Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

زندگی،،،،،،، جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

سراج مینشن میں حسبِ معمول سناٹا چھایا ہوا تھا۔ مومی اور عرفہ کو فیضان اب گاڑی میں اسکول چھوڑ کر آتے تھے۔ تین ماہ ہو چکے تھے سراج مینشن کی خوشیوں اور شرارتوں کو جیسے کسی کی نظرِ بد لگ چکی تھی۔ اور تین ماہ ہی ہو چکے تھے ان دونوں پر زندگی بے تحاشا تنگ کر دی گئی تھی۔ اب تو سراج مینشن میں گھٹ گھٹ کر جیتے سانس بھی سوچ سمجھ کر لینا پڑتا تھا کہ کہیں سانس کی آواز بھی کسی کو سنائی دی اور لو جی پڑ گئی ڈانٹ پھٹکار۔

وہ سکول پہنچی تھیں ۔ عرفہ اپنی کلاس میں چلی گئی۔ مومی بے تحاشا خوش تھی۔ کیونکہ اس کی بیسٹ فرینڈ دیبا کا برتھ ڈے تھا۔ وہ اسے وش کر چکی تھی اور گفٹ بھی دے چکی تھی۔
دیبا بے تحاشا امیر ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی اور آج اس کے گھر میں برتھ ڈے پارٹی تھی۔ اس کے پاپا دیبا کو ہاف ٹائم میں لینے آئے تھے۔ کسی پرسنل وجہ سے پارٹی جلدی ہی آرگنائز کی گئی تھی۔
دیبا مومی کو بھی ساتھ چلنے کے لئے بے حد ضد کرنے لگی۔۔ مومنہ تذبذب کا شکار تھی۔ اور پھر اس نے تاشو کی ڈانٹ کی وجہ سے انکار کر دیا۔ مگر دیبا اپنے پاپا کے سامنے ضد کرنے لگی تو پرنسپل نے سلمیٰ بیگم کو میسج کیا۔
مومنہ بیٹا میں نے آپ کی مدر کو میسج کر دیا ہے۔اب آپ چلی جائیں، دیبا بول جو رہی ہے کہ وہ چھٹی ہونے سے پہلے آپ کو چھوڑ جائے گی،، یوں بھی آج کلر ڈے ہے تو پڑھائی کا بھی اتنا حرج نہیں ہونا،، پرنسپل نے کہا تو ناچار مومی کو دیبا کے ساتھ آنا ہی پڑا۔
مومنہ گاڑی میں بیٹھی رنگ برنگے منہ بنا رہی تھی۔
کیا دیبا اب کیا میں سکول یونیفارم میں پارٹی اٹینڈ کروں گی،، مومی نے اسے جھڑکا تو دیبا کے پاپا مسکرائے۔
بیٹا آپ دیبا کا ہی کوئی ڈریس پہن لینا،، پریشان نا ہوں۔
گھر قریب تھا تو جلد ہی پہنچ گئے۔ دیبا نے اسے اپنا ایک ڈریس دیا جو کہ فیروزی کلر کی باربی فراک تھی۔

پارٹی بہت شاندار تھی۔ مومی نے بہت انجوائے کیا۔ اور اب پارٹی کے اختتام پر مومی نے اس کی جان کھا رکھی تھی کہ اسے سکول چھوڑ کر آئے کیونکہ چھٹی کا ٹائم ہو چکا تھا۔۔
ناچار دیبا نے اس کا احساس کیا اور اپنی پارٹی چھوڑ کر اسے سکول تک چھوڑنے آئی تھی مومی نے یونیفارم بھی نہیں پہنا تھا اور یونہی اسی ڈریس میں چلی آئی۔
مگر یہ مومی کی بدقسمتی تھی کہ آج انھیں لینے ملک تابش سراج آیا تھا۔ مومی کو اس ڈریس میں ایک گاڑی سے اترتے دیکھ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ جسے دیکھ مومی بری طرح ڈر گئی تھی۔عرفہ بھی باہر آئی تھی اور اسے ایسے دیکھ دنگ رہ گئی۔
تابش نپے تلے قدم اٹھاتا مومی تک آیا تھا۔
کدھر گئیں تھیں مومنہ،؟ ایک ان دیکھی جھلساتی آگ اور آنچ سی تھی اس کے پھنکارتے لہجے میں۔
مومی کی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔
دیبا ہی آگے آئی۔
یہ میرے ساتھ میری برتھ ڈے پارٹی میں گئی تھی تاشو بھائی، پرنسپل اور آنٹی سلمیٰ کی اجازت سے،،

مومنہ گاڑی میں بیٹھو جا کر،، وہ لہو چھلکاتے چہرے سے بولا تھا۔
وہ مم،، میرا بیگ اندر،،
شٹ اپ مومنہ،، سنا نہیں میں نے کیا کہا تمھیں،، وہ دھاڑا تو کافی لڑکیاں ان کی جانب متوجہ ہوئیں۔ مومنہ لوگوں کے مخالف گروپ کی لڑکیوں نے حقارت آمیز نگاہوں سے اسے دیکھا جس سے مومی کو بے حد انسلٹ فیل ہوئی تھی۔ وہ بھاگ کر جا کر گاڑی میں بیٹھی تھی۔
تابش پرنسپل کے آفس گیا تھا۔ اور پرنسپل کی شامت ہی آئی تھی۔

آپ کی ہمت کیسے ہوئی بغیر پرمیشن کے ہمارے گھر کی بچی ک کسی کے ساتھ بھیجنے کی ، امیر ہونے کا کیا مطلب ہے کہ شرافت کا سرٹیفکیٹ مل گیا ان کو، اگر مومنہ کو زرا بھر بھی نقصان پہنچتا تو کیا آپ زمہ دار تھیں اس چیز کی،، اس کا سنجیدہ لہجہ کاٹ دار تھا۔
میں نے سلمیٰ بیگم کو کیا تھا میسج،، پرنسپل گڑبڑا اٹھیں تھیں کیونکہ ان کے پاس تابش کے سوالوں کا جواب نہیں تھا۔
ان کا رپلائے میں آیا میسج دکھائیں مجھے جس میں پھپھو نے یس بول کر پرمیشن دی ہو آپ کو،،
اب پھر تابش کے سوال کا جواب نہیں تھا پرنسپل کے پاس،
آئی سوری مسٹر تابش، اٹس مائی فالٹ، آئندہ یہ مسٹیک دوبارہ نہیں ہو گی،، پرنسپل کو سوری بول کر ہی جان چھڑانے پڑی تھی۔
اٹس اوکے،، وہ بول کر باہر آیا۔ پیون نے اسے مومی کا بیگ لا کر دیا۔
اس کے باجود اس کا پورا وجود جھلس رہا تھا۔
آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر دھاڑ سے ڈور لگایا تھا۔
مومی سہمی سی اچھل کر گاڑی کے ڈور سے لگی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ سر جھکائے مجرموں کی طرح لاؤنج میں کھڑی تھی سب موجود تھے۔اور اس سے کچھ بھی سنے بغیر اس کی دھواں دھار انسلٹ ہو رہی تھی۔
ملک تابش سراج خوب گرج برس رہا تھا اس پر۔
اور وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔
میں نے تو انکار کیا تھا مما،، پرنسپل میم نے زبردستی بھیج دیا مجھے ،، وہ سلمیٰ بیگم کی جانب دیکھتی بولی۔ سلمیٰ نے جانتے بوجھتے نگاہیں چرا لیں۔
یو شٹ مومنہ چھوٹی بچی ہو کیا تم نے سختی سے انکار کر دینا تھا اور اپنی فرینڈ کو کیوں نہیں منع کیا،
تو کیا ہوا تاشو اگر میں چلی گئی تو پرمیشن سے ہی گئی،،،،،
چٹاخ،،،،
تابش کا ہاتھ اٹھا تھا اور مومی کو پہلی مرتبہ کسی سے زناٹے دار تھپڑ رسید ہوا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے گال پر ہاتھ رکھے تابش کو دیکھ رہی تھی کہ اس سے آخر ایسا کونسا جرم سرزد ہو گیا تھا۔
خبردار، خبردار آئندہ تم کبھی بھی کسی کے بھی گھر نہیں جاؤ گی مومنہ، یہ میں پہلی اور آخری دفعہ بول رہا ہوں آئندہ منہ سے نہیں بولوں گا وہیں زمین میں زندہ گاڑھ دوں گا تمھیں،، اگر میری بات کی خلاف ورزی کی سمجھیں، اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لو یہ بات،، کبھی باہر قدم نہیں نکالو گی تم اور عرفہ ، نا سکول سے نا گھر سے، سمجھ لو اچھی طرح،، تمھاری عافیت اسی میں ہی ہے کہ تم اپنے روم تک محدود رہو، اور یہ بات تم جتنی جلدی سمجھو گی، تمھارے لئے اتنا زیادہ بہتر ہے،،

وہ کہتا وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔
مومی کا صدمہ سے برا حال تھا وہ تو اس قدر سلجھی ہوئی اور سوبر بچی تھی کہ اس نے کہاں کھائی تھی مار کسی سے۔ اور پھر وہ بے تحاشا روئی تھی۔ اتنا روئی کے رات تک ایک سو دو بخار ہو چکا تھا اسے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

عرفہ صدیقہ بیگم کے کہنے پر ڈروتی جھجھکتی بریانی کا ڈونگا ہاتھ میں تھامے دوسرے پورشن میں آئی تھی۔ اتنے ماہ گزر چکے تھے۔ مگر سیام کا غصہ شاید اب بھی کم نہیں ہوا تھا۔ تبھی وہ اس کے اس پورشن میں آیا ہی نہیں۔ عرفہ بھی تب ہی آتی تھی جب اس بات کا پکا یقین ہو کہ وہ سڑا بینگن گھر پر نہیں ہے۔ تبھی وہ ادھر آئی تھی۔ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

وہ ڈونگا کچن کی سلیب پر رکھتی باہر آ رہی تھی جب کسی چٹان سے ٹکرائی۔ سیام کے ماتھے پر ان گنت بل پڑے تھے۔ وہ جو بہن کی وجہ سے شرمندہ تھا اندر ہی اندر گھٹ رہا تھا۔ سارا غم و غصہ جیسے اس معصوم جان پر نکال دینا چاہتا تھا۔
کیا کر رہی ہو یہاں تم، کیا لینے آئی ہو، ؟ سوال کافی چبھتے سے لہجے میں پوچھا گیا۔ عرفہ خواہ مخواہ شرمندہ ہوئی۔ اور دامن بچا کر اس کے پہلو سے ہو کر نکلنا چاہا۔
سامنے والے کو یہ بھی کہاں گوارا ہوا بھنا کر اس کی کلائی دبوچی تھی۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی بغیر میری بات کا جواب دئیے یہاں سے جانے کی، جواب دو کیوں آئی تھیں یہاں،،
امی نے بھیجا تھا بریانی دینے ،، وہی لے کر آئی تھی۔ وہ بری طرح مزاحمت کرتی نا چاہتے ہوئے بھی بھرائے ہوئے لہجے بولی۔
ٹھیک، تو آئندہ کے لئے کان کھول کر سن لو مس عرفہ، اس پورشن میں پیر بھی نا رکھنا نل، نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، سمجھیں تم،، سیام نے پھنکار کر کہتے جھٹکے سے اس کی کلائی چھوڑی تھی۔ اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا جا کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔
وہ روتی بلکتی اپنے پورشن میں آئی تھی۔ کبھی بھی دوسرے پورشن میں نا جانے کے لئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

سیرت اپنے کمرے میں بیٹھی ضروری نوٹس بنا رہی تھی۔ جب کچھ غیر معمولی محسوس ہوا۔ باہر ایک شورشرابا اور ہنگامہ سا تھا۔
وہ حیرت زدہ سی ہو کر باہر آئی تو باہر کچھ اجنبی لوگوں ک دیکھ حیران ہوئی۔ جنھوں نے باہر ہنگامہ مچا رکھا تھا۔ اور ان سب کے بیچ فرہاد کاظمی مجرموں کی طرح سر جھکائے۔

ابھی وہ حیران بھی سہی طرح نہیں ہو پائی تھی کہ ایک کرخت سے چہرے والی عورت اس کی جانب لپکی اور سیرت کے چہرے پر تھپڑوں کی برسات کی تھی۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی حرافہ، بازارو عورت میرے شوہر فرہاد پر ڈورے ڈالنے کی ، منہ مارنے کے لئے تمھیں کوئی اور نہیں ملا یا کوئی اور پیسے والا، پاکستان کے کس بازار سے لے کر آیا ہے یا گھٹیا دل پھینک آدمی تمھیں بتاؤ زرا مجھے، کتنے پیسے لئے ہیں اپنی عزت کا سودا کر کے، مجھے بتاؤ، میں تمھارے منہ پر ماروں وہ پیسے مگر میرے شوہر کی زندگی سے دفعہ ہو جاؤ، بازارو عورت،،

وہ جانے کون تھی اور کیا کیا مغلظات بک رہی تھی۔ مگر سیرت کی سانس تو میرا شوہر لفظ پر اٹکی تھی۔
یہ اسے فرہاد کاظمی کی جانب سے ملنے والا پہلا تحفہ تھا۔ وہ بے یقینی سے فرہاد کو دیکھ رہی تھی۔ جس کے ماتھے پر شکن تک نا آئی تھی اس کے چہرے پر تھپڑوں کی بوچھاڑ دیکھ کر بھی۔
محلہ میں شور غوغا اٹھا تو کسی نے پولیس بلا لی تھی۔
وہ سب فرہاد کے ماں، باپ، بیوی اور بچے تھے۔ جنھیں پولیس نے ٹال کر واپس بھیج دیا تھا۔
فرہاد کاظمی پولیس سے نمٹ کر سکتے میں گئی سیرت کی جانب بڑھا تھا۔ جب سیرت کو ہوش آیا اس نے جھٹکے سے خود کو کمرے میں بند کر کے دھاڑ سے دروازہ بند کیا تھا۔
دروازے سے لگ کر روتی وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔ اپنی بربادی کا ماتم منانے کے لئے۔

تم مجھے چھوڑ گئے تھے وہ تمھیں چھوڑ گیا
اس کو کہتے ہیں میری جان ،،مکافات کا دکھ

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اور پھر مومنہ اور عرفہ کا سب کچھ ان کے ہاتھوں سے چھوٹتا چلا گیا۔
عرفہ تھوڑی سمجھدار تھی۔ کسی طرح کمپرومائز کر ہی لیا۔
مگر مومی، وہ قیدِ تنہائی کا شکار ہو چکی تھی۔ اس قدر پابندیاں،
اس قدر گھٹن زدہ ماحول،
نا کھیلنے کودنے کی اجازت۔ نا اونچا بولنے کی نا قہقہے لگانے کی۔
بس سکول کالج سے آتے ہی اپنے کمروں میں قید ہو جاؤ۔
تمام دوستوں نے اس سے دوستی ختم کر لی۔

دوستی ہو بھی جاتی۔ وہ مومنہ کے گھر آتیں۔ مگر جب یہ جانے سے صاف انکار کر دیتی تو وہ پیچھے ہٹنے لگتیں۔ اسی طرح کسی نے بھی اس سے مستقل دوستی نا رکھی۔
فون رکھمے کی پرمیشن بھی نہیں دی گئی تھی انہیں۔
مومنہ کے لئے اب تاشو صرف ملک تابش سراج تھا۔
جس سے اب اسے نفرت اور گھن محسوس ہوتی تھی۔
جس سے اس نے بس نفرت کی تھی۔
نفرت کرنی تھی۔
آج بھی، کل بھی، پرسوں اور برسوں ۔
دن مہینوں اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

چار سال گزر گئے تھے۔ ملک تابش سراج نے ایم بی اے میں ٹاپ کیا تھا۔ اور اپنا بزنس سٹارٹ کر چکا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ اور زیادہ ہینڈسم بے تحاشا مردانہ وجاہت کا شہکار بن شکا تھا۔
سیام اب بی.کام کے لاسٹ ائیر میں تھا۔ اور پہلے سے بھی زیادہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔ عرفہ ایف ایس سی میں تھی۔ سنجیدگی اور خوبصورتی میں اضافہ ہوا تھا۔ وہ ایک گرلز کالج میں ہی پڑھتی تھی۔
اور مومی سائنس کے ساتھ میٹرک میں اے پلس کے ساتھ پاس ہو چکی تھی۔ وقت کے ساتھ وہ مزید باربی ڈول بن گئی تھی۔ شفاف معصوم اور بےاختیار حسن۔ ہاں بس یہ فرق پڑا تھا کہ سر پر موجود براؤن کرلی بالوں کی آبشار بلکہ میگی نوڈلز اب کمر سے نیچے تک جھولتے تھے۔
اس کے گریڈز اتنے بہترین تھے کہ ایک میڈیکل کالج نے خود اسے سکالر شپ پر ایڈمیشن دینے کی آفر کی تھی۔

آج کے دن وہ بہت خوش تھی۔ بہت زیادہ۔ اسے میڈیکل میں جانا تھا۔ اپنا خواب پورا کرنا تھا۔ اسے ہارٹ سرجن بننا تھا۔
سب ڈنر کر رہے تھے۔ مومی کے اتنے اچھے بنمر لانے پر آج سلمیٰ بیگم نے خاص اہتمام کیا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ آج خلافِ معمول چہک رہی تھی۔
مگر سامنے بیٹھے ایک شخص کا ایک ایک زخم ایک ایک بخیہ ادھیڑ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خون اترچکا تھا۔ایک تو زخم ادھڑ رہے تھے دوسرا اس کالج کے بلکل سامنے بوائز میڈیکل کالج تھا۔
مگر مومی اس سب سے بے نیاز تھی۔

آپ کو پتا ہے امی، وہ میڈیکل کالج شہر کا سب سے اچھا میڈیکل کالج ہے،، اور

مومنہ تم اس کالج میں نہیں جاؤ گی تم اسی کالج میں جاؤ گی جہاں عرفہ جاتی ہے،، ملک تابش سراج کی مصروف بھاری آواز ڈائننگ ہال میں گونجی تھی۔ مومنہ کے تلؤؤں پر لگی اور سر پر بجھی تھی۔ اس بندے کو جانے کیا چڑ تھی اس کی خوشیوں ؟ کیا بیر باندھ کر بیٹھا تھا وہ اس سے؟ کس جنم کے گناہوں کا بدلہ لے رہا تھا اس سے۔ مومی کی آواز بلند تھی آج۔
مگر،،
This is my last decision,,,
تابش نے اس کی بات کاٹتے حتمی لہجے میں کہا تھا۔
آپ ہوتے کون ہیں میری زندگی کے فیصلے لینے والے ابھی میری ماں زندہ ہے، امی آپ کریں گی یہ فیصلہ،،
آج مومی کے تیکھے لہجے میں اسے برسوں پرانی ایک بغاوت کی جھلک دکھی تھی۔ تبھی وہ جارحانہ تیور لیے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس تک آیا تھا۔
چٹاخ،،،،،
چٹاخ،،،،،،،،،،،،،،،،
ہو گیا فیصلہ، اب اس سے پہلے میں تمھاری ٹانگیں توڑ دوں مومنہ جاؤ اپنے کمرے میں،، وہ حکق کے بل چلایا تھا۔ مومنہ نے پھر گال پر ہاتھ رکھ کر ماں کی جانب دیکھا تھا۔ جو نم آنکھیں لیے پہلو بدل کر اس کی جانب سے رخ پھیر گئی۔

مومنہ اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی آ کر۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

رات گئے تک اس کی دلدوز ہچکیاں سراج مینشن میں گونجتی رہیں تھیں۔ جو کوئی بڑی توجہ سے سنتا رہا تھا۔
رات کا جانے کونسا پہر تھا۔جب ملگجے انھیرے میں ایک ہیولہ کلک سے ڈبلی کیٹ چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔ ہچکیوں سے نڈھال ہو کر وہ گہری نیند سو چکی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا مگر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر جلتے لیمپ کی مدھم ییلو روشنی آس پاس بکھر رہی تھی۔
تاشو آہستگی سے چلتا بیڈ کے قریب آیا تھا۔ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسے بغور دیکھے گیا۔
مونا،،،،، لبوں نے وا ہو کر ہلکے سے پکارا۔

اس وقت وہ صرف اور صرف تاشو تھا۔ مونا کا تاشو۔ اور وہ اس کی نوڈلز گرل مونا، اس کی مومی گڑیا۔
رو رو کر سوجی آنکھیں، سرخ چھوٹی سی ناک، گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح سرخ ہونٹ۔
وہ اس کے سرہانے بیٹھ گیا تھا۔

سیرت تو اس کی پسند تھی۔ جس پر اس نے اندھا اعتبار کیا تھا۔ مگر وہ واقعی اسے اندھا ثابت کر کے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
مگر مونا۔
مونا سے تو تاشو نے عشق کیا تھا۔ جانے کب کا، جانے کب سے۔ تبھی تو وہ عرصہ دراز سے رات کے اس پہر اس کے روم میں چلا آتا تھا۔ اسمِ محبت کا ورد کرتے۔ عشق عشق پکارتے۔
تابش نے اس کے چہرے سے کرلی بالوں کی چند شراتی لٹیں آہستگی سے پیچھے کیں۔

میری قسمت کے ہر اک پَنّے پہ
میرے جیتے جی بعد مرنے کے
میرے ہر کل ہر اک لمحے میں
تو لکھ دے میرا اسے
ہر کہانی میں، سارے قصوں میں
دل کی دنیا کے سچے رشتوں میں
زندگانی کے سارے حصوں میں
تو لکھ دے میرا اسے
اے خدا اے خداا۔۔۔!!
جب بنا اسکا ہی بنا

وہ اس کے معصوم چہرے پر نگاہیں جمائے دل میں اسی اونچی بہت اونچی مسند پر بٹھائے اس سے دل میں ہی مخاطب تھا۔
مونا آج خود سے نفرت کرنے کے لئے میں نے تمھیں ایک اور وجہ دے دی ہے ناں۔ مگر کیا کروں میرا مسئلہ تو یہی ہے کہ تمھیں خود سے دور جانے کی کوئی بھی وجہ نہیں دے سکتا۔ اپنے آخری سانس تک مونا کو تاشو کے ساتھ رہنا ہے ۔ اس کے پاس، اس کی دسترس میں بہت قریب۔
تاشو نے آہستگی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔

اس کا ہوں، اس میں ہوں
اس سے ہوں ،، اسی کا رہنے دے
میں تو پیاسا ہوں
ہے دریا وہ، زریعہ وہ
وہ جینے کا مرے
مجھے گھر دے، گلی دے، شہر دے
اسی کے نام کے
قدم یہ چلیں یا رکیں اب اسی کے واسطے
دل مجھے دے اگر
درد دے اسکا پر
اسکی ہو وہ ہنسی
گونجے جو میرا گھر
اے خدا اے خدا
جب بنا اسکا ہی بنا

جانتی ہو تاشو کس کے سہارے زندہ ہے۔ بس اس آس کے کہ ایک دن تم میرے پاس چلی آؤ گی۔
تمھاری نفرت کا سوچتا ہوں تو دل دہل جاتا ہے۔ مگر جانتی ہو کیا؟ مجھے میرے جنون، عشق ، محبت پر اتنا بھروسہ ہے اتنا ایمان ہے کہ جانتا ہوں تمھاری یہ نفرت میرے عشق سے ٹکرائے گی تو بھر بھری ریت کی طرح بکھر کر پاش پاش ہو جائے گی۔ میں تمہیں اتنی محبت دوں گا اتنا پیار کروں گا کہ تم دنیا بھلا دو گی۔ تمہیں تکلیف بھی تو تبھی دیتا ہوں ناں کہ تمھاری ہنسی، اشکوں پر خوشیوں اور زخموں تک پر صرف اور صرف تاشو کا حق ہے،، سچی میری میگی نوڈلز والی مومی گڑیا،،
وہ اپنی ہی سوچ پر مسکرایا۔

میرے حصے کی خوشی کو
ہنسی کو تو چاہے آدھا کر
چاہے لے لے تو میری زندگی
پر یہ مجھ سے وعدہ کر
اسکے اشکوں پہ غموں پہ ،،
دکھوں پہ ہر اسکے زخموں پر
حق میرا کی رہے ہر جگہ
ہر گھڑی ہاں عمر بھر ۔۔۔
اب فقط ہو یہی وہ رہے مجھ میں ہی
ہو جدا کہنے کو
بچھڑے نا پر کبھی
اے خدا ،، اے خدا
جب بنا اُسکا ہی بنا

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️