Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 19)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 19)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
آہہہ احمد اسے بھگاؤں نہ ہمیں ڈر لگتا ہے ان سے پلیز ۔۔۔؟” نور بکریوں کو دیکھتے ہوئے چیختی اسکے بازو کو سختی سے پکڑ لیا ۔۔ تھوڑی دور بهنس کھڑی تھی مرغے مرغی آس پاس بھاگ رہی تھی ۔۔ گاؤں کا بہت حسین منظر تھا یہ اور آس پاس لوگ ۔۔
” افف یار تم ہٹو گی تو ہی کچھ کرو گا نہ چھوڑو تو سہی مجھے ۔۔؟” احمد تو اسکی سخت گرفت میں ہل نہیں پایا تھا اگر ہلتا تو ساتھ وہ بھی کھینچی چلی آتی ۔۔
” نہیں نہیں یہ کھا جائے گا ہٹا دو نہ ۔۔۔!! وہ اب رونے جیسی ہوگئی تھی نور کو جانوروں سے بہت ڈر لگتا تھا ۔۔۔
” اگر اسی طرح میرے قریب رہی نہ تو میرا دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہو جائے گا ایک خوبصورت حسین چڑیل مجھ معصوم پر چمٹ گئی ہے ۔۔۔ مرد ہوں یار فیلنگ آتی ہے ہٹو اب ۔۔۔!! احمد تو واقعی اسکی قربت میں پگھل رہا تھا جیسے دل اسکی اور کھینچا جارہا تھا ۔۔۔ اوپر سے اسکا معصوم انداز بہت پیارا تھا ۔۔
” کیا آپ آپ کتنے بے شرم انسان ہے ۔۔۔!! نور اسکی باتوں سے شرمندہ ہوتی ساتھ لال پیلی ہوتی تیزی سے دور ہوئی ۔۔۔ تو احمد کی بھی سانس بحال ہوئی تھی ۔۔ اف یہ حسین چڑیل ضرور اسکے دل میں گھس جائے گی ۔۔ احمد کی سوچ تھی ۔۔۔ نور ڈرتی ہوئی ان سے تیزی سے دور بھاگتی اندر کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
______
” ارے چھوٹے ادا تم اور نور تم بھی آئی ہو ۔۔۔؟” عابیر انھیں گاؤں میں دیکھتی حیرت انگیز ہوئی ۔۔۔
” جی پیاری بھابی ہم لوگ آپ کو لینے آئے ہیں ۔۔!! احمد پیار سے بولتا عابیر کا ہنستا چہرہ مڑجھا گیا ۔۔
” پر چھوٹے ادا میں مینو کی شادی میں آئی ہوں کیسے جا سکتی ہو ابھی ۔۔۔!! عابیر نے بات سنمبھالی اسکی اماں وہی آگئ تھی ۔۔۔
” ہم بھی شادی دیکھنے آئے ہیں پھر ساتھ واپس جائے گے ۔۔ السلام علیکم سارا پھوپھو کیسی ہے آپ ۔۔؟” احمد آگے بڑھ کر سارا پھوپھو سے ملا نور کو عابیر کے گھر والے گاؤں سب پسند آیا تھا اسے یہاں بہت مزہ آرہا تھا احمد بھی اب ان کے ساتھ ہنستا مذاق مستی میں تھا عابیر کو ان کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی بار بار مرتضیٰ کا خیال آرہا تھا نہ جانے کیا کر رہا ہوگا غصہ ہوگا یہ سچ میں شادی کر لے گا دوسری اسکی محبت بھری باتیں وہ سب وعدے کیا جھوٹ تھا جتنا دل کو سمجھتا تو وہ اسی کا سوچتا پریشان ہو رہا تھا ۔۔۔
_____
” طبیعت ٹھیک ہے بیٹا یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو ۔۔؟” حمید صاحب رات کے بارہ بجے مرتضیٰ کو باہر لان میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو حیرت سے اسی طرف بڑھے وہ پانی پینے کے لئے اٹھے تھے جب گزرے تو انکی مرتضیٰ پر نظر پڑھی تھی ۔۔۔
” جی بابا ٹھیک ہو آپ اس وقت سوۓ نہیں ۔۔؟” مرتضیٰ جو اپنی ہی سوچوں میں تھا حمید صاحب کی آواز پر باہر کی دنیا میں لوٹا ۔۔۔
” گھر کی رونق گھر میں نہیں تو نیند کیسے آئے گی ۔ یاد آرہی ہے ۔۔؟” حمید صاحب عابیر کے ذکر پر مسکراتے ہوئے بولے تھے ۔۔
” نہیں میں کیوں کسی کو یاد کرو آپ سو جائے ۔۔ میں بھی جا رہا ہوں ۔۔!! مرتضیٰ ان کی باتوں سے بچنے کیلئے وہاں سے اٹھ جانا بہتر سمجھا تھا ۔۔۔
” مرتضیٰ ۔۔۔؟ حمید صاحب نے سنجیدگی سے پکارا ۔۔
” جی ۔۔؟” مرتضیٰ نے مڑ کر دیکھا ۔۔
” عابیر کو سچ میں چھوڑ دوگے ۔۔؟” حمید صاحب بیٹے کے تاثرات غور سے دیکھے ۔۔۔
“چھوڑنا اتنا آسان ہوتا ہے ۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔ اتنا بیغرت ہو ۔۔۔ موم کو سمجھا دونگا ۔۔!! وہ سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔
” مجھے اعتبار ہے آپ پر بیٹا لیکن یاد رکھنا وہ آپ کی عزت ہے آپ کی غیرت ہے اسے چھوڑ نے کا کبھی سوچنا مت مرتضیٰ ۔ ایک پاکیزہ نیک محبت کرنے والی عورت بہت کم لوگوں کے نصیب کا حصہ ہوتی ہے ۔ اسے پیار سے رکھو گے پیار دیگی وفا دو گے وفا ملے گی ۔بےوفائی کرو گے دغابازی کرے گی ۔ عابیر بہت الگ ہے یہی تو اسکی خوبصورتی ہے وہ سب سے الگ ہے پیارے دل کی ہے اسے گھر بنانا آتا ہے گھر ٹوڑ نا نہیں ۔۔ یاد رکھنا الفاظ میرے ۔۔۔!! حمید صاحب اسے بہت اچھے سے سمجھا کر گے تھے اپنے گہرے لفظوں سے وہ واقعی شرمندہ ہوا تھا ان کی باتوں سے ۔۔ حمید صاحب سمجھا کر اندر چلے گئے ۔۔ مرتضیٰ گہری سوچ میں پڑھ گیا تھا کہی نہ کہی آج تک کیے ہوئے اپنے رویہ پر شرمندہ تھا ۔۔جس کے سامنے ہونا چاہئے تھا تب ہوا نہیں اپنی لاپروائی سے وہ عابیر کو کھو سکتا تھا یہ احساس ہی جان لیوا تھا ۔۔۔
____
” عابیر مرتضیٰ لے ہی لیا اپنا بدلہ مجھ سے اب تیار رہو میرے وار کیلئے ۔۔۔ مجھے چھوڑ کر سزا دے رہی ہو تو تم نے دے دی تمہارے بغیر تو میرا جینا نہیں لیکن اپنے بغیر بھی تمہیں جینے نہیں دونگا ۔۔۔!! مرتضیٰ ایک نظر خود پر ڈالتا مسکراتے ہوئے خود کو آئینے میں دیکھا ۔۔۔ آج بہت خوش تھا موڈ فریش تھا اسکا ۔۔۔ عابیر کو گئے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا اور وہ کیسا گزرا تھا کوئی مرتضیٰ کے دل سے پوچھتا وہ دشمن جان ایک پل ایسا نہیں جو یاد نہ آئی ہو اور اس بیچ ہانیہ سے اسکی تلخ حقیقت باتیں بیان ہوئی وہ بہت اوٹ اوف مائنڈ لڑکی تھی یہ حقیقت اسکی ماں کے سامنے بھی پیش آگی تھی انھیں بھی ہانیہ نے اپنی کسی پارٹی پر بلا کر نو لفٹ کروائی جس پر ان کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوا تھا آج تک ان کے ساتھ کوئی اس طرح پیش نہیں آیا وہ سگی ہوکے بھی نیچا دکھا گی ۔۔ شازیہ بیگم کو عابیر لاکھ بری لگتی تھی پر اسکا عزت دینا انھیں پسند تھا اور اس وقت عابیر کی یہ اچھائی انھیں یاد آئی تھی ۔۔۔
” مرتضیٰ بیٹا کہی جا رہے ہو ۔۔؟” شازیہ بیگم اسے تیار سا دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔
” جی ایک ضروری کام سے آپ کو کچھ کام تھا ۔۔!! مرتضیٰ ان سے تھوڑا ناراض تھا اس لئے جواب بھی روکھا سا تھا ۔۔۔
” ناراض ہوں ۔۔؟” ماں تھی بیٹے کی ناراضگی کہاں برداشت ہوتی ۔۔ اسکا خاموش لہجہ انھیں مار دیتا تھا ۔۔
” نہیں میرے ناراض ہونے سے کیا ہوتا ہے آپ کہے کچھ کہنا تھا ۔۔!! مرتضیٰ نے لہجہ نرم رکھا ۔۔۔
” عابیر کو لینے نہیں جاؤ گے ۔۔؟” شازیہ بیگم کی بات پر وہ ایک پل کو انھیں دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
” نہیں آنا ہوگا خود آئے گی ۔۔۔ ویسے بھی اسکا یہاں کیا کام وہ اپنے گھر گئی ہے ۔۔!! حیرت سے نکلتا بگڑے موڈ سے بولا تھا ۔۔
” وہ مائیکے گئی ہے گھر اس کا یہ ہے چلے لینے اسے دیکھو گھر کتنا خالی سا لگ رہا ہے ۔۔ میری باتیں تمہیں عجیب لگ رہی ہوگی لیکن بغیر کوئی سوال جواب کے لے جا سکتے ہو ۔۔؟” شازیہ بیگم اسکے حیرت زدہ چہرے کو دیکھتی مسکرادی ۔۔۔
” میری دوسری شادی نہیں کروائے گی ۔۔؟” مرتضیٰ شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
“کہو تو عابیر سے کرواؤ پھر سے ۔۔؟” شازیہ بیگم بھی اسی کے طرح بولی تھی حمید صاحب اور دادی حیرانگی سے کب سے ان کی باتیں سن اور سمجھنے کی کوشش میں تھے ۔۔۔ مرتضیٰ کے قہقہے نے سب کی جان میں جان ڈال دی تھی ۔۔۔
_______
ایسے کیا دیکھ رہے ہوں ۔۔؟” نور کب سے اسکی خود پر نظر محسوس کر رہی تھی ۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ بولی تھی
” تمہاری خوبصورتی یار تم سچ میں اتنی حسین ہوں یا آج لگ رہی ہوں ۔۔۔؟” احمد تو اسکے حسن پر فدا ہو گیا تھا وہ بلوچی جوڑے میں سمپل سے میک اپ کھلے کندھوں تک آتے بال بہت پیاری اور حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ احمد کو بہت اٹریک کر رہی تھی اس روپ میں ۔۔ اسکے دل میں تو کب سے محبت جاگی تھی اسکے لئے بس اعتراف کرنے میں ٹائم لگ رہا تھا یا سمجھ نہیں آرہا تھا خود کی فیلنگز ۔۔
” شٹ اپ اپنی نگاہوں کو ہم پر سے ہٹاوں ۔۔۔؟” نور چڑی تھی ۔۔ اسکی باتوں سے ۔۔
“ہمیں زندہ رہنے دو ے حسن والوں ۔۔ اب تو مشکل ہے یار میری نگاہ پڑتی ہی خوبصورت لڑکیوں پر ہے ۔۔ اور پھر انھیں ہٹانا بے حد مشکل ہو جاتا ہے میرے لئے ۔۔۔!! احمد گہری دلچسپی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔
” آپ آپ ہٹو یہاں سے چیچھورا کہی کا ۔۔۔!! نور کے پاس الفاظ نہیں تھے جسے اس پر ضایع کرنے کو وہ اسے دھکہ دیتی آگے بڑھ گئی تھی ۔۔ آج گاؤں میں مینو کی منہدی تھی کل برات تھی اور مرتضیٰ کے گھر والے کل آنے تھے آج سب مل کر محفل لگا رہے تھے عابیر اور نور ایک جیسی ڈریس کی ہوئی تھی عابیر کی خوبصورتی دیکھنے والا یہاں موجود نہیں تھا ورنہ آج پھر آپنا آپ ہار جاتا اسکے آگے ۔۔۔
_______
” عابیر سچ بتا سب ٹھیک تو ہے نہ تم ایسے اچانک آفاق کے ساتھ آئی پھر احمد بابا آئے ہے اپنے سائیں کے ساتھ لڑ جگڑ کر تو نہیں آئی کہی ۔۔۔!! ماں تھی پریشان ہوئی اس طرح آنے پر پھر احمد لوگ کا یوں پیچھے آنا اور اب کل حمید صاحب اور دادی والے آرہے تھے ۔۔
” نہیں اماں تم پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوا میں تو مینو کی شادی کیلئے آئی ہو سائیں کو بتایا تھا خامخا وہم نہ پال ۔۔۔!! عابیر اس وقت ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ یہ اسکی قسمت تھی نہ جانے کیا فیصلہ ہونا تھا پر اس وقت سب خوش تھے وہ کوئی پریشانی والی بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
” تو سچ کہہ رہی ہے نہ ۔۔؟” سارا نے پریشانی سے پوچھا ۔۔ عابیر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گلے لگ گئی ان کے ماں کی آغوش میں اپنے غم کا اظہار بھی نہ کر پائی ۔۔۔
________
” نور تمہیں ان معصوم جانورں سے ڈر کیوں لگتا ہے یار یہ دیکھو کتنے پیارے ہے ۔۔۔!! احمد اور نور اس وقت ان کی زمینوں پر گھومنے آئے ہوئے تھے اور یہاں بھی بکریاں اور چھوٹے چھوٹے پیارے دوسرے جاندار تھے پر نور کو ان سے بے حد ڈر لگتا تھا عابیر انھیں اپنا گاؤں گھما رہی تھی ۔۔۔
” ہاں پیارے بہت ہے دل بھی کرتا ہے ہاتھ لگاؤ پر پتا نہیں کیوں عجیب سا ڈر لگتا ہے ان کے ہاتھ ، پاؤں اور منہ سے ۔۔۔!! نور کیوٹ سا منہ بناتے ہوئے بول رہی تھی احمد مسکراتا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
” اچھا تو آؤ ۔۔۔ آہہہ احمد نہیں پلیز یہ یہ کاٹے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہوتا کچھ بس پیار سے ہاتھ پھیرتی جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہمیں ڈر لگ رہا ہے چھوڑو ۔۔۔۔!! احمد اچانک سے اسکا ہاتھ پکڑتا پاس کھڑی بکری کے سر پر پھیرنے لگا اسکا ہاتھ احمد کی سخت گرفت میں تھا وہ ڈر سے چیختی دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی پر احمد صاحب نے تو جیسے سوچ لیا تھا آج اسکا ڈر ختم کر کے رہے گا پر اتنا آسان نہیں ہوتا جس چیز سے ڈر لگتا ہے ایکدم ختم ہو جائے ناممکن ہے ۔۔
” ہم مرتضیٰ بھائی کو بتائے گے آپ ہمیں یہاں تنگ کر رہے ہیں بہت ۔۔۔!! نور ناراضگی سے بولی تھی ۔۔
” ہاہاہا یار میں تو مذاق کر رہا ہوں یہ سب بچپنہ عجیب نہیں تمہارا اور جاؤ جسے بتانا ہے بتاؤ ڈرتا تھوڑی ہو کسی سے ۔۔۔!! احمد اچانک سے اسکے قریب ہوتا بولا نور گھبرا کر پیچھے ہوئی کے پاؤں مڑا تھا اس سے پہلے گرتی احمد نے تھام لیا اسکا ہاتھ جھٹکا دیتا خود کے قریب کیا وہ سینے سے لگتی ایک ہاتھ سے فاصلہ بنایا ایک پل کو سانس روک گئی دھڑکنوں میں شور سا مچ گیا تھا ۔۔
” آ ۔آپ چچ ۔۔چھوڑے ہمیں بہت چیچھوری حرکتیں کر رہے ہیں ہمیں سب دیکھ رہیں ہے گھر جاکے مرتضیٰ بھائی کو بتاؤ گی ان کے بھائی کی نیت کتنی خراب ہے ۔۔۔!! نور ہوش میں آتی تیزی سے دور ہوتی غصے میں گھبراتی ہوئی جو منہ میں آیا بول گئی ایک تو بچایا اس نے ورنہ پیچھے کیچڑ میں گر جاتی پر ہوا بھی تو اسکی وجہ سے تھا ۔۔۔
” کیا مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ایسی بکواس حرکتیں کرو گا ایک تو گرنے سے بچایا ہے اپر سے احسان فراموش لڑکی ۔۔!! وہ دانت پیستا ہوا بولا ۔۔۔
” ہاہاہا کیا یہ بات عابیر بھابی کو پتا ہے ۔۔؟” نور کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ تھی ۔۔۔
” کون سی بات ۔۔؟” احمد نے ناسمجھی سے دیکھا اسے ۔۔
” یہی پاگل کتے نے کاٹا تھا آپ کو ہاہاہاہا ۔۔۔!! اسکی بات پر احمد کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا اور وہ تھی ہنسے جا رہی تھی ۔۔۔ پھر یکدم چہرے کے رنگ بدلے اس نے ان بکریوں کو اسی اور گھما دیا اب وہ بکریاں اسکے قریب جا رہی تھی نور کی ہنسی چیخوں میں بدلی ۔۔۔ اب ہنسے کی باری احمد کی تھی ۔۔۔
” اااہہہ احمد ہمیں بچاؤ پلیز امی بابا ۔۔۔!!
اسکے بار بار چلانے پر احمد نے غصے میں آکر اسے اٹھا لیا تھا بازوں میں یکدم اسکی چیخیں تھم سی گئی دل کان میں دھڑکنے لگا تھا ۔۔ آنکھیں نم سی ہوگئی تھی ۔۔
” اب خوش وہ تمہارے پاؤں میں کیا ہاتھ منہ تک نہیں پونچ سکتے ہیں اور تم چلا چلا کر پورے گاؤں والوں کو جمع کر دوگی یہ کوئی خون خوار جانور نہیں ہے ۔۔۔!! احمد خود بھی ہوش میں نہیں تھا اس لئے فل وقت غصے میں کہتا گیا ۔۔ اسکی چیخوں نے دماغ خراب کر دیا تھا ۔۔۔
” احمد سائیں آپ نے بی بی جی کو گود میں کیوں اٹھایا ہوا ہے بی بی جی کو چوٹ لگی ہے کیا ۔۔؟” آفاق انھیں دیکھتا گویا یہی اندازہ لگایا تھا جب کہ اسکے کہنے پر احمد نے غور سے نور کا چہرہ یو قریب سے دیکھتا ساکت رہ گیا اب اسکا دل دھڑکا تھا اور محبت کے ہی نارے لگاۓ جارے تھے ۔۔
” کیا ہوا چھوٹے ادا نور کو کیا ہوا ہے ۔۔؟” عابیر پریشان سی ان کے قریب آتے پوچھا تھا ۔۔
” ہاں وہ اسکا پاؤں مڑ گیا تھا چل نہیں سکتی بیچاری اس لئے اٹھانا پڑا گھر چلتے ہیں اب ۔۔!! احمد بہانہ بناتا اسے لے کے آگے بڑھا باقی سب پیچھے آئے ۔۔
” کک کیا آپ جھوٹ ۔۔۔۔۔ شش سچ بولو گی تو وجہ پوچھے گے سوچو کتنا ہنسے گے تمہاری نادانی پر ۔۔!! احمد نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے چپ کروایا ۔۔ نور کو اسکے ساتھ مزہ بھی آتا تھا ایک خوبصورت سا احساس ہونے لگا تھا اس سنگ یہی فیلنگ دوسری طرف بھی تھی ۔۔۔
_____
” السلام علیکم نانی اماں کسی ہو ماموں سائیں آپ کیسے ہے ۔۔۔؟” عابیر ان سب کو یہاں دیکھ کر بہت خوش ہوئی بس کسی کی کمی محسوس ہوئی دل چاہا کاش اسکا دیدار ہو جائے پر شاید یہ انتظار یہی رہ جانا تھا وہ لوگ شادی پر آئے ہوئے تھے شازیہ بیگم بھی ساتھ تھی عابیر کو حیرت ہوئی وہ اس سے اتنے اچھے سے ملی تھی دل ایکدم بھر آیا تھا کاش وہ پہلے سے ہی اچھے سے پیش آتی تو آج وہ اپنے سائیں کی زندگی میں ہوتی ۔۔۔
” جاؤ بیٹا سب کے لئے چائے پانی کا انتظام کرو ۔۔۔!! سب ایک دوسرے سے ملنے باتیں کرنے کے بعد کمرے میں چلے گے تھے ۔۔
” آجاؤ بیٹا یہ ہے آپ کا کمرا عابیر تم مرتضیٰ سائیں کو اپنا کمرا کیوں نہیں دکھایا ۔۔۔!! سارا پھوپھو اسکے ساتھ اندر داخل ہوئی وہ جو پلنگ پر چادر چڑھا رہی تھی اسے لگا نانی اماں اسکے ساتھ رہے گی اس لئے اپنے کام میں مگن دوپٹہ کہی بالوں کا ہلکا سا جوڑا بنا ہوا تھا سفید لان کے کپڑوں میں وہ اس وقت ایک خوبصورت پرکشش حسن رکھتی تھی اور اسکے اس روپ نے سامنے والے کے ہوش اڑا دیے سوے ہوئے جذبات انگڑائی لے کے جاگ اٹھے تھے ۔۔۔ اور وہ اسے یوں اچانک سامنے دیکھ کر ساکت ہوگئی تھی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ سارا اپنا کام کرتی چلی گئی کب پتا ہی نہیں چلا دونوں کو ۔۔ نظروں کے تصادم ہی کمال کا ہوا تھا جو نگاہیں ٹھری ہوئی تھی ایک دوسرے پر ابھی تک ۔۔۔۔ مرتضیٰ کا یوں اچانک آنا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا وہ آیا ہوا تھا پر اس نے نہیں دیکھا تھا سب کو اندر بھیج کر وہ اپنا کمرا صاف کرنے آئی تھی اب نیت نانی اماں کو لے کے آنے کی تھی یہاں پر لیکن اسکی موجودگی نے تو اسکا دل دھڑک دھڑک کر گویا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا ۔۔۔ مرتضیٰ ہوش میں آتا خود پر لعنت ملامت کرتا اسے اگنور کر کے باتھ روم میں گھس گیا تھا ۔۔عابیر بڑھتی دھڑکنوں سے خود کو سنمبھالتی گہرے سانس لئے تھے ۔۔۔
” سس ۔۔سائیں یہاں کیسے وہ وہ تو نہیں آئے ہوئے تھے پھر یہ اچانک ۔۔ کہی میرا وہم تو نہیں ۔۔ نہیں نہیں یہ سچی والے سائیں لگ رہے ہیں مجھے دیکھا اور بات تک نہیں کی آنکھوں سے ہی مار رہے تھے ہاں سائیں جی ہے میرے ۔۔۔۔۔ میرے ۔۔!! خود سے بڑبڑاتی وہ پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی آخری لفظوں میں ہونٹوں پر گہری خوبصورت مسکراہٹ سی آگئ تھی ۔۔۔ مرتضیٰ باہر آتا یہ حسین منظر اپنی نگاہ میں قید کر چکا تھا ۔۔۔ وہ چپ چاپ چلتا ہوا اپنے بیگ سے کچھ چیزے دیکھتا روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔ عابیر کو حیران و پریشان سی وہی کھڑی مرتضیٰ کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کی اسے اب تک اپنی پوزیشن کا ہوش نہیں تھا ۔۔ کیا وہ ناراض ہے وہ بتا کر نہیں آئی اس لئے یا کچھ اور بات ہے اب اسے بے چینی ہونے لگی تھی جلدی سے اپنا دوپٹہ سنمبھالتی باہر آئی اسکے پیچھے ۔۔
” بھائی آپ بھی آئے ہیں ۔ آپ کو پتا ہے یہاں بہت مزہ آتا ہے ہم نے بہت انجوائے کیا ہے ۔۔۔!! احمد اپنے بھائی کو دیکھتا خوشی سے بولا تھا ۔۔
” پھپھو مجھے ایک کپ چائے مل سکتی ہے بہت تھکا ہوا ہوں سر درد ہے ۔۔!! مرتضیٰ گمبھیر آواز پر اسکا دل پھر زورو سے دھڑک اٹھا تھا پہلے ہی دھڑکیں مشکل سے سنمبھالی تھی ۔۔۔
” ہاں ہاں ضرور بیٹا عابیر کھڑی کیوں ہو جاؤ اچھی سی چائے بنا آؤ ۔۔۔!! سارا پھوپھو داماد پر واری جارہی تھی ۔۔۔۔ ماں کے کہنے پر وہ اپنی دھڑکنوں کو سنمبھالتی ہوئی آگے بڑھی تھی کہ قدم ٹھر گئے تھے آنسوں کا گولہ اٹک سا گیا تھا اسکی بےرخی پر ۔۔۔
” نہیں سارا پھوپھو آپ کے ہاتھ کی پینی ہے اتنے وقت بعد آیا ہوں ۔۔ اپنے ہاتھوں سے نہیں بنا کر پلائے گی ۔۔!؟”مرتضیٰ ساس کو پیار سے کہتا انھیں کچن میں بھیج چکا تھا خود روم میں چلا گیا ۔۔۔ وہ وہی کھڑی ایک آنسوں گالوں پر پھسل گیا ۔۔۔
_____
” نانی اماں سنو نہ وہ سائیں مجھ سے بات نہیں کر رہے کیوں وہ ناراض ہے یا غصہ ہے بتاؤ نہ مجھے اچھا نہیں لگ رہا وہ بات نہیں کر رہے مجھ سے مجھے رونا آرہا ہے یہ دیکھو ابھی بھی آنسوں آرہے ہے ۔۔۔!! وہ بہت پریشان ہوگئی تھی مرتضیٰ کے اگنور کرنے پر ساری رات اس نے بات نہیں کی صبح بھی جلدی اٹھ کر جیسے باہر گیا ہوا تھا باہر ہی تھا سب سے ہنس کر باتیں کر رہا تھا اس پر نظر پڑھتے ہی خاموش ہو جاتا نظریں چرا لیتا تھا ۔۔ اسکا یہ انداز بے رخی کی مار اسے مار رہا تھا ۔۔۔
” ہاں تو تجھے کیا یہاں بھی میں زربدستی لائی ہو آ ہی نہیں رہا تھا تو پوچھ کر گئی تھی اس سے کوئی بات مانتی ہو میرے بیٹے کی نہیں بس یہ کینچی جیسی زبان چلتی ہے تیری بتایا ہے سب تیری ماں کو کس طرح خود کا گھر برباد کر رہی ہو ۔۔۔!! نانی اماں بھی ناراض تھی ۔۔۔
” ہاں ہاں ڈال دو سب میرے سر پر ۔۔ میں ہی بری تم سب اچھے بس ۔۔۔ جاؤ سب جنت میں ۔۔ایک میں ہی جہنم کے دروازے پر کھڑی ہوگی ہے نہ ۔۔۔۔۔ برا مت ماننا اماں نانی ہے تیرے بھی قبر میں پیر پھر بھی سچ نہیں بول رہی میں میرے ساتھ آج تک سائیں نے کچھ اچھا نہیں کیا پھر بھی میں ان کے ساتھ رہی ۔۔۔!! ایک تو پہلے ہی پریشان تھی مرتضیٰ کے یو بلاوجہ ناراضگی پر خفا اب غصہ آرہا تھا اپر سے نانی اماں کی باتوں نے مزید دماغ خراب کردیا اس کا ۔۔۔
” لڑکی شرم لحاظ کچھ نہیں اندر تیرے بلاؤ اپنے پوتے کو میں ۔۔۔؟” نانی اماں نے دھمکی دی ۔۔
” ہاں ہاں بلاؤ اب یہ دھمکی دینا باقی رہ گئی تھی تم سب چاہتے ہی یہی ہوں یہ سائیں ہی میری جان لے میرا خون ان کے ہاتھوں ہو جائے ۔۔۔!! اسے رونا آنے لگا تھا بھاگتی ہوئی چلی اپنے روم میں ۔۔۔
______
” افف عابیر آپ بہت حسین لگ رہی ہے یار آج تو مرتضیٰ بھائی پکا دیوانے ہو جائے گے آپ کے دیکھنا یہ حسن کا جادو کیسے چلتا ہے ان پر ۔۔۔!! نور عابیر کو بے حد خوبصورت سا تیار کرتی اب اسے چھیڑ رہی تھی ۔۔۔ اس نے ایک نگاہ آئینے پر ڈالی اپنے خوبصورت سراپے کو دیکھا کیا وہ سائیں کو اچھی لگ سکتی ہے پہلا خیال ہی یہی تھا ۔۔۔ سب نیچے بڑے سے آنگن میں تھے یہی پر ساری سجاوت کی گئی تھی ہر چیز بہت خوبصورت تھی ۔۔۔۔۔ وہ مہررون کلر کے ہلکے سے کام دار کپڑوں میں ملبوس تھی خوبصورت لمبے بال کمر پر لہرا رہے تھے آج تو جیسے پکا انتظام کیا ہوا تھا آپ نے سائیں پر بجلیاں گرانے کی ۔۔۔۔ اور وہ بھی آج کچھ کم نہیں لگ رہا تھا سفید کاٹن کے سلوار قمیز میں بے حد وجیہہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ کب سے بے چین نظریں دشمن جان کو ڈھونڈ رہی تھی جب وہ سامنے آئی دکھائی دی پھر کچھ دکھائی نہ دیا ۔۔۔ وہ دادی سے باتیں کرتی کچھ کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی اپنے چچا والوں کے مینو کی شادی تھی کیسے پیچھے رہتی ۔۔۔ مرتضیٰ اسے اندر جاتا دیکھتا اسکے پیچھے گیا تھا ۔۔۔ ناراضگی اپنی جگہ پر اتنی قاتل حسینہ کو اگنور کرنا بہت مشکل کام تھا جو اب ضبط کے بعد بھی ٹوٹ رہا تھا ۔۔۔
” ” بھائی کدھر ۔۔؟” احمد بیچ رہ میں حائل ہو گیا ۔۔
” وہ کچھ کام ہے آتا ہوں ۔۔!! مرتضیٰ جلدی بہانہ کرتا وہاں سے جانے لگا احمد پھر کچھ کہتا مرتضیٰ تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔
” آپ ولن کیوں بن رہے ہے ان کے بیچ ۔۔۔؟” نور احمد کو آنکھیں دیکھتی اسکا یوں مرتضیٰ کو روکنا سمجھ گئی تھی ۔۔۔
” نہیں میں تو ہیرو بننا چاہتا ہوں وہ بھی تمہارا ۔۔!! احمد شرارت سے آنکھ ونگ کرتا مسکرایا تھا ۔۔۔
” یار آج بھی میرے دل پر بجلیاں گرانے آئی ہو ۔۔۔ دیکھو بندا معصوم ہوں یو سرے عام بدنام نہ کرو ۔۔۔!! احمد کی آنکھوں میں شرارت تھی لہجہ محبت سے چور تھا نور گھبراتی دور ہوئی اس سے اسکا یوں بات کرنے کا انداز اسے گھبرانے پر مجبور کر دیتا تھا ۔۔۔
” آ ۔آپ ہم نے کہا تھا نہ ہم سے ایسی واہیات باتیں نہ کیا کرے ہم مرتضیٰ بھائی کو بتا دیگے ۔۔۔!! نور گھبراہٹ پر قابو پاتی اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔
” یار بھائی کی دھمکی نہ دیا کرو میں بہت شریف بندا ہوں تم جانتی نہیں ایک بار جسے دل میں بیٹھا لیا اسے کہی اور نہیں بیٹھاتا اور اب تیار رہنا ۔۔۔!! احمد یکدم سنجیدہ ہوا ۔۔۔
” کس لئے تیار ۔۔؟” نور نہ سمجھی سے پوچھا ۔۔
” اگلی ہماری باری ہے جلد آؤ گا رشتہ مانگنے ۔۔۔!! احمد کے انداز نے اسے سر سے پیر تک سرخ کردیا ۔۔۔ دل زور سے دھڑک اٹھا تھا کچھ کہنے کو تھا نہیں مڑ کر چلی گئی جاتے ہوئے نہ جانے کیوں ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے اور احمد نے بھی اسکی پشت پر محبت بھری نگاہ ڈالی ۔۔۔ نور تو اسے شروع سے ہی پسند آگئ تھی پر کچھ اسکے نخرے والے انداز پر چڑا تھا لیکن یہاں آتے اسکے ساتھ خوبصورت لمحات گزارنے پر احساس ہوا محبت ہوگئی ہے نور سے اسے ۔۔۔ دل کے حالات چھپانے سے اچھا بیان کیا جائے ۔۔۔
_____
عابیر جلد بازی میں سیڑھیوں سے اتر رہی تھی کہ ڈسبیلنس ہوتے ہی لڑکھڑائی، گرنے کے ڈر سے فوراً آنکھیں کبوتر کی طرح میچ لیں تھی۔ اِس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی، کسی نے کمر سے پکڑ کر اُسے گرنے سے بچایا تھا۔ دل تھم گیا، سانس رُک گئی، جب ناک کے نتھنوں سے ٹکراتی محسور کن خوشبو نے سانسوں کو مہکایا تھا۔ وہ دم سادے اِس لمحے کو محسوس کرتی،۔شرم سے بوجھل پلکوں کو دھیرے سے سامنے کھڑے وجود پر ڈالی تھی ۔۔۔ دھڑکنوں نے سائیں کی یہاں موجودگی پر شور مچایا تھا ۔ دوسری طرف بھی کچھ ایسی کیفیت پیدا ہوئی تھی نازک صورتحال پیش ہوئی تھی ضبط کے بندھن ٹوٹنے پر تھے ۔۔۔ مرتضیٰ کے مظبوط حصار میں کھڑی وہ لرزتی پلکوں کے رقص نے مرتضیٰ کو گستاخیوں پر اكسایا ۔۔۔۔ سارا پھوپھو کی دور سے آتی آواز پر دونوں ہوش کی دنیا میں آئے ۔۔
” ش ۔ شکریہ ۔۔!! عابیر مدھم دھڑکنوں سے کچھ کہتی وہ خاموشی سے اپنا راستہ اختیار کرتا چلا گیا ۔۔۔ اس نے مڑ کر اس بےوفا کو دیکھا دل بھر سا آیا تھا پھر رونے کو جی چاہا تھا پر اب بس ہوگئی تھی اسکی ۔۔ نم نگاہوں سے دیکھتے ہوئے غصے سے اسکے پیچھے گئی تھی ۔۔۔ مرتضیٰ کمرے میں آتا سگریٹ سلگا کر تیکھی نظروں سے سامنے عابیر کو دیکھا ۔۔۔ اسے ڈبڈبائی نظروں سے خود کو دیکھتا پا کر وہ لب بھینچ گیا ۔۔۔
” س ۔ سائیں ۔۔؟ کپکپاتی آواز تھی ۔۔
” کوئی کام تھا ۔۔؟” سرد تاثرات تھے ۔۔
” آپ ناراض کیوں ہے ۔۔؟” اسے رونا آیا تھا اسکے سرد لہجے پر ۔۔۔
” میں ناراض کیوں ہوں یہ جانتے ہوئے بھی پوچھ رہی ہو تم ۔ منع کیا تھا میری اجازت سے کہی نہیں جاؤ گی پھر بھی تم نے اپنی مرضی کی اب اب میرا بات نا کرنا برا لگ رہا ہے تمہیں ۔۔۔!! مرتضیٰ سگریٹ پھینکتا تیزی سے اسکے قریب آیا ۔ اسے اپنی طرف کھینچا تھا ایک ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکتا وہ چبا چبا کر بولا۔۔ اپنے بازو پر اس کی سخت گرفت اور کھردرا لب و لہجہ محسوس کر کے وہ ڈر گئی تھی پر ہمت نہیں ہارنی تھی ۔۔۔
” سائیں آپ بھی تو یقین نہیں کرتے مجھ پر میں نے ساس اماں کو کبھی کچھ برا نہیں کہا ۔ اس لئے سوچا آپ نے کبھی اعتبار نہیں کیا مجھ پر پھر کیسے رہ لیتی آپ کے ساتھ ۔۔۔!! وہ بھاری لہجے میں بولتے ہوئے رکی آنسوں تیزی سے بہنے شروع ہوئے تھے ۔۔ مرتضیٰ سخت ہونا چاہتا تھا اور غصہ کرنا تھا پر اسکی خوبصورت قاتل نم آنکھوں نے بولنے سے روک دیا ۔۔۔
” ہمارے بیچ جو بھی ہوا وہ سب ایک غلط فہمی تھی ہم بھی انسان ہے کبھی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا سب چھوڑ کے چلے جاؤ سب ختم ہو گیا ۔۔۔!! مرتضیٰ سنجیدگی سے بولا ۔۔
“پھر سس سائیں آپ یہاں کیوں ۔۔۔!! وہ پوچھنا چاہتی تھی کیا آپ میرے لئے آئے ہے تو یو بےوفائی والا سلوک کیوں ۔۔۔
” کیوں نہیں آ سکتا او تمہیں لگ رہا ہوگا تمہیں مارنے آیا ہو بدلہ لینے ارے نہیں عابیر میں تو یہاں اپنے پیسے لینے آیا تھا تم سے ۔۔!! مرتضیٰ کا لہجہ یکدم بدلہ تھا اب سامنے حق رکھتی حسین بیوی کو کب تک خود پر ضبط کرتا ۔۔۔
” پپ پیسے کون سے میرے پاس آپ کے کوئی پیسے نہیں قسم لے لے سائیں میں کوئی پیسے چوری کر کے نہیں آئی وہ تو ایک بار ہی ہاتھ لگے ۔۔۔!! وہ آنسوں صاف کرتی خود پر لگے الزام سے تڑپ اٹھی ۔۔۔
” ہاں میری معصوم بیگم وہی ایک ہزار روپے لینے آیا ہوں۔۔ پولیس والے کہاں چھوڑتے ہیں اپنا حساب ۔۔۔؟” آنکھوں میں خمار سا اترا ۔۔ لہجہ شرارتی تھا ۔۔۔ مکمل اپنے حصار میں لیا اسے دونوں بازوں کمر کے گرد حائل کیے تھے ۔۔۔ وہ شرم حیا سے نگاہ نہیں ملا پائی ۔۔ پر اسکی باتوں نے حیرت سے اسکی طرف توجہ دی ۔۔
” سائیں تم ۔۔۔۔”اسے دکھ ہوا رونے کی وجہ سے بولا نہ گیا ۔۔۔
” ابا سے لے کے آتی ہو ۔۔!! وہ حصار سے نکلنے کو مچھلی پر اسکی گرفت مضبوط تھی ۔۔
” رکے محترمہ تم میرا حساب پیسے سے نہیں دوگی بلکے وہ قرض اپنی محبت سے ادا کروگی ۔۔۔!! مرتضیٰ کا انداز بہت رومانس تھا اسے مزید کھینچ کر خود کے قریب کیا ایک بازو اسکی کمر پر باندھ کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا وہ مکمل اسکے حصار میں تھی حیا سے سرخ چہرہ قربت بھی کیا کمال کی تھی آج تو جان لینے کے در پر تھی ۔۔ وہ شرم سے چہرہ سینے میں چھپا گئی ۔۔
” سائیں جی اب ناراض نہیں ۔۔؟” ہلکی سے آواز میں پوچھا تھا ۔۔۔
” کس نے کہا ناراض نہیں یہ تو اپنا حق جتا رہا ہوں ۔۔۔۔ منانے کیلئے کچھ کرو تو مانوں ۔۔؟” وہ اس کے کان کے پاس سرگوشی کرتے بولا ۔ اس کے لفظوں پر عابیر کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ ہوئی تھی ۔۔۔
” سس سائیں ۔۔!! اسکی گستاخی پر وہ خفا ہوتی دور ہوئی ۔۔۔ مرتضیٰ نے مسکراہٹ دبا کر آنکھیں دکھائی ۔۔۔
________
” عابیر تم ٹھیک ہو ۔۔؟” سارا اسکی صبح سے طبیعت خرابی پر پریشان سی ہوگئی تھی کل شادی ختم ہوتے ہی سب چلے گئے تھے دادی اور عابیر ولیمہ کیلئے رکے ہوئے تھے جس پر مرتضیٰ پھر اس سے خفا ہو کر گیا تھا وہ چاہا کر بھی یہاں رک نہیں پایا تھا جاب تھی احمد اور نور کی پڑھائی وہ لوگ وعدہ کر کے گئے تھے ولیمہ پر آئے گے پھر ساتھ عابیر دادی کو لے جائے گے حمید صاحب شازیہ بیگم بھی بچوں کے ساتھ واپس چلئ تھی ۔۔ عابیر پھر اپنے سائیں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی پر اسکی قسمت میں سائیں کے ساتھ سکون کے لمحات جیسے گزر نہیں رہے تھے اور آج صبح سے طبیعت میں بوجل پن محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
” عابیر اپنی ماں کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی جاؤ طبیعت زیادہ خراب نہ ہو جائے ۔۔۔!! نانی اماں نے بھی پریشانی سے کہا ۔۔۔
” نہیں اماں اب کیا ڈاکٹر کے پاس جانا کچھ الٹا سیدھا کھایا ہوگا اس لئے ۔۔۔۔۔۔ عابیر ۔۔۔!! وہ بولتے ہوئے بیہوش ہوگئی تھی سارا امی اور نانی اماں کی چیخوں پر سب اندر آگئے تھے ۔۔۔ جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اسے ۔۔۔ اور اسی وقت وڈیرہ کو نظر عابیر کے بیہوش وجود کو ہسپتال میں داخل ہوتے ہوئے پڑی تھی ۔۔۔۔۔
