No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پتا نہیں جی کونسا نشہ کرتا ہے
یار میرا ہر اک سے وفا کرتا ہے
چھپ چھپ کے بےوفائیوں والے دن چلے گئے
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دغا کرتا ہے
وہ تابش کے سامنے بیٹھی اپنی مدعا بیان کر کے اب بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
“مجھے نہیں پتا تاشو،، مجھے ڈاکٹر بننا ہے اور ہر قیمت پر یونی جانا ہے آپ دا جی کو منائیں، کسی بھی صورت،، وہ ایسے کیوں ہے، کیوں مجھے آگے پڑھنے نہیں دینا چاہتے، ہم اپنی مرضی اپنی آزادی سے کوئی کام کیوں نہیں کر سکتیں، دا جی کیوں ہیں اتنے بیک ورڈ ،،
سارا زبان سنبھال کر بات کرو پلیزززز،، وہ جو مسکراتے اس کی ہر فرمائش سن رہا تھا اس کی آخری بات اور لہجہ کی بدتمیزی پر دنگ سا اب سنجیدگی سے اس کا بغور مطالعہ کرنے لگا کہ اس کے دماغ میں یہ سب باتیں آئیں کہاں سے۔ یہ تابش کو سارا اپنی زبان تو نہیں بولتی سنائی دے رہی تھی۔۔
“ایک بات سارا مجھے سمجھ یہ نہیں آتی آخر تم خواتین کو آزادی کس چیز کی اور کس سے چاہیے، گھر کے تحفظ اور چار دیواری سے آزادی چاہیے کیا،؟ یا وہ مرد جو تم لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، زمانے کے سردو گرم سے بچاتے ہیں کیا ان سے آزادی چاہیے، تم لوگ بھیڑ بکریاں تو نہیں جو تم لوگوں کو آزاد چھوڑ دیں،، زمانے کے بھیڑیوں کے درمیان چھوڑ دیں، دوسری بات دا جی ایسا ہر گز نہیں چاہتے، بس وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کے آئندہ نسل میں سے اب کوئی سلمیٰ نوید احسن نا بنے،، کوئی سرِ عام ان کی گھر کی عزت کو برباد کر کے چلتا نا بنے،،
تابش نے اسے سمجھانا چاہا مگر اسے کیا معلوم وہ بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے۔
تو کیا اب جو سلمیٰ پھپھو نے کیا ضروری تو نہیں کہ وہی کچھ، باقی سب بھی کریں گی،، تابش کی بات پر وہ گڑبڑائی تو ضرور تھی مگر پھر چور کی داڑھی میں تنکے کے مترادف پھنکار کر بولی تھی ۔
تابش نے بے حد افسوس سے اسے دیکھا۔
مجھے افسوس ہے سارا میری ہر بات کے رائیگاں جانے پر اور افسوس کے اتنی ساری باتوں میں تم بس سلمیٰ پھپھو کی بات کو پکڑ کر اسے بھی منفی رخ کی جانب لے گئیں،، لیکن کوئی بات نہیں تم فکر مت کرو، ہر بار کی طرح اس بار بھی میں تمھارے ساتھ ہوں، اور تمھارا ساتھ دوں گا رات تک تم ویٹ کرو، میں رات تک پوچھ کر بتا دوں گا، اب جاؤ تم اپنے روم میں،،
تابش نے سنجیدگی سے کہا۔ جس سے اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ ناراضگی سے بولا تھا۔
(اونہہہ بنا رہے بوتھا یہاں پرواہ کس کو ہے مگر ابھی تو ضرورت کا وقت ہے تو گدھے کو باپ بنایا جا سکتا ہے)
اوکے رائٹ، آئم سوری تاشو، اگر آپ کو برا لگا تو ائم سوری مگر آپ بات اچھے سے کرنا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے،، اس نے کھوئے ہوئے سے لہجے میں کہا۔
اٹس اوکے،، کوئی بات نہیں،، تابش نے کہا اور خاموش ہو گیا۔ سارا کے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک غائب دماغی سے اسی جگہ دیکھتا رہا جہاں سے وہ ابھی ابھی ہو کر گئی تھی۔ پھر اپنے خیالات سے باہر آتے سر جھٹک کر اپنی کٹ اٹھا کر باہر نکل گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ بڑی توجہ سے چچی امی کے کہنے پر ان کے ہاتھ سے سیام کی تمام شرٹس لے کر اب اس کی الماری میں ترتیب سے رکھ رہی تھی۔
جب وہ پسینے میں نہایا کوچنگ کے بعد کرکٹ کھیل کر سیدھا اپنے روم میں آیا۔
سامنے ہی کسی کو اپنی الماری میں منہ دئیے پایا۔ اس کی آہٹ پر عرفہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہوں عرفہ،، سیام نے حیرت کہ ملی جلی کیفیت لیے اس سے پوچھا۔ وہ کیا جانے عرفہ اکثر اس کی غیر موجودگی میں اکثر اس کے روم میں آیا کرتی تھی۔
کیوں ؟ یہ وہ خود نہیں جانتی تھی ابھی،
یہ چچی امی نے شرٹس دیں تھیں کہ آپ کی الماری میں رکھ دوں تو یہی رکھنے آئی تھی، سیام،
سیام اس کا یوں نام لینے پر چونکا۔ حالانکہ وہ اسے کم ہی مخاطب کرتی تھی۔ سیام سائنس کے ساتھ میٹرک میں تھا اور عرفہ ایٹتھ میں۔ اکثر وہ اسے اور مومی کو میتھس بھی پڑھا دیا کرتا تھا۔
عرفہ مجھے بھائی بولو، بڑا ہوں تم سے،، سیام نے سنجیدگی سے کہا اور اپنا بیگ اور کٹ اپنی الماری میں رکھنے کے لئے آگے بڑھا مگر اس نے اثر کم ہی لیا۔
“مومی بھی تو آپ کو سیام ہی بولتی ہے تو اسی لئے میں نے بھی بول دیا،اس میں کونسی بڑی بات ہے،، عرفہ نے کندھے اچکا کر کہا تو سیام نے پیچھے مڑ کر اسے گھورا جو ڈریسنگ کے پاس بڑے گلدان میں جانے کیا تلاش کر رہی تھی اس کے گھور کے دیکھنے پر رنگ برنگے منہ بنا کر وہاں سے کھسک ہی گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شام کا وقت تھا۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔ سب نے لان میں بیٹھ کر شام کی چائے پی تھی۔
چائے بننے سے پہلے تابش دا جی کے روم میں تھا۔ جب چائے پی گئی تو وہ دونوں بھی باہر آ گئے۔
تابش نے باہر آ کر سب کو ایک خاص بات بتائی تھی جو سارا سے چھپائی جانی تھی۔ سب کے چہرے خوشی سے کھل سے گئے تھے۔ ۔ سارا کو اس کی ہفتے بعد آنے والی برتھ ڈے پر ایک بہت بڑا سرپرائز ملنے والا تھا۔
سب سے ہلکا پیٹ تو مومی کا ہی تھا اسی لئے تابش نے اسے خاص الخاص گھرکا تھا کہ اگر اس نے سارا کو کچھ بتایا تو اس کی خیر نہیں۔
مومی سارا کو چائے کے لئے بلانے آئی تھی۔ سارا کے روم کا ڈور آدھا کھلا تھا ۔ اس کا چھوٹا سا زہن سارا کی باتوں کو گہرائی سے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ وہ آگے بڑھی۔
سامنے بھی وہ بڑے کانفیڈینس سے باتوں میں لگی تھی جیسے پکا یقین ہو کہ اس وقت سب لان میں چائے کے لئے ہوتے ہیں اس کے پاس کوئی بھی نہیں آئے گا۔
فرہاد پلیز سمجھنے کی کوشش کرو، میں نے بات کی ہے ناں تابش سے، اور مجھے پورا یقین کہ پوزیٹو رسپانس ہی ملے گا، میں بہت، بہت زیادہ خوش ہوں کہ مانچسٹر سے پوزیٹو رسپانس ملا ہے، مگر اس سے پہلے ادھر ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے میں رات تک تمھیں بتا دوں گی،،
سارا بات کرتے کرتے پیچھے مڑی تھی۔ جب مومی کو خود کو حیرت سے تکتے پایا۔ وہ بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی تبھی موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر کارپٹ پر گرا تھا۔
(یہ موبائل بھی تو تابش کی ہی مہربانی تھی نہیں تو انھیں کہاں اجازت تھی یہ چونچلے پالنے کی)۔
مومی واٹ دا ہیل، ایٹی کیٹس اور مینرز نام کی کوئی چیز ہے بھی کہ نہیں تم میں، ڈور ناک نہیں کرنا تھا کیا،، سارا نے اپنی بوکھلاہٹ چھپانے کو اسے بری طرح جھڑکا جو ہونق سی بنی سارا آپی کا یہ جلالی اور عجیب سا روپ دیکھ رہی تھی۔
ائم سوری سارا آپی، وہ ڈور کھلا تھا تو میں اندر آ گئی،، آپ کو چائے کے لئے بلانے آئی تھی، اس نے معصومیت سے کہا مگر سامنے والی نے اس کے سوری کو بھی برخورد اعتنا نا جانا تھا۔
اوکے اوکے،، جاؤ تم میں آتی ہوں ابھی،، سارا نے رکھائی سے کہا وہ منہ لٹکا کر واپس چلی گئ۔
سارا نے جلدی سے فون اٹھایا تو سامنے والا فون رکھ چکا تھا۔ وہ جی بھر کر بدمزہ ہوئی۔
افففففف،،،، گھر والے کیا کم ہے جو ان باہر والوں نے بھی ناک میں دم کر رکھا ہے،، وہ بڑبڑاتی وسرے پورشن کے لان میں آئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سب بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے اور وہ سب کے درمیان بیٹھی بری طرح انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
بار بار تابش کی جانب دیکھتی کہ ایک ہلکا سا اشارہ ہی کر کہ بتا دے کہ کیا بنا۔ مگر وہ تو جیسے جان بوجھ کر اسے اگنور کیے جا رہا تھا۔
تبھی مومی آکر آہستگی سے اپنے ہونٹوں کو ہاتھ سے چھپا کر اس کے کان میں گھسی تھی۔
تاشو،، یو نو واٹ سارا آپی کا موڈ بری طرح آف ہے آپ سارا آپی کو وہ بات بتا دو جلدی سے ابھی مجھے بھی اتنا زیادہ والا ڈانٹا تھا انھوںنے،، مومی نے اس کے کان میں کہا تو تابش نے غصے سے اسے گھورا۔
مونا،، اب مجھ سے ڈانٹ نا کھا لینا جاؤ اندر جا کر ہوم ورک کمپلیٹ کرو،، میں ابھی چیک کرنے آتا ہوں،، تابش نے اس کی پونی کھینچ کر غصے سے کہا تو وہ غصے سے واک آؤٹ ہی کر گئی۔
تمام خواتین کچن میں ڈنر کی تیاری کے لئے چلیں گئیں۔ دا جی، عمران اور فیضان بھی دا جی کے کمرے میں گئے تو سارا بے چین سی تابش کے پاس آئی جو کھسکنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ مگر اس سے پہلے ہی سارا اس کے سر پر سوار تھی۔
تابش میں کب سے دیکھ رہی ہوں آپ مجھے اگنور کر رہے ہیں آخر بتا کیوں نہیں دیتے کہ کیا کہا دا جی نے،، سارا نے جھنجھلا کر کہا۔
وہ پکا سا منہ بنا کر سارا کی جانب پلٹا۔
ائم سوری سارا دا جی نے صاف انکار کر دیا ہے، وہ بلکل نہیں مان کر دے رہے اور اس بار تو وہ میری بھی سننے کو تیار نہیں، اور سوری ٹو سے میں خود اس حق میں نہیں تو تمھیں کمپرومائز کرنا پڑے گا اب کی بار،،
اس کے ایک ایک لفظ پر سارا کا منہ دھواں دھواں ہوا تھا۔
تابش نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کر کے اس کا سفید پڑتا چہرہ دلچسپی سے دیکھا۔
کمپرومائز، مائی فٹ، وہ تو میں کسی صورت نہیں کروں گی تابش،، وہ دانت پیس کر بولی۔
اور کیا کرو گی تم سارا،، تابش نے خود پر سنجیدگی طاری کرتے اسے غور سے دیکھا۔
میں بھاگ جاؤں گی سراج مینشن سے اس جیل سے بلکہ جہنم سے ،، وہ غصے کی انتہا سے آگ بگولہ ہوئی پھنکاری تو تابش قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
بلیک ٹراؤزر اور بلیک ہی ٹی شرٹ میں وہ اونچا لمبا سروقد کے ساتھ سامنے کھڑا شاندار مردانہ وجاہت لیے وہ بندہ اسے اپنی بیمار زہنیت کی بدلوت اس وقت زہر لگ رہا تھا۔
تمھارا سینس آف ہیومر بہت اچھا ہے سارا، کافی اچھا جوک تھا،، تابش نے اسے چھیڑا۔
سارا نے تابش کی نگاہوں میں دیکھنے سے گریز ہی کیا تھا وہ پیر پٹختی وہاں سے اپنے روم میں چلی گئی تھی۔
تابش دا جی کے پاس آیا تھا اور باقی سب بڑوں اور گھر والوں کو چٹخارے لے کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو کر سارا کی کیفیت بتائی تھی۔ اس کی حالت سب نے انجوائے کی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات ڈنر پر سب کی ہنسی اور قہقہے گونج رہے تھے سوائے سارا کے جو خود پر خطرناک حد تک سنجیدگی طاری کیے کھوئی کھوئی سی چاولوں سے ہاکی کھیلنے میں مصروف تھی۔
کیا ہوا سارا بیٹا سہی سے کھانا کھاؤ بھئی،، سلمیٰ بیگم نے اسے محبت سے پچکارا۔
کتنا کہا تابش سے کہ اسے بتا دے مگر اس پر تو سرپرائز کا بھوت سوار ہے ۔ سلمیٰ کو وہ سوگوار سی لگی تبھی دل کو کھینچ پڑی۔
(اونہہہ،، بڑی ہمدردی آ رہی ہے سارا کیا دھرا تو انھی کا ہے، نا یہ وہ قدم اٹھاتیں اور نا ہماری زندگی عزاب ہوتی۔ اس پہ پھر دیدہ دلیری کے واپس بھی آ گئیں ہمارے سینوں پر مونگ دل نے کو ۔ ادھر ہی کیوں نا مر کھپ گئیں) سارا اپنے دل ہی دل میں زہر اگلتی رہی۔ اور ابھی حسرت تو یہ تھی کاش وہ زبان سے یہ سب انھیں کہہ پاتی۔
وہ کھانا کھا کر بدتمیزی سے اٹھ کر کسی سے بات کرے بغیر اپنے روم میں چلی گئی تھی۔
تابش کتنی غلط بات ہے دیکھو منہ ہی اتر گیا ہے بچی کا، سلمیٰ بیگم نے تابش کو ڈانٹا تو ہنس پڑا۔
ابھی موڈ فریش ہو جائے گا پھپھو اس کا ، کیوں بھئی بچہ پارٹی آئسکریم کھانی ہے؟
تابش نے شرارت سے کہتے عرفہ اور مومی کی جانب دیکھا۔
ییےےےےے،،، مومی تو کھل ہی اٹھ تھی۔ بڑے سب مسکرا دئیے۔
پھر پوری پلٹن نے سارا کے کمرے پر دھاوا بولا تھا۔ اور اس کے نا نا کرنے کے باجود اسے زبردستی ساتھ لگا ہی لیا۔
گاڑی میں خاموشی تھی جسے مومی کی آواز نے ہی توڑا۔
تاشو، میرا بھی ڈریم ہے کہ میں بھی ڈاکٹر بنوں گی بڑے ہو کر، جیسے سارا آپی بنیں گی،،
مومی کی زبان پھسلی۔ سب کا دل کیا ماتھا پیٹ لیں۔
اونہہہہہہہ،، اس جہنم سے اجازت نامہ ملے گا تو بنو گی نا ڈاکٹر،،، سارا نے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔
بٹ سارا آپی وہ تو،،،
اس سے پہلے مومی میڈم اور گوہر افشانی کرتی ڈرائیونگ کرتے تابش نے دانت پیستے فرنٹ سیٹ پر زان سے بیٹھی مومی کے منہ میں چاکلیٹ ٹھونسی تھی۔
مونا،، یہ کھاؤ اور خاموش رہو، کیونکہ تم خاموش زیادہ کیوٹ اور اچھی لگتی ہو،، تابش نے دانت پیس کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے وارن کیا۔
اوپس،،،سوری تاشو،، اس نے آہستگی سے تابش کی جانب جھکتے کہا۔
آئسکریم پارلر میں بھی انھوںنے نے خوب طوفانِ بدتمیزی مچایا۔
تابش ،عرفہ، سیام اور مومی ایک دوسرے سے چھین چھین کر آئسکریم کھا رہے تھے۔
مومی، عرفہ، سیام یہ کیا بدتمیزی ہیں، کیا کہیں گے لوگ یہ کتنے جاہل اِل مینرڈ، اور بدتمیز لوگ منہ اٹھا کر یہاں چلے آئے ہیں، تمیز نہیں تم لوگوں میں،،
سارا پھٹ پڑی تھی۔ وہ جو اسے ہی چِل کرنے کو ہلکی پھلکی شرارتیں کر رہے تھے۔ یک دم خاموشی چھائی تھی۔ تابش نے اسے سنجیدگی سے دیکھا جو بچوں سے زیادہ خود حلق پھاڑ رہی تھی اور ارد گرد کے لوگ متوجہ ہوئے تھے۔
مونا، عرفہ فنش کرو اسے، تابش نے انھیں کہا تو انھوںنے خاموشی سے اپنی آئسکریم فنش کی۔
مونا جو کہ تابش کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھی تھی۔ اس کے منہ پر آئسکریم لگ گئی تھی۔ جوپاس بیٹھے تابش نے ہی دیکھی۔ تابش نے ٹشو پیپر لے کر اس کا چہرہ صاف کیا۔
بل پے کیا اور وہ خاموشی سے واپس چلے آئے۔ تابش کو اس کا یوں اوور ری ایکٹ کرنا عجیب سا لگ رہا تھا۔ اب تو وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ اسے سچ بتا دے۔
سراج مینشن پہنچ کر اس نے گاڑی پارک کی۔
سب اترنے لگے۔
رکو سارا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے،، تابش نے کہا۔
مگر شاید وہ اس وقت اسے منہ لگانے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھی۔ تبھی سنی ان سنی کرتی پاؤں پٹختی اپنے پورشن میں سیام سے پہلے ہی جا چکی تھی۔
تابش نے ایک سرد سی آہ بھری اور مومی اور عرفہ کے ساتھ اندر آ گیا۔ جانے وہ کیوں تھا اتنا پولائٹ، اس قدر نرم اور دھیمے مزاج کا جو چپ چاپ اس کی بدتمیزیاں برداشت کر رہا تھا۔
گہری پراسرار سی رات تھی۔ جو اپنے دامن میں جانے کیا کیا غلط فہمیاں، شکوے شکایت، اور ایسے طوفان سمیٹے بیٹھی تھی کہ اس طوفان کے آ جانے سے سراج مینشن کے رشتوں کا شیرازہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے والا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
صبح ناشتے پر معمول کی چہل پہل تھی۔ سب موجود تھے سوائے سارا کے۔ سب اسے اس کی ناراضگی ہی سمجھ بیٹھے تھے۔
چھوٹی امی ٹرے بنا کر دیں میں سارا کو ناشتا دے کر آتا ہوں، ساتھ اس کے یونی جانے کی خوشخبری بھی سنا آتا ہوں، مجھے نہیں لگتا وہ اتنے دن صبر کر پائے گی، یہ نا ہو بیگم بیمار ہو جائے،،
اس نے مسکراتے آخری جملہ ماں کے کان میں گھس کر کہا تھا۔ جو کہ شازیہ بیگم نے بھی باخوبی سنا ۔ مسکرا کر ٹرے میں پراٹھا، چیز آملیٹ اور چائے کا مگ رکھ کر دیا۔
دیکھنا تاشو، سارا آپی جتنے غصے میں ہیں کہیں چائے کا مگ آپ کے سر پر نا انڈیل دیں،، مونا کے شوشے پر سب ہی ہنس دئیے تھے۔
وہ ٹرے اٹھائے سب کی مسکراتی نگاہوں کو اگنور کیے پچھلے پورشن میں اس کے روم تک آیا تھا۔
ڈور کھلا تھا۔ وہ ہلکی دستک دے کر اندر داخل ہو گیا۔ اندر کوئی نہیں تھا۔ روم اور پورا گھر خالی تھا۔
حیرت انگیز۔
ٹرے سٹڈی ٹیبل پر رکھنے جھکا تو ایک پیپر فولڈ کیا ہوا ملا۔ تجسس تو بڑا ہوا مگر پہلے اسے سارے میں چیک کیا واش روم بھی خالی تھا۔
سارا،، سارا اس نے دو چار مرتبہ آوازیں دیں مگر جواب ندارد۔
اخر ٹیبل تک آ کر وہ فولڈ کیا پیج جلدی سے کھول کر دیکھا۔
ڈئیر مسٹر دقیانوس ان چاہے شوہر جی،
اوپس سوری، مگر یہ سچ ہی تو ہے۔
تمھیں، تمھارے خاندان (صرف تمھارے اس لئے کہ اتنا چھوٹی سوچ رکھنے والا خاندان میرا نہیں ہو سکتا) اور تمھارے تمام تر دقیانوسی، چیپ گھٹیا اور بیک ورڈ خیالات سے بہت دور جا رہی ہوں،
اپنے تمام خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے، بہت دور، اتنی دور جہاں تک تم جیسے تھرڈ کلاس بندے کی رسائی ممکن نہیں، تو ڈھونڈنے کی تو کوشش بھی مت کرنا، بہت جلد کونٹیکٹ کروں گی، خلع کے لئے،
اور مجھے یقین ہے تم جیسے سو کالڈ غیرتوں کا پرچار کرنے والے میں اتنی غیرت تو ہوگی کہ ایک گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کہ واپسی کی امید لگانے کی بجائے تم طلاق اس کے منہ پر مارو گے،
فقط آزاد سارا،
تابش کے لرزتے ہاتھوں سے صفحہ چھوڑ کر کارپٹ پر گرا تھا۔ وہ خود گھٹنوں کے بل کارپٹ پر بیٹھتا چلا گیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤
