Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Last Episode)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Last Episode)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
کیا تمہیں اب بھی مجھ سے محبت نہیں ۔۔۔۔۔۔”اس نے امید سے پوچھا ۔
پری نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
ذہن میں ابھی بھی آمنہ شاہ کی باتیں تھیں ۔
جہان کی بےچینی اور محبت اسے اس کے سامنے جھکنے پر مجبور کر رہی تھی ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آہستگی سے بولی تھی ۔
“بولو نہ۔۔۔۔۔۔”جہان نے نرمی سے کہا ۔
“شاہ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔۔
کب میں نے تمہیں سوچنا شروع کیا ۔
کب تمہارے نام پر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری محبت ,تمہارا جنون ,تمہاری دیوانگی۔۔۔۔۔۔۔
“تمہاری ضد ,
مجھے بہت تکلیف دیتی تھی ۔۔۔۔ان سب نے میرا اعتماد ختم کر دیا ۔۔۔۔۔۔تم سب کے سامنے کچھ بھی بول جاتے مگر تمہارے وہ الفاظ مجھے دوسروں کے سامنے شرمندہ کردیتے ۔۔۔۔۔
میں نے اپنی ذات کو کھو دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے بمشکل بول رہی تھی ۔
جبکہ جہان کی آنکھوں میں کرب کی لہر واضح تھی ۔
“حیرت کی بات ہے مجھے اس کے باوجود تم سے محبت ہو گئی ۔
تمہیں سوچنا میرا معمول بن گیا ۔
تمہاری اسٹڈی میں خود کی پکس دیکھ کر مجھے تم سے محبت ہونا شروع ہو گئی .,.,مگر جب تم۔نے خود کو شوٹ کرنے کی دھمکی دی۔۔۔۔۔۔۔اور وہ سب کچھ کیا تو میری تم۔سے محبت کہیں کھو گئی ۔۔۔۔”وہ بول رہی تھی اور جہان کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں ۔
اپنی دیوانگی اور جنون میں وہ پری کا کتنا نقصان کر گیا تھا ۔
اس نے ہچکیاں لیتے وجود کے گرد حصار قائم کیا ۔۔۔۔۔۔
“جب تم۔نے اپنی ڈریسنگ اتاری اور خود کو اذیت دی ۔۔۔۔۔
مجھے بے حد تکلیف ہوئی ۔۔۔مگر کہہ نہ پائی ۔۔۔۔
جب تم نے اپنا ہاتھ آگ پر رکھا جہان مجھے تم سے محبت ہو گئی ۔۔۔۔
میں اس رات بہت روئی ۔۔۔۔۔۔
یہ سوچ کر کہ جب مجھے تھوڑی سے چوٹ پر اتنا درد ہو رہا ہے تم۔۔۔۔۔۔تم ۔نے کیسے برداشت کیا ہو گا ۔۔۔۔
اور پھر میں نے اپنی دعاؤں میں تمہیں مانگنا شروع کیا ۔۔۔
تمہاری ہدایت کے لئے دعائیں کیں۔۔۔۔۔
اور تم۔بدل گئے ۔۔۔۔۔۔۔
جب تم نے مال میں میرے سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا ۔۔۔۔
میرا دل تمہیں پکار رہا تھا ۔۔۔
تمہاری چاہت ,تمہاری شدّتوں کے آگے میں ہار گئی تھی ۔
مگر تمہارے ساتھ رہنا میرے لئے بہت مشکل تھا ۔
میں تمہیں بہت چاہتی ہوں شاہ۔۔۔۔۔۔۔بہت۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے حصار میں گھری بول رہی تھی ۔
اور جہان شاہ سن رہا تھا ۔۔۔۔
خاموش۔۔۔۔۔۔۔
روم میں اس کی ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز تھی ۔۔۔۔
“میں جانتا تھا کہ تمہیں تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
مگر میں اپنی دیوانگی اور جنون کے ہاتھوں مجبور تھا ۔
تمہارا مجھے نظرانداز کر نا مجھے پاگل کر دیتا اور میں ناچاہتے ہوئے بھی تمہیں تکلیف اور درد پہنچا دیتا ۔۔۔۔۔
مگر میرا رب گواہ ہے اگر تم تکلیف میں ہوتی تو میں تم سے زیادہ خود کو تکلیف دیتا تھا ۔۔۔۔۔
میں نے چاہا۔۔۔۔۔
اتنا چاہا کہ ہر حد بھلا دی ۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ میری چاہت میں اضافہ ہوتا گیا ۔۔۔۔
جانتا ہوں بہت نقصان کیا ہے تمہارا مگر میرا وعدہ ہے میری چاہت ان تمام دکھوں کا ازالہ کر دے گی ۔۔۔۔”اس نے شدّت سے کہا ۔
پری نے دھیرے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو آنکھوں میں محبتوں کے دیپ جلائے اسے دیکھ رہا تھا ۔
ناداستگی میں اس کے کتنے قریب آ چکی تھی ۔
اس نے جلدی سے نظریں جھکا کر پیچھے ہونے کی کوشش کی ۔
“کیا اب بھی تم اقرار نہیں کرو گی ۔۔۔۔۔۔”وہ
زخمی نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا بولا ۔
پری نے حیا سے بوجھل نم پلکیں اٹھائیں ۔۔۔۔۔
اسے اتنے قریب دیکھا تو دھڑکن کی آواز اسے سنائی دے رہی تھی ۔
اگر آج وہ اپنی محبت کا اظہار نہ کرتی تو جانتی تھی جہان ٹوٹ کر بکھر جاتا۔۔۔۔
اور وہ اپنے شاہ کو کبھی بکھرتا نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
بےاختیار اس نے اپنی شہادت کی انگلی اس کی پیشانی پر رکھی ۔
جہان ہولے سے مسکرایا ۔
“مجھے تمہاری پیشانی پر گرے بال بہت اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔”پھر
انگلی کو اس کی ناک پر رکھا ۔
”تمہاری مغرور ناک۔۔۔۔۔۔”انگلی سے اس کے ہونٹوں کو چھوا “عنابی لب ۔۔۔۔۔ مجھے جینے کا احساس سکھاتے ہیں ۔
تمہاری نیلی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔
جیسے میری زندگی میں بہار لاتی ہیں ۔۔۔۔۔مجھے تم سے بہت محبت ہے شاہ ۔۔۔۔۔۔
بےانتہا ۔۔۔۔۔”وہ شدت سے بولی تھی ۔
جہان کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ تھی ۔
فاتح مسکراہٹ ۔۔۔۔۔
اسے محسوس ہو رہا تھا گویا آج تمام تکلیفوں کا ازالہ ہو گیا ہو ۔
پری کی پیش قدمی نے اس کی محبت میں اضافہ کر دیا تھا ۔
اس نے محبت سے پری کو دیکھا ۔
اسے یوں دیوانہ وار خود کو تکتے دیکھ کر پری نے شرما کر اس کے سینے میں منہ چھپا لیا ۔
“ایک بات بتاؤں ۔۔۔۔”جہان نے جاندار مسکراہٹ سے اسے کہا ___________
تم نے کبھی سوچا جب میں تمہاری برتھڈے نائٹ آیا تھا تم چیئر پر سو رہی تھی مگر جب صبح اٹھی تو بیڈ پر تھی”جہان شرارت سے بولا ۔
اس کی شرارت سمجھ کر پری مزید شرما گئی ۔
“نہیں ۔۔۔۔۔”جہان کو اس کی ہلکی سی آواز سنی ۔۔۔۔
وہ ہلکا سا ہنسا۔
“چلو میں تمہیں خود بتا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
اس رات میں ایا تو تم چیئر پر بےآرام سو رہی تھی ۔
میں نے تمہیں گود میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹا دیا ۔
پتہ ہے پھر میں نے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرارت سے ہنستا ہوا بولا ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔نہیں بتاؤ۔۔۔۔۔”وہ خفگی سے بولی۔
“میں تو بتاؤں گا ۔۔۔۔
پھر میں نے تم پر سلیپنگ سپرے کیا ۔
اگر تم جاگ جاتی تو میرا سرپرائز خراب ہو جاتا ۔۔۔۔۔
پھر میں نے پتا ہے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔”وہ۔مزید ہنستے ہوئے بولا ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔۔تم نہ بتاؤ پلیز ۔۔۔۔۔
مجھے شرم آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔”پری حیا سے بولی ۔
“اونہوں۔۔۔۔۔۔معلوم ہے مجھے ابھی بھی یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ سب ایک خواب ہے ۔۔۔۔۔۔تم۔میرے اتنے پاس ہو۔۔۔۔۔۔
میرے ساتھ ہو۔۔۔۔
اپنی رضامندی سے ۔۔۔۔۔۔”وہ محبت سے بولا ۔
پری نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
“میں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا تم میرے اتنے پاس ہو گے ۔۔۔۔۔۔”
پری نے کہا ۔
“میں چاہتا ہوں میرا ہردن تمہارے سنگ گزرے ۔
ہم اکھٹے تہجد کی نماز ادا کریں۔۔۔۔۔۔”۔
پھر سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک باکس نکالا اور اسے کھولا ۔
“اندر ایک نازک سا ہیرے کا نیکلس تھا جس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔
“پری نے بےاختیار جہان کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
“اجازت ہے ۔۔۔”اس نے پوچھا ۔
پری نے اثبات میں سر ہلایا۔
جہان نے نیکلس نکال کر اسے پہنایا ۔
“ہمم۔۔۔۔۔۔۔اصل خوبصورت تو اب لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔”وہ معنی خیزی سے بولا ۔
پری نے گھبرا کر سر جھکا لیا ۔
“آؤ تمہیں کچھ دکھاتا ہوں ۔۔۔۔۔”اس نے پری کا حنائی ہاتھ تھام کر اسے بیڈ سے اتارا ۔
دراز قامت الماری کو کھولا ۔
سامنے موجود چیزوں کو دیکھ کر پری حیران رہ گئی ۔
“شاہ۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔۔”وہ حیرانی سے بولی ۔
الماری میں پری کے بچپن سے لے کر اب تک کی ہر وہ چیز تھی جو جہان اس سے یہ کہتے ہوئے چھین لیتا تھا کہ وہ برداشت نہیں کر سکتا پری اس کے علاوہ کسی اور چیز کو توجہ دے۔
پری روتی رہ جاتی مگر وہ اسے نہ دیتا ۔
“آئم ساری۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تم سے یہ سب کچھ چھینا مگر تم سے وابستہ ہر چیز کو سنبھال کر رکھا “وہ نرمی سے بولا ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔مجھے ان سب کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔
میرے لئے تم ان سب سے بڑھ کر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ محبت سے بولی ۔
“کیا تم مجھے ہمیشہ چاہو گی ۔۔۔۔
مجھے کبھی اکیلا تو نہیں چھوڑو گی۔۔۔۔۔۔۔”وہ بچوں سے لہجے میں بولا ۔
پری نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
“کبھی نہیں ۔۔۔۔
میں اپنی آخری سانس تک تمہیں چاہوں گی ۔۔۔۔۔”اپنی محبت کا اقرار کر کے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا جبکہ جہان کھل کر ہنسا ۔
میں بھی تمہیں اتنا چاہوں گا اتنی محبت دوں گا کہ تمہارا دامن تنگ پڑ جائے گا مگر میری شدّتیں کبھی کم نہیں ہوں گی ۔۔۔۔۔”مدھم لہجے میں کہتے ہوئے اس نے پری کے گرد حصار قائم کیا تھا ۔
“لاریب بہت جلد میں بھی تمہیں رخصت کروا کر لے جاؤں گا ۔۔۔۔”میکال نے ہنستے ہوئے کہا ۔
“جبکہ لاریب نے شرما کر چہرہ جھکا لیا ۔
میکال مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“اللّٰہ پاک آپ کا شکریہ آپ نے مجھے اتنا اچھا ساتھی نصیب کیا میں آپکی بہت شکرگزار ہوں ۔۔۔۔”لاریب نے دل میں کہا تھا
“سونیا تم میری کتنی عزت کرتی ہو ۔۔۔۔”علی نے اس سے پوچھا ۔
“پہ کیا سوال ہے ۔۔۔۔”وہ حیرت سے بولی ۔
“بتاؤ نہ۔۔۔۔۔”وہ بضد ہوا ۔
“کرتی ہوں تھوڑی بہت۔۔۔۔۔”وہ شرارت سے بولی۔
“کیا تھوڑی بہت ۔۔۔۔”وہ حیرت زدہ ہوا ۔
“ہاں میرے بندر ۔۔۔۔
عزت کم محبت زیادہ۔۔۔۔۔۔
“شرارت سے کہتی وہ باہر بھاگ گئی ۔
جبکہ علی بندر کہے جانے پر غصے سے اس کے پیچھے بھاگا۔
زمل روم میں آئی تو اننون نمبر سے کال آ رہی تھی ۔
اس نے سیل بند کیا اور سائیڈ پر رکھ دیا ۔
کافی دیر بیل ہوتی رہی جسے وہ غصے سے گھورتی رہی ۔
جب دوبارہ بیل ہوئی تو غصے سے کال اٹینڈ کر کے بولی ۔
“ابے او لوفر,لفنگے کہیں کہ۔۔۔۔۔
شرم نہیں آتی آدھی رات کو کسی کو کال کرتے ہوئے ۔
گھر میں ماں بہن نہیں ہے ۔۔۔۔”کال اٹینڈ کرتے ہی وہ نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔
جبکہ دوسری طرف سالار یہ سن کر حیران رہ گیا اور بمشکل ہنسی ضبط کی۔
“زمل میں سالار بات کر رہا ہوں ۔۔۔”مسکراتی آواز آئی تھی ۔
جسسنے سن کر زملبےطرح شرمندہ ہو۔
“اوہ۔۔۔سوری آپ ہیں مجھے لگا کوئی رانگ نمبر ہے ۔۔۔”وہ پھنسی ہوئی آوآز میں بولی جبکہ دوسری طرف سالار کا دل کر رہا تھا اونچی اونچی قہقہے لگائے ۔
تھوڑی دیر پہلے اسے لفنگا بلانے والی آپ کہہ رہی تھی ۔
“ہمم۔۔۔۔۔ اوکے ۔۔۔۔۔
میں نے بس یہ کہنے کے۔لئے کال۔کی۔ہے آج تم بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ اب تم بھی رخصت ہونے کی تیاری کرو ۔۔۔۔”سالار مسکراتے ہوئے بولا ۔
جسے سن کر زمل گھبراہٹ سے بولی۔۔۔۔۔
“رات بہت ہو گئی ہے آپ سو جائیں ۔۔۔۔۔”جلدی سے کہہ کر وہ کال بند کرنے لگی تھی جب سالار کی دوبارہ آواز آئی ۔
“سو جاؤ ۔۔۔۔
مگر میرے خواب دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔”مسکراتی آواز میں کہا گیا ۔
جسے سن کر زمل نے جلدی سے کال بند کر دی۔
“لوفر کہیں کا۔۔۔۔”زیر لب بولتی ہوئی وہ مسکرانے لگی۔
جبکہ دوسری طرف سالار کھل کر ہنس رہا تھا ۔
“پری تم خوش ہو ۔۔۔۔۔”ولیمے کے بعد جہان اس سے پوچھ رہا تھا جو ڈریسنگ کے آگے بیٹھی جیولری اتار رہی تھی ۔
””بہت۔۔۔۔۔۔۔”مسکراتے ہوئے کہا اور شیشے میں جہان کے عکس کو دیکھنے لگی ۔
نظریں ملنے پر جہان بھرپور مسکرایا ۔
“مجھے ایسے نہیں دیکھو۔۔۔۔۔”شرما کر کہتے ہوئے اس نے جہان کو دیکھا ۔
جہان ہنسا۔
“اگر دیکھا تو کیا کرو گی ۔۔۔۔۔۔”وہ چھیڑتے ہوئے بولا ۔
“تو ۔۔۔۔تو میں ۔۔۔۔۔”۔
“کیا کرو گی۔۔۔۔۔۔”وہ ہنستے ہوئے بولا ۔
جس پر پری نے اسے گھورا ۔
“”تمہیں یاد ہے جب تم نے مجھے ہاسپٹل میں میرے سرتاج کہا تھا تو میں نے تمہیں کہا تھا ایک انعام دوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوبارہ چھیڑتے ہوئے بولا ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔”وہ سرخ لہجے میں بولی ۔
جہان نے دلچسپی سے اس کے سرخ چہرے کو دیکھا ۔۔
“پھر سائیڈ ٹیبل سے ایک اینویلپ نکالا اور اس میں سے کچھ نکال کر پری کو پکڑایا۔
“یہ۔۔۔۔۔شاہ۔۔۔۔۔۔”وہ نم لہجے میں عمرے کے ٹکٹس دیکھ کر بولی ۔
“اونہوں رونا نہیں ۔۔۔۔۔۔
میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا ۔”دھیرے
سے اس نے پری کے آنسو اپنی ہتھیلی پر چنے ۔
“میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے مجھے جہان شاہ عطا کیا ۔۔”نم لہجے میں بولتے ہوئے اس نے جہان کے شانے پر سر رکھا ۔
جہان نے نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں ۔
“پتا ہے میری کتنی خواہش تھی تمہارے بالوں کی خوشبو محسوس کرنے کی ۔۔۔۔”وہ جاندار مسکراہٹ سے بولا ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔۔”پری نے حیا سے اس کی طرف دیکھا ۔
جبکہ جہان کھل کر ہنسا ۔
“کیا تم مجھے انعام نہیں دو گی۔۔۔۔۔۔”شرارت ساتھ کہتے ہوئے پری کو چھیڑا ۔
“تمہارا انعا م یہی ہے کہ تمہیں پارس جہان شاہ ملی۔۔۔۔۔۔”اس کی شرارت سمجھ کر وہ ہنستے ہوئے بولی ۔
“آؤ اپنے رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں اپنی تمام نعمتوں سے نوازا ۔”پری کا ہاتھ تھام کر جہان اپنے رب کے ہاں سربجود ہونے بڑھ گیا ۔
ختم شد![]()
