Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Fateh Alam (Episode 11)

Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat

جہان نے آنکھیں کھولیں تو اپنے اردگرد دیکھا جہان بہت سے لوگ کھڑے تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔

جہان کی آنکھیں بھی گیلی ہو چکی تھیں ۔

ان میں سے ایک فرد بولا ۔

“ہم بہت گمراہی میں ہیں بلاشبہ آج آپکی آواز میں ایک تاثیر تھی کے جو ہمارے دل پہ اثر کر گئی اور ہم یوں محسوس کر رہے تھے جیسے کوئی گرد ہمارے دل سے اتر رہی ہو ۔”وہ روتے ہوئے بولا ۔

اتنے میں ایک اور لڑکا بولا ۔

“ہمیں کچھ ایسا بتائیں کہ ہم اپنے رب کے مزید قریب ہو جائیں اور نیکیوں میں سبقت لے جانے والے بنیں “۔

جہان مسکرایا ۔

اس کی مسکراہٹ اس قدر شفاف تھی کہ کئی لوگ اسے دیکھ کر بے اختیار اس کے جیسا بننے کی دعا کرنے لگے ۔

“جنت میں رہنے والے لوگ کئی درجوں میں ہوں گے ۔

کچھ وہ جو سال میں ایک بار اپنے رب کا دیدار کریں گے

۔

کچھ جو مہینے میں ایک بار

کچھ جو ہفتے میں ایک بار اور کچھ وہ جو ہمہ وقت اپنے رب کا دیدار کریں گے ۔

سبحان اللہ

اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنے رب کے کتنے برگزیدہ اور پرہیزگار بندے بنتے ہیں اور کس درجے میں آتے ہیں ۔

ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ اپنے رب کو منا لیں ۔

قیامت والے دن ہم خواہش کریں گے کہ کاش دوبارہ ایک مو قع مل جائے اور ہم نیک اعمال کر لیں ۔”وہ بولتا جا رہا تھا اور سب دم بخود اس کی بات سن رہے تھے ۔

جہان یہ سب بول کر نرمی سے مسکرایا اور باہر کی طرف بڑھ گیا ۔

سالار بھی جیسے اس تاثیر میں اس کے پیچھے گیا تھا ۔

جبکہ جہان شاید سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آج اس کی بدولت کتنے لوگ اپنے رب کی محبت میں گرفتار ہو جائیں گے ۔

سبحان اللہ ۔۔

میرا رب ہمیں صراط مستقیم پر چلائے ۔

آمین ۔

؁؁؁؁

“پری بیٹا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے کیا آپ فری ہو ۔۔۔”احمد شاہ نے پری سے پوچھا جو اپنے روم میں تھی اور کوئی بک پڑ رہی تھی ۔

“جی تایا جان آ جائیں میں فری ہوں “اس نے کہا ۔

“کیا کر رہی تھی میری بیٹی ،۔۔۔”انہوں نے محبت سے پوچھا ۔

“جی میں بک پڑ رہی تھی ۔

خیریت ہے تایا جان۔۔۔”پری نے مسکرا کر جواب دیا ۔

“ہمم ۔۔۔۔۔۔اصل میں مجھے آپ سے جہان کے بارے میں بات کرنی تھی ۔

“ویسے تو آج اگر تمہارے بابا ہوتے تو وہ تم سے پوچھتے مگر میں بھی تمہارا بابا ہوں تو۔۔۔۔”وہ بول رہے تھے کہ پری رونے لگی ۔

“پری بیٹا آپ رو نہیں ۔۔

میں بھی آپ کابابا ہوں ۔

کبھی اپنی بیٹی پر آنچ نہیں آنے دوں گا ۔۔۔۔”انہوں نے محبت سے کہا اور پری کو پیار کیا ۔

“میں یہاں آپ سے یہ کہنے آیا ہوں کہ آپ جان گئی ہو کہ آپ جہان کے نکاح میں ہو تو میں چاہتا ہوں کہ اب باقاعدہ فنکشن کر کے اناؤنسمنٹ کر دیا جائے ۔

جہان کا خیال ہے کہ اب مزید دیر نہیں ہونی چاہئے ۔۔۔

“انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ پری گھبراہٹ سے چہرہ جھکا گئی ۔

“میں جانتا ہوں جہان نے ہمیشہ آپ کو تنگ کیا ہے مگر اب وہ بدل گیا ہے ۔

آپ کیا کہتی ہو ۔

ویسے میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں جہان آپ کو بہت خوش رکھے گا “انہوں نے کہا اور پری کو امید سے دیکھنے لگے ۔

__________

پری نے ان کی طرف دیکھا جو اسے امید سے دیکھ رہے تھے ۔

نظروں کے سامنے جہان آ گیا ۔

وہ تو جہان کے سامنے سے گھبراتی تھی کجا کہ رخصتی ۔۔۔۔۔۔۔

“تایا جان جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔۔۔”وہ مدھم سا بولی ۔

احمد شاہ اس کی رضامندی جان کر خوشی سے مسکرا دئیے ۔

“پری میرا آپ سے وعدہ ہے جہان آپ کو بہت خوش رکھے گا ۔

وہ آپ کو بہت چاہتا ہے ۔

آپ جانتی ہو جس طرح آپ کو تکلیف میں دیکھ کر وہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے ۔

اب وہ بدل گیا ہے ۔

مجھے یقین ہے وہ آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دے گا ۔

اللّٰہ پاک میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے ۔۔۔”انہوں نے محبت سے کہا۔

پری نے حیا سے سر جھکا لیا ۔

احمد شاہ کھل کر ہنسے۔

جبکہ پری مزید خفت کا شکار ہو گئی ۔

؁؁؁؁

“اف پری کتنا مزہ آئے گا ۔۔

ہم خوب انجوائے کریں گے “زمل مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔

“پری کیا تم جہان بھائی سے محبت کرتی ہو ۔۔۔۔”زمل نے شرارت سے پوچھا ۔

جبکہ پری نے حیا سے سر جھکا لیا ۔

جب سے زمل کو پری کی رضامندی کا پتہ چلا تھا اس نے پری کو تنگ کر کے رکھا ہوا تھا ۔

لاریب کو بھی عقل آ گئی تھی ۔

اس نے جہان سے معافی مانگ لی تھی ۔

اب سب پری کے روم میں بیٹھ کر شادی کی پلانگ کر رہے تھے ۔

“پری اب تم مایوں بیٹھو گی اور جہان بھائی تمہیں نہیں دیکھ پائیں گے ۔

واؤ کتنا مزہ آئے گا ۔”

سونیا نے ہنستے ہوئے کہا تو باقی سب بھی ہوٹنگ کرنے لگے ۔

پری کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا ۔

جہان کے نام سے اس کی دھڑکن بےترتیب ہو رہی تھی ۔

آمنہ شاہ نے اسے یوں دیکھا تو فوراً ان سب کو ڈانٹنے لگیں ۔

“خبردار اگر کسی نے میری بیٹی کو تنگ کیا “انہوں نے محبت سے پری کو پیار کرتے ہوئے کہا ۔

جبکہ باقی سب قہقہے لگا کر ہنسنے لگے ۔

“ماما ابھی تو ہم نے کچھ کہا ہی نہیں ۔

کہیں گے تو جہان بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابھی زمل کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ پری نے گھبراہٹ اور غصے سے اسے کشن مارا ۔

زمل نے کوئی اثر نہ لیتے ہوئے جب برابر اسے شرارتی نگاہوں سے دیکھا تو پری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔

زمل فوراً اس کے پاس آئی ۔

“کیا ہوا پری رو کیوں رہی ہو ۔

سوری میں تو بس تمہیں تنگ کر رہی تھی ۔”زمل نے پریشانی سے کہا ۔

پری نے مزید رونا شروع کر دیا ۔

اب وہ کیا بتاتی کے ساری زندگی جس شخص سے چھپتے گزاری ہے اس کے ساتھ رہنا کس قدر مشکل لگ رہا تھا ۔

باقی سب بھی افسردہ ہو گئے ۔

“نہیں ماما پاپا یاد آ رہے ہیں ۔۔۔”وہ روتے ہوئے بولی ۔

سب کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔

“پری بیٹا ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔آپ رو نہیں ۔۔۔”صالحہ شاہ نے بھی اسے پیار سے کہا ۔

ماحول ایکدم سوگوار ہو گیا تھا ۔

؁؁؁؁

جہان کو جب سے پری کی رضامندی کا پتا چلا تھا ۔

دل جیسے خوشی سے پاگل ہو رہا تھا ۔

اس نے سب سے پہلے شکرانے کے نوافل پڑھ کر اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔

جس نے اسے بےحد اور بےپناہ عطا کیا تھا ۔

وہ مسکراتے ہوئے پری کے روم میں گیا ۔

مگر وہاں سب کو براجمان دیکھ کر ہنس دیا ۔

جبکہ زمل اسے دیکھ کر معنی خیزی سے کھنکھاری۔

پری جو صالحہ شاہ کے گلے لگ کر رو رہی تھی ایکدم سیدھی ہوئی ۔

جہان نے پریشانی سے اسے روتے دیکھا ۔

“کیا ہوا ماما پری کیوں رو رہی ہے “اس نے پریشانی سے آمنہ شاہ سے پوچھا ۔

جبکہ پری گھبرا کر زمل کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

“ویسے ہی ۔۔۔۔۔۔

بھائی اصل میں وہ آپ کے ڈر سے رو رہی ہے ۔۔۔۔”زمل نے ماحول خوشگوار بناتے ہوئے کہا ۔

سب ہنس دیئے ۔

جبکہ جہان مسکرا کر پری کو دیکھ رہا تھا جو زمل کے پیچھے چھپی ہوئی تھی ۔

“بھائی اب ہم آپکو پری کو دیکھنے نہیں دیں گے ۔

شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے اب پری مایوں بیٹھے گی ۔۔۔”زمل نے شرارت سے کہا ۔

جبکہ اب جہان کا چہرہ صحیح معنوں میں سنجیدہ ہوا تھا ۔

“زمل تم کیوں مجھ سے چن چن کر بدلے لے رہی ہو ۔

میں نہیں مانوں گا لیکن اگر پری خود کہہ دےتو سوچا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”وہ پری کو دیکتھے ہوئے بےچارگی سے بولا ۔

جبکہ پری تو دعا کر رہی تھی کہ جہان چلا جائے مگر وہ فرصت سے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گیا ۔

اب پری اس کے بالکل سامنے تھی ۔

“ماما۔۔۔۔۔بھائی کو دیکھیں کیسے بیڈ پر بیٹھ گئے ہیں ۔۔۔۔

“زمل ہنستے ہوئے بولی۔

جبکہ پری تو اب صحیح معنوں میں گھبرائی تھی ۔

“زمل پلیز تھوڑا سا میرے آگے ہو جاؤ ۔۔۔۔”وہ زمل کے کانوں میں بےچارگی اور نم لہجے میں منمنائئ۔

زمل مسکراتے ہوئے شرارت سے اس کے سامنے سے ہٹ گئی کہ اب جہان براہ راست اسے دیکھ رہا تھا ۔

اس کا شرمایا لجایا روپ دیکھ کر نظریں اس سے ہٹنے سے انکاری تھیں ۔

حیا سے پری کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔

آنسو بےاختیار اس کے رخسار کو چومنے لگے ۔

جہان جلدی سے آگے بڑھا ۔

کے پری روتے ہوئے کمرے سے باہر بھاگ گئی ۔

“پری۔۔۔۔۔۔پری۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔”سب پریشانی سے اسے آواز دینے لگے۔

جہان جلدی سے اس کے پیچھے گیا جو اسٹڈی میں بیٹھ کر رو رہی تھی ۔

جہان جلدی سے اس کے پاس پہنچا جو ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو رہی تھی ۔

جہان نے پریشانی سے اس کے کانپتے وجود کو دیکھا ۔

“پری۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے پلیز بتاؤ ۔۔۔۔

کیوں رو رہی ہو ۔

تمہارے آنسو مجھے بہت تکلیف دے رہے ہیں ۔۔۔”ؤہ بےچارگی سے اس سے کہہ رہا تھا ۔

جبکہ پری مزید تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی ۔

اتنے میں سب اسٹڈی میں پہنچ گئے تھے اور پری کو چپ کروا رہے تھے ۔

جبکہ جہان اذیت سے اسے روتے دیکھ رہا تھا ۔

زمل اسے حصار میں لے کر اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔

شام تک پری شدید بخار میں پھنک رہی تھی ۔

ہر کوئی اپنی جگہ پریشان تھا ۔

پری کا یہ انداز سب کے لئے اچھنبے کا باعث تھا ۔

؁؁؁؁

جہان شام سے اس کے روم میں تھا ۔

پری کا بخار مزید بڑھتا جا رہا تھا ۔

سب بے حد پریشان تھے ۔

ڈاکٹر نے اسے انجکشن لگا کر میڈیسن دینے کا کہا تھا ۔

آدھی رات کا وقت تھا جب پری بخار کی شدت سے بےہوشی میں بول رہیں تھی ۔

جہان جو اس کے پاس ہی بیٹھا تھا وہ فوراً اس کے پاس ہوا ۔

اس نے سب کو ریسٹ کرنے کا بولا تھا اور خود پری کے روم میں ٹھہر گیا تھا ۔

“پری کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔”وہ جلدی سے اس سے بولا جو جو بےہوشی میں میں بول رہی تھی ۔۔۔۔۔

“شاہ۔۔۔۔۔۔”وہ بمشکل بولی تھی ۔

“پری کیا ہوا ہے کچھ چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔آخر کیا ہوا ہے جو تم اتنا روئی ہو ۔۔۔”جہان تکلیف سے بولا ۔

“شاہ میرے لئے ۔۔۔۔۔یہ سب بہت ۔۔۔مشکل ہے ۔

تمہارا سامنا کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے ۔

تمہیں دیکھتے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں سوچتے ہی۔۔۔۔۔مجھے بہت عجیب فیل ہوتا ہے ۔۔۔۔

میرا دل قابو میں نہیں رہتا ۔۔۔۔۔

میں تمہارے ساتھ کیسے رہوں گی ۔۔۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے نیم بےہوشی میں بول رہی تھی ۔

جبکہ جہان یہ سن کر گہری سانس بھر کر رہ گیا ۔

وہ پری کا مسئلہ سمجھ گیا تھا ۔

وہ اس کا سامنا کرنے سے گھبراتی تھی مگر اب ایکدم جہان کے ساتھ رہنا اس کے لئے بہت مشکل تھا ۔

وہ جس قدر معصوم اور پاکیزہ تھی اس کے۔لئے یہ سب فطری تھا ۔

اس نے پریشانی سے اس کے ماتھے پر بوسہ لیا اور مدھم۔سا مسکرا دیا ۔

___________

مایوں اسپیشل 😘

❤
❤
❤
❤
❤

“ماما پری کیسی ہے “زمل نے پوچھا ۔

‘”بخار تھوڑا کم ہوا ہے ۔ شاہ اس کے پاس تھا ۔

ابھی اپنے روم میں گیا ہے “آمنہ شاہ نے بتایا ۔

“ماما فنکشن میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور پری کو بخار ہے پتا نہیں اسے کیا ہوا ہے “زمل نے پریشانی سے کہا ۔

“شاید اسے اپنے پیرنٹس یاد آ رہے ہوں ۔”

آمنہ شاہ نے پریشانی سے کہا ۔

“ہمم ۔۔۔۔۔۔۔ میں اسے دیکھ کر آتی ہوں آج تو صبا اور ماموں لوگوں نے بھی ملائیشیا سے آ جانا ہے “زمل نے ایکسائٹمنٹ سے کہا ۔

“ماما سب کب تک آ جائیں گے “زمل نے دوبارہ پوچھا ۔

‘”شام سات بجے آ جانا ہے اور آج سے شاپنگ شروع کر دو “آمنہ شاہ نے کہا ۔

جبکہ زمل سر ہلاتی پری کے روم کی طرف بڑھ گئی ۔

؁؁؁؁

“زمل پری کا بخار کم ہوا ۔۔'”جہان نے پوچھا ۔

“جی بھائی اب کم ہے آپ کہاں جارہے ہیں ۔

ہم نے شاپنگ پہ جانا ہے ۔۔۔۔”زمل نے کہا ۔

“میں ظہر کی نماز پڑھ آؤں پھر چلی جانا ۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے لاؤنج سے باہر چلا گیا ۔

؁؁؁؁

“زمل تم نے تو آج کھپا کہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔”سونیا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔

“اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میرے اکلوتے بھائی کی شادی ہے ۔۔۔۔۔

میں ڈھیر ساری شاپنگ تو کروں گی “زمل نے مسکراتے ہوئے کہا اور شاپنگ دیکھنے لگی ۔

وہ سب اس وقت پری کے روم میں تھیں جو لیٹی ہوئی تھی ۔

“پری یہ کیسا ہے ۔۔۔۔۔یہ میں مایوں کے لئے لائی ہوں ۔”زمل

نے شرارہ دکھاتے ہوئے کہا ۔

“میں نے سونیا اور لاریب نے بالکل ایک جیسا لیا ہے ۔۔۔”۔

پری نے مسکرا کر دیکھا ۔

“بہت پیارے ہیں یہ سب۔”۔

“تمہیں

پتا ہے تمہارا مایوں اور مہندی کا ڈریس بھائی نے خود پسند کیا ہے ۔

اتنے پیارے ہیں دونوں ۔۔۔۔اور انہوں نے تو بارات اور ولیمے کے ڈریسز بھی لئے ہوئے ہیں ۔

لندن سے لے کر آئے تھے ۔”زمل نے مسکراتے ہوئے کہا اور شرارت سے اسے دیکھنے لگی ۔

پری نے سر جھکا لیا تو وہ سب ہنسنے لگیں ۔

“جہان کو اپنی محبت پر پورا یقین تھا نہ۔۔۔۔۔۔۔”لاریب نے بھی شرارت سے کہا ۔

“ماموں لؤگ کب آئیں گے ۔۔۔۔۔

آج ہم ڈھولکی رکھتے ہیں ۔”زمل نے تآئیدی نظروں سے سونیا اور لاریب کو دیکھا ۔

جبکہ پری اب لیٹ کر اپنے چہرے پر بلینکٹ ڈال چکی تھی ۔

“جبکہ وہ سب ڈانس کی تیاری کے لئے سونگ سلیکٹ کرنے لگیں ۔

؁؁؁؁

“ماموں کیسے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔”زمل نے سب سے ملتے ہوئے کہا ۔

“میں بالکل ٹھیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سبحان

شاہ نے کہا ۔

جبکہ زمل اب اپنی خالہ سائرہ شاہ سے مل رہی تھی ۔

آمنہ شاہ بھی نم آنکھوں سے بھائی بہن سے مل رہی تھیں جو ملائیشیا میں رہائش پزیر تھے ۔

وہ سب اس وقت لاؤنج میں تھے ۔

جب جہان وہاں آیا ۔

“ماشاءاللہ ہمارا شاہ کتنا خوبصورت ہو گیا ہے “صوبیہ شاہ جو جہان کی مامی تھیں انہوں نے کہا تو باقی سب نے بھی تائید کی ۔

جہان ہنس دیا اور میکال اور علی سے بات کرنے لگا ۔

میکال سبحان شاہ کا جبکہ علی سائرہ شاہ کا بیٹا تھا ۔

جبکہ زمل ,سونیا اور لاریب صبا ,ثمن اور عائشہ سے باتیں کر رہی تھیں ۔

“آمنہ ,پری کہاں ہے بھئی دلہن تو غائب ہے ۔۔۔۔”سائرہ شاہنے ہنستے ہوئے کہا تو باقی سب بھی ہنس دئیے ۔

میکال اور علی نے شرارت سے جہان کو دیکھا ۔

“پری کو ٹمپریچر ہے اس لئے وہ سو رہی ہے ۔۔۔۔آمنہ شاہ نے کہا ۔

اسی وقت جہان کے موبائل پر رنگ ہوئی ۔

“بس اب جناب دلہا بن رہے ہیں ہمیں کہاں یاد کریں گے ۔۔۔۔۔”کال اٹینڈکرنے پر سالار کی خفگی بھری آواز آئی ۔

“جہان ہنسا۔

“”تو آپ آ جائیں نہ ۔۔۔۔۔

میں انتظار کر رہا ہوں آجاؤ ۔۔۔۔”جہان نے کہا اور کال بند کر دی ۔

“ماما ہم سب پری کے روم میں جا رہے ہیں ۔۔۔”لاریب نے صالحہ شاہ سے کہا اور وہ سب پری کے روم کی طرف بڑھ گئیں ۔

جبکہ باقی سب باتیں کر نے لگے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *