Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Fateh Alam (Episode 02)

Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat

فنکشن سٹارٹ ہو چکا تھا ۔ احمد شاہ اور موسیٰ شاہ کی فیملی آ چکی تھی ۔ کچھ مہمان آ چکے تھے اور کچھ آ رہے تھے ۔ پورا شاہہاؤس سجا ہوا تھا ۔ ہر چیز اس قدر اعلیٰ تھی کہ شاہ ہاؤس کے مکینوں کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت دے رہی تھی ۔

“زمل تیار ہو گئی بیٹا جاؤ جلدی پری کو دیکھو وہ تیار ہوئی یا نہیں “آمنہ شاہ نے جلدی جلدی زمل سے سے کہا اور مہمانوں سے ملنے چلی گئيں ۔

سونیا اور لاریب بھی تیار ہو کر نیچے آگئیں تھیں ۔

زمل جلدی جلدی پری کے کمرے میں گئی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی ۔ پری ریڈ باربی ڈریس میں اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ اس کی نظریں نہ ہٹ رہی تھیں ۔ لائٹ براؤن بال کھلے ہوئے تھے ۔ چہرہ کسی بھی قسم کے میک اپ سے بے نیاز تھا ۔ گلابی ہونٹ ستواں ناک ۔

شاید جہان بھائی صحیح پری کے لیے جنونی ہیں ۔ اسی وقت آمنہ شاہ کمرے میں داخل ہوئیں مگر اس کا ڈریس دیکھ کر وہیں کھڑی رہ گئیں ۔؁؁؁؁

“جہان پلیز سمجھنے کی کوشش کر بہت سخت سیکیورٹی ہے ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں “سالار نے آخری بار اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس کی یہ نصیحت بے سود گئی ۔ اور اس نے چہرے کو رومال لپیٹا اور گاڑی سے اتر کر آگے بڑھ گیا ۔

؁؁؁؁

“پری یہ ڈریس ,,,,,,,,,,,”, آمنہ شاہ نے کہا ۔

“اوہو ماما آپ کی چوائس اس قدر اعلیٰ ۔ اف ۔۔۔۔۔۔۔ اتنا خوبصورت فراک ۔۔۔۔۔دیکھیں پری باربی لگ رہی ہے “زمل نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

پری بھی یہ سن کر مسکرا رہی تھی ۔

“لیکن میں نے تو یہ ڈریس نہیں لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے آپ کے لیے پنک گاؤن منگوایا تھا آج کے فنکشن کے لیے ۔۔۔۔۔۔”آمنہ شاہ کو سمجھ نہیں آپ رہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔

؁؁؁

وہ گاڑی سے اترا ہی تھا جب سالار نے اسے آواز دی ۔

“رکو جہان بس ایک بات بتا دو “سالار نے معصوم لہجہ بنا کر پوچھا ۔

جہان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔

“جہان کیا تم پارس کو بیہوش کرو گے “اس نے پوچھا ۔

جہان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔

“کیسے ۔۔۔۔۔مطلب کہ سپرے سے یا رومال سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سالار نے حیرانی سے پوچھا کیونکہ نہ تو جہان کے پاس سپرے تھا اور نہ ہی رومال۔

“اونہوں “اس نے مسکراتے ہوئے نہ میں سر ہلایا ۔

“میں سے کسی سپرے یا رومال سے بیہوش نہيں کروں گا ۔ اس نے مسکراتے ہوئے سالار کی سوالیہ نگاہوں کی طرف دیکھا اور دوبارہ بولا

“کیونکہ وہ مجھے دیکھتے ہی بیہوش ہو جائے گی ۔

اس کا جواب سن کر سالار قہقہے لگانے لگا ۔ بہت کوشش کے باوجود ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔

جہان ویسے ہی مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا ۔

ایکدم اس کے موبائل پر رنگ ہوئی ۔ اس نے جلدی سے کال اٹینڈ کی ۔ “سر ہم نے بیک سائیڈ کے سارے کیمرے آف کروا دئیے ہیں ” ۔

“اوکے “اس نے اتنا کہہ کر موبائل بند کر دیا اور سالار کو دیکھا جو ابھی تک پاگلوں کی طرح ہنسی رہا تھا ۔

؁؁؁

“کیا مطلب تائی جان آپ نے یہی ڈریس میرے لئے رکھوایا تھا کل ۔ میں اور زمل اسی ڈریس کو دیکھ کر گئے تھے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ یہ وہ ڈریس نہیں ۔۔۔۔۔۔تو یہ کہاں سے آیا اور کس نے یہاں رکھا “اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔

آمنہ شاہ نے آگے بڑھ کر الماری کھولی تو ایک خوبصورت پنک گاؤن نکالا ۔” میں نے یہ ڈریس آپ کے لیے منگوایا تھا “۔ پریشانی ان کے چہرے پر نمایاں تھی ۔

“ماما مجھے سمجھ آگئی کہ یہ ڈریس کہاں سے آیا ۔ “زمل نے کہا ۔ جس پر پری اور آمنہ شاہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔

“آپ نے یہ ڈریس کل دوپہر کو منگوایا تھا اور یہاں رکھوا دیا اس کے بعد اگر رات کو جہان بھائی آئے تھے تو یہ ڈریس یقیناً وہی رکھ کر گئے ہیں کیونکہ رات کو پری نے نائٹ ڈریس نہیں پہنا اور یونہی سو گئی تھی اور صبح ہم نے دیکھا تو یہ ڈریس تھا جس سے ہم سمجھے کے آپ نے پری کے لئے یہ ڈریس منگوایا ہے “زمل نہیں ساری بات کا پتا لگاتے ہوئے کہا ۔

جس پر آمنہ شاہ اور پری بےطرح پریشان ہوئے ۔ پری کو تو یہ سوچ کر ہی کچھ ہو رہا تھا کہ وہ جہان کے دئیے ڈریس میں ہے ۔

“میں ابھی چینج کر کے آتی ہوں “اس نے جلدی سے کہا مگر آمنہ شاہ نے منع کر دیا کہ پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے اور تمام گیسٹ بھی آپ گئے ہیں ۔

زمل نے بھی ہاں میں سر ہلایا کہ اب واقعی چینج کا ٹائم نہيں ہے ۔

اسی وقت لاریب اورسونیا روم میں اینٹر ہوئیں مگر پری کو دیکھ کر حیران رہ گئیں جو بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔

بلاشبہ شاہ خاندان کی تمام لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں مگر جو بات ,اٹریکشن پری میں تھی وہ کسی اور میں نہ تھی ۔ شاہ ہاؤس کا ہر فرد ہی اس سے بہت محبت کرتا تھا مگر پورے خاندان میں ایک فرد تھا جسے اس سے شدید نفرت تھی اور اس کی اس قدر خوبصورتی سے نفرت کرتی تھی لاریب شاہ ۔

اب بھی اسے اس قدر خوبصورت لگتا دیکھ کر حسد کی آگ میں جل رہی تھی ۔

“تائی جان ,تایا جان کہہ رہے ہیں جلدی آ جائیں کافی ٹائم ہو گیا ہے “سونیا نے مسکراتے ہوئے کہا اور پری کو کہنے لگی کہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے ۔ آمنہ

شاہ کے کہنے پر وہ سب نیچے بڑھ گئیں ۔

؁؁؁

جہان نے افسوس سے سالار کو ہنستا دیکھا اور آگے بڑھ گیا ۔ شاہ ہاؤس کی بیک سائیڈ پہ گیا جہاں گارڈز نہیں تھے مگر سیکیورٹی کیمرے تھے جو اس کے حکم پر اس کے لوگوں نے بڑی ہوشیاری سے بند کر دئیے تھے ۔ وہ اطمینان سے چلتا ہوا آگے بڑھا اور دیوار پھلانگی اور بیک سائیڈ کے طویل لان میں اینٹر ہو گیا ۔ چہرے پر ہنوز رومال تھا صرف نیلی آنکھیں نظر آپ رہی تھیں جو چمک رہی تھیں اور یہ چمک صرف اس وقت آتی تھی جب وہ پری سے ملتا تھا ورنہ ہر ایک کے لیے اس کی آنکھوں میں سرد تاثر ہوتا تھا چاہے والے اس کی خود کی فیملی ہی کیوں نہ ہو ۔

وہ چلتا ہوا اپنے پورشن میں آیا ۔ سارا پورشن خالی تھا کیونکہ تمام گیسٹ نیچے لان میں تھے جہاں پری کیک کاٹ رہی تھی ۔ وہ چلتا ہوا پری کے روم میں اینٹر ہوا ۔ پری کا روم ٹیرس کے سامنے تھا جہاں سے سامنے کا وسیع لان نظر آتا تھا ۔ وہ چلتا ہوا ونڈو کے پاس آیا اور پردے کے پیچھے سے دیکھنے لگا ۔ پری کیک کاٹ رہی تھی اور اس نے وہی باربی ڈریس پہنا ہوا تھا جو جہان رکھ کر گیا تھا ۔

اس کے چہرے پر پر اسرار مسکراہٹ تھی ۔ وہ اتنی دور سے بھی دیکھ سکتا تھا کہ وہاں موجود تمام لوگوں کی نظروں کا مرکز صرف پری ہی تھی ۔ اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی ۔

اس نے غصے سے ایک نمبر ملایا “ہاں اسے اوپر بھیجو اور کہنااس کی فرینڈ کی کال ہے اور اگر کسی کو حقیقت پتا چلی تو تم ایسی جگہ چلی جاؤ گی جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا “اس نے وارننگ دیتے لہجے میں کہا اور موبائل بند کر دیا ۔

پراسرار مسکراہٹ اس کے چہرے پر رقصاں تھی ۔ اس نے رومال اتار دیا اور نیچے دیکھا جہاں ان کی خاندانی ملازمہ پری کو کچھ کہہ رہی تھی ۔ جس پر پری اوپر اپنے کمرے میں آ رہی تھی ۔ ایکدم وہ کمرے میں داخل ہوئی مگر سامنے کھڑے جہان کو دیکھ کر وہیں کھڑی رہ گئی ۔

________

“شاہ “اس کے منہ سے بےاختیار نکلا ۔

“ہاں جان جہان ,کیسا لگا میرا سرپرائز “اس نے پراسرار مسکراہٹ سے کہا ۔

نظریں تو اسے دیکھتے ہی بے قابو ہو رہی تھیں ۔ اس کی آنکھوں میں اس قدر حیرت اور ڈر اسے مزید پاگل کر رہے تھے ۔

ڈر کے مارے وہ کانپنے لگ گئی تھی ۔ آنسو بےاختیار پلکوں سے نکلے تھے ۔

جہان نے ایک نظر اسے یوں دیکھا ۔ اس کی ہیزل براؤن آنکھوں سے نکلتے آنسو اسے کس قدر تکلیف دے رہے تھے یہ صرف وہی جانتا تھا ۔

وہ جیسے بے اختیاری میں قدم قدم چلتا اس کے پاس پہنچا اور اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔

اسے اس قدر قریب پا کر وہ اپنے حواس کھونے لگی ۔

قریب تھا کہ وہ بے ہوش ہو کر نیچے گرتی ,جہان جو اس کی رگ رگ سے واقف تھا اسے یوں حواس کھوتا دیکھ کر اسے اپنے مضبوط بازؤوں میں سنبھال لیا گویا وہ کانچ کی گڑیا ہو جو ٹوٹ جائے گی اور اسے بیڈ پر لٹا دیا ۔

اسے اس حال میں دیکھ کر جہان کا دل کر رہا تھا شاہ ہاؤس کو آگ لگا دے ۔ جس کے مکینوں نے اس کی پری کے دل میں اس کے خلاف اس قدر نفرت اور ڈر بٹھا دیا تھا ۔

آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پہ اپنے جلتے ہونٹ رکھ دئیے۔ اس کے موبائل پر رنگ ہوئی ۔ “جہان آجاؤ کافی ٹائم ہو گیا ہے “سالار نے کہا ۔

“ہاں آ رہا ہوں “اتنا کہہ کر اس نے موبائل بند کر دیا ۔

پری کے اوپر بلینکٹ ڈالا اور لائٹ آف کر دی ۔

؁؁؁

“ماما آپ نے پری کو دیکھا “زمل نے آمنہ شاہ سے پوچھا ۔

نہیں کافی ٹائم ہو گیا سب گیسٹ بھی اس کا پوچھ رہے ہیں ۔

“بیگم صاحبہ پری بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں “۔ رضیہ جو ان کی خاندانی ملازمہ تھی اس نے بتایا ۔

“میں دیکھتی ہوں “زمل نے کہا اور پری کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔

؁؁؁

“جہان سب ٹھیک ہے نہ ؟”سالار نے پوچھا کیونکہ جب سے جہان آیا تھا اس کے چہرے پر سردمہری تھی ۔

“نہیں “اس نے دوٹوک جواب دیا اور خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا ۔

گاڑی میں کافی دیر خاموشی چھائی رہی ۔ اس سکوت کو جہان کی آواز نے توڑا۔

“میری کل شام لندن کی ٹکٹ کروا دو”۔

سالار نے اسے ایک نظر دیکھا اور باہر دیکھنے لگا ۔

گاڑی میں ایک بار خاموشی چھا چکی تھی ۔

؁؁؁

“پری “زمل نے اسے آواز دی۔

پورے کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور لائٹ بھی بند تھی ۔ اس نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی کہ پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔

پری بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ “پری”اس نے ہاتھ بڑھایا ۔

اس کا چہرہ سرد تھا اور سانس بھی آہستہ آہستہ لے رہی تھی ۔

“پری ” مگر وہ ویسے ہی بےسدہ لیٹی رہی ۔

وہ بھاگتی ہوئی نیچے گئی ۔

“ماما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جلدی آئیں پری کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ۔

وہ چیختے ہوئے پکار رہی تھی ۔

احمد شاہ اور موسیٰ شاہ جو مہمانوں کو رخصت کر کے لان میں بزنس کی بات کر رہے تھے زمل کی آواز پر بھاگتے ہوئے اوپر آئے ۔ پری کا یہ حال دیکھا تو حیران رہ گئے ۔

موسیٰ شاہ نے بھاگ کے خود گاڑی نکالی اور احمد شاہ نے پری کو بازوؤں میں اٹھایا اور جلدی سے اسے گاڑی میں بٹھایا اور ہاسپٹل لے گئے ۔ آمنہ شاہ اور صالحہ شاہ جلدی جلدی ڈرائیور کے ساتھ ان کے پیچھے روانہ ہوئیں تھیں ۔

؁؁؁

“ڈاکٹر کیا ہوا ہے پارس کو ۔۔۔۔”احمد شاہ تیزی سے ڈاکٹر کے پاس آئے جو ابھی ابھی پری کو چیک کر کے روم سے باہر نکلے تھے ۔

“انہوں نے بہت زیادہ سٹریس لیا ہے اور ڈر کر بے ہوش ہو گئی ہیں ۔ ہم نے انجیکشن لگا دیا ہے انشاءاللہ صبح تک ڈسچارج کر دیں گے آپ ٹینشن نہ لیں ‘”ڈاکٹر نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔

انہوں نے آگے بڑھ کر اسے دیکھا وہ ابھی تک اسی ڈریس میں تھی ۔

کچھ دیر قبل سب کچھ ٹھیک تھا اور اب ایکدم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔

وہاں موجود ہر فرد حیران و پریشان تھا کہ آخر وجہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کے ذہن میں کچھ کلک ہوا ۔ انہوں نے ایک نمبر ملایا ۔

“مجھے آج کے فنکشن کی ساری فوٹیج بھیجو ۔ فوراً ۔۔۔۔۔ ۔ “انہوں نے دوٹوک کہا اور فون بند کر دیا ۔

آمنہ شاہ اور صالحہ شاہ تسبیح کررہی تھیں ۔

؁؁؁

وہ غصے سے کمرے میں چکر لگا رہا تھا ۔

پری کی آنکھوں میں اپنے لیے اس قدر نفرت دیکھ کر اس کا دل کر رہا تھا پوری دنیا کو آگ لگا دے۔

سالار خاموشی سے سائیڈ پہ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔

چلتے چلتے اس نے گلاس ونڈو پر اس قدر زور سے مکا مارا کہ کئی کانچ کے ٹکڑے اس کے ہاتھ میں چبھ گئے ۔ خون نکل نکل کر قالین پر گر رہا تھا مگر اسے جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا ۔ وہ بار بار یہی عمل دہرا رہا تھا ۔

سالار جلدی سے بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔

“جہان پاگل ہو گئے ہو کیا ۔ کیا کر رہے ہو ۔ “وہ اسے وہاں سے کھینچتا ہوا بولا ۔ اس وقت وہ سالار کو وہ دیوانہ لگ رہا تھا ۔ “ہاں ہو گیا ہوں پاگل میں ۔۔۔”وہ چیخا۔

اسی وقت جہان کے موبائل پر رنگ ہوئی ۔ اس نے جلدی سے خون نکلتے ہاتھ سے کال اٹینڈ کی مگر دوسری طرف سے جو خبر ملی اسے سن کر جیسے اس کے جسم سے جان نکل گئی تھی ۔

___________

“جہان کیا ہوا ہے ,کس کی کال تھی “سالار نے جہان کا یہ حال دیکھ کر فوراً پوچھا ۔

اسے جیسے کچھ سنا ہی نہیں تھا ۔

بارہا ایسا ہوا تھا مگر ہر بار اسے یوں لگتا کہ اس تکلیف میں شدت بڑھتی جا رہی ہے ۔

اسے پری کا جنون تھا ,عشق تھا یا اس کا دیوانہ تھا وہ نہیں جانتا تھا مگر اس کی تکلیف اسے خود کو محسوس ہوتی تھی ۔

اب بھی اس کی خبر سن کر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے جسم سے جان نکل گئی ہو ۔

وہ تیورا کر نیچے گرا اور چیخ چیخ کر رونے لگا ۔

سالار خود حیران کھڑا تھا کہ وہ جہان جسے وہ جانتا ہے اس قدر کمزور نہيں ہے ۔

اسے یوں روتے دیکھ کر اس کی خود کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔ وہ جان گیا کہ یقیناً پارس کے بارے میں کوئی خبر تھی ۔

وہ جلدی سے بھاگ کر فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور اس کے ہاتھ کی پٹی کرنے لگا ۔ جہان یوں ہی رو رہا تھا ۔

اسے اپنے ہاتھ کا درد بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔

شاید دل کا درد اس سے کئی گنا زیادہ تھا ۔

سالار نے جلدی جلدی کانچ نکال کر پٹی کی ۔ اور اسے سینے لگا لیا ۔

“جہان سنبھالو خود کو , پلیز۔۔۔۔۔”۔

“کسی کو میرے درد کی پروا نہیں ہے ۔ میں روز مرتا ہوں روز جیتا ہوں ۔ میں مر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔قطرہ قطرہ ۔۔۔۔۔۔۔

چوٹ اسے لگتی ہے تکلیف مجھے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔

میں یوں ہی کسی دن مر جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اس کے لئے بہت کمزور دل ہوں ۔۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے بے ربط جملے بول رہا تھا ۔

سالار نے پہلی بار اسے یوں ٹوٹ کر بکھرتے دیکھا تھا ۔

ایک پچیس سالہ مضبوط مرد آج یوں بچوں کی طرح رو رہا تھا کسی لڑکی کے لئے ۔۔

سالار کو بےساختہ پارس پر رشک آیا ۔

“ہوا کیا ہے ۔۔۔۔مجھے بتاؤ جہان “اس نے پیار سے پوچھا ۔

جس پر جہان نے اسے آہستہ آہستہ سب بتایا ۔

“اب اور نہيں ۔۔۔۔۔۔میں واپس آ گیا ہوں ۔ میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ میری زندگی سے مزید کھیلے ۔ ” ایکدم اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

“تم پارس کو دیکھنے جاؤ گے “سالار نے بےساختہ پوچھا ۔

جہان نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو مجھ میں اتنی نہیں کہ اسے اس حال میں دیکھوں ۔

ایک بار پھر وہ وہی جہان بن چکا تھا بے رحم ,سنگدل ,سخت دل۔ اس کی آنکھوں میں وہی مخصوص سرد تاثر پھیل چکا تھا ۔

“میری کل کی ٹکٹ کروا دو کیونکہ مجھے واپس آکر بہت حساب چکانے ہیں ۔ “وہ سرد آواز میں کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔

سالار یوں ہی کھڑا اس کے لہجے کی مضبوطی پر غور کر رہا تھا ۔ وہ اس کا دوست تھا اس کے دل کی حالت سے واقف تھا ۔

جہان کو اس کی ضرورت تھی یہ سوچ کر وہ اس کے پیچھے جلدی سے گیا مبادا وہ پھر اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا لے ۔

؁؁؁

“سر میں نے ساری فوٹیج دیکھ لی ہے مگر بیک سائیڈ کی کچھ فوٹیج مسنگ ہے ۔ “خاور جو احمد شاہ کا پرسنل پی۔اے تھا اس نے بتایا ۔

اس کی بات سن کر احمد شاہ کو بے حد غصہ آیا ۔

“مجھے آدھے گھنٹے میں ساری انفرمیشن چاہیے “انہوں نے غصے سے کہا ۔

“جی سر “خاور نے جلدی سے کہا اور فوراً اٹھ کر کسی کو کال کرنے لگا ۔

وہ جانتا تھا کہ احمد شاہ غصے کے بے حد تیز ہیں اور یہاں تو پھر معاملہ ان کی عزیز از جان بھتیجی کا تھا ۔

؁؁؁

“ہم پارس کو ڈسچارج کر رہے ہیں مگر خیال رہے وہ کوئی سٹریس نہ لیں اور نہ ہی ان سے ایسی کوئی بات کی جائے ورنہ ان کی کسی بھی کنڈیشن کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے “ڈاکٹر فراز نے کہا ۔

اس

وقت احمد شاہ اور موسیٰ شاہ ڈاکٹر فراز کے روم میں تھے ۔

جبکہ آمنہ اور صالحہ شاہ پری کے پاس روم۔میں تھیں ۔

“اوکے ڈاکٹر ,ہم پورا خیال کریں گے “موسیٰ شاہ نے کہا ۔

اور ان سے مصافحہ کیا اور باہر آگئے ۔

؁؁؁

“آمنہ ,آپ پری کا پورا خیال رکھیں اور ہر قسم کی ٹینشن سے دور رکھیں ۔ “احمد شاہ نے کہا ۔

جس پر آمنہ شاہ نے سر ہلایا اور پری کے لئے ملازمہ کو سوپ بنانے کا کہنے لگیں اور پری کے روم۔کی طرف بڑھ گئیں ۔

“بھائی جان , آپ کا کیا خیال ہے ایسی کیا بات ہو گی جو پری نے اتنا زیادہ سٹریس لیا ” موسیٰ شاہ نے پریشانی سے احمد شاہ سے پوچھا ۔

“میں نے ساری انویسٹیگیشن کروائی ہے مگر کوئی ثبوت نہیں ملا ۔ “انہوں نے جواب دیا ۔

‘آپ ٹینشن نہیں لیں میں نے سیکیورٹی مزید بڑھوا دی ہے “موسیٰ شاہ نے کہا ۔

جس پر احمد شاہ نے سر ہلا دیا ۔

ڈرائنگ روم میں خاموشی چھا گئی اور دونوں فریق سوچنے لگے کہ آخر وجہ کیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *