Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544

Last updated:

1.0(3 ratings)
Episodes
20
Views
745.5K
Status
Completed

About this novel

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

” اماں نانی بچا مجھے اپنے پوتے سے وہ میری جان کو آرہا ہے۔۔!! عابیر ننگے پاؤں اندر بھاگتے ہوئے آتی اماں نانی کے پیچھے چھپ گئی وہ جو اسکی چیخ پر اٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ اسکے تیزی سے آتے بولنے پر پریشان ہو گئیں۔شازیہ بیگم بھی پریشان سی ہو گئی۔
” تم باہر نکلو تمہیں تو میں جیل میں ڈال کر سیدھا کروں گا زبان سے صرف گالیاں نکلتی ہیں اسکے یہ سیکھ کر آئی ہے اسے ابھی کے ابھی نکالیں دادو میں ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا اسے ۔۔۔؟” مرتضیٰ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسکا کچھ کردے غصے میں اسکا سفید رنگ سرخ پڑ گیا تھا ۔۔شازیہ بیگم نے بیٹے کی حالت دیکھتی ایک نظر نفرت سے اس پر ڈالی جو نانی کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ۔۔احمد وہاں خاموشی سے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
” اب کیا کردیا لڑکی تم نے ۔۔؟ نانی اماں نے غصے سے پیچھے موڑ کر اسے دیکھا ۔۔۔
” نانی اماں قسم لے لے میں نے کچھ نہیں کیا وہ تو غلطی سے یہ سامنے آگیا تو پانی ۔۔۔
” اور وہ جو تمہارے منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔۔؟”
” وہ تو تم نے غصہ دلایا اس لئے اور نانی اماں اسنے مجھے مارا بھی ۔۔!! اسکے بولنے پر وہ تڑپ کر نانی اماں کو صفائی دی ساتھ ساتھ رونا بھی جاری تھا احمد کو اسکا رونا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اسے اپنے بھائی پر غصہ آیا پر چپ رہا ۔۔
” اماں مرتضیٰ صحیح کہ رہا ہے آپ اس جاہل لڑکی کو واپس بھیج دیں دو دن نہیں ہوئے اس کا یہ حال ہے آپ خود سوچیں ہمارا اٹھنا بیٹھنا اچھے اسٹینڈرڈ لوگوں میں ہے اور یہ جاہل لڑکی اپنی زبان سے ہمیں شرمندہ کر دے گی۔۔!! شازیہ بیگم نے غصے اور ناگواری سے عابیر کو دیکھا ۔۔ وہ انکی باتوں پر چپ ہو گئی تھی ۔۔مرتضیٰ بےزاری سے ایک نگاہ اسکے جھکے سر پر ڈالتا غصے سے روم میں چلا گیا اور پیچھے شازیہ بیگم بھی جانے سے پہلے سنانا نہ بھولی ۔۔
” اماں آپ سارا کو بلاتی اس سے اچھا تھا اسکے پر کاٹ دیں آپ نے اسکو اپنے لئے بلایا ہے وہیں تک رکھیں پورے گھر میں دندناتی نہ پھرے ۔۔!! شازیہ بیگم آخری زہر کند لفظ استعمال کرتے ہوئے چلتی بنی ۔۔احمد ایک افسوس نگاہ اس پر ڈالتا روم میں چلا گیا اب وہاں دادی اور وہ جھکے سر سے کھڑی تھی۔۔
” کمرے میں آؤ بات کرنی ہے تم سے ۔۔؟” نانی اماں کی سخت آواز پر آنکھیں صاف کرتی انکے پیچھے گئی ۔۔
” تم جانتی ہو نہ تمہاری ماں باپ نے یہاں کیوں بھیجا ہے تمہیں ۔۔؟” نانی اماں کا سخت لہجہ تھا اس نے جھکے سر سے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
” میں نے رات کیا سکھایا تھا یہاں رہو گی تو مرتضیٰ شازیہ سے کوئی بات بحث نہیں کرو گی جو کہیں گے آگے سے بس سنتی رہنا اگر یہیں رہنا ہے تو یہ انکا گھر ہے کبھی بھی تمہیں نکال سکتے ہیں اور تم جانتی ہو کیا کہہ کر میں نے تمہیں بلایا ہے میں بیمار ہوں اپنے لئے کسی کی ضرورت ہے اس لئے تمہیں یہی رکنے کو بلایا ہے اور تم ہو کہ مجھے شرمندہ کرنے میں لگی ہو ۔۔؟” نانی اماں سخت ناراض تھیں انھیں بھی اسکی تیز چلتی زبان پسند نہیں تھی پھر اسکے گھر میں باقی سب کو کیسے پسند ہوگی۔۔
” نانی اماں تم ناراض تو نہ ہو میں مافی مانگ لوں گی بس اب گالی بھی نہیں دوں گی لیکن دل میں تو دے سکتی ہوں نہ ۔۔؟” وہ جھک کر نانی اماں کے گھٹنوں کو دبا کر آخر میں شرارت سے بولی جس پر نانی اماں کی ہنسی نکلی۔۔
” دیکھوں بیٹا میں جانتی ہو

Episodes

Muhabat Hogai Hai (Episode 01)

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

” ادا جی آگے گاڑی چل کیوں نہیں رہی چلاؤ گھر جلدی پہنچنا ہے نانی اماں انتظار میں ہے میری ۔۔؟” عابیر کریم بخش نے تیز آواز میں ٹیکسی ڈرائیور سے بولتے ہوئے کہا وہ حیدرآباد سے کراچی آئی تھی پر سامنے پولیس والے گاڑی روک کر چیک کر رہیں تھے۔

” بی بی جی آگے پولیس والوں نے سب کو روک رکھا ہے چیک کرلے پھر آگے جانے دے رہے ہیں اس لئے دیر ہو رہی ہے۔” ڈرائیور نے ادب سے کہا ۔۔ عابیر بےزاری سے آس پاس دیکھتی برے اثرات لیے ہوئے تھی گود میں کپڑوں کی پوٹلی رکھی ہوئی تھی ۔۔۔

” ہائے اللہ سائیں کتنا سوہنا ہے پولیس والا ۔۔۔۔!! عابیر نے سامنے اس خوبرو نوجوان خوبصورت پولیس والے کو دیکھتے ہوئے حسرت سے کہا ۔۔وہ اپنی کاجل سے بڑی بڑی آنکھوں سے بس اسے ہی دیکھے جا رہی تھی جب ان کی گاڑی قریب رکی تو اسے وہ سامنے دکھا اس کا دل بہت تیز دھڑک اٹھا تھا دل کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی اسے دیکھ کر پہلی بار کوئی حسین نوجوان دیکھا تھا جو ۔۔۔

” چیک کرو گاڑی کو اچھے سے اور اس ڈبے میں کیا ہے ۔۔۔؟” مرتضیٰ حمید اے ایس پی پولیس آفیسر ایک نظر اس ٹیکسی ڈرائیور کو اور پیچھے موجود لڑکی کو دیکھتے اس کے ساتھ اس کا ڈبہ دیکھا جس میں شاید اس لڑکی کا سامان ہو لیکن اسے اپنے شک کی تصدیق ضرور کرنی تھی ۔۔اس کی بات پر دوسرے پولیس والے نے پیچھےکا دروازہ کھولا ۔۔۔

” میڈم آپ باہر نکلیں ہمیں آپ کا سامان چیک کرنا ہے ۔۔۔؟” وہ پولیس والا ادب سے بولا ۔۔

” ہے کیوں میں کوئی چور ہوں جو تو میرے سامان دیکھے گا شرم نہیں آتی عورت کا سامان دیکھتے ہوئے ۔۔۔؟” عابیر اس کی بات پر غصے سے باہر نکلتی شروع ہوگئی وہ دو پولیس والے گھبرا کے پیچھے ہوئے مرتضیٰ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا کے اس لڑکی کی تیز آواز پر پیچھے موڑ کر دیکھا جو گرین کلر کے بلوچی کپڑوں میں سر پر بڑی سی چادر چڑھائے ہوئے تھی سانولا رنگ دھوپ میں مزید چمک رہا تھا براؤن آنکھیں تیکھے نین نقش والی لڑکی شدید غصے میں تھی وہ چلتا ہوا ان کے قریب آیا ۔۔۔۔ کچھ پولیس والے تو اس کی اردو پر عش عش کر اٹھے تھے ۔۔

” دیکھیں محترمہ ہمیں ہمارا کام کرنے دیں آپ کو نہیں پتا لیکن ملک کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں ہمیں ہر چیز کا خیال رکھنا پرتا ہے سو پلیز ہمیں تلاشی لینے دیں ۔۔؟” وہ نہایت آرام سے مخاطب ہوا ۔۔۔

” آدھے حالات تو تم جیسے پولیس والوں کی وجہ سے خراب ہوا ہے نہ آنکھیں کھلی رکھتے ہو نہ کان لیکن دکھائی پھر بھی نہیں دیتا کچھ ۔۔ امیر سے پیسے لے کر جانے دیتے ہو غریب کی جان کو آتے ہو اور کیا ملے گا تم کو میرے سامان سے خوامخواہ دیکھ کر شرم سار ہو جاؤ گے ۔۔۔!! وہ انتہائی فضول بول گئی جس پر آس پاس پولیس والے کے ساتھ وہ بھی ایک پل کو شرمندہ ہو گیا اس کی باتوں سے غصہ بھی بہت آیا اس بیوقوف لڑکی پر ۔۔۔

” تمیز سے پیش آئیں محترمہ میں آپ سے عزت سے بات کر رہا ہوں تو میرے ساتھ بھی عزت سے پیش آئیں ورنہ لاک اپ میں ڈال دوں گا۔۔؟” اس نے سخت لہجے میں کہا ۔۔

” میں تم کو اتنا سوہنا سمجھا تو اندر سے اتنا کالا نکلا عورت سے بات کرنی کی تمیز نہیں تم کو میں بول بھی رہی ہو چور نہیں پھر بھی تم کو بہت شوق چرا ہے میرا سامان دیکھنے کا کیوں ۔۔۔؟” وہ اب باقاعدہ سے لڑنے کے موڈ میں تھی ۔۔اس وقت مرتضیٰ پبلک پلیس میں تھا اس لئے مجبوری میں خود پر ضبط کر گیا ورنہ واقعی اسکا دل کیا آج اس لڑکی کو اپنی گن سے شوٹ کردے لیکن اسے زیادہ بحث نہیں کی اور جانے دیا وہ بھی برا منہ بناتی بیٹھ گئ اب اسے وہ پولیس والا زہر لگا جو کچھ دیر پہلے بہت اچھا لگا تھا ۔۔۔

________★

” نانی اماں کیسی ہیں میں نے آپ کو بہت یاد کیا سچ میں ۔۔!! وہ بڑی مشکل سے یہاں پہنچی تھی اسکے بعد ٹیکسی ڈرائیور سے کرائے پر کتنا بحث کر کے اندر آئی ۔۔

” میں نے بھی بہت یاد کیا اپنی دھی کو ۔۔!! نانی اماں نے بہت پیار محبت سے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔

” تم کو پتا ہے میرے ساتھ آج کیا ہوا کیسے مشکل سے یہاں پہنچی ہوں پتا ہے آج مجھے ایک کمینہ منحوس پولیس والا ملا اور میرے کو چور سمجھا اس نے ۔۔!! وہ تو تھی ہی باتونی پھر ہوگئی شروع اپنے ساتھ ہوئے آج کے واقعے کو بیان کرنے میں نانی نے حیرت سے اس کی بات سنی۔

” بیٹا آپ مجھے بتاؤ کون تھا وہ کمینہ میں اپنے پوتے سے کہوں گی اسے اچھے سے سبق سیکھائے۔۔۔!! اب نانی نے اس کے مسئلے پر غور کیا ۔۔۔

” ہے سچی وہ کردے گے کام ۔۔؟” وہ حیرت سے چیخ کر بولی ۔۔نانی نے تھوڑا گھبرا کر اسے کہا ۔۔یہاں کس کو عادت تھی تیز آواز میں بات کرنے کی اب اسے سکھانے کی سوچنے لگیں شکر تھا اس وقت گھر پر کوئی نہیں تھا ۔۔

” آرام سے بات کرو لڑکی شہر کے لوگ تیز آواز میں بات نہیں کرتے اس لئے سمجھا رہی ہوں کل کو تمہیں کوئی کچھ بول نہ دے ورنہ تمہیں ہی دکھ ہوگا ۔۔!! نانی اماں نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا وہ تھوڑا بہت سر ہلا گئی بات تو سہی تھی ان کی اس کی ماں نے بھی سمجھا کر بھیجا تھا۔

” اچھا ٹھیک ہے کوشش کرتی ہوں نہ اب گاؤں سے آئی ہوں اتنی جلدی عادت نہیں لگے گی نہ ۔۔۔ اچھا بتائے باقی سب کدھر مجھے ملنا ہے سب سے اماں نے سلام بھیجا ہے ۔۔۔۔!!

” وعلیکم السلام خوش رہو گھر پر کوئی نہیں ہے سب باہر اپنے کاموں سے بس میں تنہا رہتی ہوں اب تم آگئی ہو نہ اب تم سے بہت باتیں کروں گی ۔۔!! نانی خوش ہو گئی تھی اسے دیکھ کر ان کا اکیلا پن دور ہونے لگا تھا عابیر کے آنے کے بعد ۔۔ انہوں نے ہی اسے بلوایا تھا انکی طبیعت خراب رہنے لگی تھی یہاں سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ۔۔ عابیر کی ماں نے اپنی ماں جی کی طبیعت دیکھ کر اپنی بیٹی ان کی خدمت کے لیے بھیجی تھی۔

__________★

” عابیر بیٹا آپ کے امی ابو کیسے ہیں وہ نہیں آئے ساتھ ۔۔؟” حمید صاحب نے پیار سے اس سے پوچھا ۔۔

” ماموں سائیں اللّه پاک کا شکر ہے سب ٹھیک ہیں آپ سب کیسے ہیں اماں ابا نے سلام بھجا ہے آپ سب کو ۔۔!! عابیر بڑے جوش سے ان سے بات کرنے لگی ۔۔

” السلام علیکم !!

” وعلیکم السلام آؤ اس سے ملو یہ ہے سارا کی بیٹی عابیر کریم بخش گاؤں سے آئی ہے سارا سے تو آپ لوگ مل چکے ہیں ۔۔!! حمید صاحب اپنی بیوی کو اور چھوٹے بیٹے کو عابیر سے ملوایا تھا ۔۔

” عابیر یہ ہے میری بیوی شازیہ حمید اور یہ میرا چھوٹا بیٹا احمد ۔۔!! شازیہ بس اس کے سلام کا جواب دیتی اندر چلی گئی سب جانتے تھے اس کے مزاج کو عابیر تو اس خوبصورت عورت کو دیکھ کر بڑی خوش ہوئی تھی لیکن اس کے ہلکے انداز میں ملنے پر خاموش سی ہوگئی اسکے برعکس احمد بڑا شرارتی مزاج کا تھا ۔۔ احمد کو وہ بلوچی کپڑوں میں پیاری سی لڑکی بہت اچھی لگی اسکے بولنے کا انداز اسکی احمد کو بہت مزہ آیا اس سے باتوں میں ۔۔

” عابیر تم کیا کرتی ہو۔۔؟” احمد اسکے زیادہ بولنے پر حیرت سے اسے دیکھا جو بولتی تو چپ ہونے کا نام نہیں لیتی تھی ۔۔

” میں سلائی کڑھائی کرتی ہوں پتا ہے میں اپنے گاؤں کی سب سے مشور لڑکی ہوں کام کاج میں سب سے آگے ہوں اپنی اماں پر گئی ہوں ۔۔!! افف دنیا تعریف کرے نہ کرے لیکن وہ سب سے آگے تھی خود کی تعریف کرنے میں ۔۔

” ہاہاہا اچھا پھر میرے کپڑے بھی سیو گی ۔۔؟” احمد شرارت سے اسے دیکھتا ہوا بولا ۔۔

” ہے سچی تم میرے سے کپڑے سلواؤ گے ۔۔ پھر ٹھیک ہے میں تم کو پہلا کپڑا مفت میں سی دوں گی پھر دوسری واری میں تم سے پیسے لوں گی ۔۔؟” عابیر احسان کرنے والے انداز میں کہا ایک تو وہ ہمیشہ سے تھی صاف گوئی ۔۔

” ہاہاہا ہاؤ کیوٹ آبی تمہارے ساتھ تو بہت مزہ آئے گا اب ۔۔!! احمد تو اسکے انداز پر ہی فدا ہو گیا ۔۔ ارے محبت والا تھوڑی کچھ انداز پر فدا ہونا خوبصورتی کہا جاتا ہے اگلے کی ۔۔

” چھوٹے ادا تم بھی بڑے پیارے ہو دیکھو مجھے بھی تمہارے ساتھ مزہ آرہا ہے ۔۔!! عابیر کو احمد بہت پیارا اچھا لڑکا لگا تھا جیسے وہ اپنے گاؤں کے چھوٹے لڑکوں سے باتیں اور مستی کرتی تھی یہاں بھی اسے احمد مل گیا تھا ۔۔۔انکی باتوں پر نانی اماں ماموں سائیں تو بس ہنستے رہے تھے ۔۔جب کے شازیہ کو وہ لڑکی بالکل پسند نہیں آئی ۔۔

_________★

” السلام علیکم ماما بہت بھوک لگی ہے پلیز کھانا لگا دیں میں فریش ہو کے آیا ۔۔؟ وہ تھکا ہوا آتے سب کو سلام کرتا جلد بازی میں اوپر چلا گیا روم میں باقی سب بھی اب کھانے کی میز پر جمع ہونے لگے تھے ۔۔عابیر تو ہر چیز کو حیرت اور حسرت سے دیکھ رہی تھی اس کی اماں نے بتایا تھا وہ لوگ امیر ہے ان کے گھر کی ہر چیز اعلیٰ ہے وہ تو مزے مزے کے کھانے دیکھ کر اس کی بھوک جاگ گئی اب اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا جب کے شازیہ اماں بتول احمد بیٹھے ہوئے تھے بس انتظار تھا تو حمید صاحب اور مرتضیٰ کا اسے اماں نانی اچھے سے سمجھا کر آئی تھی وہاں سب ساتھ مل کر کھاتے ہے اس لئے خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھی تھی بھوک کہ وجہ سے اس کی زبان کو بریک لگا ہوا تھا۔

” بہت بھوک لگی ہے یار آج تو بالکل تھکا دینے والا دن تھا ۔۔!! مرتضیٰ فریش سا بلیک ٹراؤزر ٹی شرٹ میں اپنی خوبصورت وجاہت سے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا اماں نے اپنے خوبرو پوتے کی نظر دل ہی دل میں اتاری ۔۔ عابیر تو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی اپنی زندگی میں پہلی بار اتنا حسین مرد دیکھا تھا اسنے ۔۔اسے بےساختہ وہ پولیس والا یاد آیا جو اس سے ملتا جلتا لگ رہا تھا ۔۔۔

” نظر لگاؤ گی میرے بھائی کو ۔۔؟” احمد نے شرارت سے جھک کر سرگوشی میں کہا اس کی بات پر وہ آدھی ہوش میں آئی ۔۔

” ماشاءاللّٰه بڑا سوہنا ہے ۔۔!! اسکے منہ سے بےساختہ لفظ نکلے شازیہ بیگم نے اسے گھورا اماں نے جلدی سے اسکا ہاتھ دبا کر ہوش دلایا اور وہی احمد کے قہقہے نے حمید صاحب سے بات کرتے مرتضیٰ نے چونک کر سامنے دیکھا تو ایک انجان لڑکی کو سب کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر حیرت ہوئی سوالیہ نظروں سے ماں پھر باپ کو دیکھا۔ جب کے عابیر اب بڑے غور سے اس کا جائزہ لے رہی تھی اسے یہ دیکھا ہوا لگ رہا تھا۔۔

” بیٹا یہ تمہاری سارا پھوپھو کی بیٹی ہے عابیر کریم بخش ۔۔۔ اور عابیر یہ میرا بڑا بیٹا مرتضیٰ ۔۔!! مرتضیٰ نے ایک نظر اس سانولے رنگ کی لڑکی پر ڈالتے صرف سر ہلایا ۔۔جب کہ عابیر کی آواز نے سب کو شاک میں ڈال دیا۔

” اماں نانی یہی تو بےغیرت پولیس والا ہے جس کو میرا سامان دیکھنا تھا اور مجھے اتنی دیر دھوپ میں کھڑا رکھا ۔۔!! اس کی زبان نے جہاں اماں نانی شازیہ بیگم کو شرمندہ کیا وہی حمید صاحب احمد کے قہقہے نکلے تھے ۔۔ اور اس کا سرخ چہرہ بتا رہا تھا وہ بے انتہائی کی حد پر تھا غصے میں اس کی آنکھیں ضبط سے لال ہو گئی تھیں جو صرف احمد ہی سمجھ سکا یہ پیاری لڑکی اس کے بھائی کےہاتھوں ہی مر جائے گی ۔۔

” کون ہے یہ بدتمیز لڑکی زبان استعمال کرنے کی تمیز نہیں تمہیں ۔۔؟” وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا سب نے گھبرا کر اسے دیکھا عابیر تو اس کی دھاڑ پر ڈر کے نانی اماں کے پیچھے چھپ گئی۔۔

” بیٹا آرام سے بچی ڈر گئی ۔۔!! حمید صاحب نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا ۔۔

” وٹ نان سینس ڈیڈ سیریسلی بچی اس کی زبان دیکھی وہاں روڈ پر بھی مجھے میری ٹیم کو شرمندہ کردیا تھا اسے تو میں جیل میں ڈالوں گا ۔۔؟” مرتضیٰ کو اب موقع ملا تھا اپنا حساب برابر کرنے کا وہ غصے میں آگے بڑھ تھا ۔۔

” اللّه سائیں میری مدد کریں ۔۔ اماں نانی مجھے بچا اس کمینے پولیس والے سے ہاۓ اللّه میں مر گئی ۔۔!! عابیر اسے غصے میں آگے بڑھتے دیکھ کر اماں نانی کو پیچھے سے پکڑ تے ہوئے چلائی ۔۔ مرتضیٰ تو اس کے گالی لفظ پر ہی غصے سے لال ہو گیا ۔۔احمد تو صدمہ میں سب دیکھ رہا تھا حمید صاحب کو ہنسی کے ساتھ مزہ بھی آرہا تھا کے مرتضیٰ شازیہ کا غصے سے بےحال دیکھ کر جلدی سے مرتضیٰ کو سنبھالا ۔۔۔

” اماں اسے روم میں لے جا کر دماغ درست کریں اس جاہل لڑکی کا ۔۔۔؟” شازیہ بیگم غصے سے کہتے ہوئے مرتضیٰ کے پیچھے گئی جو غصے میں روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔

” اماں نانی بھوک کھانا تو کھا لوں پھر چلتے ۔۔۔!!

” چپ کر کے چل شرمندہ کردیا مجھے سب کے سامنے یہ سیکھا ہے تم نے بات کرنے کی تمیز نہیں سیکھائی تیری ماں نے۔۔؟” نانی اماں غصے میں سخت سنا رہی تھیں اسے لیکن اس کا سارا دھیان اپنی پیٹ پوجا کرنے میں تھا ۔۔اماں نانی افسوس سے سر ہلا کر وہیں بیٹھ گئیں۔۔

” تم بھائی سے مل چکی ہو ۔۔؟ احمد نے حیرت سے نکلتے اس سے پوچھا اور پھر کیا تھا عابیر صاحبہ کی زبان کو شاید ہی کوئی بریک لگا سکتا ہو۔۔ احمد حیرت اور کھلے منہ سے اسے دیکھ رہا تھا کیا تھی یہ لڑکی کس طرح شرمندہ کر دیتی تھی سب کو اور وہ اتنا تو جان گیا تھا یہ لڑکی اب شاید ہی اس کے بھائی کی نظروں سے بچ پائے۔

_________★

” اچھا اب چپ ہو جا نانی اماں کتنا بولتی ہو۔۔۔!! وہ جو نانی اماں کب سے اسے سمجھانے میں لگی تھیں اسکی بیزاری صورت حیرت سے دیکھتی رہ گئیں ۔۔تو کیا وہ اتنی دیر سے دیوار میں سر مار رہی تھیں اور وہ نیند سے بے حال سفر کی الگ تھکان ۔۔نانی اماں کے ساتھ دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں اپنی دنیا میں چلی گئی ۔۔نانی اماں افسوس سے اسے دیکھتے سر ہلا گئیں اب وہ تو اس کے لئے صرف دعا ہی کر پائیں جو اس کے پوتے کے سامنے کم ہی آئے تو اچھا ہے۔

_________★

” یار امی پلیز مجھے نہیں کرنی اس سے شادی ۔۔؟ هادیق نے ماں کو سمجھا تے ہوئے کہا ۔۔

” دیکھوں هادیق ہاں کردو مجھے اب اور شرمندہ مت کروں اپنے باپ کے سامنے صیحیح کہتے ہے میں نے ہی تمہے لاڈ پیار میں بگاڑ دیا ہے تھوڑی تو عزت رکھلو اپنے ماں باپ کی ۔۔” مسز مصطفیٰ دکھ سے بیٹے کو دیکھا ۔۔

” یار امی ایسے تو نہ دیکھے پلیز لیکن آپ میری بات بھی سمجھے نہ شادی مجھے کرنی ہے اور میں اپنی پسند سے کرنا چاہتا ہوں پھر کیوں اس چڑیل کو میرے گلے ڈال نہ چاہتے ہے آپ لوگ ۔۔؟” ھادیق کو اب غصہ آرہا تھے اپنے گھر والوں کے فیصلے پر ۔۔

” دیکھو بیٹا تمہارے باپ نے زبان دی ہے اپنے بھائی کو اور گھر کی بیٹی ہے کیا برائی ہے اس میں اچھی پڑھی لکھی خوبصورت ہے کیا کمی ہے اس میں جو انکار کر رہے ہوں ۔۔؟” اب مسز مصطفیٰ کو بھی اسکے انکار سے غصہ آنے لگا تھا ۔۔

” اچھی بہت اچھی ہے بس لیکن مجھے نہیں پسند میں اپنے یونیورسٹی میں کسی کو پسند کرتا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں پلیز سمجھے اور یہ گھر میں رشتے داریاں مجھے پسند نہیں ۔۔؟” ھادیق نے سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔

” ٹھیک ہے تم اپنے ماں باپ کو سب کے سامنے شرمندہ کروانا چاہتے ہوں تو کرو جہاں شادی کرنی ہے جاکے کروں ہم تمہارے کسی بھی فیصلے میں تمہارا ساتھ نہیں دینگے ۔۔؟” مسز مصطفیٰ غصے میں بول کر روم سے چلی گئی ۔۔

” شٹ اس چڑیل کے لئے باہر سے رشتے ختم ہو گے تھے جو گھر میں صرف میں ہی ملا قربانی کے لئے افف کیا کروں سویرا کو کیسے سمجھا آؤ اب ۔۔!” بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا تھا ۔۔

وش اسکے چچا بیٹی تھی اسکے ماں باپ کا ایکزسیڈٹ ہو گیا تھا وش دس سال کی تھی اسکے باپ کی خواہش تھی اسکی بیٹی کی شادی هادیق سے ہوں جائے گھر میں ہی رہے باہر نہ جائے انکی بیٹی اور هادیق کے باپ کوبھی یہ بات منظور تھی انہوں نے بچپن میں ہی زبان دے دی تھی اپنے بھائی کو ۔۔

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

1.0 / 5 · 3 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Cousin MarriageInnocent HeroineRomantic Urdu NovelsRude heroSocial IssuesUrdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *