Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آج مومی کو اپنے بابا کے اس شاندار محل میں آئے دوسرا دن تھا۔ دل ودماغ پر عجیب بےکلی سی سوار تھی۔ زرا برابر بھی دل نہیں لگ رہا تھا اور یہ اس کے لئے حیرت و صدمے کی بات تھی۔
وہ شاور لے کر ٹاول سے بال رگڑتی واش روم سے باہر نکلی تھی۔ سراج مینشن کے لاؤنج جتنا تو اس کا یہ شاندار روم ہی تھا۔ پنک و فیروزی امتزاج کے رنگوں سے سجا جہاں دنیا کی ہر آسائش موجود تھی۔ مگر وہ پھر بھی اس سراج مینشن کو یاد کر رہی جہاں سے ہمیشہ دور جانا چاہتی تھی۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی ویران نگاہوں میں غور سے دیکھ رہے تھی۔ آخر یہ دل چاہتا کیا تھا جس نے سراج مینشن سراج مینشن کی رٹ لگا رکھی تھی۔
اپنی ماں کو اپنے کہے الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے۔
” امی میری شادی اس سراج مینشن سے ہزاروں کلو میٹر دور کرنا، بلکہ ایسا کرنا بیرونِ ملک کر دینا تاکہ اگلی زندگی میں دوبارہ کبھی مجھے اس منحوس سراج مینشن اور اس منحوس شخص کی شکل نا دیکھنی پڑے، کبھی بھی نہیں، اور ہاں پتا ہے بعد میں آپ کو ہی مجھے ملنے آنا پڑا کرے گا کیونکہ میں تو اس زلالت مینشن میں ایک قدم بھی نہیں رکھوں گی،

ہاں تو،، وہ تو میں تب بولتی تھی ناں جب تاشو کا بی ہیو مجھ سے اتنا برا تھا اب تو وہ مجھ سے،،
وہ آئینے میں خود کو دیکھ بے تحاشا چونکی تھی۔
ایک منٹ، ایک منٹ مومی آر یو ان یور سینسز،؟ تم اس گبر کی اولاد کو مس کر رہی ہو، اس کا نام بار بار لے رہی ہو، واٹس رونگ ود یو،،؟ وہ بری طرح جھنجھلائی تھی۔ اور جب سے آئی تھی تب سے اس کا لاشعور میں ایک شخص کی ہی تو پرچھائیں بن بن کر ابھر رہی تھی۔ وہ اپنی اس کیفیت سے خود ہی چھپتی پھر رہی تھی۔
اس کا دل ویران تھا بہت اداس، ادھورا سا،

نوید احسن ہلکی دستک دے کر اس کے روم میں داخل ہوئے تھے۔
کیسی ہی میری پرنسز،،
بلکل ٹھیک، خوش باش بابا،، وہ مصنوعی مسکرائی۔
تو چلو پھر تم سے کوئی گیسٹ ملنے آئے ہیں،، نوید احسن نے کہا تو اس نے اچنبھے سے بابا کو دیکھا۔
کون بابا،،؟ اسے حیرت ہوئی۔
ہے کوئی بہت خاص، ٹو دی پوائنٹ بات کرتا ہوں، کوئی بہت خاص ہے جو میری پرنسز کا طلب گار ہے، میں جانتا ہوں تم تابش سراج کو پسند نہیں کرتیں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس سے نفرت کرتی ہو، ہونی بھی چاہیے، بہت تنگ نظر ہے وہ، اور میری پرنسز کو ڈیزرو نہیں کرتا، تو میں نے تمھارے لئے کسی خاص شخص کو پسند کیا، مگر یاد رکھنا حتمی فیصلہ میری گڑیا کا ہی ہوگا،، نوید احسن نے نرمی سے کہا تو وہ شاکڈ سی انھیں دیکھے گئی۔ اور بری طرح کنفیوز ہو کر انگلیاں چٹخانے لگی۔
کیا ہوا ڈر گئی اس تابش سراج سے، کوئی ضرورت نہیں میرے ہوتے ہوئے کسی سے ڈرنے کی، وہ بیک ورڈ جاہل آدمی کچھ نہیں کر پائے گا،، اور

پلیز پاپا،،، مومنہ نے پہلو بدلتے برا مناتے ان کی بات بیچ میں ہی کاٹی تھی۔ ” وہ کوئی ایسے ویسے نہیں تھے بس اپنی گھر کی عزت کو لے کر کچھ زیادہ پوزیسو تھے، ان سیرت آپی کی وجہ سے، ایسا کچھ نہیں جیسا آپ ان کے بارے میں بول رہے ہیں،،
نوید احسن نے اپنی بیٹی کو بغور دیکھا۔ اس نے برا منایا تھا۔ اور منہ پھلا لیا۔
اوکے چلو مل تو لو بس،، باقی فیصلہ تو میری پرنسز ہی کرے گی اور یو نو واٹ میں نے آج اپنی پرنسز کے لئے ویلکم پارٹی کا ارینج کیا ہے تاکہ بزنس کی دنیا کے لوگوں کو پتا چلے کہ میری بیٹی میرے پاس ہے، تمام ارینج مکمل ہے، بس تم۔ملک شجاعت جو کہ میرے بزنس پارٹنر ہیں ان کے بیٹے سے مل لو،، اس کے بعد تیار ہو جانا پارٹی کے لئے اوکے اب چلو،،
نوید احسن بات کرتے کرتے اسے ڈرائنگ روم کی جانب لے جانے لگے۔ پہلے کب وہ اتنا بولتے تھے مگر اب تو مومی آ گئی تھی تو وہ بھی باتونی ہو گئے تھے۔
(ان کی دانست میں مومی اس رشتے سے بلکل خوش نہیں تھی۔ سیرت کی برین واشنگ نے یہ بات ان کے دل ودماغ میں بٹھا دی تھی کہ مومی اس رشتے اور تابش سراج سے نفرت کرتی ہے اور یہ محض زبردستی کا رشتہ ہے، اب انھیں اپنی کوئی غرض نہیں تھی بس مومی کی خوشی سے مطلب تھا اب چاہے وہ تابش سراج کے ساتھ ہو یا ملک ارشمعان کے ساتھ۔ )

وہ مومنہ کا بازو تھامے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو ملک شجاعت اور ملک ارشمعان مومی کے اعزاز میں اٹھ کر کھڑے ہوئے تھے۔
السلام علیکم،، مومنہ نے سلام کیا۔
وعلیکم السلام ،ماشاءاللہ،، ماشاءاللہ،، بہت پیاری بیٹی ہے بلکل اپنے نام کی طرح مومنہ،،، ملک شجاعت بہت خوش ہوئے تھے۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ہائے،،، ارشمعان نے ہاتھ آگے کیا۔۔ مومی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تھیں۔ اس کے زہن میں اسے شخص کو دیکھ جھماکا سا ہوا تھا مومی کو یوں محسوس ہوا جیسے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا تھا۔
ہائے،، مومی نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے پیچھے باندھ کر خوشدلی سے جواب دیا تھا۔
اٹس اوکے،، ارشمعان کو اس کی یہ ادا بھی بھائی تھی۔ وہ سر تاپا اسے بغور دیکھے جا رہا تھا اور مومی کو یہ بات انتہائی ناگوار گزر رہی تھی۔
وہ باتوں میں مصروف ہو گئے۔
مومی پرنسز،، ارشن بیٹے کو کمپنی دو،، نوید احسن نے کہا تھا۔ مومی نے پہلو بدلا۔
آئیے لان میں چلتے ہیں،، ارشمعان نے کہا تو مومی کو اٹھنا ہی پڑا۔
وہ دونوں لان میں چلے آئے۔

مومنہ میں آپ جناب کے تکلف میں نہیں پڑنا چاہتا، اسی لئے تمھیں تم کہوں گا، تو تم مجھے نہیں جانتیں، مگر میں تمھیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، کچھ عرصے پہلے کالج کے باہر دیکھا تھا۔ تب سے بہت پسند کرتا ہوں تمھیں، بلکہ محبت کرتا یوں تم سے، میں نے کافی بار بات کرنے کی کوشش کی تم سے مگر تم نے اگنور کر دیا، مگر اب میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے، مومنہ کیا تم شادی کرو گی مجھ سے،،
ارشمعان کچھ زیادہ ہی سٹریٹ فارورڈ تھا تبھی بغیر لگی لپٹی اپنے دل کی ہر بات بتا دی تھی۔ وہ دم بخود سی کھڑی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ زبان تالو سے چپک چکی تھی۔
(اس ایک رات میں جانے کیا فسوں تھا کہ مومی کی جان اب تک اسی جادو کے اثر میں جکڑی ہوئی تھی تبھی آنکھوں کے سامنے وہی مناظر لہرا گئے۔)

مومی تم نے جواب نہیں دیا،، ارشمعان نے اس کے کندھے کو زرا سا چھو کر اسے گہری سوچ کے بھنور سے نکالا تھا۔ مومی کو اپنے کندھے سے کراہیت محسوس ہوئی۔
سوچ کر جواب دوں گی، چلتی ہوں، پارٹی کے لئے ریڈی ہونا ہے مجھے،، وہ بول کر رکی نہیں تھی۔

ارے مومی،، رکو تو پلیز،، ارشمعان جھنجھلایا۔ مگر وہ اندر غائب ہوئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

تابش اپنے کمرے میں راکنگ چئیر پر بیٹھا جھول رہا تھا۔ براؤن شلوار قمیض میں ملگجے سے حلیے میں وہ بکھرا سا لگ رہا تھا۔ خمار آلود آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے رت جگوں کے گواہ تھے۔ وہ دشمن جاں جیسے جاتے ہوئے جیسے جسم سے جاں کھینچ کر ساتھ ہی لے گئی تھی۔
تبھی دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا۔ تابش کے ماتھے پر بل آئے۔ کس کی جرات تھی جو اس کے روم میں بغیر ناک کیے اندر چلا آیا تھا۔
مگر جب اپنی آنکھوں پر دو ننھے منے ہاتھ محسوس ہوئے تو ایک زخمی سی مسکان نے لبوں کو چھوا۔
مائی لٹل میگی گرل،، تابش نے کہا تو نیہا نے برا سا کیوٹ سا منہ بنایا۔
تاشو ، مجھے میگی نوڈلز مت بولا کریں ناں،،
اور تم مجھے تاشو مت بولا کرو، یہ صرف سنئیر میگی نوڈل گرل بول سکتی ہے مجھے،، وہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ تھامتا اس کی چھوٹی سی ناک کھینچ کر بولا۔
آئی گیس، وہ مونا خالہ ہے،، نیہا نے کہا تو تابش نے ایک جزب کے عالم میں اثبات میں سر ہلایا کہ جیسے اس نام سے بھڑکتے سلگتے دل پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑے تھے۔
یس وہ تمھاری مونا خالہ ہے اور میری جان ہے،، وہ منہ بڑبڑایا۔

نیہا،،، نیہا،،،
تبھی سیرت بھی بغیر ناک کیے اندر داخل ہوئی تھی۔ تابش کے ماتھے پر پھر بل پڑے۔
سیرت ایسے کسی کے روم میں بغیر ناک کے نہیں داخل ہونا چاہیے،، تابش نے کوئی لحاظ رکھا بھی نہیں تھا سیرت جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔
سوری تاش،، آئی مین تابش، میں تو بس اسے لینے آئی تھی،، یہ،،
سیرت کی بات بیچ میں ہی رہ گئی تھی جب سلمیٰ بیگم اندر آئیں اور سیرت کو اس کمرے میں دیکھ کر ان کے ماتھے پر بل آئے۔
تابش ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے،، سلمیٰ بیگم نے مبہم سا کہا تھا سیرت خاموشی سے نیہا کو اٹھا کر باہر چلی گئی۔

جی پھپھو حکم کریں،، تابش پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
حکم کیا کروں،، تم سے پوچھنے آئی تھی کہ تمھارا اپنی بیوی کو کتنی ڈھیل دینے کا پروگرام ہے،، سلمیٰ بیگم نے خفگی سے پوچھا تھا۔
کیا مطلب پھپھو،، تابش نے ناسمجھی سے کہا۔
مطلب یہ کہ اس کا باپ اس کے لئے رشتے دیکھتا پھر رہا ہے تم سے بہتر کوئی شخص، سلمیٰ بیگم نے تابش کے سر پر پھوڑا۔
“لیکن یہ بات میں جانتی ہوں کہ اس کے لئے تم سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا، تو ہوش کے ناخن لو ملک تابش سراج اسے یوں ڈھیل دینے کا کوئی فائدہ نہیں، اسے اس رشتے کا احساس دلاؤ، اپنی محبت جتاؤ اور اپنی امانت کی زمانے کی سرد وگرم سے حفاظت کر کے اپنے پاس لے آؤ،،

یہ،، کک، کیا بول رہی ہیں آپ پھپھو،،، آج اسے کھو دینے کے ڈر سے ملک تابش سراج کی زندگی میں پہلی مرتبہ زبان لڑکھڑائی تھی۔
اس کے جواب میں سلمیٰ بیگم اسے سب بتاتی چلی گئیں جو مومی نے آج انھیں فون پر بتایا تھا اور یہ بھی کہ وہاں مومی کے لئے ویلکم پارٹی ہونے والی ہے جسے اس شخص نے ارینج کیا ہے جس کو نوید احسن نے مومنہ کے لئے پسند کیا ہے۔
ملک تابش سراج کو اپنی روح فضاؤں میں تحلیل ہو کر فنا ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ سلمیٰ بیگم جا چکی تھیں۔ وہ ڈریسنگ کی جانب بڑھا تھا۔ ڈریس لے کر واش روم گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

تمام پارٹی کا ارینج احسن ولا کے طویل وعریض لاؤنج میں کیا گیا تھا۔ بزنس اور شوبز کی دنیا کے بڑے بڑے نام اور شخصیات پارٹی میں موجود تھیں۔ لاؤڈ میوزک سسٹم کی آواز سے کانوں پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔
بس اب مومنہ کا انتظار تھا۔ جسے تیار کرنے کے لئے شہر کی مشہور بیوٹیشن کو بلایا گیا تھا۔
مومی کا ڈریس بھی ارشمعان لایا تو جو کافی عجیب تھا۔ مگر یہ بات مومنہ کو معلوم نہیں تھی ابھی۔

اندر بیڈ پر ڈریس پڑا تھا۔ پارلر والی نے اسے وہ ڈریا پہننے کو کہا۔ مومی کھوئی کھوئی ای ڈریس اٹھا کر واش روم گئی تھی۔ ڈریس پہن کر باہر آئی۔ پارلر والی نے نوید احسن کے حکم کے مطابق جلدی جلدی اسے تیار کر دیا۔ اور خود چلی گئی۔

آئینے کے سامنے وہ اس سلیولیس وائٹ میکسی میں ہلکے میک اپ، دوپٹے کے بغیر ، ہیروں کے ٹاپس پہنے خود کو بغور آئینے میں دیکھ رہی تھی۔ کرلی براؤن کھلے بال پوری کمر پر آبشار کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ چھوٹا سا نفیس سا سلور کراؤن سر پر بالوں میں سے جھانک کر اسے کسی ریاست کی شہزادی بنا رہی تھی۔
اتنے میں نوید احسن ہلکی سی ناک کے بعد روم میں داخل ہوئے تھے۔
تیار ہو پرنسز،،، مسکرا کر پوچھا۔
جی، چلیں، ان کا بازو تھام کر باہر آئی۔ سیڑھیوں سے اترتے سپورٹ لائٹ ان دونوں پر پڑی۔ محفل میں موجود ہر ایک نگاہ اس کے وجود پر اٹھی تھی اور پلٹنا بھول گئی تھی۔

نیچے اتر کر لاونج کے بیچ و بیچ آ کر نوید احسن اسے سب سے ملانے لگے۔ ارشمعان مسکراتا ان کے پاس آیا تھا۔
ناؤ اٹس مائی ٹرن ینگ مین،، نوید احسن کو کہتے اس نے مومی کا گداز ہاتھ تھاما اور اپنے دوستوں کی جانب چل پڑا۔
مومی کو اپنے ہاتھ سے کراہیت سی محسوس ہوئی۔ تبھی چلتے چلتے اس نے نرمی سے اپنا ہاتھ اس گرفت سے چھڑا لیا۔
وہ اس کے دوستوں کے پاس پہنچی۔ ارشمعان جانے کیا کیا بول رہا تھا۔ اسے بس اس کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوئی تھی۔ ارشمعان کے دوست بھی اسے بڑی گہرائی سے غلیظ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

(کیا یہ ایسی غلیظ آزادی چاہیے تھی مجھے اتنے سالوں سے، کہ میں شمعِ محفل بن جاؤں میں محض میں ایک دیکھنے والا شو پیس بن کر رہ جاؤں، بس بےپردہ مرکزِ نگاہ رہوں، اور ہر گندی نگاہ مجھ پر اٹھے) مومی کو اپنے آپ سے پارٹی میں خود پر اٹھتی ہر نگاہ سے گھن محسوس ہوئی۔ ارشمعان بھی بہانے سے اس کے گداز بازو کو چھو رہا تھا۔ اس کا چہرہ برداشت کی شدت سے لٹھے کی طرح سفید پڑا تبھی وہ الٹے پیر اپنے روم کی جانب گئی تھی۔
اے مومی کدھر،، ارشمعان اس کے پیچھے لپکا۔
واش روم جانا ہے مجھے، فریش ہونا ہے، تمھیں کوئی اعتراض ہے،، وہ پھنکار کر بولی۔ ارشمعان گڑبڑایا۔

وہ سیدھا اپنے کمرے میں آ کر لاک لگا کر واش روم میں بند ہوئی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر نم نگاہوں سے سلیولیس بازو نوچ کر نیچے کرنے چاہے جیسے اس کے کھینچنے پر وہ فل بازو ہو ہی جائیں گے۔ کچھ غیر معمولی محسوس ہوا تو آئینے سے اپنے پیچھے نگاہ اٹھی۔
وہ دیوار سے ٹیک لگائے نم شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جیسے کہنا چاہتا ہو کہ کیا دنیا کی گندی نگاہوں سے اس لئے سینت سینت کر اپنے صرف اپنے لئے رکھا تھا کہ آج وہ یوں غیروں کے لئے انٹرٹینمنٹ کا سامان بن جاتی۔

مَر مَر کے تاں ملے سی، ایڈے وی کی گلے سی
سولی تے لٹکیاں دا اعتبار وی نا آیا
اسی زندگی گوا لئی تینوں پیار وی نا آیا

او پیار او وفاواں، او تڑپ تے او جزبے
میرے حصے دی محبت کدے توں وار آیا
اسی زندگی گوا لئی، تینوں پیار وی نا آیا

مونا پیچھے مڑ کر آئینے سے لگی تھی۔ تاشو آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا (مونا نے قریب آنے دیا) تاشو نے ہاتھ پیچھے باندھ رکھے تھے۔ جب سامنے کیے تو ہاتھوں میں وائٹ کلر کا اپر اور سکارف تھا۔ تاشو اس کے بے حد قریب تھا۔ تبھی اس کے کندھوں پر اپر پھیلا کر اوڑھا دیا۔ وہ نگاہیں جھکائے خاموشی سے کھڑی رہی۔ کوئی ردِعمل نہیں تھا۔ جیسے پتھر کی ہو گئی ہو۔ اس وقت تاشو کی نگاہوں میں دیکھنا زندگی کا مشکل ترین امر تھا۔ وہ اسے اپر پہنا چکا تھا (اور مونا نے اسے پہنانے دیا) اب اس کے سلیولیس بازو اور خوشنما بندن چھپ چکا تھا۔
اب تاشو نے ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کے بال ہاتھوں میں بھرے دے۔ بالوں کا جوڑا بناتا وہ مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا۔ اس کی گرم سانسوں کی تپش مونا کا پورا چہرا جھلسا رہی تھی۔ عجیب بات تھی نا تاشو کے چھونے سے کوئی بے چینی ہو رہی تھی نا دیکھنے سے گھن محسوس ہو رہی بلکہ ایک تحفظ و پاکیزگی کا عجیب سا احساس تھا۔
جوڑا بنا چکا تو اب سکارف سر پر دیا۔
اور پاکٹ میں سے حجاب پنز نکال کر پاس بنے سٹینڈ پر رکھی۔
وہ اس کا حجاب بنا رہا تھا۔ آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر تاشو کے ہاتھ پر گرا تھا۔ کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں تھی وہ اسے سمجھ رہا تھا۔

انٹرنیٹ سے بڑی مشکل سے سیکھا ہے یہ،، تاشو نے آہستگی سے بتایا۔ وہ اس کی نگاہوں میں جھانکنے لگی۔
حجاب پنز لگاتے وہ اس کے بےحد قریب چلا آیا تھا۔ مونا نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں۔
وہ سمجھی شاید تاشو ،،،،،،،،،،۔
تاشو اس کے یوں گھبرا کر آنکھیں بند کرنے پر مسکرایا تھا۔
I think, You want me to kiss you,,
بھاری بوجھل آواز میں یہ بات سن کر مونا کی اب پوری کی پوری آنکھیں تحیر سے کھل کر پھیل چکی تھیں۔
اگر واقعی تم ایسا چاہتی ہو تو سوچ لینا، میرے اتنے سالوں کے جنون اور شدت کو برداشت کر سکو گی تو موسٹ ویلکم،
اس کی بات پر مونا نے اس کی شرٹ کا کالر دبوچا تھا۔ تاشو نے اس کی پچھلی گردن کو ہاتھوں کی گرفت میں لے کر اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھے تھے۔
اسکی ریڈ لپ اسٹک تیزی سے پھیل رہی تھی۔ پہنایا گیا اپر اور حجاب بھی بکھرتا گیا۔ مگر آج مومی نے اسے دور ہٹانے کی بلکل کوشش نہیں کی تھی۔ تو کیا وہ چاہتی تھی کہ تاشو اسے چھوئے۔ اس کے جتنا مرضی قریب چلا آئے۔ اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بسائے۔
سب سے بڑھ کر کیا یہ خود سپردگی کا عالم تھا۔ تابش پاگل ہو چکا تھا شاید تبھی اس کے گداز ہونٹوں کو آزادی دے کر اب گردن کی گہرائیوں میں اترنے لگا تھا۔ مومی نے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں اور اس ستمگر کی شرٹ کندھوں سے مٹھیوں میں جکڑ رکھی تھی۔

کمرے کے دروازے پر دستک سے دونوں ہوش میں آئے تھے۔ تابش کچھ کہے بغیر اس سے مسرور سا الگ ہوا تھا۔ آج وہ اس سے جتنے سوالوں کا جواب طلب کرنے آیا تھا وہ خود بخود ہی اسے مل چکے تھے۔
مونا اس سے شدت سے نگاہیں چراتے جانے لگی تھی جب اس کی کلائی تابش کی سلگتی گرفت میں آئی تھی۔
تاشو پلیزززززززز،،، اس کے لہجہ میں عاجزی تھی۔ مگر اس کا تابش سراج پر الٹا اثر ہی ہوا تھا۔ جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ وہ کٹی ڈال کی طرح اس کے کشادہ سینے سے آ ٹکرائی تھی۔ تابش نے اس کے نچلا لب پر دانتوں سے کٹ لگایا تھا۔ اب کی بار مومی نے اس کے پاگل پن سے عاجز آ کر اسے خود سے دور دھکیلا تھا۔ واش روم سے نکل کر دروازے تک آئی۔

ہوز،، دد،، دئیر،،، سانس ابھی تک اتھل پتھل تھی۔
پرنسز کیا ہوا پارٹی چھوڑ کر کیوں چلی آئی بیٹا،، نوید احسن نے آواز دی تو اس کی جان پھر بے جان ہوئی۔
فریش ہونے آئی تھی بابا آتی ہوں،، اب وہ کیا کہتی آئی تو فریش ہونے تھی مگر اس بندے نے اس کے چودہ طبق روشن کر دئیے تھے۔ بھاگ کر آئینے کے سامنے گئی۔ اپر اور حجاب درست کیا۔ ٹشو سے رگڑ کر لپ اسٹک صاف کی۔ میک اپ دوبارہ درست کر کے لائٹ سا پنک گلوز لگایا اور کمرے سے بھاگ کر باہر نکل گئی۔

وہ مسکراتا واش روم سے باہر نکلا تھا جانتا تھا اس کی موجودگی میں نکلتا تو وہ آج جتنا خود سے اور تابش کی بے باکیوں سے گھبرا چکی تھی ملک تابش سراج کے سامنے جیسے جان ہی دے دیتی۔ وہ پھیل کر بیڈ پر لیٹ کر اس کی خوشبو اپنے آس پاس محسوس کرنے لگا۔
آج اس کا سراج مینشن لوٹنے کو کوئی خاص پروگرام نہیں تھا۔ اس کے چودہ طبق تو روشن کر ہی چکا تھا اب دن میں چاند تارے دکھانے کا بھی پکا ارادہ رکھتا تھا۔ تبھی وہاں موجود تھا۔

چند گھنٹوں بعد وہ پارٹی اٹینڈ کر کے روم میں داخل ہوئی تو دروازے کے پیچھے کھڑے تابش نے اطمینان سے کلوروفارم سے بھرا رومال اس کے منہ پر رکھا تھا۔ وہ مچلی۔ مگر جلد ہی ہوش و خرد سے بیگانہ اس کی بانہوں میں آ گری۔
تابش گہرا مسکرایا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️