Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat NovelR50829
Last updated: 29 July 2026
No Download Link
No chapters found.
Woh Munkar e Ishq by Kinz-e-Hayat
”تڑاخ”وہ بلا خوف و خطر زنّاٹے دار تھپڑ اسے رسید کر چکی تھی وہ بھی پورے کالج کے سامنے ۔ ” ہاؤ ڈئیریو”۔ شعلہ بار نظروں سے گھورتے ہمدان آفندی نے غصّہ سے مٹھی بھینچتے کہا۔ ” ہاؤ ڈئیریو؟؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی ہاں”۔ پر تیش لہجے میں کہتی حورین کی آنکھیں بھی غصّہ کی شدت سے سرخ ہو رہی تھی اسکا بس چلتا تو سامنے کھڑے شخص کو تین چار تھپڑ اور جڑ دیتی۔ ” یہ تم نے اچھا نہیں کیا مس حورین غضنفر”۔ وہ دانت پیستا انگلی اسکی طرف کرتے کہہ رہا تھا۔ ” ہاں واقعی اچھا نہیں کیا تم جیسوں کا دماغ تو جوتوں سے ٹھیک کرنا چاہئے تمہں تو میں تھپڑ مارنے کے لئے بھی چھونا پسند نہ کروں میرے سارے ہاتھ گندے ہو گئے ”۔ حورین ازلی لاپروائی سے کہتی اپنے ہاتھ رگڑ کر صاف کرنے لگی۔ ”تمہیں تو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ یاد رکھو گی”۔ وہ قہرآلود نظر اسپے ڈالتا ہاتھ میں پکڑے نوٹس مٹھی میں دبوچتا جا چکا تھا۔ ” کن سوچوں میں بیٹھی ہیں دلہن صاحبہ؟؟ عارش نے اسکے سامنے ہاتھ ہلایا تو وہ ہوش میں آئی تھی۔ ” یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ یہ پورے ایک سال بعد کہاں سے آگیا؟؟ حورین دل میں سوچتی فکر مند ہو رہی تھی۔ ” ہیلو”۔ عارش نے اس بار زور سے چٹکی کاٹی تو حورین ہوش میں آئی۔۔ ”آؤچ۔۔۔دماغ ٹھیک ہے تمہارا پاگل انسان”۔ حوریں نے جل بھن کر عارش کو گھورا۔ ” میرا تو ٹھیک ہے تم ہی حسن کی دیوی بنی ابھی سے کسی کی سوچوں میں گم بیٹھی ہو”۔ عارش نے دانت نکالتے اسے چھیڑا۔ ” عارش۔۔۔ میں۔۔۔وہ۔۔ ” حورین کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے کہے پریشانی اسکے لہجے سے صاف جھلک رہی تھی۔ ” شاباش ہکلانے کے دورے بھی پڑنے لگ گئے گڈ گڈ”۔ عارش تھا باز کیسے رہتا اسے تنگ کرنے سے۔ ” دفع ہو۔۔ میں یہاں اتنی پریشان بیٹھی ہوں اور تم”۔ حورین جھنجھلا کہ رہ گئی۔ ” کیا ہوا پریشان کیوں ہے ہماری بندریا”۔ عارش نے سنجیدگی سے کہا۔ ” بات ہی ایسی ہے عالی قدر آگ کے گولے”۔ حورین نے بھی سنجیدگی سے لیکن تنزیہ جواب دیا۔ ” اچھا بتاؤ کیا بات ہے”۔ اب کی بار معاملے کی سنگینی کو سمجھتے عارش سچ میں سنجیدہ ہوا تھا۔ ” عارش۔۔۔ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی پلیز مجھے اس شخص سے بچا لو کسی طرح”۔ حورین نے التجاء کرتے ہوئے کہا۔ ” ہیں؟؟؟ کیوں آخر ریزن کیا ہے اچھا بھلا تو ہے ہمدان اور فیملی بھی اچھی ہے کوئی معقول وجہ بھی تو ہو”۔ عارش اسکی بات پہ حیران ہوا تھا۔ ” کہیں پھر سے تو میری محبت کا بھوت نہیں سوار ہو گیا تمہارے دماغ پہ”۔ عارش نے حورین کے دل پہ چوٹ کی۔ ”عارش۔۔۔” حورین نے اسے غصے سے گھورا۔ ” ایک بار تم سے بھیک مانگی تھی غلطی ہو گئی تھی مجھ سے بار بار تم جیسے کم ظرف انسان سے بھیک مانگنے والی نہیں ہوں میں وہ بھی اپنی محبت کی لہٰذا اس خوش فہمی سے باہر نکل آؤ”۔ حورین نم ہوتی آنکھوں کو قا بو کرتی سنجیدگی سے کہہ رہی تھی جبکہ اس بار عارش کے دل میں پھانس سی چبھی تھی۔ ” ہمدان سے کیا مسئلہ ہے پھر تمہیں؟؟ عارش سیدھا مدعے پہ آیا۔ ” وہ کالج میں لاسٹ ائیر اسکے ساتھ چھوٹا سا پنگا ہو گیا تھا، وہ مجھے دھمکی دے کر گیا تھا کہ مجھسے ایسے نہیں چھوڑے گا میں تو سب بھول گئی تھی لیکن اچانک سال بعد وہ ایسے واپس آگیا اور میرا رشتہ بھی ہوگیا اس سے دل میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے عارش”۔ حورین تفصیل بتاتی روہانسی ہو گئی تھی۔ ” اچھا تو یہ بات ہے لیکن پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے؟ ایسی باتیں چھپانے کی نہیں ہوتی حور”۔ عارش نے اسے ڈپٹا ہی تو تھا۔” اچھا اب ذیادہ میرے ابا بننے کی ضرورت نہیں ہے مسئلہ کا حل بتاؤ”۔ حورین نے اسکی ڈانٹ پہ کان نا دھرتے ہوئے کہا۔ ” ہممم۔۔۔۔ سوچتے ہیں کچھ”۔ عارش نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے کہا۔
