Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Hogai Hai (Episode 11)

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

” کل رات کہاں تھی ۔۔؟” مرتضیٰ نے آج اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر جان بوجھ کر انجان بنا ۔۔

” نانی اماں کے پاس سوئی تھی ۔۔!! دھیرے سے بولتے ہوئے بستر بچھانے لگی ایک تو یہاں آنے کا دل نہیں تھا اوپر سے نانی اماں نے زبردستی بھیجا تھا ۔۔۔

” مجھے ایک کپ چائے لا دو ۔۔۔!! دل اس سے باتیں کرنے کو مچل رہا تھا جیسے دو دن سے وہ دور بھاگتی رہی بات نہیں کرتی تھی اور یہ چیز مرتضیٰ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔

” ابھی تھوڑی دیر پہلے تو پی تھی ۔۔؟” وہ حیرت سے بولی ایک تو اسے جلد سونے کی عادت تھی اوپر سے نیند پوری طرح حاوی ہو رہی تھی ۔۔۔

” تو کیا دوبارہ پینے پر پابندی ہے جاؤ چائے لاؤ ۔۔!! اس بار تھوڑا سخت انداز اپنایا تھا مرتضیٰ نے ۔۔

” ایک تو یہ شخص زہر لگتا ہے مجھے صرف غصہ کرنا اور حکم چلانا آتا ہے ہونہہ ۔۔!! عابیر دیرے سے بڑبڑاتے ہوئے بے دلی سے چائے بنانے نکلی ۔۔ مرتضیٰ کو اس کا یہ روپ بہت پیارا لگا تھا پر اپنی ہی کیفیت سے انجان بن رہا تھا ۔۔۔

” رکو کہاں ۔۔!! وہ تھوڑی دیر بعد چائے لے کے حاضر ہوئی اسے دیتے ہی سونے کے لئے آگے بڑھی پھر پکار بیٹھا ۔۔ اسے سخت نیند آرہی تھی جس وجہ سے وہ بیزار ھو رہی تھی ۔۔

” اب کیا ۔۔ دیکھے سائیں جی مجھے نیند آرہی ہے سخت والی صبح کہنا جو کام ہو۔۔!! وہ کہتی پھر سے جانے لگی مرتضیٰ اس کی نیند سے بوجھل آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے تنگ کرنے کا سوچا مزہ آرہا تھا اسے یہ سب کرتے ہوئے ۔۔

” نہیں بعد میں سونا ابھی میرے سر میں مالش کرو اس دن تو کہہ رہی تھی نہ تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے تو دکھاؤ اپنا جادو ۔۔!! مرتضیٰ کو کوئی بہانہ بنانا پڑا اسے روکنے کا ۔۔ عابیر کو مرتضیٰ کا رویہ جھٹکا دے رہا تھا وہ کب سے اس سے اتنے کام کروانے لگا تھا یہ سب کیا ہو رہا تھا کہیں خواب تو نہیں نیند تو اس کے رویہ پر اڑ سی گئی تھی دل یکدم دھڑک اٹھا تھا ۔۔ جن جذبات کو سلا رہی تھی وہ پھر جاگنے لگے تھے ۔۔ خاموشی سے آگے بڑھتے ہوئے تیل لائی وہ صوفہ پر بیٹھ کر چائے پینے لگا اور وہ اسکے پیچھے کھڑی دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ کانپتے ہاتھ آگے کر کے آرام سے اسکے سر پر تیل کی مالش کرنے لگی ۔۔ ایسا کرتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی مرتضیٰ آنکھیں بند کرتا سکون سا محسوس کرنے لگا تھا کمرے میں معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔

” سائیں جی کیا ہم بھی شادی میں جائیں گے مجھے نہ بڑا شوق ہے شادیوں میں جانے کا وہاں کا کھانا کھانے کا ۔۔!! عابیر مزے سے مالش کرتے ہوئے اپنی ہی دھن میں کہہ رہی تھی ۔۔ مرتضیٰ جو سکون سے آنکھیں موڑے ہوئے تھا یکدم آنکھیں کھولی تھیں ۔۔

” تم کیوں جاؤ گی تمہیں کس نے بلایا وہاں ۔۔!! مرتضیٰ نے گھورتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” کیوں نہیں جائیں گے ان ادا نے مجھے بھی دعوت دی ہے میں جاؤں گی ضرور جاؤں گی ۔۔!! عابیر بدلے میں گھورتے ہوئے کہتی اپنے بستر پر چلی گئی وہ بس گھورتا رہ گیا تھا ۔۔

_________★

” آج سب جلدی گھر واپس آ جانا شام کو ہمیں جانا ہے مہندی پر زین کی یاد رہے ۔۔!! شازیہ بیگم سب کو ناشتے پر ساتھ بیٹھا دیکھ کر کہا آج انھیں زین کی مہندی پر جانا تھا ۔۔

” اوکے موم میں تو آ جاؤں گا باقی بابا اور بھائی کا تو آپ کو پتہ ہے جب کہو کہیں جانا ہے تو دیر کرتے ہیں ۔۔!! احمد نے منہ بناتے ہوئے کہا اس کی بات پر عابیر کو ہنسی آئی پر چھپا گئی ۔۔ مرتضیٰ نے اسے اور احمد کو گھورا تھا ۔۔

” میری طرف سے معذرت کر لینا بہو میری طبیعت ٹھیک نہیں گھٹنوں میں درد رہتا ہے اس لئے بیٹھ نہیں پاؤں گی زیادہ دیر ۔۔ شادی پر چلوں گی بس ۔۔!! دادی اماں نے طبیعت خرابی کی وجہ سے معذرت کر لی ۔۔ شازیہ بیگم کی موجودگی میں عابیر کی زبان چلتی نہیں تھی ۔۔

” ٹھیک ہے اماں کہہ دوں گی بس بچوں آپ سب ٹائم پر پہنچ جانا ۔۔!! شازیہ بیگم نے ایک بار پھر پر یاد دلایا انھیں ۔۔

” کوشش کرتا ہوں جلد آنے کی ۔۔!! مرتضیٰ ناشتہ ختم کرتا جانے لگا حمید صاحب بھی حامی بھرتے ہوئے آگے بڑھے ۔۔

” ماما آپ عابی کو بھی ساتھ لے جانا، پارلر سے اچھے سے تیار کروائیے گا آخر کو ہماری بھابی کسی سے کم نہیں لگنی چاہیے ۔۔۔!! احمد کی بات پر شازیہ بیگم کا موڈ خراب ہوا اور عابیر سرخ پڑتے ہوئے مسکرا دی ۔۔ تھوڑی دیر میں سب اپنے اپنے راستے ہوئے جب عابیر کچن میں تھی شازیہ بیگم وہاں آئی ۔۔

” سنو لڑکی ۔۔!! شازیہ بیگم نے ناگواری سے اسے پکارا تھا ۔۔

” جی جی بولے ۔۔!! وہ ادب سے نرمی سے بولی تھی ۔۔

” تم نہیں چلو گی ہمارے ساتھ کسی بھی فنکشن میں سمجھی ہمیں اپنی ناک نہیں کٹوانی تم جیسی جاہل لڑکی کو ہر جگہ ساتھ لے پھرتے رہیں یہ تو میرے بیٹے بیوقوف ہیں جو تم جیسی جاہل لڑکی کا دل رکھتے ہیں میں نہیں ۔۔اور ہاں خبر دار کسی سے کبھی کچھ یہ کہا تم میرے بیٹے کی بیوی ہو اس کی شادی میں اپنی مرضی سے اپنے اسٹینڈر کے حساب سے کروں گی ۔۔ اماں کا بہانہ کر کے رک جاؤ ۔۔!! شازیہ بیگم اپنی ناگوار باتوں سے اسکا دل زخمی کرتے ہوئے چلی گئیں وہ بت بنی انکی باتوں پر آنسو بہانے لگی تھی کتنا شوق تھا اسے جانے کا رات مرتضیٰ سے بحث بھی کی اور اب یہ کیا وہ اتنی ناقابل تھی سب کیلئے ۔۔۔۔

_________★

” میرے کپڑے پریس کردو یہ والے ۔۔!! مرتضیٰ نے سفید کاٹن کا سوٹ نکال کر اسے تھمایا ۔۔۔ وہ خاموشی سے تھامتی ہوئی پریس کرتی لے آئی مرتضیٰ کو آج وہ خاموش اور اداس لگی تھی جیسے لیکن اسکے پاس مزید ٹائم نہیں تھا اسکے احساسات سمجھتا ۔۔ اسکے تیار ہونے تک وہ اسکی وہیں مدد کرتی رہی پھر روم سے نکل آئی ۔۔ تھوڑی دیر بعد مرتضیٰ بھی خوبصورت وجاہت کے ساتھ حاضر ہوا ۔۔ شازیہ بیگم نے بیٹوں کو دیکھتے ہوئے ماشاءاللّٰه کہتی انکی نظر اتاری تھی ۔۔۔ احمد بھی خوبصورت نوجوان تھا ۔۔ مرتضیٰ کو دیکھتے عابیر کی دھڑکنوں میں شور سا اٹھا تھا نظرے چراتی جانے لگی تھی کہ احمد کی آواز پر رکی ۔۔۔۔

“عابی تم تیار نہیں ہوئی ابھی تک ۔۔!! احمد اسے صبح گھر والے حلیہ میں دیکھتا حیرت سے پوچھا تھا ۔۔ عابیر ایک نظر ڈرتے ہوئے شازیہ بیگم پر ڈالی جو اسے ہی غصے میں گھور رہی تھیں یہ منظر مرتضیٰ نے بھی دیکھا تھا ۔۔ احمد کے پوچھنے پر اسکی نظر بے ساختہ اسی پر اٹھی تھی ۔۔۔

” نہیں وہ اماں نانی کی طبیعت خراب ہے انھیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی اس لئے تم لوگ جاؤ میں پھر کبھی ۔۔!! بہت سے آنسو اپنے اندر اتاکر کر ضبط سے مسکرا کر کہا تھا ۔۔

” ہاں بیٹا میں اکیلی ہوں طبیعت بھی تھوڑی ناساز ہے اس لئے عابی کو ساتھ رکھا ہے ۔۔!! دادی نے بات سنبھالی احمد مزید بحث کرتا مرتضیٰ غصے میں بولا تھا ۔۔۔

” بس کرو احمد بچے نھیں ہو تمہیں چلنا ہے چلو دادی اکیلی ہیں کوئی تو ساتھ ہونا چاہئے نہ چلو اب دیر ہو رہی ہے ۔۔!! اسے پتا نہیں کیوں کس بات کا غصہ آنے لگا تھا موڈ ہی خراب ہو گیا تھا سارا اسکا ۔۔ عابیر نم نگاہوں سے ان سب کو جاتے ہوئے دیکھا ۔۔۔

__________★

” ماما ۔۔؟ مرتضیٰ سب کو گاڑی سے اتار کر اندر جانے کے بعد پیچھے جاتی ماں کو پکارا تھا ۔۔

” ہاں بیٹا ۔۔!! شازیہ بیگم مسکراتے ہوئے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھتے ہوئے پیار سے پوچھا تھا ۔۔

” آپ نے عابیر کو آنے سے منع کیا تھا ۔۔!! مرتضیٰ کا لہجہ سنجیدہ تھا ۔۔

” ہاں کیا تھا لگا دی اس نے چغلی تمہیں دیکھا اب یہی کرے گی وہ تم سے دور کرنا چاہتی ہے مجھے ۔۔!! شازیہ بیگم یکدم جذباتی ہو گئیں ۔۔

” ماما ماما پلیز یار آپ جذباتی کیوں ہو رہی ہیں میں صرف بات کر رہا ہوں اس نے کچھ نہیں کہا ہے مجھ سے لیکن میں بچہ نہیں ہوں ۔۔ آپ اسے میری بیوی نہیں مانتی تو مت مانے میں بھی تو نہیں مانتا لیکن وہ ہمارے گھر کی فرد ہے کزن ہے ہمارے گھر میں رہتی ہے اس کے ہر حوالے سے ہم جواب دہ ہیں ۔۔۔!! مرتضیٰ آرام و سنجیدگی سے ماں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی برا تو اسے لگا تھا پر ہمیشہ سے خود کے جذبات کو وہم سمجھ کر اگنور کر دینا ۔۔

” ماما بھائی چلیں یہاں کیوں رک گئے ہیں ۔۔!! احمد انکے قریب آتے ہوئے بولا تھا دونوں سنبھل کر آگے بڑھنے لگے شازیہ بیگم خاموش ہو گئی تھیں کہیں نہ کہیں مرتضیٰ کی بات انھیں سہی لگی تھی ۔۔۔

” بھائی کیا آپ نے عابی کو آنے سے منع کیا تھا اسے کتنا شوق تھا یہاں آنے کا یہ سب دیکھنے کا ۔۔!! احمد مرتضیٰ کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے آرام اور افسوس سے کہتا آگے بڑھ گیا تھا ۔۔ مرتضیٰ کے قدم رک گئے تھے اسے کل رات عابیر کی بات یاد آئی کتنی خوشی سے کہہ رہی تھی وہ ضرور جائے گی ۔۔ اچانک سے مرتضیٰ کو بہت بےچینی ہونے لگی تھی عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی وہاں تھوڑی دیر ركتا ان سے مل کر سر درد کا بہانہ کرتا وہاں سے نکل گیا شازیہ بیگم کو اسکی بے چینی کی وجہ سمجھ آرہی تھی جیسے وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی ہانیہ غصے میں کھولتی رہ گئی ۔۔۔

______

” وش پلیز یار میری بات سنوں مجھے ایک موقع دو ۔۔؟” ہادیق گھر تو واپس آگیا تھا ماں بچے تو اچھے سے پیش آرہے تھے بس مصطفیٰ باپ تھا اور ایک چاچا بھی انکا کہنا تھا اگر وش معاف کرے گی تو ہی وہ کریں گے اگر کسی کا نقصان ہوا بھی ہے تو وہ وش ہے ۔۔ ہادیق بہت کوشش کر رہا تھا وش سے معافی مانگنے کی لیکن اسکے لئے یہ سب آسان نہیں تھا ۔۔ وہ بہت کوشش کر رہا تھا اسکے قریب رہنے کی لیکن وہ تھی کے بچوں میں گھر میں خود کو مصروف کر رکھا تھا ۔۔۔

“مسلہ کیا ہے آپ کے ساتھ ہادی ۔۔ چھوڑے میرا ہاتھ ۔۔؟” وش غصے میں اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے غم و غصے میں اسے ہادی کہ گئی جس پر ہادیق کے چہرے پر مسکراہٹ سی آئی وش خفا سی ہوتی دور ہونا چاہا ۔۔ غصہ تھا لیکن اتنا بھی نہیں اسکی قربت میں اپنا حال دل سنانا بھول جائے اسکے پیار اور نرم رویہ پر خود پر ضبط کرنے کی کوشش بھی نکام ہو رہی تھی ۔۔

” اب نہیں چھوڑنا چاہتا پہلے ہی بہت پچھتا رہا ہوں یار مزید ہمت نہیں مجھ میں تم سے دوری کی ۔۔!! ہادیق اسکے قریب کرتے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ بھرتا محبت و جذبات سے اپنے ہونے کا یقین دلایا وش کے آنسوں میں روانگی آئی تھی ۔۔

” آپ بہت برے ہے ہادی میں معاف نہیں کرنا چاہتی آپ کو آپ پھر دھوکہ دے گے مجھے پھر چھوڑ کے چلے جائیں گے میں کیسے برداشت کر پاؤ گی اب کی بار کیسے کروں آپ پر اعتبار ۔۔؟” وش کمزور پڑھتے ہوئے کہتی اسکے سینے پر سر رکھے شدت سے روتے ہوئے کہہ رہی تھی اپنی دل کی بات اتنے سالوں کا اعتبار ، غصہ و غم سب آنسوں کے ساتھ بہ رہیں تھے آج ۔۔

” آئم سوری وش پلیز مجھے ماف کردو میں نے بہت بڑی غلطی کردی اپنی زندگی کے حسین پل گنوا دیے میں نے ۔۔!! ہادیق شدت سے اسے خود میں بھیجنے رو رو کر مافی مانگ رہا تھا دونو ہی اپنے ماضی کے وہ پل یاد کرتے ہوئے رو رہے تھے وش روتے ہوئے اسکے گلے لگی ہوئی تھی ۔۔

زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے جو اپنوں کے ساتھ گزرتی ہے جیسے آپ ناقدری کر کے گنوا دیتے ہے ہادیق نے بھی اپنے زندگی کے وہ حسین پل اپنی آنا ضد میں گنواہ دیے پر اسنے اتنی بھی دیر نہیں کی ۔۔ اسے جلدی ہی اپنوں کی قدر آگئ تھی ۔۔ جس نے توبہ کر کے اللّٰه اور اسکے بندوں سے مافی مانگ لی اور اس پاک ذات نے اسے خالی نہیں بھیجا اسے واپس اپنا محبت والااسکی خوشیاں دے دی تھی ۔۔ انسان کی یہی تو خوبصورتی ہے اگر وہ معافی مانگے اور وہ معاف کردے وہ جلد اپنے کیے پر پچھتائے اسے احساس ہوں جائے وہ کہا غلط ہے کیا کر رہا ہے بڑے نقصان سے پہلے خود کو بچا لے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *