Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Hogai Hai (Episode 16)

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

” او ہوں ہم یہ نہیں کھاتے ۔۔!! نور نے پراٹھا انڈا دیکھتے ہوئے منہ بنایا ۔۔۔۔ جو عابیر نے اسکے سامنے لا کے پیش کیا تھا ۔۔۔

” تو کیا کھاتی ہے میڈم آپ ہم آپ کی شان میں وہ لے آتے ہیں ۔۔۔!! احمد طنز کیے بغیر رہ نہیں پایا ۔۔۔ عابیر بیچاری کو سمجھ نہیں آیا شوہر کی نوکری کیسے بچاؤ ۔۔۔

” چھوٹے ادا وہ بڑے گھر کی ہے اچھا کھاتی پیتی ہوگی ۔۔ تم انگریزی کھانا کھاتی ہوگی ہے نہ وہ ہانیہ بھی یہی کھاتی تھی نا۔۔ ادا وہ والا کھاتی ہوگی یہ ۔۔!! عابیر نے ہانیہ کا یہاں رہ کر جو فریش لائٹ ناشتہ یاد آیا اسکے مطابق نور بھی ایسا کھاتی ہوگی اسکی بات کے انداز پر نور اور احمد دونوں کو پیار آیا اس پر اور ہنسی بھی ۔۔

” آپ ہمیں بہت کیوٹ لگتی ہوں اور یہ ہم مرتضیٰ بھائی کو بتائیں گے ۔۔۔ ان کے بھائی کو ہم یہاں بہت کھٹک رہے ہیں ۔۔؟” نور نے اپنی طرف سے احمد کو دھمکی دی ۔۔۔

” دھمکی جا کے کسی اور کو دو میرا بھائی میری بات سنے گا اور ہاں دوسروں کے گھر میں رہ کر اتنے نخرے نہیں دکھائے جاتے سمجھی آئی بڑی بھائی سے شکایت کرنے والی ۔۔۔!! وہ تیز نظرو سے گھورتا وہاں سے نکلا ۔۔ نور کو اب یہ بندا زہر لگ رہا تھا اور اسکی عزت کروانے کا سوچتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سی آگئ تھی ۔۔۔۔

________

” سنو تم یہ روم جلد خالی کرنے کو سوچوں میری اور مرتضیٰ کی شادی ہونے والی ہے جلد سو اب سے یہ کمرہ میرا ہوگا سمجھی تم ۔۔۔۔!! ہانیہ عابیر کے کمرے میں آتے ہی ادا سے بیڈ پر بیٹھ کے اسکے دل پر زخم دے رہی تھی وہ یہاں آئی اسی مقصد پر تھی کسی طرح عابیر کو مرتضیٰ کی زندگی سے نکالنا تھا ۔۔۔ اس لئے جان بھوج کر اسکے روم میں آئی ۔۔۔ عابیر جو مرتضیٰ کے کپڑے پریس کر رہی تھی اسکی موجودگی میں حیرت ہوئی جب اسکی بات سنی دل کی گہرائیوں تک دہل گئی تھی ۔۔۔۔ ابھی تو خواب دیکھنے شروع کیے تھے ابھی اس کے سنگ جینے کے خواب دیکھے تھے ۔۔۔ وہ تو اس قصے کو فراموش کر بیٹھی تھی اس مہربان کے سنگ رہ کر ۔۔۔

” ت۔۔ تم جو بات کرنی ہے سائیں سے کرو مجھے تنگ نہ کرو ۔۔۔!! عابیر کو اب اس پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔ اتنا آسان ہوتا ہے کہ اپنا شوہر کسی کو بھی دینا ۔۔ اب بس اب تو جنگ کے میدان میں اترنا پڑیگا ۔۔۔

” تمہارے منہ میں بھی زبان ہے ۔۔؟” ہانیہ طنزیہ بولی تھی ۔۔

” بس بہت سنی تمہاری جاؤ یہاں سے میں اپنے گاؤں میں کسی کی فضول نہیں سنتی تجھے جو مسئلہ ہے سائیں سے بولو وہ نکال سکتے ہیں مجھے تم نہیں ۔۔۔۔!! عابیر غصے میں آگے بڑھتی لڑنے کو تیار تھی ۔۔ اس پر تو اسکو پہلے بھی کھانے والا غصہ تھا آج تو حساب برابر کرنا تھا ۔۔۔

” میں تمہیں دیکھ لو گی اور دیکھنا مرتضیٰ ہی تمہیں اپنے ہاتھوں سے گھر سے باہر نکالے گا ویٹ اینڈ واچ ۔۔۔!! ہانیہ دھمکی دیتی پیر پٹکتی چلتی بنی ۔۔۔ عابیر نے پیچھے سے منہ چڑایا ۔۔۔

_____

یار بھابی یہ لڑکی مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی دیکھا نہیں کتنے نخرے کرتی ہے جیسے کہی کی پرنسیس ہوں ۔۔۔!! احمد کو رہ رہ کر اسکی نخرے والی اداوں پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔ ایک تو آتے ہی اسکی بےعزتی کردی بیچارے دل کو اسکی معصومیت اتنی اچھی لگی تھی کہ یکدم دل سے ہی اتر گئی ۔۔۔

” سائیں کے صاحب کی بیٹی ہے اگر برا مان گئی تو سائیں کو نکال دے گے نہ سوچے کچھ ۔۔۔!! عابیر کو شوہر کی نوکری کی فکر ستانے لگی تھی ۔۔

” لیکن چھوٹے ادا دیکھے نہ کتنی سونی ہے وہ پلی ایسی ہوگی اس لئے نخرے کرتی ہے ایک ہی تو ماں باپ کی ہے ۔۔!! عابیر اسکا دل صاف کیا اسکی طرف سے ۔۔ نور کی خوبصورت اور معصوم ادا پسند تھی عابیر کو ۔۔۔

” تو یہاں کیوں آئی ہے ہم کیوں اٹھائے اسکے شوق اور ہاں سن لے آپ میری سائیڈ ہی رہے گی کبھی بھی بھائی نے کچھ کہا تھا دیکھا نہیں کیسے دھمکی دے رہی تھی فٹنی کہی کی ۔۔!! احمد کو اسکا یہاں رہنا غصہ دلا رہا تھا ۔۔

” اچھا ٹھنڈے ہو جاؤ میں ہوں نا سائیں میری بات مانتے ہیں اب ۔۔!! وہ شرمیلی مسکراہٹ سے بولی تھی مرتضیٰ کا آج کل اس پر نرم رویہ محبت سے پیش آنا عابیر کو تو ہواؤں میں اڑا رہا تھا ۔۔ کاش یہ محبت ایسے ہی انکے بیچ رہے ۔۔۔ پر کیا قسمت برے لوگوں کی نگاہوں سے بچا سکتی تھی انھیں ۔۔

___

” سنو لڑکی ۔۔!!

” جی آپ نے بلایا ۔۔!! شازیہ بیگم روکھے لہجے میں عابیر کو آواز دی ۔۔۔ وہ تھوڑا گھبراتی اور نرمی سے انکے سامنے پیش ہوئی ۔۔۔

” ہاں آج میرے کچھ خاص مہمان آرہے ہیں تو تم کچن کا کام اچھے سے دیکھ لینا کوئی کمی پیشی نہ ہوں اور ہاں کوشش کرنا خود کو ان کے سامنے بھی مت لانا ورنہ خامخا کے سوال جواب دینے پڑے گے ۔۔ تمہیں صرف میرے بیٹے نے قبول کیا ہوگا میں نے نہیں سمجھی میری بہوں صرف ہانیہ بنے گی جس کا خواب میں نے برسو سے دیکھا ہے ۔۔ تمہارا ہماری زندگی میں آنا سب برباد کر گیا ہے ۔۔۔!! شازیہ بیگم غصے و نفرت سے اپنی باتوں کا زہر چلاتی گئی ۔۔۔ عابیر کو انکے انداز و لہجے پر بے حد دکھ ہوا وہ بڑی مشکل سے خود کے آنسوں روکنے لگی تھی ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ اپنی ساس کے دل میں کیسے جگہ بنائے سب ٹھیک تھا بس یہ نہیں تھا ۔۔۔

” ج ۔جی نہیں آؤ گی ۔۔!! ضبط کے باوجود ایک آنسوں نکل آیا تھا ۔۔۔ وہ تیزی سے کچن میں بھاگی ۔۔

” یار عابیر آپ اتنا ڈرتی کیوں ہے اپنی ساس سے ۔۔؟” نور انکی باتیں سن چکی تھی اسے شازیہ بیگم کا لہجہ بہت برا لگا تھا اور عابیر کیلئے افسوس ہوا تھا ۔۔۔ وہ کچن کے دروازے پر ہی کھڑی تھی اب عابیر کے پیچھے آئی جو دوبٹے سے آنسوں صاف کر رہی تھی ۔۔۔

” کتنی بری ساس ہے نہ آپ کی اس طرح کوئی پیش آتا ہے کیا بلکے انھیں تو ملوانا چاہیے آپ کو اپنے مہمانوں سے بہوں کی حیثیت سے لیکن یہاں تو عجیب ہی سین ہے ۔۔۔۔!! نور کو شازیہ بیگم کا رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔

” وہ بری نہیں ہے بس میں اچھی نہیں لگتی انھیں میں پڑھی لکھی نہیں ہو گاؤں سے آئی ہوں کچھ نہیں آتا تھا یہ بھی نانی اماں اور چھوٹے ادا نے سکھایا اچھے کپڑے پہننا، کھانا بنانا اورو کھانا پینا بس ساس اماں کو خوش نہیں رکھ پائی میں ۔۔۔۔!! عابیر صاف گوئی سے سب بتا دیا نور کو ۔۔اس نے تو ساس کو یہاں سب کو خوش کرنے کیلئے احمد کے آئیڈیاز پر بھی کام کرتی رہی کوشش بہت کی پوری طرح نہ سہی تھوڑی بہت وہ ان کے بیچ رہنے جیسی ہو سکتی تھی ۔۔۔

” آپ مرتضیٰ بھائی کو کیوں نہیں بتاتی ان کی ماں آپ سے کتنا برا پیش آتی ہے اور ویسے ہمیں تو آپ بری نہیں لگتی ہر چیز تو پرفیکٹ ہے رہا پڑھا لکھا تو آج کل دونوں ہی اچھے نہیں کچھ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود جاہل سوچ رکھتے ہیں تو کچھ جاہل لوگ ویسے ہی اپنی ذہانت ظاہر کر رہے ہوتے ہیں یار سمجھ بتاؤ یہاں آپ جس کو جتنا خوش رکھنے کی کوشش کرے گی وہ اتنا ہی آپ کا امتحان لیتا جائے گا ۔۔۔ تو آپ کو کوئی ضرورت نہیں کسی کے لئے روۓ بلکے اپنی اچھی زندگی گزارے چھوڑے دوسرو کو ۔۔ اچھا اب مسکرا دے ہمیں تو اس گھر میں آپ ہی بہت پسند ہے ۔۔۔!! نور نے مسکراتے ہوئے بہت خوبصورت طریقے سے بات سمجھائی تھی ۔۔۔ ایک پل کو عابیر حیرت سے دیکھا اتنی چوٹی تھی باتیں کتنی سمجھداری والی کرتی تھی ۔۔۔

” تم بھی بہت پیاری ہوں ۔۔۔!! عابیر اپنا رونا بھول کر مسکرائی دی ۔۔

” اچھا اب کام کر دے گی میرا ۔۔؟” نور کو اپنا کام یاد آیا ۔۔۔

” ہاں بولے کیا بنا کر دو کچھ چاہیے تو میں ہوں نہ ۔۔!! عابیر خوش دلی سے پوچھا تھا ۔۔۔

” وہ جو آپ کا لاڈلا دیوار ۔۔ مطلب دیور ہے اسے کہے ہمیں باہر لے جائے شوپنگ پر جانا ہے آپ بھی چلے ساتھ ۔۔۔!!! نور کی بات پر عابیر کو ہنسی آئی تھی ۔۔۔

” آپ جاؤ میں بلاتی ہو چھوٹے ادا کو ۔۔۔ میں سائیں سے پوچھے بغیر نہیں جا سکتی انہوں نے منع کیا تھا ۔۔ عابیر خود کیلئے انکار کرتی احمد کو بلانے گی ۔۔۔ نور گہرا سانس خارج کیا ۔۔۔ افف اس گھر میں رہنے والے عجیب دو لوگ شازیہ بیگم اور احمد کیلئے اسکے خیالات تھے ۔۔۔

________

” خالہ پلیز روئے مت آپ مرتضیٰ کو کیوں نہیں بتاتی اس جاہل لڑکی نے آپ کی سب کے سامنے بے عزتی کی ہے کوئی ساس سے تیز لہجے میں بات کرتا ہے اوپر سے مجھے کتنی گالیاں دی اس گوار نے آپ نے دیکھا نہیں ۔۔۔ سب کے سامنے کس طرح جاہلوں والی زبان استعمال کر رہی تھی کتنا شرمندہ کیا آج عابیر نے ۔۔۔

” کیسے بتاؤ میرے بیٹے کو وہ ماں کی بات پر یقین نہیں کرتا جب کہ جانتا ہے اس لڑکی کی تیز دار زبان کے استعمال کو ۔۔۔ آج کس طرح اپنی زبان سے مجھے میرے سرکل میں دوستوں کے سامنے شرمندہ کیا تھا ۔۔۔ میں تو کچھ کہہ بھی نہ پائی آج کل اس لڑکی کو پتا نہیں کیا ہوا ہے خود کو مالک سمجھ رہی ہے گھر کی اس لئے تو میری بےعزتی کردی لیکن میں ساس تھی نہ ہانیہ ، مرتضیٰ کی ماں سمجھ کر عزت دیتی چند لوگوں میں ۔۔۔!! شازیہ بیگم رونے کی خوب ایکٹنگ کر رہی تھی اس وقت انکی باتیں انکے آنسوں سچے لگ رہے تھے ماں کا یو تڑپ کر رونا بیٹے سے کہا برداشت ہو سکتا تھا ۔۔

” کیا کہا تھا میں نے بس یہی میرے اندر کچھ خاص مہمان بیٹھے ہوئے ہے تم کوشش کرنا ان کے سامنے مت آنا خامخا ان کے سوال جواب دینے پڑے گے ۔۔۔ پھر کیا چڑ دوری مجھ پر ۔۔۔ دھمکی دے دی میرے ہی بیٹے کی مجھے ہمت دیکھو کل کی آئی ہوئی لڑکی کی ۔۔۔ کیسے اترا رہی تھی مرتضیٰ اسے کبھی گھر سے نہیں نکال سکتا بلکے مجھ نکال دے گے اگر میں اب کچھ کہا تو ۔۔۔!! شازیہ بیگم کے وار خوب کام میں آرہے تھے ہانیہ طنزیہ مسکرائی تھی ۔۔ شاطر مسکراہٹ تو شازیہ بیگم کے ہونٹوں پر بھی تھی ۔۔۔

مرتضیٰ پیچھے کھڑا کب سے یہ سن رہا تھا ضبط سے مٹھی بھینج لی اتنا تو جانتا تھا عابیر کی زبان کا لیکن یہ سب کیا ہوگا یقین کرنا مشکل تھا تھوڑا ۔۔۔ خود بات کرنے کا سوچتا آگے بڑھا ۔۔ جب اپنے کمرے میں نہ ملی تو دادی کے کمرے تک آیا لیکن قدم کچھ ہی دوری پر رک گے عابیر کی زبانی پر ۔۔

” اماں نانی یہ ہانیہ یہاں کیوں آتی ہے آج بھی مجھ سے لڑ رہی تھی پھر میں نے بھی ایسی سنائی یاد رکھے گی چڑیل نہ ہو تو ۔۔۔!! عابیر نانی اماں سے آج صبح ہونے والی بات بتا رہی تھی ہانیہ کا یہاں آنا اسے اب اچھا نہیں لگتا تھا ۔۔ مرتضیٰ کو کھونے سے ڈرتی تھی اب ۔۔۔

” نہ بول اسکی خالہ کا گھر ہے لڑکی خبر دار کوئی بحث کی تو شازیہ چھوڑے گی نہیں تمہیں ۔۔!! نانی اماں نے آنکھیں دیکھائی ۔۔۔

” یہ گھر میرا بھی تو ہے نہ اب مجھے وہ پسند نہیں اسے نکال دے یہاں سے اپنے گھر جائے ۔۔ یہاں آئے گی تو میرا گھر خراب کرے گی نہ اماں سمجھا کریں ۔۔۔!! عابیر کو کسی بھی طرح ہانیہ کا یہاں آنا بند کروانا تھا ۔۔۔

” شازیہ نے سن لیا نہ تو تمہیں گھر سے باہر پھینک دے گی زبان پر قابوں میں رکھا کر اپنی ۔۔ مجھے تو تیری ہی ٹینشن مار دیگی لڑکی سدھر جا ابھی سے ورنہ یہی سب تیرے ساتھ برا کر بیٹھے گے عقل مند بن ۔۔۔!! نانی اماں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اسکے احساسات کو کوئی سمجھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔

” وہ نہیں نکال سکتی مجھے ۔۔ سائیں میرے ساتھ ہے اب دیکھنا میں سائیں کو بولو گی وہ نکال دے گے انھیں ۔۔۔۔!! عابیر کی یہی بات مرتضیٰ نے غلط سمجھ لی اسکے کان میں ماں کے کہے لفظ گونج اٹھے ۔۔۔ وہ ہانیہ کی برائی میں لگی تھی وہ اپنی ماں کی سمجھ بیٹھا دل تو کیا ابھی اندر جاکے ایک رکھ کر دے نہیں تو ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دے سارا بھرم ایک پل میں ختم کردے اسکا انتہائی غصے میں تھا آج وہ ضبط سے آنکھیں بند کرتا گہرا سانس لیتا اپنے کمرے کی طرف قدم اٹھائے دل بھاری سا ہو گیا تھا ابھی تو اسکے ساتھ خوبصورت پل گزرے تھے گھر سے جاتے دل شدت سے واپس آنے کو کہتا تھا اس دیکھنے کو مچلتا تھا اور اب یکدم اسکی خوبصورت زندگی میں سيائی پھیل گئی ۔۔۔۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کریں ایک طرف ماں تو دوسری طرف محبت ۔۔۔ وہ عابیر کو سدھارنا چاہتا تھا تا کے سب کو اچھی لگے کوئی اسے کچھ نہ کہے وہ بھی تو اسکی عزت کرتی تھی ہر بات مانتی تھی یہی تو بھرم تھا مرتضیٰ کو ۔۔ اب اسے اپنی بے لوث خدمت محبت لوٹانا بھاری پڑھ رہا تھا جیسے ۔۔۔

______

” جلدی کرو مجھے دیر ہو رہی ہے کہی جانا بھی ہے ۔۔ تمہارا گارڈ بن کر نہیں آیا ہوں آگے پیچھے گھومتا پھیرو ۔۔۔!! احمد کو اس پر اس وقت شدید غصہ تھا کیسے دھمکی دیتی مرتضیٰ کو کال کروا کر اسے نوکر بنا کر ساتھ لائی تھی اب تھی کے یہ کرو وہ کرو اس دکان پر رکو یہ لینا ہے وہ ۔۔۔ احمد کا دماغ گھوم رہا تھا وہ مرتضیٰ کی کال پر بھی نہ آتا اسکے ہاتھ اگر عابیر پیار سے نہ کہتی تو ۔۔۔

” مسئلہ کیا ہے آپ کو ہم چیزے سوچ سمجھ کر لیتے ہیں ایسے ہی کوئی بھی چیز اٹھا کر نہیں رکھتے اپنے پاس ۔۔۔!! نور کا طنز اندر تک جلا گیا اسے ۔۔۔

” بولے ماہ رانی صاحبہ کدھر لے جاؤ ۔۔۔( دل تو جہنم میں پھینک آنے کو کر رہا ہے ) ۔۔۔ احمد نے سرد آہ بھری ۔۔۔

” مال چلوں اسکے بعد کچھ کھانا ہے ہمیں بھوکھ لگی ہے ۔۔!! نور نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔ اب کی بار دونوں کے بیچ خاموشی رہی احمد نے مال سے ریسٹورنٹ تک اسکی خدمات کی اسکی نخریلی اداؤں پر ضبط سے کام چلاتا رہا ۔۔۔

” شِٹ اب ایسے کیا ہوا ۔۔۔!! اچانک گاڑی سنسان روڈ پر رک گئی تھی رات ہونے والی تھی پورا دن خوار ہوا تھا آج تو ۔۔۔

” کیا ہوا احمد گاڑی کیوں روکی ۔۔۔!! نور آس پاس کے عجیب خاموش ماحول سے ڈر گئی تھی جلدی سے گاڑی سے اتر کر احمد کے پیچھے آئی جو اب خود گاڑی چیک کر رہا تھا ۔۔۔

” روکی یا رک گئی سچ بتاؤ کسی پاگل خانے سے تو بھاگ کر نہیں آئی ۔۔۔ صبح سے اتنا خوار کر رہی تھی وہ نہ دیکھا تمہیں اب مجھ سے معصوم بلی بن کر پوچھ رہی ہوں ۔۔۔!! احمد تو پہلے ہی بھرا ہوا تھا اسکے پوچھے کی دیر تھی سارا غصے نکل آیا ۔۔۔۔ اسے پتا نہیں چلا وہ غصے میں خود کے قریب کر چکا تھا نور کے دونوں بازوں اسکے ہاتھوں میں تھے ۔۔ نور تو سکتے میں تھی زندگی میں پہلی بار کسی کے یو قریب کھڑی اس کی سانسوں کی تپش نور کے چہرے کو سرخ کر کردیا ۔۔۔ احمد کو جب احساس ہوا اسنے تیزی سے چھوڑا اسے دونوں ہی نظرے چرا کے رہ گئے ایک دوسرے سے ۔۔۔

_______

” سائیں کہاں رہ گئے تھے آج دیر کردی ۔۔۔!! عابیر کب سے مرتضیٰ کا انتظار کر رہی تھی رات سے بارہ بج رہے تھے وہ اب دس تک سو جاتی تھی لیکن آج مرتضیٰ کے انتظار میں خود کو سونے سے روکا ہوا تھا پریشان تھی اسکے دیر کرنے پر ۔۔۔ وہ آیا تھا اور چلا بھی گیا اسے پتا نہیں چلا تھا مرتضیٰ خود سے ہی لڑ رہا تھا ۔۔۔

” جہاں بھی تھا تم سے مطلب ۔۔ اب ہر بات تمہیں بتا کر جایا کرو ۔۔۔؟” ایک پل کو اسکا فکر مند چہرہ دیکھتا سکون ملا تھا اسے لیکن صبح والی باتیں ذہن کے پردے پر لہرائی تو لہجہ ہی بدل گیا سرد پن اور غصہ ایک پل میں ڈور آیا تھا ۔۔۔

” جی ۔۔م ۔میں کھانا لاؤ ۔۔۔؟” عابیر کو اسکا سرد پن سنجیدہ لہجہ کنفیوژ کر گیا تھا ۔۔۔

” بھوکھ نہیں مجھے اور ہاں اب کوئی سوال نہیں جاکے سو جاؤ ۔۔ اس وقت دماغ پہلے ہی گھوما ہوا ہے مزید کوئی سوال نہیں ۔۔۔!! مرتضیٰ اسکا بازوں پکڑتا سخت لہجے میں کہتے ہی وہی چھوڑتا واش روم میں گھس گیا ۔۔۔ عابیر کا دل بھر آیا تھا اس لہجے پر ۔۔۔

” سائیں ناراض کیوں ہوں ۔۔؟” مجھ سے کوئی غلطی ہوگی ہے کیا ۔۔؟” عابیر بے چینی سے روم میں چکر کاٹ رہی تھی جب مرتضیٰ واش روم فریش ہوتا باہر آیا وہ تیزی سے اسکے قریب جاتے نم لہجے میں بولی تھی ۔۔۔

” غلطی ۔۔ نہیں عابیر تم غلطی کب کرتی ہوں تم تو لوگوں کا دماغ خراب کرتی ہوں ۔۔سمجھتی کیا ہو خود کو تم ۔۔۔ مالکہ ہو اس گھر کی یہ سب تمہارا ہے جو دل کرے گا وہ کرو گی لحاظ کرنا بھول جاؤ گی یہاں سب تمہاری مرضی سے ہوگا ۔۔۔۔ ہانیہ میری کزن ہے تم اسے اور ماما کو گھر سے نکانلے کا سوچ رہی تھی ہاں بولوں ۔۔۔۔؟” عابیر کے بولنے کی دیر تھی وہ تو پھر چپ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا غصے کی شدت سے ڈھارا تھا اس پر ۔۔بازوں پر گرفت سخت تھی ۔۔وہ بے یقینی سے مرتضیٰ کو دیکھے گی ۔۔جب عابیر اسکی گرفت میں کرائی تھی ۔۔ مرتضیٰ کے اتنے شدید عمل پر اسکی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔

” سس ۔۔سائیں چچ ۔۔چھوڑے درد ہو ۔۔۔۔ خاموش بالکل چپ ایک بھی آنسوں بہایا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔کہا بھی تھا میرا دماغ گما ہوا ہے کوئی سوال مت کرنا ۔۔ لیکن تمہاری التی کھوپڑی میں کہا کوئی بات بیٹھ تی ہے ۔۔۔ عابیر میں نے کہا نہ چپ ۔۔۔!! مرتضیٰ اس وقت کتنے غصے میں تھا عابیر کے آنسوں تک اثر نہیں کر رہے تھے اس پر ۔۔وہ بیچاری اسکی مظبوط گرفت میں پھرپڑاتی رہ گئی ۔۔ اسکے سرد نفرت لہجے نے تو اندر تک ٹوڑ دیا اسے آنسوں شدت سے بہ رہے تھے ۔۔۔۔مرتضیٰ کی غصلی نگاہوں سے خوف زدہ ہوتی سو سو کرتی خود پر ضبط کرنے لگی چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔

” میری ایک بات کان کھول کر سن لو میری ماما کو آج کے بعد کوئی بھی تکلیف ہوئی تمہاری وجہ سے تو جان سے مار دونگا تمہیں بھی خود کو بھی ۔۔ قصہ ہی ختم ہو جائے گا ہم دونوں کا ۔۔۔۔!! اسکے زہر خند لہجے میں وہ اپنی صفائی سے کچھ بول ہی نہیں پائی اسکے نفرت بھرے انداز لہجے نے تو ہر لفظ چین لئے تھے اس معصوم کا دل یو لمحے بھر میں ٹوڑ دیا تھا ۔۔جٹکے سے اسے چھوڑ تا خود جاکے بیڈ پر سونے لگا وہ زمین پر گری اپنی بری قسمت پر رو رہی تھی کیسا کھیل تھا ابھی تو محبت کے رنگ چڑ نے شروع ہوئے تھے ایک پل میں سب ختم ہو گیا ۔۔۔اسکا دل کیا شدت سے ڈھارے مار کر روے لیکن اس دشمن جان کی موجودگی میں گوٹ گوٹ کر وہی روتی رہی ۔۔۔۔مرتضیٰ محسوس کر سکتا تھا اسکی سسکیوں کو سن رہا تھا دل اسے اپنے حصار میں لینے کو مچل رہا تھا لیکن نہیں دماغ اس وقت ماں کا ساتھ دے رہا تھا اسکی سنی غلط باتوں پر دیان دلا رہا تھا عابیر باتیں ماں کا رونا کیسے بھول سکتا تھا ۔۔ وہ چاہتا تو پیار محبت سے پوچھ سکتا تھا لیکن عابیر کا مخاطب کرنا خود پر ضبط کھو دینا اب بری طرح پچھتا رہا تھا ۔۔۔ وہ نہیں دینا چاہتا تھا اسے تکلیف نہیں دے پا رہا تھا کیسے کرتا ابھی تو محبت ہوئی تھی پھر کیوں ہو رہا تھا اسکے ساتھ اتنا برا ۔۔۔ پوری رات سوچتی رہی آخر ایسا کیا ہوا کہ اچانک سے مرتضیٰ کا محبت بھرا نرم لہجہ ہی تبدیل ہو گیا اس سے دونوں ہی اپنی اپنی سائیڈ پر ساری رات جاگتے سوچتے ہوئے گزاری تھی ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *