Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 06,07)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 06,07)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
وہ لوگ پری کو پسند کر کے جا چکے تھے ۔
زمل شدید پریشان تھی ۔
مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔
جبکہ پری ابھی تک حیران تھی ۔
مگر اس نے سب کچھ اللہ کے حوالے کر دیا ۔
جہان کا ردعمل سوچ کر ہی اس کے حواس ساتھ چھوڑ رہے تھے ۔
وہ ابھی میٹنگ سے فارغ ہوا تھا ۔
سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا ۔
اس نے صبح لاہور واپس جانا تھا ۔
ٹائم دیکھا تو شام کے پانچ بج رہے تھے ۔
اسی وقت موبائل پر رنگ ہوئی ۔
“ہاں بولو ۔۔۔”
دوسری طرف انکی خاندانی ملازمہ تھی جسے جہان نے جاسوسی کرنے رکھا تھا کہ پری کے بارے میں جو اہم بات ہو جہان کو بتائے ۔
دوسری طرف سے جو خبر ملی اسے سن کر غصے سے اس نے موبائل بند کیا ۔
نیلی آنکھیں غصے سے بھرپور تھیں ۔
اس نے مٹھیاں غصے سے بھینچیں۔
اس نے اسی وقت واپسی کے لئے قدم بڑھائے ۔
“یہ آپ نے اچھا نہیں کیا ڈیڈ ۔ اب جو بھی ہو گا اس کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ۔۔۔”اس نے زیرِ لب کہا ۔
وہ نائٹ ڈریس چینج کر کے ابھ سوئی ہی تھی کہ اسے یوں محسوس ھوا جیسے کوئی اس کے بالکل پاس آکر بیٹھا ہو ۔
اس نے گبھرا کر اٹھنا چاہا جب جہان کی سرد آواز اس نے سنی ۔
“جان جہان میں نے تمہیں کہا تھا اگر میرے علاوہ کسی اور کو سوچا بھی تو اچھا نہیں ہو گا “۔
اس کی سرد آواز سن کر پری ڈر کر کانپنے لگی ۔
__________
“تمہیں کیا لگا میری غیر موجودگی میں کوئی تمہیں پسند کرے گا ,تمہیں دیکھے گا اور جہان شاہ بےخبر رہے گا “اس نے استہزایہ مسکراہٹ سے پوچھا ۔
جہان نے اٹھ کر لائٹ آن کی ۔
پری نے نفرت سے اسے جاتے دیکھا ۔۔
وہ جہان سے ڈر رہی تھی مگر نفرت کے تاثر میں اپنے ڈر کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔
جہان نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔
“سوئیٹ ہارٹ ,تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں یوں آسانی سے کسی کے حوالے کر دوں گا “جہان نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
پری نے کانپتے ہوئے اسے رحم طلب نظروں سے دیکھا ۔
وجہ جہان اس کے اس قدر قریب آیا کہ اس کی گرم سانسوں کی تپش اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی ۔
آنسو قطرہ قطرہ رخسار کو چومتے ہوئے گرنے لگے جب جہان نے ان قطروں کو اپنی مٹھی میں قید کیا ۔
“کیوں نہیں سکون سے جینے دیتے مجھے ۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے بول رہی تھی ۔
“اونہوں رونا بند کرو مجھے تمہارے آنسو اذیت دیتے ہیں ۔ اس کا کیا ۔۔۔۔
اور ویسے بھی تمہارا سکون مجھ سے وابستہ ہے ۔”جہان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سینے پہ رکھ کر اسے اپنی دھڑکن محسوس کروائی ۔
“کیا تمہیں میرے دل کی دھڑکن محسوس نہیں ہو رہی جو تمہارا نام پکار رہی ہے “جہان نے شدت پسندی سے کہا ۔
“جہان تم چلے جاؤ ۔ نفرت کرتی ہوں میں تم سے ۔۔۔۔۔
شدید نفرت ۔۔۔۔۔”وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی ۔
“جان جہان ۔۔۔۔
نفرت کی آخری حد محبت کا آغاز ہے ۔۔۔
سو چلو اب جلدی سے مجھ سے محبت کرو ۔۔۔”جہان نے یوں فرمائش کی جیسے ایک سیکنڈ میں پوری ہونے کا یقین ہو ۔
“میں مر جاؤں گی جہان ۔
تمہارے شدت پسندی مجھے مار ڈالے گی “پری نے روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے ۔
“دوبارہ ایسی بات مت کہنا ۔۔۔۔۔
ورنہ میری موت کی بھی تم ذمہ دار ہو گی ۔جہان نے جنونی لہجے میں کہا ۔
“چلو شاباش کہو کہ تم جہان سے محبت کرتی ہو ۔۔۔”جہان نے اسے بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے کہا ۔
“اگر نہیں کہو گی تو آج جو تمہیں دیکھ کر گیا ہے نہ کل آخری بار یہ دنیا دیکھے گا “جہان نے ایک بار پھر نفرت سے کہا ۔
اس کی بات سن کر پری شدت سے رو دی۔
“میں صرف اپنے شوہر سے محبت کروں گی تم سے کبھی نہیں سمجھے۔۔۔”پری نے غصے و نفرت کے ملے جلے تاثرات سے کہا ۔
“اوہ یہ تو بہت اچھا ہو گیا پھر تو مجھے جلد تمہیں رخصت کروا کہ اپنے روم میں شفٹ کروانا چاہیے ۔۔۔”جہان نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا جبکہ آنکھیں شرارت پر آمادہ تھیں ۔
“نہیں کرنی مجھے تم سے شادی ۔۔۔۔۔۔”وہ نفرت سے چیخی ۔
نفرت اور غصے کی شدت سے وہ اب اور کانپ رہی تھی ۔
“اونہوں اگر میرے سے محبت نہیں کرو گی تو میری موت کی ذمہدار بھی تم ھو گی “۔
یہ کہتے ہوئے جہان نے پینٹ کی پاکٹ سے پسٹل نکال لیا ۔
پری نے خوفزدہ نگاہوں سے اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا ۔
اس کے جواب نے جہان کے چہرے کی نرمی کو جنونیت میں دھکیل دیا تھا ۔
“تم میرے منکوحہ ہو ۔۔۔۔کیا کہا میں نے منکوحہ ۔۔۔۔۔۔۔
اور میں جہان شاہ تمہارا شوہر ہوں ۔۔۔۔۔۔
سنا تم نے “اس نے دھاڑتے ہوئے کہا ۔
پری نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
آنکھیں بے یقینی سے پھیلیں ۔
جہان کے الفاظ نے جیسے اس کی روح کھینچ ڈالی تھی ۔
“میں تمہیں چھوتا ہوں تو اس کا باقاعدہ حق ہے میرے پاس ۔
۔۔۔۔۔۔”وہ چیخاتھا ۔
“پچھلے پندرہ سالوں سے تم میرے نکاح میں ہو”۔
اس نے ساکت بیٹھی پری کی صبیح پیشانی کو چوما ۔
“کہو تم بھی اب مجھے چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔
پلیز بولو نہ ۔۔۔می۔۔۔۔میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں ۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔بس ایک بار کہہ دو۔۔۔۔۔۔
مجھے سکون آجائے گا ۔۔۔۔۔۔
پلیز ۔۔۔۔۔۔”اس نے پسٹل دوبارہ اپنی پاکٹ میں رکھی اور اس قدموں میں ہاتھ جوڑ کر بیٹھ کر گڑگڑانے لگا ۔۔۔۔۔۔
“پری۔۔۔۔۔۔۔۔”محبت ,جنونیت ,,,,دیوانگی ,,,,,,,کیا نہیں تھا اس ایک پکار میں ۔۔۔۔۔
مگر اس سے پہلے کہہ جہان کچھ مزید بولتا ۔۔
وہ حواس کھو کر ایک ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح نیچے گری۔
“پری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چیخا۔
“میری۔۔۔۔۔میری بات سنو ۔۔۔۔۔۔پلیز پلیز ۔۔۔۔۔۔ایک بار ۔۔۔۔۔
پری۔۔۔۔۔۔”وہ چیختے ہوئے رو رہا تھا ۔
اس کی چیخوں نے شاہ ہاؤس کے جیسے درودیوار ہلا دئیے تھے ۔
احمد شاہ اور آمنہ شاہ جلدی سے نیند سے اٹھ کر بھاگے ۔
صبح کے پانچ بج رہے تھے ۔
زمل بھی پریشانی سے جلدی سے اٹھ کر موسیٰ شاہ کو بلانے گئی ۔
جہان دیوانوں کی طرح پری کو ہاسپٹل لے کر جارہا تھا ۔
زندگی میں پہلی بار اس نے خود کو اس قدر بےبس پایا تھا ۔
کیسی عجب دیوانگی تھی تکلیف بھی خود دیتا اور اسے تکلیف میں دیکھ کرنے خود کو بھی اسی تکلیف سے دوچار کرتا ۔
ہاسپٹل کے کوریڈ میں ایمرجنسی سامنے موت کا سناٹا تھا ۔
آمنہ شاہ ,صالحہ شاہ,زمل,سونیا روتے ہوئے دعا کر رہی تھیں ۔
جبکہ موسیٰ شاہ اور احمد شاہ بےحد پریشانی سے کھڑے تھے ۔
تکلیف اس قدر تھی کہ ایک دوسرے کو تسلی دینے کے لئے جیسے الفاظ ہی ختم ہو گئے تھے ۔
صرف ایک فرد جس کے دل میں طمانیت تھی مگر چہرے پر دکھ کے مصنوعی تاثرات ,لاریب شاہ,جو پری کا کانٹا اپنی زندگی سے نکلنے پر خوش تھی ۔
اوپر جہان شاہ ۔۔۔۔
جس کی روح ۔۔۔۔
جس کی دھڑکن ۔۔۔۔۔
جس کی ایک ایک سانس ۔۔۔۔۔
جیسے گروی تھی ۔
وہ دیوانوں کی طرح ایمرجنسی کے ڈور سے یوں ٹیک لگائے بیٹھا تھا جیسے اس کے جسم میں روح نہ ہو ۔۔۔
مردہ جسم ۔۔۔۔۔۔۔
پانچ گھنٹوں سے وہ یوں ہی بیٹھا تھا ۔
آمنہ شاہ نے تکلیف سے اسے دیکھا ۔
ایکدم ڈاکٹر باہر آئے ۔
وہ تڑپ کر اٹھا ۔۔۔
“وہ ٹھیک ہے نہ ۔۔۔۔۔اسے ہوش آ گیا ۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔”اس نے دیوانگی سے پوچھا ۔
ڈاکٹر نے قابل رحم نظروں سے اسے دیکھا ۔
اس قدر خوبصورت نوجوان ۔۔۔
وہاں سے گزرتے ہر ڈاکٹر ,ہر فرد نے دل ہی دل میں جبکہ کچھ نے زبان سے اس کی تعریف کی تھی ۔
وہاں سے گزرتے لوگ مڑ مڑ کر اس دیوانے کو دیکھ رہے تھے ۔
“ہم پوری کوشش کرنے رہے ہیں ۔ شدید سٹریس کی وجہ سے پارس کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔
اگر دو گھنٹوں تک ہوش آگیا تو ٹھیک ادروائز آئم ساری ۔۔”ڈاکٹر نے ہمدردی سے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا ۔
جبکہ اس کی بات سنتے جہان کو جیسے جھٹکا لگا تھا ۔
“کیا کہا تو نے ۔۔۔۔آئم ساری ۔۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی ۔۔۔۔
اگر اسے کچھ ہوا تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گاڑی ۔ سمجھے۔۔”اس نے غصے سے ڈاکٹر کو دھکا دیا ۔
ڈاکٹر نے افسوس سے اسے دیکھا جو اس وقت اپنے حواس میں نہ تھا اور بے اختیار پارس کی زندگی کی دل میں دعا کی ۔
احمد شاہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر معزرت کی۔ اور پری کا پوچھنے لگے ۔
“میری وجہ سے وہ اس حال میں ہے ۔۔۔۔۔
میں نے اسے اتنی تکلیف دی مجھے مر جانا چاہیے ۔۔۔۔
اگر پری نہیں تو شاہ نہیں ۔۔۔۔”اس نے زیرِ لب کہا ۔
وہ اپنے حواس میں نہیں تھا اس نے پاکٹ سے گن نکالی اور اپنی کنپٹی پر رکھی۔
احمد شاہ اور ڈاکٹرز جلدی سے اسے روکنے بڑھے اور گن کھینچنے کی کوشش کی ۔
اچانک فائر کی آواز گونجی جس سے پورے ہاسپٹل میں ایکدم سناٹا چھا گیا ۔
جہان تیورا کر فرش پرگرا۔
___________
“جہان ,,,,,,,”آمنہ شاہ روتے ہوئے آگے بڑھیں ۔
پسٹل کھینچتے ہوئے گولی اس کے کندھے کو چھوتے ہوئے گزری تھی ۔
تیزی سے نکلتے خون نے اس کی سفید شرٹ کو سرخ کر دیا تھا ۔
سب جلدی سے اس کی طرف بڑھے جو دوبارہ گن کھینچتے ہوئے اپنے آپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
“جہان ۔۔۔۔۔”بڑی سے بڑی تکلیف اور مشکلوں سے نہ گھبرانے والے احمد شاہ بھی رو رہے تھے ۔
ڈاکٹرز جلدی سے آگے بڑھ کر اسے زبردستی روم میں لے گئے ۔
وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی بار بار کوشش کر رہا تھا ۔
انہوں نے تیزی سے اس کی زبردستی شرٹ اتارتے ہوئے خون روکنے کی کوششیں کیں۔
تکلیف کی شدت بڑھتی جا رہی تھی ۔
آمنہ شاہ اور زمل رو رو کر بےحال ہو رہی تھیں جنہیں صالحہ اور سونیا سنبھال رہی تھیں ۔
ابھی اس کے کاندھے پر پٹی کر کے ڈاکٹرز فری ہوئے تھے کہ نرس اینٹر ہوئی ۔
“سر ۔۔۔۔۔وہ پارس شاہ کو ہوش آ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔”نرس نے جلدی سے بتایا ۔
جسے سن کر ڈاکٹرز جلدی سے اٹھائے مگر جہان جیسے یہ خبر سن کر جی اٹھا تھا ۔
وہ ڈاکٹرز سے بھی پہلے روم سے نکلا اور دیوانہ وار بھاگتا ہوا ایمرجنسی کی طرف بڑھا ۔
سب نے حیرت سے اس دیوانے کو دیکھا جو بغیر شرٹ جا رہا تھا ۔
اس کا کسرتی جسم ,نیلی پر سوز سرخ آنکھیں اس کی خوبصورتی اور وجاہت کی گواہ تھیں ۔
جہان کو اس وقت یہ بھی ہوش نہ تھا اس کے خود کے زخم میں بےحد تکلیف تھی ۔
مگر یہ تکلیف اس کی پری کی تکلیف سے بڑھ کر نہ تھی ۔
اسی دم احمد شاہ کو اس کی پری سے محبت ,دیوانگی ,اس کی جنونیت پر ایمان آ گیا ۔
جہان ڈاکٹرز کے منع کرنے کے باوجود آئی سی یو میں اینٹر ہوا ۔
پری آہستہ آہستہ آکسیجن ماسک سے سانس لے رہی تھی ۔
وہ نم آنکھوں سے اس کے پاس پہنچا ۔
نرسوں نے اسے باہر جانے کا کہا مگر وہ ان سنی کرتا پری کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا رہا ۔
ڈاکٹرز نے اس کی دیوانگی اور جنونیت دیکھ لی تھی اس لیے انہوں نے دوبارہ اسے جانے کا نہ کہا ۔
ڈاکٹرز پری کا چیک اپ کر رہے تھے ۔
پری نے آنکھیں کھولیں تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ پیرالائز ہو گئی ہو ۔
آنکھیں کھولتے ہوئے اس کے ذہن میں بےاختیار پچھلے واقعات آئے ۔
جہان کی باتیں ذہن میں آتے ہی آنسو اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے اس کے رخسار کو نم کر گئے ۔
ڈاکٹرز اس کا آکسیجن ماسک اتار رہے تھے ۔
جہان نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کئے ۔
چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے اسے خطرے سے باہر قرار دیا اور باہر چلے گئے ۔
ان کے جاتے ہی جہان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں کو لگایا ۔
پری نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس میں جان ہی نہ ہو ۔
“پری۔۔۔”جہان نے شدت سے اسے پکارا ۔
کیا نہیں تھا اس پکار میں ۔
دکھ ,تکلیف ,دیوانگی کی انتہا ۔
اور اس کا ہاتھ پکڑ کر جہان پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ۔
دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا ۔
پری کی آنکھیں بدستور بند تھیں ۔
البتہ آنسو روانی سے بہہ رہے تھے ۔
“آنکھیں کھولو ۔ ۔۔۔۔”جہان نے منت کرتے ہوئے کہا ۔
“اگر نہیں کھولو گی تو تمہاری قسم میں خود کو اتنی تکلیف دوں گا جس کی کوئی حد نہ ہو گی ۔”
پری نے پھر بھی آنکھیں نہ کھولیں تو جہان نے غصے سے اپنے کندھے سے پٹی کھینچ کر اتاری ۔
اسے اس قدر تکلیف ہو رہی تھی مگر پری کے لئے اس کی یہ تکلیف کم تھی ۔
خون تیزی سے نکل کر اس کے سینے سے ہو کر زمین پر گرنے لگا ۔
اس نے پری کا ہاتھ پکڑ کر زخم پر رکھا ۔
نمی محسوس کرتے ہوئے پری نے یکدم آنکھیں کھولیں تو اس کی آنکھیں خون کو دیکھ کر حیرت کی شدت سے کھلی رہ گئیں ۔
تیزی سے نکلتا خون اس کے ہاتھ کو نم کر گیا تھا ۔
جبکہ شاہ اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔
“چلو کم از کم میری تکلیف تمہارے لئے کچھ تو معنی رکھتی ہے “وہ شدت پسندی سے بولا ۔
جبکہ پری تیزی سے نکلتے خون کو دیکھ کر حواس کھو رہی تھی ۔
“پری ۔۔۔۔۔”اسے پھر سے حواس کھوتا دیکھ کر جہان چیخا۔
“آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔۔اگر تمہیں کچھ بھی ہوا تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گااور خود کو بھی ختم کر لوں گا ۔
وہ چیخا۔
اس کی اونچی آواز سن کر نرسیں تیزی سے آئی سی یو میں اینٹر ہوئیں مگر سرخ فرش دیکھ کر جلدی سے ڈاکٹرز کو بلانے گئیں ۔
ڈاکٹرز جلدی سے آئے ۔
“مسٹر شاہ آپ اپنے آپ کو تکلیف کیوں دے رہے ہیں اور آپ نے اپنی ڈریسنگ کیوں اتاری۔ “ڈاکٹرز نے پریشانی سے پوچھا ۔
اور ایک ڈاکٹر پارس کو جبکہ دوسرا جہان کے پاس آیا ۔
“کیونکہ یہ میری بات نہیں سن رہی تھی اور آنکھیں نہیں کھول رہی تھی مگر میرے زخم کو دیکھ کر آنکھیں کھول دیں “جہان نے شدت پسندی سے کہا ۔
ڈاکٹرز نے افسوس سے اسے دیکھا ۔
اور اسے چیئر پر بٹھا کر اس کی تیزی سے ڈریسنگ کرنے لگے ۔
ڈور میں کھڑے احمد شاہ یہ سنتے ہوئے وھیں کھڑے رہ گئے ۔
کیا اس سے بڑھ کر جہان کی جنونیت اور دیوانگی کی انتہا ہے “انہوں نے بےاختیار سوچا ۔
Episode 7
ڈاکٹرز اس کی بینڈ ایج کر کے فارغ ہوئے تھے ۔
جبکہ پری کو انجکشن لگانے کے بعد روم میں شفٹ کرنے کا کہا تھا ۔
جہان بغیر کسی کو کچھ بتائے سالار سے ملنے چلا گیا حالانکہ ڈاکٹرز نے اسے ریسٹ کرنے کا کہا تھا ۔
“ماما آپ کے خیال میں بھائی نے پری کو کیا کہا ہو گا “زمل نے پریشانی سے پوچھا ۔
“نہیں معلوم شاید جہان کو پتا چل گیا ہو گا کہ کل کوئی پری کو دیکھنے آیا تھا “انہوں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا ۔
اس واقعے نے انہیں بہت کمزور کر دیا تھا ۔
روم میں شفٹ کرنے کے بعد وہ سب پارس سے مل رہے تھے ۔
“جہان یہ کیسے ہوا “سالار جو لنچ کر رہا تھا ایکدم جہان کو فلیٹ می اینٹر ہوتے دیکھ کر پریشانی سے چلتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔
“کچھ نہیں گولی لگی ہے “اس نے سنجیدگی سے کہا ۔
“تم کھڑے نہ ہو پلیز جلدی بیٹھو میں تمہارے لیے شرٹ لے کر آتا ہوں “وہ جلدی سے جہان کو صوفے پر بٹھا کر روم کی طرف چلا گیا ۔
سالار کے جانے کے بید جہان نے صوفے کی بیک سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کر لیں ۔
پچھلے کچھ گھنٹوں میں جو کچھ ہوا تھا اگر اس کے نتیجے میں پری کو کچھ ہو جاتا ۔۔۔۔یہ سوچ ہی بہت تکلیف دہ تھی ۔
سالار جلدی سے اس کے لئے شرٹ لے کر آیا اور خود پہنانے لگا ۔
“بیٹھو میں تمہارے لئے دودھ کا گلاس لاتا ہوں ۔”اس نے کہا اور کچن کی طرف چلاگیا ۔
کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دودھ کے گلاس کے ساتھ ایپل بھی تھے ۔
جہان نے نرمی سے مسکرا کر دیکھا ۔
“میں اس و قت تمہاری بیوی لگ رہا ہوں “سالآر نے ہنستے ہوئے کہا ۔
“اونہوں میری ایک ہی بیوی ہے ۔
مسز پارس جہان شاہ “جہان نے آہستگی سے کہا ۔
سالار نے بغور اسے دیکھا۔
” چلو بتاؤ کیا ہوا ہے ۔ “دودھ کا گلاس اسے پکڑاتے ہوئے کہا ۔
جواب میں جہان نے اسے سب کچھ بتا دیا ۔
سالار سے زیادہ کوئی اسے سمجھتا نہ تھا ۔
سالار نے سب کچھ سن کر پریشانی سے اسے دیکھا ۔
“یعنی پارس کو پتا چل گیا ہے کہ اس کا نکاح تم سے ہوا ہوا ہے “سالار نے پوچھا ۔
جواب میں جہان نے اثںات میں سر ہلایا ۔
“جہان تمہارے علاوہ تمہارے ڈیڈ کو پتا ہے اس نکاح کا تو انہوں نے اس کے باوجود پری کا رشتہ کہیں اور کرنے کا کیوں سوچا “سالار نے حیرانی سے پوچھا ۔
“کیونکہ ڈیڈ نہیں چاہتے کہ پری مجھ جیسے ضدی شخص کے ساتھ زندگی گزارے اور میں یونہی اس کی زندگی کی خوشیاں کسی ڈر اور خوف کے حوالے کروں “جہان نے نفرت سے کہا ۔
“مگر وہ نہیں جانتے انہیں ماننا ہو گا اگر نہیں مانے تو بھی مجھے پروا نہیں “اس نے پرعزم لہجے میں کہا ۔
چلو تم میرے روم میں جا کر کچھ دیر ریسٹ کرو پھر کچھ سوچتے ہیں ” سالار نے کہا جس پر جہان کچھ سوچتے ہوئے اس کے روم کی طرف بڑھ گیا ۔
سالار وہیں خاموشی سے بیٹھا تھا ۔
اس کے دل میں بےاختیار کسی کی شبیہہ آئی ۔
“وہ کتنی پریشان ہو گی “اس نے پریشانی سے سوچا ۔
“پری بیٹا کیا ہوا تھا آخر کہ آپ نے اتنا سٹریس لیا اور جہان نے خود کو شوٹ کیا “احمد شاہ نے نرمی سے اس سے پوچھا ۔
“تایا جان جہان رات کو میرے روم میں آیا تھا اس نے کہا کہ میں اس کے نکاح میں ہوں “پری نے نکاہت سے بولا ۔آنسو بےاختیار نکلے ۔
جہان کے اس قدر خطرناک ری ایکشن نے اسے بہت ڈرا دیا تھا ۔
احمد شاہ نے بےاختیار اسے دیکھا ۔
“تایا جان جہان جھوٹ بول رہا ہے نہ؟ “اس نے امید سے پوچھا ۔
“نہیں وہ سچ کہہ رہا ہے ۔
اس نکاح کا میرے اور جہان کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم ۔
بابا صاحب کی خواہش پر یہ نکآح ہوا تھا ۔
ان کی وفات سے دو دن قبل ۔
آپ اس وقت چار سال کی تھیں ۔
کچھ وجوہات کی بنا پر کسی کو بھی اس بارے میں معلوم نہیں “احمد شاہ نے آہستگی سے تفصیلی جواب دیا ۔
پری خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھی ۔
اس وقت روم میں پری کے پاس صرف احمد شاہ تھے ۔
باقی سب گھر چلے گئے تھے جنہیں احمد شاہ نے زبردستی بھیجا تھا ۔
آمنہ شاہ ظہر کی نماز پڑھنے گئی تھیں ۔
احمد شاہ بےخبری میں پری کو بتا رہے تھے اور اس بات سے بےخبر تھے کہ آمنہ شاہ نماز پڑھ کر آپ چکی تھیں اور نم آنکھوں سے ان کی گفتگو سن رہی تھیں ۔
“تائی جان “ایکدم پری کی نگاہ دروازے پر پڑی جہاں آمنہ شاہ کھڑی تھیں ۔
احمد شاہ نے بےاختیار پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
“آپ نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائ “انہوں نے بےیقینی سے کہا ۔
جس پر احمد شاہ نے ان کو بتایا کے بابا سائیں نے وعدہ کیا تھا کہ اس بات کو چھپا کر رکھا جائے ۔
معلوم نہیں اور میں اس بات کو آج تک نہیں جان سکا کے اس میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے “انہوں نے نرمی سے جواب دیا ۔
آمنہ شاہ نے آگے بڑھ کر پری کو پیار کیا ۔
ان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کے پری ان کی بہو بنے مگر جہان کی حرکتیں انہیں ڈراتی تھیں ۔
آج بھی جہان نے جس طرح اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی انہوں نے دل میں پختہ ارادہ کر لیا تھا کے وہ جہان کی یہ خواہش پوری کریں گی ۔
وہ اس رات گھر نہیں گیا تھا اور نہ ہی ہوسپٹل گیا تھا ۔
“جہان کیا ہوا ہے تمہاری طبیعت ٹھیک ہے “سالار نے پوچھا ۔
ہاں ٹھیک ہوں مجھے ڈریسنگ کے لئے باکس لا رو اس کے بعد مجھے پری کے پآس جانا ہے ۔
اس نے کہا ۔
اس کے بازو میں شدید تکلیف ہو رہی تھی مگر وہ جہان شاہ تھا جو اپنی تکلیف سب سے چھپا کر رکھنے والا تھا ۔
“رہنے دو میں جا رہا ہوں ہوسپٹل وہیں کروا لوں گا “اس نے وہیں سے آواز دی اور جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
“جہان میں بھی ساتھ چلوں “سالار نے جلدی سے کہا ۔
جہان کا پہلے ڈریسنگ کرنے کے لئے کہنا اور پھر ایکدم منع کر دینا اسے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔
“یقیناً جہان کچھ غلط کرے گا وہاں جا کر “اس نے بےاختیار سوچا ۔
جہان نے اسے غور سے دیکھا ۔
“میں سمجھ گیا ہوں تم میرے ساتھ کیوں جانا چاہتے ہو “جہان نے ہنستے ہوئے کہا ۔
جس پر سالار خفیف سا مسکرا دیا ۔
“چلو نکلتے ہیں کافی ٹائم ہو گیا ہے “اس نے کہا اور وہ دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے ۔
“جہان بیٹا تم کہاں تھے کل سے”آمنہ شاہ نے اسے آتے دیکھ کر فوراً آگے بڑھ کر اس سے پوچھا ۔
جس پر جہان انہیں نظرانداز کرتا روم میں اینٹر ہو گیا ۔
سالار نے وہیں کھڑے کھڑے انہیں تسلی دی ۔
اور اپنے اردگرد دیکھا مگر وہ اسے کہیں نظر نہ آئی ۔وہ بہت مایوس ہوا ۔
آمنہ شاہ اس سے جہان کا پوچھنے لگیں اور وہ انہیں تفصیل بتانے لگا ۔
وہ روم میں اینٹر ہوا ۔
نرس پری کے ڈرپ لگا رہی تھی ۔
“مہربانی فرما کر ہمیں کچھ دیر اکیلا چھوڑ دیں “اس نے کہا ۔
پری نے ایکدم اس کی آواز سنی تو چہرہ موڑ کر اسے دیکھا ۔
جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
اسے مسکراتے دیکھ کر پری نے آنکھیں موند لیں ۔
“تم گئی نہیں ابھی تک “اس نے غصے سے نرس سے کہا جس پر نرس فوراً باہر نکل گئی ۔
جہان چلتا ہوا پری کے پاس آیا ۔
“کیسا فیل کر رہی ہو جان جہان “اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
پری نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور ویسے ہی آنکھیں بند رکھیں ۔
اگر میری بات کا جواب نہیں دو گی تو نقصان ہو سکتا ہے “اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ۔
پری نے غصے سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔
“اف اتنا غصہ ۔
جان من اتنا غصہ صحت کے لئے ٹھیک نہیں “اس نے مزید اس کے غصے کو ہوا دی ۔
“چلو اسی بہانے تم نے مجھے دیکھا تو سہی “اس نے شرارت سے کہا ۔
اسی اثناء میں ڈاکٹر اینٹر ہوئے ۔
“مسٹر شاہ ۔ کیسے ہیں ۔
پین ہو رہی ہے یا نہیں اور آپ نے ڈریسنگ چینج کی یا نہیں ۔
اگر نہیں کی تو فوراً کروائیں ورنہ پرانی بینڈیج نقصاندہ ہو سکتی ہے “ڈاکٹر نے پوچھا ۔
“پین تو ہو رہی ہے بٹ میں نے ڈریسنگ چینج نہیں کی “اس نے آرام سے کہا البتہ نظریں پری پر ہی ٹکی ہوئی تھیں ۔
“اوہ آپ کو فوراً چینج کرنی ہو گی “۔
“میں ڈریسنگ تب ہی کرواؤں گا جب پری کہے گی “اس نے سنجیدگی سے کہا ۔
“مسٹر شاہ ضد نہیں کریں “۔
مگرجہان نے نفی میں سر ہلایا ۔
اسی وقت احمد شاہ روم میں اینٹر ہوئے ۔
ڈاکٹر نے انہیں کہا کے وہ شاہ کو سمجھائیں ۔
مگر جہان نے ان کی بات نہ مانی ۔
آخر کار مجبوراً اس کی ضد سے تنگ آ کر احمد شاہ نے پری سے کہا کہ وہ جہان کو کہہ دے۔
جہان نے شرارتی مسکراہٹ سے پری کو دیکھا جو احمد شاہ کو بےیقینی سے دیکھ رہی تھی ۔
پیچھے کھڑا سالار اس کے اس پلین پر غصے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
وہ سمجھ گیا کہ جہان نے کیوں نہیں گھر میں ڈریسنگ کی
__________
آخر کار پری نے احمد شاہ کی پرامید نظروں کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہا ۔
“ڈریسنگ کروا لو “۔
“سنا نہیں مجھے تھوڑا اونچا اور پیار سے بولو نہ ۔۔۔۔”جہان نے شرارت سے کہا ۔
پری نے اس کی اس بےباکی پر سر جھکا لیا ۔
جبکہ پیچھے کھڑے سالار کو جی بھر کر اس پر غصہ آیا ۔
احمد شاہ نے پری کی شکایتی نگاہوں سے نظریں چرا لی تھیں ۔
“جہان ڈریسنگ کروا لو “اب کے اس نے غصے سے کہا ۔
جہان ایکدم کھلکھلا کر ہنس دیا ۔
جبکہ باقی سب بھی زیرلب مسکرا رہے تھے ۔۔
“میں نے کہا تھا پیار سے کہنا مگر تم تو غصے سے کہہ رہی ہو “اب کے اس نے دوبارہ پری کو زچ کرتے ہوئے کہا ۔
پری نے غصے سے اسے دوبارہ گھورا
پھر ایکدم بولی ۔
“میرے سرتاج ,میرے پیارے جہان شاہ ,میرے نیلی آنکھوں والے شہزادے مہربانی فرما کر ڈریسنگ کروا لیجئے “اس نے لہجے میں نرمی سموتے ہوئے جلدی سے جان چھڑاتے ہوئے کہا ۔
جبکہ اس پر جہان تو کیا باقی سب بھی کھل کر ہنسے۔
ہنستے ہنستے جہان کی آنکھوں میں پانی آگیا ۔
پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگا ۔
“یقین کرو میں بہت بہت خوش ہوں ۔
کآش یہاں کوئی نہ ہوتا تو میں تمہیں ایک بہت خوبصورت انعام بھی دیتا مگر یہ انعام ڈیو ہے “۔
پری نے جلدی جلدی میں یہ بول تو دیا تھا مگر خود ہی ان پر غور کر کے حیا سے سرخ ہو گئی ۔
اوپر سے جہان کا سب کے سامنے یوں بےباکی سے کہنا اسے مزید شرمندہ کر گیا ۔
احمد شاہ نے جہان کو گھورا۔
جبکہ جہان یوں مسکرا رہا تھا جیسے دنیا جہان کی دولت مل گئی ہو ۔
ڈاکٹرز جو کب سے خاموش کھڑے مسکرا کر یہ سب دیکھ رہے تھے ایک بار پھر مسکرائے ۔
انہیں حقیقتاً جہان شاہ کی شخصیت کی بےنیازی نے متاثر کیا تھا ۔
“دین مسٹر شاہ اب تو آپ بینڈیج چینج کروائیں گے “ڈاکٹر نے کہا ۔
“ہمم اب تو کروانی پڑے گی آخر کو مسز جہان شاہ نے کہا ہے “جہان نے مسکراتے ہوئے پری کو لو دیتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
جبکہ پری اس کے طرزمخاطب پر سرخ چہرے سے نگاہیں جھکا گئی ۔
“کاش میں تایا جان کی بات نہ مانتی ‘”اس نے بےاختیار سوچا
۔
جہان ڈاکٹر کے ساتھ باہر چلا گیا جبکہ اس کے پیچھے پیچھے سالار بھی نکل گیا تھا ۔
احمد شاہ نے افسوس سے پری کو دیکھا ۔
“پری بیٹا آئم ساری میں بہت مجبور تھا اگر آپ جہان کو نہیں کہتیں تو وہ کبھی بینڈیج نہ کرواتا آپ تو اس کی ضدی طبیعت جانتی ہیں” ۔
پری نے آہستگی سے گردن ہلا دی۔
جو کچھ ابھی ابھی جہآن بول کے گیا تھا وہ تو حیا سے احمد شاہ کی طرف دیکھ بھی نہ پائی ۔
اسی وقت زمل اینٹر ہوئی جو ابھی ابھی پری کو دیکھنے ہاسپٹل آئی تھی ۔
احمد شاہ ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر باہر چلے گئے ۔
ویسے بھی وہ پری کا گریز سمجھ رہے تھے ۔
“شاہ تم
نے اچھا نہیں کیا ۔”سالآر نے اسے سرزنش کرتے ہوئے کہا ۔
“کیوں میں نے کیا کیا ہے “جہان بولا ۔
جو تم نے پارس ساتھ کیا ۔۔۔۔”۔
بس یہ میرا اور پری کا معاملہ ہے اس میں میں کسی دوسرے کا انٹرفیئر برداشت نہیں کروں گا چاہے وہ میرے ڈیڈ ہی کیوں نہ ہوں “جہان نے دوٹوک کہا ۔
سالار نے اس کا موڈ خراب ہوتے دیکھ کر خاموشی اختیار کر لی۔
ایک ویک بعد پری کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔
ساری فیملی اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی ۔
جبکہ جہان ۔۔۔۔
پری اس سے شدید تنگ آ چکی تھی ۔
ہر وقت اس کے آس پاس ۔۔۔۔۔۔
یہ چیزیں اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھیں ۔
شاہ ہا ؤس میں جب جہان اور پری کے نکاح کا پتا چلا تو ہر کوئی حیران رہ گیا ۔
آج کافی ٹائم بعد وہ بیڈ ریسٹ سے تنگ آ کر کچن میں آئی تھی ۔
ملازمہ کے منع کرنے کے باوجود وہ خود اپنے لیے چائے بنا رہی تھی ۔
ابھی وہ مگ میں ڈال رہی تھی جب ایکدم جہان وہاں اسے دیکھ کر غصے سے چیخا۔
اس کی اس قدر قریب آواز سن کر چائے چھلک کر اس کے ہاتھ پر گر گئی ۔
اس کے منہ سے بےاختیار سسکی نکلی ۔
جہان جو ملازمہ کو ڈانٹ رہا تھا کہ پری کو کچن میں کیوں آنے دیا فوراً اس کے پاس آیا ۔
میں نے منع کیا تھا نہ کہ تم بیڈ سے نہیں اترو گی اور دیکھو ہاتھ جلا لیا “وہ غصے سے بولا ۔
تکلیف کی شدت سے پری کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
جہان نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کئے اور اس کا ہاتھ دیکھا جو جلنے کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا ۔
اس نے بےحد تکلیف سے پری کو دیکھا ۔
چوٹ پری کو لگی تھی مگر درد شاہ کو ہو رہا تھا ۔
اس نے آہستگی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس پر اپنے لب رکھ دئیے ۔
پری نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی مگر جہان نے پکڑے رکھا اور ملازمہ کو آواز دے کر ٹیوب لانے کا کہا ۔
ٹیوب لگا کر اس نے آگ جلائی ۔
پری نے ناسمجھی سے اسے یہ سب کرتے دیکھا ۔
سمجھ تو اسے تب آئی جب جہان نے آگ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔
آمنہ شاہ جو ابھی ابھی وہاں آئی تھیں تیزی سے آگے بڑھیں اور جہان کا ہاتھ کھینچا ۔
پری کانپتے ہوئے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔
“جہان تم کیا کر رہے تھے پاگل ہو گئے ہو کیا “آمنہ شاہ نے روتے ہوئے کہا ۔
“ہاں میں پاگل ہو گیا ہوں اگر پری تکلیف میں ہے تو لازماً جہان کو بھی اسی تکلیف کو برداشت کرنا چاہئے “اس نے غصے سے چیختے ہوئے کہا ۔
پری سن کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔
“شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے روتے ہوئے اسے پکارا ۔
جہان اس کی پکار پر تیزی سے اس کی طرف بڑھا ۔
