Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Hogai Hai (Episode 13)

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

” مجھے بھوک لگی ہے ۔۔!! مرتضیٰ نے جیسے بیڈ پر لیٹایا اسے وہ نیند میں ہی بھوک سے بڑبڑائی ۔۔

” تم نے کھانا نہیں کھایا ۔۔؟” مرتضیٰ جھک کر اس سے پوچھا نیند میں بھی پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے آنکھیں بند تھیں ۔۔

” عابیر تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا تم نے کہا تھا تمہیں بھوک لگی ہے پھر کھایا کیوں نہیں ۔۔؟” مرتضیٰ اسکے جواب کا منتظر تھا لیکن اسے نیند کی آغوش میں دیکھ کر بازؤں سے پکڑ کر ہلکا سا ہلایا ۔۔

” ہا۔ہانیہ نے کھانا نہیں کھانے دیا۔۔!! وہ کہہ رہی تھی کہ پیٹ میں شدید درد بھوک سے متلی ہونے لگی ۔۔

” عابیر وہاٹ دا ۔۔!! اسکے متلی کرنے پر وہ تیزی سے دور ہوا عابیر کو غنودگی میں ہی متلی ہوئی دوسری بار پر اسکی آنکھیں کھل گئی تھیں وہ تیزی سے باتھ روم میں بھاگی ۔۔ مرتضیٰ پریشانی سے اسکے پیچھے گیا تھا ۔۔

” عابیر تم ٹھیک ہو ۔۔؟” مرتضیٰ اسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا وہ دو بار متلی کرتے ہوئے بے حال سی ہوگئی تھی مرتضیٰ بازؤں سے پکڑ کر نہ کھڑا ہوتا تو پکا اسنے گر جانا تھا ۔۔۔

” ابھی کرنی ہے ۔۔؟”

” نن ۔۔ نہیں بس ٹھیک ہوں مجھے کپڑے بدلنے ہیں۔۔!! تھوڑا سنبھلتے ہوئے مرتضیٰ کی گرفت میں سے نکلی ۔۔ مرتضیٰ اسکی حالت پر پریشان سا ہو گیا تھا آج تو یقین ہو گیا وہ نیند اور بھوک کی بہت کچی ہے لیکن ہانیہ کی حرکت پر اسے بے حد غصہ آیا اسکا بعد میں سوچتے ہوئے وہ وہیں اسے چھوڑتا ہوا خود روم سے نکل گیا ۔۔

_______★

” کیا کروں بھوک کی وجہ سے نیند نہیں آرہی اب اور صبح ہو جائے گی تھوڑی دیر تک سائیں جی پتہ نہیں کہاں چلے گئے ۔۔!! عابیر فریش ہوتی صوفہ پر بیٹھی سوچ رہی تھی بستر نہیں لگایا تھا نیچے ۔۔ چار بج رھے تھے اس لئے سونے کا نہ سوچتے ہوئے کھانے کے بارے میں سوچ رہی تھی ابھی اپنی ہی سوچوں میں تھی مرتضیٰ ہاتھ میں ٹرے لئے اندر آیا عابیر اسے دیکھتے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ مرتضیٰ نے اسے دیکھا ہلکے آسمانی لان کے کپڑوں میں بال آدھے کیچر سے باندھے ہوئے تھے چہرہ میک اپ سے پاک تھوڑی دیر میں اسکی طبیعت نے اسے کمزور سا کردیا تھا ۔۔۔

” بیٹھو ۔۔!! مرتضیٰ آگے بڑھ کر ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہوئے اسے دیکھا جو ابھی تک حیرت سے کھڑی اسے تو کبھی کھانے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” مم ۔۔میں ۔۔!! عابیر حیرت سے خود پر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔

” نہیں تمہارے پیچھے ۔۔۔۔ سس ۔۔سائیں ۔۔!! ابھی مرتضیٰ اسے ڈراتا کے وہ ڈر سے اسکو پکارتی ہوئی اسکے ساتھ بیٹھ گئی پھر ڈر سے پیچھے آس پاس دیکھا کمرے میں ہلکی مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔۔ اسکی حرکت پر مرتضیٰ مسکراہٹ دبا گیا ۔۔

” یہ کھاؤ ۔۔؟”

” یہ کیا ہے ۔۔!! وہ حیرت سے پلیٹ کو دیکھتے ہوئے پھر اسے دیکھا ۔۔

” تم نے کبھی نہیں کھایا یہ ۔۔؟” مرتضیٰ حیرت سے اسے پوچھا وہ نفی کرتے ہوئے اسے دیکھا ۔۔

” یہ میکرونی ہے مجھے فلحال یہی بنانا آیا سو بنا کر آگیا اب کھاؤ ورنہ پھر خالی پیٹ کی وجہ سے الٹی آئے گی ۔۔!! مرتضیٰ نے میکرونی کی پلیٹ اٹھا کر اسے دی ۔۔ وہ اسکے لئے اس وقت تو اتنا کر ہی سکتا تھا ۔۔

” آپ مجھے بتاتے میں بنا لیتی کچھ آپ نہیں کھائیں گے ۔۔!! عابیر کو بہت حیرت ہوئی مرتضیٰ نے اسکے لئے کچھ بنایا ۔۔

” نہیں تم کھاؤ میں نے کھایا تھا کھانا ۔۔۔۔۔ میں یہ سب کھالوں ۔۔!! وہ ہاتھ میں پکڑی پلیٹ سے تھوڑا سا کھاتی بھوک مزید جاگ اٹھی اور اتنی مزے کی چیز کو چھوڑنے کا دل نہیں کیا بڑی معصومیت سے پوچھتے ہوئے اسے دیکھا ۔۔مرتضیٰ تو اسکے انداز پر ہی فدا ہو گیا ہلکا سا مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔۔۔

” تم نے وہاں کھانا کیوں نہیں کھایا ۔۔؟” مرتضیٰ کے سوال پر وہ پانی پیتے ہوئے کھانسنے لگی حلق میں نوالہ پھنس گیا تھا ۔۔

” آرام سے اتنی جلدی کیا تھی ۔۔!! وہ آگے بڑھا تھا کہ عابیر تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئ اور چیزیں سمیٹی ۔۔

” مم ۔۔ میں برتن دھو کے آئی آپ سو جائیں۔۔!! وہ جلدی سے سوال سے بچنے کیلئے وہاں سے بھاگی ۔۔ مرتضیٰ سمجھ گیا تھا وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ہے ۔۔

_______★

” بھائی آپ کو پتہ ہے ماما اور ہانیہ مل کر کل رات بھابی کو کھانا کھانے نہیں دیا تھا ۔۔۔ مجھے پتہ ہے آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ بات میں نے خود اپنے گنہگار کانوں سے سنی سوچا آپ کو بھی بتا دوں شاید عابی نے کچھ کہا ہو اور آپ نے یقین نہ کیا ہو اس بیچاری کا ۔۔!! احمد نے اس وقت مرتضیٰ کو اپنے روم میں بلایا اور رات وہ جب ماں کو لینے واپس آرہا تھا ہانیہ اور اپنی ماں کی بات سن لی تھی ساتھ موبائل پر ریکارڈ کردی تھی تا کہ مرتضیٰ کو سنا سکے جو ہمیشہ عابیر سے لڑتا ہے ۔۔

” یہ بات کس کس کو بتائی ہے ۔۔؟” مرتضیٰ کو ماں اور ہانیہ پر بے حد غصہ آیا تھا انکی اس حرکت کی وجہ سے عابیر کی رات طبیعت خراب ہو گئی تھی بھلا اس سے بہتر کون جان سکتا تھا وہ کتنا پریشان ہوا تھا اسکے لئے ۔۔۔

” کسی کو نہیں صرف آپ کو اور بھابی سے پوچھنے کا ارادہ ہے ۔۔!! احمد کی بات پر مرتضیٰ کچھ سوچتا ہوا بولا ۔۔۔

” میں چاہتا ہوں تم یہ بات خود عابیر سے پوچھو وہ تم سے ہر بات شئیر کرتی ہے اس بار پوچھنا میں بھی سننا چاہتا ہوں ۔۔!! احمد سمجھ گیا وہ کیا کہنا چاہتا ہے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔۔

” بھابی آپ ۔۔!! احمد عابیر کو دیکھتا حیران ھوتا بولا تھا ۔۔

” ہاں میں یہ دیکھو تمہارے لئے کھیر لائی ہوں کھا کر بتاؤ کیسی لگی ۔۔ میں اندر آؤں۔۔!! عابیر مسکراتے ہوئے کہتی اسے وہیں دروازے کے پاس کھڑا پاکر خود ہی اندر جانے کا پوچھا ۔۔ احمد ایک نظر پیچھے دیکھا جب مرتضیٰ واش روم میں جا کے دروازہ بند کردیا وہ سکون کی سانس لیتا اسے اندر آنے دیا ۔۔۔

” اچھا ہوا آپ آ گئی مجھے کچھ پوچھنا تھا ۔۔؟” عابیر کو بیٹھا کر احمد اپنی مطلب کی بات پر آیا ۔۔

” کیا پوچھنا ہے ۔۔؟؟ عابیر نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔

” کیا کل رات ہانیہ نے آپ کو کھانا کھانے نہیں دیا تھا پلیز سچ بولنا بھابی ۔۔؟” احمد پیار سے اپنی پیاری معصوم بھابی کو دیکھتے ہوئے امید سے پوچھا تھا ۔۔

” وو ۔۔وہ مجھے یاد نہیں تم یہ کھاؤ نہ ۔۔!! عابیر بات بدل گئی اسے نہیں پسند کوئی اس کی وجہ سے لڑے نفرت کریں ایک دوسرے سے ۔۔

” اچھا بھائی کو بتایا تھا ۔۔؟” احمد ایک نظر واش روم کے دروازے پر ڈالی ۔۔

” تمہارا بھائی میرا یقین نہیں کرتا ۔۔!! وہ اداسی سے بولی اندر بیٹھا مرتضیٰ ضبط سے آنکھیں بند کرتا پھر کھولی ۔۔اسے کل رات اسکی طبیعت بار بار آنکھوں کے پردوں پر لہرا رہی تھی عابیر کی خاموشی سرخ آنکھیں ۔۔ یکدم گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی اس کے اندر ۔۔

” آپ بول کر تو دیکھیں ایک بار بھائی سے بات کریں کیا پتہ وہ آپ کا یقین کر لے ۔۔۔!! احمد نے ایک بار پھر سمجھانا چاہا اسے ۔۔

” اچھا نہ چھوڑو رات گئی بات گئی اب تم یہ کھاؤ اور بتاؤ کیسا بنا ہے ۔۔!! وہ پھر اپنی ٹون میں واپس آئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی دل میں میل نہیں رکھتی تھی صاف دل کی مالک تھی ۔۔ اب اسکی تعریف کی منتظر تھی ۔۔

” واہ بھابی کیا کھیر بنائی ہے سچ میں دل کرتا ہے آپ کے ہاتھ چوم ۔۔۔ٹھااا۔۔۔ !! احمد اسکی تعریف میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا اندر واش روم میں مرتضیٰ غصے میں کوئی چیز نیچے پھینک دی جسے وہ لوگ فراموش کر بیٹھے تھے ۔۔

” یہ کیسی آواز تھی اندر کوئی ہے کیا ۔۔۔؟” عابیر حیرت سے واش روم کے بند دروازے کو دیکھ کر احمد کو دیکھا ۔۔

” وو ۔۔ وہ کوئی نہیں میری چیزیں ایسے ہی گرتی ہیں سہی سے رکھتا نہیں نہ میں ۔۔!! احمد گھبرا گیا تھا ۔۔

” ہاں پتہ تھا مجھے تم کوئی چیز سہی کرتے کب ہو میں صفائی کر دیتی ہوں تم آرام سے کھاؤ ۔۔!! وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔ اسکی بات پر اندر کھڑا مرتضیٰ گھبرا گیا تھا وہی احمد کے حلق میں کھیر پھنس گئی تھی ۔۔

” اوفو آرام سے نہیں کھائی جاتی تم سے کوئی چیز رکو پانی لاتی ہوں ۔۔!! وہ پریشانی سے کہتے نیچے بھاگی ۔۔احمد اپنی سانس بحال کرتا تیزی سے واش روم بھاگا ۔۔

” بھائی پلیز جلدی نکلیں ورنہ پکا بھابی کے ہاتھوں قتل ہو جاؤں گا ۔۔!!احمد نے پریشانی سے کہا تھا ۔۔

” اسکی صرف زبان چلتی ہے ہاتھ نہیں ۔۔!! وہ طنزیہ بولتا چلا گیا ۔۔ احمد بیڈ پر گر گیا ۔۔

____________

” یہ مال ہے یہاں سے ہم کپڑے لیں گے آپ کیلئے چلیں آجائیں ۔۔!! احمد اسے آج شاپنگ پر لایا تھا کل زین کے ولیمہ کیلئے ڈریس دلانے ۔۔

” ہائے اللّٰه اتنا بڑا میں کھو گئی تو ۔۔!! عایبر نے بڑے سے لکی مال کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے احمد سے کہا ۔۔

” پھر آپ کا پولیس والا شوہر پورے مال کو بند کروا دے گا ۔۔۔ ہاہاہا سچ میں سائیں جی ایسا کر سکتے ہیں ۔۔!! وہ ہنستے ہوئے حیرت میں بولی تھی ۔۔ احمد اسے لئے آگے بڑھ کر مرتضیٰ کو کال کردی تھی جیسے ہی فارغ ہو یہاں پہنچ جائے ۔۔

” یہ دیکھیں کتنے پیارے کپڑے ہیں آپ پر تو سب ہی اچھے لگیں گے ۔۔!! احمد پیار سے اسکے لئے ڈریس دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔ عابیر حیرت انگیز طور پر آس پاس کی خوبصورت چیزوں کو دیکھ رہی تھی دوسری سائیڈ چوڑیوں پر نظر پڑتے ہی وہ وہاں گئی خوبصورت رنگوں والی چوڑیاں اسے بہت زیادہ پسند آئی تھیں۔۔ احمد موبائل پر کال آنے کی وجہ سے تھوڑا دور ہوا تھا وہ مرتضیٰ کو بتا رہا تھا وہ لوگ سیکنڈ فلور پر ہیں۔۔ سامنے ہی مرتضیٰ آتا دکھائی دیا احمد نے ہاتھ ہلا کر اسے یہاں بلایا وہ سیدھا چلتا ہوا وہیں آیا ۔۔

” مجھے کیوں بلایا یہاں جانتے نہیں بزی تھا میں ۔۔!! جب کہ دل تھا اس دشمن جان کو دیکھنے کا ۔۔

” خیریت بھائی یہ تو آپ کال پر بھی بتا سکتے تھے پھر میں تھوڑی کہتا ادھر آئیں۔۔۔۔ شٹ اپ ۔۔!! احمد نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھا وہ گھورتا ہوا آگے بڑھا ۔۔

” عابیر کہاں ہے ۔۔؟؟ مرتضیٰ تھوڑا آگے آتے کپڑوں والی شاپ پر عابیر کو نہ پا کر پیچھے آتے احمد سے کہا ۔۔

” یہی تو تھیں بھابی ہم لوگ کپڑے دیکھ رہے تھے ۔۔!! احمد تیزی سے اندر آتا آس پاس دیکھا ۔۔

” احمد عابیر کہاں ہے کیا تم پاگل ہو اسے یہاں کا کچھ پتہ نہیں جانے کہاں گئی ۔۔!! مرتضیٰ غصے میں گھورتے ہوئے احمد سے کہتا دوسری سائیڈ گیا جب کہ احمد خود پریشانی سے اسے ڈھونڈنے لگا تھا ۔۔۔

” احمد کچھ پتہ چلا ٹھیک ہے اناؤس روم میں جاؤ ۔۔!! مرتضیٰ دھڑکتے ہوئے دل سے عابیر کو تلاش کر رہا تھا جیسے وہ نہ ملے گی تو وہ سانسیں نہیں لے پائے گا ۔۔

ابھی تو دھڑکنوں میں بسایا ہے تمہیں ۔۔

_____

” سنیے ادا جی یہاں میرے ساتھ چھوٹے ادا تھا وہ میرے دیور کیا آپ نے انھیں دیکھا مجھے نہیں مل رہے وہ پریشان ہو رہے ہوں گے ۔۔!! وہ مال میں گم ہو گئی تھی عابیر چوڑیاں لینے کا سوچتی سوچتی احمد کو بلانے لگی تھی کہ اسے وہاں نہ پا کر آگے بڑھی دوسری سائیڈ جاکے ڈھونڈا لیکن احمد کہیں نہیں ملا خود بھی یہاں وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھتی پریشان سی ہوئی تھی ۔۔

” کیا آپ بچھڑ گئی ہیں فیملی سے ۔۔؟” ایک نوجوان اسکی بات سنتا پریشانی میں دیکھ کر اسکے پاس آتے بولا ۔۔

” جی وہ پتہ نہیں کہاں گئے میں یہیں کھڑی تھی اب وہ نہیں ہے ۔۔!! عابیر اس جگہ کھڑی پریشانی سے کہہ رہی تھی ۔۔

” چلیں میں آپ کو اناؤنس روم میں لے چلتا ہوں وہاں آپ کی فیملی آجائے گی آپ کو لینے چلیں آجائیں ۔۔!! وہ لڑکا اسے اناؤنس روم میں لے آیا تھا ۔۔

” عابیر کی فیملی انھیں آکے لے جائے ۔۔!! اناؤنس پر عابیر حیرت سے وہاں دیکھ رہی تھی لڑکا اس کو دیکھتا مسکراتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔

” تم کو پتہ ہے ہمارے یہاں کوئی گم ہو جاتا ہے تو ہم مسجد میں جاکے اعلان کرواتے ہیں پھر اسکے راشتے دار اور ماں باپ وغیرہ آتے ہیں لینے ۔۔!! وہ بہت مزے سے اسے بتا رہی تھی لیکن وہ تو اسکی خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھتا رہ گیا کسی کی باتیں اتنی پیاری بھی ہو سکتی ہیں اتنا خوبصورت انداز اس نے آج تک کسی کا نہیں دیکھا تھا ۔۔

” بھابی شکر آپ مل گئیں کہاں چلی گئی تھیں کتنا ڈھونڈا میں نے آپ کو ۔۔!! احمد جو کسی کال کی وجہ سے رک گیا تھا وہ بھی یہیں آرہا تھا اناؤنس روم میں ۔۔ عابیر کا سنتے ہوئے تیزی سے بھاگا آیا پیچھے مرتضیٰ بھی وہیں آگیا عابیر کے ساتھ کھڑے اس جوان سے احمد اور عابیر کو باتیں کرتا دیکھ کر مٹھی بھینچی تھی غصے میں ۔۔

” چلو اب بہت تماشا ہو گیا ہے اور تم جب یہاں کے راستے تک نہیں جانتی تو کیا ایک جگہ کھڑا نہیں رہا جاتا تم سے پریشان کرنا اچھا لگتا ہے ۔۔!! مرتضیٰ بغیر کسی لحاظ کے اسے سنانے لگا عابیر شرمندگی سے سر جھکا گئی احمد کو اچھا نہیں لگا کسی کے سامنے اس کی انسلٹ پر ۔۔

_____

” تم لوگ یہاں کیوں آئے تھے پتہ نہیں احمد تمہیں یہ نہیں واقف یہاں سے ۔۔؟” مرتضیٰ ڈرائیو کرتا غصے میں دونوں کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔ عابیر پیچھے بیٹھی لب کاٹ رہی تھی جب کہ آج تو اسنے گم ہو کر مرتضیٰ کی جان نکال دی تھی ۔۔

” بھائی آپ کو سب کے سامنے بھابی کو نہیں ڈانٹنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔!! احمد خفا ہوا ۔۔

” یہ کون سی بڑی بات ہے یہ کرتے ہی سب کے سامنے ذلیل ہے مجھے ہونہہ ۔۔اور تو اور ان ادا نے تو ہماری مدد کی شکریہ بھی نہیں بولا ہم نے ان کو ۔۔۔!! وہ بھی غصے میں بول گئی جب مرتضیٰ نے غصے میں گاڑی روکی ۔۔ اور اسکی زبان سے دوسرے کے بارے میں ہمدردی ہضم نہیں ہوئی مرتضیٰ صاحب کو ۔۔

” تمہاری زبان پھر چلی ۔۔۔۔؟” اس نے غصے سے پیچھے مڑ کر ڈرایا اسے ۔۔۔

” مم ۔میں و ۔وہ ۔۔۔۔۔ بھائی پلیز گھر چلتے ہیں ابھی یہاں کوئی تماشا نہیں ۔۔!!عابیر پھر خوف زدہ ہوئی اسکے روپ پر کے احمد نے بات ختم کی ۔۔۔ پھر خاموشی سے گاڑی آگے بڑھی تھی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *