Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 08)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 08)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” یہ کیا کہہ رہی ہو خالہ آپ جانتی ہیں میں نے اپنے مرتضیٰ کے خواب دیکھے ہیں ہمیشہ اور یہ سب ۔۔۔؟” ہانیہ سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ مرتضیٰ اور عابیر کا نکاح ہو چکا ہے بلکہ ساتھ بھی رہتے ہیں اسے بہت زیادہ غصہ آرہا تھا اپنی بیوقوف خالہ پر ۔۔۔
” میں جانتی ہوں سب میں وہاں ہوتی تو کیا ہونے دیتی ایسا کچھ یہ تو حمید اپنی بہن کی محبت میں پاگل بن کر آئے ہیں لیکن تم فکر مت کرنا میری بہوں تم ہی بنو گی میں مرتضیٰ کو مناؤں گی اس جاہل بیوقوف لڑکی کو کبھی اپنی بہو قبول نہیں کرنے والی میں دیکھنا کیا کرتی ہو اسکے ساتھ ۔۔!! شازیہ بیگم کا سارا غصہ ہی عابیر اور اسکے گھر والوں پر تھا انکے حساب سے سب کچھ انکا کیا دھرا ہے ۔۔
” پلیز خالہ جو بھی کرنا ہے جلدی کریں میں اس جاہل پاگل لڑکی کو ایک منٹ برداشت نہیں کر سکتی اور آپ مرتضیٰ کو کہہ دیں وہ اس لڑکی سے سو فیصد دور رہیں کہیں اسکی خوبصورتی میں خود کو گنوا نہ بیٹھے ۔۔۔!! ہانیہ نے ناگواری سے کہا تھا ۔۔
” میرا بیٹا ایسا نہیں ہے وہ خود اس سے نفرت کرتا ہے بس ہمیں ان کو الگ کرنا ہے مرتضیٰ کے دل و دماغ کو اس کے لئے باغی بنا دینا ہے خود ہی چھوڑ دیگا ۔۔!! شازیہ بیگم نے غصے اور نفرت میں کہا تھا بیٹے کی غلطی وہ کبھی مان نہیں سکتی تھی انکے حساب سے انکے بیٹے ہمیشہ سہی ہوتے ہیں کچھ غلط نہیں کرتے ماؤں کا ایک یہی انداز سب کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے ہمیشہ ۔۔ ہانیہ اور شازیہ بیگم مل کر بہت سے منصوبے بنا رہی تھیں۔۔۔
_______★
” نانی اماں مجھے شرم آرہی ہے سائیں جی کے سامنے آنے سے اور چھوٹے ادا بھی مجھ کو تنگ کر رہا ہے کہتا ہے پہلے دشمن تھا اب جانِ دشمن بن گیا سائیں جی آپ کا ۔۔۔!! عابیر شرم و حیا سے سرخ پڑھتے چہرے کے ساتھ بولی تھی ۔۔ نانی اماں کے پاس بیٹھی کب سے انکی نصیحتیں سن رہی تھی اب اپنی کہنے لگی تھی ۔۔۔
” دیکھوں بیٹا میں جانتی ہوں یہ سب اتنا آسان نہیں ہے لیکن مشکل بھی نہیں ہے تم سب سیکھ جاؤ گی بس تھوڑا وقت دو سب کو خود کو پھر دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا اور ہاں اپنی اس تیز زبان کا استعمال مرتضیٰ کے سامنے کم کیا کرنا مرد کو وہ عورت بالکل پسند نہیں جو اس سے زبان درازی کرے اپنے شوہر کا خیال رکھنا اسکی ہر بات ماننا اسکو عزت دینا تمہارا کام ہے سمجھ آئی میری باتیں ۔۔؟” نانی اماں نے اسے دیکھا جو بڑے غور سے انکی باتیں سنتے ہوئے سر ہلا رہی تھی ۔۔۔
” لیکن نانی اماں وہ اماں ساس وہ مجھے پسند نہیں کرتی نہ اور وہ ہانیہ بھی مجھے گھور کر دیکھتی ہے مجھے بڑا ڈر لگتا ہے ان سے کہی راتوں رات مجھے زہر کھلا کر مار دیا تو ۔۔؟” عابیر کی سوچ کا کچھ نہیں ہو سکتا تھا لیکن وہ واقعی ان سے ڈر گئی تھی ۔۔۔
” ایسا نہیں کہتے تم انکے دل میں جگہ بنانے کی کوشش تو کرو دیکھنا اللّٰه بھی تمہارا ساتھ دیگا تم سادہ معصوم ہو غلط باتوں پر دیھان مت لگایا کرو ۔۔!! نانی اماں نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ۔۔
” دل کی جگہ کوئی اور جگہ نہ بن جائے میری ۔۔!! وہ بڑبڑائی ۔۔
_________ ★
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔؟” مرتضیٰ تھکا ہوا آیا تھا کہ وہ سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
” جی وہ ٹی وی دیکھ رہی ہوں ۔۔!! مرتضیٰ کے اچانک آنے پر وہ گھبرا سی گئ دل الگ سے دھڑک اٹھا تھا ۔۔
” کس کی اجازت سے میری چیزوں کو ہاتھ لگایا تم نے ۔۔؟” وہ گھورتا اور غصے میں اسکے کچھ قدم قریب آیا تھا ۔۔ وہ ڈر سے پیچھے ہوتی کہ صوفہ تھا ۔۔
” ماموں سائیں نانی اماں نے کہا اب سے یہی کمرہ ہے میرا اور یہاں سب چیزوں پر حق رکھتی ہوں میں ۔۔!! عابیر ہمت سے جواب دینے لگی جس پر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔
” تم زبردستی کا رشتہ بنی ہو میری لئے سمجھی یہاں اس کمرے میں ہر چیز پر صرف و صرف میرا حق ہے تمہارا کوئی حق نہیں سمجھ آئی بات جاؤ یہاں سے بہت تھکا ہوا ہوں سر درد ہے ۔۔!! مرتضیٰ اسکا بازو پکڑتا قریب سے غصے و نفرت میں اپنے زہریلے لفظ استعمال کرتا اسے چھوڑا ۔۔۔ عابیر جانتی تھی یہ سب زبردستی ہو رہا ہے لیکن کیا اسے یہ سب سہنا پڑے گا بلاوجہ کی نفرت ۔۔
” ایسے نہیں گالیاں دیتی میں اس بندے کو ۔۔!! وہ بڑبڑائی ۔۔
” تم گئی نہیں ابھی تک ۔۔؟” مرتضیٰ فریش سا واش روم سے نکلتا اسے وہی زمین پر بستر بچھاتے ہوئے دیکھ کر غصے میں آیا ۔۔
” دیکھیں سائیں جو کہنا ہے ماموں سائیں سے کہنا ابھی مجھے باہر کوئی سونے نہیں دیگا نانی اماں کے پاس جاؤں گی ہزار سوال کریں گی پھر ماموں سائیں کو بلائیں گی اور پھر اس لئے چھوڑیں سب سو جائیں اور ہاں میں چائے لائی تھی پینی ہے تو پی لیں نہیں تو پھینک دے مرضی ہے اور ہاں سنے اس سردی والے ڈبے کو بند کرو ۔۔ ایسا لگ رہا ہے موسم سے پہلے ٹھنڈ آگئی ہے ۔۔!! وہ تو بس اسکی تیزی سے چلتی زبان پر حیرت سے دیکھ رہا تھا اور وہ اسے اپنے طریقہ سے سمجھا چکی تھی ۔۔ غصے میں تھی اس لئے اپنی تیز رفتار سے چلتی زبان پر اسکا دیان نہ گیا ورنہ اب کہا اسکے آگے زبان چلتی تھی اب ۔۔
” تم بیوقوف لڑکی یا اللّٰه کہاں پھنس گیا ہوں ۔۔!! غصے میں بالوں میں ہاتھ پھیرتا اے سی کی کولنگ بڑھا دی اب سکون سے اسکی بنائی گئی چائے پی رہا تھا اور وہ پتلی سے چادر اوڑھے سونے کی کوشش کرنے لگی تھی ۔۔ اور مرتضیٰ کچھ سوچ آنے پر ٹی وی پر مووی لگا کر اب پر سکون تھا ۔۔ وہ جو سونے والی تھی ٹی وی کی آواز پر منہ سے چادر ہٹاتی ٹی وی دیکھنے لگی تھوڑی دیر گزری اسے سخت گہری نیند آنے لگی تھی ایک دو بار آنکھیں بند ہوتی کھلی تھی کہ اچانک بند آنکھ کھلی اور سامنے ہی چڑیل دیکھی اسکی تو پوری آنکھیں ہی پھٹی پھٹی رہ گئیں۔۔۔ مرتضیٰ کب سے اسکے ایکشن موڈ پر ۔ انتظار میں تھا کے اسکی چیخ پر مسکراہٹ دبا گیا ۔۔۔
“آہہہ ۔۔ یا اللّٰه بچا لے اماں اماں آہہہ ۔۔!! صرف ایل ای ڈی کی ہی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور اتنی بڑی اسکرین پر بھوت چڑیلیں فل ہارر سین آن تھا ۔۔۔ ڈر اور خوف میں چلاتی ہوئی پیچھے ہوتی بیڈ سے لگی ہاتھ مار کر روتے ہوئے اٹھی بیڈ پر چڑھی۔
” سس سائیں جی کہاں ہو سائیں آہہہ ۔۔!! بیڈ پر تیزی سے مرتضیٰ کے پاس بھاگتے ہوئے اسے پکار رہی تھی اسکے قریب پہنچتے اسکا بازوں اسکے ہاتھ آیا وہ جو خاموشی سے اسکی حالت انجوئے کر رہا تھا اسکے حملے پر خود بھی حیرت میں آیا افراتفری میں کہا دوپٹہ کہاں وہ کچھ ہوش نہیں تھا ۔۔
” سس سائیں جی سن رہے ہو۔۔چ چڑیل کو بھگاؤ نہ آاہہہ ۔۔۔!! عابیر ڈر سے رونا ہی آگیا تھا ۔ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ہلکی ٹی وی کی روشنی پر اسکا تھوڑا تھوڑا چہرہ نظر آرہا تھا پھر ٹی وی پر عجیب و غریب تیز آوازوں پر وہ چیختی ایکدم مرتضیٰ کے پہلو میں بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کر کے سر اسکے بازو پر رکھ دیا ہاتھوں کی گرفت مضبوط بنا لی اسکے بازوں پر اور مرتضیٰ بوکھلا گیا تھا ۔۔
” شش چلاؤ مت سب جاگ جائیں گے میں ہوں یہیں۔۔۔!! مرتضیٰ تیزی سے ٹی وی بند کرتا اسکے بازوں پر ہاتھ رکھتا اسے حوصلہ دیا ۔۔
” وو وہ بھوت اسے بھگاؤں ۔۔۔!!
” بھاگ گیا دیکھو آنکھیں کھولو نہیں ہے ۔۔!! دونوں انجانے میں قریب تھے ایک دوسرے کے وہ ہمت کرتی تھوڑا سا سر اٹھا کر دیکھا لیکن اندھیرے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دیا بس ایک مہکتا خوشبودار وجود قریب تھا چہرے پر سانسوں کی تپش تھی دونوں کے ۔۔ جذبات بہکنے لگے تھے لمحہ بھر میں عابیر اپنے چہرے پر گرم دہکتی سانسیں محسوس کر رہی تھی وہ مزید سرخ ہوئی گال دہکنے لگے تھے مرتضیٰ کو خود پر ضبط کرنا مشکل ہوا تھا لیکن بہت ہمت سے خود پر ضبط کرتا اپنے جاگے جذبات کو واپس سلاتا ہوا تھوڑا پیچھے ہوتے لائٹ جلائی تھی کہ کمرہ روشن ہوتے ہی دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے نظریں چرا گئے ہاتھ تیزی سے پیچھے ہوئے تھے دونوں ہی ۔۔۔ آج تو مرتضیٰ جی بھر کر پچھتایا تھا اس خوبصورت چڑیل کو چھیڑنا خود یعنی کے لئے ضبط کا امتحان لینا تھا ۔۔۔۔
” یہ یہ کیا بد تمیزی ہے جاؤ نیچے ۔۔!! وہ نظریں چراتا ہوا بولا ۔۔۔
” وو ۔۔ وہ بب ۔۔ بھوت چڑیل آگئی تو ۔۔؟” عابیر کی خوف زدہ نظریں سامنے ٹی وی پر تھی ۔۔۔ مرتضیٰ اسے دیکھتا ہی رہ گیا اتنی معصوم لیکن زبان کی تیز شکل صورت کی حسین کوئی کمی نہیں تھی اس پیاری سی لڑکی میں سوائے ان پڑھ ہونے میں ۔۔ وہ سوچنے لگا کیا واقعی اسے قبول نہیں کر سکتا اسے وہ جگہ مقام نہیں دے سکتا جو حق رکھتی ہے ۔۔ پھر خود ہی اپنی سوچوں کو جھٹک دیا ۔۔۔
” نہیں آئے گی کوئی چڑیل اب جاؤ سو جاؤ مجھے نیند آرہی ہے اترو بیڈ سے میرے ۔۔؟! اسکے سرد لہجے پر عابیر کو دکھ ہوا تھا پر کیا کرتی یہی قسمت تھی اسکی چپ چاپ اٹھ گئی لیکن ڈر ابھی بھی تھا دل میں ۔۔۔
” سائیں جی ۔۔؟
” اب کیا ہے عابیر ۔۔؟” اسکے پکارنے پر وہ چڑتا ہوا اسے دیکھا ۔۔
” وہ اس ٹھنڈے ڈبے کو گرم کریں تھوڑا بہت سردی لگ رہی ہے میرے پاس یہ چادر بھی پتلی سی ہے ۔۔!! وہ معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے دکھ سنائے تھے ۔۔
” یہ گرم نہیں ہوتا ہے کیوں کے یہ ٹھنڈا ڈبہ ہے سمجھی اگر سردی لگ رہی ہے تو جاؤ وہاں سے کمبل لے لو ۔۔!! وہ الماری کی طرف اشارہ دیتا کروٹ بدل گیا ۔۔
“اا ۔۔اکیلے ۔۔؟
“نہیں میں چلتا ہوں ماہ رانی صاحبہ ۔۔ جاؤ ۔۔دماغ خراب کردیا ہے میرا ۔۔!! وہ دانت پیستا غصے میں بڑبڑاتا سونے لگا ۔۔
“ہونہ جہنمی انسان ۔۔!! عابیر دل میں اللّٰه کے کلمات پڑھتے ہوئے آگے بڑھ کر جلدی سے کمبل اٹھاتی اپنے بستر پر آئی ۔۔۔
_______★
” دادو کیا لگتا ہے کچھ چینج ہونا چاہئے ۔۔۔؟” دادی اور احمد دونوں سر سے پاؤں تک اسے دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔۔ اب تو احمد کا جیسے مشن بن گیا تھا عابیر کو اسکی سہی جگہ دلانا لیکن سب سے زیادہ اسے بھائی کے دل میں جگہ بنانی تھی ۔۔
” کیا ہوا مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ دونوں ۔۔؟” عابیر حیرت سے دونوں کو خود پر گہری دلچسپ نظریں دیکھتے ہوئے نہ سمجھی میں پوچھا اسکی بات پہ وہ لوگ مسکراتے ہوئے اٹھے ۔۔۔
” چلوں عابی اوپس آج سے تم میری پیاری سی بھابھی ہوں ویسے تو میں سال چھوٹا ہوں تم سے لیکن آج کل کون دیکھتا ہے ۔۔۔ آجاؤ بھائی کو پھنسانے کے طریقے بتاؤں تمہیں پیاری بھابھی ۔۔۔!! احمد شریر لہجے میں اسے چھیڑتا اسکے خوبصورت چہرے پر رنگوں کا گلال بھکیر گیا تھا ۔۔ وہ شرم و حیا سے کچھ بول نہیں پائی تھی ۔۔۔
” چ ۔چھوٹے ادا یہ سب کرنا ضروری نہیں مجھ کو ویسے ہی تیرا بھائی پسند نہیں کرتا اور مجھے کوئی شوق نہیں جن کابوں کرنے کا مم ۔۔مطلب سائیں جی دور ہی اچھے ۔۔!! گھبراہٹ سے بولا نہیں جا رہا تھا مرتضیٰ کو جن کہنے پر نانی اماں کی آنکھوں نے جملہ درست کروایا تھا لیکن یہ سچ تھا وہ پھر مرتضیٰ کے ہاتھوں بےعزت نہیں ہونا چاہتی تھی پر آگے احمد تھا اسکی ایک نہیں سنی وہ بھی تیز دھڑکنوں کے ساتھ احمد کی باتیں سننے لگی تھی چہرہ سرخ ہوتا گیا ۔۔
_________★
“وہ کب سیٹ پہ بیٹھی سوگئ پتا نہیں چلا هادیق آرام سے چلتا ہوا اسکے ساتھ آکے بیٹھ گیا اور آرام سے اسکا سر اپنے کندھو پے رکھ دیا تھوڑی دیر اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتا رہا پھر آرام سے اسکا ایک ہاتھ اٹھا کے اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے انگلیوں کو اسکی انگلیوں میں پنسا دیا تھا اسکے چہرے پے جو آگے بال آرہے تھے انکی ایک لٹ کو اپنے شرٹ کے بٹن میں دبا دی اور اپنا سر اسکے سر پے رکھ کے آرام سے سو گیا نید نہیں آئی تھی بس اسکی خوشبوں اپنے اندر اتار رہا تھا ۔۔۔۔ وش کو اپنے سر پے کچھ باہری محسوس ہوا تو اسکی آنکھ کھل گئی لیکن اسکا ہاتھ کسی مرد کے ہاتھ میں دیکھ کے وہ ڈر گئی جلدی میں اسنے چہرہ اٹھا کے دیکھا تو حیران رہ گی پھر غصے میں اپنا سر دور کیا پر درد سے ہلکا کرہ کے اسکے قریب ہوئی کیوں کے اسکے بال اسکی شرٹ میں اٹکے ہوئی تھے اسکو بہت غصہ آیا اور وہ بھی ڈھیٹ بن کے سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔
“۔چھوڑو مجھے کیا بدتمیزی ہے اٹھو ۔۔؟” وہ غصے سے بول کے اسکو اٹھا رہی تھی لیکن وہ نہیں اٹھا ۔۔
“۔میں نے کہا اٹھو اور چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔؟” وہ پھر سے غصے میں دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی کبھی بال تو کبھی ہاتھ نکالنے میں ایک ساتھ سے کرتے ہوئے تھک سی گی تھی ۔ لیکن وہ اب اپنی گرفت مضبوط کر کے بیٹھا تھا ۔۔
“۔کیا ہیں یار سونے دو سکون سے ۔۔؟” اسکے بار بار ہلانے سے منہ بنا کے بولا ۔ آنکھیں کھول کے اسکے خوبصورت غصے سے سرخ چہرے کو دیکھ رہا تھا اسکو بہت سکون مل رہا تھا اسکو تنگ کرنے میں ۔۔۔
وہ غصے میں خود کو چھڑوا کے تھک گئی تھی اسکی خوبصورت سی آنکھوں میں پانی جمع ہو گیا تھا اسکا سر نیچے تھا اور اسکے ہاتھ سے اپنے ہاتھ کو نکالنے میں لگی تھی اور وہ اس کو دیکھ رہا تھا دل نے کہا کاش یہ پل یہی رک جائے اور وہ یوں ہی اسکے قریب بیٹھی رہے ہمیشہ ۔۔
اب وہ غصے سے اپنے بال کھینچ کے نکال رہی تھی ایسا کرنے سے اسکو بھی درد ہو رہا تھا لیکن وہ جلدی سے اس شخص سے دور جانا چاہتی تھی وہ پھر سے اس سے محبت نہیں کرنا چاتی تھی یا پھر اپنے سوئی ہوئی محبت کو نہیں جگانا چاہتی تھی ۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو نکل کے اسکے ہاتھ پے گر رہے تھے اور هادیق کی یہاں بس ہوگئی وہ اسکی آنکھوں میں اب آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔
“۔روکو میں کرتا ہو آرام سے ایسا کرنے سے خود کو تکلیف دوگی اور کچھ نہیں ۔۔؟” وہ اب آرام سے اسکے بال نکال رہا تھا اور سمجھا بھی رہا تھا لیکن اس کا ہاتھ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں تھا ۔۔
“۔میرے نصیب میں تکلیف ہی لکھی ہیں اور آپ ایسے الفاظ استعمال نہ کریں تو اچھا ہیں ۔۔؟” وہ دکھ اور غصے سے بولی ۔۔
“۔میں معافی مانگ رہا ہوں پلیز ایک موقع دو میں سب ٹھیک کردوں گا صرف ایک ۔۔؟” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کے نرمی سے بول رہا تھا لیکن اسکی بات بیچ میں کاٹ دی اسنے ۔۔۔
“۔موقع کس چیز کا دو بولے یا تو پھر سے میری زندگی میں آکے ایک بار پھر کوئی سودا کریں میرا یا پھر سے پہلی والی بیوقوف لڑکی بن جاؤ آپ کی محبت میں ۔۔؟”وش غصے میں اسکی آنکھیں میں دیکھ کے بول رہی تھی اور آنسو بھی نکل رہے تھے ۔۔۔ اسنے بال تو آرام سے نکال دیہ پر ہاتھ نہیں چھوڑا تھا یا شاید اب نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔
“۔وش پلیز ایک بار بات سن لو میری میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر تم ۔۔؟” وہ ابھی اور کچھ بھی کہتا لیکن بس اسٹاپ پر روک گئی اور وش جلدی سے اٹھ گئی لیکن ہاتھ ابھی تک نہیں چھڑا پائی هادیق نے اسکا غصہ دیکھ کے نرمی سے ہاتھ چھوڑ دیا وہ بھی اسکے پیچھے نکل آیا ۔۔۔
” وش پلیز اب اور نہیں یار ۔۔؟” هادیق نے بے بسی سے کہا ۔۔
” کیا اور نہیں ہاں بولے کیا اور نہیں اور آپ کیسے کہہ سکتے ہے آپ میرے بغیر نہیں رہ سکتے واہ کمال کی بات یہ پانچ سال پورے پانچ سال آپ میرے بغیر اور میں آپکے بغیر رہتی آئی ہوں هادیق مصطفیٰ اور اس پانچ سال میں نہ تو میں مری نہ آپ پھر کیسے کہہ سکتے ہے آپ مر جائے گے ۔۔؟” وش غصے سے پھٹ پھڑی اسکا چہرہ آنسو سے بھر گیا تھا هادیق سے دیکھا نہیں جا رہا تھا اسکا یہ حال یہ پانچ سال اسنے کیسے گزارے یہ وہی جانتا تھا وہ جانتا تھا وہ معافی کا حقدار نہیں لیکن وہ ایک کوشش کرنا چاہتا تھا ۔۔
” پلیز وش صرف ایک موقع صرف ایک میں جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا میں تمہارا گنہگار ہوں مجھے نہیں کرنا چائیے تھا تمہارے ساتھ ایسا پلیز وش اب اور نہیں رہ سکتا یار بہت تڑپ رہا ہوں تمہارے لئے ۔۔؟” هادیق نے نم لہجے میں التجاع کی آنکھیں بھر آئی تھی اسکی وش سے کی یاد بے تحاشا آئی آج تو وہ اپنے ہاتھ جوڑ نے میں بھی دیر نہ کرتا ۔۔
” پلیز هادیق مجھ میں اب طاقت نہیں رہی ہاتھ مت جوڑے ۔۔؟” وش اوٹو لے کے چلی گئی اسے وہی چھوڑ کر هادیق کے پاس صرف پچھتاوا تھا آج پانچ سال پہلے جب وہ یہاں سے گیا تو اسنے صرف اپنے باپ سے بات کرتا تھا کبھی ماں سے بھی کرلیا کرتا تھا لیکن وش سے نہیں کرتا تھا ۔۔۔ اسے شروع میں وش کی بہت یاد آتی تھی دل کرتا تھا بھاگ کر واپس چلا جائے اسکے پاس لیکن خود پر ضبط کرنے لگتا تھا اس لئے وہ وش سے بات نہیں کرتا تھا وہ جانتا تھا ۔۔۔ اگر اس سے بات کرے گا تو وہ اسے دور نہیں رہ پائے گا ۔۔ اور اس بیچ سویرا نے بھی اسے دھوکہ دے دیا اسنے اپنے کزن سے شادی کرلی وہ جانتی تھی هادیق اپنی کزن کو کبھی نہیں چھوڑے گا اس لئے اسنے اپنے امیر کزن سے شادی کرلی ۔۔۔ هادیق کو تب وش کی بہت قدر ہوئی پر وہ جانتا تھا اسنے دیر کردی ہے اسنے خود کو سزا دینے کے لئے وہی پڑھائی کے ساتھ اپنی جاب کر لی خود کو مصروف کرنے لگ گیا گھر والوں سے بات کرنی بند کردی وہ جانتا تھا گھر بات کرے گا تو سب اسے واپس آنے کا کہے گے پر وہ خود کو معاف نہیں کرپا رہا تھا اور اب اسے رہا نہیں گیا تو آج پانچ سال بعد واپس آیا سب سے پہلے وہ وش سے مل کر اسے معافی مانگنا چاہتا تھا اس لئے اسنے راستے میں دیکھا وش بس اسٹاپ پر کھڑی تھی وہ بھی اسکے پیچھے چلا آیا ۔۔
