Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Hogai Hai (Episode 17)

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

” نانی اماں مجھے اپنے گھر بھیج دو اماں ابا کے پاس جانا چاہتی ہوں میں ۔۔!! جہاں قدر نہیں وہاں رہنے کا فائدہ ۔۔۔ عابیر کو یہی سہی لگا تھا ۔۔۔

” ہے کیوں کل تو کہہ رہی تھی یہ تمہارا اپنا گھر ہے بڑی خوش تھی آج کیا ہوا کہی مرتضیٰ نے کچھ کہا تو نہیں ۔۔۔؟” نانی اماں اچانک سے اسکے فیصلے پر حیرت ہوئی انھیں پورا قصہ نہیں پتا تھا لیکن عابیر کا اداس چہرے روئی آنکھیں نم آواز سب سمجھا رہا تھا نانی اماں کو ۔۔۔

” یہ گھر میرا نہیں ہے شاید کبھی تھا ہی نہیں ۔۔ گھر تو ایک ہی اپنا ہوتا ہے جہاں ڈر کر سانس نہیں لینی پڑتی ۔ جہاں دکھ سکھ میں نکالے نہیں جاتے ۔۔۔ جہاں پیدا ہوتے ہیں وہی جیتے ہیں ۔۔۔ شوہر کا گھر ہر عورت کے نصیب میں نہیں ہوتا اماں بہت کم خوش نصیب عورتیں ہوتی ہے جنہیں ماں باپ کے گھر کے بعد ایک اور اپنا گھر ملتا ہے اور میں ان میں شمار نہیں ہوتی ۔۔۔۔!! اسکا دل بھر آیا تھا آنسوں لفظوں کے ساتھ بہ رہے تھے ۔۔

” عابیر میری بیٹی دل چھوٹا مت کر دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا میں بات کرتی ہوں مرتضیٰ سے ۔۔۔!! نانی اماں اسکا دل صاف کرنا چاہا مرتضیٰ کی طرف سے اب تو وہ خود یہ رشتہ ختم نہیں کروانا چاہتی تھی عابیر جیسی بہوں بیٹی انھیں کہی نہیں مل سکتی تھی ۔۔۔ احمد نے یہ سب بات سن لی تھی ۔۔ اسے بہت دکھ ہوا تھا عابیر کیلئے بھائی پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔۔

_____

تم اتنے اداس ہو کے یہاں کیوں بیٹھے ہوں ۔۔؟” اسکی خاموشی پر حیرت ہوئی ۔۔

” بھائی بھابی کی بالکل قدر نہیں کرتے ۔۔ جب کہ اب ان کے بیچ سب ٹھیک ہو رہا تھا پتا نہیں کیا ہوگیا اچانک سے بھابی جا رہی ہے واپس گاؤں اور وہ بہت خاموش رہنے لگی ہے ۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا انھیں اس طرح دیکھتے ہوئے ۔۔!! احمد نہ جانے کیوں اسکے سامنے اپنے دل کا بوج ہلکا کرنے لگا ۔۔۔ نور کو اتنا اندازہ ہو گیا تھا یہاں احمد عابیر سے زیادہ کلوز ہے وہ دل سے بھابی کی عزت کرتا ہے ۔۔ نور کو احمد کی یہ بات بہت اچھی لگی تھی ۔۔

” پھر تم کیوں نہیں کچھ کرتے ان کے بیچ سب ٹھیک کرنے کی ۔۔؟” نور نے پر سکون ہوکے اسے مشورہ دیا تھا ۔۔۔ احمد ایک پل کو حیرت سے دیکھا یہ آئیڈیا اسے کیوں نہیں آیا ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں چمک آئی تھی ۔۔

” واہ یار تم نے تو میری پروبلم سولو کردی تھینک یو ۔۔ویسے کیا تم میری مدد کروگی ۔۔۔۔؟” احمد کو اسکی بات بہت اچھے سے سمجھ آگئ تھی وہ خوش ہوتا اسے دیکھا وہ اتنی بری نہیں تھی بس حالات اچھے میں ملاقات نہیں ہوئی انکی ۔۔ پھر کچھ سوچ کر سوال کیا نور سے ۔۔۔ نور حیران ہوئی وہ اتنا خوش ہو گیا اسکی چوٹی سے بات پر ہی ۔۔۔

” ایک شرط پر ۔۔”

” کیا ۔۔؟”

” پہلے مجھے سوری کہوں ۔۔؟” نور نے اپنا بدلہ لیا ۔۔

” وہ کس لئے ۔۔؟”احمد حیران ہوا ۔۔

” آپ نے ہمارے ساتھ شروع دن سے برے اثرات رکھے بدتمیزی کی ۔۔!! نور اپنی غلطی کہا مانتی تھی ۔۔ احمد نے گھورا دل چاہا یہی اسکا گلہ دبا دے لیکن ابھی اپنا مسئلہ نہیں بھابی کا حل کرنا تھا ۔۔۔

” سوری ۔۔ اب کرو گی ۔۔؟” اسکے اتنی جلدی سوری پر نور کو حیرت ہوئی لیکن شاید وہ پریشان تھا چہرے پر صاف ظاہر تھا خیر اب کرنی پڑیگی مدد اسکو ۔۔ سوری جو بول دیا ۔۔دل تو اسکے ساتھ بحث کرنے کو تھا پتا نہیں کیوں مزہ آتا تھا جسے اسکے ساتھ الجھنے میں ۔۔

” اوکے تو سنوں جیسا کہتی ہوں ویسا کرنا ہوگا اگر ان دونوں کے بیچ کچھ سہی کرنا ہے تو ۔۔!! نور تھوڑا آگے جھکی اور اب اپنے مشورے دینے شروع کردیے احمد اسکی بات غور سے سنتا گیا چہرے پر مسکراہٹ آگئ اپنی کامیابی کا سوچ کر ۔۔۔

________

” چھوٹے ادا تم مجھے گاؤں چھوڑ کے آؤگے ۔۔۔؟” عابیر ماموں سائیں کو کہتی اگر وہ یہاں ہوتے وہ تو کچھ دنوں کیلئے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے اپنے بزنس کے کام سے مجبورن اسے احمد کے پاس آنا پڑا دل تو اب یہاں رہنے کا تھا ہی نہیں ۔۔ جس کیلئے رہنا تھا وہ تو کل سے بات تو دور دیکھ بھی نہیں رہا تھا کتنی کوشش کی تھی بات کرنے کی ایک بار اپنی غلطی پوچھنے کی پر وہاں تو شاید اسکے لئے کوئی جگہ ہی نہیں تھی اب تو عابیر کو بھی یہی لگا تھا مرتضیٰ اسکے ساتھ خوش نہیں وہ ہانیہ سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔

” بھابی آپ کیوں جا رہی ہیں ہمارے ساتھ رہے نہ پلیز نہ جائے میں آپ کے ساتھ ہوں بھائی سے پوچھ لیتے ہیں کیا انھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔۔۔؟” احمد نہیں چاہتا تھا وہ جائے اسکے لئے کچھ بھی کرنا پڑا تو کرے گا اب ۔۔۔

” نہیں چھوٹے ادا اب کچھ نہیں کہنا سننا سب ختم ہو گیا ہے اس رشتے کا تو شروع سے ہی نہ سر تھا نہ پیر پھر کیوں بلاوجہ ایک نام نہاد رشتے کو چلائے آپ بولے چھوڑ کے آتے ہیں کے میں خود جاؤ ۔۔؟” اب کی بار عابیر نے غصے و سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔۔

” سب ٹھیک ہو سکتا ہے ۔۔؟” احمد نے لاچاری سے بولا ۔۔

” نہیں ہو سکتا اب کچھ بھی ٹھیک ایک شعر سناؤ ۔۔؟” وہ اداس مسکراہٹ سی بولی ۔۔ احمد اثبات سے سر ہلایا ۔۔۔مرتضیٰ کے اندر آتے قدم تھمے اسکے ۔۔۔۔

” میرے گاؤں کی مٹی سے بھرتا ہے تیرے شہر کا پیٹ “

” اور تیرے شہر والے گاؤں والوں کو گنوار کہا کرتے ہیں “

(زارا خان )

____

مرتضیٰ کب سے کمرے میں بے چین سا چکر کاٹ رہا تھا عابیر کا سنا شعر نے اسے شرمندہ کردیا تھا لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کیا کریں کیسے سب ٹھیک کرے ماں کی باتیں پھر سنی ہوئی عابیر کی زبانی وہ سب فریب تھا کچھ اور تھا کیوں وہ سمجھ نہیں پایا تھا ابھی تھانے میں ایک مجرم پر کتنا غصہ نکالا تھا اسنے ۔۔۔۔۔ کچھ سوچتا کمرے سے باہر نکلا دادی کے کمرے کی طرف آیا ۔۔۔

” السلام علیکم دادی کیسی طبیعت ہے ۔۔؟” وہ پیار سے انکا ماتھا چومتا وہی بیٹھا کن اکھیوں سے اسے ڈھونڈا پر شاید باتھ روم میں تھی دروازہ بند تھا ۔۔

” وعلیکم السلام میری جان بس بھوڑی ہوگئی ہوں کبھی ٹھیک کبھی بیمار تم بتاؤ تھکے ہوئے لگ رہے ہوں ۔۔؟” دادی پیار سے اپنے خوبرو خوبصورت پوتے کو دیکھتے ہوئے دل میں ماشاءاللّٰه کہا وہ تھا ہی اتنا حسین مرد ۔۔۔ اسکی شخصیت کمال کی تھی ۔۔

” نہیں ٹھیک ہوں بس آپ عابیر کو سمجھائے دادی وہ ماما سے بدتمیزی نہ کیا کریں آپ جانتی ہے نہ ماما کا رویہ پھر ان سب میں ایک میں ہی پھس جاتا ہوں ۔۔ میں خود چاہتا ہوں ماما عابیر کو ایک موقع دے لیکن وہ اپنی زبان لہجے سے سب کا دل خراب کر رہی ہے ۔۔۔!! مرتضیٰ دادی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا انھیں سب کہہ رہا تھا دادی اسکے دل کی حالت اچھے سے سمجھ رہی تھی جب کہ پیچھے کھڑی عابیر کا دل بھر آیا تھا وہ اتنی بری ہے سب کا دل خراب کر رہی ہے پھر کیوں اسنے جھوٹی محبت دکھائی تھی اسے وہ سب کیا تھا انکے بیچ کچھ دنوں کے وہ حسین پل چھن سے اسے اندر ٹوٹا تھا ۔۔۔

” پر بیٹا عابیر نے تو ایسی کوئی حرکت نہیں کی وہ تو تمہاری ماں سے بہت ڈرتی ہے اسکی عزت کرتی ہے بلکے آگے سے شازیہ آکے اسے بہت کچھ سنا دیتی ہے وہ بیچاری خاموشی سے سن کر بھی ان سنا کر دیتی ہے یہاں تک مجھ سے بھی شکایت نہیں کرتی پھر تم یہ سب کیا کہہ رہے ہوں کوئی بات کی ہے شازیہ نے بتاؤ مجھے ۔۔۔!! دادی کو یقین تھا شازیہ نے ہی کوئی آگ لگائی ہوگی ان کے بیچ ۔۔ جب مرتضیٰ ساری بات انھیں بتا دی عابیر بے یقینی سے مرتضیٰ کی پشت دیکھ رہی تھی آنسوں برسات کی طرح بہ رہے تھے دادی کچھ لمحے خاموش رہی مرتضیٰ نے عابیر کی موجودگی محسوس کرتا پیچھے دیکھا تو وہ اسے ہی بہتے آنسوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ مرتضیٰ کو اسکے آنسوں نے تکلیف دی تھی وہ کچھ کہتا دادی کی آواز نے ماحول میں سکتہ توڑا ۔۔۔

” عابیر کیا یہ سچ ہے مرتضیٰ نے جو کہا تم نے شازیہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔۔۔؟” نانی اماں کا لہجہ سخت تھا ۔۔۔ عابیر کی خاموشی کو پھر غلط فہمی دے رہی تھی ۔۔۔حقیقت میں بھی تو ایسا ہے ہوتا ہے نہ کہ ایک ایسا شخص جو آپ سے پیار محبت اور نرمی سے بات کرتا ہو اور اچانک وه سرد ہو جائے تو اس کا لہجہ ہی نہیں اس کی اٹھتی ہر نظر بھی آپ کو تیر کی ماند لگتی ہے اس وقت عابیر کے دل پر کیا گزر رہی تھی یہ تو وہی جانتی تھی ۔۔۔

” دیکھا دادی اس بار اسکی غلطی ہے اس لئے چپ ہے کتنی بار سمجھایا ہے اسکو اپنی زبان پر قابو رکھو لیکن نہیں کرنی اس نے اپنی مرضی ہے ۔۔۔!! مرتضیٰ کو غصہ آیا تھا اس پر ۔۔ وہ آنسوں صاف کرتی ضبط سے آنکھیں میچ کر گہرا سانس لیتی پھر انھیں دیکھا ۔۔

” مم ۔۔میں ساس اماں سے معافی مانگ لوں گی ۔۔۔!! جھکے سر سے نم آواز میں بولی ۔۔۔ مرتضیٰ کچھ دھیما پڑا تھا ۔۔۔

” ابھی چل کر میرے ساتھ معافی مانگوں ۔۔۔؟” مرتضیٰ روعب سے کہتا آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھامتا لے گیا ساتھ ۔۔۔۔ وہ چپ چاپ اسکے ساتھ ہو لی ۔۔۔

” ما ۔۔۔۔ میں نے کہا تھا مرتضیٰ میرا بیٹا ہے وہ میری ہی بنائی گئی کہانی پر یقین کریگا نہ اس جاہل لڑکی پر اسکی زبان سے تو شروع سے ہی مرتضیٰ کو نفرت رہی ہے وہ کیسے یقین کرتا اسکا اس بار والا کھیل کام کر گیا اب تمہیں میری بہوں خود مرتضیٰ بنائے گا بس ایک بار اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر ۔۔۔۔۔۔!! شازیہ بیگم اپنے ہی بنائے گئے پلین پر کامیابی کا جشن مناتی ہوئی اپنی باتوں سے کسی کا اتنی بری طرح دل چور چور کر گئی انھیں اندازہ تک نہ ہوا ۔۔۔۔ دروازے پر کھڑا مرتضیٰ اسکے ہاتھ میں عابیر کا ہاتھ دیکھتے ہوئے انکے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا تھا ۔۔۔ بیٹے کی آنکھوں میں بےیقینی ، دکھ اور افسوس دیکھتے ہوئے انکا دل گھبرا گیا تھا ۔۔۔

” مم ۔مرتضیٰ ب بیٹے یہ ۔۔۔۔!! انکی آواز لرز گئی تھی وہ گھبراتی ہوئی آگے بڑھتی پر مرتضیٰ خود اندر آتا شکوہ کن نگاہوں سے ماں کو دیکھا ۔۔۔

” عابیر کو لایا تھا ماما آپ سے معافی مانگنے ایک موقع مانگنے آیا تھا اس رشتے کو چلانے کا پر آپ نے مجھے میری نظروں میں گرا دیا اتنی بری طرح ماما ۔۔۔!! مرتضیٰ کی آنکھیں بھر آئی آواز نم تھی کچھ بولا نہیں جارہا تھا ماں تھی چلا بھی نہیں سکتا تھا آج تک ماں سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی اب کیسے اپنا کردار بدل سکتا تھا ۔۔۔۔ شازیہ بیگم بیٹے کے سامنے شرمندہ ہوتی کچھ بول نہیں پائی ۔۔۔ ان سب کے بیچ عابیر خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی اسے تو انصاف مل گیا اتنی جلدی کیوں کے وہ اچھی تھی سچے دل سے ان سب سے وفا کی تھی ۔۔۔

” مم ۔۔میں معافی مانگتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔۔۔ یہ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے میں اپنے بیٹے سے دور ہوگئی ہوں تم نے کیا ہے یہ سب یہی چاہتی تھی نہ میرا بیٹا یہ گھر سب تمہارا ہو جائے اب خوش ہو نہ ۔۔۔۔۔!! عابیر غلط نہ ہوتے ہوئے بھی معافی مانگ لی ۔۔ وہ ساتھ لایا تھا وہ یہی سنا چاہتا تھا اس لئے تو وہ خود کو بےمول کرتی گئی ۔۔۔ شازیہ بیگم نے غصے میں آگے بڑھتے اپنا سارا غصہ اس پر نکال دیا ایک تھپڑ کے ساتھ لفظوں کے ہزار تھپڑ مار کر ۔۔۔۔

” ماماااا یہ کیا کیا آپ نے کیوں ۔۔۔!! مرتضیٰ تیزی سے ان کے بیچ آتا غصے و غم میں چلایا تھا احمد اور نور بھی وہاں آگئے تھے دادی بھی ہامپتی ہوئی وہی پونچھی تھی ۔۔۔

” یہ سب اسکی وجہ سے ہوا ہے جب سے ہمارے گھر اور زندگیوں میں آئی ہے کچھ اچھا نہیں ہو رہا تم سے دور کردیا ہے اس نے مجھ سے میرے سارے خواب چھين لئے ہے اس نے ۔۔۔ماما ماما ۔۔۔!! شازیہ بیگم چلاتے ہوئے بولی یکدم انکی طبیعت خراب ہوئی مرتضیٰ اور احمد بھاگتے ہوئے انکے پاس آئے ۔۔ باپ تھا نہیں اس وقت بیٹے ہی دیکھتے رہے انھیں ۔۔۔۔

________

” عابیر مرتضیٰ کو آلے نے دو اس طرح اکیلی کیسے جا سکتی ہوں تم ۔۔۔؟” نانی اماں اسکا پیک سامان دیکھتے ہوئے روکا تھا رات شازیہ بیگم کی طبیعت نے سب کو ڈرا دیا تھا مرتضیٰ بغیر ناشتہ کیے چلا گیا شازیہ بیگم اب بہتر تھی نور تو ان کے حالت سے ہی بیزار تھی اسے شازیہ بیگم بالکل بھی پسند نہیں تھی اب ۔۔۔

” بس کرے اماں کیوں یہاں سب کی زندگی دل خراب کروانا چاہتی ہے جو مجھے دیکھ کر ہی ہوتے ہیں سب کے اب مجھے جانے دے نا روکنا مجھے اماں ابا کو سمجھا دوگی سائیں میری قسمت نہیں تھا ان کی شادی ہانیہ سے کروا دو تم لوگ ۔۔۔ ویسے ہی قسمت نے کم امتحان نہیں لئے میرے جو ایک اور دینے کو تیار ہو جاؤ میں انوکھی نہیں ہوں اماں بہت سی عورتوں کی اسی طرح زندگی برباد ہوتی ہے غلط فہمی ایک سے وفا تو دوسرے سے بےوفائی ۔۔۔۔۔ جہاں اعتبار نہ ہوں وہاں یقین دہانی کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔!! عابیر اداس مسکراہٹ سے خود کی ذات کا مذاق اڑانے والے انداز میں بولی ۔۔۔

” پتا ہے اماں جب مرد ، ماں اور بیوی کے بیچ پھنس جاتا ہے نہ تو اسکے لئے دونوں میں سے ایک کے لئے انصاف کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے ۔۔ کسی کے ساتھ وفا نبھاتا ہے تو کسی کے ساتھ بےوفائی نہیں تو خود کے ساتھ ہی بہت بڑا سمجوتا کر لیتا ہے ۔۔۔۔ مقام تو دونوں ہی عورت اسکی زندگی میں خاص رکھتی ہے لیکن وہ وقت و حالات کے بیچ ایسا پھنس جاتا ہے کہ اسکے لئے فیصلہ لینا بے حد مشکل ہوتا ہے ۔۔ کبھی غلط فیصلے تو کبھی پچھتاوا رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔!! عابیر کا اشارہ کل رات کی طرح تھا جب اسکی ماں اس پر چلائی تھپڑ مارا اور خود ہی مظلوم بن گئ بیٹے کی نظر میں اور وہ جہاں تھی وہی کھڑی رہ گئ ۔۔۔

” مجھے کچھ پیسے دے دو میں کوئی گاڑی والے چچا کو گاؤں کا نام بتاؤ گی وہ چھوڑ دیگیں ۔۔ مجھے ایک ہزار روپے دو ایک ہزار روپے سائیں کی قمیض سے چرایا ہے ۔۔۔ وو ۔وہ کپڑے دھوئے تھے تو نکل آئے اب میرے ہوئے نہ ۔۔۔!! وہ تیز رفتار سے چلاتی زبان پر یکدم بریک لگاتی گھبرا کر بات کو تصہیح کی ۔۔۔ نانی اماں کو ہنسی آگئ تھی وہ خفا ہوتی ان سے مل کر نکلی لیکن نانی اماں کو اسکی ٹینشن تھی ان کے لاکھ روکنے پر بھی وہ آج اپنی ضد پر قائم تھی احمد بھی گھر پر نہیں تھا وہ بھی اٹھی مرتضیٰ کو فون لگاتی اسے بتا دیا عابیر کا گھر چھوڑنا مرتضیٰ کو غصہ ہی آگیا تھا سب نے اسکا ہی سکون برباد کرنے کی ٹھان لی ہو جیسے ۔۔۔

________

” عباس یہاں دیکھ لینا میں ایک مجرم کو پکڑنے جا رہا ہوں ۔۔۔!! مرتضیٰ دادی کی کال سنتا جلدی سے وہاں جانے کو مچل رہا تھا وہ کیسے چھوڑ کے جا سکتی تھی اسے یہ تو اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا عابیر کچھ ایسا کر سکتی تھی ۔۔۔

” سر آپ اکیلے کیسے جائیں گے میں چلتا ہوں ساتھ ۔۔؟” عباس ایمانداری سے خود کو پیش کیا ۔۔۔

” نہیں عباس یہ مجرم صرف میرا ہے میرے علاوہ کوئی اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔۔۔!! مرتضیٰ مصروف انداز میں اپنی بات کہتا اپنی چیزے سیمٹنے لگا تھا ۔۔۔

” سر اس مجرم کیلئے جیل تیار کروا دو ۔۔؟” عباس کو لگا وہ مرتضیٰ کا کوئی دشمن ہوگا جس سے وہ خود نپٹنا چاہتا تھا ۔۔۔

” شیٹ اپ ۔۔ اپنی بیوی کی بات کر رہا ہوں یار ۔۔۔!! مرتضیٰ اسکے بےوقوفانہ سوال پر گھورتا چلا گیا ۔۔۔ عباس اپنی بات پر شرمندہ ہوکے رہ گیا ۔۔۔

________

” ڈیم اٹ یار ۔۔۔۔ عابیر کیا کرو میں تمہارا کیوں میرے ضبط کا امتحان لے رہی ہوں ۔۔۔۔ کہا جا سکتی ہے اس وقت ۔۔۔!! خود سے بڑبڑاتا وہ بس اسٹاپ کا سوچتا وہاں گیا ۔۔۔۔ اس وقت وہ اپنی وردی میں بہت خوبرو ہینڈسم لگ رہا تھا آس پاس کے لوگوں کی توجہ بنا ہوا تھا ۔۔۔ سن گلاسس لگایا ہوا تھا ان کے پیچھے بےچین نگاہیں اس وقت صرف اس دشمن جان کو ڈھونڈنے میں مصروف تھی ۔۔۔ سب سے الگ دور ایک جگہ بیٹھی لڑکی پر گمان ہوا تھا ۔۔ وہ اسکے بھاری قدم اس اور اٹھے تھے ۔۔۔ بڑی سی سر پر چادر میں جھکا ہوا پاس رکھا بیگ آج پھر وہی اسی کپڑوں میں تھی بلوچی لباس میں جو پہلے دن پہن کے آئی تھی ۔۔۔ ایک پھتر پر بیٹھی سو سو کرتی برسات جیسے بہتے آنسوں کو بار بار گال رگڑ کر صاف کرتی سرخ روئی ہوئی آنکھیں ، ناک گال رونے اور دھوپ میں بیٹھنے پر پورا منہ سرخ ہوا پڑا تھا ۔۔۔ اس طرح بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی مرتضیٰ اسے دیکھتا سکون سے گہری سانس خارج کی وہ گھٹنوں کے بل اسکے آگے بیٹھا ۔۔ عابیر کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو گھبراتی سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو سانس رک سی گئ تھی آنکھیں پھٹی کے پھٹی رہ گئی ۔۔۔

” رو کیوں رہی ہوں ۔۔۔۔ جارہی تھی نا چھوڑ کر ۔۔۔!! اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔ عابیر کو مرتضیٰ کے ہونے کا یقین ہوا تو پھر رونا شروع کردیا ۔۔۔

“سس ۔۔ سائیں میرے پیسے چوری ہوگئے وہ کمینہ ، کتا چور میرے پیسے لے گیا پندرہ سو ہی بچے تھے میرے پاس وہ بھی لے گیا چور ایک تو گاڑی والے نے اتنا کرایا لیا اور وہ بس والا ادا بھی زیادہ پیسے مانگ رہا تھا مم ۔۔ میرے پاس کچھ نہیں بچا تھا ۔۔۔۔!! عابیر روتے ہوئے سو سو کرتی مرتضیٰ کو بتا رہی تھی اسکی معصوم انداز پر اسے بے حد پیار آیا تھا ۔۔ وہ اس وقت نرمی سے پیش نہیں آنا چاہتا تھا اس نے یہ قدم اٹھا کر کتنا غلط کیا اسے اتنا غصہ تھا اس پر لیکن یہاں اسکے انداز لب و لہجے نے تو حیران کردیا ہمیشہ کی طرح وہ لب دبا کر مسکراہٹ روکتا اسے دیکھا ۔۔۔

” پیسے کہاں سے آئے ۔۔؟” مرتضیٰ کی گھوری پر وہ لب کاٹتی رہی ۔۔۔

” ن ۔نانی اماں نے دیے ایک ہزار روپے اور ایک آپ کے کپڑے دھوتے ہوئے ملے اپنا حق سمجھ کر رکھا تھا اپنے پاس ۔۔ میں ابا سے لیکر کر دے دوگی واپس ۔۔۔!! عابیر نے جھکے سر سے اپنا اقرار جرم قبول کیا ۔۔۔۔ مرتضیٰ کے سنجیدہ تاثرات پل کو غائب ہوتے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سی آئی ۔۔۔

” ٹھیک ہے ابھی گھر چل کر بات کرتے ہیں ۔۔۔!! وہ اٹھا اب اسکا منتظر تھا ۔۔

” نہیں گھر واپس نہیں جاؤ گی وہ میرا گھر نہیں ہے سائیں جی مجھے کچھ پیسے ادھار دے دو گھر جاکے ابا سے لے کے بھیج دوگی ۔۔۔۔!! اسکے غصے کے ڈر سے گھبراتی ہمت سے بول دیا پر اسکی تیکھی نظروں سے دھڑکنیں رک رک کر چل رہی تھی ۔۔۔

” عابیر مجھے غصہ مت دلاؤ تم میرا دماغ بہت زیادہ خراب کر چکی ہوں یہ قدم اٹھا کر اب کوئی بحث مت کرنا میرا دماغ پہلے ہی گھوما ہوا ہے مزید کوئی سوال نہیں گھر چلوں وہاں بتاؤ گا تمہیں کس کا کون سا گھر ہے ۔۔۔۔!! مرتضیٰ کے سرد لہجے میں دھمکی دیتا اسکا ہاتھ پکڑتا ایک ہاتھ سے بیگ اٹھا کر تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ وہ پھر اسکے غصے والے انداز پر ڈرتی اسکے ساتھ کھینچتی ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔ سوچ تو اس نے بھی لیا تھا کچھ بھی ہو جائے گاؤں تو واپس جا کر ہی رہے گی یہاں اس گھر میں عزت نہ ہوں وہاں رہ کر ذلت سہنے سے بہتر ہے چلی جائے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *