Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah NovelR50544 Muhabat Hogai Hai (Episode 06)
Rate this Novel
Muhabat Hogai Hai (Episode 06)
Muhabat Hogai Hai by Mahra Shah
” اماں اماں وو وہ لوگ ع۔۔۔عا۔۔۔عابیر کو اٹھا کے لے گئے ہیں ۔۔!! عابدہ واپس گھر والوں کے پاس جاتے سب معاملہ بتایا انھیں۔۔ حمید صاحب نے پریشانی سے مرتضیٰ کو کال کر کے بلایا تھا سب دعا کر رہے تھے عابیر کے لئے ماں باپ بہت پریشان تھے بیٹی تھی عزت تھی کیسے نہ پریشان ہوتے روتے ہوئے اللّٰه سے دعا گو ہوئے ۔۔ تھوڑی دیر بعد انھیں گھر جانے کی اجازت مل گئی تھی اب سب پریشان گھر میں بیٹھے ہوئے تھے حمید صاحب تو بیٹے کے انتظار میں تھے رات ہو گئی تھی سارے محلے والوں میں باتیں بننی شروع ہو گئی تھیں ماں باپ شرمندگی سے ڈوب مرنے کو تھے اب ۔۔
” السلام علیکم پھوپھو ۔۔!! مرتضیٰ جسے ہی اندر آیا اپنی گھمبیر آواز میں سب کو متوجہ کیا اپنی طرف ۔۔ سارا پھوپھو تو روتی ہوئی اس سے لپٹ گئی تھی سب کے آنسو نکلنے لگے تھے انکی حالت پر مرتضیٰ کو بہت افسوس ہوا تھا انکی حالت دیکھتے ہوئے حمید صاحب اسے ساتھ لے کر باہر صحن میں آئے ۔۔
” یہ سب کیا ہے بابا یہاں کوئی قانون نہیں کوئی بھی آکے کسی کی بیٹی کو لے جائے گا تو سب ایسے دیکھتے رہ جائیں گے ۔۔!! مرتضیٰ کو رہ رہ کر ان کی سوچ بزدلی پر غصہ آرہا تھا ۔۔
” بس بیٹا کچھ گاؤں کے ایسے حالت ہوتے ہیں جہاں ایسے ہی مجبور انسان پائے جاتے ہیں جن کے اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ان کے جینے مرنے کے فیصلے کوئی اور کر رہا ہوتا ہے ۔۔ خیر یہ سب تو کچھ نہیں ابھی لیکن تم دیر مت کرو جلدی چلو عابیر کو لے آئیں یہاں اگر بیٹی کو صبح تک گھر سے باہر رکھا جائے تو وہ کبھی ویسے سر اٹھا کر نہیں چلتی یا پھر یہ سمجھو لوگ اسے جینے نہیں دیتے بےقصور ہوتے ہوئے بھی چپ کر کے سنتی ہے بس ۔۔!! حمید صاحب بہت افسردہ تھے ان کے علاقہ کے حالات کیسے تھے وہ اچھے سے جانتے تھے بس مرتضیٰ کے لئے یہ سب بہت نیا نظام تھا ۔۔ جسے رہ رہ کر غصہ آرہا تھا ۔۔
” نہیں بابا آپ رکے میں جاؤں گا آپ پھوپھو لوگوں کو سنبھالیں میں ہوں ۔۔!! وہ باپ کے لاکھ کہنے پر انہیں سمجھاتے ہوئے عابیر کے دو کزنز کو لیے نکلا تھا ۔۔
_____
” دیکھ حسینہ تجھے میں نے کتنا ڈھونڈا تھا اور تو آج میرے سامنے پتا تھا تجھے بلانے کے لئے تیرے باپ کو زمین بوس کرنا پڑھتا تو کب کا کردیا ہوتا میری جان ۔۔ اتنا تو مجھے یقین تھا تو ہے گوری چٹی سونڑی ۔۔!! وہ وڈیرہ اسے دیکھتے ہوئے ہوس بھری نظروں سے دیکھتا کہہ رہا تھا عابیر کو اس کے لہجے سے گھن آرہی تھی دل کیا بھاگ جائے یہاں سے یا کوئی مدد کو آجائے اس کے لئے ۔۔ دل میں شدت سے دعا گو ہوئی تھی کہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی ۔۔۔
” وڈیرہ سائیں باہر پولیس آئی ہے ۔۔!! وڈیرہ کا آدمی بھاگتا ہوا آیا اسے باہر پولیس کی خبر دی ۔۔ وہ جو عابیر کے قریب جانے کا ارادہ کر رہا تھا بدمزہ ہوتے ہوئے باہر نکلا ۔۔ وہ جو صبح سے اس خالی کمرے میں قید تھی رو رو کر تھک گئی تھی اب بھوک پیاس سے نڈھال ہو رہی تھی جس وجہ سے چکر آرہے تھے اسے ۔۔
” جی فرمائیں صاحب جی کیا خدمات کی جائے آپ کی ۔۔!! وڈیرہ اپنی بڑی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا بولا ۔۔ مرتضیٰ نے ایک بھر پور نظر اس پر ڈالی جو عمر میں اس سے بھی چند سال بڑا تھا حولیے سے بھی جاہل آوارہ لگ رہا تھا۔
” شکایت ملی ہے تم نے بخش کریم کی بیٹی کو اغوا کیا ہے اسے عزت سے ہمارے حوالے کرو ۔۔؟” مرتضیٰ اپنی بھر پور وجاہت سے بھاری آواز میں بولتا اس کے قریب آ کر سنجیدگی سے بولا وہ تھا بھی پولیس یونیفارم میں ۔۔
” ہاہاہاہا صاحب جی غلط خبر لے کے آئے ہیں جانتے نہیں میں اس علاقہ کا سردار ہوں یہاں کوئی بھی میرے خلاف بولنے کی جرأت نہیں کر سکتا اور آپ تو سیدھا الزام لگا رہے ہیں میں بھلا کیوں اس کی (گالی ) بیٹی کو اٹھاؤں گا ۔۔!! وہ ہنستا خباثت بھرے لہجے میں بولا تھا کہ آخر میں گالی دیتے ہوئے شاید اپنی موت بھول گیا جسے مرتضیٰ کے پنج نے یاد دلا دیا تھا مرتضیٰ کا خون کھول گیا تھا اس کے گالی لفظ پر ۔۔۔
” تو جانتا نہیں مجھے مرتضیٰ حمید کیا چیز ہے تجھ جسے ہزاروں کو دیکھ چکا ہوں تو کیا چیز ہے سالے تیری زبان سے جو یہ گندے لفظ نکلتے ہیں انھیں ہمیشہ کے لئے بند کر سکتا ہوں میں ۔۔۔!! مرتضیٰ غصہ کی شدت میں اسے مارتا گیا جو جو اس کے آدمی بیچ میں آرہے تھے انھیں بھی دھوتا گیا ساتھ ۔۔ عابیر کے کزن منہ کھولے حیرت سے مرتضیٰ کا روپ دیکھ رہے تھے انھیں تو کسی فلم کا ہیرو لگا تھا ۔۔
” سائیں صاحب چھوڑے اگر اسے کچھ ہو گیا تو بڑا مسئلہ ہو جائے گا ہمارے گاؤں کے لئے آپ پوچھیں عابیر کہاں ہے ۔۔!! عابیر کا چچا زاد کزن آگے بڑھتے ہوئے مرتضیٰ کو روکتا اسے سمجھایا ۔۔ مرتضیٰ غصے بھری نظر دیکھتا دور ہوا وڈیرہ کراہتا اندر کی جانب اشارہ دیا مرتضیٰ بھاگتا ہوا اندر پہنچا دیکھا تو وہ کونے میں بیہوش پڑی ہوئی تھی ۔۔ وہ ایک افسوس بھری نظر ڈالتا اسے باہوں میں اٹھا کر باہر لے گیا گاڑی میں بیٹھا کر وہ لوگ وہاں سے نکلے تھے ۔۔ وڈیرہ کو اسکے آدمی ہسپتال لے گئے تھے ۔۔ یہ سب معاملہ دیکھتے ہوئے رات کو پنچایت رکھی تھی ۔۔۔
_______★
” عابیر میری دھی تو ٹھیک ہے ۔۔۔ شکر ہے اللّٰه سائیں کا تو ٹھیک ہے ۔۔۔!! سارا اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے واری جا رہی تھی عزت جو سہی سلامت گھر پہنچی تھی ۔۔۔
” اماں ابا ٹھیک ہے اور میں میں یہاں کیسے آئی ۔۔!! عابیر باپ کی حالت کا پوچھتے حیرت سے خود کو گھر میں دیکھتے پوچھا ۔۔
” اے عابی تجھے پتا ہے تجھے سائیں صاحب کے بڑے بیٹے پولیس والے سائیں نے بچایا اور اس وڈیرہ کو ایسا مارا تو ہوتی وہاں ہوش میں تو سچ میں حیران رہ جاتی ۔۔۔!! اس کے کزن سلیم نے اسے ساری کہانی سنا دی جسے وہ حیرت انگیز ہوئی وہ بھلا اس پر کب مہربان ہوا اسکے لئے یہاں آیا تھا اسے بچایا تھا دل کے ایک کونے میں خوشی کی لہر دوڑ سی گئی تھی ۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ خود کو پرسکون محسوس کر رہی تھی کھانے پینے کی وجہ سے شاید لیکن گھر کا ماحول پریشانی والا تھا باہر محلے والوں کی باتیں الگ سننی پڑ رہی تھیں کے رات کو فیصلہ رکھا گیا تھا وڈیرہ کو مارنے پر گاؤں کی عورت کو اغواء کرنے پر ۔۔
_________★
” بیٹا میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں تو نے میری بیٹی کی عزت بچا لی ۔۔!!
” نہیں بخش کریم یہ اس کا فرض تھا تم ہاتھ مت جوڑو عابیر ہماری بھی کچھ لگتی ہے اتنی پیاری بیٹی ہے ہماری اللّٰه اسکی حفاظت کرے آمین ۔۔!! بخش کریم بہت شکر گزار تھے حمید صاحب اور ان کے بیٹے کے دونوں باپ بیٹے نے ان کو بہت حوصلہ دیا ۔۔
” اب کیوں پریشان ہو کچھ نہیں ہوگا اب سب ٹھیک ہے دیکھنا ۔۔!! حمید صاحب ان کے اداس پریشان چہرہ دیکھتے ہوئے ہمت دی ۔۔۔ مرتضیٰ وہیں بیٹھا ہوا تھا عابیر چائے لیے اندر آئی تھی دونوں نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے نظر چرا گئے تھے شاید حالات ایسے چل رہے تھے اس لئے ۔۔ وہ چائے رکھ کر باہر چلی گئی تھی ۔۔۔
” بس حمید سائیں عابیر کیلئے پریشان ہوں آج رات کو بیٹھ کر فیصلہ کریں گے وڈیرہ کو جو نقصان ہوا ہے وہ بدلے میں میری بیٹی لے گا ۔۔!! بخش کریم کی بات پر مرتضیٰ کو جھٹکا سا لگا یہ بات اسے اچھی نہیں لگی تھی کیوں یہ خود بھی نہیں جانتا تھا لیکن جو بھی تھا عزت کا معاملہ تھا ان کے گھر کا تھا کیسے برداشت کرتا ۔۔
” ایسا فیصلہ کرنے کا حق کسی میں نہیں ہے چچا صاحب آپ کیسے بیٹی کا فیصلہ انھیں کرنے دے سکتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں ایسا کہنے والے ۔۔!! مرتضیٰ غصہ ضبط کرتے بولا تھا ۔۔
” بیٹا آپ گاؤں کے رسم و رواج سے واقف نہیں اس لئے ایسا کہہ سکتے ہیں ہم لوگ یہاں رہتے ہیں یہاں کے فیصلے ہمیں ماننے پڑیں گے ۔۔!! مرتضیٰ کو انکی جہالت پر غصہ آرہا تھا اس لئے عابیر کی زبان اسکا لہجہ ایسا کیوں تھا اب سمجھ آیا اسے ۔۔ اس میں اسکی غلطی نہیں تھی وہ پلی بڑھی ایسے ماحول میں تھی ۔۔
______★
” ارے واہ عابیر تو تو بڑی خوش نصیب ہے تجھے اینا سوہنا شوہر مل رہا ہے ہائے عابی کیا قسمت پائی ہے تو نے دیکھ کتنا سوہنا منڈا تینو ملا ہے ۔۔!! اسکی بہن اور کزن اسے کب سے چھیڑ رہی تھیں۔۔ اسکی قسمت پر رشک کر رہے تھے سب ۔۔ جو سوچوں میں گم تھی ۔۔۔
” اچھا چلو لڑکیوں تم لوگ باہر جاؤ مجھے عابی سے بات کرنی ہے جاؤ ۔۔!! سارا ماں اندر آتے ہی سب کو باہر بھیج دیا اس کے سامنے آئی جو لال جوڑے میں سادہ سی تیار پیاری لگ رہی تھی لیکن پریشان الجھی ہوئی ۔۔
” اماں یہ سب کیا ہو رہا ہے تو ہی خیال کر لے کیا سوچیں گے ماموں سائیں کے گھر والے مامی سائیں کو بھی نہیں پتا یہ صہیح نہیں ہو رہا اور ان سے پوچھا ہے وہ راضی ہے کیا ۔۔!! وہ دھڑکتے دل کے ساتھ خوف زدہ سی بولی تھی انجانی خوشی تھی کہ خوف میں بدل رہی تھی ۔۔
” دیکھ عابی میں جانتی ہوں ہم ان کے قابل نہیں لیکن تو دیکھ یہ سب تیرا نصیب ہے یہی ہونا تھا ہو رہا ہے اسے خوشی خوشی قبول کر لے تیرے ماموں سائیں نے بڑے پیار مان سے تجھے مانگا ہے سب کے سامنے میں انکی سگی بہن نہیں لیکن سگی سے بڑھ کر پیار کرتے ہیں بھائی حمید مجھے تجھے بھی خوش رکھے گے میری بچی (ماموں سائیں نے مانگا ہے اس نے نہیں ماں ۔۔وہ دل میں کہہ سکی ) تو نصیب سمجھ کر دل سے راضی ہو جا اور خوشی خوشی اس رشتے کو نبھانا سب کو خوش رکھنا کبھی لڑ جھگڑ کر واپس ماں باپ کے گھر مت آنا تجھے یہاں سے بھیج رہیں ہے تو حالات جانتی ہے سمجھ رہی ہے میری بات کو ۔۔!! ماں آنسو بہاتے ہوئے اسے اچھے سے سمجھا رہی تھی وہ خالی خالی دماغ لئے حاضر تھی وہاں بس ۔۔۔ پل میں کیا سے کیا ہو گیا تھا ۔۔
_______★
” یہ سب سہی نہیں ہو رہا بابا آپ نے کیوں کیا ایسا ماما کو پتا چلا تو جانتے ہیں کیا قیامت آئے گی اور مجھ سے پوچھا تک نہیں وہاں سب کے سامنے فیصلہ سنا دیا آپ نے ۔۔!! مرتضیٰ کو بے انتہا غصہ تھا اپنے باپ پر جو پوری پنچایت میں فیصلہ سنا آئے تھے عابیر کا نکاح مرتضیٰ سے ہوگا اور آج ابھی ہوگا سب کے سامنے رات وہ اسے لے کر رخصت ہوں گے یہاں سے ۔۔۔۔۔
” تو اور کیا کرتا اپنے گھر کی عزت کو یوں غیروں میں دیتے ۔۔ سارا ہماری سگی نہ سہی لیکن سگی بہن سے بڑھ کر ہے میں نے اماں کو بتا دیا ہے انھیں بھی کوئی اعتراض نہیں تمہاری ماں کو میں سمجھا دوں گا ابھی تم چلو باہر نکاح خواں انتظار کر رہا ہے ہمیں پھر نکلنا بھی ہے ۔۔!! حمید صاحب کے جذباتی فیصلے پر آج وہ اپنی قسمت سے لڑ رہا تھا ۔۔ وہاں ان کے سنائے ہوئے فیصلے پر اس کے باپ کا دل راضی نہیں ہوا تھا ساتھ اس کا بھی لیکن جب باپ جذباتی ہو کر اسے قربانی کا بکرا بنائیں گے تب جی بھر کر ان پر غصہ آیا اسے اور عابیر کا سوچتے ہی مزید غصہ آجاتا تھا ماں بھائی اپنے گھر کی الگ پریشانی تھی کیسے فیس کرے گا وہ سب کو کیا وہ ساری زندگی ایسی جاہل لڑکی ان پڑھی لکھی کے ساتھ جی پائے گا اس کے ساتھ سفر خوبصورت گزرے گا سوچوں سوچوں میں دل پر پتھر رکھتے ہوئے اسے اپنے نکاح میں لے ہی لیا اب آگے کا سفر کیا ہوگا کیسے ہوگا یہ تو آنے والے وقت کو پتا تھا ۔۔ رات دیر سے وہ لوگ نکلے تھے گاڑی میں موت جیسی خاموشی تھی ہر کوئی اپنی اپنی سوچوں سے لڑ رہا تھا ایک دوسرے سے کوئی آگے آنے والے لمحے کا سوچتے گھبرا جاتا تو کوئی کسی کے سامنے سے گریز کر رہا تھا تو کوئی آگے کے سفر کے لئے تیار نہ تھا پر ہونا تو تھا تیار ۔۔
_______★
” مرتضیٰ ۔۔!! وہ جو غصہ میں گاڑی سے نکلتا آگے بڑھ رہا تھا پیچھے حمید صاحب عابیر تھے کہ اسکے تیزی سے بڑھتے قدم حمید صاحب کی آواز پر رکے تھے ۔۔
” جی بابا بولے اب کیا خدمات کروں اس وقت آپ کے حکم پر ۔۔!! وہ جل کر غصہ میں دانت پیستا ہوا بولا تھا حمید صاحب کو اس کے لہجے پر ہنسی آئی پر کنٹرول کر گئے عابیر نے تو حیرت سے اسے دیکھا غصہ میں جھنجھلایا ہوا ۔۔۔
” بیٹا آپ بھول رہیں ہیں کہ آپ ساتھ کوئی قیمتی چیز لائے تھے جسے ایسے ہی چھوڑ کے جا رہے ہیں۔۔!! ان کے سنجیدہ لہجے پر وہ نہ سمجھی سے انھیں دیکھے گیا جسے مطلب ۔۔۔؟
” عابیر بیٹی جاؤ مرتضیٰ کے ساتھ اس کے کمرے میں آج سے وہی آپ کی جگہ ہے کوئی پریشانی ہو تو بھلا جھجھک ہم سے کہنا ۔۔!! حمید صاحب پیچھے مڑتے خاموش کھڑی عابیر سے مخاطب ہوئے اسکا جھکا سر جھٹکے سے سیدھا ہوا وہیں کھڑے مرتضیٰ کو بھی کرنٹ لگا تھا ۔۔
” بابا یہ یہ کیا کہ رہے ہیں یہ سب جلدی نہیں ہو رہا ماما سے پوچھے بغیر آپ اکیلے فیصلے لیتے جا رہے ہیں اور میں مجھ سے کوئی رضا مندی نہیں پوچھ رہے آپ ۔۔؟” وہ شاک سے نکلتا حیرت و غصہ میں بولا تھا ۔۔
” دیکھو بیٹا جو ہونا تھا سو ہو گیا اب یہی تمہاری قسمت ہے جسے جتنا جلدی قبول کرو گے اتنی آسان ہوگی رخصت کر لائے تھے بھاگا کر نہیں ۔۔ تمہاری ماں سے میں بات کر لوں گا تم جاؤ آرام کرو تھک گئے ہو گے ۔۔!! حمید صاحب فیصلہ سنا کر وہ گئے اسکی ایک نہیں سنی ۔۔ مرتضیٰ غصہ میں دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھیچتے آنکھیں بند کرتا ضبط سے گہرا سانس لیا ایک تیکھی نظر اس پر ڈالتا تیزی سے روم میں گیا ۔۔ اور وہ گھبراہٹ سے وہیں کھڑی سوچ رہی تھی کیا کرے جائے یا نہیں لیکن نہ جانے کا مطلب پھر حمید صاحب کے فیصلے سننے پڑتے اور اس کا سوچ کر ہی سانس اٹک رہا تھا کب سے غصہ میں وہ خود پر ضبط کئے ہوئے آرہا تھا یہ بہت اچھے سے جانتی تھی ہمت کرتی آگے بڑھی تھی ۔۔۔۔
_______★
” وش چائے لاؤ ۔۔۔افف میں پھر سے بھول گیا “۔۔ هادیق جب سے آیا تھا وہ ہر بار وش کو آواز دیتا تھا اسے عادت ہوگئی تھی وہاں وش اسکا ہر کام خود کرتی تھی وہ یہاں جب سے آیا تھا اسے وش کی بہت یاد آنے لگی تھی ۔۔۔ اسکا دل اب نہیں لگتا تھا سویرا کے ساتھ وہ جب بھی ملتا تھا وہ تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد پھر سے جھگڑا شروع کر دیتی تھی اسے یاد آیا اس نے ایک بار سویرا سے کہا وہ اسکے لئے كافی بنا دے وہ الٹا اسے چڑ کر کہنے لگی میں نوکر ہوں کیا جو یہ کام کروں اسے اس وقت شدت سے وش کی یاد آئی تھی۔۔۔
” السلام علیکم امی کیسی ہیں آپ ۔۔۔؟”
” وعلیکم السلام زندہ ہوں بس تم تو چھوڑ کے چلے گئے پوچھا تک نہیں ماں کا حال ۔۔!! مسز مصطفیٰ نے دکھ سے کہا وہ آج چار مہینوں بعد بات کر رہا تھا ۔۔
” اور سب خیر ہے باقی سب ٹھیک ہے ۔۔؟” وہ پوچھنا وش کا چاہتا تھا پر شرمندگی سے پوچھ نہیں پایا ۔۔۔
” اچھا اب میں رکھتی ہوں مجھے ہسپتال جانا ہے اپنا خیال رکھنا ۔۔۔”
” کیا ہوا امی آپ ٹھیک تو ہیں نہ ۔۔؟” هادیق پریشان ہوا ۔۔
” ہاں بیٹا میں ٹھیک ہوں وہ وش “
” وش ، وش کو کیا ہوا امی بتائیں ۔۔؟” وہ ماں کی بات کاٹتا پریشانی سے وش کا پوچھ رہا تھا اسکے چہرے پر وش کے لئے فکرمندی دیکھ کر امی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔
” خود آکر دیکھ لو اسے کیا ہوا ہے ۔۔؟” ماں نے بولتے ہی فون بند کردیا هادیق پریشان سا پھر سے کرنے لگا اسے وش لئے بے چینی ہو رہی تھی ۔۔۔
” یار امی پوری بات تو بتا دے میں پردیس میں ہوں یہاں دوسرے شہر میں نہیں کہ بھاگتا ہوا آؤ کچھ تو خیال کریں آپ بتائے سہی سے پریشانی ہو رہی ہے ۔۔؟؟ وہ بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا ۔۔۔
” کچھ نہیں موسم کی وجہ سے سردی لگی ہے بخار تھا اسے اس لئے جا رہے تھے تم خود کیوں نہیں فون کرتے ہوں اسے ۔۔؟” امی پوری بات بتاتے ہوئے آخر میں شکوہ کیا وہ وش کی خاموشی اسکا اکیلا پن محسوس کر سکتی تھی لیکن بیٹے کی غلطی پر خود شرمندہ بھی تھی ۔۔۔
” تھیک ہے آپ لوگ خیال رکھے پھر بات کرو گا اللّٰه حافظ ۔۔!! تھوڑی دل کو تسلی ملتے ہی فون بند کردیا تھا ۔۔ دل بہت چاہتا تھا بات کرنے کا لیکن وہ اپنے خواب یہاں سب ایسے کچھ نہیں چھوڑ کے جا سکتا تھا اس لئے خود کو وش سے دور رکھنے میں ہی بہتری سمجھی تھی ۔۔۔
” اسے تمہاری فکر تھی ۔۔!! مسز مصطفیٰ وش کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو ساتھ کھڑی سب سن چکی تھی ۔۔۔
” انھیں بس اتنی ہی فکر ہوتی ہے ۔۔۔ جب وہ خود مجھ سے بات کریگا تب ہی میں بتاؤ گی آپ پلیز امی ۔۔!! وش ان سے التجا کرتی نظروں سے دیکھتے ہوئے روم میں چلی گی مسز مصطفیٰ کو اس کی حالت پر افسوس ہوا تھا ۔۔
