Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

سیام نے ٹرے لا کر کاؤنٹر پر رکھی تھی۔ عرفہ نے کھانا دوبارہ گرم کیا۔ وہ صبح والے حلیے میں ہی تھی۔ اور سیام کے سیدھے دل میں اتر رہی تھی۔
سیام اسے مسلسل بے شرموں کی طرح اپنی نگاہوں کے حصار میں رکھے ہوئے تھا۔
اور وہ مسلسل جھجکتے جھنجھلا رہی تھی۔ وہ کھانا اس کے سامنے رکھ کر کچن سے بھاگنے کے چکروں میں تھی۔ مگر اب سیام کے دام میں پھنس چکی تھی تبھی اس کی کلائی تیزی سے سیام کے ہاتھ کی گرفت میں آئی تھی۔
کدھر،،،؟
میں نے کھا لیا تھا کھانا،،، عرفہ نے جان چھڑانا چاہی۔
جانتا ہوں کتنا کھایا ہے، بیٹھ جاؤ یار پلیز، تھوڑا سا میرے ساتھ کھا لو، نہیں تو میں بھی نہیں کھاؤں گا، اس نے ایسی مسکین سی شکل بنا کر کہا تھا۔ عرفہ بیٹھ ہی گئی۔ سیام نے ایک ہی پلیٹ میں بریانی ڈال کر اپنے اور اس کے سامنے رکھی تھی۔ وہ اسے گھورے گئی۔
کیا،؟ مجھے نہیں کھانا، کھانا کھانا ہے،، وہ سنجیدگی سے بولا پر نگاہوں میں شرارت بھری بھرپور چمک سی تھی۔
ان چونچلوں کا مطلب،، وہ منہ بنا کر بولی۔ مگر سیام کے اگلے جواب نے اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑائے تھے۔
تمھیں آج رات کے لئے تیار کرنا ،، سکون سے کہا گیا تھا۔
کک،، کیا مطلب،، عرفہ کا منہ کی جانب جاتا ہاتھ رک گیا تھا۔
مطلب بھی سمجھا دوں گا اتنی جلدی کس بات کی ہے یار،، وہ پلیٹ پر جھک کر بلکہ اس کی جانب زرا سا جھک کر مصروف سا بولا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

مومنہ روم میں آئی تو ٹینشن و پریشانی سے اسے ٹمپریچر سا محسوس ہو رہا تھا۔ اور اس ٹمپریچر کے ساتھ ہی ایک نئی فکر لاحق ہو گئی تھی وہ یہ کہ اگر ٹمپریچر تیز ہو گیا تو وہ بخار کی شدت میں بہت برے طریقے سے ڈر جایا کرتی تھی۔ بخار میں ہمیشہ سلمیٰ بیگم اس کے پاس سوتی تھیں تاکہ وہ اگر ڈر جائے تو سلمیٰ بیگم اسے سنبھال سکیں۔
ڈھیلا سا کرتا ٹراؤزر پہن کر وہ پانی سے ایک پینا ڈول لے کر لیٹ گئی تھی۔ بخار کی شدت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ جلد ہی گہری نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔

ادھر تابش بھی بے چین سا تھا اس کی لاکھ کوشش کے باوجود مونا اس سے سہی طرح بات نہیں کر رہی تھی اور اسے یہ بھی کہاں گوارا تھا۔ تبھی حسبِ معمول اس کے روم میں چلا آیا تھا۔ وصل کی گھڑیوں کا سوچتے آج تک اپنے تمام تر جزبوں پر لگامیں کسنا اپنے جزبات کو قابو میں رکھنا میان سے نکلی تلوار پر چلنے کے مترادف تھا۔
اب بھی وہ ڈھیلے سے لباس میں میگی نوڈلز تکیے پر بکھیرے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے آڑھی ترچھی سو رہی تھی۔ مگر معصوم چہرہ خلاف معمول کافی سرخ تھا اور وہ نیند میں بے چین سی بھی تھی۔ تبھی تابش نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ جو رکھتے ہی جل اٹھا۔ وہ تیز بخار میں پھنک رہی تھی۔
اففففففففف،،،،، پہلے دن ہی اتنا تیز بخار، تابش کو اس کی فکر لاحق ہوئی۔ پتا نہیں میڈیسن بھی لی کے نہیں؟ اٹھاؤں نہیں اٹھاؤں؟
تبھی کچن میں گیا۔ ٹھنڈا پانی باؤل میں ڈال کر لایا اور اپنے روم سے رومال لایا۔
ابھی لا کر چیزیں بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر ہی رکھی تھیں کہ مونا کی دلدوز سی چیخیں سنائی دیں۔ وہ بے تحاشا گھبرایا تھا۔ جلدی سے اس کی جانب پلٹا جو سر بیڈ پر پٹختی با آواز بلند رونے اور چیخنے میں مصروف تھی۔

تابش ایک گھٹنا فولڈ کر کے بیڈ پر رکھ کر اس کے اوپر جھکا تھا۔ اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا
مونا،،،،، مونا،،، اٹھو پلیز،،
ادھر وہ شدید بخار میں پھوٹ پھوٹ پر کر روتی امی امی پکار رہی تھی۔
آخر تابش نے بیڈ پر بیٹھ کر اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اسے سینے میں بھینچا تھا۔
مونا ریلیکس،، شاباش،،، کوئی نہیں ہے ادھر، کوئی بھی نہیں،، نا ہی میں کسی کو تمھارے قریب آنے دوں گا،، ریلکیکس ہوجاؤ میری جان ،،
وہ ایک ہاتھ سے اس کے بال سہلاتا، دوسرے سے اس کی پیٹھ رب کرتا رہا۔ مونا نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ۔ مگر غنودگی میں وہ کچھ بھی سوچ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
کافی دیر وہ اسی پوزیشن میں اسے سینے سے لگائے بیٹھا رہا تھا۔ کس قدر سکون تھا اس کی دلفریب قربت میں کہ وہ چاہتا تھا آج کی رات کبھی گزرے ہی نہیں ۔
تاشو اسے لٹا کر کافی دیر اس کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتا رہا۔

کافی فرق پڑا تھا ۔ کچھ دیر بعد ہی ٹمپریچر کافی کم ہوا تھا تو تابش نے سکون کا سانس لیا۔
اب اس کا یہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مبادا کہیں پھر وہ ڈر جاتی۔ اس کے پہلو میں لیٹا چھت کو گھورتا رہا۔ دل تو ہمک ہمک کر چاہتا تھا ہاتھ بڑھا کر اسے تھام لے اور ساری دوریاں ختم کر دے۔
مگر،،،
تمام بوجھل ہوتے جزبات کو سر جھٹک کر ایک سائیڈ پر رکھا ۔ اس کا سر اٹھا کر اپنے کشادہ سینے پر رکھا اور آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

عرفہ اپنے روم میں آئی تھی۔ صد شکر کے اس کا سامان اس کے اپنے روم میں پڑا تھا جو اس دوسرے پورشن میں اس کے لئے چچی امی نے مخصوص کر رکھا تھا۔ مگر وہ اپنی دھن میں مگن سوچوں میں گم یہ تک محسوس بھی نہیں کر پائی تھی کہ کمرے میں غیر معمولی بدلاؤ سا ہے۔

آئینے کے سامنے کھڑی وہ اس منہوس پمپل پر آئٹمنٹ لگا رہی تھی جو پھر کہیں نا کہیں سے جلوہ گر ہو ہی جاتا تھا ۔ جب کلک کی آواز پر روم کا لاک کھلتا چلا گیا اور عرفہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ مگر سیام مسکراتا اپنی چیزوں سمیت اس کمرے میں داخل ہوا تو عرفہ کے پیروں تلے سے زمین ضرور سرکی تھی۔

یہ،، کک،، کیا، آپ اس روم میں کیا کر رہے ہیں اپنے روم میں جائیے، یہ میرا روم ہے،، وہ بری طرح بوکھلائی تھی۔
“اب ہر بار ضروری تو نہیں کہ بیوی ہی رخصت ہو کر شوہر کے پاس آئے، اب تم تو رخصتی دے نہیں رہی تو میں یعنی شوہر بقلم خود، خود ہی رخصت ہو کر بیوی کے پاس چلا آیا ہے کیونکہ میری شروع دن سے خواہش تھی کہ میں ایک بہت بڑا زن مرید بنوں،،
وہ سنجیدگی سے کہتا اپنا سامان بیڈ پر رکھ گیا تھا۔ چہرے پر مزاق کا شائبہ تک نہیں تھا ہاں مگر اس کی شریر آنکھیں بہت کچھ بولتی تھیں۔

آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے، میرے اس پورشن میں رہنے کی بات اور وعدہ ہوا تھا چچی امی سے،، آپ کے ساتھ ایک ہی روم میں رہنے کا نہیں، جائیے آپ یہاں سے برائے مہربانی،،
وہ چمک کر بولی تھی۔
تم یہ کیوں بھول جاتی ہو مسز، کہ سارا پورشن تمھارے شوہر کا ہے، تو میں کہیں بھی کسی بھی کونے میں اپنی مرضی سے آ جا سکتا ہوں، اور یہ روم،، اگر تھوڑا سا غور کرو مسز تو اسپشل میری پسند سے دوبارہ رینوایٹ کروایا گیا ہے کیا سمجھیں،،

عرفہ کی ہوائیاں اڑی تھیں۔ جبکہ وہ اطمینان سے ڈور لاک کرتا اب قدم اس کی جانب بڑھا رہا تھا جو ہونق بنی اب اپنے قدم پیچھے کی جانب لے رہی تھی۔
س،، سیام،، آپ مجھے ڈرا رہے ہیں،، وہ آخر روہانسی ہو کر دیوار سے لگی۔

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے
پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

اور تم مجھے کب سے بہکا رہی ہو ڈارلنگ،، وہ مسکرایا۔ اور اپنے ہاتھ کی پشت سے اس کی گداز گال سہلائی تھی۔
اور فاصلے سمیٹتے اب وہ اس کے چہرے کا ایک ایک نقش کو چوم کر اپنی محبت کا خراج پیش کر رہا تھا۔ جب برداشت کی حد پار ہوئی تو عرفہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس خود سے دور دھکیلا۔
دور رہیں مجھ سے سیام،، آئی ہیٹ یو،، ویسے تو آپ مجھے اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ آپ کے اس پورشن میں قدم بھی رکھوں، اور آج جب اپنا مطلب پورا کرنا ہے تو بیوی بیوی پکارتے آ گئے ادھر، اور مجھے زبردستی اس پورشن میں بھی لے آئے، سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھے، کھلونہ ہوں یا کوئی استعمال کی چیز، جسے جب جی چاہا نکال باہر کیا اور جب دل چاہا اپنے پاس بلا لیا،،
سالوں کا غبار تھا۔ وہ پھٹ ہی تو پڑی تھی۔ جبکہ سیام شاکڈ سا اسے ملاحظہ فرما رہا تھا جو اس سے اس قدر بدگمان تھی۔۔
تو اس کا مزاج ٹھکانہ لگانا بھی تو بہت ضروری تھا ناں۔
تبھی وہ جارحانہ تیور لیے آگے بڑھا تھا کہ عرفہ بھی ڈر کر اپنی جگہ سے اچھلی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے اسے اپنی بازوؤں میں بھر چکا تھا عرفہ کا تو صدمے سے برا حال ہوا تھا۔
یہ کک کیا،، چھوڑیں مجھے،،، وہ چلائی اور ہاتھ پیر چلائے۔
مگر وہ اسے بیڈ پر پٹخ چکا تھا۔ تیزی سے چلتے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قابو کر کے بیڈ سے لگائے اور مکمل طور پر اس پر جھکا اس پر حاوی ہوا۔

یہ کیا کر رہے ہیں آپ، چھوڑیں مجھے سیام آپ پاگل ہو گئے ہیں،، وہ مزاحمت کر کر کے ہانپ چکی تھی تبھی پھنکاری ۔
نہیں پاگل نہیں ہوا دراصل میں تمھیں بتا رہا ہوں کہ مطلب کیسے پورا کیا جاتا ہے،، وہ اطمینان سے بولا تھا۔ عرفہ نے نم آنکھیں لیے اس سے چہرے موڑا تھا مگر سیام نے سختی سے اس کا جبڑا دبوچ کر اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالیں تھیں۔
یہ ویسے تم لڑکیوں کو ایسے کیوں لگتا ہے کہ ہم صرف اپنا مطلب پورا کرنے کو ہی تمھارے قریب آتے ہیں، مطلب کے علاوہ اور بھی تو مسئلے ہو سکتے ہیں، جیسے کہ کوئی محبت کرے مرے گا تو ہی قریب آئے گا ناں،، طلب پوری کرنے کو تو بازار سے کئی مل جاتی ہیں، پیسہ پھینکنے کی دیر ہے،،
سیام کی باتوں اور لہجے کی گہرائی تھی کہ عرفہ کو اپنے اتنے بیہودہ خیالات اور اتنے سخت اور برے الفاظ پر اب بے حد شرمندگی ہی ہوئی تھی۔
تبھی نم آنکھوں سے آنسو پھسل کر شیٹ میں جزب ہوئے تھے۔
یہ بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں اچھی طرح بٹھا لو مسز عرفہ سیام کہ مطلب پورا کرنے بھی ایک شوہر اپنی محبوب بیوی کے پاس ہی آتا ہے، جس سے وہ بے تحاشا محبت کرتا ہے، نہیں تو دنیا کا کوئی مرد باوفا نا ہو اور ہر مرد نے کئی عورتوں سے تعلقات قائم کر رکھے ہوں،،
سیام کہتا اس سے پرے ہٹا تھا۔ اور بیڈ پر ایک سائیڈ ہو کر لیٹا تھا۔ وہ بےجان سی اسی جگہ پڑی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔ تبھی سیام نے کھینچ کر اسے اپنے سینے پر گرایا تھا۔
س،، سیام،، وہ کچھ کہنا چاہتی تھی شاید
سو جاؤ عرفہ،، کچھ نہیں کہوں گا،، نرمی سے کہتے اس کی پیٹھ سہلائی تھی۔ کافی دیر تک اس کے آنسو سیام کے شرٹ اور سینے پر گرے تھے۔ مگر اس قدر محبت سے اسے سمیٹنے اور سہلانے پر وہ جلد ہی گہری نیند میں چلی گئی تھی۔
سیام نے اسے اس کے تکیے پر سیدھا کیا۔
سب بڑوں سے بول کر وہ رخصتی لے چکا۔ اور یہ زبردستی کی ہی رخصتی تھی یقینا تبھی وہ یہ سب قبول نہیں کر پا رہی تھی۔ مگر سامنے بھی ملک سیام سراج تھا جو تہیہ کر چکا تھا اسے محبت کی راہوں میں اپنا ہمقدم بنانے کا۔ جزبوں سے چور دل بے چین تھا مگر جیسے تیسے آنکھوں پر بازو رکھ کر سو ہی گیا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اگلے دن تابش کی آنکھ کھلی تھی۔ صبح خیزی کا یہ منظر زندگی کا خوشگوار ترین منظر تھا۔ کیوں کہ وہ اس سے لپٹی ایک ہاتھ اس کے پہلو میں رکھے دوسرا اس کے سینے سے لپیٹے گہری نیند میں تھی۔
رات بھر وہ بخار کے زیرِ اثر عجیب سہمی ہوئی سی تابش سے لپٹی اس کے لئے سراپاِ امتحان بنی رہی تھی۔ وہ ڈھنگ سے ساری رات سو بھی نہیں پایا۔ تابش نے مونا کے ماتھے پر ایک نرم گرم سا لمس چھوڑا۔ جس سے معلوم ہوا کہ بخار کا اثر کافی حد زائل ہو چکا ہے۔ تبھی وہ مطمئن ہو کر اپنے روم میں آفس کے لئے تیار ہونے گیا تھا۔
آج ویک اینڈ تھا۔ اور آج اس نے جان بوجھ کر کسی خاص مقصد کے تحت لنچ پر اپنے بہترین دوست ارحم کو اس کی مسز کیساتھ انوائٹ کیا تھا۔

ادھر مونا کی بھی آج جلد آنکھ کھل گئی تھی۔ بھاری ہوتے سر کے ساتھ پہلے تو غائب دماغی سے لیٹج چھت کو گھورتی رہی مگر جیسے جیسے رات کے مناظر یاد آتے چلے گئے وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا جیسے ایسے کرنے سے گزشتہ رات کی اس کی کارگزاریاں بدل ہی جائیں گی۔
اففففف، کمینی، بیغیرت، الو کی پٹھی مومی یہ کیا کیا۔۔ ابھی وہ اپنے کیے گئے ہر کرتوت پر کفِ افسوس مل ہی رہی تھی جب وہ دھڑلے سے آفس کے لئے بلکل تیار پھر اس کے روم میں چلا آیا۔
مومی نے گڑبڑا کر دوپٹہ اٹھاکر سر پر جمایا تھا۔ اور آج اپنی وجہ سے اس گبر سے نگاہیں بھی چرائی تھیں۔
وہ نیوی بلو تھری پیس میں اپنی تمام تر وجاہت سمیت اس کے سامنے کھڑا تھا۔

مونا اگر طبیعت ٹھیک ہے تو ملازمہ کے ساتھ مل کر لنچ پر ایک دو اچھی سی ڈشز بنا لینا، میں نے اپنے فرینڈ اور اس کی مسز کو انوائٹ کر رکھا ہے،، اوکے،، وہ کہتا ایک گہری نگاہ اس پر ڈالتا
اس کے پیچھے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا باکس کن اکھیوں سے دیکھتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
(کتنی خواہش تھی کہ رخصتی کے بعد اسے گفٹ دے گا جس کا روز اول سے اسے بہت شوق رہا ہے)
وہ تلملائی۔ اونہہہہہہ اپنے دوست کی دعوت ہے تو میں کیا کروں، اب وہ دن گئے جب یہ حاکم تھے اور میں محکوم، لنچ بناتی ہے میری جوتی دیکھتی ہوں کیا کریں گے؟
وہ لاپروائی سے پھر بیڈ پر ڈھے گئی۔ مگر جلد ہی نگاہ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑی تو تیزی سے پھر سے اٹھنا پڑا۔
یہ کیا ہے اور کس نے رکھا ادھر،، تجسس ہوا۔ تبھی ہاتھ بڑھا کر وہ گفٹ پیک ہوا باکس اٹھا لیا۔ کیا ہے یہ، الٹ پلٹ کر دیکھا۔
کیا تاشو نے،،، بے یقینی سی تھی۔ مگر اس کے علاوہ اور تھا کون جو یہ چیز یہاں رکھتا۔ گفٹ پیک کھول کر دیکھا تو ایم بے حد قیمتی موبائل تھا۔
وہ سر خوشی سے اچھل ہی تو پڑی اور بیڈ پر بچوں کی طرح کودنے لگی۔
ییےےےےےےےےےےےے،،،،اففففففف اس کا موبائل، اس کا اپنا موبائل،
تو کیا ہوا اگر اس سڑے انڈے ، جلے بھنے گبر نے دیا تو، ہے تو اس کا موبائل نا۔
جلدی سے کھول کر دیکھا۔
سب سے پہلے امی کو کال کروں، سم ایکٹیویٹ تھی۔ نمبر سیو کر کے دئیے گئے تھے۔ سب سے پہلے اس نے سلمیٰ بیگم کو ہی کال ملائی تھی۔
ان سے خوشی سے دمکتا چہرہ لیے وہ دنیا بھول گئی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

دوپہر کا وقت تھا۔ سارا گھر کا کام کاج ملازمہ کے ساتھ مل کر کروا کے، اسے آج کھانا بنانے سے منع کر کے اطمینان سے آ کر اپنے روم آئی۔
الماری میں رکھی ایک ڈائری سے عنایہ(اپنی بیسٹ فرینڈ) کا نمبر لیا جو اس نے پچھلے کچھ دنوں سے ہی اس سے لیا تھا۔
اور اب وہ خوشی سے بےحال ہوتی بیڈ پر اوندھی آڑھی ترچھی لیٹی اس سے گپیں لگانے میں مصروف تھی۔ عنایہ کو اپنے گھر آنے کا بھی بولا تھا۔

جب باہر سے مخصوص ہارن کی آواز آئی۔ اور ایک اور گاڑی کی آواز آئی۔ یقینا وہ اور اس کے گیسٹ آ گئے تھے۔ اور اب ملک تابش سراج کی زبردست قسم کی انسلٹ ہونے والی تھی۔ اسے عجیب کمینی سی خوشی ہوئی۔ مگر حسبِ عادت اس سڑے گبر کے لاوے کی طرح ابال کھاتے غصے کا سوچ کر بیک بون میں سرسراہٹ سی ہوئی۔
مگر خود کو بظاہر مضبوط کیا کہ اب اسے ڈرنے ورنے کی کوئی ضروری نہیں۔ فون بند کر کے باہر سے آتی آوازیں سننے لگی۔ جہاں سے پرجوش باتوں ہنسی اور قہقہوں کی آوازیں آئیں۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر روم سے باہر جھانکا۔ وہ اگر اس وقت کوئی سفید کوا بھی دیکھ لیتی تو اسے اتنی حیرت نا ہوتی جتنی کہ آج اس گبر کی اولاد کو باہر لاؤنج میں بیٹھے قہقہے لگاتے دیکھ ہو رہی تھی۔ وہ جو ارحم کی اسے مونا کے حوالے سے چھیڑنے پر ہنس رہا تھا ایک پنک آنچل دکھائی دیا تو سکون سا آیا۔ فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی جانب آیا اور وہ اتنی اچانک اسے اپنی جانب آتا دیکھ بری طرح بوکھلا گئی تھی۔

آؤ ،، مونا باہر آؤ،، عائشہ بھابھی سے ملو،،
آج اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے کا دن تھا۔ مگر شاید اس بندے نے ابھی کچن میں جھانک کر نہیں دیکھا تھا جو اتنی خوش خلقی کے اعلیٰ مظاہرے ہورہے تھے۔ وہ اس کی کلائی تھام کر لاؤنج میں لایا جہاں ایک خوش شکل سی لڑکی اپنی گود میں ایک کیوٹ سا بےبی کو لیے بیٹھی تھی۔ وہ بلا تکلف اٹھ کر اس کے گلے لگی تھی۔

آج تک آپ نے جتنے اپنی بیوی کے بے اختیار حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے ہیں تابش بھائی، آج مجھے پتا چلا وہ سب ٹھیک ہی تھے، میں خواہ مخواہ ہی آپ کو تنگ کرتی رہی، وہ ہنس کر بولی مگر ادھر کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا۔
یہ کارنامے اس بندے نے کب اور کہاں کیے جو اسے نظر بھر کر دیکھتا تک نہیں تھا۔
تابش کی گردن میں سریا آیا تھا۔ کالر جٹھک کر سر کو ہلکا سا خم دے کر تعریف وصول کی تھی۔ وہ آج اس کی ساری کاروائیاں دیکھ رہی تھی مگر ہضم کرنا مشکل تھا۔

عائشہ ایک بہت ہی زیادہ خوش اخلاق، خوش طبع اور ملنسار لڑکی تھی۔ اور بہت جلد ہی مومی اور وہ آپس میں گھل مل گئے تھے۔ ارحم بھی اسے بےحد احترام سے بھابھی بول رہا تھا۔

اب کیا یار کتنا انتظار کرواؤ گے، بھابھی کے بنائے کھانوں کے ٹیسٹ کا بتا بتا کر اب اور کتنا ویٹ کرنا پڑے گا کھانے کا مجھے تو سوچ سوچ کر ہی سخت بھوک لگی ہے،، ارحم نے کہا۔
تابش مسکرایا۔
مگر ادھر آج اس کا دل کر رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ اتنے اچھے، اور خوش مزاج لوگوں سے یہ سلوک، سلمیٰ بیگم نے اس کی ایسی تربیت تو نہیں کی تھی کہ وہ یوں گھر آئے مہمانوں کی بےعزتی کرتی۔
مونا جاؤ کھانا لگاؤ،، تابش نے مسکراتے کہا تو اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤