Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Hogai Hai (Episode 10)

Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah

وقت کا کام تیزی سے گزرنا سو گزر رہا تھا ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف تھا بس کسی کے لئے اچھا وقت گزر رہا تھا تو کسی کے لئے برا مرتضیٰ گھر تھوڑا کم آنے لگا تھا خود کو کام میں مصروف کردیا تھا وجہ ماں ٹھیک سے بات نہیں کرتی تھی باپ سے خود ناراض تھا شادی کی وجہ سے عابیر سے اسکا کم ہی آمنا سامنا ہوتا تھا کیوں کے وہ اب اس سے ڈرتی بہت تھی اس لئے کم جانے میں ہی عافیت تھی ہانیہ اپنے گھر جا چکی تھی انکے گھر والے یہی شفٹ ہو گئے تھے احمد پڑھائی کے ساتھ گھر میں عابیر کے ساتھ تھوڑی مستی کر لیتا تھا شازیہ بیگم کا رویہ تبدیل نہیں ہو رہا تھا عابیر سے دن بہ دن وہ اسے چبھ رہی تھی جسکا روز شوہر بیٹے پر ڈالتی تھی ۔۔۔

” سنو جاہل لڑکی کب تک رہنے کا ارادہ ہے تمہارا یہاں ۔۔؟” شازیہ بیگم ناگواری سے بولی تھیں ۔۔

” جج جی میں کہاں جاؤں گی ۔۔؟” عابیر نے نہ سمجھی سے آرام سے بولی تھی ۔۔

” اپنے گاؤں چلی جاؤ میرے بیٹے کے لئے تم بالکل قابل نہیں ۔۔ دیکھا ہے کبھی خود کو آئینہ میں اسکے برابر لگتی ہو۔۔!! شازیہ بیگم نے غصہ نفرت سے کہا آج غصہ بہت تھا عابیر پر ۔۔ لیکن وہ چاہ کر بھی ان سے بدتمیزی نہیں کر سکتی تھی ۔۔

” تمہیں شرم نہیں آتی مجھ سے زبان چلاتے ہوئے یہی دن دیکھنے باقی رہ گئے تھے اب ۔۔؟” شازیہ بیگم کے اچانک انداز بدلنے پر عابیر حیرت زدہ ہوئی تھی ۔۔

” سس آ آپ ۔۔۔۔ عابیر ۔۔۔!! ابھی وہ کچھ کہتی پیچھے سے بھاری گھمبیر آواز پر اچھل پڑی ۔۔ دیکھا تو سامنے مرتضیٰ اور حمید صاحب کھڑے تھے وہیں احمد بھی آگیا سب ساتھ کھڑے تجسس میں دیکھ رہے تھے۔۔

” تمہاری ہمت کیسے ہوئی ماما سے بدتمیزی کرنے کی ۔۔!! مرتضیٰ غصے میں آگے بڑھتے ہوئے اس کا بازو پکڑا عابیر کو تو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کہہ اور کیا ہو رہا تھا ۔۔۔

” مم ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔!!

” ہاں بیٹا یہ سچ بول رہی ہے اس نے کچھ نہیں کہا چھوڑو جانے دو میں ہی جھوٹی ہوں ۔۔۔!! شازیہ بیگم افسوس سے کہتے ہوئے چلی گئی تھیں وہاں سے ۔۔۔عابیر تو انکے جھوٹ پر ابھی تک حیرت زدہ تھی ۔۔۔

” دکھا رہی ہو نہ اپنا جاہل پن ۔۔۔ تم جیسی جاہل گوار کو اپنے ہی گاؤں جسے بندے سے شادی کرنی چاہیے ۔۔۔!! مرتضیٰ غصے میں اسکی تذلیل کرتا روم میں چلا گیا ۔۔۔احمد اور حمید صاحب کو بہت دکھ ہوا عابیر کی حالت پر ۔۔

” بیٹا مجھے معاف کر دینا یہ سب شاید میری وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔!! حمید صاحب شرمندگی سے بولتے چلے گئے ۔۔۔

” مم ۔۔میں سچ میں کچھ نہیں کیا چھوٹے ادا تم کو بھی یقین نہیں ۔۔۔!! عابیر روتے ہوئے احمد سے کہا ۔۔

” روتے نہیں مجھے پورا یقین ہے آپ نے کچھ نہیں کہا وہ بس ماما آپ کو پسند نہیں کرتی اس لئے شاید وہ ایسا کہہ رہی ہیں میں ان کی طرف سے معافی مانگتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے نہیں نہیں چھوٹے ادا آپ کیوں بولیں گے میں ان سے بھی نہیں کہتی یہ بس نصیب ہے میرا ۔۔!! عابیر احمد کو شرمندہ دیکھتی جھٹ سے اسے شرمندہ ہونے سے روکا تھا ۔۔۔

” اچھا بھوک لگی ہے کھانا ملے گا ۔۔!! احمد نے منہ بناتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھا ۔۔

” ہاں ابھی لائی ۔۔!! وہ سب کچھ بھولتی مسکرا کر بھاگی ۔۔

__________★

” آئم سوری ماما یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے شاید آپ کو اتنا ہرٹ کرنے کی سزا ہے ۔۔!! مرتضیٰ ماں کے آگے بیٹھا انکے ہاتھ تھام کر عابیر والی بات سچ سمجھتا ماں سے معافی مانگنے لگا تھا۔۔۔

” نہیں بیٹا یہ میرا قصور ہے جو اس لڑکی کو ایک موقع دینے چلی تھی تمہاری زندگی میں اسے موقع دینا چاہا خواہش تو میری ہانیہ تھی ۔۔!! شازیہ بیگم دکھ سے بیٹے کو قائل کرنے لگی تھی ۔۔۔

” دکھ کس بات کا بیگم کروا دو بیٹے کی دوسری شادی ویسے بھی پہلی کو تو اسکا حق دے نہیں رہا دوسری کو شاید دے دے ۔۔۔!! حمید صاحب طنزیہ کہتے روم سے باہر چلے گئے ۔۔ ایک پل کو مرتضیٰ کو شرمندگی ہوئی تھی ۔۔۔

” مرتضیٰ ۔۔۔۔جی ۔۔” ماں کے پکار نے پر وہ ان کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔

” بیٹا میں بھی چاہتی ہوں تم میری خواہش پوری کرو جیسے باپ کی کی ہے ویسے میری بھی ایک کر دو ۔۔!! شازیہ بیگم جذباتی ہوئی ۔۔

” کیا مطلب ماما میں سمجھا نہیں !؟ نہ سمجھی سے مرتضیٰ نے دیکھا ۔۔

” دیکھوں بیٹا لوگ تو چار چار شادیاں بھی کر لیتے ہیں تم تو میرے پیارے بیٹے ہو نہ میری بھی بہت خواہش تھی ارمان تھے تمہاری شادی کو لے کر تو کیا جیسے باپ کی بات مانی ویسے ماں کا مان بھی رکھ لو ہانیہ سے شادی کرلو بےشک اس لڑکی کو بھی رکھو نہیں کہوں گی کچھ لیکن بیٹا وہ تمہارے ساتھ باہر کی دنیا میں اٹھنے بیٹھنے کے قابل نہیں ہانیہ کو باہر کی دنیا میں لے کر گھوم سکتے ہو اس جاہل کو گھر کی دنیا میں ہی رکھو ۔۔۔!! اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں شازیہ بیگم لیکن مرتضیٰ کو پتا نہیں کیوں یہ سب اچھا نہیں لگا تھا ماں کو انکار کرنے کی ہمت وہ کر نہیں پایا تھا دل میں عجیب سی بے چینی ہونے لگی تھی ۔۔

” اچھا سنو تمہاری خالہ لوگ یہاں آئے ہوئے ہیں زین کی شادی کی ڈیٹ فکس کردی ہے انہوں نے کل آئیں گے یہاں میں چاہتی ہوں تم مجھے جلد سوچ کر جواب دو تا کہ میں اس بیچ اپنی بہن سے بات کرلوں اپنے باپ سے خود بات کر لینا وہ ویسے ہی مجھے اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔۔۔!! وہ بیٹے کے دل کے حال سے انجان اپنے ہی دل کی بات کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔

_________★

مرتضیٰ نے روم میں آتے چاروں طرف نظر دوڑائی کسی کی تلاش میں لیکن وہ ہوتی تو نظر آتی دل میں خواہش سی جاگی وہ یہاں ہو اسکی باتوں کو اسکے جاہل پن کو جسے مس کیا تھا اسنے ۔۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا اچانک سے کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا یا پھر اچانک سے شازیہ بیگم کی باتوں کا اثر تھا ۔۔۔ بے چین ہوتا روم سے باہر نکلا اسکے قدم دادی کے روم کی طرف تھے جسے ہی اندر سے آواز آئی قدم باہر ہی رک گے آدھ کھلے دروازے سے اسکی پشت نظر آرہی تھی جو کے دوپٹے سے کور تھا اسکی یہ عادت سب کو گھر میں اچھی لگتی تھی اسکا دوپٹہ سر پر ہی رہتا تھا بھلے اب وہ انکے دیے گے لان کے برینڈڈ کپڑوں کو پہنتی تھی لمبے گھنے بال ہمیشہ باندھ کر چلتی اس پر دوپٹہ معصوم چہرے کی کشش تھی جسے گھر میں سب کو اپنی اپنی لگتی تھی وہ صرف دو انسان کو چھوڑ کر مرتضیٰ اور شازیہ بیگم ۔۔۔

” نانی اماں میں سچ کہہ رہی ہوں جھوٹ نہیں بولتی میں میں نے مامی ساس کو کچھ بھی نہیں کہا تھا بلکہ انہوں نے کہا میں گاؤں چلی جاؤں ۔۔۔!! عابیر دکھی انداز میں نانی اماں سے شکایات کی ۔۔

” میں جانتی ہوں میری عابیر بہت نیک دل ہے وہ ایسا کچھ نہیں کہتی بس چھوڑو دل پر نہ لو بات کو تم جانتی ہو نہ اپنی ساس کا رویہ ابھی اسے وقت دو ۔۔!! نانی اماں نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔

” اچھا میں یہاں سو جاؤں آج نہ روکنا اماں ۔۔۔ سائیں بڑے غصے میں ہیں مجھے ان سے بڑا ڈر لگتا ہے وہ تو میری بات کا یقین بھی نہیں کرتے نہ ۔۔۔!! عابیر کے دل میں مرتضیٰ کا خوف تازہ ہو گیا تھا ۔۔

” دیکھو بیٹا اب تمہاری شادی ہوگئی ہے تمہارا اپنے شوہر کے کمرے میں ہی رہنا ٹھیک ہوگا ایسے کب تک چھپتی رہو گی ۔۔!! دادی کو اچھا نہیں لگتا تھا مرتضیٰ کا رویہ لیکن وہ ان کے بیچ سب ٹھیک کرنا چاہتی تھیں ۔۔۔

“ایک تو وہ پہلے ہی میرے خون کے پیاسے ہیں ۔۔

” اماں وہ نہیں مانتے بیوی مجھے میں جاہل گوار ہوں گاؤں سے آئی ہوں ۔۔۔ اور دیکھے سہی کہتے ہیں کیا میں نہیں ہوں جاہل ہوں نہ پھر کیوں سب بڑے زبردستی کر رہے ہیں ایسے رشتے کو چلانے کی جس کا کوئی نام و نشان نہیں ۔۔۔اب میں یہی سو رہی ہوں زمیں پر سو جاؤں گی پر وہاں آج تو نہیں جانے والی میں ۔۔۔!! عابیر نے حالات کو سمجھتے ہوئے بات تو سہی کہہ دی دل میں تو دکھ اسکے بھی بہت تھا لیکن اتنا تو سمجھ گئی تھی یہاں کے لوگ صرف پڑھے لکھے کو اہمیت دیتے ہیں ۔۔۔ مرتضیٰ کے دل میں ایک بوجھ سا بیٹھ گیا تھا عابیر کی باتیں اسکا سچائی والا لہجہ ۔۔۔مرے قدموں سے واپسی کی رہ لی ۔۔۔۔۔ ساری رات بے چینی سے نیند نہیں آئی اسے ۔۔ اے سی پر نظر پڑھتے ہی اسکے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آئی تھی عابیر کا انداز روز رات کو اس ٹھنڈے دبے کو بد دعا دینا ۔۔۔

_______★

” تم سب کو ضرور آنا ہے زین کی شادی میں ۔۔!! شازیہ بیگم کی بہن بیٹے کی شادی کا کارڈ لے کر آئی تھی سب لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے عابیر کچن میں چائے بنا رہی تھی ۔۔۔

” ماشاءاللّٰه بہت مبارک ہو بتول بیٹے کی ۔۔!! دادی نے مسکراتے ہوئے مبارک باد دی ۔۔

” شکریہ اماں بس آپ کی دعاؤں کا صلہ ہے ۔۔!!

” خالہ یہ تو بتائے زین نے خود پسند کی ہے یا آپ لوگوں نے ۔۔!! احمد نے شرارت سے زین کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

” میں نے خود میرے بیٹے نے کہا جہاں ماما کہے گی وہیں کروں گا پھر دیکھ لو ایک شادی پر گئی تھی وہاں وہ لڑکی بہت پسند آئی مجھے ماشاءاللّٰه پڑھی لکھی خوبصورت سی ہے ۔۔!! بتول خالہ کے لہجے میں فخر تھا بیٹے کے لئے وہی سب کی نظر شازیہ بیگم پر اٹھی جن کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی جو بھی تھا ماں تھی دل میں ارمان رکھتی تھی بیٹے کی شادی کا سب کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات تھے ۔۔

” ہاں مرتضیٰ تم کب کر رہے ہو شادی دیکھ لو تم سے پہلے میری ہو رہی ہے ۔۔!! زین نے ہنستے ہوئے قہقہہ لگایا تھا ۔۔

” ہاں شازیہ تم بتاؤ کب بیٹے کو گھوڑی پر بیٹھاؤ گی ۔۔!! بتول خالہ نے بہن کو کہا۔۔

” یہ بڑا ہے سمجھدار ہے اپنی مرضی کرے گا حمید صاحب ہیں نہ پھر میری کیا ضرورت ۔۔!! شازیہ بیگم طنزیہ انداز میں دونوں کو دیکھ کر کہا تھا ۔۔

” کیوں نہیں تم ماں ہو حق رکھتی ہو۔۔!! ہاں ہاں ضرور سوچیں گے ابھی زین کی شادی تو انجوئے کر لیں ۔۔!! شازیہ بیگم نے دکھ سے بیٹے کو دیکھتے ہوئے بات بدل گی ۔۔

” یہ کون ۔۔؟؟ بتول خالہ سامنے چائے پیش کرتے ہوئے عابیر کی طرف اشارہ دیا اس سے پہلے شازیہ بیگم اس کی کوئی تذلیل کرتی احمد جھٹ سے بولا تھا ۔۔۔

” یہ ہماری پیاری کزن سارا پھوپھو کی بیٹی ہے ہمارے پاس گھومنے آئی ہے ۔۔!! احمد چاہا کر بھی بھابھی لفظ استعمال نہیں کر پایا ماں کے انداز پر چپ ہوتے بات بدلی سب نے سکھ کا سانس لیا لیکن پتا نہیں کیوں ایک شخص کو اچھا نہیں لگا اپنے نام سے جوڑے ہونے کے باوجود نام نہیں دے پایا ۔۔

” شی از سو کیوٹ اس کو بھی ساتھ ضرور لانا اور آپ سب نے ضرور آنا ہے ہر ایونٹ میں ۔۔!! پھر باتوں کا دور چلا ان سب میں عابیر خاموش بیٹھی ہوئی تھی لیکن زین کے بار بار مخاطب کرنے پر ہلکی آواز میں جواب دیتی رہی دل میں صرف شازیہ بیگم اور مرتضیٰ کا خوف تھا ۔۔

_____

هادیق گھر میں جیسے آیا اسے کچھ آوازے آئی وہ ان آواز کے پیچھے گیا تو وہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا سامنے کا منظر دیکھ کر ۔۔

” نہیں دادو یہ میرا ہے آپ ايانا سے کہہ نہ ۔۔ ” ہادی اپنی ٹوئن بہن کی شکایت کی دونوں ہی چار سال کے گول مٹول پیارے بچے تھے ہادی بالکل هادیق کی کوپی تھا ايانا ماں کے جیسی دیکھتی تھی ۔۔

” بس دونوں لڑنا بند کروں اور جلدی سے دودھ پیلو پھر جلدی سونا ہے نہ ۔۔؟” وش دودھ لے کے انکے سامنے آئی ۔۔

” نہیں ماما مجھے ڈوڈو پستڈ نہیں ۔۔ !! ايانا نے منہ بناتے ہوئے کہا ایسا کرتے ہوئے وہ بہت کوٹ لگ رہی تھی ۔۔

” نہیں کوئی نخرے نہیں چلے گئے جلدی ختم کروں ۔۔ وش نے آنکھیں دکھائی تو دونوں نے جلدی سے دودھ ختم کیا ۔۔

” بابا بابا ۔۔ ہادی کی نظر هادیق پر گئی تو وہ بھاگتا ہوا اسکے پاس گیا ۔۔ هادیق جو شاک میں تھا اسکی آواز پر ہوش میں آیا اور جھک کر اسے گود میں اٹھایا ايانا بھی اسکے پاس آئی ۔۔

مسز مصطفیٰ بیٹے کو دیکھ کر اپنے آنسو روک نہیں پائی وہ بھی هادیق کے پاس جاکے اسے ملی جو اپنے بچوں کو پیار کر رہا تھا مصطفیٰ صاحب وش اپنے جگہ کھڑے ہوئے تھے ۔۔

” میرا بیٹا کیسے ہوں تم ٹھیک ہو نہ اسی بھی کیا ناراضگی کے ہم بھوڑے ماں باپ کو ہی بھول گے بیٹا ۔۔ مسز مصطفیٰ دکھ افسوس سے کہا ۔۔

” میں آپ سب سے مافی چاہتا ہوں جانتا ہوں مافی کے قابل نہیں جو غلطی کی ہے اسکی سزا تو ملنی تھی نہ پر آپ لوگوں نے مجھے سے میرے بچوں کی پیچان تک چھپا دی اتنا بھی بڑا گناہ نہیں کیا تھا میں نے جتنی سزا آپ لوگوں نے دی ہے آج ۔۔!! هادیق مصطفیٰ صاحب اور وش کے سامنے آکر غصے میں زور سے چلایا اسے آج بہت برا جھٹکا لگا تھا اپنے بچوں کو دیکھ کر ۔۔

” بچوں آپ روم میں جاؤ میں آتی ہوں جاؤ شاباش ۔۔!! وش نے بچوں کو پیار سے کہا اور انھیں روم میں بھیج دیا ۔۔

” جی تو مسٹر هادیق مصطفیٰ کیا کہہ رہے تھے سزا دی ہے ہم لوگوں نے آپکو اچھا اور جو آپ کرتے آئے ہیں وہ کیا ہے ۔۔ ؟” وش هادیق کے سامنے آتی سکون سے کہہ رہی تھی ۔۔ وہ جانتی تھی یہ سب تو ایک دن ہونا تھا کل جو اس سے ملنے کے بعد وہ گھر آئی کتنا روئی تھی پھر سے پرانی یادیں وہ سب نظروں کے سامنے گھومی تھی ۔۔ کہی نہ کہی هادیق کے ریکشن سے ڈر بھی تھا ۔۔۔

” میں نے جو بھی کیا لیکن تم نے میرے بچوں کی پیچان چھپا کر رکھی مجھ سے کیا یہ سہی تھا بولو ۔۔؟” هادیق غصے میں اسکا بازو پکڑ کر بولا مصطفیٰ صاحب اپنی مسز کو لے کے وہاں سے چلے گئے وہ چاہتے تھے دونوں آرام سے بات کرلے ایک دوسرے سے ۔۔۔

اچھا بتائے کیسے بتاتی آپکو کہ آپ کے بچے ہیں ۔۔ یہاں سے جانے کے بعد کبھی بھی ایک بار صرف ایک بار اپنے مجھے سے بات کی یا پھر کوشش کی بات کرنے کی نہیں هادیق مصطفیٰ میں ایک پاگل تھی یہاں جو ہر پل تڑپ رہی تھی جانے ایسا کیا ہو گیا مجھے سے جو آپ بات تک نہیں ۔۔ جب کرتے بابا سے بات کرتے تھے تو اس وقت وہی کھڑی ہو کر انتظار کرتی تھی میں شاید یہ فون اب میری طرف آئے گا اب مجھے سے بات کریں گے آپ لیکن نہیں کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا روز میرا دل توڑتے تھے آپ ۔۔ اور پھر کیا آئستہ آئستہ وہ کال بھی آنا بند ہوگی میں چاہتی تھی یہ بات میں خود بتاؤں آپکو یہ پل میں آپکے ساتھ جیوں لیکن اپنے میرے سارے خواب ارمان توڑ دیے توڑ دیے هادیق ۔۔ وش روتی ہوئی نیچے بیٹھتی چلی گئی اسنے آج اپنی ہر بات کہہ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کردیا تھا ۔۔ پر هادیق کو شرمندہ کیا اسے اسکی غلطی بتا کر وہ خود سے نظر نہیں ملا پا رہا تھا ۔۔ وہ آج جی بھر کر پچھتایا تھا دل میں خیال آیا کاش وہ زندہ ہی نہ ہوتا یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا وہ کیوں چھوڑ گیا تھا ان سب کو کیوں خود کے ساتھ برا کر بیٹھا تھا ۔۔ وش اپنی جگہ سہی تھی وہ کیسے بتاتی اس نے تو کبھی بات کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اس سے ۔۔۔ آج اسکے پاس صرف پچھتاوا رہ گیا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *