Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 02)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 02)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” ماما پلیز یار دادی سے بولے وہ جاہل لڑکی یہاں نہیں رہے گی میں اسے یہاں برداشت نہیں کر سکتا آپ ڈیڈ سے بات کریں۔۔؟” مرتضیٰ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس لڑکی کا کچھ کردے اسے نفرت ہو رہی تھی اس بد تمیز لڑکی سے ۔۔۔
” مرتضیٰ بیٹا ریلکس وہ بس کچھ دنوں کے لئے آئی ہے ہمیشہ تھوڑی رہے گی یہاں اماں کی طبیعت کی وجہ سے تمہارے پاپا نے بلایا تھا میں بات کروں گی وہ جلد اس لڑکی کو اپنے گاؤں بھیجے۔۔؟” شازیہ نے اپنے بیٹے کو آرام سے سمجھایا۔ورنہ ان کا خود کا دل تھا وہ لڑکی ایک منٹ یہاں نہ رہے لیکن اپنی ساس کی طبیعت کی وجہ سے مجبور تھی خود تو ان کے لئے گھر میں رک نہیں سکتی تھی۔
“_سیریسلی ماما وہ ایک سیکنڈ مجھے یہاں برداشت نہیں اففف ماما میں کیسے یار ۔۔۔!! مرتضیٰ کا غصہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا بڑی مشکلوں سے شازیہ بیگم نے اسے ٹھنڈا کیا تھا ۔۔۔جس پر وہ خاموش ضرور ہوا تھا لیکن اسکے اندر نفرت غصہ بہت بڑھ گیا تھا عابیر کے لئے ۔۔۔
_________★
” بہت مشکل سے سنبھالا ہے آپ جلدی اماں کے لئے کوئی نرس کا بندوبست کریں اور اس لڑکی کو یہاں سے بھیجیں ۔۔۔دیکھا نہیں کیسی جاہلوں والی زبان ہے اسکی بات کرنے کی تمیز نہیں سارا کی بیٹی میں ماں تو ایسی نہیں یہ پتا نہیں کہاں سے آئی ہے ۔۔۔!! شازیہ بیگم نے ناگواری سے عابیر کا ذکر کیا ۔۔۔
” وہ بچی ہے گاؤں سے آئی ہے اسے نہیں پتا ہمارے ماحول کا شہر کا وہ گاؤں سے کبھی باہر نکلی نہیں اس لئے لیکن دل کی بہت صاف ہے میں بہت بار مل چکا ہوں جانتا ہوں اسے تم لوگ تھوڑا ٹائم دو اسے خود کو سب ٹھیک ہو جائے گا اور ہاں مرتضیٰ کو بولو تھوڑا کم غصہ دکھایا کرے ایسا کرتے ہیں کسی بچی کے ساتھ ۔۔۔؟” حمید صاحب تحمل سے انھیں سمجھا رہے تھے اور شازیہ بیگم جانتی تھی ان کی بات کے آگے اس کی کبھی نہیں چلتی۔
________★
” چھوٹے ادا سنو تمہارا وہ بے غیرت پولیس والا بھائی گیا ۔۔؟” وہ آج اماں کے کہنے پر کمرے سے دیر سے نکلی تھی باہر جب سامنے احمد کو بیٹھا دیکھا اسی کے پاس آ گئی تھی ۔۔
” ہاہاہا یار تم سچ میں بہت کیوٹ ہو تمہارے ساتھ تو بہت مزہ آنے والا ہے سچ میں۔۔!! احمد نے اسکی بات پر قہقہہ لگایا۔۔
” تم سب مجھے اچھے لگتے ہو لیکن وہ بےغیرت پولیس والا زہر لگتا ہے میری اتنی بےعزتی کی ہے ۔۔۔ایک سچی بات بتاؤں ۔۔؟” عابیر آس پاس نظرے گھماتے ہوئے پھر اسے دیکھا جو بہت غور سے مسکراتے ہوئے اسکی باتوں پر توجہ دے رہا تھا۔
” تمہارا بھائی ہے بڑا سوہنا پر اندر سے بڑا کالا ہے۔۔ ” اسکے سامنے مرتضیٰ کی پرسنیلٹی بہت بری ثابت ہوئی تھی۔ احمد کے زور سے ہنسنے پر گھبرا کر آس پاس دیکھا کہیں نانی اماں ہی نہ پہنچ جائے۔
” ارے نہیں یار وہ دل کا برا نہیں ہے بس غصے کا تھوڑا تیز ہے سنجیدہ مزاج ہے ان کا تم دل خراب نہ کرو ۔۔؟” احمد کے دل میں بھائی کی محبت جاگی تھی ۔۔
” اچھا تم کہتے ہو تو مانتی ہوں لیکن میرا دل بڑا خراب کیا ہے اس بندے نے ۔۔!! عابیر نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔
” کم تو تم نے بھی نہیں کیا کیا تھا بھائی کے ساتھ ۔۔!! احمد کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
” ہاں تو جیسے کو تیسا حساب کی بڑی پکی ہوں میں گھر میں سب سے زیادہ۔!! وہ پھر شروع ہوئی اپنی تعریف میں ۔۔
_______★
” وہاٹ تمہارے گھر والے تمہاری شادی تمہاری اس سو کولڈ کزن سے کروانا چاہتے ہے اور تم نے کیا کہا ۔۔؟” سویرا غصے سے چلا رہی تھی هادیق پر ۔۔
” یار بتا تو رہا ہوں امی کو صاف انکار کردیا ہے لیکن وہ اور ناراض ہوگی ہے کہا خود کرلو جاکے تم ہی بتاؤ کیا کروں یار پریشان کردیا ہے سب نے مجھے یہاں تم غصہ کر رہی ہوں ۔۔؟” ھادیق نے بے بسی سے کہا ۔۔
” ایک آئیڈیا ہے اور یہ ضرور کام کریں گا ۔؟”۔صدر ھادیق کا دوست بولا ۔۔
” کیسا آئیڈیا اور اگر فیل ہوگیا تو ۔۔؟” هادیق نے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
” كياااا تم پاگل ہوں میں شادی کرلوں اور کیا ہوگا بعد میں یہ سب اتنا آسان دیکھ رہا ہے نہیں میں یہ نہیں کر سکتا ۔۔؟” ھادیق نے اسکی بات سنتے انکار کردیا ۔۔
” یس تم اب ایسا ہی کروں گے مجھے بھی یہ سہی لگ رہا ہے ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے سوچ لو هادیق کچھ عرصے کی بات ہے پلیز میرے لئے اسکے بعد ہم ساتھ یہاں سے چلے جائیں گے ۔۔؟” سویرا کو صدر کا آئیڈیا پسند آیا اور اسنے سوچ لیا تھا هادیق کو راضی کر کے ہی رہے گئی ۔۔
” اوکے پھر میری ایک شرط ہے ۔۔۔؟ کیسی شرط ۔۔؟؟ سویرا نے جلدی سے پوچھا ۔۔
” اگر اسکے ساتھ رہتے مجھے اسکی عادت یا محبت ہوگی تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا ۔۔؟” ھادیق نے آگے کا سوچتے ہوئے کہا ۔۔
” تم نے اگر ایسا سوچا بھی نہ تو میں تمہاری جان لے لوں گی لیکن مجھے یقین ہے ایسا کچھ نہیں ہوگا مجھے منظور ہے تمہاری شرط ۔۔!! سویرا جانتی تھی وہ اسے کبھی دھوکہ نہیں دیگا ۔۔دونوں ایک دوسرے کو ایک سال سے پسند کرتے آئے ہیں ۔۔دونوں کی یونیورسٹی کا آخری سال تھا یہ اسکے بعد دونوں کا اپنے خواب پورے کرنے کے بعد شادی کا ارادہ تھا جو کے گھر والوں کی وجہ سے ناکام ہوتا دکھائی دے رہا تھا ۔۔
_______★
” کیا ہوا ہے سر خیر تو ہے آج کل بڑے غصہ میں ہیں ۔۔؟” حوالدار عباس نے اپنے سر کے سرخ چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
” آج کل میرے سامنے ایک خطرناک مجرم گھوم رہا ہے جیسے چاہ کر بھی گرفتار نہیں کر سکتا۔۔!!” مرتضیٰ غصے سے مٹھیاں بھینچ گیا۔
” سر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں مان ہی نہیں سکتا اے ایس پی مرتضیٰ حمید ایک ایسے خطرناک مجرم کو پکڑ نہیں پارہا ۔۔۔؟” عباس حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے نفی کی ۔۔
” عباس کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف دور سے ہی قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن چاہ کر بھی ہم ان تک پہنچ نہیں پاتے اگر پہنچ جائیں تو کچھ لوگ ایسے بیچ میں آتے ہیں ان کی وجہ سے سارا معاملہ خراب ہو جاتا ہے ۔۔۔!! وہ پتا نہیں کون سے خیال میں کس کو قتل کر رہا تھا عباس کے پلے کچھ نہ پڑا ۔اسکی باتیں اسکے اوپر سے گزر گئی تھیں۔۔
” سر فیاض خان نے پھر پنگا لیا ہے ۔۔؟” حوالدار نے اندر آتے اسکے ہاتھ میں فائل دی ۔۔
” سر میں کہتا ہوں اس کمینے کو کسی سنسان سڑک پر بلا کر وہیں دفنا دیتے کسی کو پتا نہیں چلے گا جتنا اس نے لوگوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے ۔۔!! عباس نے غصے میں کہا تھا ۔۔
” اس کا کچھ تو کرنا پڑے گا بہت چھوٹ دی ہے اسے ۔۔!! مرتضیٰ نے غصے سے سخت لہجے میں کہا ۔۔
________★
” ہادی کہا گیے تھے پلیز مجھے نہ ایک کام ہے باہر کا لکے چلو ۔۔؟” وش بھاگتی ہوئی اسکے سامنے آئی ۔۔ وش بیس سال کی ایک خوبصورت لڑکی تھی بلیک ڈریس میں اسکا سفید رنگ اور بھی نکھر گیا تھا کندوں سے تھوڑے نیچے سلکی بال کھلے ہوئے سٹائل سے آگے پیچھے رکھے ہوئے تھے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی ھادیق آج اسے گہری دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اسنے آج تک وش کو اس نظروں سے نہیں دیکھا تا نہ ہی وہ زیادہ بات کرتا تھا جو کے اب اس رشتے کی بات چیت چل رہی تھی تو وہ اب کچھ سوچنے لگا تھا پہلے تو اسے شادی کر کے گھر والوں کو خوش کرنا تھا پھر اسکے بعد کیا کرنا چاہئے وہ اسنے سوچ لیا تھا ۔۔
” کسی اور کے ساتھ جاؤ میں ابھی تھکہ ہوا آیا ہوں یہ نہیں کے کچھ پوچھ لو چائے پانی نہیں بس شوپنگ کا بخار چرا ہے ۔۔!!” ھادیق کا موڈ بدل گیا غصے میں بول کر روم میں چلا گیا ۔۔
ارے حد ہوگی ہے گی بھائی ایک چھوٹا سا کام بولا اس پر بھی نواب صاحب کے نخرے چائے پانی چائیے افف کیا کرو چلو وش بنا دیتے ہے چائے غریب صاحب کے لئے ۔۔!! وش خود سے بڑ بڑا تی ہوئی کیچن میں چلی گئی ۔۔
___________★
” ہاں صاحب زادے کیا فیصلہ کیا ۔۔؟” مصطفیٰ صاحب نے پوچھا ۔۔
” جی ابو میں تیار ہوں پر میری ایک شرط ہے ۔۔؟” هادیق نے فرمابرداری سے کہا ۔۔
” کیسی شرط اور یہ بھی جانتے ہوگے ہم لوگ شادی اسی مہینہ میں کرنا چاہتے ہے ۔۔؟” مصطفیٰ صاحب رعب سے کہا ۔۔
” جی منظور ہے پر میری شرط یہ ہے میں باہر جاکے پڑھنا چاہتا ہوں اور وش کو میں ابھی ساتھ نہیں لیکے جا سکتا ہوں آپ جانتے ہے باہر کے حالات کیسے ہوتے ہے پلیز ابو میں شادی کے دو مہینہ بعد جاؤ گا میں نے پہلے سے انتظام کرلیا ہے اور اپکی عزت کے خاطر میں جلدی شادی بھی کر رہا ہوں ورنہ کون اتنی جلدی کرتا ہے ۔۔!! ھادیق انھے اموشنل بلیک۔میل کر رہا تھا جس میں۔ وہ کافی حد تک کامیاب ہو گیا تھا ۔۔اکلوتا ہونے کا فائدہ اٹھا رہا تھا
___________★
” ہاۓ اللّه جی کیسے ظالم لوگ رہتے ہیں یہاں ان معصوم بچوں کو پانی بھی نہیں دیتے ۔۔!! عابیر باہر لان میں پودوں کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی ۔۔پھر پانی کا پائپ لے آئی اب وہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی پانی دیتے ہوئے وہ ساتھ گنگنا رہی تھی ۔۔
” ساری دنیا بھلائے بیٹھی ہوں
یہ نہ سمجھو کے مجھ کو پیار نہیں
تم جو آئے ہو میری دنیا میں
اب کسی کا انتظار نہیں “
ساتھ وہ جو مزے سے گانا گارہی تھی پانی کے پھوارے کو ہر طرف کر رہی تھی کہ سامنے سے آتے مرتضیٰ کے اوپر بارش کردی ۔۔
” وہاٹ دا ہیل ۔۔!! وہ غصے سے سر اٹھا کر سامنے منہ کھولے صدمہ میں کھڑی اس دشمن کو دیکھا ۔۔احمد جو باہر سے آرہا تھا سامنے کا سین دیکھ کر وہیں تھوڑا دور رک گیا تھا ۔۔اب کیا ہونے والا تھا ۔۔
” ہائے اللّه سائیں بچا لے آج میری تو قسمت ہی خراب ہے اس بندے کے سامنے ۔۔!! وہ دل میں اپنے لئے خیریت کی دعا مانگنے لگی اس دن مرتضیٰ کے غصے سے بہت ڈر گئی تھی ۔۔
” تم نے سمجھا کیا ہوا خود کو مجھ سے کوئی پرانی دشمنی ہے جو ہر جگہ میرا خون جلانے آتی ہو۔؟”
” آہہہ اماں ۔۔!! مرتضیٰ نے غصہ میں آگے بڑھتے اسکا بازو پکڑا وہ درد سے چلائی کیوں کے اسکی گرفت مضبوط تھی ۔۔۔
” بھائی چھوڑیں کیا کر رہے ہیں بابا نے دیکھ لیا تو آپ جانتے ہیں پھر ۔۔۔؟” احمد تیزی سے آگے بڑھا ۔۔
” چھوٹے ادا مجھے بچاؤ اپنے بےغیرت بھائی سے آہہہ ۔۔!! وہ جو درد سے کراہ رہی تھی آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی درد سے احمد کو دیکھتے ہوئے اسکی زبان پھر پهسلی جسکا جھٹکا پھر اسے ملا مرتضیٰ غصے میں دوسرا بازو بھی پکڑا تھا کہ احمد نے تیزی سے چھوڑایا وہ تیزی سے پیچھے ہوتے ہوئے گہرے سانس لیتی ڈبڈبائی نظروں سے اس ظالم کو دیکھا پانی گرا تھا کوئی بوم نہیں وہ بھی غلطی سے لیکن وہ تو جان کو آرہا تھا ۔۔ اور مرتضیٰ کو لگا آج ہی اپنا سارا حساب لینا چاہیے تھا ۔۔۔
” میں جاؤں گی کل تھانے بتاؤں گی یہ کمینہ پولیس والا مجھے اپنے گھر میں مارتا ہے میں تم کو جیل بھجواؤں گی ۔۔؟” عابیر نے غصے میں روتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھرتے اسے دھمکی دی ۔۔اسکے پیارے سے انداز پر احمد اپنی ہنسی روکنے کے لئے منہ موڑ گیا اور مرتضیٰ نے ایک پل کو حیرت سے اسے دیکھا دوسرے ہی پل غصے میں سرخ ہوتے آگے بڑھا ۔۔۔
” تمہاری تو آگے سے زبان چلاتی ہوں ۔۔؟
” مم میرے قریب بھی آئے تو پانی سے ماروں گی ۔۔ یا اللّه بچا یہ تو ڈرتا بھی نہیں ۔۔یہ یہ تو میری جان کا دشمن بن گیا ہے اماں نانی بچا مجھے تمہارا کمینہ پوتا مجھے مارنا چاہتا ہے ۔۔۔!! وہ غصے میں کہتی پانی اس پر پھینکتی زور زور سے بولتی اندر بھاگی ۔۔۔مرتضیٰ پھر خود کو بھیگا دیکھ کر اس کے پیچھے بھاگا ۔۔اور احمد ہنس ہنس کر بے حال ہو گیا تھا۔۔
