Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Fateh Alam (Episode 13)

Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat

نیلی آنکھوں میں چمک دیدنی تھی ۔

وہ محبت سے پری کو دیکھ رہا تھا ۔

“صرف آج۔۔۔۔۔۔کل تم خود مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولا تھا ۔

پھر اسی خاموشی سے روم سے نکل گیا مگر سارا دھیان اب بھی بند دروازے کے اس پار تھا ۔

؁؁؁؁

“ماما ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔”میکال نے سائرہ شاہ سے کہا ۔

“بولو بیٹا ۔۔۔۔۔”انہوں نے کہا جس پر میکال آہستگی سے کچھ بولا تھا ۔

سائرہ شاہ نے حیرانی سے اسے دیکھا جو اپنی بات مکمل کر کے باہر چلا گیا تھا ۔

؁؁؁؁

“ڈیڈ آپ فارغ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ضروری بات ڈسکس کرنا تھی ۔۔۔۔۔۔”

‘”ہاں آ جاؤ خیریت ہے نہ ۔۔۔۔۔۔”انہوں نے حیرانی سے سامنے کھڑے سنجیدہ جہان کو دیکھا ۔

جہان ان کے سامنے بیٹھ گیا اور آہستگی سے بولا تھا جسے سن کر احمد شاہ کے چہرے پر الجھن آ گئی ۔

انہوں نے پر سوچ انداز میں جہان کو دیکھا جو اپنی بات مکمل کر کے سنجیدگی سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔

“میں آمنہ سے بات کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر دیکھتے ہیں مگر کیا وہ مآن جائے گی ۔۔۔۔”انہوں نے کہا جس پر جہان نے انہیں اس کی رضامندی کا پورا یقین دلایا تھا ۔

“اچھا ابھی سائرہ آئی تھیں اور مجھ سے ایک ضروری بات کہہ کر گئیں ھیں تم بھی مشورہ دو ۔۔۔۔۔”انہوں نے کہا اور جہان غور سے ان کی بات سننے لگا ۔

؁؁؁؁

“لڑکیو یہاں لاونج میں آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔

آج ہو گا شاعری کا مقابلہ ۔۔۔۔۔جو جیتآ اسے مانا جائے گا باس ۔۔۔۔۔۔۔۔”علی نے انتہائی مزاحیہ لہجے میں کہا ۔

سب نے ہنس کر اسے دیکھا جو عب باقاعدہ ماحول بنانے کے لئے کشنز سیٹ کر رہا تھا ۔

اب ایک سائیڈ پر لڑکیاں تھیں اور دوسری سائیڈ پر لڑکے۔۔۔

جبکہ بڑے سائیڈ پر بیٹھے مسکرآ کر انہیں دیکھ رہے تھے ۔

“لڑکوں میں سب سے پہلے علی نے شعر کہا ۔۔۔۔۔

“عرض کیا ہے ۔۔۔

عرض کیا ہے ۔۔۔۔۔

عرض کیا ہے ۔۔۔۔۔”۔

اس کے کئی دفعہ یوں ہی بولنے پر لڑکیوں نے غصے سے اسے گھورا جس پر اس نے بڑی بیچارگی سے سب کو دیکھا کہ سب بےاختیار مسکرا دئيے ۔

“میرا یہ

شعر سونیا کہ نام۔۔۔۔۔۔۔

عرض کیا ہے ۔۔۔۔

تیرے نین نشیلے۔۔۔۔

تیرے نین نشیلے ۔۔۔۔

جیویں چاڑو دے تیلے ۔۔۔”

اس کے یہ کہنے پر پورے لاؤنج میں جیسے قہقہوں کا طوفان آ گیا تھا ۔

سونیا جو پہلے شرما کر علی کو دیکھ رہی تھی اس کا شعر سن کر غصے سے پاگل ہو گئی ۔

پھر غصے سے بولی ۔۔۔۔۔

“دور سے دیکھا تو بندر تھا ۔۔۔

دور سے دیکھا تو بندر تھا ۔۔۔

پاس جا کر دیکھا تو علی تھا ‘”

لڑکیوں نے تالیاں پیٹیں۔۔۔۔۔۔

علی نے خفگی سے اسے دیکھا ۔پھر معصومیت سے بولا ۔

“توبہ لڑکی میں اس قدر خوبصورت اور گھبرو جوان ہوں اور تم نے مجھے بندر کہا ۔۔۔۔

توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے

تم نہ صبح بارات سے پہلے آنکھیں چیک کروا کر آنا ۔۔۔۔۔۔”اس کے بولنے کی دیر تھی کہ سونیا نے غصے سے کشن اس کی طرف پھینکا ۔

جسے اس نے مہارت سے کیچ کیا ۔

“میری طرف سے یہ شعر کسی خاص کو ۔۔۔۔۔۔”سالار

نے معنی خیز نظروں سے زمل کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر صوفے پر بیٹھے جہان نے اسے پیچھے سے ایک لگائی مگر جہان اثر لئے بغیر گویا ہوا ۔۔

“نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلآب سی کی ہے “

اس نے کہا تو لڑکوں نے خوب شور کیا ۔

“اب

بتاؤ یہ کس کے لئے کہا ہے “جہان نے صوفے پر بیٹھ کر اونچی آواز میں پوچھا ۔

سالآر نے بیچارگی سے اسے دیکھا مگر بھول گیا کہ وہ جہان شاہ ہے۔

سب نے جوش سے سالآر کی طرف دیکھا ۔

“میں نے نہیں کہا یہ تو اپنے میر جی نے اپنے محبوب کو کہا ہے “اس نے معصومیت سے کہا جس پر سب نے خوب مزاق اڑایا ۔

لڑکیوں میں سے لاریب بولی ۔۔۔۔

“محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ ڈالتے ہیں جو کمند “

اس کے بولنے پر سب ہنسے ۔

“تمہیں اقبال یاد آ گیا کچھ میری تعریف میں عرض کر دیتی ۔۔۔۔۔۔”میکال نے خفگی سے دیکھا ۔

“ہمیں ہر خو شی غم میں اقبال کو یاد رکھنا چایئے “وہ اسے گھورتے ہوئے بولی ۔

سب نے بےحد انجوائے کیا۔

“اب میکال گویا ہوا ۔۔۔

“رات کو اس قدر رویا تھا ہجرِ یار میں

دس سمندر آٹھ سو نالے اور کئی دریا بہے”

“ہاہاہاہا میں بھی کہوں طوفان کیوں آیا تھا “لاریب نے ہنستے ہوئے اس کا مزاق اڑایا۔

“ہم نے کیا کیا نہ تیرے عشق میں محبوب کیا

صبرِ ایوب کیا ,گریہء یعقوب کیا “

زمل کا متاثر کن لہجہ سب کو حیران کر گیا ۔

“جہان تم بھی کچھ سنا دو ۔۔۔”سالار بولا ۔

” تجھے کس نے کہا کہ انجان بن کر آیا کر

میرے دل کے آئینے میں مہمان بن کر آیا کر

پاگل اک تجھے ہی بخشی ہے یہ دل کی حکومت

یہ تیری سلطنت ہے تو تو سلطان بن کر آیا کر”

واہ واہ۔۔۔۔۔۔

سب نے خوب داد دی ۔

“تصور میں ضرور آؤ مگر تیرنا تو سیکھو

تم اکثر ڈوب جاتے ہو میرے اشکوں کے پانی میں “

میکال کا یہ شعر سب کو حیران کر گیا ۔

“نہ تھیں اورکوئی رنجشیں

صرف عادتوں میں تضاد تھا

اسے پسند تھیں شوخیاں

مجھے سادگی میں کمال تھا “

سونیا کے اس شعر پر سب نے اسے خوب دآد دی ۔

باقی کی رآت بھی انہوں نے یونہی گزاری تھی ۔

؁؁؁؁

“جہان لیٹ ہو رہے ہیں یہ لڑکیاں کہاں ہیں “احمد شاہ جلدی جلدی بولے۔

“تیار ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔”جہان بولا ۔

“اور تم بھی تیار ہو جاؤ کتنا ٹائم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔”جلدی سے کہتے وہ آمنہ شعہ کے پاس چلے گئے ۔

؁؁؁؁

‘”واؤ زمل ہم۔سب کتنے پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔”سونیا نے آئینے میں سب کا عکس دیکھتے ہوئے کہا ۔

بارات کے لئے سب لڑکیوں نے فراکس پہنے تھے ۔

“بالکل پری کو دیکھتے ہیں کب تک آئے گی” سونیا نے کہا ۔

ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک پری کو نہیں دیکھا تھا ۔

نہ ہی ابھی تک کسی نے اس کا ڈریس دیکھا تھا ۔

جہان نے سب کے لئے سرپرائز رکھا تھا ۔

اس لئے سب کو بےصبری سے انتظار تھا ۔

پری پارلر میں تھی جبکہ وہ سب شاہ ہاؤس میں تھیں ۔

پری کے ساتھ صرف زمل تھی ۔

بیوٹیشن کو انہوں نے شاہ ہاؤس بلوایا ہوا تھا ۔

؁؁؁؁

ہال میں ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل تھی ۔

ہال کو بےحد خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ۔

ہال سرخ پھولوں سے جیسے نہایا ہوا تھا ۔

آمنہ شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھمنے میں نہ آ رہی تھی ۔

وہ بار بار اپنی نم آنکھیں صاف کر رہی تھیں ۔

“جہان کہاں ہے ۔۔۔۔۔”آمنہ شاہ نے پوچھا ۔

“وہ روم کی ڈیکوریشن کروا رہا تھا ۔

کہہ رہا تھا بس تھوڑی دیر میں پہنچ جائے گا ۔۔۔۔”احمد شاہ نے بتایا ۔

‘”لڑکیاں آتی ہیں تو آپ ان سے پوچھ لیں ۔۔۔۔”انہوں نے کہا اور موسیٰ شاہ کے پکارنے پر ان کی طرف بڑھ گئے ۔

؁؁؁؁

“ماشاءاللہ جہان تم کتنے خوبصورت اور وجیہہ لگ رہے ہو ۔

آج تو میرے بیٹے کو نظر نہ لگ جائے ۔۔۔۔”آمنہ شاہ نے محبت سے جہان کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔

بلیک پینٹ کوٹ جہان بےحد خوبصورت لگ رہا تھا ۔

نیلی آنکھوں میں جیسے ساری دنیا کی چمک بھر گئی تھی ۔

عنابی ہونٹوں پر کھلتی مسکراہٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔

آمنہ شاہ بار بار اس کی نظر اتار رہی تھیں ۔

اتنے میں سالار کی فیملی آ گئی ۔

آمنہ شاہ ان سے ملنے چلی گئیں ۔

جہان بےصبری سے ہال دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

وہ بار بار دل میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا ۔

لاریب اور سونیا سے صالحہ اور موسی شاہ ان کی رضامندی جان رہے تھے ۔

جبکہ وہ ان کی بات سن کر حیرانی سے کھڑی انہیں دیکھ رہی تھیں ۔

؁؁؁؁

“پری آگئی تھی ۔

اس کے چہرے پر گھونگھٹ تھا ۔

جہان شاہ کا کہنا تھا کہ پری کو دیکھنے کا حق صرف انہیں ہے ۔

جسے سن کر سب نے رشک سے پری کو دیکھا تھا ۔

اسے اینٹر ہوتے دیکھ کر جہان بےاختیار اس کی طرف بڑھا ۔

گولڈن کلر کی میکسی میں پری واقعی پرستان کی پری لگ رہی تھی ۔

زمل اسے سنبھالتے ہوئے لا رہی تھی ۔

سب گیسٹ کھڑے ہو کر انہیں دیکھ رہے تھے ۔

جہان شاہ کی مسکراہٹ ,اس کی آنکھیں , اس کا انداز اسے وہاں موجود تمام مردوں میں ممتاز بنا رہا تھا ۔

سب نے مسکراتے ہوئے اسے پری کی پاس جاتے دیکھا ۔

____________

اس نے آگے بڑھ کر پری کا ہاتھ تھاما اور اسٹیج پر لے گیا ۔

سب نے خوب ہوٹنگ کی ۔

احمد شاہ بھی مسکرا کر جہان کو دیکھ رہے تھے جو اب بہت شان سے پری کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔

آمنہ شاہ آگے بڑھیں اور پری کو پیار کیا اور تھوڑا سا گھونگھٹ اٹھا کر اسے دیکھا ۔

”ماشاء اللّٰہ ۔

آج میری بیٹی سے بڑھ کر کوئی اتنا حسین اور پرکشش نہیں لگ رہا “آمنہ شاہ محبت سے بولیں تو پری نے شرما کر چہرہ جھکا لیا ۔

“ماما دیکھ لیا ہے تو اب گھونگھٹ نیچے کر دیں ۔

ابھی تک تو میں نے بھی نہیں دیکھا ۔

آپ کہیں نظر نہ لگا دیں کچھ میرے حال پر رحم کریں۔”

جہان کے معصومیت سے بولنے پر سب بےاختیار ہنسنے لگے ۔

“جہان تم تو ابھی سے پارس کے غلام بن گئے ہو آگی جا کر جانے کیا ہو گا “سائرہ شاہ نے شرارت سے کہا جس پر جہان بولا ۔۔۔۔

“میں آج سے نہیں پچھلے پندرہ سالوں سے پری کا غلام ہوں

آپ سہی سے جانتی نہیں ہیں نہ “جہان نے بھی شرارت سے کہا تو سب ہنس دئیے ۔

ان کی ایسی باتیں سن کر پری کی پیشانی پر پسینہ آ گیا ۔

جہان نے بڑے آرام سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔

“اوہو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔”سب کے یوں کرنے کے باوجود وہ ڈھٹائی سے مسکراتا رہا ۔

پھر سب لڑکیوں نے باری باری پری کا چہرہ دیکھا ۔

“یہ فاؤل ہے بھئی میں نے ابھی دیکھا نہیں اور تم سب اس شرف سے فیضیاب ہو رہے ہو ۔۔۔۔۔”جہان بےچارگی سے بولا ۔

“تو آپ بھی دیدار کر لیں ۔۔۔۔۔۔”میکال شرارت سے بولا ۔

“اونہوں ۔۔۔۔ابھی نہیں ۔۔۔۔۔۔

صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ متانت سے بولا ۔

ان کی باتیں سن کر پری کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔

آنے والے لمحوں کا سوچ کر اس کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی ۔

اگر شاہ نے میری ساری بےاعتبنائی کا بدلہ لیا تو ۔۔۔۔۔۔۔

وہ کسی کو معاف نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ سوچیں تھیں جو اسے بےپناہ تنگ کر رہی تھیں ۔

سب مل کر اب پری کو تنگ کر رہے تھے ۔

“تمہارے لئے آج ایک بہت بڑا سرپرائیز ہے ۔۔۔۔۔

انتظار کرو ۔۔۔۔۔۔۔”جہان نے سالار کے کان میں آہستگی سے کہا ۔

جسے سن کر سالار نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔

“بتا دو ۔۔۔۔۔۔

پلیز ابھی نہ۔۔۔۔۔

پلیز ۔۔۔۔۔”سالار بےچارگی سے بولا ۔

جہان اس کی طرف دیکھ کر شاہانہ انداز سے مسکرایا پھر بولا ۔۔۔۔۔۔

“ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔۔”۔

اتنے میں جہان کے موبائل پر رنگ ہوئی ۔

وہ فوراً اٹھ کر باہر کی طرف بڑھا ۔

مگر جاتے جاتے آمنہ شاہ کو آنکھ کے اشارے سے کچھ کہا ۔

؁؁؁؁

“زمل تمہیں تائی جان برائیڈل روم میں بلا رہی ہیں ۔”سونیا نے زمل سے کہا تو زمل وہاں سے چلی گئی ۔

جبکہ سونیا اب پری کے پاس بیٹھ گئی تھی ۔

؁؁؁؁

“ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں “زمل نے حیرانی سے کہا ۔

“یہ میرا نہیں سب کا خیال ہے ۔

آج تمہارا اور سالار کا نکآح ہو ۔

سب راضی ہیں بس تمہآری رضامندی جاننی ہے ۔۔۔۔۔”آمنہ شاہ نے محبت سے کہا ۔

“لیکن ماما اتنی جلدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بامشکل بولی ۔

“میری جان آپ سوچ لو ۔۔۔۔۔

ویسے بھی سالار آپ کو پسند کرتا ہے ۔۔۔۔”آمنہ شاہ نے کہا ۔

جبکہ زمل یہ جان حیران رہ گئی ۔

وہ سالار سے ملی ہی کتنی بار تھی کہ سالار اسے پسند کرتا ۔

“ماما جو آپ میرے لئے فیصلہ کریں گی وہ میرے لئے اول ہو گا ۔۔۔۔”زمل نم لہجے میں بولی ۔

آمنہ شاہ نے محبت سے اسے سینے سے لگایا ۔

وہ بھاری قدموں سے باہر آگئی ۔

سالار کا سامنا کرنا اسے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔

آمنہ شاہ نے نم آنکھوں سے اسے باہر جاتے دیکھا اور خود بھی احمد شاہ کو بتانے کے لئیے آگے بڑھ گئیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *