Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Fateh Alam (Episode 12)

Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat

وہ لوگ پری کے روم میں آئے تو پری جاگ رہی تھی ۔

سب سے ملنے کے بعد پری اٹھ کر شاور لینے چلی گئی ۔

جب وہ شاور لے کر آئی تو باقی سب بھی اس کے روم میں جمع تھے ۔

سب نے پری کو پیار کیا ۔

جبکہ سائرہ شاہ رشک سے پری کو دیکھ رہی تھیں ۔

نہانے کی وجہ سے بال گیلے تھے اور چہرے پر پانی کی ہلکی ہلکی بوندیں تھیں ۔

لمبے بال اس کی پشت پر بکھرے ہوئے تھے ۔

بخار کی وجہ سے ہلکی سی نقاہت تھی ۔

وہ بیڈ پر بیٹھ گئی جب زمل اور لاریب نے ڈانس پریکٹس شروع کر دی۔

مرد حضرات لاؤنج میں محفل ڈالے بیٹھے تھے ۔

سالار بھی آ گیا تھا ۔

جبکہ روم میں سب بیٹھے ہوئے تھے ۔

باقی سب بھی اٹھ کر لاؤنج میں چلے گئے ۔

مہمانوں کی وجہ سے شاہ ہاؤس میں خوب رونق تھی ۔

زمل کی زبان رکنے میں نہ آ رہی تھی اور وقفے وقفے سے وہ پری کو باقی سب کے ساتھ مل کر تنگ کر رہی تھی ۔

جس پر پری حیا سے چہرہ جھکا لیتی ۔

وہ جانتی بھی نہ تھی کہ وہ نیم بیہوشی میں جہان کو سب کچھ بتا چکی ہے ۔

؁؁؁؁

سب لڑکیاں پری کے روم کے باہر پہرہ دے رہی تھیں ۔

آج پری کی مایوں تھی ۔

اور وہ سب جہان کو پری کے روم میں آنے سے روک رہی تھیں ۔

جس پر جہان جھنجلا جاتا ۔

اس نے کل سے پری کو نہ دیکھا تھا ۔

شاہ ہاؤس مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ۔

موسیٰ شاہ کے سسرال سے بھی سب آ گئے تھے ۔

بیوٹیشنز کو شاہ ہاؤس میں بلوا لیا گیا تھا ۔

لان میں مایوں کے فنکشن کے لئے ہر طرف لا،ٹنگ کی ہوئی تھی ۔

سٹیج پر ہر طرف گیندے ,گلاب اور چنبیلی کے پھول تھے ۔

شاہ ہاؤس کے اکلوتے وارث کی آج مایوں تھی آخر خوشی کیوں نہ ہوتی ۔

جہان نے سیاہ شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی ۔

باقی سب لڑکوں نے سفید شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اور گلے میں پیلے دوپٹے لپیٹے ہوئے تھے ۔

سیاہ لباس میں جہان بےحد وجیہہ لگ رہا تھا ۔

نیلی آنکھوں میں چمک دیدنی تھی ۔

آمنہ شاہ بار بآر جہان کی نظر اتار رہی تھیں ۔

سب لڑکیاں تیار ہو رہی تھیں جبکہ پری اپنے روم میں چینج کر رہی تھی ۔

جہان نے اس کے لئے پیلا اور گرین کمبینیشن کا شرارہ لیا تھا

۔

پھولوں کے ہار گجرے پہنے وہ بے حد نروس تھی ۔

اوپر سب نے اسے تنگ کر کر کے اسے پریشان کر رکھا تھا ۔

آمنہ شاہ بار بار اسے پیار کرتیں ۔

آکر کار اسے سب سرخ زرتا دوپٹے میں لے کر آئے ۔

اس کا چہرہ گھونگٹ میں چھپایا ہوا تھا ۔

زمل کا خیال تھا جہان اسے رخصتی سے پہلے نہ دیکھے۔

اسے بٹھا کر زمل نے جہان کو بھی پکڑ کر اس کے ساتھ بٹھا دیا تھا ۔

پری شروم و حیا سے کانپ رہی تھی ۔

جہان کے بیٹھتے ہی اس نے سر مزید جھکا لیا ۔

گھونگٹ میں ہوتے ہوئے بھی جہان اس کے احساسات اور چہرے کے رنگ پڑھ سکتا تھا ۔

سب نے انہیں ابٹن لگانا شروع کیا ۔

“بھائی اب آپ پری کو ابٹن لگائیں “زمل نے شرارت سے کہا ۔

پری یہ سن کر گھبرا گئی ۔

جہان نے دلچسپی سے سنا اور ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگھٹ اٹھایا کہ کسی اور کو پری کا چہرہ نظر نہ آیا ۔

حیا سے سرخ ہوتا چہرہ کانپتے ہونٹ جہان کو پاگل کر رہے تھے ۔

اس کا سوگوار حسن جہان کے لیے تھا ۔

جہان نہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر ابٹن لگایا ۔

پری نے آنکھیں میچ رکھیں تھیں ۔

جب سونیا نے کہا ۔

“اب پری جہان کو لگائے گی ۔۔۔۔۔۔”سب نے ہوٹنگ کرنا شروع کر دی۔

جہان نے پری کو کانپتے دیکھا تو ہاتھ بڑھا کر اس کا کانپتا ہآتھ تھاما اور ابٹن لگا کر اپنے چہرے پر لگایا ۔

پری کے ٹھنڈے ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے باقی سب نے قہقہے لگانے شروع کر دئیے ۔

بھائی اب پری کو کچھ ڈیڈیکیٹ کریں ۔

جہان مسکرایا ۔

پھر بولا ۔۔۔

“مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیح محبت ہے

جو آجائے تیسرا دانہ یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

متعین وقت ہوتا ہے محبت کی نمازوں کا

ادا جن کی۔نکل جائے قضا بھی چھوٹ جاتی ہے

محبت کی نمازوں میں امامت ایک کو سونپیں

اسے تکنے اسے تکنے سے نیت ٹوٹ جاتی ہے

لفظ محبت ہے توحید پر قائم

نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ہے “

اس کا جزبات سے بھاری لہجہ پری کے اوسان خطا کر رہا تھا ۔

_____________

“واہ بھائی کیا کہنے ۔۔۔۔۔

آپ کتنی محبت کرتے ہیں پری سے ۔۔۔۔۔۔۔۔

“زمل نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب ہنس دئيے ۔

سالار نے بھی مسکرا کر زمل کو دیکھا ۔

“‘اچھا ا ب ہم ڈانس کریں گے”لڑکیوں نے کہا اور سونگ لگوانے لگے ۔

لڑکیوں کو بازی لے جاتا دیکھ کر لڑکے بھی میدان میں کود پڑے ۔

میکال اور علی کو ڈانس نہیں آتا تھا مگر لڑکیوں سے ہارنا انہیں گوارہ نہ تھا اس لئے وہ پوری کوشش کر رہے تھے مگر ان کا ڈانس دیکھ کر سب لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔

مگر وہ ان سب سے بےپرواہ یوں مگن تھے گویا زندگی موت کا مسئلہ ہو ۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد ڈانس کے لئے پیئر بنائے گئے ۔

میکال اور لاریب۔۔۔۔۔

سونیا اور علی ۔۔۔۔۔۔

زمل اور سالار کا پیئر بنا ۔

سالار کی تو مسکراہٹ ہی جدا نہ ہو رہی تھی ۔

اسے خوشی سے بےحال ہوتا دیکھ کر جہان نے بامشکل اپنے بلند قہقہوں کو روکا۔

جبکہ زمل ان تمام باتوں سے بےبہرہ تھی ۔

مگر سالار کی آنکھوں کی چمک اس کے دیکھنے کا انداز اسے نروس کر رہا تھا ۔

آخر ڈانس شروع ہوا ۔

اب ڈانس کا کمپیٹیشن سٹارٹ ہوا ۔

سب سے پہلے لاریب اور میکال نے ڈانس کیا ۔

میکال کو ڈانس نہیں آتا تھا اس لئے بامشکل لاریب کا ساتھ دے رہا تھا ۔

اسی کوشش میں اس کا پاؤں مڑا اور دھم نیچے گرا ۔

سب لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے ۔

خود لاریب بھی زمین پر بیٹھی ہنس رہی تھی ۔

میکال نے اسے دیکھا ۔

مگر یہ بےاختیاری نظر واپس آنے سے انکاری ہو گئی تھی ۔

لاریب نے چونک کر اس کے چہرے پر آنے والے ایک الگ تاثر کو دیکھا ۔

اور نظریں جھکا کر اسٹیج سے اتر گئی ۔

یہ جانے بغیر کے میکال کی گہری نگاہیں اس کے پیچھے تھیں ۔

اگلی باری سونیا اور علی کی۔تھی ۔

علی کی تھوڑی بہت کوشش سے دونوں نے ڈانس کیا تھا ۔

جو لاریب اور زمل۔سے بہتر تھا ۔

سب نے تالیوں سے داد دی تھی ۔

اب باری تھی سالار اور زمل کی ۔۔۔۔۔۔

سالار کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوشی کے۔مارے چہرہ پرجوش تھا ۔

دونوں نے نہایت مہارت سے چانس کیا ۔

زمل با مشکل اس کا ساتھ دے رہی تھی ۔۔

سالارکی لو دیتی نظریں اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی تھیں ۔

سب سے بہتر ڈانس کپل سالار اور زمل کو قرار دیا گیا ۔

ایکدم جہان اٹھا ۔

“میرے ہوتے ہوئے کوئی اور جیت جائے ایسا ممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے کہنے پر سب نے اسے حیرت سے دیکھا ۔

“جہان نہیں یار تیری شادی ہے ۔۔۔۔۔۔تو ڈانس نہ کر اب تو میں منر ہوں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔'”سالار نے منمناتے ہوئے کہا ۔

وہ جانتا تھا جہان کتنا اچھا ڈانس کرتا ہے ۔

جہان زور سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔

پری نے بامشکل خود پر ضبط کیا ۔

دل تو کر رہا تھا جہان کا منہ بند کر دے ۔۔۔۔

“وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور پری کی طرف ہاتھ بڑھایا جو گھونگھٹ میں تھی ۔

اس نے نفی میں سر ہلایا ۔

“مجھے ڈانس نہیں آتا ۔۔۔۔۔'”وہ بامشکل بولی ۔

‘”پری جھوٹ مت بولو ۔۔۔۔۔۔۔

یونی کے فنکشن میں ہم نے کپل ڈانس کیا تھا ۔۔۔۔۔”زمل نے ایکدم شرارت سے کہا تو سب ہنس دیئے ۔

پری نے گھونگھٹ کے۔پیچھے اسے گھورا ۔

سب کے سامنے اسے عجیب شرمندگی ہو رہی تھی ۔

جہآن نے خود ہی اس کا ہآتھ پکڑا اور آگے بڑھا ۔

اور خود کہہ کر انگلش سونگ پلے کروایا ۔

جہان نے نہایت مہارت سے اس کے ساتھ ڈانس شروع کیا ۔

وہ اس قدر عمدگی کے ساتھ قدم اٹھا رہا تھا کہ سب اسے داد دے رہے تھے ۔

اس کے سٹیپس میں ایک مہارت تھی ۔۔۔۔۔اور ایسی سحر انگیزی تھی جس نے پری کو بھی اپنے حصار میں لے لیا تھا ۔

جہان نے مسکرا کر اسے دیکھا جو سرجھکائے اس کا ساتھ دے رہی تھی ۔

گھونگھٹ میں ہونے کے باوجود اس کے چہرے کے تاثرات جہان سے چھپے ہوئے نہ تھے ۔

آخر ان کا ڈانس ختم ہونے پر سب نے بےحد داد دی ۔

جہان اسے مہارت سے سنبھالتا واپس لایا تھا ۔

سب نے بےحد ہوٹنگ کی جسے جہان نے بےحد انجوائے کیا ۔

البتہ پری حیا سے چہرہ نہ اٹھا رہی تھی ۔

آخر کار ونر جہان اور پری کو قرار دیا گیا ۔

جہان نہ شرارت سے سالآر کو دیکھا جو جہان کو خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا ۔

آخر کار رات کے تین بجے سب نے ساری رسمیں ختم کی تھیں ۔

پری بےحد تھک چکی تھی اس لئے زمل اسے روم میں لے آئی ۔

جبکہ باقی سب کا رتجگے کا پلین تھا اس لئے سب لاؤنج میں جمع ہو گئے جہاں محفل دیر تک جمی تھی ۔

؁؁؁؁

آج مہندی تھی ۔

ہرطرف افراتفری کا عالم تھا ۔

“جہان کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔”آمنہ شاہ نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا جو پری۔کے روم۔کی طرف جا رہا تھا ۔

“میں یہاں سے بس گزر رہا تھا تو سوچا ۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نےبالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔

“ہاں سوچا ذرا پری کو بھی دیکھ لوں ۔

میں تمہاری ماں ہوں ۔۔۔۔۔

بہت اچھے سے تمہیں جانتی ہوں ۔۔۔۔۔”انہوں نے اسے گھورتے ہوئے کہا ۔

جواب میں وہ زور سے ہنسا ۔

“خبردار اگر رخصتی سے پہلے پری کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔”انہوں نے وارننگ دی ۔

جہان نے اثبات میں سر ہلایا ۔

مگر آنکھوں میں ایک مخصوص چمک تھی ۔

وہ پراسراریت سے مسکرایا ۔

“جلدی کرو جا کر چینج کرو ۔۔۔۔۔۔۔فنکشن سٹارٹ ہونے لگا ہے اور تم۔ویسے ہی گھوم رہے ہو ۔”انہوں نے مسکرا کر کہا اور سائرہ شاہ کے پکارنے پر باہر بڑھ گئیں ۔

جہان نے مسکرا کر بند دروازے کو دیکھا جہاں پری تیار ہو رہی تھی اور ویسے ہی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اپنے روم۔کی طرف بڑھ گیا ۔

؁؁؁؁

“لڑکیو جلدی کرو ۔۔۔۔۔۔”میکال نے جلدی سے کہا ۔

اور خود باہر مڑ گیا ۔

آج سب نے لہنگے پہنے تھے۔

“میں دیکھتی ہوں پری کو تیار کر دیا یا نہیں ۔۔۔۔۔”سونیا جلدی سے باہر نکلی اور پری کے روم کی طرف بڑھی جہان بیوٹیشن اسے تیار کر رہی تھی ۔

“روم۔میں اینٹر ہو کر اس نے جلدی سے پری کو دیکھا تو نظریں ٹھٹک گئیں ۔

یلو اور گرین کمبینیشن کے خوبصورت لہنگے میں پری بےانتہا معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی ۔

گلابی ہونٹ ,ستواں ناک ۔۔۔۔ہیزل براؤن آنکھیں ۔۔۔۔۔صبیح پیشانی اس وقت شرم و حیا سے گلابی ہو رہی تھی ۔

“پری۔تم۔کتنی خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔

کاش میں ایک لڑکا ہوتی تو تم سے شادی کر لیتی ۔۔۔۔۔”سونیا نے رشک سے کہا ۔

جسے سن کر پری نے ایک نظر اسے دیکھنے کے۔بعد چہرہ موڑ لیا ۔

“ہاں پھر پتا ہے کیا ہوتا ۔۔۔۔

تم بھائی کے۔ہاتھوں شہید ہو جاتی ۔۔۔۔۔”اندر آتی زمل نے شرارت سے اسے کہا ۔

تو سونیا نے اسے گھورا ۔

“پری میری جان ماشاءاللہ کتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔

آج تو شاہ بھائی کی خیر نہیں کیوں سونیا ۔۔۔۔۔”اس نے تائیدی نظروں سے سونیا کو دیکھا ۔

سونیا نے اثبات میں سر ہلایا ۔

جبکہ پری نے اسے غصے سے گھورا۔

“زمل تم۔میرے ساتھ رہنا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”پری نے منتی لہجے میں کہا ۔

جس پر دونوں نے شرارت سے اسے دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا مگر آنکھوں میں شرارت واضح تھی ۔

“پری مہندی کا رنگ کتنا گہرا آیا ہے بھئی ثابت ہو گیا ہمارا شاہ تمہیں کتنا چاہتا ہے ۔۔۔”اندر آتیں سائرہ شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو پری کا چہرہ مزید سرخ ہو گیا ۔

بھئی پری کا گھونگھٹ نکال دو باہر سے آرڈر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔

کہ ان۔کے سوا کوئی اور پری کو نہ دیکھے۔۔۔”سائرہ شاہ نے شگفتگی سے کہا تو سب ہنسی دئیے ۔

مہندی کا فنکشن بھی انہی شرارتوں میں گزرا ۔

سب کے ذومعنی فقرے پری کو سرخ کر دیتے وہاں جہان مسکرا کر انہیں کچھ ایسا کہتا کے سب ہنس دیتے جو بڑی مہارت سے پری کا دفاع کر رہا تھا ۔

آخر کار رات کو جا کر فنکشن ختم ہوا ۔

پری بےحد تھک چکی تھی ۔

اس لئے روم میں آتے ہی وہ بغیر چینج کئے بیڈ پر بیٹھ گئی ۔

“زمل میرے سر میں پین ہو رہی ہے مجھے میڈیسن بھیج دو۔۔۔۔۔۔”پری۔ نے جاتی ہوئی زمل کو کہا ۔

جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور باہر نکل گئی ۔

روم۔میں پری اکیلی تھی جب آہستگی سے روم کا ڈور اوپن ہوا ۔

وہ ویسے ہی لیٹی لیٹی سو گئی تھی ۔

لیمپ کے۔مدھم۔روشنی میں اس کا چہرہ جگمگا رہا تھا ۔

جہان نے دلچسپی سے اسے دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کر چہرے سے بال ہٹائے ۔

“شاہ کو اس کی پری سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا “وہ مدھم سا بولا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *