Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 14)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 14)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” مرتضیٰ اچھا ہوا تم آ گئے تمہیں پتہ ہمارا رشتہ ہونے والا ہے تم نے تو مجھے بتایا ہی نہیں تم پسند کرتے ہو مجھے ۔۔!! ہانیہ انھیں اندر آتا دیکھ کر جان بوجھ کر عابیر کے سامنے جا کر اسکے گلے لگتی آگ لگا گئی ۔۔
” یہ کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔!! مرتضیٰ اسے الگ کرتا حیرت و غصے میں پوچھا احمد اور عابیر تو جیسے ساکت ہو گئے تھے وہی جب کہ مرتضیٰ کو ہانیہ کی بات زہر لگی تھی وہ پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا اسے سنانے کو جو اس دن عابیر کے ساتھ کیا تھا ان لوگوں نے ۔۔
” تمہیں نہیں بتایا خالہ جانی نے وہ آج آئی تھیں رشتہ مانگنے ماما سے زین کی شادی کے بعد انہوں نے کہا تھا وہ جلد ہی ہماری شادی کروانا چاہتی ہیں یہ دیکھو خالہ جانی مرتضیٰ کو میں نے ہی سرپرائز دے دیا ۔۔!! ہانیہ نے بڑا دھماکہ کیا تھا شازیہ بیگم مسکراتے ہوئے وہاں آئی حمید صاحب اور دادی بھی وہاں آگئے تھے ۔۔ مرتضیٰ نے کسی خیال سے پیچھے کھڑی عابیر کو دیکھا جس کی بڑی بڑی آنکھوں میں سمندر جمع تھا اسکے دیکھتے نظریں جھکا گئی مرتضیٰ کو یہ سب اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔ عابیر کو لگا وہ سانسیں نہیں لے پائے گی کیوں قسمت اسکے ساتھ نا انصافی کر رہی تھی ۔۔
” موم یہ سب کیا ہے ۔۔؟” مرتضیٰ نے بے یقینی سے ماں کو دیکھا ۔۔
” اچھا خالہ میں چلتی ہوں کل ہم چلیں گے شاپنگ پر ۔۔!! ہانیہ وہاں کا ماحول سیریس دیکھتی کھسکنا چاہا کام تو وہ اپنا کر چکی تھی ۔۔
” خیر سے جاؤ احمد اپنی ہونے والی بھابی کو چھوڑ آؤ ۔۔ اور تم مرتضیٰ میرے روم میں آؤ ۔۔!! شازیہ بیگم حکم دیتی کمرے میں چلی گئی پیچھے مرتضیٰ غصے میں گیا حمید صاحب اور دادی عابیر سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے وہ تو جیسے چپ ہو گئی تھی احمد مجبوری میں ہانیہ کو لے گیا ۔۔۔
_________
” موم یہ سب کیا ہے ۔۔؟” مرتضیٰ ضبط کرنے لگا تھا اپنا غصہ وہ جیسی بھی تھی ماں تھی لیکن اسکے ساتھ یہ کریں گی اسنے سوچا نہیں تھا ۔۔
” کیوں یہ سب تمہیں پسند نہیں آیا تم بھول رہے ہو بیٹا یہ وہی ہے جس سے تم نفرت کرتے ہو چھوڑنے والے تھے اور آج میرے فیصلے پر تمہیں اعتراض ہو رہا ہے کہیں محبت تو نہیں کر بیٹھے تم ۔۔!! وہ ماں تھی بیٹے کے بدلے تاثرات جذبات اچھے سے سمجھ رہی تھیں ۔۔
” موم اب حالات بدل چکے ہیں میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا اسے چھوڑ دونگا موقع دینے کا سوچا تھا میں ۔۔ اور آپ مجھ سے پوچھے بغیر میرا رشتہ کروا رہی ہیں ۔۔؟” اسکی آواز میں دکھ تھا ۔۔ وہ ماں تھی اونچی آواز نہیں رکھ سکتا تھا ۔۔
” تمہارے باپ نے بھی تو یہی کیا تھا مجھ سے پوچھا تھا اور اب جب کہ میں اپنے دل کی خواہش بتا رہی ہوں تو تمہیں اعتراض ہو رہا ہے میرے فیصلے پر ۔۔۔ میں چاہتی ہوں تم ہانیہ کو ہی میری بہو بناؤ مجھے وہ نہیں پسند تمہارے لئے ۔۔!! ماں تھی بیٹے کو زیادہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے نرمی سے سمجھانے لگیں ۔۔۔
” موم وہ مجھے پسند ہے ہاں مانتا ہوں پہلے نہیں تھی لیکن اب میں خود کو اس رشتے کو ایک موقع دینا چاہتا ہوں پلیز موم مجھے کوئی بڑا قدم اٹھانے پر مجبور مت کیجیئے گا ۔۔ آپ میری ماں ہیں تو میں بھی آپ کا بیٹا ہوں پلیز ۔۔!! وہ بے حد سنجیدگی سے ماں کو دیکھتے ہوئے کہتا آگے بڑھ کر انکا ماتھ چوم کر تیزی سے باہر نکلا شازیہ بیگم بیٹے کی دھمکی کو اچھے سے سمجھ گئی تھیں۔۔ وہ سچ میں اس لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا وہ اسکے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا ماں باپ کو بھی چھوڑ سکتا تھا کیسے خیال اور وہم آ رھے تھے شازیہ بیگم بیٹے کی دوری کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی تھیں ۔۔۔
_________
” یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔؟” مرتضیٰ بےچینی سے اسے پورے گھر میں ڈھونڈتا ہوا اوپر چھت پر آیا اسکی وہاں موجودگی پر گہرا اور پر سکون سانس لیتا مسکراتا ہوا اسکے ساتھ کھڑا ہو گیا وہ جو نیچے ایک نکتے پر نظر مرکوز کیے ہوئے تھی ۔۔
” سوچ رہی ہوں زندگی اتنی مشکل ہوتی ہے یا پھر صرف ہم جیسے ان پڑھ لوگوں کی قسمت اتنی خراب ہوتی ہے ۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا قسمت کا کھیل ہم جیسے ان پڑھ لوگوں کو ان پڑھ ہی لوگ ملنے چاہیے نہ کے پڑھے لکھے جن کے ساتھ رہتے ہوئے پل پل احساس ہو اپنی اوقات کیا ہے ۔۔۔ میں جانتی ہوں اس میں آپ کی غلطی نہیں ہے حالات ہی ایسے پیش آ گئے تھے لیکن مجھے بہت افسوس ہے اس بات کا ۔۔ حالات جیسے بھی ہوں وہ وقتی ہوتے ہیں ٹھیک ہو جاتے ہیں اس میں جذبات میں آکے ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہیے جس پر بعد میں پچھتاوا ہو ۔۔۔۔ آپ کو ماموں سائیں نے مجبور کیا تھا ۔۔ میں جانتی ہوں آپ کو ساس اماں کو میں کبھی اچھی نہیں لگی اسکی وجہ بھی جانتی ہوں ۔۔ل ۔لیکن سائیں جی آپ اپنی اماں کی بات مان لے انکا حق ہے آپ پر وہ جو کہتی ہیں سہی کہتی ہیں میں واقعی آپ کے لائق نہیں ہوں کہیں بھی اٹھ بیٹھ نہیں سکتی آپ کے ساتھ میں گاؤں واپس چلی جاؤں گی آپ لوگ لڑائی جھگڑا مت کریں میری وجہ سے ۔۔!! اسکی باتیں اسکا دل دکھا رہی تھیں لیکن سچ ہی تو کہہ رہی تھی پھر کیوں اسکا سچ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ بھی تو صبح شام اسے یہی یاد دلاتا تھا اور آج جب وہ خود جان گئی ہے اسکی اوقات کیا ہے تو کیوں وہ اسے بولنے سے روکنا چاہتا تھا ۔۔۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا اسکی باتوں نے دل پر جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا ہو بغیر کچھ کہہ وہ وہاں سے نکل گیا عابیر ایک بار پھر اپنی خاموش قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کب کیسے اسکا دل اب اسکے نام سے دھڑکتا ہے جدائی کا سوال ہی نہیں اٹھتا محبت میں لیکن یہاں تو وہ قسمت کے ایسے کھیل پر کھڑی پچھتا رہی تھی کاش میں کبھی شہر نہ آتی نا ہی مرتضیٰ سے ملاقات ہوتی نہ وہ کبھی اسکے دل میں گھر کرتا ۔۔ اب تو وقت نکل چکا تھا ہاتھ سے کیسے خود کو سنمبھالتی وہ ۔۔ عابیر کریم بخش ، مرتضیٰ حمید سے محبت کرنے لگی تھی ۔۔ محبت میں جدائی تو ختم کر دیتی ہے پھر وہ کیسے زندہ رہے گی آج جتنا رونا تھا جی بھر کے رو لیا تھا ۔۔۔
_________
” بھابی آپ جا رہی ہیں میدان چھوڑ کر ۔۔؟” احمد کو جیسے ہی خبر ملی وہ بھاگتا ہوا آیا تھا دادی اور حمید صاحب اسکے فیصلے پر خاموش تھے وہ جانتے تھے اسکے ساتھ کبھی کچھ اچھا نہیں ہوا اس گھر میں اس لئے وہ اسے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے مرتضیٰ شام سے گیا ہوا تھا ابھی تک نہیں آیا تھا گھر اس بات کا عابیر کو بہت دکھ تھا وہ کچھ کیوں نہیں کہہ رہا کیا وہ بھی یہی چاہتا ہے ۔۔۔ نہ جانے کیوں جھوٹی امیدیں دل میں تھی اسکے ساتھ گزرا وقت کتنا خوبصورت لگتا تھا ۔۔
” یہ میدان کبھی میرا نہیں تھا پھر کیوں میں دوسروں کی چیزوں پر قبضہ کروں میرا یہاں سے جانا ہی بہتر ہے آپ سب اپنا خیال رکھیے گا چھوٹے ادا ۔۔!! وہ آنسو صاف کرتی مسکراتے ہوئے بولی تھی اوپر سے جتنا ہنس لے ۔۔ جب دل میں ڈھیروں غم سے بھرا ہوا ہو تو آنکھیں کیسے مسکرا سکتی ہیں ۔۔
” مجھے چھوٹا ادا کون بلائے گا کون اچھے اچھے کھانا بنا کر کھلائے گا میں نہیں جانے دونگا آپ کو مت جاؤ عابی ۔۔!! احمد کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں اسے یہ پیاری اور چھوٹی سی بھابی بہت عزیز تھی غصہ تو اسے اپنے بھائی پر آرہا تھا جانے کہاں چھپ گیا تھا اور یہ خوشباں ہمیشہ سے اس گھر سے ختم ہونے والی تھی ۔۔۔
” بھابی پلیز روئے مت آپ بالکل اچھی نہیں لگتی روتے ہوئے ۔۔ میں آپ کو رلانا نہیں چاہتا بلکہ روکنا چاہتا ہوں ۔۔!! احمد اسکے برسات والے آنسو دیکھ کر دکھ سے بولا تھا ۔۔
” کیا کروں میں تمہارا بھائی اب اچھا لگنے لگا ہے تو کیا کروں اپنے دل کا جسے اسے دیکھ کر سکون ملتا ہے اسے دیکھ کر دھڑکتا ہے تم سب اچھے لگتے ہو مجھے میں وہاں کیسے رہوں گی تم لوگوں کے بغیر ۔۔۔۔!! وہ سو سو کرتی وہ بےسی سے بولی تھی ۔۔ جب ایک وجود کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ آئی احمد کو اسکی معصومیت پر پیار آیا تھا اتنی پیاری بھابی تھی اسکی اس گھر کی رونق تھی ۔۔احمد ایک نظر پیچھے کھڑے وجود کو مسکراتا ہوا دیکھ کر شرارت سے اپنی بھابی کو دیکھا تھا ۔۔ جو سر جھکا کر اپنے آنسوں بہا رہی تھی ۔۔
” تو آپ کیسے چھوڑ کے جا سکتی ہیں اپنے پیارے خوبصورت شوہر کو یہاں آپ جائیں گی وہاں کوئی اور چڑیل آکر قبضہ کرلے گی پھر کیا کریں گی آپ ۔۔؟” وہ شرارت سے کہتا اسے دیکھا جو اسکی بات پر رونا بھول کر حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔ دل کھونے کے خوف سے دھڑک اٹھا تھا ۔۔
” اللّٰه انھیں نظر سے بچائے گا لیکن وہ مجھے اچھے لگتے ہیں میں تو نہیں لگتی نہ اور تمہاری وہ چڑیل خالہ کی بیٹی وہ تو بیٹھی ہے نہ سائیں جی کو چرانے کے لئے وہ اب ان کے ہو جائے گے نہ میں تو کہیں نہیں تھی اس لئے چلی جاؤں گی گاؤں ۔۔ اب تم باتوں میں نہ لگاؤ مجھے چھوڑ کے آؤ رات ہوگئی ہے وہاں پہنچتے دیر ہو جائے گی تم صبح آجانا رات وہاں روکو گے نہ ۔۔!! درد تو اسکا تھا پھر کیوں وہ اپنے درد سے سب کو تکلیف دیتی یہی سوچ کر وہ احمد سے پیار سے پوچھنے لگی تھی ۔۔ جب پیچھے سے گھمبیر آواز پر سانس روک گئی ۔۔۔
” کس کی اجازت سے جا رہی ہو تم ۔۔؟؟
“س ۔سائیں جی آ ۔آپ ۔۔!! مرتضیٰ کو غصے میں دیکھ کر ہمیشہ اسکی جان جاتی تھی ابھی بھی مرنے والی حالت تھی ۔۔ مرتضیٰ نے احمد کو اشارہ کیا باہر جانے کا ۔۔ وہ جیسے ہی آگے بڑھا عابیر نے ڈر سے احمد کا ہاتھ پکڑتی سر نفی میں ہلانے لگی نم آنکھوں میں التجا تھی ۔۔ اپنے جلاد شوہر کا کیا پتہ پھر بند کمرے میں مارنے کی دھمکی دے یا پھر سچ میں کردے آج اسکا کام تمام ۔۔
” میں نے کہا جاؤ ۔۔!! مرتضیٰ کی دھاڑ پر دونوں اچھل پڑے احمد تیزی سے بھاگا تھا اسکے جاتے مرتضیٰ نے کمرے کا دروازہ بند کیا اسکی حرکت پر عابیر کا گلہ خشک ہوا وہ تیزی سے واش روم میں بھاگی مرتضیٰ نے جیسے دیکھا اس تک پہنچنا چاہا کے وہ دروازہ بند کر گئی تھی ۔۔ دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر رکی ہوئی سانس بحال کرنے لگی ۔۔
” عابیر دروازہ کھولو ۔۔؟” مرتضیٰ نے غصے میں دروازے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔۔
” نن ۔۔نہیں سا ۔سائیں آ ۔آپ مم ۔۔ماریں گے ۔۔!! وہ ڈر اور خوف سے روتے ہوئے بولی تھی وہ مرتضیٰ کے غصے والے روپ سے بہت ڈرتی تھی یہ بات وہ بھی اچھے سے جانتا تھا اسکی اسی بات پر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی جب جب وہ اسے ڈراتا وہ اتنی ہی معصوم اور پیاری لگتی تھی اسے اس وقت وہ اسکے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا پر وہ تھی چھپ کے بیٹھی ۔۔ دل تو آج گستاخیاں کرنے کو مجل رہا تھا ۔۔
“پہلے کتنی بار مارا ہے جو اس بار ماروں گا چلوں شاباش نہیں مارتا باہر آؤ بات کرنی ہے ۔۔؟” وہ روعب سے بولا تھا ۔۔
” ی یہی سے بولے سن رہی ہوں باہر نہیں آؤں گی آپ کا کیا بھروسہ مار دیں تو کسی کو پتہ بھی نہ چلے میری لاش کہاں گی نہ سائیں جی معاف کریں باہر نہیں آؤں گی ۔۔!! وہ اسکا پہلے والا روپ یاد کرتی خوف زدہ ہو گئی تھی اس وقت تو وہ جس غصے میں تھا اسکی لاش تک کا کسی کو پتہ نہ چلے ۔۔۔ اور آج اسکا دل کیا واقعی اپنی دھمکی سچ کر دے ۔۔ ایک تو صبح سے بے سکون گھوم رہا تھا اسکا سوچ سوچ کر سر درد سے پھٹ رہا تھا اسکی باتوں نے کتنا شرمندہ کیا تھا اور یہاں وہ سامنے نہیں آرہی کہ بات ہو پائے ۔۔
” تم کھولتی ہو کے میں توڑ دوں۔۔؟” اب کی بار اسے واقعی غصہ آگیا تھا عابیر پر ۔۔ اسکے غصے والے روپ سے ڈرتے ہوئے وہ دھیرے سے باہر نکلی تھی سر جھکا ہوا تھا رویا رویا ہلکا سا گلابی ۔۔ مرتضیٰ نے ایک قدم اسکی جانب بڑھایا تھا کہ وہ ڈر سے آنکھیں بند کر گئی دھڑکنیں تیز ہوئی اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر صوفہ تک لا کر اسے بیٹھایا کچھ دیر کمرے میں معنی خیز خاموشی تھی صرف دھڑکنوں کا رقص سنائی دے رہا تھا ۔۔ ایک شدت سے خوف زدہ دھڑک رہا تھا تو دوسرا چاہت سے محبت کے اظہار سے ۔۔۔
” تم مجھے چھوڑ کے سچ میں جانا چاہتی ہو۔۔۔؟” بھاری گھمبیر آواز پر اسکی دھڑکنوں نے مزید رفتار پکڑ لی ۔۔۔ اس لو دیتی کی نظروں سے گھبراتی وہ حلق تر کرتی نظریں چرانے لگی تھی ۔۔
” کہو کچھ ۔۔؟” وہ اسکا ہاتھ دبا کر بولا تھا ۔۔
” مم ۔۔ سس ۔۔ آ ۔آپ آپ اپنی اماں سائیں کی بات مم ۔۔مان لے وہ سہی کہتی ہیں ۔۔!! گھبراہٹ کے مارے عابیر کے لفظ ہی نہیں نکل رہے تھے ہمت کرتے ہوئے وہ کچھ لفظ ادا کرتی گئی ۔۔
” کیا سہی کہتی ہیں ۔۔؟” مرتضیٰ کا لہجہ بہت نرم تھا ۔۔ وہ تو اسکی گھنی پلکوں کی حرکت کو دیکھ رہا تھا ۔۔ عابیر کا دل بھر آیا تھا ۔۔ جتنا اپنے آنسؤں پر ضبط کرتی وہ اتنی تیزی سے بہنے لگے تھے ۔۔
” آپ ایک اچھی باشعور پڑھی لکھی بیوی کا حق رکھتے ہیں مم ۔۔ میری جیسی لڑکی ایک گاؤں کی گاؤں میں ہی اچھی لگتی ہے یوں شہر میں آکر پڑھے لکھے حسین مرد کا نصیب کیسے ہو سکتی ہے ۔۔!! وہ بہتے ہوئے آنسوں کے ساتھ خود کو بے مول بتا رہی تھی جب کے وہ بس خاموشی سنجیدگی سے اسے سن رہا تھا اسکے جھکے سر اور بہتے آنسو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ایک بار اسکے دل سے تو پوچھتی وہ کتنی انمول ہے اسکے لئے اب ۔۔
” آ ۔آپ بھی تو پسند نہیں کرتے ہیں مجھے آپ نے بھی کہا تھا چھوڑ دیگے یہ سب مجبوری کا رشتہ ہے پھر کیا کہوں گی ۔۔ آپ بس مجھے عزت اور احترام کے ساتھ میرے گھر چھوڑ آئیں میں اپنی اماں ابا کو سمجھا دونگی وہ بھی سمجھ جائیں گے آپ بس میری وجہ سے لڑے نہ اپنی اماں کی بات مان لے ۔۔!! اپنا ہاتھ اسکے مظبوط ہاتھوں میں دیکھتی ہوئی وہ دھیرے سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ مرتضیٰ جند لمحے اسے روتے اور جھکے سر کو دیکھتا گہرا سانس لیتا اثبات میں سر ہلاتا ہوا نرمی سے اسکے آنسو صاف کیے ۔۔۔ عابیر ایک پل کو ڈر سے اپنی آنکھیں بند کی نرم لمس پر دھیرے سے آنکھیں کھولتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا دل شدت سے اسکے نام سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔ یہ تو آج احساس ہی الگ تھے خوبصورت انداز تھا آج تو بیچ رشتہ بھی کمال تھا تو کیسے نہ یہ احساس جاگتا ۔۔
” میں کچھ کہوں گا نہیں صرف ایک عمل سے تمہیں یہ احساس دلاؤں گا تم میرے لئے کیا ہوں تمہاری میری زندگی میں کیا اہمیت ہے تم کیا بن گئی ہو میرے لئے میری سانسیں میری دھڑکنوں میں بسنے لگی ہو عابیر مرتضیٰ ۔۔!! وہ قریب ہوا اسکی پلکوں پر دھیمے سے اپنے ہونٹ رکھتا اسکے رخساروں سے پھیلتا ایک گستاخی کرتا اسکے چہرے کی لالی دیکھنے لگا ہولے سے مسکراتے ہوئے اسے گہرا سانس بھرتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔ وہ حیا و شرم سے نظریں جھکانے پر مجبور ہو گئی تھی ۔۔۔ مرتضیٰ کے خوبصورت انداز پر وہ جتنی حیران ہوتی کم تھا اسکے انداز بیان محبت سے آج خود کو بہت خوش نصیب سمجھ رہی تھی ۔۔
” کیا اب بھی کچھ کہنے کی ضرورت ہے تم میرے لئے کیا ہو میرے دل میں کیا مقام بنا چکی ہو میرا ہر عمل تمہیں یہ احساس دلائے گا تم مرتضیٰ حمید کیلئے کیا مقام رکھتی ہو ۔۔ اسکے دل میں رہتی ہو ۔۔ کیا میں آج اپنی بیوی سے اپنے حقوق لے سکتا ہوں اسے دل و جان سے اپنے اندر اتار سکتا ہوں اسکے چہرے پر اپنے محبت کے رنگ بکھیر سکتا ہوں ۔۔۔!! وہ آنکھیں موندے چہرے پر گرم دہکتی سانسیں محسوس کر رہی تھی مرتضیٰ نے مسکراتے بازو اسکے کمر کے گرد حمائل کرتا اسے مزید قریب کیا خود کے اسکا تمام خون چہرے پر سمٹ آیا تھا ۔۔ آج چاند بھی انکی نزدیکی پر شرماتا بادلوں کی اوڑ میں چھپ گیا ۔۔ وہ دونوں آج ایک خوبصورت احساس میں پر سکون حصار میں ایک دوسرے کو مکمل محسوس کرتے ہوئے خوش تھے یہ انکی نصیب کی خوشیاں تھی دیر سے سہی پر انھیں اپنے ہونے کا ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع مل گیا ۔۔
