کر چکنا شور ہو چکے تھے۔ اور یہ تماشا گھر کے سبھی ملازم کافی عرصے کے بعد دیکھ رہے تھے۔ ملک شجاعت اس تماشے کا علم ہونے پر اپنے آفس سے بھاگے آئے تھے۔ یقینا کوئی من پسند چیز دسترس سے دور ہو گئی تھی لاڈلے بیٹے کی تبھی وہ یوں مچل رہا تھا۔
ملک شجاعت تیزی سے اس کے روم کے اندر داخل ہوئے تھے۔
ارے کیا ہوا ارشن،، کیا تماشا لگا رکھا ہے،، ملک شجاعت نے بیٹے کا وحشی حلیہ اور خون رنگی آنکھیں ملاحظہ کیں اور ایک سرد آہ بھری۔
پاپا آپ نے مومنہ کی ہر بات معلوم کروائی تو یہ بات مجھ سے کیوں چھپائی کہ اس کا نکاح ہو چکا ہے اس کے کزن سے،، وہ دھاڑا اور دیوار سے ایل ہی ڈی اتار کر دھماکے سے زمین پر پٹخی۔
ملک شجاعت نے اسے دیکھا اسی وجہ سے تو یہ بات چھپائی تھی اس سے اس کے پاگل پن سے ڈر کے۔
تمھیں کیسے پتہ چلا،، ملک شجاعت نے صوفے پر براجمان ہو کر ٹانگ پر ٹانگ رکھی۔
وہ بیمار تھی،، میں ہاسپٹل گیا تھا اسے دیکھنے،، تو اینٹرس پہ سسٹر نے اسے مسز تابش کے نیم سے پکارا اور ڈسکرپشن میں اس کا یہی نیم لکھا ہوا ہے،

تو ملے مومنہ سے،، ملک شجاعت نے اس کا دھیان بٹانا چاہا۔
کہاں،، وہ اس کے ننھیال والے چپکو لوگ،، ایک سیکنڈ کو بھی جو اسے اکیلا چھوڑتے ہوں، موقع نہیں ملا مجھے، اس نے برا سا منہ بنایا۔ مگر آپ ،آپ نے یہ بات مجھ سے کیوں چھپائی، اب کیا ہوگا، اس نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔

ارے جانے بھی دو یار، صرف نکاح ہوا ہے، رخصتی نہیں، نکاح ٹوٹ بھی سکتا ہے، خلع بھی ہو جاتی ہے، اس میں کیا بڑی بات ہے، بس نوید احسن ایک مرتبہ اسے اس سراج مینشن سے نکال لائے پھر اگلے مراحل تو میں بڑی آسانی سے طے کر لوں گا، اپنے باپ کو جانتے نہیں ہو کیا،
ملک شجاعت نے بات ہوا میں اڑائی۔
اچھی طرح سن لیں ڈیڈ مجھے بس اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے، مجھے وہ چاہیے، چاہے اس کے لئے اپنی ساری دولت لٹا دیں، مگر مجھے وہ چاہیے،
ارشمعان کسی ضدی بچے کی طرح بول کر پیر پٹختا وہاں سے نکلا تھا۔
ملک شجاعت کو اب جلد از جلد کچھ کرنا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

تابش براؤن ٹوپیس پہنے ہاسپٹل داخل ہوا تھا۔ اس قدر پروقار ،پرکشش وجیہہ شخص کو ہر کوئی ایک مرتبہ ضرور پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔
لابی سے گزرتے سامنے سے آنے والی ہستی کو دیکھ کر بری طرح چونکا تھا۔
سیرت جس نے آج ہی ہاسپٹل میں اپنی ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ سسٹر کے ساتھ چلتی سامنے سے آنے والے شخص کو دیکھ کر بری طرح ٹھٹھک کر اپنی جگہ رکی تھی۔ یوں پہلے دن ہی سامنا ہو جائے گا کس نے سوچا تھا۔
وہ جان کر انجان بنتا خوشبو کو جھونکا بنا پہلو سے شانِ بے نیازی سے گزر چکا تھا۔

اب سیرت کو یہ پریشانی تھی کہ ان کے گھر میں سے کون ایڈمٹ تھا یہاں۔
سسٹر ان کو جانتی ہو جو ابھی گزرے یہاں سے،، سیرت کے سوال پر سسٹر چونکی تھی۔
یہ ملک تابش سراج تھے اور ان کی وائف ایڈمٹ ہیں ادھر،، سسٹر نے بتایا تو اب کی بار چونکنے کی اور دھچکا لگنے کی باری سیرت کی تھی۔ کتنی عجیب سی کیفیت ہوئی تھی اس کی وائف کا سن کر۔
کونسے وارڈ میں ہیں ان کی وائف،، وہ ایک ٹرانس کے عالم میں پوچھے گئی۔

بڑی کڑی سزا دی تھی ملک تابش سراج نے اسے اس کی بے وفائی کی۔ سارے گھر والوں کے موبائل نمبرز چینج کر لیے تھے حتی کے لینڈ لائن نمبرز بھی چینج کروا لیے گئے تھے۔ تبھی تو وہ ان آٹھ سال میں شازیہ بیگم تک سے کوئی رابطہ نہیں کر سکی تھی۔

ابھی انھی کے روم میں تو جا رہے تھے ہم لوگ،، ان کو چیک کر کے ڈسچارج دینا ہے آپ نے،، سسٹر کی بات پر وہ بری طرح چونکی تھی۔ ابھی وہ آگے بڑھتی تبھی سامنے سے شازیہ بیگم کا ہاتھ تھامے عرفہ آتی دکھائی دی تھی۔
کتنی تڑپ تھی اس کی نگاہ میں۔
شازیہ بیگم اور عرفہ بھی اسے وہاں دیکھ چکی تھیں ۔ اور ششدر رہ گئی تھیں۔
شازیہ بیگم نے بھی دیکھا ان دیکھا کر کے آگے بڑھنا چاہا جب اس نے لپک کر ان کا بازو دبوچا تھا۔
امی،، پلیزززززز،،،،، دبی دبی سی سرگوشی میں التجا تھی۔ مگر شازیہ بیگم نے اتنے سالوں بعد بھی اس ایک نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا حالانکہ کلیجہ منہ کو آ رہا تھا مگر اس کا ہاتھ بری طرح جھٹکتی وہ عرفہ کا ہاتھ تھامے آگے بڑھی تھیں۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سب روم میں موجود تھے اور مومی نے اٹھ کر بیٹھی سلمیٰ بیگم سے ہلکی آواز میں باتیں کر رہی تھی۔ جب تابش روم میں داخل ہوا تو مومی کے ہاتھ کی گرفت سلمیٰ بیگم کے ہاتھ پر سخت ہوئی تھی۔ مگر سلمیٰ بیگم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے مضبوط رہنے اور مضبوط بننے کا اشارہ کر دیا تھا تو وہ پر سکون سا ہوئی تھی۔

اندر داخل ہو کر تابش نے سلام کیا تھا۔ اس کے چہرے سے نگاہ ہٹ نہیں پا رہی تھی۔ جو نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی۔ براؤن میگی نوڈلز بری طرح چاند چہرے کمر اور بازوؤں پر پھیلے ہوئے تھے۔
وہ اب اس کا حال احوال پوچھ رہے تھے جب سسٹر کے ساتھ ڈاکٹر اندر داخل ہوئی۔ اور سیرت بی بی کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھ سب سناٹے میں آ گئے تھے۔

سیرت نے ملک تابش سراج کی وائف کو دیکھا تو حیرت سے دنگ ہوئی تھی۔ مومی وہ کل کی بچی، وہ تو بہت چھوٹی تھی اس سے۔
ہاں اب مگر اپنی تمام تر نزاکت، حسن اور رعنائیوں سمیت اس کے سامنے تھی۔سیرت نے ایک نگاہ غلط اس شاندار مضبوط و بلند کردار کے مالک شخص کو دیکھا جو وہ تھا کہ مومی پہ سے نگاہ ہٹانا ضروری نہیں سمجھ رہا تھا۔

سسٹر کے ہاتھوں میں ڈسچارج پیپر تھے۔ وہ لے کر سیرت نے چیک کیے ۔ عادت سے مجبور تھی تبھی نروس بریک ڈاؤن اور زہنی دباؤ کا پڑھ کر ایک تلخ سی مسکراہٹ نے لبون کو چھوا تھا۔

کسی نے بھی اسے منہ لگانا ضروری نہیں سمجھا تھا اور سب اپنی باتوں میں ایسے مصروف ہو گئے جیسے کوئی غیر معمولی بات ہوئی ہی نا ہوئی ہو۔ اور سامنے والے کی انسلٹ، ہتک و ذلت کے لئے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا۔
مومی بھی ہونق سی بنی سیرت کو سامنے دیکھ منہ کھولے بیٹھی تھی۔

کیسی ہیں آپ، کیسا فیل کر رہی ہیں، سیرت نے پروفیشنل سے لہجے میں مومی سے پوچھا۔
کافی بہتر،، اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
کسی چیز کا سٹریس بہت لیا آپ نے،، کیا میں پوچھ سکتی ہوں،،،
سسٹر، اپنی ڈاکٹر سے کہیں اپنے کام سے کام رکھے اور جو کرنے آئی ہیں وہ کریں، سیام دانت پیس کر بولا تھا۔ وہ جو اپنی عادت سے مجبور خفیف سا طنز کرنے والی تھی سیام نے بیچ میں ہی ٹوک کر بولتی بند کی تھی اس کی۔
سیرت سائن کر چکی تھی۔مومی سلمیٰ بیگم کا ہاتھ تھام کر سکارف اچھی طرح لپیٹ کر ان سب کے ساتھ وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔وہ حسرت سے انھیں دیکھے گئی۔
اب اگر اس نے اپنے پیر پر کلہاڑی نا ماری ہوتی تو مومی کی جگہ وہ ہوتی اور اس کے بھی یونہی چونچلے اٹھائے جا رہے ہوتے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ اب گھر آئے تھے۔ مومی اپنے روم میں ہی گئی تھی۔ سلمیٰ بیگم اس کے پاس تھیں۔انھیں کسی نے نہیں چھیڑا تھا ابھی۔

قریبا گھنٹے بعد تابش اپنے کمرے میں تھا۔ جب عرفہ بلانے آئی تھی۔
تاشو بھائی، پھپھو بلا رہی ہیں، دا جی کے روم میں اور وہاں سب بڑے موجود ہیں،، عرفہ کی بات پر اس کے دل نے پسلیوں سے سر پٹخا تھا۔
آخر وہ وقت آن پہنچا تھا۔ تو آخر سامنا تو کرنا ہی تھا ناں۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو سب غیر معمولی سنجیدگی اور خاموشی سے بیٹھے تھے۔ صدیقہ بیگم تو رو بھی رہی تھیں۔
سلمیٰ بیگم ان سے حتمی بات کر چکی تھیں اور جو مومی کی حالت تھی کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ان کو اففف تک بھی بول سکیں حالانکہ دا جی میں بھی نہیں۔ کہ سالوں سال سے سلمیٰ بیگم نے صبر کیا تھا۔ مگر اب صبر کا باندھ ٹوٹ چکا تھا۔

جی پھپھو، آپ نے بلایا تھا،، اس کا لہجہ دھیما اور آنکھیں جھکی ہوئیں تھیں۔
یہ خلع کے پیپر ہیں تابش، میں نے فون کر کے وکیل سے بنوائے، سائن کر دو ان پر،،
سلمیٰ بیگم نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ تابش کو یوں لگا جیسے رگوں سے جان کھینچی جا رہی ہوں ۔۔کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔
وہ صوفے پر بیٹھی تھیں تابش گھٹنوں کے بل جھکا تھا اور ان کی گود میں ہاتھ رکھے تھے۔
ائم سوری پھپھو، مجھے معاف کر دیں، پلیززززز،، التجائیہ لہجا تھا۔ سلمیٰ کو آگ لگی۔
تبھی تابش کا گریبان پکڑا تھا۔

تمھیں اندازہ ہے تابش، ان گزرتے سالوں میں تم نے کیا کیا، کیا کر چکے ہو تم، تم نے میری بچی کو اتنی زہنی اذیتیں دیں، کہ اب وہ زندہ ہی نہیں رہنا چاہتی تھی، موت کے منہ سے لوٹی ہے، اور میں اپنی اکلوتی اولاد کو ہر گز کھونا نہیں چاہتی تابش خدارا اسے آزادی دے کر اس کی زندگی بخش دو، طلاق دو اسے ابھی کہ ابھی،،
سلمیٰ بیگم نے آج اس کا کوئی لحاظ نہیں کیا تھا۔ مگر پھر پتھر سے چشمہ پھوٹتے دیکھا یعنی بھتیجے کی آنکھوں سے آنسو نکلتے دیکھے تھے تو زبان تالو سے چپک گئی۔ اسے بھی تو اپنی اولاد ہی سمجھا تھا اب تک۔

تابش نے اپنے گریبان سے ہاتھ ہٹا کر ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے۔ “بس ایک آخری موقع پھپھو، اچھا سنیں ناں، میں ایک آخری موقع مانگ رہا ہوں آپ لوگوں سے،

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️