No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جی امی میں بلکل ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں،، مومی فون پر چہک رہی تھی۔ آج دو ہفتے ہو چلے تھے انھیں گئے اور وہ سب کو بہت مس کر رہی تھی۔ تبھی ویڈیو کال ملائی تھی۔ اور سب سے بات کی تھی۔
کال بند ہوئی تو بڑی دیر تک کسلمندی سے بیڈ پر ہی لیٹی رہی۔ عجیب بوریت اور سستی سی سوار تھی۔ ڈنر بھی بنا چکی تھی۔ ٹی وی اور موبائل گیم نے بھی بور کر دیا۔ رات ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔
عنایہ دو دن ہاسپٹل رہ کر گھر آ چکی تھی۔ مومی سے بات ہوتی رہتی تھی عنایہ کی۔ عنایہ پر بیتے واقعات نے مومنہ کے دل و دماغ پر گہرا اثر کیا تھا۔ اب اسے تاشو سے کم از کم یہ شکایت نہیں تھی کہ اس نے اسے موبائل نہیں رکھنے دیا تھا۔
باہر سے گھن گرج کے ساتھ بادلوں کی آواز آ رہی تھی۔ اور ایسا موسم ہمیشہ سے اس کی کمزوری رہا تھا۔ تبھی سر خوشی میں اٹھ کر کمرے کی کھڑی کھولی تو ایک نرم ٹھنڈا ٹھار ہوا کا جھونکا چہرے سے ٹکرایا۔
وہ اکسائٹڈ سی کمرے سے باہر نکلی تھی۔ رخ بے اختیار ہی چھت کی جانب تھا۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ وہ دونوں ہاتھ سے دوپٹہ کے سرے ہاتھ میں پکڑے گول گول گھومنے لگی۔ ہوا کے دوش پر دوپٹہ اڑ رہا تھا۔
یہ دوپٹہ کب تھا یہ تو اس کے پنکھ تھے۔ جیسے وہ ہوا کے دوش پر فضاؤں میں آزادی سے اڑ رہی ہو۔
وہ قید کب تھی؟ وہ تو سراج مینشن کی چار دیواری کی حدود میں پہلے دن سے آزاد تھی۔
بابا کی ہر پری، اور ماں کی ہر لاڈلی گھر کی چار دیواری میں آزاد ہی تو ہے۔ اگر یہ قواعد وضوابط توڑتے چار دیواری کی دہلیز اپنے محافظوں کے بغیر خود کی حفاظت کیے بغیر پار کرتی ہے تو محض زمانے کے گِدھوں کا شکار ہی بن جاتی ہے۔
مومی کو اب سراج مینشن سے باہر جانے کی کوئی تمنا نہیں تھی۔ ہاں مگر اس کا اس شخص سے کوئی بھی رعایت برتنے کا قطعی کوئی موڈ نہیں تھا۔
نیچے سے گیٹ کھل کر مخصوص گاڑی کے پورچ میں کھڑے ہونے کی آواز آئی تو وہ اس کے پیروں تلے سے زمین کھسکی۔
کتنی چڑ تھی اس گبر کو اس کے بارش میں بھیگنے سے۔ وہ دو ہفتے سے اسے پریشان کر رہی تھی۔ ہر وہ کام کر کہ جو اسے ناپسند ہو مگر اس کے ماتھے پر بل بھی نہیں آیا تھا۔ مگر آج تو مومنہ بیگم نے بارش میں بھیگ کے ہر حد پار کر دی تھی۔ تبھی گھبرا کر اوپر بنے کمروں میں سے ایک کمرے میں جا گھسی۔
وہ جو نیچے اسے اس کے روم اور سارے میں دیکھ چکا تھا۔ اب موسم کا احوال سمجھ کر اوپر کی جانب قدم بڑھائے تھے۔ وہ جانتا تھا وہ بھیگ رہی ہوگی۔ تابش نے ایک سرد سی سانس کھینچی اور اوپر چلا آیا۔ سیڑھیوں کے سرے پہ کھڑے ہو کر اس نے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اور ایک گہری نظر چاروں اور دوڑائی۔ وہ بھیگ رہا تھا اور آج اسے یہ بھیگنا اچھا لگ رہا تھا۔ ایک کمرے کے ایک ڈور کے پیچھے سے ہوا کے دوش پر ایک سیاہ آنچل پل بھر کو ابھر کر غائب ہوا تو وہ گہرا مسکرایا۔ اور قدم آگے بڑھائے۔
ادھر لمحہ بہ لمحہ قریب آتی بھاری قدموں کی چاپ سے مومی کی سانسیں تھمی۔
چھپی کیوں ہو مونا،، باہر آؤ بارش میں بھیگتے ہیں،، بولتے اس نے کلائی سے تھام کر اسے باہر نکالا تھا۔
(شکر ہے اس گبر کی اس آفر پر مومی پر غشی طاری نہیں ہوئی) وہ حیرت زدہ سی اس کے ساتھ کھنچی چلی آئی۔ اسے لا کر چھت کے بیچو بیچ کھڑا کیا تھا۔ سامنے کھڑے ہو کر اس سر تا پا غور سے دیکھا۔
آج اتفاقاً دونوں نے سیاہ رنگ ہی پہن رکھا تھا۔ بارش میں بھیگتے وہ ایک دوسرے کے سامنے بت بنے کھڑے تھے۔ وہ مبہوت سا اس کا ہوش ربا سراپا دیکھتا رہا۔ آخر نرمی سے اس کے برف کی طرح سرد پڑتے دونوں ہاتھ تھامے تھے۔
جانتا ہوں میں نے بہت، بہت غلط کیا تمھارے ساتھ، میرے پاگل پن نے تمھاری زندگی چھین لی تم سے، تمہارا بچپن، تمھاری ہنسی، تمھارے خواب، سب کچھ چھین لیا تم سے،، تب احساس ہوا کہ تم مجھ سے کتنی بدگمان اور تنگ ہو جس دن تم بیمار ہوئی،، مگر تب تک دیر ہو چکی تھی،، بہت دیر،، یہ سچ ہے کہ میں نے شروع دن سے تمھیں اپنی ملکیت سمجھا، مگر یہ ملکیت کا احساس کب اتنی شدید محبت میں بدل گیا، پتہ ہی نہیں چلا، اسی لئے مونا، اب میں اپنے کیے ہر عمل کا مدوا کرنا چاہتا ہوں، تمھیں اتنی محبت دینا چاہتا ہوں، کہ تم پچھلی ہر بات بھول جاؤ، مونا کیا تم مجھے ایک چانس دو گی، مجھے معاف کرو گی،،
گہری رات کے پرفسوں ماحول میں محبت اور جزبوں نے بارش کے ساتھ مل کر عجیب ہی تال چھیڑ رکھی تھی۔ محبت محرم ہو تو عاشق کے عشق کا نشہ اس کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اور وہی اس وقت تابش کے ساتھ ہو رہا تھا۔ جو مدہوش سا ہوا بہک چلا تھا۔ تبھی اس کے ہاتھوں کی گرفت میں شدت آئی تھی۔ مونا کو لگا اس کے ہاتھ جل جائیں گے۔
بوجھل سا لہجہ تھا۔ مومی نے خفگی سے ہاتھ چھڑاتے زور زور سے نفی میں سر ہلایا تھا. ہاں مگر اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی غلطی ہر گز نہیں کی تھی۔ اس کی پلکیں شرم و حیا کے بار سے گالوں پر ہی گری رہی تھیں۔ وہ بس اس جن کی جادو بھری قید سے نکل جانا چاہتی تھی۔
نو میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو،، تابش، اب آپ کی یہ معافی میں کدھر لے کر رکھوں،، کیا آپ کی یہ معافی میرا بچپن لوٹا سکتی ہے، میرے خواب، میرا ادھورا پن، آئی ہیٹ یو تابش آئی ہیٹ یو،،
وہ چلائی مگر ابھی بول ہی رہی تھی کہ شریر ہوا نے بدتمیز سی گستاخی کرتے مومی کا ریشمی دوپٹہ اڑا کر دور اچھال دیا تھا۔ وہ جو مسلسل اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی یکدم بوکھلا گئی اور مزاحمت میں شدت سی آئی۔ کرلی گیلے کھلے براؤن بال سفید گردن اور پیچھے کمر پر چپکے ہوئے تھے۔
ادھر ایک جواں دل پر بجلیاں سی گری تھیں۔
پلیز سے یس مائی لو، مائی لائف، ہاں میں تمھارا بچپن نہیں لوٹا سکتا گئے مگر فیوچر ضرور بنایا جا سکتا ہے، میں وہ پل واپس نہیں لا سکتا بٹ آئی پرامس تمھارا ہر خواب پورا کروں گا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن کروایا ہے میں نے تمھارا، اور میں تمھیں ایک ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتا ہوں مونا، یقین کرو مائی میگی اب تمھارے بغیر ایک پل بھی نہیں گزارنا چاہتا میں، مر جاؤں گا آئی سوئیر مر جاؤں گا اگر تم مجھ سے دور گئیں تو،
جزبوں سے چور بھاری گھمبیر سا لب و لہجہ تھا جو مومی کے لئے ناقابلِ فراموش اور ناقابل برداشت ثابت ہو رہا تھا۔ تبھی وہ اس کی گرفت میں پھڑ پھڑا رہی تھی. مگر تابش نے جھٹکے سے اس کا رخ موڑ کر اس کی کمر اپنے سینے سے لگائی تھی۔ اپنے پیٹ پر رینگتا اس کا ہاتھ محسوس کر مونا نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کیں تھیں۔
جانتی ہو میں کیوں چڑتا تھا تمھارے بارش میں بھیگنے سے، تاکہ اس بھیگے ہوش ربا محرم سراپے کو دیکھ کر بہک نا جاؤں، خود پر بٹھائے پہرے توڑ کر تمھیں اپنا نا بنا لوں، اور جان لو کہ آج تم نے وہی ظلم ڈھا دیا ہے مجھ پر،،
آنکھیں بند کیے تابش کے ہونٹوں نے ایک جزب کے عالم میں کندھے سے کان تک کا ایک پرتپش سا سفر کیا تو مونا کو لگا اس کے جسم سے اس کی جان نکل جائے گی۔۔
تاشو،، لیو می،،، وہ بےبسی کے احساس سے چور اب گھبرا کر بولی تھی۔ اس پاگل شدت بھرے لمس سے اس کی جان پر بن آئی تھی۔
ہمممممم،،،،،، تاشو،، ساؤنڈ سیٹیسفیٹک،، ادھر میری طرف دیکھ کر ایک مرتبہ پھر بولو ان لبوں سے،، وہ پھر ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑ کر اس کا لرزتا کانپتا وجود اپنے سینے سے لگائے اس کے گداز بھیگے لبوں پر خماری کے عالم میں انگوٹھا پھیرتا بولا تھا۔ اس کی نگاہوں کے فوکس نے مومی کی جان لبوں پر لائی تھی۔
تاشو،، لیو،،
لرزتے کانپتے گلاب کے پنکھڑیوں سے لبوں کی بات پوری نہیں ہو ہائی تھی۔ اس کے کرلی بالوں کو ہاتھ میں پھنسا کر وہ اب خود کو سیراب کر رہا تھا۔ محرم کی محبت تھی یہ جو سر چڑھ کر بولی تھی۔ تبھی اس کے چھونے میں، اس کے لمس میں اس قدر شدت تھی کہ مونا کو لگا آج اس کے لب سلامت نہیں رہیں گے۔
مومی نے بری طرح مزاحمت کی تھی۔ مگر آنکھیں اس کی بھی بری طرح بند تھیں۔ کالر پہ لگنے والے جھٹکے نے تابش کے ہوش بحال کیے تھے شاید تبھی وہ اب آہستگی سے پیچھے ہٹا تھا۔ مونا نے اسے خود سے دور دھکیلا تھا۔ اور بے تحاشا روتے دوپٹہ اٹھا کر نیچے بھاگی تھی۔
وہ جو انھی پرفسوں لمحوں کے حصار میں اب تک قید تھا یونہی بارش میں کھڑا بھیگ کر اپنے جذبات کی لگامیں کسنے کی کوشش میں ہلکان ہوتا رہا۔ نہیں تو آج وہ بہت کچھ ایسا کر جاتا جو ابھی وہ بلکل نہیں کرنا چاہتا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات کو وہ آمنے سامنے بیٹھے ڈنر کر رہے تھے۔ آج جتنا موسم خراب تھا شاید سیام کا موڈ بھی اتنا ہی خراب تھا۔ وہ جسے اب اس کی چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مزاق کی عادت ہو چلی تھی آج اس کی یہ غیر معمولی خاموشی بری طرح کھلی تھی۔
سادی سی ہاف وائٹ ٹی شرٹ بلو ٹراؤزر میں وہ سنجیدہ سا تھا۔
کیا ہوا خیریت آپ پریشان لگ رہے ہیں،، آخر عرفہ نے پوچھ ہی لیا۔
نہیں،، ایسی کوئی بات نہیں، تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے، مختصر جواب دے کر وہ پھر اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔ دونوں کھانا کھا چکے تو وہ روم میں چلا گیا۔ عرفہ نے کچن سیمٹا۔
عرفہ روم میں آئی تو وہ روم میں کہیں نہیں تھا۔ اسے حیرت ہوئی۔ وہ ڈریسنگ سے اپنا ڈریس نکال کر واش روم گئی۔ فریش ہو کر باہر آئی۔ اب بھی روم خالی تھا۔ وہ اب اس کے رویے سے بری طرح الجھی تھی۔ تبھی روم سے باہر نکلی۔
اس پورشن کا سیام والے پہلے روم کا دروازہ کھلا دیکھ اسے حیرت ہوئی۔ تبھی بے اختیار وہ اس روم تک گئی اور اپنی اس بے اختیاری میں اسے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ وہ بال سلجھاتے وقت دوپٹہ صوفے پر ہی رکھ آئی ہے۔۔ بغیر دستک کے اندر داخل ہو گئی۔
وہ جو شرٹ لیس کھڑا تھا اسے دیکھ دنگ رہ گیا جو اب بےبی پنک شرٹ اور ٹراؤزر میں بھیگا بھیگا ہوش ربا سراپا لیے اس کے ضبط کا امتحان لینے ادھر بھی چلی آئی ہے۔
سیام نے رخ موڑا۔ عرفہ نے بھی اسے شرٹ لیس دیکھ کر شرم وحیا سے سرخ پڑتے نگاہیں جھکائیں۔
کیا ہوا، آپ نے کام کرنا ہے کوئی، جو ادھر آ گئے،، عرفہ نے ٹوٹے پھوٹے جملوں میں پوچھ ہی لیا۔ اس نے ایک سرد سی آہ بھری۔ وہ تو اس چھوٹی سی آفت کے دل پر بجلیاں گراتے حسن سے اور اپنے منہ زور بے لگام جزبوں سے تنگ آ کر آج ادھر چلا آیا تھا۔ موسم بھی تو کافی بے ایمان سا ہو رہا تھا۔ خود سے ڈرتا تھا کہ کہیں کوئی محبت سے چور ہو کر گستاخی نا کر بیٹھے۔
آج میں ادھر ہی سوؤں گا، عرفہ جاؤ تم آرام کرو،، سو جاؤ جا کر،، نرمی سے کہا تھا۔ عرفہ نے ناسمجھی سے نگاہیں اٹھا کر اس کی چوڑی پیٹھ کو گھورا۔ بے چینی سے انگلیاں چٹخائی۔ اب اس سڑے بینگن کو کیا ہو گیا تھا۔ وہ چپ چاپ اپنے روم میں چلی آئی۔
کتنا ڈرتی تھی ایسے خراب موسم سے۔ اور آج ہی اسے جانے کون سا کیڑا کاٹ گیا تھا۔ دو ہفتے ہو چلے تھے سیام کو اسے اپنے سینے پر سر رکھ کر سلاتے۔ اسے پل پل محبت کا احساس دلاتے۔ اپنے پچھلے تمام الفاظ کی معافی مانگتے ۔ کہ اب تو عرفہ کے بھی دل میں وہ گھر کرنے لگا تھا۔ اب کب اس ظالم کے بغیر دل لگتا تھا۔ وہ جب تک آفس سے نا آتا گھر کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ اب اپنی عادت ڈال کر وہ پھر سے بے رخی پر اتر آیا تھا اور یہ بات عرفہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
تبھی تکیہ اور کمفرٹر زمین پر پھینک کر مارا تھا اور رونے کا شغل فرمانے لگی تھی۔
وہ جو اپنا لیپ ٹاپ لینے روم میں آیا تھا سامنے کا منظر دیکھ حیرت سے دنگ ہوا تھا۔ وہ بیڈ سے ہر چیز نیچے زمین بوس کرتی اب گھٹنوں کے گرد بازو فولڈ کیے ، منہ گھٹنوں میں دئیے رونے کا شغل فرما رہی تھی۔ سیام لیپ ٹاپ تو بھول ہی گیا تھا۔ جب بے اختیار گھبرا کر اس کی جانب آیا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
کیا بات عرفہ، رو کیوں رہی ہو، ہوا کیا ہے یار ،ابھی تک تو بلکل ٹھیک تھیں،، بتاؤ مجھے،، سیام نے نرمی سے پوچھا تھا مگر وہ اس کا ہاتھ جھٹک چکی تھی۔
آپ کو کیا، میں جیوں یا مروں یا روؤں، جائیے آپ کام کیجئے اپنا، اپنی عادت ڈال کر چھوڑ دیں مجھے اکیلا، پھر چاہے میں ڈر ڈر کے مر جاؤں،، وہ جھنجھلا کر بھڑاس نکالتی اب بیڈ پر لیٹ کر رخ موڑ چکی تھی۔ اور آنکھیں پر بازو رکھ لیا۔ وہ بڑی جلدی معاملے کے تہہ تک پہنچتا روح تک سرشار ہوتا گہرا مسکرایا تھا۔
تکیے اور کمفرٹر اٹھا کر بیڈ پر رکھا۔ لائٹ آف کی۔ اور ڈور لاک کرنے گیا۔
ڈور لاک ہونے کی آواز پر وہ پھر بری طرح تلملائی تھی یہ سوچ کر کہ وہ جا چکا ہے اور جاتے ہوئے ڈور لاک کر گیا ہے۔ ایک آنسو ٹوٹ کر شیٹ میں جزب ہوا۔ مگر اگلا ہی پل عرفہ کے لیے بہت بھاری تھا جب اسے اپنے اوپر بہت زیادہ وزن محسوس ہوا۔ وہ بوکھلا کر اٹھنا چاہتی تھی۔ مگر اب تو وہ بری طرح اس پر حاوی ہو چکا تھا۔ شرٹ لیس اس کی خوشبو نے عرفہ کی جان ہوا کی تھی۔ عرفہ نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے دور ہٹانے کی کوشش کی۔ مگر وہ اس کی کلائیاں تھام کر بیڈ سے لگا چکا تھا۔
سیام،، دور ہٹیں، مجھے سانس نہیں آ رہا،، وہ دبی دبی آواز میں اتنا ہی بول پائی۔
جانتی ہو مسز، میں دوسرے روم میں کیوں گیا تھا تاکہ آج تمھیں خود سے بچا سکوں، مگر تم نے میرے لئے یہ آنسو بہا کر میرے جنون کو خود ہی ہوا دے دی ہے، اور اب ساری رات میں تمھاری سانسیں ہی بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں،،
اندھیرے میں صرف اس کی بھاری آواز ہونٹوں کے بہت قریب گونجی تھی۔ اس کے بعد سیام کے ہونٹوں نے کہاں کہاں تک کا سفر طے کیا۔ عرفہ کو محسوس کر کے ہی دل جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھا۔
اس کی گستاخیاں اور بےباکیاں ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتی گئیں تو عرفہ پھر سے رو پڑی تھی۔
سیام پلیز،، نہیں ،، اگ،، اگر کچھ ہو گیا تو،،، وہ بھیگے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بس اتنا ہی بول پائی۔
کیا ہوگا؟ سیام اس کے کان کے قریب بولا تھا۔ کان کی لو کو دانتوں سے کاٹا تو جیسے عرفہ کی جان نکل گئی۔
وہ، بب،، بےبی،،، وہ اتنا ہی بول پائی۔ اور اتنا اہم مسئلہ بتایا جیسے سیام کو تو پتا ہی نا ہو۔ اس کی اس معصومیت پر وہ بے اختیار مسکرایا تھا۔
ہاں تو امی اور تائی جان تمھیں میرے سپرد اسی لئے تو کر کہ گئیں کہ ان کے گرینڈ چائلڈ نے اوپر اودھم مچا رکھا تھا کہ ہمارے مما بابا کے ہوش ٹھکانے لاؤ، ہمیں بھی جلدی دنیا پر آنا ہے، اسی لئے تو وہ تمھیں میرے پاس چھوڑ کر گئیں کہ امی اور تائی امی کو پیارا سا پوتا پوتی چاہیے، اسی لئے خاموش رہو مسز، اور مجھے میرا کام تسلی بخش کرنے دو، سیام نے قہقہ لگاتے مزے سے بولتے شوشا چھوڑا جیسے اس کا دھیان بٹا کر اس کی فطری گھبراہٹ کم کرنا چاہتا ہو۔
نن،، نہیں،، سیام،، یہ بہانہ بھی کارگر ثابت نا ہوتے دیکھ عرفہ کی جان لبوں پر آئی تھی۔ مطلب آج جائے فرار ناممکن تھا۔ اب سب سے پہلے سیام نے اس کی بولتی ہی بند کی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ گزرتی رات میں اس نے عرفہ کو خود میں سمیٹ لیا تھا۔ روٹھی محبت کو منا لیا تھا۔ اب اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔ نا کسی چیز کی تمنا باقی تھی اب۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مومنہ روم میں آ کر بے تحاشا روتی ہر چیز تہس نہس کر رہی تھی۔
ہاؤ ڈئیر ہی،،، ہمت کیسے ہوئی ان کی مجھے یوں چھونے کی،، مومی ماہی بے آب کی طرح تڑپی تھی۔ لبوں پر ہلکی سی جلن سے وہ لمس ابھی تک اسے اپنے اوپر محسوس ہو رہا تھا۔
ہاؤ ڈئیر ہی،،، واش روم گئی شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑی ہوئی تھی۔ اپنے ہاتھوں، گردن اور ہونٹوں کو رگڑ رگڑ کر اس لمس کا اثر زائل کرنا چاہتی تھی۔
کیوں کیا میرے ساتھ ایسا،، وہ بال مٹھیوں جکڑتی فرش پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
یہ سب کیا ہو گیا تھا اس کے ساتھ۔ وہ تو اس سے خلع لینے والی ہے۔ علیحدگی اختیار کرنے والی ہے۔ اس سے کہیں دور جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تو وہ کیوں اتنا قریب چلا آیا تھا۔ اس کے ان چھوئے وجود کو اپنے لمس سے کیوں روشناس کروا دیا تھا۔ ہر کنواری لڑکی کی طرح مومی کی بھی یہی خواہش تھی کہ اس کو چھونے والا پہلا مرد اس کا محرم ہی زندگی میں آنے والا آخری مرد ہو۔
تو اس نے کیوں کیا تھا ایسا۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو چکی تھی۔ بمشکل ہی ڈریس چینج کیا۔ اور بیڈ پر کمفرٹر میں دبک کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوئی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مومی کی آنکھ کھلی تو صبح کے دس بج چکے تھے۔ خالی الزہنی میں یونہی لیٹی چھت کو گھورتی رہی۔ مگر جب رات کی تمام کار گزاریاں یاد آئیں تو وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔
تبھی دروازہ ناک کر کے وہ پھر دھڑلے سے بیڈ ٹی لے کر اندر داخل ہوا تھا۔
یہ رات ملک تابش سراج ، اس کے جزبات اور دل کے لئے بھی ایک عذاب بن کر نازل ہوئی تھی تبھی آج وہ بے حد ڈسٹربڈ آفس نہیں جا پایا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے کمفرٹر سے نکل کر اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی تھی۔
آ،، آپ کی رات ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی، مم،، مجھے کس کرنے کی،، وہ بھوکی شیرنی بنی چلائی۔
تابش نے اطمینان سے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی۔ “اب پڑوسی کی بیوی کو تو جا کر کس کرنے سے رہا تو ظاہر ہے اپنی بیوی کو ہی کروں گا ناں،، وہ خود کو کمپوز کر چکا تھا تبھی سکون سے بولا تھا۔ مگر اس کے جواب نے مومی کو آگ لگائی تھی۔
ہماری علیحدگی ہونے والی ہے،، وہ دانت پیس کر بولی تھی۔ تابش نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
اگر یہ بات ہے تو تم یہ کہہ سکتی ہو مونا کہ میں بیوہ ہونے والی ہوں،، وہ خود اذیتی میں جبڑے بھینچ کر بولا تھا۔
یہ خلع ہو کر رہے گی،، وہ تڑخ کر بولی اب صاف اسے اذیت دے رہی تھی جو سالوں سے یہ شغل خود فرماتا آیا تھا۔
میرا نہیں خیال،، تابش نے بھی سکون سے کہا تھا۔
میں ،امی کو بتاؤں گی،، مومی کا پھر لہجہ بھیگ چکا تھا۔
یہی کہ میں نے تمھیں کس کی،، تاشو نے اسے چھیڑا۔
آئی ہیٹ یو تاشو،،
تاشو، مت بولو یار ، تب بولنا جب میرے پاس پرمنینٹلی آ جاؤ گی، رات بولنے کا انجام بھگت چکی ہو،، وہ صاف اسے زچ کر رہا تھا۔
اس گبر کی اولاد کو اگنور کرتی وہ واش روم گھس گئی۔
پیچھے وہ گہرا مسکرایا۔
مگر نہیں جانتا تھا یہ مسکراہٹ آج مونا اس سے چھین لے گی۔ آنسو اور تڑپ اس کا مقدر بن جائیں گے۔ وہ رات اس کے جس قدر قریب آیا وہ اس ضد بازی میں خود سے اسے اتنی ہی دور دھکیل دے گی۔
کیونکہ باہر پورچ میں نوید احسن کی گاڑی آ کر رکی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
