Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 18)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 18)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” کس کی اجازت سے گھر چھوڑ رہی تھی ۔۔۔؟” وہ غصے سے اسکا بازو پکڑتے ہوئے بولا ۔۔۔ گاڑی گھر کے بجاۓ سنسان سڑک پر رکی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ خوفزدہ سی آنسوں بہا رہی تھی پر کتنا ڈرتی کچھ ہمت تو دکھانی تھی ۔۔۔
” سس ۔۔ سائیں چھوڑے جب آپ کو اعتبار ہی نہیں مجھ پر تو کیا فائدہ ایسے کھوکلے رشتے کا آ ۔آپ سمجھتے کیوں نہیں ہے آپ کی اماں کہی اور شادی کروانا چاہتی ہے آپ وہی کرلے ویسے بھی تو آپ میرے ساتھ تو خوش ہے نہیں پھر کیوں میں یہاں رہ کر سب کی تکلیف کا باعث بنو ۔۔۔!! عابیر ہمت کرتے ہوئے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا شکوہ کن آنکھوں سے مقابل کی سنجیدہ چہرے کو دیکھا ۔۔۔
” تم اور ماما مجھے مارنا چاہتی ہوں تو ایک ہی بار بتا دو اڑا دو خود کو گولی سے ۔۔۔۔۔۔ نہیں تو پھر بھاگو مت کرواؤ میری شادی ہانیہ سے تمہیں تو شادیوں میں ناچنے کا بہت شوق ہے نہ شادی میں پھر رکو یہی دیکھ لو بربادی میرے ساتھ اپنی بھی ۔۔۔!! وہ غصے میں دانت پیستے ہوئے بولا تھا ۔۔۔ عابیر نے حیرت سے دیکھا اسے دل تو جیسے رک رک کر دھڑک رہا تھا وہ اتنی آسانی سے بول گیا ۔۔۔
” سائیں آپ شادی کرلے گے ۔۔۔۔ مجھے گاؤں چھوڑ آؤ مجھے نہیں آنا شادی میں چھوڑے مجھے ۔۔۔!! عابیر غصے میں خود کو چھوڑواتے ہوئے رو پڑی ۔۔۔
” شش رونا بند کرو ۔۔۔۔ ہم گھر چل کر بات کرتے ہیں اب گھر سے اکیلے نہیں نکلنا سمجھ رہی ہوں ۔۔۔۔!! وہ نرمی سے اسکے آنسوں صاف کرتا خاموش آنکھوں میں دیکھتا بے چین ہوا تھا سکون سے گھر جاکے بات کرنا چاہتا تھا اس سے ۔۔۔ وہ شرمندہ تھا اپنی ماں کی باتوں میں آکر اس پر الزام لگانا خود سے دور رکھنا آسان نہیں تھا آج اسکا یہ قدم اٹھانا مرتضیٰ کو پریشان کر گیا تھا ۔۔۔
” پھر گھر سے بھاگوں گی ۔۔؟” گھر کے باہر گاڑی روکتا ہوا اسے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
” بھاگی نہیں تھی نانی اماں کو بتا کر گئ تھی انہوں نے آپ کو بھیجا تھا نہ ۔۔۔۔!! وہ خفا سی لگی تھی مرتضیٰ نے اسے غور سے دیکھا گھنی پلکیں جھکی ہوئی روئی روئی سی وہ معصوم پری دل کے بہت قریب لگی تھی پھر کیسے جدائی کا سوچ سکتا تھا اب تو بس کچھ غلط فہمیاں تھی وہ جلد ختم کرنی تھی ۔۔۔
” باہر آؤ ۔۔۔۔۔!! مرتضیٰ گاڑی کا دروازہ کھولے اسکے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑا اسکے اترنے کا منتظر تھا ۔۔۔۔ عابیر نے ڈبڈبائی نگاہوں سے پہلے اسے دیکھا پھر اسکے پھیلے ہوئے ہاتھ کو پھر غصے میں خود ہی اترتی تیزی سے اندر کی اور چلی گئی ۔۔۔ اسکی ناراضگی پر وہ گہرا مسکرایا تھا ۔۔۔
_______
” آفاق تم کب آئے گاؤں میں سب کیسے ہے اماں ابا چچا چاچی عابدہ مینا سب کیسی ہے ۔۔۔!! عابیر جو اندر اداسی سے آرہی تھی اپنے کزن کو سامنے بیٹھا دیکھ کر ساری اداسی یکدم اوڑن چھو ہوگئی وہ خوشی سے چہکتی دوسرے صوفے پر بیٹھتی خوشی سے اپنے گاؤں کے ہر قریبی فرد کا پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔ اپنے تو اپنے ہوتے ہیں لاکھ شکوہ گلا سہی کبھی ان کے ساتھ بہت خوبصورت یادیں وابستہ رہی ہوتی ہے ۔۔۔ آفاق نے بھی خوشی سے ہر کسی کا پیگام دیا اسے ۔۔۔ مرتضیٰ اندر آتا حیرت سے عابیر کے بدلتے خوشی سے چہکتے روپ کو دیکھ رہا تھا اور اس اسکے کزن کو دیکھا ہوا تھا گاؤں میں اس لئے پہچان گیا تھا ۔۔۔
” السلام علیکم ۔۔۔!! بھاری گهمبیرتا آواز میں سلام پیش کیا ۔۔
” وعلیکم السلام سائیں کیسے ہو ۔۔۔؟” آفاق ادب سے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ملا تھا ۔۔
” عابیر بیٹا جاؤ آفاق پہلی بار آیا ہے کچھ کھانے پینے کو لاؤ ۔۔۔!! نانی اماں اسے دیکھ کر سکون کا سانس لیا کب سے آفاق بیٹھا پوچھ رہا تھا وہ مرتضیٰ کے ساتھ باہر گئی کہتی بات تال گئی تھی ۔۔۔ اب پھر اسے پہلے والے روپ میں دیکھ کر خوش ہوئی تھی ۔۔۔
” جی اماں میں ابھی لائی آفاق تم بیٹھو میں تمہیں اچھا اچھا کھانا کھلاتی ہوں ۔۔۔ تمہیں تو میرے ہاتھوں کا کھانا پسند ہے نہ یہاں تو میں بہت کچھ سیکھا ہے ۔۔۔!! وہ تو بےحد خوشی سے اسے بتاتی اٹھی مرتضیٰ حیران سا اسے دیکھے گیا وہ اسے تو جیسے بھول گئ تھی ۔۔۔ تھوڑی دیر میں حمید صاحب ، احمد اور نور بھی آگئے تھے شازیہ بیگم تو اپنے ہی کمرے میں رہی ۔۔۔۔ مرتضیٰ فریش ہوتا وہی آگیا وہ جو اندر نہیں آرہی تھی کب سے اپنے کزن کی خدمات میں لگی ہوئی تھی مرتضیٰ خون کا خول اٹھا تھا ضبط سے اسے گھور رہا تھا اور وہ اسکی گھوری سے بے نیاز سی اپنی ہی موج میں تھی ۔۔۔
” عابیر تم سائیں والے سب گاؤں آؤ نہ تمہیں پتا ہے مینا کی شادی ہو رہی ہے رفیق کے ساتھ اسی کی دعوت دینے آیا ہوں ۔۔۔!! آفاق نے انہیں کارڈ دیا ۔۔ اور عابیر کی دوست اپنی بہن کی شادی کی خبر دی جسے سن کر وہ بے حد خوش ہوئی تھی ۔۔۔
” ہائے اللّٰه سچی مینا کی شادی ہو رہی ہے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا میں گاؤں آجاتی ۔۔۔۔!! عابیر کی خوشی دیکھنے والی تھی مینا اسکی پکی سہلی تھی ۔۔۔
” واؤ ہمیں بھی گاؤں کی شادی دیکھنی ہے ہم بھی ساتھ چلتے ہیں مرتضیٰ بھائی ۔۔۔!! نور کو تو بہت شوق تھا گاؤں کی شادیاں دیکھنے کا ۔۔۔
” بہت مبارک ہو بیٹا ہم لوگ کوشش کرے گے آنے کی نہیں تو یہ بچے آجائے گے تم لوگ باتیں کرو میں تھوڑا تھکا ہوا ہوں آرام کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا مجھے بھی اپنے کمرے میں چھوڑ دو کب سے بیٹھی ہوئی ہوں ۔ آفاق بیٹا تم آج یہی رک جاؤ کل چلے جانا اب شام ہونے والی ہے ۔۔۔۔!! دادی اور حمید صاحب کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔
” آفی تم رک جاؤ آج ہم بہت سی باتیں کرے گے ۔۔۔۔ ہاں تم رکو آج رات محفل لگاتے ہیں ۔۔۔!! احمد نے عابیر کا ساتھ دیا عابیر کی خوشی تو دیکھنے والی تھی مرتضیٰ کو خود کا اگنورے کرنا بے حد غصہ دلا رہا تھا وہ تو موقع ہی نہیں دے رہی تھی بات کرنے کا ۔۔ اب تو مرتضیٰ کو اسکا کزن چھب رہا تھا ۔۔۔
_______
” آفاق بھائی آپ کی شادی ہو گئی ہے ۔۔؟” نور نے سوال کیا سب رات کے کھانے کے بعد ساتھ بیٹھے ہوئے تھے بڑے تو سونے چلے گئے تھے اور مرتضیٰ کا دل نہیں تھا یہاں بیٹھنے کا کمرے کی تنہائی سے بہتر تھا اس دشمن جان کا دیدار کرنا جو ضبط کا امتحان لے رہی تھی اسکا کب سے ۔۔۔ کھانے کے دوران بھی بار بار اپنے کزن کا خیال اور اسے تو جیسے فراموش کیے ہوئے تھی دل نے شدت سے خواہش جاگی پکڑ کر ہاتھ اسکا لے جائے کمرے میں پھر خوب حساب کتاب لے اپنا ۔۔۔۔
” ارے اسکی تو میرے ساتھ بات طے تھی یہ تو میری اب ہوگئی تم بھی کرلو آفاق تمہیں یاد ہے شاہد چچا اسکی بیٹی سونم بڑی سوہنی ہے کہو تو بات چلاؤ ۔۔۔!! اففف عابیر تمہاری یہ تیز رفتار سے چلتی زبان کہی بھی شرمندہ کر دیتی تھی خود کو نہیں دوسروں کو ۔۔۔۔ کاش عابیر دیکھ لیتی کسی کی خونخوار نظروں کو تو شاید ہی خود کو بولنے سے روکتی ۔۔۔ احمد اور نور کے قہقہے نے محفل میں مزید اضافہ کیا مرتضیٰ کی غیرت گوارا نہیں کر رہی تھی مزید وہاں بیٹھنا لیکن جیسے اور ثبوت چاہیے تھے اس مجرم کو سزا دینے کیلئے ۔۔۔۔ آفاق بیچارہ تھوڑا شرمندہ تھا کیسے اسکا ساتھ نہیں دے پایا تھا اس وقت ماں بہن کے کہنے پر وہ عابیر کا ہاتھ تھام نہیں پایا۔۔۔
” یہ تم گاؤں آکر میرا رشتہ کروانا ۔۔۔ اماں ابا سے بات کرو گی تو وہ شاید مان جائے ۔۔۔!! آفاق نوجوان خوش شکل کا اچھا لڑکا تھا سیدھا سادہ سا ۔۔۔ اپنے رشتے کی بات پر شرما سا گیا ۔۔۔
” ہاں کیسے نہیں مانے گے میرے معاملے میں تو بڑے نخرے کر رہے تھے وہاں ایسا کچھ نہیں چلے گا سمجھا کر بھیجنا مجھے تو سادہ سی انگھوٹی ایک جوڑا دے کر چپ کروایا تھا میرے معاملے میں تو تم بھی چپ رہے تھے وہاں اگر چپ رہے تو بیٹھے رہنا ساری زندگی کنوارے بتا رہی ہوں تمہیں ۔۔۔!! عابیر پوری توجہ سے آفاق سے اپنی بات کر رہی تھی نور اور احمد ہکا بکا سے بیٹھے عابیر کی باتیں سن رہے تھے ایک نظر عابیر کو دیکھتے ایک نظر مرتضیٰ کو جس کے پاس شاید اس وقت گن نہیں تھی لیکن اس سرخ نگاہیں قتل کرنے کو کافی تھی ۔۔۔۔ لیکن عابیر تو آفاق سے شروع سے ہی فری تھی کزن تھے ساتھ ایک ہی گھر میں پلے بڑے ہے یہاں وہ اپنی ہی بحث میں مصروف تھی اگر ایک نگاہ اس کی اور اٹھی ہوتی تو شاید زبان پر بریک لگتا ۔۔
” تم صبح گاؤں جاؤ گے نہ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا مجھے مینو کی شادی سے پہلے چلنا ہے باقی سب بعد میں جائے گے سائیں کی بھی نوکری ہے یہاں وہ بھی شادی والے دن جائے گے مامو سائیں والوں کے ساتھ ۔۔۔!! احمد اور نور کا تو گلہ خشک ہو رہا تھا مرتضیٰ کے پھٹنے کا انتظار جو تھا اور وہ ضبط سے موٹھی بہینچے ہوئے ایک آخری غصیلی نگاہ اس پر ڈالتا تیزی سے اٹھ کر اندر چلا گیا ۔۔۔۔
“مرتضیٰ سائیں کو کیا ہوا وہ چلے گے ۔۔۔؟” آفاق حیرت سے پوچھا مرتضیٰ کا یو اچانک جانا ۔۔۔
” بھائی تھک گئے ہونگے کب سے ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انکی جاب تھکا دینے والی جو ہے ۔۔۔۔ عابیر جاؤ بھائی سے پوچھو کچھ چاہیے تو نہیں انھیں ۔۔۔!! احمد بات سنمبھالتا ہوا بولا پھر اس بیچاری کو شیر کی جیل میں بھیجنے کو کہہ رہا تھا ۔۔۔
_______
” سائیں جی آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں وہ چھوٹے ادا کو لگا آپ اندر آگئے ہیں تو کچھ چاہیے ہوگا تو پوچھ لو ۔۔۔ جلدی بتائے مجھے آفاق کو چائے دینی ہے پھر اسے بتانا ہے وہ کہاں سوئے گا ۔۔۔!! عابیر اندر آتی تیزی سے اپنی بات کہہ دی بغیر اسکے خراب موڈ کو جاننے وہ تو بس گھورتا رہ گیا پہلے ہی اسکی باتوں نے دماغ خراب کیا ہوا تھا اوپر سے وہ کزن زہر لگ رہا تھا اس وقت اسے ۔۔۔ کیا سوچا تھا رات کو سکون سے بیٹھ کر بات کریں گے اسے پیار سے منائے گا اور اب اس نے مزید موڈ کی واٹ لگا دی ۔۔۔ وہ تو روم میں آیا غصہ ضبط کرنے تھا سگریت نکال کر پینے کا سوچا تھا کہ وہ پھر ٹپک پڑی ۔۔
” تو جاؤ نہ کس نے روکا ہے پوری رات اسکی خدمت کرتی رہوں جیسے صبح سے اسکے آگے پیچھے پھر رہی ہو ابھی میری کیا ضرورت تمہیں میری تو فکر ہے نہیں ۔۔۔ تمہیں کب سے میرے معاملے میں انجان پھر رہی تھی ابھی وہی کرو جاکے ۔۔۔۔!! وہ جو کب سے غصے میں بھرا ہوا تھا عابیر کے بولنے کی دیر تھی پھٹ گیا اچانک سے ۔۔۔ عابیر حیرت سے اسکے بگڑے ہوئے موڈ کو دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ اسکے کزن سے جل رہا تھا یہ اندازہ لگانا تھوڑا مشکل تھا اسکے لئے ۔۔۔۔
” اس وقت چلی جاؤ عابیر میرا دماغ پہلے ہی بہت گھوما ہوا ہے ۔۔۔!! مرتضیٰ غصے میں گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔
” نہیں سائیں آپ کا دماغ مجھے دیکھ کر خراب ہو جاتا ہے ۔۔ جارہی ہوں نہ میں دیکھو گی نہ آپ کا دماغ گھومے گا ۔۔۔!! عابیر کو پہلے ہی اس پر غصہ تھا آج تو حساب ہی برابر کر دیا ۔۔ اب تو پکا سوچ لیا تھا گاؤں جاکے ہی رہے گی ۔۔۔
” تمہاری تو کس کی اجازت سے جارہی ہوں اپنے اس آفاق صاحب کے ساتھ ۔۔ میں نے کہا تھا نہ عابیر مجھ سے پوچھے بغیر کہی نہیں جانا اور تم نیچے کیا کہہ رہی تھی بولو ۔۔؟” اسکی باتوں نے مرتضیٰ کو مزید غصہ دلا دیا وہ غصے میں آگے بڑھتا اسکے دونوں بازوں پر مظبوط گرفت کرتا اسے خود کے بے حد قریب کیا ۔۔۔ اچانک حملہ پر وہ ڈر سے آنکھیں بند کرتی دھیرے سے کھولتی اسے خود کے قریب پا کر سانس روک گئی ۔۔۔ اسکی قربت ہمیشہ کی طرح جان لیوا تھی پھر اتنے دنوں کی دوری پر آج ایک دوسرے کے قریب ہونا سانس لینے بھی مشکل ہوا تھا ۔۔۔
” مم ۔۔میں یہاں سے چلی جاؤ گی آ۔آپ دوسری شادی کر لے اس ہانیہ سے آپ کی اماں بھی خوش ہو جائے گی اور آپ ۔۔۔!! ہمت کرتی بھرے ہوئے لہجے میں بولی تھی آنکھیں پھر نم ہوئی اس ظالم ہمسفر کی قربت جان لیوا ثابت ہوتی تھی دھڑکنوں میں شور سا اٹھا تھا ۔۔۔
” اور میں کیا ہاں ۔۔۔ بہت آسان لگتا ہے تمہیں یہ سب ۔۔۔ تمہیں دیکھ کر پتا کہ کیوں دماغ خراب ہوتا ہے ۔۔ تمہاری یہی باتیں میرے موڈ کی واٹ لگا دیتی ہے ۔۔ تمہیں سمجھ نہیں آتا میرے احساسات سمجھ نہیں آتے یہ جان بوجھ کر ناٹک کرتی ہوں بولوں ۔۔۔۔؟” مرتضیٰ غصے میں گھورتے ہوئے اسکی نم نگاہوں میں دیکھا ۔۔۔
” سائیں چھوڑے ۔۔۔ مجھے آپ کو سمجھ نہیں آتی کبھی خود کے قریب کرتے ہیں کبھی دور ۔۔۔آ ۔آپ پہلے خود سے فیصلہ کرلے آپ چاہتے کیا ہے مجھ سے ۔۔۔ لیکن میں نے اب یہاں نہیں رہنا آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے سائیں ۔۔ مم ۔۔میں نہیں ڈرتی اب ۔۔!! کچھ تو ہمت دیکھانی تھی ۔ وہ اپنے دل کو بات کہہ گئ خود کو اس سے چھوڑوا کر تھوڑی دور ہوئی دل زورو سے دھڑک رہا تھا نہ جانے کیا کرے گا ۔۔ کہہ تو دیا ڈرتی نہیں پر اصل میں جان جاتی تھی اسکے غصے والے روپ سے ۔۔
” اچھا تو اب تم نہیں ڈرتی مجھ سے ۔۔۔!! مرتضیٰ جیسے بات سمجھتے ہوئے سر ہلایا ۔۔
” تو اب میں تمہیں جیل میں ڈال سکتا ہوں تم سے وہی پر اپنے بدلہ لونگا یہاں تو آج اپنے کزن کو دیکھ کر شیرنی بن گئی ہوں ۔۔۔ وہ کمینہ میرے ایک تھپڑ کا نہیں اس سالے کی ہڈی پسلی ایک کردو گا جس کے آتے آج تمہاری زبان چل رہی ہے ۔۔۔۔ اور یہاں میں صبح سے تم سے بات کرنے کو خوار ہو رہا ہوں اور تم ۔۔۔۔!! مرتضیٰ کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا اس نے گھورتے ہوئے دھمکی دی ۔۔۔ عابیر حیرت سے دیکھے گئی ۔۔۔
” سائیں آپ مجھے جیل میں ڈالے گے ۔۔۔؟” وہ صدمہ کی کیفیت میں بولی تھی ۔۔۔
” مم ۔۔ میں مامو سائیں کو بتاتی ہوں ابھی جاکے تم مجھے جیل میں ڈالنے والے ہو میرے معصوم چچا زاد کو مارنے کا سوچ رہے ہو اسے گالیاں دی ۔۔۔ ہم گاؤں والوں کو کمزور نہ سمجھو سائیں ہم ہمیں بھی بدلہ لینا آتا ہے صبر ۔۔۔!! عابیر کو تو اپنے کزن کیلئے دھمکی سن کر ہی غصہ آگیا تھا وہ سارے لحاظ بھول بیٹھی خود بھی میدان میں کھڑی ہوگئی جنگ کرنے کو منہ پر ہاتھ پھیرتی دھمکی دی اسے یہ انداز بہت کیوٹ تھا پر اس وقت مرتضیٰ اس موڈ میں نہیں تھا جو پیاری لگے ۔۔۔ مرتضیٰ حیرانگی سے اسکے نئے روپ کو دیکھا ۔۔ آج تو کسی اپنے کو دیکھ کر اسکے پر نکل آئے تھے ۔۔۔
” تم آج میرے ہاتھوں نہیں بچوں گی ۔۔۔۔!! مرتضیٰ تیزی سے آگے بڑھا تھا ۔۔ وہ اتنی ہی تیزی سے چلاتی ہوئی بھاگی تھی پر آج شاید ہی اسکے ہاتھوں بچے گی ۔۔
” یااللّٰه بچاؤ ۔۔ اماں اماں ۔۔
” رک جاؤ عابیر نہیں تو چھوڑو گا نہیں تمہیں ۔۔!! پیچھے دھمکی دیتے ہوئے تیزی سے آرہا تھا آج اسکا موڈ ہی نہیں تھا اسے بخشنے کا ۔۔ اور وہ جو بڑی ہمت دکھاتی نہ ڈرنے کا دعوه كرگئ تھی اب جان لبوں کو آگئ تھی ۔۔۔ اسکے ہر اس آج تک پیش آنے والے خطرناک روپ کو یاد کرتی جان نکل رہی تھی ۔۔۔
” عابیر دروازہ کھولو ۔۔۔ ڈرتی نہیں ہو نا سامنے آؤ پھر ۔۔۔!! وہ تیزی سے نانی اماں کے روم خود کو بند کرتی گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔ اور وہ پیچھے دروازے کے وہ کھڑا غصے میں بول رہا تھا ۔۔۔
” ہائے اللّٰه خیر اب کیا کردیا لڑکی ۔۔۔!! نانی اماں دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھورا ۔۔۔ مرتضیٰ کی آواز آرہی تھی اور وہ دروازے سے چیپک کے کھڑی دل پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی ۔۔
” نانی اماں بچا مجھے وو ۔وہ سائیں جی نے آج پکا مار دینا مجھے ۔۔ وہ نہیں چھوڑے گے اماں مجھے چھپا لے سائیں بہت غصے میں ہے مارنے والے مجھے ۔۔۔ مم ۔۔مجھے گاؤں بھیج نانی اماں نہیں تو یہاں آخری رات سمجھ میری ۔۔۔!! وہ ڈرتی ہامپتی ہوئی نانی اماں کے پاس بیٹھی رونے لگی اسے لگا آج واقعی مرتضیٰ کے ہاتھوں قتل ہو جائے گی ۔۔۔
” بیٹا تم جاؤ جاکے آرام کرو گھر میں مہمان ہے میں سمجھاتی ہوں اسے ابھی کوئی تماشا نہ کرو دونوں ۔۔!! نانی اماں نے وہی سے باہر کو آواز دی اسے نرم کرنا چاہا عابیر انکے ہاتھ پکڑے ڈر سے کانپ رہی تھی مجبور نانی اماں کو وہی بیٹھے سمجھانا پڑا ۔۔۔
” نہیں دادی یہ ایسے نہیں مانے گی اسے میرے حوالے کرے آج اسکی ساری بہادری نکالتا ہوں ۔۔ دماغ خراب ہوگیا ہے اسکا ۔۔!! مرتضیٰ کا غصہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا اس وقت وہ بس عابیر نامی وجود کو ہی ختم کرنے کے موڈ میں تھا ۔۔ وہ کتنا کھڑوس غصے والا ہے جانتے ہوئے بھی وہ چھیڑ چھاڑ کر جاتی ہے اسکے ساتھ ۔۔۔
” مرتضیٰ بیٹا جاؤ باپ آجائے گا تمہارا خامخا مسلہ بڑے گا ۔۔۔!! نانی اماں تھوڑی سخت ہوئی ۔۔
” آج مت بھیجئے گا دادی اسے میرے کمرے میں ورنہ صبح تک لاش ملے گی اسکی ۔۔۔!! وہ غصے میں دروازے پر ہاتھ مارتا غرایا ۔۔ عابیر ڈر سے اوچھلی ۔۔
_______
” دیکھ عابیر میں کہہ رہی ہوں سدھر جا ابھی بھی وقت ہے نا کیا کرو مرتضیٰ کا دماغ خراب ایسے غصہ نہیں ہوتا تم پر تمہاری یہی حرکتیں اسے غصہ دلاتی ہے ۔۔ کل رات بھی پتا نہیں کیا کر آئی تھی کچھ بتایا نہیں تم نے اور اب چلی اپنا بوریا بستر باندھ کر گاؤں ۔۔۔!! نانی اماں اسکی صبح سویرے تیاری دیکھتی غصہ ہوئی پر وہ ڈھیٹ رات بھی انکی باتیں ڈانٹ سن کر بیٹھی رہی ۔۔
” نانی اماں سچ بتا پوتے سے زیادہ محبت ہے نہ تجھے مجھ پر تھوڑا سا ترس بھی نہیں آتا یہی رکی تو شام تک تو میرے جنازے پر کلمہ پڑھتی رہے گی ۔۔ سائیں اب نہیں چھوڑنے والے مجھے وو ۔وہ تو جیل بھی بھیج دے گے اب ہائے اللّٰه میری قسمت ہی خراب نکلی یہی بندا ملا خطرناک ۔۔۔۔!! عابیر کو اپنی قسمت پر رونا آیا ایک تو اس شخص نے دل میں جگہ بنائی پر شاید وہ نہیں بنا پائی اسکے دل میں اپنے لئے کوئی جگہ اسی بات کا تو رونا آرہا تھا ۔۔۔ دل اسے چھوڑ کر جانے کو نہیں تھا پر اب صورتحال بہت نازک تھی ۔۔۔
” دیکھوں عابیر تم بھی مجھے پیاری ہوں بچی ہوں اس طرح معاملات بیگڑ جاتے ہیں بیٹھو سکون سے بات کروں شوہر ہے تمہارا اسکا حق ہے تم پر غصہ سوال جواب کرنا اگر تم غلط ہو تو یہ سب کر کے تم اسے اور غصہ دلاؤ گی اسکا دل اپنی طرف سے خراب کروگی ۔۔۔!! نانی اماں نے پیار سے سمجھانا چاہا وہ نہیں چاہتی تھی یہ دونوں الگ ہوں ساتھ میں جتنے پیارے لگتے ہیں ۔۔ پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی ان کو نانی اماں کی سوچ تھی ۔۔۔
” نہیں روکو نانی اماں اب ویسے حالات نہیں ہے ان آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں یہاں کوئی پسند نہیں کرتا یہ تو ایک مجبوری کا رشتہ تھا سائیں جی بہت اچھے ہے بہت سوہنے ہے انھیں یہاں پڑھی لکھی اچھی لڑکی ملنی چاہئے نہ کہ میں ۔۔ اگر میں یہاں رہی تو کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہوگا سب خراب کر دوگی میں اس لئے نہ روک جانے دے مجھے ابھی سائیں سو رہے ہے چلی جاؤ تو اچھا ہے ورنہ بعد کا تمہیں پتا ہے کیا ہوگا ۔۔ یہاں کہہ دینا مینو کی شادی کیلئے جارہی ہوں مامو سائیں غصہ نہیں ہوگا تم سب بھی آؤ گے نہ مینو کی شادی پر تو مل لے گے ۔۔۔!! عابیر اپنی تکلیف اپنے تک رکھتی نانی اماں سے اداس لہجے میں بہت گہری باتیں کرتی اٹھ گئی ۔۔۔۔ وہ یہاں رہ کر شازیہ بیگم کے مزید کوئی غلط الزام خود پر نہیں برداشت کر سکتی تھی اس طرح زندگی سکون سے نہیں خسارے میں ہی گزرنی تھی تو کیوں نہ دور رہ کر ہی سہی تھوڑی بہت تکلیف کے ساتھ پر سکون کچھ پل تو گزر سکتے تھے ۔۔۔ صبح پانج بجے کی اٹھی ہوئی تیاری کرتی چھے بجے آفاق کے ساتھ نکل گئی بس نانی اماں بی جاگی ہوئی تھی جسے پتا تھا ۔۔۔ اسکے جاتے سب اٹھے تو جس جس کو پتا چلا کوئی غصے میں کوئی ناراض کوئی خوش نظر آیا تھا ۔۔۔
______
” احمد رکو کہاں جارے ہو ۔۔؟” نور تو گھر میں اکیلی بور ہوگئی تھی عابیر کا جیسے سنا غصہ بھی آیا ناراضگی بھی ہوئی پر کیا کر سکتی تھی اسکی مرضی تھی ۔۔ وہ رات کو کہہ چکی تھی پر اس وقت دن کے تین بجے احمد کو ایک بیگ کے ساتھ باہر گاڑی کی طرف جاتے دیکھ کر تیزی سے اسکے پیچھے بھاگی ۔۔۔
” کہی بھی جاؤ تمہیں کیا ہٹو راستے سے ۔۔!! وہ پہلے ہی عابیر کے جانے پر خراب موڈ میں تھا غصے میں گھورتا گاڑی میں سامان رکھنے لگا تھا نور تو اسکے بدلے روپ پر حیرت زدہ ہوئی پھر یکدم اسے بھی غصہ آیا ۔۔۔
” آپ ہم سے تمیز سے پیش آیا کریں سمجھے اور یہ بتائے آپ بھی گھر چھوڑ کے جا رہے ہے ۔۔۔؟” اسکا اشارہ بیگ کی طرح تھا ۔۔
” میں اپنی بھابی کے پاس جا رہا ہوں انھیں واپس لے کے ہی آؤنگا وہ یہاں سے نہیں جا سکتی مجھے ان کے علاوہ کوئی بھابی نہیں چاہیے اپنے گھر اور بھائی کی زندگی میں اب جو کرنا ہے میں خود کرو گا ۔۔ تم نے تو کہا تھا نہ مدد کرو گی پھر کی دیکھو کیا ہو گیا بھابی چھپ کر چلی گی بھائی صبح سے خاموش اپنے کام میں مصروف جیسے کچھ ہوا نہیں ۔۔۔!! احمد تو جیسے بھرا ہوا تھا یکدم پھٹ گیا تھا غصے میں نور کا بازوں پکڑتا اسکے قریب کرتے ہوئے اپنی ہی کہے جارہا تھا اسے اندازہ نہیں ہوا وہ کیا کر رہا ہے کیا کہہ رہا ہے اس وقت اسکا مائنڈ ڈسٹرب تھا وہ عابیر سے بہت کلوس تھا بھابی بہن دل سے مانا تھا اسے کیسے پھر ایک بھائی ہوکے چھوڑ دیتا انھیں ۔۔۔وہ دونوں طرف کا بھائی تھا ۔۔۔
” ا احمد چچ ۔۔ چھوڑے آپ کیا کر رہے ۔۔ہہ ۔ہم نے کب ہیلپ کرنے سے انکار کیا ہم خود چاہتے ہیں عابیر مرتضیٰ بھائی کے بیچ سب ٹھیک ہو جائے ۔۔۔!! نور کو اسکی باتوں نے ہرٹ کردیا تھا وہ نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولی جس پر احمد کچھ نرم پڑا پھر اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔
” سوری میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا میں اس وقت بہت ڈسٹرب ہوں ۔۔!! وہ شرمندہ سا بولتا آگے بڑھا نور کو اسکا شرمندہ لہجہ بہت پیارا لگا پتا نہیں کیوں وہ اب اتنا برا نہیں لگتا تھا ۔۔
” کیا ہم بھی ساتھ چل سکتے ہیں آپ کے ہمیں بھی عابیر کا گاؤں دیکھنا ہے ہم بھی ہیلپ کرنا چاہتے ہیں پلیز ۔۔۔!! نور بہت معصومیت سے احمد کو دیکھتے ہوئے بولی وہ تو اسکے انداز پر ہی فدا سا ہوا کیسے انکار کرتا سر اثابت میں ہلایا وہ مسکرادی ۔۔۔
