No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مونا اٹھنے کی بجائے بس بیٹھی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ تبھی تابش نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا تھا۔ آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا۔ مومنہ کی جان حلق میں اٹکی۔
قریب آ کر اس کے کندھے کے گرد بازو حمائل کیا تھا اور ارحم سے مخاطب ہوا “کتنی بری بات ہے ارحم، میری اتنی کیوٹ سی بیگم کو پریشان کر رہے ہو، جب رستے میں سے میں نے کھانا پیک کروا لیا تھا تو جان بوجھ کر کیوں تنگ کر رہے ہو، بتایا تو تھا رات اس کی کتنی طبیعت خراب تھی، اور یہ تو سچ ہے کہ مونا کہ ہاتھ میں بہت ہی زیادہ ٹیسٹ ہے، مگر اس کے ہاتھ کا پھر کبھی سہی، چلو مونا کھانا لگاتے ہیں،،
مونا دم بخود سی اسے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے دیکھے گئی۔
آخر وہی کچن کی جانب آگے بڑھا اور اسے تھام کر کچن میں لے گیا۔
ڈائننگ ہال کے ٹیبل پر پیکڈ فوڈ پڑا تھا۔ اس نے تازہ بنا کھانا ان ریپ کیا۔
مومنہ کو خود پر وقتاً فوقتاً اٹھتی ایک بہت گہری نگاہ پریشان کر رہی تھی۔ تبھی اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ وہ اس کی مدد کم کر رہا تھا اسے اپنی ان عجیب سی بدلی بدلی نگاہوں سے پریشان زیادہ کر رہا تھا۔اس کے تو جیسے رنگ ڈھنگ تمام انداز بدل چکے تھے۔ سادہ سے حلیے میں وہ کاٹن کا سادہ سا میرون سوٹ پہنے میرون دوپٹہ لیے اس کے دل کے بہت قریب تھی۔
تبھی بےدھیانی میں مومی نے اوون سے بے حد گرم پلیٹ اٹھا لی تھی۔
ایہہہہہہہہہہہہ،، ہلکی سے چیخ منہ سے نکلی۔ مگر اس نے پلیٹ نہیں چھوڑی تھی۔ وہ کیبن پر رکھ کر ہی بری طرح ہاتھ جھٹکا تھا۔تابش تڑپ کر اس کی جانب بڑھا تھا۔
یہ،، کیا مونا،،
How could you do this to yourself?
بھاڑ میں جاتی پلیٹ، تم اسے تو چھوڑ دو،،، تابش نے اس کا ہاتھ تھام کر ٹھنڈے پانی کے نیچے کیا۔ بے اختیار ہی تابش کا بازو اس کی کمر کے گرد لپٹا تھا۔ ہاتھ کے درد سے زیادہ تو مومی کو اس عجیب سے پرحدت جسم پگھلاتے تپش بھرے لمس نے بہت عجیب سی احساس سے دوچار کیا تھا۔
بے تحاشا جھنجھلا کر اس کی گرفت سے اپنا آپ چھڑایا تھا۔
مم ،میں ٹھیک ہوں، آ،،،آپ مجھ سے دور ہٹیں،، کہا تو تڑخ کر تھا مگر ناچاہتے ہوئے بھی اس شخص کے سامنے اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔
ادھر جانے کیوں اس کی گھنی مونچھوں کے نیچے عنابی لبوں کو گہری مگر مہربان سی مسکان نے چھوا تھا۔ یعنی اس کے لمس میں وہ اپنے لئے غیر معمولی محبت کی گرمی محسوس کر رہی تھی اور اس سے جھنجھلا بھی رہی تھی۔
ائم سوری، بٹ اب وہ تو بلکل بھی نہیں ہٹ سکتا،،
مومی کے شاید کان بجے تھے یا اس نے واقعی اس کی بڑبڑاہٹ میں یہی بات سنی تھی۔ مگر اب تابش نے اسے بس چئیر پر بٹھا دیا تھا اور خود کھانا لگایا۔
ارحم اور عائشہ کو بھی بلا کر لایا تھا۔ وہ اس کے پہلو میں بیٹھا کھانا کھاتے قہقہے لگا لگا کر یوں تینوں سے باتیں کر رہا تھا جیسے ہمیشہ سے ایسا ہی تو ہے۔۔
ہاں مومی کو یاد آیا برسوں پہلے وہ ایسا ہی تو تھا۔ ہنس مکھ اور خوش گفتار۔
پھر سیرت آپی۔
ان کا ایک دم غائب ہوجانا۔ سلمیٰ بیگم کا اس سے سائن لینا وہ ایک خاص دن اور تابش کا ایک مونسٹر بن جانا۔ پھر سائے کی طرح اس کی حفاظت کرنا یا اس کا خود ہی سایہ بن جانا۔
کڑیوں سے کڑیاں ملتی چلیں گئیں۔
اور اسے سب یاد آتا چلا گیا۔
اس دن کی تو وہ اتنی ٹینس تھی سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی تھی۔ آج تک زہن میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب آج خود ہی ملتا چلا گیا اس کی ہنسی دیکھ کر۔ ماسوائے ان کے کہ
وہ کیوں اس کو لے کر اتنا پاگل ہو گیا تھا؟ کہ چاہتا تھا مومنہ سانس بھی اس کی دسترس میں لے۔
کیوں اتنا جنون تھا اسے کہ وہ چار دیواری میں بلکل محفوظ رہے۔
یا یہ چاہتا تھا کہ چاہے نفرت ہی سہی مومنہ ہر وقت ہر پل اس کے بارے میں سوچے۔
اور واقعی اس نے ساری زندگی کیا ہی کیا تھا سوائے ملک تابش سراج کو سوچنے اور اس سے نفرت کرنے میں۔
کیوں وہ اتنا پاگل اور جنونی ہوا تھا اس کو لے کر یا پوزیسو؟
تو کیا یہ مجھ سے محبت،،، ؟
مومی کو محسوس نا ہوا وہ بلکل غیر ارادی طور پر گہری سوچ میں کھوئی سی اپنے دائیں جانب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
جب عائشہ نے اس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی۔
کیا میڈم،، اپنے ہینڈسم ترین ہبی کو بعد میں نہار لینا ابھی فی الحال ڈھنگ سے کھانا کھا لو،،وہ بول کر قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔ تاشو چونکا تھا اور اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھا جو اب بلکل اپنی پلیٹ پر جھک چکی تھی۔
تبھی مومی کی دوست عنایہ اندر آتی دکھائی دی تو مومی بے حد خوش ہوگئی۔اسی نے تو عنایہ کو فون کر کے بلایا تھا اپنی بوریت دور کرنے کے لئے ۔
تابش نے اس بھی کھانے کی پیشکش کی تھی اور تابش بھائی کی اس کایہ پلٹ پر عنایہ کو مرگی کا دورہ پڑتے پڑتے رہ گیا تھا وہ اسے بلکل چھوٹی بہن (سالی)کی طرح ٹریٹ کرتے کھانا سرو کر رہا تھا۔
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ کھانے کے بعد ارحم نے اجازت طلب کی۔ مومی نے عائشہ سے ملتے گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا کہ وہ زندگی سے بھرپور ہنس مکھ لڑکی اسے سچ میں بہت اچھی لگی تھی۔ تابش مہمانوں کو باہر تک چھوڑنے گیا تو وہ عنایہ کو لے کر روم میں آ گئی۔ جو بہت ہی زیادہ خوش دکھائی دے رہی تھی۔
روم میں آتے ہی مومی نے اس کے دانت چمکانے کی وجہ پوچھی تھی۔
مومنہ میں کیا بتاؤں میں کس قدر خوش ہوں، وہ مجھ سے کتنی محبت کرتا ہے، جان چھڑکتا ہے مجھ پر، اس کے لفظون میں جادو ہے جادو،، وہ کھوئی کھوئی سی بولی تو مومی چونک گئی۔
کون عنایہ کس کی بات کر رہی ہو کہیں اس سوشل میڈیا والے سلمان کی تو بات نہیں کر رہی عنایہ بتاؤ مجھے،، مومی نے اس کے کندھے جھنجھوڑے تھے۔ اور مومی کے کڑے تیوروں پر وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر صاف مکر گئی تھی۔
کچھ عرصے پہلے ہی کالج میں اس نے مومی کو بتایا تھا کہ اس کی سوشل میڈیا پر ایسے ہی چھیڑ خانی کرتے ہنسی مزاق میں کسی سلمان نامی لڑکے سے دوستی ہوئی ہے اور بات فون نمبرز لینے دینے تک جا پہنچی۔ مومی نے اسے ہر طرح سے سمجھایا تھا۔ مگر اب بات کہاں تک جا پہنچی تھی یہ تو مومی بھی نہیں جانتی تھی۔
عنایہ اپنے سول انجینئر بابا کی اکلوتی اولاد تھی اور اسے ہر طرح کی آزادی حاصل تھی۔ جہاں مرضی آئے جائے جو مرضی کرے۔ چار سال پہلے سے ہی میٹرک میں ہی اس نے آئی فون رکھنا شروع کر دیا تھا۔
نا،، نہیں مومی ،،اس سے نہیں میں تو اپنے فیانسی کی بات کر رہی ہوں، اور یہ بتاؤ یہ تابش بھائی کی کایا کس طرح پلٹ گئی،، عنایہ اس کی توجہ تابش کی جانب پھیر کر صاف بچ نکلی تھی۔
یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم،، وہ غائب دماغی سے بولی۔ مگر یو نو واٹ میرا نکاح ملک تابش سراج سے کافی سال پہلے ہو گیا تھا،، مومی نے اس پر انکشاف کیا۔
واٹ سچ میں،، عنایہ کو غشی پڑنے والے ہو گئی مومی اسے سب بتاتی چلی گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
عرفہ کچن میں گھسی ہوئی تھی اور بلکل بے اختیار ہی اس سڑے بینگن کے پسند کا کھانا بنا رہی تھی۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ روم میں اکیلی تھی۔ سیام آفس کے لئے جا چکا تھا وہ بری طرح جھنجھلائی تھی۔ اب وہ بغیر ناشتہ کیے، بغیر وہ شرٹ آئرن کروائے (جس کا شوشا رات چھوڑ کر وہ اسے لایا تھا) جا چکا تھا۔ تو بھی عرفہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا اس کا یوں چلے جانا۔
تبھی اب وہ مکمل توجہ سے کھانا بنا رہی تھی جب اپنے پیچھے آہٹ کا احساس ہوا۔
السلام عليكم،، سیام سلام کرتے ادھر ہی چلا آیا۔
وعلیکم السلام، آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟ ناشتہ کیے بغیر کیوں گئے آفس،؟ عرفہ نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا۔
تاکہ تمھیں یہ نا لگے کہ میں کسی بھی قسم کا صرف مطلب پورا کرنا چاہتا ہوں تم سے، یا کوئی مطلب پورا کرنے کو لایا ہوں ادھر،، سیام نے اسے بغور دیکھتے کہا لہجہ سادہ تھا نا کوئی طنز نا شکوہ مگر عرفہ کو ضرور یہ بات چبھی تھی۔
اب بس بھی کریں آپ تو اس بات کو لے کر ہی بیٹھ گئے اور اسی لفظ کی رٹ لگا دی ہے اب میرا کہنے کا یہ مطلب بھی نہیں تھا،،
عرفہ کو تپ چڑھی تھی تبھی بول پڑی۔ رخ موڑ کر ہانڈی میں چمچ پٹخ کر مارا تھا۔ پاگل تھی جو کب سے لگی ہوئی تھی اور وہ آتے ساتھ ہی پھر کڑوی باتیں لے کر بیٹھ گیا تھا۔
مگر وہ دھیمے قدموں سے چلتا قریب چلا آیا۔ سلیب پر عرفہ کے دونوں جانب ہاتھ رکھے اس کے کندھے پر اپنی چن رکھی تھی۔
تو کیا مطلب تھا تمھاری اس بے مطلب کی بات کا،، وہ اسی لفظ کی گردان کر کر کے صاف اسے چڑا رہا تھا۔
سیام میں گرم چمچ لگا کر آپ کا ہاتھ جلا دوں گی، پیچھے ہٹیں،، حسبِ عادت وہ بری طرح چڑ گئی تھی۔ سیام قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ اب تک اسے تپانے کا ہی تو مزا آتا رہا تھا اسے۔
اتنا مت بھڑکو، پتا ہے نا زرا سا جلتی ہو تو یہ بڑا پمپل نکل آتا ہے تمھارے منہ پر،،
خبردار سیام اب پمپل کا بول کر مجھے چڑایا میں سچ میں گرم چمچہ لگا دوں گی،، وہ تڑخ کر اس کی جانب مڑی تھی۔
“اس سیام کی کیا تعریف کروں سیام کے دل میں تو
اب تمھاری کیا تعریف کروں تیرا پمپل والا منہ،،
سیام شوشا چھوڑ کر کمرے میں بھاگا تھا۔ وہ گرم چمچے سے اس کا پہلو سینکنے کی نیت سے دانت پیستی اس کے پیچھے لپکی تھی۔ وہ قہقہے لگاتا اپنے کمرے میں بند ہوا تھا۔ عرفہ نے جھٹکے سے دروازہ کھولا تھا۔
وہ واش روم میں بند ہو کر ڈور لاک کر چکا تھا ۔ مگر قہقہوں کی آوازیں ہنوز آتی رہیں۔آخر اسے واپس کچن میں ہی آنا پڑا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج ایک ہفتہ ہو چلا تھا۔ مومی کو دنیا کا ہر وہ کام کرتے جس سے ملک تابش سراج کو چڑ تھی۔ مگر اب وہ جانے کس مٹی کا بن گیا تھا جس پر کسی چیز کا اثر ہی نہیں ہوتا تھا۔ بڑی نرمی سے اسے سمجھا دیتا کہ مونا اس میں تمھارا ہی نقصان ہے۔
وہ اب بری طرح بیزار ہو چکی تھی۔ جھنجھلا رہی تھی۔ اب ملک تابش سراج کو پریشان کرنے میں مزا نہیں آ رہا تھا الٹا وہ خود الجھتی چلی جا رہی تھی۔
رات کے آٹھ بجے تھے کچھ دیر پہلے ہی عنایہ کے گھر سے فون آیا تھا۔ وہ پوچھ رہے تھے کہ عنایہ کہیں اس کے پاس تو نہیں۔
مومنہ بے چینی سے اپنے روم میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔ اسے پریشانی یہ لاحق تھی کہ عنایہ جا کہاں سکتی ہے۔ تبھی دوبارہ اس کے پاپا کا فون تھا اور اگلی نیوز، پر اس کے سر پر آسمان گرا تھا۔ وہ یہ کہ عنایہ کا بہت برا ایکسڈینٹ ہوا تھا۔
اسے ہاسپٹل جانا تھا کسی بھی صورت۔
ڈرائیور کے ساتھ خود ہی چلی جاتی ہوں یا کیب کرواؤں۔
وہ چادر اور اپنا پرس موبائل لے کر باہر نکلی۔ قدم باہر کی جانب بڑھائے۔ ابھی وہ لاؤنج میں پہنچی تھی جب سامنے سے وہ آفس سے آج لیٹ آتا دکھائی دیا۔ اور مونا کو کہیں جاتے دیکھ چونک گیا تھا۔
وہ خاموشی سے گزر جانا چاہتی تھی۔ مگر تاشو نے پکار لیا۔
خیریت کدھر،،؟
عنایہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، مجھے ہاسپٹل جانا ہے،، ادھر ہی جا رہی ہوں،، اس نے بے تاثر لہجے میں کہا۔ جانے کیوں مگر شرافت سے بتا دیا کہ وہ کدھر جا رہی ہے۔
چلو، میں لے کر چلتا ہوں،، اس نے سنجیدگی سے کہا تو مومی خاموش ہو گئی۔ وہ انہی قدموں پھر واپس مڑا۔ باہر آ کر تابش نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ وہ جلدی سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ۔ وہ گاڑی لے کر نکلے۔ تمام راستے وہ اس کا بے چینی سے پہلو بدلنا اور انگلیاں چٹخانا نوٹ کرتا رہا تھا۔
ہاسپٹل پہنچے تو ایمرجنسی کے باہر عنایہ کا فادر اور مدر پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ ایکسڈینٹ تو معمولی سا تھا مگر جانے کیا قیامت آئی تھی کہ وہ یوں رو رو کر بے حال تھے۔
ڈاکٹر باہر آئی تھیں۔ “وہ اپنی دوست مومنہ سے ملنا چاہتی ہے بول رہی ہے اسے ہی سب بتائے گی،، ڈاکٹر بول کر جا چکی تھی۔ عنایہ کی مدر نے مومنہ کو دیکھا۔
بیٹا جاؤ پوچھو اسے سے کہ ہوا کیا جو وہ یوں برباد ہو کر مرنے کو تیار ہو گئی، جانتی ہو اس نے خود کشی کرنے کی کوشش کی، ہمیں کچھ نہیں بتا رہی ہے، جاؤ پوچھو کیا ہوا اس کے ساتھ،،
یہ بول کر وہ پھر رومال میں منہ دے کر رونے لگی۔
مومی اندر آئی تو وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی۔ آہٹ پر آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تو اٹھ کر بیٹھ گئی۔ مومنہ بھاگ کر اس کے پاس آئی۔ عنایہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“مومی میں نے خود کو خود ہی برباد کر لیا، دیکھو میری بےجا آزادی کا نتیجہ، ساری ساری رات جاگنے کا نتیجہ، کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا کہ میں آخر ساری ساری رات جاگ کر کر کیا رہی ہوں،،، وہ روئے گئی۔ اور اپنے دل کی ہر بات بتاتی چلی گئی۔ اپنی بربادی کی داستان شروع سے سناتی چلی گئی۔
اس نے تصویر مانگی میں نے دے دی،، اس نے نمبر مانگا میں نے دے دیا، اس نے ویڈیو کال کا کہا میں نے کر لی، اس نے دوپٹہ ہٹانے کا کہا میں نے ہٹا دیا،، اس نے کچھ دیکھنے کی خواہش کی میں نے پوری کر دی،، اس نے ملنے کا کہا میں ماں باپ کو دھوکا دے کر سلمان سے ملنے پہنچ گئیں،، اس نے میری تعریف کرتے ہوئے مجھے سرسبز باغ دکھائے میں نے دیکھ لیے،، پھر جوس کارنر پر جوس پیتے وقت سلمان نے ہاتھ لگایا، اشارے کئے، مگر کوئی بات نہیں یہ موڈرن ازم کا زمانہ ہے، جدید دور ہے، پھر سلمان نے ہوٹل میں کمرہ لینے کی بات کی، میں نے منع کر دیا،، اس نے میری وہی تصاویر اور وڈیو کال کی بنائی گئی وڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر لگانے کی دھمکی دی،، بلکہ ایک سیم گروپ میں آدھے فیس پر ایموجی لگا کر لگا بھی دی،، میں بہت مجبور تھی،، وہ سب دیکھ کر ڈر گئی اور ملنے کی حامی بھر لی،، تو اس نے وہ سب ڈلیٹ کر دی،،
یہ بول کر وہ سانس لینے کو رکی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مومنہ غیریقینی سے اسے دیکھے گئی۔
میں اس سے ملنے چلی گئی،، اس نے مجھے انڈرسٹینڈنگ کے نام پر بہلایا،، بس بچہ پیدا نہ ہو اس پر دھیان دیا،، پھر ایک دن جھگڑا ہوا اور سب ختم کیونکہ حرام رشتوں کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے،، مگر اب وہ مجھے دوبارہ ہوٹل میں ملنے کے لئے فورس کر رہا ہے،، اور وہ بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مومنہ، اور وہی دھمکی کہ اگر میں نے اس کی بات نہیں مانی تو وہ ہر جگہ ہر سائٹ پہ پکس اور ویڈیو اپلوڈ کر دے گا،، مومی میں کیا کروں،، اپنی بربادی کی خود زمہ دار ہوں، میرے پیرینٹس سے اچھے تو وہ تابش بھائی ہیں جنھیں نے تمھیں اتنا سنبھال سنبھال کر اپنی حفاظت میں رکھا،، تمھیں زمانے کے سرد وگرم سے بچایا اور ان خرافات میں پڑنے ہی نہیں دیا،،
لیکن تم جانتی ہو میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا،، کہ میرے ماں باپ نے مجھے پرائیویسی دینے کے چکر میں میری جانب سے بلکل اپنی آنکھیں بند کر لیں، ،،اگر وہ بھی تابش بھائی کی طرح ہر وقت مجھ پر میرے ہر عمل پر نگاہ رکھتے تو میں آج یوں برباد نا ہوتی، میں نے بھی ان کے اعتبار کا بہت غلط فائدہ اٹھایا اور آخر ماں باپ کو دھوکہ دینے کے گناہ کی پاداش میں خود کو برباد کر لیا،،
آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے۔ مومنہ اسے بےچارگی سے دیکھے گئی۔
اور جانتی ہو مومی المیہ تو یہ ہے کہ یہاں سراسر مرد غلط نہیں ہے، وہ بھیڑیا نہیں ہے، وہ مجرم نہیں ہے، کیونکہ میں نے تو تصویر نہیں دی تھی وہ زبردستی میرے موبائل میں گھس کر تصویر لے گیا تھا،، میں نے تو اپنا نمبر نہیں دیا وہ لڑکا خود میرے موبائل سے نمبر لے گیا تھا،، میں نے تو ویڈیو کال نہیں کی وہ لڑکا خود میرے گھر پہنچ گیا تھا میری ویڈیو لینے کے لئے،، جوس کارنر پر بھی وہ مجھے زبردستی لے گیا تھا گن پوائنٹ پر،، ہوٹل کے کمرے تک بھی وہ مجھے زبردستی میرے گھر سے لے گیا تھا،، تو مجرم کون ہے وہ کہ میں بھی،، بچی تو نہیں تھی میں چار سال کی؟ بی ایس سی گریجویٹ ہوں جو مجھے سمجھ نہیں آئی،،
یہ سوشل میڈیا پر آئے دن زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز ہمیں کچھ نہیں بتاتے؟کیا مجھے نہیں پتا تھا کہ ایک ہوٹل کے کمرے میں عزت و توقیر اور نسوانیت کو گِدھوں کی طرح نوچا جاتا ہے، برہنہ ہو کر شرم کے چیتھڑے اڑائے جاتے ہیں،، سب پتا تھا مجھے، سب پتا ہے ہم سب کو،،، ہوٹل کے کمرے میں محبت کے افسانے نہیں لکھے جاتے، وہاں دینی تعلیمات نہیں سیکھی جاتی، وہاں کوئی عبادات کی درس گاہیں نہیں ہیں،، پھر شکوہ کے لڑکے نے ریپ کر دیا،، لڑکی اس لڑکے کے پاس گئی ہی کیوں؟ کیا لگتا ہے وہ آپ کا جو وہ آپ کی عزت کا خیال رکھے جو خود آپ کو اسی مقصد کیلئے لے کر جا رہا ہے،،،
پلیز عنایہ ،،، خاموش ہو جاؤ،، نہیں تو میرا دل پھٹ جائے گا،، یہ کیا بولے جا رہی ہو تم،، پلیز خاموش ہو جاؤ،، رونا بند کرو عنایہ،، پلیز،،
مومی نے بھی روتے اس کے آنسو صاف کرنے کی کوشش کی۔
سنو مومنہ جا کر بول دو میرے والدین کو میں اپنی غلطی تسلیم کرتی ہوں تبھی خود سے جینے کا حق چھین رہی ہوں یہ سوشل میڈیا پر یہ ماڈرن مجرے، آزاد خیالی، انڈرسٹینڈنگ، فیشن، میرا جسم میری مرضی اس سب نے مل کر مجھے برباد کر دیا ،، کاش میں تمھاری طرح اپنی حدود میں رہتی تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچتا،، اگر میں خود ہی یہ سب نہیں کرتی تو ،، اس میں خود ہی شامل نہیں ہوتی تو یہ سب نا ہوتا،، میرے والدین پولیس بلا رہے ہیں مگر میں اسے sexual harassment نہیں کہہ سکتی،، اسے understanding کہہ سکتی ہوں،اسے time pass بول سکتی ہوں،، جو اج تک کرتی آئی اسے modernism بول سکتی ہوں،، یا کہ fashion
مگر مگر یہ rape نہیں ہے،،،
وہ بول کر خود اذیتی کی انتہا پر پہنچی تڑپ تڑپ کر رو دی۔ مومی نے اسے خود میں سمیٹا۔ اس کی زہنی حالت بھی ابتر ہو چکی تھی۔ وہ جو مومی کو بتا چکی تھی وہ تقریبا سب نے ہی سنا تھا۔پولیس نے بھی۔ عنایہ کے والدین گزرے وقت اور اپنی لاپروائی پر کف افسوس مل رہے تھے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔
عنایہ کو انجیکشن دیا گیا۔ وہ دواؤں کے زیر اثر گہری نیند میں سو گئی۔ پولیس بیان لے کر جا چکی تھی۔
مومی بھی تابش کے ہمراہ واپسی کے لئے نکلی۔واپس آتے وہ بہت ہی زیادہ گہری سوچ میں تھی۔ اندر تک سناٹا سا چھایا تھا۔ وہ کتنے اطمینان سے کتنے سکون سے بیٹھی تھی۔ آج کے واقع نے اس کے دل ودماغ پر ایک گہرا اثر چھوڑا تھا۔
پاس سیٹ پر بیٹھا شخص اس کا بہت بڑا محافظ تھا۔ اسے بھلا کس چیز کی پرواہ ہو سکتی تھی۔
تابش نے نوٹ کیا۔ ایک سفید کلر کی کرولا بڑی دیر سے ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ تابش کی بے چینی وہ نوٹ کر چکی تھی۔
کیا ہوا،، مومی نے پوچھ ہی لیا۔
ایک گاڑی ہمارا پیچھا کر رہی ہے،، تابش نے سنجیدگی سے کہا۔
اب،، کک،، کیا ہوگا تاشو،،، اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑیں۔
جب تک میں ہوں، میں زندہ ہوں، تم پر آنچ بھی نہیں آ سکتی،، اسی لئے ریلیکس ہو کر بیٹھی رہو مونا،، اس نے اطمینان سے کہا۔
اور بڑے ماہرانہ انداز میں ان کا تعاقب کرنے والے کو ڈاج دے کر سراج مینشن سہی سلامت پہنچا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
