Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 08)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 08)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
اس سے پہلے کے جہان اس کے پاس پہنچتا وہ تیزی سے کچن سے نکلی اور بھاگتے ہوئے روم میں اینٹر ہو کر لاک لگا لیا ۔
“پری دروا زہ کھولو “جہان فوراً اس کے پیچھے آیا ۔
کئی دفعہ ناک کرنے کے باوجود بھی اس نے نہ کھولا تو جہان غصے سے باہر نکل گیا ۔
وہ غصے سے ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا کہ ایکدم ایک بزرگ اس کی گاڑی کے آگے آنے لگے تھے کہ اس نے فوراً بریک لگائی ۔
وہ گاڑی سے باہر نکلا اور انہیں اٹھایا ۔
“آپ ٹھیک تو ہیں “جہان نے پوچھا ۔
“ہاں بیٹا اللّٰہ کا شکر زیادہ چوٹ نہیں لگی “انہوں نے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا ۔
“آئم سوری میں غصے میں تھا اس وجہ سے ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا “جہان نے نرمی سے کہا ۔
جانے اس بزرگ میں کیا بات تھی کے اس قدر غصے کے باوجود وہ نرمی سے بات کر رہا تھا ۔
“آئیں میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں “جہان نے اصرار کیا تو وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے ۔
“کیا نام ہے بیٹا تمہارا “بزرگ نے پوچھا ۔
“جہان شاہ “۔
“ماشاءاللہ ۔
میں مولوی عبدالرحمن ہوں ۔یہاں پاس ہی مسجد کا امام بھی ہوں “انہوں نے نرمی سے کہا ۔
جہان کے پوچھنے پر انہوں نے مسجد کا بتایا ۔
مسجد کے پاس پہنچنے پر بزرگ نے اصرار کیا کہ وہ اس کے ساتھ چلے ۔
جہان جانا نہیں چاہتا تھا مگر ان کے اتنے اصرار پر گاڑی سے اتر کر ان کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔
مولوی عبدالرحمن کا گھر مسجد کے ساتھ ہی تھا وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور چائے پلوائ ۔
“بیٹا آجاؤ ظہر کا وقت ہو گیا ہے ہم نماز ادا کر لیں پھر تم سے مزید بات ہو گی ۔”انہوں نے نرمی سے کہا ۔
جہان ان کی بات سن کر ان کے ساتھ ہو لیا ۔
وہ انکار کرنا چاہتا تھا مگر جانے کیوں وہ ان کو انکار نہ کر پایا ۔
اس بزرگ کا نورانی چہرہ اور سفید داڑھی ان کے اچھے اخلاق کی گواہی دے رہی تھی ۔
مسجد پہنچنے پر پہلے انہوں نے اذان دی۔
تھوڑی دیر میں کافی لوگ نماز کی ادائیگی کے لئے جمع ہو چکے تھے ۔
جہان اٹھ کر وضو کرنے چلا گیا ۔
“کتنے وقت کی بعد وہ آپنے رب سے ملاقات کر رہا تھا “اس نے بےاختیار سوچا ۔
مولوی عبدالرحمن نے امامت کروانے کے بعد ایک چھوٹا سا خطبہ دینا تھا ۔
اس لئے تمام نمازی ایک گول دائرہ بنا کر بیٹھ گئے ۔
نماز پڑھنے کے بعد جہان کے دل میں عجیب سا احساس جاگا تھا جسے وہ کوئی نام دینے سے قاصر تھا ۔
وہ اپنا سارا غصہ جیسے کہیں غائب ہوتا محسوس کر رہا تھا ۔
دوسرے نمازیوں کی طرح وہ بھی اس دائرے میں بیٹھ گیا ۔
مولوی عبدالرحمن نے بسمہ اللّٰہ پڑھنے کے بعد اپنی پرتاثیر آواز میں بولنا شروع کیا ۔
“آج ہم بات کریں گے ان چیزوں کے بارے میں جو اللّٰہ ربّ العزت نے ہمیں امانت دی ہیں جن میں میں سب سے پہلے ہمارے جسم کے اعضاء ہیں ۔
ہم ڈپریشن میں یا جان کر یا انجانے میں گناہ کرتے ہیں جن میں ایک مثال یہ بھی ہے کہ زمین پر سختی سے چلنا ۔
میرے رب نے ہمیں زمین پر نرمی سے چلنے کا حکم دیا ہے مگر ہم اس کے احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں ۔
ہم لغو باتیں سنتے ہیں ۔
فحش چیزیں دیکھتے ہیں ۔
لغو باتیں کرتے ہیں ۔
مگر ہم یہ جانتے ہوئے بھی کے قیامت کے دںن یہی پاؤں ,کان,آنکھیں اور زبان ہمارے خلاف گواہی دیں گی۔۔
ہمارے انکار کرنے پر یہ اللّٰہ ربّ العزت کو گواہی دیں گے کہ اس انسان نے یہ کام کیا اور تب ہم اس حقیقت کو سمجھیں گے کے ہم نے دنیا میں کیا کیا اور کس کام کے لئے ہمیں اللّٰہ رب العزت نے پیدا کیا ۔
ہم ڈپریشن میں آکر یا کسی دوسرے کو تکلیف میں دیکھ کر خود کو بھی اسی تکلیف سے دوچار کرتے ہیں مگر کیا کبھی یہ سوچا کہ ہم اللّٰہ ربّ العزت کی عطا کردہ امانت میں خیانت کر رہے ہیں جس کے لئے بےحد سخت عذاب کی وعید قرآن مجید میں دی گئی ہے ۔
اللّٰہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس خیانت سے بچنے کی توفیق دے آمین ۔”انہوں نے نرمی و مؤثر انداز میں کہا ۔
سب نے آمین کہا ۔
اور دعا کے بعد چلے گئے ۔
مگر جہان شاہ بیٹھا رہ گیا ۔
آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے مگر وہ بےنیاز تھا ۔
آس کی آنکھوں کے سامنے اس کی زندگی کے سارے واقعات فلم کی طرح چل رہے تھے ۔
وہ آہستگی سے اٹھا اور خاموشی سے باہر نکل گیا ۔
مولوی عبدالرحمن نے گہری نگاہوں سے اسے جاتے دیکھا ۔
وہ شام میں شاہ ہاؤس میں داخل ہوا ۔
مسجد سے نکلنے پر وہ گاڑی میں بیٹھ کر ایک پرسکون پارک میں چلا گیا تھا ۔
وہ کافی دیر گزارنے کے بعد اور ا پنا احتساب کرنے کے بعد وہ خود سے بھی نظریں نہ ملا پا رہا تھا ۔
شاید میرے رب نے مجھے ہدایت دینے کے لئے اس شخص سے ملایا ہے “اس نے بےاختیار سوچا تھا ۔
آج پہلی بار وہ اندر سے بےحد پرسکون تھا ۔
وہ آہستگی سے چلتا ہوا لاؤنج میں اینٹر ہوا ۔
آمنہ شاہ فوراً اس کے پاس گئیں ۔
“جہان بیٹا کہاں تھے تم اتنی دیر سے ۔۔۔”انہوں نے بےچینی سے پوچھا ۔
انہیں بہت پریشانی تھی کہ وہ کچھ غلط نہ کر لے ۔
“یہیں تھا ۔پری نے دروازہ کھولا “۔اس نے نرمی سے پوچھا ۔
آمنہ شاہ اسے اس قدر پرسکون دیکھ کر حیران رہ گئیں ۔
“ہاں تمہارے ڈیڈ نے کہا تھا تو اس نے کھول دیا ۔وہ بہت پریشان تھی تمہارے ردِعمل نے اسے بہت ڈرا دیا تھا “آمنہ شاہ نے بتایا ۔
جہان یہ سن کر شکستگی سے مسکرایا ۔
وہ پری کے پاس جانا چاہتا تھا مگر اسے پہلے خود کو بدلنا تھا ۔
وہ آہستگی سے چلتا ہوا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ۔
آمنہ شاہ نے حیرانی سے اسے جاتے دیکھا ۔
وہ دوبارہ روم سے نہیں نکلا تھا ۔
اگلے دن بارہ بجے وہ روم سے نکلا ۔
آنکھیں ساری رات کے رتجگے سے سرخ ہو گئی تھیں ۔
پری اور زمل یونیورسٹی چلی گئیں تھیں ۔
ان کے پیپرز ہونے والے تھے ۔
جہان نے آمنہ شاہ سے پری کا پوچھا جس پر انہوں نے اسے پری کے یونیورسٹی جانے کا بتایا ۔
“ہمم۔۔۔۔۔۔۔”۔
“جہان بیٹا تمہاری طبیعت کیسی ہے آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں ۔”آمنہ شاہ نے پریشانی سے پوچھا اور اس کی پیشانی کو چھوا جو تپ رہی تھی ۔
“تمہیں تو بخار ہے آرام کرو میں تمہارے لئے ناشتہ منگواتی ہوں”انہوں نے پریشانی سے کہا ۔
“نہیں میں صرف ناشتہ کروں گا مجھے کہیں جانا ہے”جہان نے کہا اور چیئر پر بیٹھ گیا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد اس نے ٹائم دیکھا ۔
“ماما میں جا رہا ہوں پری آئے تو اس کے ہاتھ پر ٹیوب لگا دیجیئے گا “تیزی سے کہتا وہ لاؤنج سے باہر نکل گیا ۔
مسجد میں اینٹر ہوا تو سامنے مولوی عبدالرحمن نظر آئے ۔
انہوں نے گرمجوشی سے جہان کو گلے لگایا اور امامت کے لئے آگے بڑھ گئے ۔
نماز کی ادائیگی کے بعد مولوی عبدالرحمن نے بولنا شروع کیا ۔
“بسمہ اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
آج ہم بات کریں گے اسلام میں والدین کے حقوق کے بارے میں ۔۔۔۔۔
اللّٰہ ربّ العزت نے ہمیں والدین سے محبت و نرمی سے پیش آنے کا حکم دیا ہے ۔
ماں کے قدموں تلے جنت ہے مگر بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس جنت کو خریدتے ہیں ۔
ماں اولاد کے لئے بےحد تکالیف برداشت کرتی ہے اس کی پرورش اور تربیت کرتی ہے ۔
اولاد کی چھوٹی سی تکلیف پر وہ نیند قربان کرتی ہے ۔
باپ جو اس جنت کا دروازہ ہے او لاد کی خواہشات اور بہتری کے لئے محنت کرتا ہے مگر یہی اولاد جوان ہو کر ان کی ان تمام قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہے اور ان سے بدسلوکی کرتی ہے انہیں خود پر بوجھ سمجھتی ہے مگر افسوس وہ ان کی خدمت کر کے جنت نہیں کما پاتی ۔
والدین جن کی طرف صرف محبت سے دیکھنے پر ایک مقبول حج کا ثواب ملتا ہے ۔
سبحان اللہ کیا کسی اور مزہب میں اس قدر والدین کی اہمیت ہے ۔
نہیں ہے یہ صرف اسلام ہی ہے جس میں ہر انسان کو حقوق حاصل ہیں ۔
اولاد کا فرض ہے کے وہ ان سے محبت و نرمی سے پیش آئے ۔
اللّٰہ رب العزت ہمیں ان کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور ان کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔
آمین “۔
سب نے آمین کہا اور مزید مولوی عبدالرحمن سے گفتگو کرنے لگے ۔
جہان خاموشی سے سن رہا تھا اور خود کا موازنہ کر رہا تھا کہ وہ کیسا بیٹا ہے ۔
وہ شکستہ قدموں سے اٹھا اور مسجد سے باہر آ گیا ۔
مولوی عبدالرحمن نے گہری نظروں سے اسے جاتا دیکھا ۔
اسے ایک ہفتہ ہو گیا تھا مولوی عبدالرحمن سے ملتے ہوئے ۔
اس ایک ہفتے میں اس نے اپنے رب کو پہچانا تھا ۔
پری سے شرمندگی کے باعث اس میں اس کے سامنے کی ہمت نہیں تھی ۔
احمد شاہ اور آمنہ شاہ حیران تھے کہ جہان ایکدم کیسے بدل سکتا ہے ۔
جہان نے نمازوں کی پابندی کرنی شروع کردی تھی ۔
وہ بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔
پری کو دیکھے ہوئے کتنے دن ہو گئے تھے ۔
ٹائم دیکھا تو رات کے دس بج رہے تھے ۔
وہ جانتا تھا کہ پری کے پیپرز ہو چکے ہیں اور اب وہ فری تھی اسی وجہ وہ زیادہ وقت گھر سے باہر رہتا تھا ۔
احمد شاہ کا بزنس جوائن کر کے اس نے احمد شاہ کو خوش کر دیا تھا ۔
مگر کیا پری اس سے خوش تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے روم سے نکلا ۔
پری کے روم کا ڈور کھلا ہوا تھا وہ آہستگی سے داخل ہوا ۔
پری جو لیٹی ہوئی تھی جہان کو آتے دیکھ کر فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
جہان آہستگی سے چلتا ہوا اس کے قدموں میں بیٹھ گیا ۔
قطرہ قطرہ نکلتے آنسو پری کے پاؤں کو نم کر رہے تھے ۔
پری سانس روکے جہان کو دیکھ رہی تھی ۔
__________
“شاہ ۔۔۔۔”۔
جہان یوں ہی سر جھکائے بیٹھا رہا ۔
دونوں نفوس بالکل خاموش تھے ۔
کافی ٹائم بعد جہان بولا ۔
“آئم سوری ۔
اس سب کے لیے جو آج تک تمہیں میری وجہ سے تکلیف یا درد ملا ۔
میں اس قابل نہیں کہ تمہارے سامنے سر اٹھا سکوں ۔
میں نہیں جانتا کہ میری وجہ سے کل بھی تمہیں یوں ہی تکلیف ملے گی ۔
میں خود کو بدل رہا ہوں مگر یہ صرف میں جانتا ہوں یا میرا رب کہ خود کو تم سے دور کرنے کی کوشش کس قدر تکلیف دہ ہے ۔
میں جہان شاہ آج تمہیں اس بات کا اختیار دیتا ہوں کہ تم چاہو تو مجھے خود سے الگ کر سکتی ہو ۔
میں فیصلے کا اختیار تمہیں دیتا ہوں ۔
تم جو چاہو گی مجھے منظور ہو گا ۔
مگر میری میرے رب سے دعا ہے کہ وہ تمہارے دل میں میری چاہت ڈال دے ۔
جب تک تم فیصلہ نہیں کرتی میری کوشش ہو گی کہ تمہارے سامنے کم آؤں تا کہ تمہیں اذیت نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔”شکستہ اور نم لہجے میں کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بنا اسے دوبارہ دیکھے روم سے نکل گیا ۔
وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شاید وہ پری کے سامنے ہی ضبط کھو دے گا ۔
پری نے روتے ہوئے اسے جاتے دیکھا ۔
جہان کی شکستگی اسے بےچین کر رہی تھی ۔
وہ خود وجہ جاننے سے قاصر تھی مگر شاید یہ جہان کی دعاؤں کا اثر تھا ۔
روم میں آ کر جہان تڑپ تڑپ کر رو دیا ۔
وضو کرنے کے بعد وہ حاجت کے نوافل ادا کرنے لگا ۔
دعا مانگتے ہوئے اس نے اپنے رب سے مانگنا شروع کیا ۔
“اے میرے رب ,تو رحمن ہے رحیم ہے ۔
اے میرے مولیٰ آپ تو جانتے ہیں میں کس قدر گنہگار ہوں ۔
میں تو اس قابل بھی نہیں کہ آپ سے کچھ مانگ سکوں ۔
مجھے تو مانگنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا مگر میرے رب آپ تو اپنے بندے کا حال جانتے ہیں آپ سے بڑھ کر کوئی اپنا نہیں آپ تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتے ہیں آپ تو ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔
اے میرے رب آپ پلیز پری کے دل میں میرے لئے چاہت ڈال دیجئے ۔
پلیز اللّٰہ پاک ۔۔۔۔۔۔۔”جانے کب تک وہ سجدے کی حالت میں روتے ہوئے دعا کرتا رہا ۔
اگلے دن ناشتے کی ٹیبل پر آیا اور اسلام علیکم کہتے ہوئے چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔
پری سامنے ہی تھی مگر اس نے نے نظریں نہ اٹھائیں ۔
وہ اپنے کہے پر پابند رہنا چاہتا تھا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ خآموشی سے اٹھا اور سالار سے ملنے چلا گیا ۔
احمد شاہ کو اس کی خاموشی سے بےحد وحشت ہوئی ۔
جہان ان کا اکلوتا بیٹا تھا ۔
چاہے وہ جتنا بھی بدتمیز سہی مگر ان کی اولاد تھا جسے وہ بےحد چاہتے تھے ۔
انہوں نے آمنہ شاہ سے استفسار کیا جس پر آمنہ شاہ نے بھی پریشانی کا اظہار کیا ۔
آج احمد شاہ اور موسیٰ شاہ آفس نہیں گئے تھے ۔
سب لاؤنج میں تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔
جہان تیزی سے سیڑھیاں اترتا دکھائی دیا ۔
اسے دیکھ کر احمد شاہ تو کیا پری بھی حیران رہ گئی ۔
سفید کرتا شلوار میں گیلے چہرے کے ساتھ وہ جلدی جلدی نیچے آ رہا تھا ۔
بڑھی ہوئی شیو اسے مزید وجیہہ بنا رہی تھی ۔
جب وہ ان کے پاس سے ہو کر گزرنے لگا تو احمد شاہ نے اسے آواز دی۔
“جی ڈیڈ۔۔۔۔”اس نے نرمی سے پوچھا ۔
آمنہ شاہ دل ہی دل میں اسے دیکھ کر ماشااللہ کہہ رہی تھیں ۔
“کہاں جا رہے ہو برخوردار “۔
“جمعہ کی نماز پڑھنے کیوں خیریت ۔۔۔”اس کے بتانے پر وہاں موجود تمام افراد کو جیسے جھٹکا لگا تھا ۔
ان حیرت کو دیکھ کر حہان کے چہرے پر مضہمل مسکراہٹ آ گئی ۔
احمد شاہ نے نفی میں سر ہلایا پھر بولے ۔
“رکو میں ابھی آیا ساتھ چلتے ہیں ۔”
“جی جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔”۔
اور تھوڑی دیر بعد وہ اور موسیٰ شاہ بھی جہان کے ساتھ جا رہے تھے ۔
آج پہلی بار سب نے احمد شاہ کے چہرے پر سچی خوشی دیکھی تھی ۔
آخر کار اس نے بہت مشکل سے ایک فیصلہ کیا ۔
ڈیڈ میں کچھ دنوں کے لئے اسلامآباد جانا چاہتا ہوں “اس نے نرمی سے اجازت چاہی ۔
احمد شاہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا ۔
“جہان میرے بیٹے خیریت ہے تم مجھے آج کل بہت ڈسٹرب لگ رہے ہو اور یہ تمہاری آنکھوں کے گرد ہلکے تم نیند پوری نہیں کر رہے آج کل ۔۔۔۔”انہوں نہیں پریشانی سے پوچھا ۔
جہان احمد شاہ کی محبت پر مسکرا دیا ۔
اب انہیں کیا بتآتا کہ اس کی تمام راتیں اپنے رب سے پری کو مانگتے گزرتی ہیں ۔
“الحمداللہ میں ٹھیک ہوں ڈیڈ ۔”۔
احمد شاہ نے پریشانی سے اسے دیکھا ۔
“ڈیڈ آئم سوری ۔۔۔۔”جہان نے روتے ہوئے کہا ۔
“جہان میرے بیٹے میں بھی تم سے شرمندہ ہوں ہمیشہ تمہارے ساتھ برا سلوک کیا “انہوں نے بھی نم لہجے میں کہا ۔
اور اٹھ کر جہان کو گلے لگا لیا ۔
