Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

" اماں نانی بچا مجھے اپنے پوتے سے وہ میری جان کو آرہا ہے۔۔!! عابیر ننگے پاؤں اندر بھاگتے ہوئے آتی اماں نانی کے پیچھے چھپ گئی وہ جو اسکی چیخ پر اٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ اسکے تیزی سے آتے بولنے پر پریشان ہو گئیں۔شازیہ بیگم بھی پریشان سی ہو گئی۔
" تم باہر نکلو تمہیں تو میں جیل میں ڈال کر سیدھا کروں گا زبان سے صرف گالیاں نکلتی ہیں اسکے یہ سیکھ کر آئی ہے اسے ابھی کے ابھی نکالیں دادو میں ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا اسے ۔۔۔؟" مرتضیٰ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسکا کچھ کردے غصے میں اسکا سفید رنگ سرخ پڑ گیا تھا ۔۔شازیہ بیگم نے بیٹے کی حالت دیکھتی ایک نظر نفرت سے اس پر ڈالی جو نانی کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ۔۔احمد وہاں خاموشی سے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
" اب کیا کردیا لڑکی تم نے ۔۔؟ نانی اماں نے غصے سے پیچھے موڑ کر اسے دیکھا ۔۔۔
" نانی اماں قسم لے لے میں نے کچھ نہیں کیا وہ تو غلطی سے یہ سامنے آگیا تو پانی ۔۔۔
" اور وہ جو تمہارے منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔۔؟"
" وہ تو تم نے غصہ دلایا اس لئے اور نانی اماں اسنے مجھے مارا بھی ۔۔!! اسکے بولنے پر وہ تڑپ کر نانی اماں کو صفائی دی ساتھ ساتھ رونا بھی جاری تھا احمد کو اسکا رونا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اسے اپنے بھائی پر غصہ آیا پر چپ رہا ۔۔
" اماں مرتضیٰ صحیح کہ رہا ہے آپ اس جاہل لڑکی کو واپس بھیج دیں دو دن نہیں ہوئے اس کا یہ حال ہے آپ خود سوچیں ہمارا اٹھنا بیٹھنا اچھے اسٹینڈرڈ لوگوں میں ہے اور یہ جاہل لڑکی اپنی زبان سے ہمیں شرمندہ کر دے گی۔۔!! شازیہ بیگم نے غصے اور ناگواری سے عابیر کو دیکھا ۔۔ وہ انکی باتوں پر چپ ہو گئی تھی ۔۔مرتضیٰ بےزاری سے ایک نگاہ اسکے جھکے سر پر ڈالتا غصے سے روم میں چلا گیا اور پیچھے شازیہ بیگم بھی جانے سے پہلے سنانا نہ بھولی ۔۔
" اماں آپ سارا کو بلاتی اس سے اچھا تھا اسکے پر کاٹ دیں آپ نے اسکو اپنے لئے بلایا ہے وہیں تک رکھیں پورے گھر میں دندناتی نہ پھرے ۔۔!! شازیہ بیگم آخری زہر کند لفظ استعمال کرتے ہوئے چلتی بنی ۔۔احمد ایک افسوس نگاہ اس پر ڈالتا روم میں چلا گیا اب وہاں دادی اور وہ جھکے سر سے کھڑی تھی۔۔
" کمرے میں آؤ بات کرنی ہے تم سے ۔۔؟" نانی اماں کی سخت آواز پر آنکھیں صاف کرتی انکے پیچھے گئی ۔۔
" تم جانتی ہو نہ تمہاری ماں باپ نے یہاں کیوں بھیجا ہے تمہیں ۔۔؟" نانی اماں کا سخت لہجہ تھا اس نے جھکے سر سے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
" میں نے رات کیا سکھایا تھا یہاں رہو گی تو مرتضیٰ شازیہ سے کوئی بات بحث نہیں کرو گی جو کہیں گے آگے سے بس سنتی رہنا اگر یہیں رہنا ہے تو یہ انکا گھر ہے کبھی بھی تمہیں نکال سکتے ہیں اور تم جانتی ہو کیا کہہ کر میں نے تمہیں بلایا ہے میں بیمار ہوں اپنے لئے کسی کی ضرورت ہے اس لئے تمہیں یہی رکنے کو بلایا ہے اور تم ہو کہ مجھے شرمندہ کرنے میں لگی ہو ۔۔؟" نانی اماں سخت ناراض تھیں انھیں بھی اسکی تیز چلتی زبان پسند نہیں تھی پھر اسکے گھر میں باقی سب کو کیسے پسند ہوگی۔۔
" نانی اماں تم ناراض تو نہ ہو میں مافی مانگ لوں گی بس اب گالی بھی نہیں دوں گی لیکن دل میں تو دے سکتی ہوں نہ ۔۔؟" وہ جھک کر نانی اماں کے گھٹنوں کو دبا کر آخر میں شرارت سے بولی جس پر نانی اماں کی ہنسی نکلی۔۔
" دیکھوں بیٹا میں جانتی ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *