Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 05)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 05)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” یہ کون ہے ۔۔۔؟ مرتضیٰ نے اپنے گھر میں ایک انجان خوبصورت لڑکی کو دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔ سفید رنگ بڑی بڑی آنکھیں خوبصورت کالے گھنے بال کی لمبی ناگن جیسی چوٹی وہ دیکھنے میں بہت حسین کوئی لڑکی تھی جو لان میں حمید صاحب کے ساتھ باہر بیٹھی باتیں کر رہی تھی سر جھکا ہوا تھا ہلکا سا ۔۔
” ہائے اللّه سائیں ۔۔تم نشہ وغیرہ تو نہیں کر آئے۔۔؟” وہ کتنی دیر بعد بولی تھی اسکی آواز نے مرتضیٰ کو ہوش کی دنیا میں لوٹایا تھا ۔۔۔۔ اور وہ بولتے ہوئے پھر بھول گئی اسکی دھمکی کو جو تین ماہ پہلے دی تھی اس نے ۔۔
” ماموں سائیں تمہارا بیٹا نشہ کرتا ہے یہ دیکھو ابھی بھی نشہ کر کے آیا ہے اس لئے تو مجھے پہچان نہیں پا رہا ۔۔؟” وہ حمید صاحب سے حیرت کو انگیز میں دیکھتے ہوئے بولی تھی پھر اسے گھورا ۔۔ جس کا پھر ضبط آزما رہی تھی ۔۔
” تم نے تمیز نہیں سیکھی ہے بات کرنے کی ۔۔۔؟” مرتضیٰ نے غصے میں گھورا تھا ۔۔ ایک پل کو اسکی خوبصورتی بہت متاثر کر گی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح اسکی زبان کام خراب کر دیتی تھی ۔۔ اسی وقت احمد کی حیرت انگیز آواز آئی ۔۔۔
” تم اچانک سے گوری کیسے ہو گئی راتوں رات کون سی کریم لگائی تھی یار کہی فائزہ بیوٹی کریم تو نہیں لگائی ۔۔؟” احمد اسکے الگ روپ پر عش عش کر اٹھا ۔۔۔
” ہاہاہا نہیں نہیں چھوٹے ادا میں اپنے گاؤں کی سب سے حسین لڑکی ہوں ایسا سب کہتے ہیں وہاں میرے ابا سب سے سوہنے تھے نہ میں بھی انہی پر گئی ہوں ۔۔ لیکن وہاں کا وڈیرہ بڑا کمینہ انسان ہے اس نے مجھے دیکھ لیا تھا جب میں تھوڑی چھوٹی تھی تب سے کمینہ ذلیل انسان مجھ پر گندی نظر رکھے ہوئے تھا اس لئے اماں نے مجھے کالا رنگ لگا دیا وہ کہتی تھی میں اسکی نظروں میں نہ آؤں لیکن یہاں تو مجھے کوئی خطرہ نہیں اس لئے میں نے منہ دھو لیا ۔۔!! عابیر کی یہی تیز رفتار سے چلتی زبان مرتضیٰ کو زہر لگتی تھی کہیں بھی انسان کو شرمندہ کردیتی تھی آس پاس کے لوگوں کا خیال تک نہیں رہتا تھا چھوٹے بڑوں کے سامنے کیسے زبان چلانی ہے ۔۔ اسکی ہر بات پر گالی ضرور شروع ہوتی تھی یہ مرتضیٰ نے نوٹ کیا تھا ۔۔ اب بس مرتضیٰ کی زندگی کا مقصد یہی بن گیا تھا اسکا قتل کرنا اور اتنی ہی خاموشی سے اسے مارنا کسی کو خبر تک نہ ہو اس کا بہت شدت سے دل چاہا ابھی اٹھا کے جیل میں ڈال دے اسے یا پھر اسی وڈیرے کو اسکے سامنے پیش کردے ۔۔۔
” تو کیا اتنے سالوں سے تم نے منہ نہیں دھویا تھا ۔۔؟” احمد کی چیخ نکل گئی تھی صدمہ سے ۔۔
” ارے نہیں وہ تو میں دھوتی تھی پھر یہ لیپ لگا دیتی تھی نہ تم کو میں اچھی نہیں لگی کیا ۔۔!! عابیر حیرت سے اسے دیکھا جو بڑی آنکھوں سے اسے صدمہ سے دیکھ رہا تھا ابھی تک اور مرتضیٰ کی خون خوار نظریں اسی پر تھی ۔۔
” یار تم بہت حسین ہو اتنی معصوم خوبصورتی تو میں نے کہیں دیکھی ہی نہیں کیوں بھائی سچ کہا نہ ۔۔!! احمد کا لہجہ اب شرارت سے بھر پور تھا ۔۔۔ مرتضیٰ خونی نظروں سے اسے دیکھتا اندر چلا گیا تھا وہ اسے دیکھتا ضرور اسکی خوبصورت لیکن اس نے گہری دلچسپی سے نہیں دیکھا تھا زیادہ ورنہ آج تو اپنا دل ہار جاتا اتنے خوبصورت نین نکش پر ۔۔
” لگتا ہے آج پھر کسی سے رشوت لے آیا ہے بےغیرت پولیس والا ہونہہ ۔۔!! وہ منہ بناتے ہوئے بڑبڑائی ۔۔ عابیر کو پتا نہیں کیوں اسکا نظر انداز کرنا اب پسند نہیں تھا دل شدت سے چاہتا تھا اس شخص سے باتیں کرے لیکن اس نے اپنا خوف ہی ایسا ڈالا تھا دل میں کیا ہی کہتی ۔۔۔
رات کو کھانے پر حمید صاحب نے سب کو بتا دیا تھا عابیر کے رنگ روپ کے بارے میں آدھی کہانی تو وہ تھوڑی دیر پہلے سنا چکی تھی باقی کی حمید صاحب نے پوری کرلی ہانیہ تو اسکی بڑی بڑی خوبصورت کاجل سی آنکھیں دیکھتی اسکے رنگ و روپ میں وہ گلال وہ واقعی بہت حسین تھی ہانیہ اور شازیہ بیگم نے دل میں اعتراف کیا تھا اس بات کا لیکن ہانیہ کو جلن ہونے لگی تھی اس سے وہ تو پہلے ہی مرتضیٰ کو پٹانے آئی تھی اس بار لیکن اب عابیر کے سامنے سب جاتا ہوا دِکھ رہا تھا اسے ۔۔۔ آج مرتضیٰ نے ایک بات نوٹ کی تھی وہ پھر سے باتیں کرنے لگی تھی جیسے شروع دن میں کرتی تھی لیکن بیچ میں اسکے ڈر سے وہ کم ہی اسکے سامنے بولتی تھی اب اگر پھر وہ شروع ہوئی تھی تو کیا وہ پھر اسے گالیاں دے گی یہی سوچتے ہوئے وہ اسکا ہنستا ہوا چہرہ دیکھا جو سانولے رنگ میں بھی ایک کشش رکھتی تھی تو آج تو اسکی کشش ایک الگ ہی روپ میں تھی ۔۔ وہ جلد نظریں چرا کر اٹھ گیا تھا۔۔
________★
” عابیر ۔۔!! اپنے نام کی پکار پر اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سانس لینا بھول گی ۔۔ مرتضیٰ غصے میں اسے گھور رہا تھا ۔۔
” ہائے اللّٰه میری ہی کیوں قسمت خراب ہے اس بندے کے سامنے صبح والا بدلہ تو نہیں لیگا عابی بھاگ جا نہیں تے مرے گی ۔۔!! وہ خود سے دل ہی دل میں بڑبڑائی تھی اس سے پہلے بھاگتی مرتضیٰ قریب آتے رک کر اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا تھا ۔۔
” اپنی زبان دکھاؤ ۔۔؟” وہ سنجیدہ تھا ۔۔
” ہے ک۔کیوں ۔۔ مم ۔۔میری زبان کیوں چاہیے ۔۔؟” عابیر پہلے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولتی تیزی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لئے اسکا کیا بھروسہ ۔۔
” اسی زبان پر تین مہینے سے تالا لگا ہوا تھا آج کس نے کھولا ۔۔؟” مرتضیٰ ایک قدم قریب آیا وہ اس وقت کچن میں تھے عابیر پیچھے ہوتی سلپ سے لگی ۔۔ مرتضیٰ کو آج پھر موقع ملا اپنا اپنا حساب برابر کرنے کا ۔۔ وہ جھکا عابیر کی خوف سے آنکھیں باہر آنے کو تھی ۔۔
” مم ۔۔میں معافی مانگتی اب نہیں بولوں گی قسم لے لو مجھے مارو مت ۔۔!! منہ پر دے ہاتھ نہیں ہٹائے تھے آواز گھوٹی گھوٹی سی تھی ۔۔ ڈر سے آنکھوں میں نمی دل کی دھڑکن تیز تھی ۔۔ مرتضیٰ کو مزہ آیا اسکے ڈرے ہوئے روپ سے ۔۔۔
” پہلے بھی تم نے وعدہ کیا تھا اور تم پھر بھول گی ۔۔ سوچ رہا ہوں رات کو اندھیرے میں تمہیں اٹھا کر یہاں سے بہت دور لے جاؤ وہاں آرام سے تمہارا قتل عام کروں کسی کو خبر تک نہیں ہوگی کوئی عابیر کریم بخش تھی ۔۔!! مرتضیٰ کے خوف ناک اندازے بیان نے تو اسکی جان نکال دی آنکھوں میں سیلاب اترا نفی کرتے ہوئے جیسے التجا کی تھی ۔۔۔ وہ تھوڑا اور جھکا فاصلہ تھوڑا ابھی تھا انکے بیچ سانسوں کی تپش چہروں پر تھی ۔۔۔ مرتضیٰ اسکی خوبصورت بڑی کاجل جیسی آنکھوں میں ڈر دیکھ سکتا تھا چہرہ شرم حیا ڈر سے سرخ تھا ۔۔ گھنی پلکیں رقص کر رہی تھی ۔۔ مرتضیٰ چونکا یہ کیا تھا کیسا احساس تھا اسکی قربت میں وہ کیا کر رہا تھا نہیں وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا تھا وہ نفرت کرتا ہے اس سے خود کے احساسات پر ضبط کرتا تیزی سے پیچھے ہوا تھا اسکے پیچھے ہونے پر عابیر تیزی سے بھاگنے والی تھی کہ اسکا دوپٹہ سر سے سرکا وہ رکی سانس لینا چاہا تھا کے پھر روک گئی ۔۔ مرتضیٰ کے ہاتھ میں اسکی گھنی ناگن جیسی چوٹی تھی ۔۔
” ایک اور موقع دے رہا ہوں صرف دادی کیلئے تم انکی وجہ سے یہاں ہوں اب اگر تمہارے زبان استعمال ہوئی مجھے کوئی بھی الٹا سیدھا لفظ بولا تو یاد رکھنا ابھی جو بھی کہا سب سچ کر دونگا ۔۔؟” گہری سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔
” مم ۔۔میں نہیں بولوں گی ک۔کسی کو نہیں بتاؤ گی جج ۔جاؤ ۔۔!! آواز میں ڈر تھا پیچھے مڑنے کی غلطی نہیں کی تھی وہ تو اسکے چوٹی کے چھوڑنے کے انتظار میں تھی ۔۔مرتضیٰ ایک گہری دلچسپ نظر اسکے ہاتھ میں موٹی سی چوٹی پر ڈالی اسی نرماہت محسوس کرتے ہوئے دل کے کونے میں خواہش جاگی وہ ان بالوں کی خوشبوں محسوس کرتا ۔۔
” اا ۔ادا سائیں چ ۔چھوڑے ۔۔؟” عابیر کی آواز پر ہوش میں آتے تیزی سے چھوڑتا وہاں سے نکل گیا عابیر سے پہلے ہی خود کی بہکتی کہفیت پر ہزار پر لعنت بھیجی تھی اس نے ۔۔
” کیا ہو گیا تھا مجھے آج ۔۔ کیا میں پاگل ہوں نہیں بیغرت ہوں شاید یہ کیا کر رہا تھا ۔۔ نہیں مجھے اس سے نفرت ہے یہ سب کچھ نہیں ہاں ۔۔!! روم میں آتا ہزار بار پھر خود پر لان تان کرنے لگا تھا وہ واقعی آج کا یہ احساس سمجھ نہیں پایا تھا وہ تو اسے ڈرانے گیا تھا اسکی پھر سے چلتی زبان کو بریک لگانے یہاں تو اپنا ہی بریک فیل کر آیا تھا ۔۔
______★
” مرتضیٰ کیا تم مجھے باہر گھمانے لے جاؤ گے پلیز انکار مت کرنا میں اتنے ٹائم بعد آئی ہوں اور تم ہو کہ ٹائم ہی نہیں دیتے ۔۔!! ہانیہ منہ بناتے ہوئے لاڈلے انداز میں کہا جسے وہ اسکی ہر بات سرآنکھوں پر رکھتا ہو ۔۔
” ہانی ابھی نہیں یار کل چلتے ہیں کچھ دن مجھے چوٹھی کے ملے ہیں آرام تو کرنے دو ۔۔۔!! مرتضیٰ بےزاری سے بولا تھا وہ ویسے ہی کچھ دن کی تھکان اتار رہا تھا ۔۔
” پولیس والے ادا میں چائے لاؤں ۔۔؟” عابیر کی آمد نے مزید موڈ خراب کردیا ہانیہ کا تو وہی مرتضیٰ کو جھٹکا لگا اسکے میٹھے سے لہجے کے ساتھ اسکے نئے نام و روپ پر ۔۔
” وہاٹ پولیس والے ادا سیریسلی تمہیں اور کوئی نام نہیں ملا ۔۔۔؟” مرتضیٰ نے حیرت سے پھر غصے میں کہا اسے ۔۔
” وہ سیریلی کیا ہوتا ہے ۔۔؟” عابیر حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔ اسکے انداز پر مرتضیٰ کو ہنسی تو آئی پر دبا گیا ۔۔
“جاہل لڑکی یہ پڑھے لکھوں کی سمجھ آنے والی باتیں ہیں اور ہاں اس کا نام مرتضیٰ حمید ہے تو یہی بلاؤں اپنے فضول سے نام مت دو سمجھی ۔۔۔!! ہانیہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ عابیر کو تھپڑ مار دے ایک تو اسکے بیچ آگئی وہ کیسے بھی کرکے اسے منا لیتی لیکن یہ پتا نہیں کہا سے ٹپک پڑی تھی ۔۔
” مرتضیٰ پلیز ہم باہر چل کر چائے پیتے ہیں پلیز چلو نہ ۔۔!! وہ جو عابیر کو دیکھنے میں مصروف تھا ہانیہ کے قریب آتے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر لاڈ سے کہنے پر ہوش میں آیا ۔۔۔ عابیر اس بےشرم لڑکی کی حرکت پر حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیوں تم لوگوں کو گھر پر چائے نہیں مل رہی جو باہر جاؤ گی ۔۔میں اچھی چائے بناتی ہوں ۔۔؟” دونوں نے حیرت سے عابیر کو دیکھا جیسے عجیب بات کہہ دی ہو ۔۔ پر عابیر ایک چیز سمجھ گی تھی مرتضیٰ کے ساتھ دشمنی نہیں کرنی ورنہ اپنی موت کو خود دعوت دینے جیسی بات ہوئی اب وہ جتنا ہوتا اسکی نظروں میں اچھی بننا چاہتی تھی ورنہ اسکی لاش تو کسی کو نہیں ملے گی یہ وہ دھمکی اپنے دل و دماغ میں جیسے بیٹھا گی تھی ۔۔
” اچھا ٹھیک ہے جاؤ تم چائے لے آؤ پھر چلتے ہیں ۔۔۔!! مرتضیٰ کہتا ایک نظر اسے دیکھ جو خوش ہوتی مزے سے اندر بھاگی ۔۔
” سیریسلی مرتضیٰ اگر نہ جانے کے بہانے ہیں تو بتا دو ۔۔!! ہانیہ کو غصہ آنے لگا تھا وہ دیکھ رہی تھی مرتضیٰ پہلے اس سے اتنی بات نہیں کرتا تھا اب یہ لڑکی تو جیسے ہاتھ دھو کر اسکے پیچھے پڑھی ہو ہانیہ کی سوچ یہاں سے کچھ زیادہ آگے جا رہی تھی ۔۔۔
_______
” کیا ہوا اماں نانی تم پریشان ہو ۔۔؟؟ عابیر نے نانی اماں کو پریشان اور خاموش دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا ۔۔
” ہاں بیٹا وہ کمینہ وڈیرہ تمہارے باپ کو پھر تنگ کر رہا ہے اسکا فون آیا تھا کہا جلد تمہاری شادی کروا دوں کہیں پھر شاید وہ تمہاری جان چھوڑ دیگا ۔۔!! نانی اماں پریشان سی بولی ۔۔
” نانی اماں مجھے گاؤں جانے دو وہ کمینہ منحوس انسان میرے ابا کو کچھ کر نہ دے تم مجھ کو بھیج دو میں دیکھ لوں گی اس کو ۔۔!! عابیر باپ کا سنتی تڑپ گئی تھی وہ کیسے نہ ہوتی پریشان جانتی تھی وہ ظالم انسان کہاں کسی کو بخشتا ہے۔
” نہیں تو پاگل ہے میں بات کرتی ہوں حمید سے اسے آنے دو ۔۔!! نانی اماں حمید صاحب سے بات کرنے کا ہی آخری حل نکالا ۔۔۔
_______★
” یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے اماں ۔۔ کہا بھی تھا بخش کو آجاؤ یہیں تم لوگ بھی لیکن وہ اپنا گاؤں چھوڑنے کو تیار بھی نہیں ہے ۔۔۔!! حمید صاحب بھی پریشان ہوگئے تھے بات سن کر۔۔
” ماموں سائیں آپ مجھے واپس بھیج دے وہ ظالم شخص میرے ابا کو جینے نہیں دیگا ۔۔۔!! عابیر رونے والی ہوگئی تھی دل نے چاہا ابھی اڑ کر چلی جائے اپنے گاؤں ۔۔۔
” نہیں بیٹا بخش نے سختی سے منع کیا ہے تمہیں وہاں لے جانے سے وہ ایک دو روز میں خود آئے گا آپ فکر مت کریں ہم ہیں آپ کے ساتھ ۔۔۔!! حمید صاحب اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے سمجھایا ۔۔
” السلام علیکم کیا ہوا خیر ہے سب پریشان بیٹھے ہیں ۔۔۔!! مرتضیٰ دادی کی روم میں آتے دیکھا جہاں تینوں خاموش پریشان بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔
” حمید تم عابیر کیلئے کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈو اس کی جلد شادی کروا دیتے ہیں پھر اس کمینے کو شاید چین ملے ورنہ سب کا جینا حرام کر دے گا ۔۔۔!! دادی افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا مرتضیٰ حیرت سے باپ پھر ایک نظر عابیر کو دیکھا جو آج بہت خاموش اور اداس نظر آئی ۔۔۔
” جی اماں دیکھتا ہوں کوئی اچھا سا رشتہ ۔۔!! حمید صاحب نے ہاں میں ہاں ملائی پھر مرتضیٰ کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھ کر اسے سب بتایا جس نے غصہ میں مٹھیاں میچیں تھیں ۔۔
” آپ لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا یہ اتنا آسان معاملہ نہیں تھا بابا ۔۔!! مرتضیٰ کو غصہ آیا آخر گھر کی عزت کی بات تھی ۔۔
_________★
بیٹا غصے میں سارے مسلے حل نہیں ہوتے اور تم وہاں کے علاقہ کے پولیس والے نہیں ہو وہاں کے پولیس والے بھی انکے اشارہ پر چلتے ہیں اس لئے تو یہ حل ہے کسی کی بھی گھر کی عزت کو لے جاتے ہیں فخر سے وہاں کوئی قانون نہیں چلتا ۔۔!! حمید صاحب نے افسوس سے اسے گاؤں کے حالات بتائے جسے سن کر مزید غصہ آنے لگا تھا ۔۔
” لوگوں کے دل میں خوف خدا ختم ہو گیا ہے بیٹا اس لئے تو یہ حالات چل رہے ہیں، ہم لوگوں نے اس لئے عابیر کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے لیکن اب اس کے ماں باپ چاہتے ہیں اس کی شادی ہو جائے کہیں تو شاید وہ کمینہ انسان خاموش ہو جائے ۔۔۔!! نانی اماں نے سب بتایا اسے ان سب کی باتوں کے بیچ آج وہ خاموش تھی جسے صرف اپنے گھر کی فکر تھی ۔۔مرتضیٰ نے اسکا اداس چہرہ دیکھا جو اچھا نہیں لگا وہ خاموش کہاں رہتی تھی ہمیشہ ہنستی مسکراتی ہی اسکے سامنے آئی تھی اور آج وہ خود کے ساتھ دوسروں کو بھی اداس کر رہی تھی اسکی خوبصورتی میں واقعی بہت کشش تھی ۔۔
_______★
” کیا ہوا بیٹا تم پریشان لگ رہے ہو ۔۔؟” دادی نے حمید صاحب کو پریشانی سے اندر آتے دیکھا ۔۔
” جی اماں وہ عابیر کو بلائیں کچھ بات کرنی ہے ۔۔!! حمید صاحب پریشان گھبرائے ہوئے تھے۔
” ہوا کیا ہے بیٹا آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں بیٹھو میں عابیر کو آواز دیتی ہوں عابیر ۔۔۔!! دادی حمید صاحب کو پاس بیٹھا کر عابیر کو آواز دی ۔۔
” اماں اس کمینہ انسان نے بخش پر گولی چلا دی ہے اسکی حالت خراب ہے اس لئے عابیر کو ملانے لے جا رہا ہوں ۔۔!! حمید صاحب کو آج ہی صبح فون آیا تھا جس پر وہ تیزی سے گھر بھاگے آئے ۔۔
” یا اللّه خیر یہ سب کیا ہو گیا بیٹا میں بھی ساتھ چلتی ہوں یہ سب کیسے ہو سکتا ہے میں چل کر بات کرتی ہوں کہیں معاملہ زیادہ خراب نہ ہو جائے ۔۔۔!! دادی نے دل پر ہاتھ رکھا وہی اندر آتی عابیر کے کانوں نے یہ بات سن لی وہ تڑپتی ہوئی ان کے قریب آئی۔
” مم ۔۔ ماموں سائیں یہ کیا کہ رہے ہیں ابا کو کیا ہوا مجھے مجھے لے چلیں ان کے پاس ۔۔۔!! وہ روتی ہوئی بولی دادی اور حمید صاحب کو اس کی حالت پر بہت افسوس ہوا حمید صاحب نے دادی کو ساتھ چلنے سے منع کردیا اور عابیر کو ساتھ لے گئے ۔۔
_______★
” آج تو بہت خاموشی ہے گھر میں خیر ہے ۔۔؟” مرتضیٰ جاب سے واپس آیا تو گھر کی خاموشی دیکھ کر حیرت ہوئی ورنہ ہمیشہ عابیر محترمہ کا ڈھول بجتا رہتا تھا ۔۔
” ہاں بھائی میں بھی بور ہو گیا ہوں اور آپ کو پتا ہے میں عابیر سے ناراض ہوں بغیر بتائے گاؤں چلی گئی ۔۔!! احمد ناراض سا بولا وہ جسے ہی گھر آیا اسے پتا چلا عابیر اپنے گاؤں جا چکی ہے پوری بات اسے پتا نہیں تھی ۔۔
” کیاا کب کیسے کس کے ساتھ ۔۔؟” مرتضیٰ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا حیرت اور فکر مندی سے پوچھا ۔۔ احمد نے حیرانگی سے بھائی کے نئے روپ کو دیکھا ۔۔
” بیٹا آرام سے تمہارے بابا کے ساتھ گئی ہے اسکے باپ کی طبیعت خراب تھی اس لئے انہوں نے بلوایا ہے اور کبھی نہ کبھی تو جانا تھا اسے تم لوگ پریشان کیوں ہو رہے ہوں ۔۔!! مسز حمید نے آدھی ادھوری بات بتائی پر مرتضیٰ کے لہجے نے ان کو پریشان کردیا تھا ۔۔
” پھر بھی ماما ایسے کوئی جاتا ہے کیا اور بابا مجھے تو ساتھ لے جاسکتے تھے میں نے دیکھنا تھا عابیر کا گاؤں ۔۔!! احمد سخت ناراض تھا عابیر سے ۔۔
” بھائی ہم چلے ساتھ عابیر کے گاؤں ۔۔؟” احمد پرجوش انداز میں بولا تھا ۔۔
” بس خاموش کیا بچوں جیسی ضد ہے اپنی پڑھائی پر دھیان دو اور تم جا کے فریش ہو میں کھانا لگواتی ہوں ۔۔!! مسز حمید نے دونوں کو جھڑکا ۔۔
” دادو کہاں ہیں ۔۔؟؟
” اپنے روم میں تم پہلے فریش ہو پھر مل لینا ۔۔!! مسز جانتی تھی وہ دادی کے پاس گیا تو وہ اسے پوری بات بتا دیں گی انھیں اپنا یہ بیٹا بہت پیارا تھا اس لئے اس کے فیصلے وہ خود چاہتی تھی لیکن شوہر ساس کے ہوتے ہوئے کیسے وہ خود صرف اس پر حق جتانا سمجھتی تھیں ۔۔
” السلام علیکم دادو کیسی ہیں ۔۔؟” مرتضیٰ دادو کے روم میں آیا وہ پریشان سی بیٹھی ہوئی تھیں ۔۔
” کیا بتاؤں بیٹا کیسی ہو سکتی ہوں اپنے بچے جب پریشان ہوں تو ماں کیسے خوش رہ سکتی ہے ۔۔!! دادی اداس ہوئی
” کیا ہو گیا ہے کوئی بات ہوئی ہے یہ بابا اچانک گاؤں کیوں گئے ہیں۔۔!! مرتضیٰ کو جو بات دل میں کھائی جا رہی تھی وہ پوچھ بیٹھا ۔۔
” بیٹا کیا بتاؤں کیا ہو رہا ہے سب ۔۔!! دادی گہرا سانس لیتی اسے ساری بات بتائی جس کا چہرہ غصہ میں سرخ ہو گیا تھا ۔۔
” اور آپ اب بتا رہی ہیں اتنی بڑی بات ہوگئی اور بابا انہوں نے مجھے بتایا تک نہیں ایسے ہی چل دیے مجھے ساتھ لے جاتے اگر وہاں پھر کچھ مسئلہ ہو گیا تو ۔۔!! مرتضیٰ کو رہ رہ کر اپنے باپ کے فیصلہ پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔
” ہاں بیٹا وہی سوچ کر پریشان ہو رہی ہوں تم کال کرو پوچھو اس سے نہیں تو ہم چلتے ہیں مجھے بھی یہاں سکون نہیں مل رہا چل کر اپنی بچی کو دیکھ لوں ۔۔!! پریشانی سے دادی کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی جنہیں مرتضیٰ نے بہت سمجھا کر دوائی کھلا کر سلایا پھر باپ کو کال کی ۔۔۔
” بابا آپ بتا کر جا سکتے تھے کیا آپ مجھے اتنا غیر ذمہ دار سمجھتے ہیں کیا فائدہ میرا پولیس میں ہونے کا جب اپنوں کو ہی پروٹیکٹ نہ کر پاؤں ۔۔؟” مرتضیٰ نے غصہ میں کہا ۔۔
” بیٹا اس وقت پریشانی ہی ایسی تھی کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن اب تمہاری یہاں مجھے بہت ضرورت ہے تم ابھی کسی کو مت بتاؤ جلدی سے یہاں پہنچو وہ لوگ عابیر کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔۔!! حمید صاحب کی نم پریشان آواز پر وہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تھا کہ انکی آخری بات پر اسکا خون کھول اٹھا ۔۔۔
” وہاٹ بہت غلط کر رہے ہیں یہ لوگ ان کو تو اب میں بتاؤں گا میں آرہا ہوں بابا آپ پریشان نہ ہوں ۔۔!! مرتضیٰ تیزی سے روم میں گیا جلدی جلدی اپنا سامان پیک کرنے لگا اسے کسی بھی حالت میں یہاں سے نکلنا تھا جلد ۔۔
” بھائی کہا جا رہے ہیں سب خیر ہے ۔۔؟” احمد مرتضیٰ کو باہر نکلتا دیکھ کر جلدی سے پیچھے آیا ۔۔
” ایک مشن پر جا رہا ہوں دعا کرنا کامیاب ہو کر لوٹوں اور ہاں گھر کا خیال رکھنا صبح سب کو بتا دینا ابھی سو جاؤ ۔۔!! مرتضیٰ احمد کو اچھے سے گھر کی ذمہ داری سمجھا کر گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔۔اب اس کی منزل اسے کہاں لے جائے گی یہ تو اسے بھی نہیں پتا تھا قسمت کیا کھیلنے والی ہے ان کے ساتھ ۔۔۔
________★
” ماموں سائیں ابا ٹھیک تو ہے نہ ۔۔۔؟”
” ہاں بیٹا جی آپ دعا کریں فکر نہ کرو میرے بچے سب ٹھیک ہوگا ۔۔!! وہ کب سے باپ کی پریشانی میں رو رو کر ہلکان ہوئی تھی وہ اپنے گاؤں کے ہی ہسپتال میں تھے ۔۔
” ابا تم ٹھیک ہو نہ میری جان نکل گئی تھی ۔۔!! عابیر باپ کو دیکھ کر روتے ہوئے ان کے پاس بیٹھی انھیں گولی چھو کر گزری تھی جس وجہ سے آج طبیعت سہی تھی ۔۔
” میری دھی میں ٹھیک ہوں روتے نہیں میرا بچہ۔۔!! باپ نے پیار سے اسے پاس بیٹھا کر تسلی دی ۔۔
” عابیر تمہیں آتے ہوئے کسی نے دیکھا تو نہیں ایسے آ گئی اپنا حلیہ درست کرتی اب اگر پھر اس کمینے ذلیل انسان کی نظر پڑ گئی تو ۔۔!! اماں اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے گویا ہوئی سب کی توجہ بھی ان کی طرف اٹھی تھی ۔۔
” اماں تو فکر نہ کر چل عابیر تجھے گھر لے چلتی ہوں وہ چل کر اپنا کالا رنگ لگا دے ۔۔!! اس کی بہن عابدہ نے دیکھ کر کہا سب کی بات ٹھیک لگی گھر تھوڑا ہی دور تھا اس لئے پیدل جانا تھا عابیر اماں کی بڑی چادر لے کر نکلی تھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ کچھ لوگ راستے میں ملے ۔۔
” ارے یہ تو وہی چھوری ہے جو وڈیرہ کو چاہیے تھی دیکھ آج خود چل کر سامنے آئی ہے اور آج تو اپنے حسین روپ میں واہ ۔۔!! ان بندوں کے منہ سے ایسی بات سن کر دونوں گھبرا گئیں تھیں عابیر کی طبیعت تو ویسے ہی کل سے باپ کی طبیعت کا سن کر خراب تھی گھبراہٹ پریشانی رونے سے بوجھل پن محسوس کر رہی تھی ۔۔
” سن آبی ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی چل بھاگتے ہیں۔۔!! اس کی بہن کو حالات دیکھتے ہوئے یہی سہی لگا ۔۔
” لیکن آپی ہم ڈریں کیوں ہم چلتے ہیں اپنے گھر چل ان کمینون کی زبان تو کبھی بند نہیں ہوگی ۔۔!! عابیر کو غصہ ہی آگیا تھا ان لوفرو کی بات سن کر بہن کا ہاتھ پکڑ کر جسے ہی آگے بڑھی تھی کے وہ تین لوگ آگے آگئے تھے دونوں گھبرا کے رک گئی تھی ان میں سے ایک نے عابیر کی بہن کو دھکہ دے کر گرا دیا دونوں عابیر کے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھسیٹتے ہوئے لے گے وہ چیختی رہی گھٹی آواز میں خود کو چھڑوانا چاہا لیکن بے سود ۔۔ باعیر کی بہن نے بہت چاہا اسے بچانے کیلئے انکی گاڑی کے پیچھے بھاگ بھاگ کر تھک گی ۔۔
