Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 09)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 09)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
اسے اسلام آباد گئے ایک ماہ ہو گیا تھا ۔
البتہ وہ اپنے رب کے بہت قریب آ گیا تھا ۔
اپنی کچھ عادتوں کو بدلنا اس کے۔لئے بہت مشکل تھا مگر اسے اپنے رب پر پورا یقین تھا کہ وہ اسے ہر آزمائش میں کامیاب کرے گا ۔
“پری کیا ہوا رو کیوں رہی ہو “زمل نے پریشانی سے پوچھا ۔
“کچھ نہیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے “اس نے نقاہت سے کہا ۔
اب اسے کیا بتاتی کہ اللہ نے اس کے دل میں جہان کے لئے محبت ڈال دی تھی ۔
جب سے اسے نکاح کا پتا چلا تھا اس کی تمام سوچوں کا مرکز جہان بن چکا تھا ۔
اس رات جب جہان رو رہا تھا تو اس کا دل کر رہا تھا کہ جہان کو بتائے کہ اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے ہیں مگر بتا نہ پائی ۔
“پری تمہیں تو بہت تیز بخار ہے “زمل نے پریشانی سے اس کی پیشانی کو چھو کر کہا ۔
“تم آرام کرو میں میڈیسن بھیجتی ہوں ۔”
باہر آ کر اس نے جہان کو کال کی اور اسے پری کا بتایا ۔
جہان پری کی طبیعت سن کر بےچین ہو گیا اور اسی ٹائم واپسی کے لئے تیاری کرنے لگا۔
وہ بھول گیا کہ اس نے پری سے کیا کہا تھا ۔
جلدی سے وضو کر کے پری کے لئے سجدے میں دعا کرنے لگا
آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھولا ۔
سامنے پری سو رہی تھی ۔
وہ چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا ۔
,سوکھے ہوئے ہونٹ اور انتہائی کمزور پیلا چہرہ اسے کس قدر تکلیف دے رہا تھا ۔
وہ پاس بیٹھ کر آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونک مارنے لگا ۔
اپنے رب کی رحمت پر اس کی آنکھيں نم ہو گئیں جب دیکھا پری نیند میں جہان پکار رہی تھی ۔۔۔۔
_________
جہان نے بےاختیار اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ہونے کا یقین دلایا ۔
اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
نام جس نے محبت کا سزا رکھا ہے
پری نے بمشکل آنکھیں کھولیں ۔
جہان کو سامنے دیکھ کر قطرہ قطرہ آنسو اس کے رخسار کو چومنے لگے ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔”۔وہ بمشکل بولی ۔
جہان اس کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھا ۔
“میرے سر میں بہت درد ہے “وہ دوبارہ غنودگی میں جاتے ہوئے بولی ۔
جہان یہ سن کر نرمی سے اس کا سر دبانے لگا ۔
“اے میرے رب ۔۔۔۔
میں بہت گنہگار ہوں ۔۔۔۔
میں تیرا گنہگار بندہ تیرا شکر گزار ہوں ۔
بےشک تو رحیم ہے مجھے معاف کر دے اور اپنا صالح شکر گزار بندہ بنا ۔
مجھے مومن بنا ۔
مجھ سے دین کا بہترین کام لے ۔
مجھے دنیا و آخرت میں کامیاب کر بلاشبہ تیرے حکم کے بغیر کائنات میں کچھ وقوع پذیر نہیں ہوتا ۔
الحمدللہ
الحمدللہ
الحمدللہ “وہ زیرِ لب بولتا جا رہا تھا ۔
جب پری پوری طرح نیند کی آغوش میں چلی گئی تو وہ تہجد کے لئے اٹھ گیا ۔
بلاشبہ اللّٰہ ربّ العزت اس وقت اپنے بندوں کے بہت قریب ہوتا ہے ۔
بلاشبہ تہجد وہی ادا کرتے ہیں جو اپنے رب سے اپنی ہر بات بڑے لاڈ سے منواتے ہیں ۔
سب ناشتے کر رہے تھے جب جہان وہاں آیا۔
اسلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ
اس نے اجتماعی سلام کیا ۔
سب نے جواب میں اس پر سلامتی بھیجی ۔
“جہان بیٹا تم کب آئے اسلامآباد سے ۔۔۔۔”احمد شاہ نے حیرانی سے کہتے ہوئے اٹھ کر اسے گلے لگایا ۔
“میں رات میں آیا تھا ۔۔۔۔”اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
باقی سب سے وہ کل مل چکا تھا ۔
احمد شاہ رات کو کسی بزنس پارٹی کی وجہ سے لیٹ آئے تھے اس لئے ان سے نہیں ملا تھا ۔
“آؤ ناشتہ کرو ۔”انہوں نے کہا ۔
آمنہ بیگم آپ نے پری بیٹی کو دیکھا اب کیسی ہیں وہ ۔۔۔”انہوں نے آمنہ شاہ سے پوچھا ۔
“جی اب وہ ٹھیک ہے بخار بھی کم ہے سو رہی ہے ۔۔۔”انہوں نے جواب دیا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد جہان سالار سے ملنے چلا گیا ۔
“کیسا ہے میرا شیر “مصافحہ کرنے کے بعد سالار نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
“ہاہاہاہا میں ٹھیک ہوں الحمدللہ ۔۔۔۔”تم سناؤ ۔
میں تم سے کچھ پوچھنے آیا ہوں ۔۔”اس نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ۔
سالار اسے یوں دیکھ کر فوراً سنجیدہ ہو گیا ۔
جہان کا لہجہ اسے کچھ غیر معمولی ہونے کا اشارہ دے رہا تھا ۔
“تم زمل کو پسند کرتے ہو ۔۔”جہان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
اس کی بات سن کر سالار کا سر جھک گیا ۔
اس نے سوچا بھی نہ تھا جس بات کو وہ جہان سے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے جہان اسے یوں جان لے گا اور اس سے پوچھ بھی لے گا ۔
وہ کوئی مناسب جواب سوچ رہا تھا کہ جہان دوبارہ بولا ۔
“ہاں یا نہ ۔۔۔۔”۔
“ہاں ۔۔۔۔۔۔۔”سالار نے کہتے ہوئے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔
“توپھر انکل آنٹی کو بھیج اس سے پہلے کہ تیرے دوست کا فیصلہ بدل جائے “۔جہان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“کیا ۔۔۔۔۔
تم مان گئے مطلب ۔۔۔۔۔۔
مطلب تم غصے نہیں ہوئے تم نے میرے سر پر کچھ مارا بھی نہیں ۔۔۔۔”سالار نے حیرت سے کہا ۔
جہان کو مسکراتے دیکھ کر وہ خوشی سے بھنگڑا ڈالنے لگا ۔
اور جہان کو زور سے گلے لگا لیا ۔۔۔۔
“میں آج ہی ماما بابا کو کال کرتا ہوں وہ فوراً پاکستان آ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جوش سے بولا ۔
سالار کی فیملی انگلینڈ میں تھی اور وہ یہاں پروجیکٹ کے سلسلے میں آیا تھا مگر پھر مستقل پاکستان شفٹ ہو گیا ۔
کبھی وہ ان سے ملنے چلا جاتا تھا اور کبھی اس کے پیرنٹس پاکستان آ جاتے تھے ۔۔
جہان اس کی بےصبری پر مسکرا دیا ۔
بلاشبہ سالار زمل کے لئے بیسٹ تھا ۔۔
“کیسی ہو پری بیٹا ۔۔۔۔”زمل نے بزرگانہ انداز میں پوچھا ۔
پری کھلکھلا کر ہنس دی ۔
پری کو ہنستے دیکھ کر زمل بھی ہنس دی ۔
“پری کیا سوچ رہی تھی “زمل نے پوچھا ۔
پری نے نفی میں سر ہلایا ۔
اب زمل کو کیا بتاتی کہ وہ جہان کو سوچ رہی ہے ۔
رات میں اسے نیند میں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے جہان اس کے پاس ہے مگر پھر خود ہی سوچنے لگی کہ جہان تو یہاں ہے ہی نہیں پھر۔۔۔۔۔۔۔
مگر دل کہہ رہا تھا جہان اس کے۔آس پاس ہی ہے ۔۔۔۔
“کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔”اس نے کہا ۔
“پری مجھ تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔”زمل نے نرمی و سنجیدگی سے کہا ۔
“”ہاں بولو سب ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔۔”پری نے الجھتے ہوئے کہا ۔
زمل کا سنجیدہ لہجہ اسے ڈرع رہا تھا ۔۔۔
“پری میری بات مانو گی ۔
پلیز ۔۔۔۔۔۔۔
تم جہان بھائی کو معاف کر دو ۔
دیکھو اب تو وہ بدل گئے ہیں۔
میں نے انہیں راتوں کو روتے دیکھا ہے وہ ہر دعا میں تمہیں مانگتے ہیں ۔
وہ تمہیں بہت چاہتے ہیں دیکھو اب تو ہم سب جانتے ہیں کہ تم ان کی منکوحہ ہو پلیز مجھ سے بھائی کا یہ حال نہیں دیکھا جاتا ۔۔۔۔۔”زمل روتے ہوئے بول رہی تھی ۔
اس کے آنسو اپنے بھائی سے بےتحاشہ محبت کے گواہ تھے ۔
پری خاموشی سے روتے ہوئے سن رہی تھی ۔
زمل روتے ہوئے باہر چلی گئی تھی ۔
پری کا دل کر رہا تھا وہ اونچی اونچی روئے ۔
جہان کا یہ حال کسی کی نظروں سے چھپا ہوا نہ تھا ۔
اس کا بخار کم تھا مگر نقاہت ابھی بھی تھی ۔
وہ بمشکل بیڈ سے اتر کر وضو کرنے چلی گئی ۔
اس وقت وہ صرف اپنے رب سے دعا کر سکتی تھی ۔
اس رب سے جو ہر وقت اپنے بندے کی واپسی کا انتظار کرتا ہے ۔
جو اپنے بندوں کے بےتحاشہ گناہ کرنے کے باوجود ان کے صرف ایک شرمندہ آنسو پہ ان کو معاف کر دیتا ہے ۔
جو اپنے بندے کے ہزاروں گناہ کرنے کے باوجود اپنی رحمت کے دروازے اس پر بند نہیں کرتا بلکہ اسے واپس پلٹنے کا بار بار موقع دیتا ہے ۔
بلاشبہ اللّٰہ ربّ العزت غفورالرحیم ہے ,رحمن ہے رحیم ہے ۔
اس کی رحمت ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔
وہ یکتا ہے ہر شرک سے پاک۔
سبحان اللہ میرا رب بڑا رحیم ہے ۔
ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے واپس آئے ۔
وہ لاؤنج میں بیٹھا تھا ۔
جب احمد شاہ اس کے پاس آئے ۔
“جہان بیٹا آپ فری ہو'”۔انہوں نے محبت سے پوچھا ۔
“جی ڈیڈ کوئی کام ہے ۔”اس نے پوچھا ۔
“ہاں وہ زمل کہہ رہی ہے اسے شاپنگ پہ جانا ہے آپ اس کے ساتھ چلے جاؤ ۔”انہوں نے کہا ۔
“جی۔۔۔۔۔۔میں باہر گاڑی میں اس کا ویٹ کر رہا ہوں ۔”وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا ۔
“پری جلدی کرو جہان بھائی باہر گاڑی میں ویٹ کر رہے ہیں “زمل نے جلدی سے بولا ۔
“شاہ۔۔۔”۔
“ہاں بابا نے کہا ہے انہیں “زمل نے جلدی سے کہا اور باہر نکل گئی ۔
“میں کیسے جاؤں ۔۔۔۔”اس نے سوچا ۔
جب اسے پتا چلا تھا کہ اس رات واقعی میں جہان آیا تھا اور اس کی واپسی کا پتا چلا تھا وہ روم سے کم ہی نکلتی تھی ۔
سیل پہ بار بار زمل کی کال کو دیکھ کر وہ بھاری قدموں سے باہر نکلی ۔
جہان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔
جبکہ زمل لاریب اور سونیا باہر کھڑے تھے ۔
پری خاموشی سے چلتی ہوئی ان کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی ۔
لاریب فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے لگی تو زمل غصے سے بولی۔
“لاریب تمہیں واقعی میں عقل نہیں ہے فرنٹ سیٹ پر بھائی کے ساتھ ان کی مسز کو بیٹھنا چاہیے مگر تم میں واقعی عقل نام کی کوئی چیز نہیں ۔
لاریب غصے سے پیچھے بیٹھ گئی ۔
زمل نے زبردستی بت بنی کھڑی پری کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا ۔
پری سرخ چہرے کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
جہان کی موجودگی اس کی دھڑکن تیز کر رہی تھی ۔
جہان نے اس کی رونے والی شکل دیکھ کر بمشکل مسکراہٹ چھپائی ۔
زمل بھی مسکرا رہی تھی ۔
جبکہ لاریب غصے سے پری کو گھور رہی تھی ۔
__________
وہ سب لاہور کے مشہور شاپنگ مال میں گئے تھے ۔
زمل تو فوراً شوز لینے کے لئے چلی گئی ۔
باقی سب بھی باتیں کرتے ہوئے اس کے ساتھ چل دیئے ۔
پری بالکل خاموشی سے ان کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی ۔
مال میں موجود کئی لوگ مڑ
مڑ کر جہان کو دیکھ رہے تھے ۔
اس کی نیلی آنکھیں ,اس کی شخصیت کی بےنیازی اسے وہاں موجود تمام مردوں میں ممتاز بنا رہی تھی ۔
اس بات کو سب کے ساتھ ساتھ پری نے بھی محسوس کیا تھا ۔
کئی لڑکیاں رک رک کر جہان کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں ۔
اسے نہ جانے کیوں برا لگ رہا تھا ۔
اپنے محسوسات کو وہ کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی ۔
جہان نے اسے ایک نظر دیکھا ۔
سرخ شیفون کے لباس میں وہ بےحد جازب نظر لگ رہی تھی ۔
سرخ دوپٹے کو سر پر لئے وہ نظریں جھکائے چل رہی تھی ۔
شیفون کا دوپٹہ ہونے کی وجہ سے دوپٹہ اس کے سر سے بار بار پھسل رہا تھا ۔
کچھ بالوں کی شریر لٹیں اس کے چہرے کو چوم رہی تھیں ۔
جنہیں وہ بار بار پیچھے کر رہی تھی ۔
کئی لڑکے اسے گھور رہے تھے ۔
جہان نے غصے سے انہیں دیکھا ۔
پھر ایک دم پری کا ہاتھ پکڑا اور زمل سے بولا ۔
“تم لوگ سامنے شوز دیکھو ہم ابھی آتے ہیں “۔
پری کا ہاتھ پکڑے وہ ایک سائیڈ پر چلا گیا ۔
پری بھاری قدموں سے اس کے ساتھ چل رہی تھی ۔
“اپنا دوپٹہ سہی سے لو “وہ بولا ۔
لوگوں کی پری پر نظریں دیکھ کر اس کے اندر کا جنونی جہان باہر آ رہا تھا ۔
اپنے غصے کو وہ بامشکل ضبط کر رہا تھا ۔
پری نے کانپتے ہاتھوں سے دوپٹہ ٹھیک کرنا چاہا مگر وہ بار بار پھسل رہا تھا ۔
جہان اس کے آگے یوں کھڑا تھا کہ اس پر کسی کی نظر نہ جا سکے ۔
پری کو اس قدر نروس دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر بےساختہ مسکراہٹ آئی ۔
پری نے اسے ایک نظر مسکراتے دیکھا تو جلدی سے نظریں جھکا لیں ۔
آنکھوں میں نہ جانے کیوں آنسو آگئے ۔
جہان نے ایک نظر اس کے سرخ چہرے پر ڈالی پھر آگے ہو کر اس کا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگا ۔
وہ پری کے اس قدر پاس تھا کہ پری نے بامشکل اپنے حواس قائم رکھے ۔
جہان نے اچھے سے دوپٹہ اس کے سر پر دیا اور دوبارہ مسکرا کر اسے دیکھا ۔
وہ جانتا تھا پری اس سے محبت کرتی ہے مگر شاید خود بھی اپنی محبت سے انجان ہے ۔
اس نے آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونک ماری ۔
پری مسمرائز ہو کر کھڑی تھی ۔
جہان کے کلون کی مخصوص خوشبو اسے اتنی اچھی کیوں لگ رہی تھی ۔
اس نے بےاختیار سوچا ۔
جہان نے اسے اتنا پزل دیکھا تو مسکراتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر زمل وغیرہ کے پاس جانے لگا ۔
پری نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی مگر جہان کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ اس کی ہر کوشش ناکام ہو گئی ۔
وہاں موجود نصفِ نازک نے حسد سے پری کو دیکھا ۔
لاریب کب سے ادھر ادھر جہان اور پری کو دیکھ رہی تھی ۔
جہان کا استحاق سے پری کا ہاتھ تھام کر لے جانا اسے حسد کی آگ میں جلا رہا تھا ۔
“میں تمہیں کبھی پری کو پانے نہیں دوں گی جہان شاہ۔ تم صرف میرے ہو میں تمہیں ہر قیمت پر حاصل کروں گی”وہ نفرت سے سوچ رہی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد اس نے انہیں آتے دیکھا ۔
جہان کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ اسے نفرتوں کی آگ میں دھکیل رہی تھی ۔اس نے
پری کا حیا سے سرخ چہرا دیکھا ۔اور نفرت سے اسے دیکھنے لگی۔
جہان نے وہاں پہنچ کرزمل سے پوچھا
“شوز لے لیے “۔
“جی بھائی ہم نے لے لئے ہیں پری رہ گئی ہے “زمل نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“ہمم۔۔۔۔۔۔”۔
اتنے میں وہاں سیلزمین آگیا ۔
“سر آپ شوز پسند کرلیں “اس نے کہا ۔
پری وہاں بیٹھ گئی ۔
وہ جلدی سے گھر جانا چاہتی تھی ۔
اتنے میں دوسرا سیلزمین کئی خوبصورت ہیل والے شوز لے کر آ گیا ۔
“میم آپ دیکھیں یہ ۔۔۔۔۔۔”اس نے کہا ۔
وہ جھک کر پری کے پاؤں میں شوز ڈالنے لگا ۔
پری نے گھبرا کر پاؤں پیچھے کئے اور بے ساختہ جہان کو دیکھا ۔
جہان نے غصے سے اس سیلزمین کو دیکھا جو زبردستی پری کے پاؤں میں ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
زمل,سونیا اور لاریب نے بھی ایکدم جہان کی طرف ڈر کر دیکھا جو غصے سے آگے بڑھا تھا ۔
جہان نے اس سیلزمین کو وحشیانہ انداز میں کالر سے پکڑا ۔
“ہاؤ ڈئیر یو ٹو ٹچ مائے وائف۔۔۔۔۔”وہ چیخا۔
سیلزمین نے ڈرتے ہوئے اسے دیکھا جو اسے سرخ آنکھوں سے گھور رہا تھا ۔
“آئم سوری سر ۔۔۔”وہ جلدی سے بولا ۔
جہان نے اسے زور سے دھکا دیا ۔
دوسرے سیلزمین نے جلدی سے جہان کو مزید کچھ کرنے سے پہلے معذرت کی ۔
جہان نے غصے سے اسے پیچھے کیا ۔
کئی لوگ رک کر جہان کی دیوانگی کو دیکھ رہے تھے ۔
