Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 12)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 12)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” اداس ہو۔۔؟” دادی نے اسکی خاموشی محسوس کرتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔
” نہیں بس ایسے ہی آپ کو کچھ چاہیے تو نہیں میں باہر ٹھنڈی ہوا کھانے جاؤں ۔۔؟” عابیر معصومیت سے کہتی دادی کو بہت پیاری معصوم بچی لگی تھی انکے دل سے بہت سی دعائیں نکلیں اسکے لئے ۔۔
” ہاں جاؤ میں سونے لگی ہوں بعد میں آجانا ۔۔!! دادی کہتی سونے لگیں وہ خاموشی سے باہر آ گئی تھی دل بھاری سا ہورہا تھا شدت سے رونے کا جی چاہ رہا تھا اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں یہ لوگ اس سے ۔۔ وہ پڑھی لکھی نہیں تو کیا وہ انسان نہیں ۔۔ باہر لان میں آتے ہی ضبط سے آنکھیں بند کرتی آنسو پر باندھ باندھنا چاہا تھا لیکن جب دل بھاری ہو کتنا بھی ضبط کیا جائے آخر حد ٹوٹ جاتی ہے اور اسے ہلکا کرنا پڑتا ہے ۔۔ کچھ دیر اپنی بے بسی اور اپنی بد قسمتی پر آنسو بہاتی دل ہلکا کرتی وہیں دروازے کے باہر لان کی سڑھیوں پر بیٹھ گئی ہلکی گھر کی روشنی پھیلی ہوئی تھی لیکن چاند کی روشنی اپنے پورے جوبن پر رہی کھلے بال نیچے زمین پر آدھے پھیلے ہوئے تھے گھٹنوں پر تھوڑی رکھے ہوئے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ۔۔۔
” اتنی جلدی آ گئیں۔۔؟”عابیر آواز سنتے ہوئے خود سے بڑبڑائی لیکن اٹھی نہیں وہیں بیٹھی رہی سیڑھیوں پر ۔۔ یہی سوچ کر وہیں بیٹھی رہی جب اسکی ضرورت نہیں تو کیا فائدہ پیچھے جانے کا ۔۔۔
” مرتضیٰ بے دلی سے اندر کی طرف بڑھنے لگا تھا کہ وہ دشمن جان وہیں راستے پر بیٹھی ہوئی ملی جھکے سر سے زمین کو دیکھتے کسی گہری سوچ میں لگی تھی اسے ۔۔ لیکن یہ کیا اسے ایک سکون سا ملا تھا اسے دیکھ کر جس کیلئے اتنی بے چینی تھی اسے دیکھتے ہی سکون کی لہر ڈور گئی تھی اندر ۔۔ وہ سانس خارج کرتا ۔۔ آنکھیں بند کرتا ہوا ہلکا سا مسکرایا تھا اپنی ہی کیفیت پر ۔۔ پھر دیرے سے آگے قدم بڑھائے ۔۔
” یہاں کیوں بیٹھی ہو ۔۔؟” مرتضیٰ کی گھمبیر آواز پر بوکھلا گئی تھی ۔۔۔
” آ ۔آپ اتنی جلدی آ گئے ۔۔ باقی سب کہاں ہیں ۔۔؟” مرتضیٰ کو دیکھتے ہی تیزی سے اپنی جگہ کھڑی ہوتے جھٹ سے دوپٹہ سر پر اوڑھا تھا کچھ آوارہ بالوں کی لٹ چہرے کے آگے پھیلی ہوئی تھی اس سادہ سے روپ میں بھی بہت پیاری لگی تھی مرتضیٰ کو ۔۔ اسے دیکھ کر آج کا ہانیہ کا حولیہ یاد آیا کیسے دوپٹہ کے بغیر سب کے ساتھ چپک کر کھڑی باتیں کرتی تصویریں بنواتی چھوٹی سی چولی اور شرارے کے بیچ میں پیٹ دیکھ رہا تھا ہلکا سا اسے ڈھیروں شرمندگی ہونے لگی تھی ۔۔ عابیر کے سامنے احمد صحیح کہتا تھا اسکے پاس ہیرا ہے وہ اسے اپنی لاپروائی سے کھو دے گا ۔۔ مرتضیٰ کو سوچوں میں خود کو تکتے ہوئے دیکھ کر وہ شرم و حیا سے گھبراتی آنکھیں جھکا گئی تھی ۔۔ کچھ دیر دونوں کے بیچ خاموشی رہی عابیر کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی اس لئے تیزی سے اندر کی طرف مڑ کر جانے لگی تھی کہ یکدم مرتضیٰ نے اسکی کلائی پکڑتے ہوئے اپنی طرف کھینچا تھا وہ کٹی ہوئی شاخ کی مانند اس کے کشادہ سینے سے آن ٹکرائی تھی دوپٹہ کھسک کر اتر گیا تھا بال آگے کو بکھر گئے تھے اس قربت پر دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ اور دوسرے وجود کو جیسے سکون ملا تھا اس قربت پر ۔۔
” کیوں میرا جلدی آنا تمہیں پسند نہیں آیا ۔۔؟” گھمبیر آواز ذومعنی لہجے میں کہتا وہ اس کے بال اس کے کانوں کے پیچھے کر گیا ۔۔ اسکا دل کانوں میں دھڑکنے لگا تھا آنکھیں جھکی ہوئی تھی ۔۔۔ گال سرخ ہوگئے تھے ۔۔
” مم ۔۔میرا وو ۔۔ وہ مطلب نہیں تھا ۔۔ باقی سب ساتھ نہیں تھے ۔۔!! گھبراہٹ میں سمجھ ہی نہیں آیا کیا کہہ لفظ اسکی قربت میں نکل نہیں رہے تھے ۔۔ ابھی شاید وہ مزید اسے اپنی قربت میں پاگل کرتا خود بھی ضبط کے بندھن توڑ دیتا دادی کی آواز نے دونوں کے بیچ بہتا خمار توڑ ڈالا ۔۔ عابیر تیزی سے دور ہوئی ۔۔
” عابیر بیٹی کہاں ہو۔۔؟” دادی کی پھر آواز آئی ۔۔
” جج ۔۔جی آئی ۔۔!!
” کہاں تھی ۔۔۔ وہ باہر لان میں کھلی ہوا کھانے بیٹھی تھی ۔۔!! دادی کے پوچھنے پر خود کو سنبھالتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” اکیلی کیوں بیٹھی تھی باہر تمہیں تو ڈر لگتا ہے نہ اندھیرے سے ۔۔ اور یہ لال پیلی کیوں ہو رہی ہو بھوت دیکھ لیا کیا ۔۔!! دادی کی بات پر جہاں وہ شرمندہ ہوئی تھی وہی مرتضیٰ پیچھے سے آتا ہلکا سا مسکرادیا ۔۔
” وہ سس سائیں ۔۔۔۔ ارے بیٹا تم اتنی جلدی آگئے ۔۔۔؟” ابھی وہ کچھ کہتی پیچھے سے مرتضیٰ کو دیکھتے دادی نے پوچھا ۔۔
” جی سر میں درد تھا اس لئے آگیا آپ سوئی نہیں ۔۔؟” وہ آگے بڑھتا دادی کا ہاتھ تھام کر انھیں واپس روم میں لے گیا تھا ۔۔۔ عابیر تھوڑی دیر وہی کھڑی اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے میں تھی پھر اسکا سر درد کا سوچتی کچن میں چائے بنانے چلی گئی ۔۔
” آ ۔آپ کی چائے ۔۔!! وہ دادی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جب وہ چائے لے کر آئی تھی ۔۔
” شکریہ بہت طلب ہو رہی تھی ۔۔!! وہ اسے گہری دلچسپی نظروں سے دیکھتے ہوئے ذومعنی لہجے میں کہا تھا ۔۔۔ تھوڑی دیر وہی دادی کے ساتھ بیٹھا بظاہر باتیں ان سے کرتا رہا نظریں کسی اور کو گھبرانے پر مجبور کر رہی تھیں۔ عابیر دل میں دعائیں کرتی رہی وہ یہاں سے چلا جائے جلد ورنہ وہ اسکی نظروں سے مر جاتی مزید اگر وہ وہاں رکا رہا تو لیکن دادی چونکہ دوائی کے زیر اثر تھیں اس لئے سونے کو لیٹ گئیں گھر پر کوئی نہ ہونے کی وجہ سے عابیر کو ساتھ ہی رکھا جس پر مرتضیٰ کا دل بجھ سا گیا وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا تھا عابیر خود کو ابھی تک اسکے حصار میں محسوس کرتی شرمیلی مسکراہٹ چہرے پر ڈور گئی تھی ۔۔ اب تو ان کے بیچ محبت کی داستان شروع ہوئی تھی کہاں تک لے جائے گی یہ تو وقت بتائے گا ۔۔
___________★
” بس کریں بھائی نظر لگائیں گے بھابی کو ۔۔!! احمد مرتضیٰ کے پاس آتا بولا جو کب سے عابیر کو دیکھنے میں مصروف تھا آج وہ بے حد دلکش حسینہ لگ رہی تھی لال شفون کے اسٹائلش ڈریس میں کھلے لمبے بال کانوں میں چھوٹے سے جھمکے گلے میں چین دونوں ہاتھوں میں لال چوڑیاں یہ سب دادی اور احمد کی پسند تھی جس پر سے مرتضیٰ کی نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی اوپر سے پالر والی نے میک اپ کا کمال آج تو عابیر کسی کے دل پر بہت گہرائی سے وار کر رہی تھی ۔۔ وہ لوگ آج زین کی شادی میں آئے ہوئے تھے عابیر تو یہاں کی رونق اور سجاوٹ دیکھ کر ہی حیران تھی دادی کے پاس بیٹھے ہوئے وہ بس وہاں کے لوگوں کو دیکھتے حیران تھی ۔۔
” میرے پاس اتنا فضول ٹائم نہیں اس پر ضائع کروں ۔۔!! وہ خود پر ضبط کرتا آگے بڑھ گیا ۔۔
” بیٹا تم یہی بیٹھی رہنا میں تھک گئی ہوں تھوڑا آرام کرنے اندر جاتی ہوں ۔۔!! نانی اماں اسے وہی بیٹھا کر زین کی بہن کے ساتھ اندر چلی گئی تھیں وہ زیادہ دیر بیٹھ نہیں پاتی تھیں ۔۔ عابیر بیٹھ کر بور ہو رہی تھی اس لئے اٹھ کر تھوڑا آگے گئی سامنے ہی مرتضیٰ کو اکیلا کھڑا پایا ۔۔ اسکے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی تھی وہ آگے بڑھی ۔۔
” سائیں جی میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔؟” پیاری سی آواز پر مرتضیٰ نے سامنے دیکھا ایک پل کو پھر ساکت ہوا اسے اپنے قریب اس روپ میں دیکھ کر ۔۔ پھر خود کو سنبھالتے بولنے کے لائق ہوا ۔۔
” تم ۔۔تم یہاں کیوں آئی ہو دادی کہاں ہیں ۔۔؟” وہ بات بدل گیا ۔۔
” وہ انکے گھٹنوں میں درد تھا آرام کرنے اندر گئی ہیں۔۔!! عابیر دھیرے سے بولی وہ اس کی تعریف کی منتظر تھی لیکن دل بجھ سا گیا ۔۔
“ماشاءالله آج تو محفل میں چاند نظر آیا ہے ۔۔!! مرتضیٰ کا کزن زین کا چھوٹا بھائی وہا آتے ایک بھر پور نظر عابیر پر ڈالتا اسکی تعریف کی ۔۔مرتضیٰ کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔عابیر تو شرم حیا سے سرخ ہوگی تھی جس پر مرتضیٰ کا ضبط جواب دینے والا تھا ۔۔
” مرتضیٰ بھائی یہ کون ہے حسین لڑکی ۔۔؟” اسکی نظریں عابیر سے ہٹ نہیں رہی تھی ۔۔اسنے تعریف نہیں کی تو کیا کوئی اس حسین شہزادی کی نہ کرتا ۔۔
” یہ ب ۔۔کزن ہے ہماری تم جاؤ وہاں سب مزے کر رہیں ہے ۔۔!! اگر وہ نہ ہٹا سامنے سے تو آج اسکے ہاتھوں ضرور قتل ہونا تھا کوئی ۔۔ایک تو منہ سے بیوی لفظ ادا نہیں ہو رہا تھا ۔۔
” ہے سنوں تمہاری شادی ہوگی ہے کیا ۔۔۔نہیں تو پلیز مت کرنا تم مجھے بہت اچھی لگی کیا ۔۔۔۔۔!
” یہ شادی شدہ ہے ۔۔۔۔!! مرتضیٰ کی برداشت سے باہر تھی اب ایان کی باتیں عابیر تو حیرت سے دیکھ رہی تھی یہ سب کیا ہو رہا تھا وہ کیسے اس سے فلرٹ کر رہا تھا وہ بھی اسکے شوہر کے سامنے اور وہ ضبط کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر پایا تھا ۔۔۔سنجیدگی سے اسکا شادی شدہ بتا کر گھور رہا تھا ۔۔عابیر کا دل دھڑکا تھا اسے لفظوں پر ۔۔۔
” ارے یار کاش تم شادی شدہ نہ ہوتی کیا نام تھا ۔ع۔عابیر ۔۔۔!! ایان کے پوچھنے پر عابیر نے جواب دیا جس پر مرتضیٰ نے گھورا تھا اسے ۔۔
“اچھا عابیر آؤ ہمارے ساتھ میں تمہیں سب سے ملواتا ہوں ۔۔!! ایان تھا ہی فرینک بندا سو شروع ہو گیا باتوں فری ہونے میں لیکن وہ اس وقت مرتضیٰ کو سخت زہر لگ رہا تھا اسکے سامنے اسکی بیوی سے فلرٹ ۔۔
” نہیں ایان یہ یہی تھیک ہے دادی کے پاس جانا ہے انکوں ضرورت ہے عابیر کی تم جاؤ مزے کرو ۔۔۔!! ضرورت تو اسے تھی اپنی بیوی کی یہ تو بھگانے کا بہانہ تھا ۔۔ ایان شاید پیچھا نہ چھوڑتا اگر اسکو کوئی کزن نہ لینے آتا اور وہ بھی آتا ایک نظر اس حسن کی پری پر ڈالتا تعریف کرنا نہ بھولا ۔۔۔مرتضیٰ اپنی گن گھر چھوڑ آنے پر پچھتایا تھا ۔۔
” افف اللّٰه کتنا مزہ کر رہے ہم بھی ناچیں ۔۔؟” تھوڑی دیر بعد عابیر سامنے زین کی بہن ایان کزن کو ڈانس کرتے ہوئے دیکھ کر ایک دم خوشی سے چہکی ۔۔
” کیا تم پاگل ہو ہم دوسروں کی شادی میں کیوں ناچیں گے ۔۔؟” مرتضیٰ کو اسکی بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔ایک تو پہلے ہی بھرا ہوا تھا مزید وہ ضبط کا امتحان لے رہی تھی ۔۔
” سائیں ہم چھوٹے ادا کی شادی میں ناچیں گے ۔۔!! اسکی نظریں سامنے لوگوں پر تھی جو موج مستی میں تھے اور یہاں وہ کھڑی کسی کے ضبط کا امتحان بنی ہوئی تھی ۔۔
” بہت شوق ہو رہا ہے ڈانس کا ۔۔؟” وہ ڈانت پیستے ہوئے بولا تھا ۔۔
” ہاں بہت ۔۔!! ہاں بھئی اسکے اندر کی روح کو کہاں چین گاؤں میں تو وہ ہر کسی کی شادی میں ناچ لیتی تھی ۔۔
” گھر چل کر ناچ لینا ۔۔!! مرتضیٰ اسکی خوشی دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
” ہںیں۔۔سچی ۔۔!! وہ اسکی گھوری پر چپ ہوگئی ۔۔
” کس نے کہا تھا اتنا تیار ہونے کو ۔۔۔!! وہ اسکے خوبصورت سراپے پر چوٹ کی ۔۔۔
” اماں نانی اور چھوٹے ادا نے کروائی تھی تیاری میں اچھی لگ رہی ہوں سب نے تعریف کی آپ کو چھوڑ کے ان ادا نے بھی چاند بولا مجھے ۔۔!! اسکے لہجے میں خوشی تھی اپنی تعریف پر کون خوش نہیں ہوتا اور یہ بات مرتضیٰ کو غصہ دلا گی لیکن خاموش رہا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اسکے پیٹ میں سے آواز آئی تو ۔۔
” سائیں ۔۔ همم ۔۔!! مرتضیٰ جانے کیوں اسکے پاس ہی کھڑا رہا وہاں سے جانے کا دل نہیں کر رہا تھا نظریں بار بار اسکی اوڑھ اٹھ رہی تھی ۔۔۔ دلکش حسن اپنی طرف کھینچ رہا تھا ۔۔۔
” یہ لوگ کھانا کب کھلائیں گے ۔۔؟” رات کے بارہ بج رہے تھے اب تک کھانا نہیں کھلا تھا وہ جلد کھانے سونے کی عادی تھی ۔۔
” تمہیں بھوک لگ رہی ہے ۔۔؟”
” ہاں بہت زیادہ اور نیند بھی آرہی ہے ۔۔۔!! وہ اسکا تھکا ہوا چہرہ نیند سے سرخ آنکھوں کو دیکھ کر سمجھ گیا وہ نیند اور بھوک کی بہت کچی ہے ۔۔ اور اس طرح معصومیت سے کہتے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی اسے ۔۔
” ٹھیک ہے تم یہاں بیٹھ جاؤ میں دیکھتا ہوں ۔۔!! پتہ نہیں کیوں وہ نرمی سے کہتا ہوا وہاں سے نکلا اسکے لئے کھانا کھلوانے ۔۔
_____
” رکیں ادا یہاں بھی کھانا دیں نہ مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔۔؟” وہ کب سے دیکھ رہی تھی کوئی بھی ویٹر اسکی طرف کھانا نہیں لارہا تھا وہ کونے کی ٹیبل پر تھی اکیلی ۔۔ مرتضیٰ کے کہتے تھوڑی ہی دیر میں کھانا لگ چکا تھا سب مزے سے کھا رہے تھے لیکن اسے کوئی نہیں پوچھ رہا تھا پتا نہیں احمد اور مرتضیٰ اسے دکھائی کیوں نہیں دے رہے تھے حمید صاحب اور دادی تھوڑی دیر پہلے چلے گئے تھے ۔۔
” میم آپ ویٹ کریں میں کہتا ہوں ۔۔!! ویٹر کہتا وہاں سے نکلا لیکن اسکے انتظار میں بھوک سے نڈھال ہو گئی تھی آنکھوں میں نیند الگ اسے بہت زوروں کا رونا آنے لگا تھا اپنی اتنی بےعزتی محسوس ہوئی سب کھانا کھانے میں مگن تھے اور وہ سر جھکائے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے رو رہی تھی کسی کو اسکی تکلیف کا احساس نہیں ہو رہا تھا کوئی اس سے کچھ نہیں پوچھ رہا تھا ۔۔ وہ ٹیبل پر بازو رکھتے ہوئے ان پر سر رکھ کر رونے لگی تھی جب بہت رو کر اسکا دل ہلکا ہوا تو سرخ آنکھوں سے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ایک گھنٹہ ہو گیا تھا وہاں بیٹھے ہوئے کھانے کو کچھ نہ ملا اسے ۔۔
” ارے عابیر تم یہاں کیوں بیٹھی ہو ۔۔؟” ہانیہ اسے دیکھتے ہوئے وہاں آکر پوچھا ۔۔
” ووہ ۔۔وہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا نہیں دے رہے یہ لوگ ۔۔؟” عابیر بھوک سے بے حال ہوتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” دیکھو عابیر تمہیں گھر جاکے کھانا کھانا چاہیے یہاں تم دیکھ رہی ہو کتنے ہائی کلاس کے لوگ ہے ایسے میں تمہیں جاہلوں کی طرح کھاتے ہوئے دیکھ کر کیا سوچیں گے سوچو مرتضیٰ اور خالہ کی کتنی بےعزتی ہوگی میں تمہارے لئے کھانا پیک کروا دیتی ہوں اوکے ۔۔!! ہانیہ اپنی زہریلی زبان چلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔ عابیر کی آنکھیں بھر آئی تھی دل نے کہا وہ شدت سے روئے ۔۔
” چلیں یا پھر یہی رہنے کا ارادہ ہے ۔۔؟” گھمبیر آواز پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکے اداس چہرہ اور سرخ آنکھوں کو دیکھ کر ٹھٹکا تھا ۔۔ کیا وہ روئی تھی اسکی حالت دیکھ کر تو یہی لگ رہا تھا لیکن وہ خاموش رہا ۔۔
” اللّٰه یہاں کسی دشمن کو بھی نہ بھیجے چلیں مجھے بہت نیند آرہی ہے ۔۔!! ایک نظر سب کو دیکھ کر بڑبڑاتے ہوئے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ وہ بس سر ہلا کے آگے بڑھا ۔۔۔ اب مرتضیٰ کو اسکی خاموشی نے بے چین کردیا تھا وہ بار بار اسے دیکھتا پھر آگے دیکھتا وہ جب سے گاڑی میں بیٹھی تھی خاموشی سے باہر کے بھاگتے ہوئے منظر دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مرتضیٰ کے دل میں بہت سے سوال آرہے تھے وہ بات کرنا چاہتا تھا اسے وہ خاموش بالکل اچھی نہیں لگ رہی تھی کچھ پل کے لئے وہ اسکی سرخ آنکھوں میں دیکھ کر شرمندہ ہوا تھا کیوں اسے نہیں پتہ ۔۔
” تم آج خاموش ہو خیر تو ہے ۔۔؟” وہ اپنے بےچین دل کو روک نہیں پایا اس سے بات کرنے میں ۔۔
” خاموش ہوں اس لئے خیریت ہے ۔۔ ورنہ میری آواز کس کو اچھی لگتی ہے میرا بولنا کسی کو پسند نہیں نہ ہی میں ۔۔!! آخر لفظ وہ بہت آہستہ بولی لیکن مرتضیٰ کے کان بہت تیز تھے جس نے سن تو لئے لیکن جواب نہیں دے پایا ۔۔ کیا وہ سچ کہہ رہی تھی ۔۔۔ ہاں سچ ہی تو کہا تھا اس نے پھر کیوں اسے یہ بات بری لگی اس کے لئے ۔۔ وہ راستے میں ہی سو گئی تھی جب گھر پہنچے تو مرتضیٰ نے کوشش کی اسے اٹھانے کی لیکن اسے گہری نیند میں دیکھ کر بانہوں میں بھرتا ہوا روم میں لے گیا تھا ۔۔۔
______
” کیا سوچ رہی ہوں ۔۔؟” ہادیق وش کے پاس آتے پوچھا اس وقت وہ لوگ سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہوئے ساتھ کھڑے اپنے بچوں کو دیکھ رہے تھے جو پانی سے کھیل رہیں تھے ہنستے کھیلکھلاتے ہوئے ۔۔
” اتنے عرصے میں ایک مکمل زندگی لگ رہی ہے بہت حسین ۔۔۔۔۔ اب ایسا لگتا ہے وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔۔ جب آپ ساتھ نہیں تھے تب ایسا لگتا تھا یہ وقت کبھی گزرے گا ہی نہیں میں اور میرے معصوم بچے اس طرح رہ جائیں گے میں شوہر کے بغیر ادھوری تو وہ باپ کے بغیر ۔۔۔ لیکن وہ ذات اکیلا کہا چھوڑتی ہے یہی امید زندہ رکھتی ہے انسان کے اندر ۔۔۔!! وش سمندر کی لہروں کو گہرائیوں سے دیکھتے ہوئے بہت گہری بات کہہ رہی تھی ۔۔ ہادیق اسکی ہاتوں سے شرمندہ ہونے کے ساتھ اسکے دکھ کو محسوس کر سکتا تھا وہ بھی تو تڑپا تھا کاش اسے معلوم ہوتا اسکے دو خوبصورت معصوم پھول بھی ہے ۔۔
” وش میں چاہتا ہوں تم مجھے معاف مت کروں میں روز صبح اٹھ کر تم سے معافی مانگوں گا لیکن تم تب تک مت کرنا جب تک تمہارے اندر وہ سب ختم نہیں ہو جاتا ۔۔ جانتا ہوں آسان نہیں ہم کوشش کر سکتے ہیں ۔۔۔ تم مجھے بہت خوبصورت تحفہ ملی ہوں جس کے لائق میں کبھی نہ تھا اس لئے اپنی ناقدری کی سزا میں اپنے بچوں کا بچپن نہ دیکھ پایا ۔۔!! ہادیق اپنے پچھتاوے میں بےحد شرمندہ تھا ۔۔ اس لیے وش کیلئے آسان نہیں تھا یہ سب اتنی آسانی سے بلا دینا ۔۔
” وش میری خواہش پوری کرو گی ایک ۔۔؟” ہادیق نے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
” اگر میرے بس میں ہوا تو ضرور ۔۔!! وہ مسکرائی جیسے زندگی مسکرائی ہوں ہادیق کی نظروں میں ۔۔
” میں اپنے بچہ کا بچپن محسوس کرنا چاہتا ہوں میں ایک باپ بن کر اسکے چھوٹے ہاتھ پاؤں چومنا چاہتا ہوں میں یہ پل تمہارے ساتھ محسوس کرنا چاہتا ہوں وش ۔۔۔ یقین کروں اس بار ہر وہ پل ساتھ میں جئیے گے جس کے خواب شاید کبھی ہم نے دیکھے ہوں ۔۔ میری خواہش پوری کروں گی ۔۔۔؟” ہادیق محبت سے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں بھرتا پیار سے اپنا لمس اسکے ماتھے پر چھوڑا تھا ۔۔۔
” آپ محبت سے ساتھ دیگے تو یہ پل ضرور ہم ساتھ میں جئیے گے ۔۔!! وش نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے تھے ۔۔
” ماما بابا جلدی آئے نہ ہم ساتھ میں کھیلتے ہیں ۔۔۔۔۔ آرہے ہیں ۔۔!! بچوں کی آواز پر دونوں مسکراتے ہوئے انکی طرف چل دیے ۔۔۔۔۔۔ کتنا سکون ملتا ہے جب دل کسی کیلئے صاف ہو جاتا ہے ایک امید سی جاگتی ہے اب کی بار زندگی کچھ حسین پل دے گی ۔۔ اور یہی زندگی کے خوبصورت لمحات ہادیق اور وش جینے والے تھے ۔۔ آنے والے بہت سی خوشیاں انکے آنگن میں اترنے کو بیتاب تھی ۔۔۔۔ غلطیاں آپ کو بہت کچھ سیکھا دیتی ہے ۔۔ جو سبق آپ اپنی زندگی میں ملنے والے پیار محبت میں سیکھ نہیں پاتے وہ آپ کی زندگی میں کچھ لوگ ایسے آ کے سیکھا دیتے ہیں ۔۔ جیسے ہادیق کی زندگی میں سویرا نے ایک شرط پر اسکی زندگی برباد کردی وہ خود بھی تو خود کر برباد کر آیا تھا شاید یہ ماں باپ کی دعاؤں اور وش کی محبت تھی جو آج وہ اپنی زندگی کے وہ حسین پل گزار رہا ہے ۔۔۔
