Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 04)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 04)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
(دو سال بعد ۔۔۔۔)
“زمل کیا کریں ۔ کیا تایا جان کو بتا دیں ۔”پری نے پریشانی سے پوچھا ۔
“نہیں جہان بھائی کو بتا دیتے ہیں کہ ایک لڑکا ہمیں تنگ کرتا ہے “زمل نے کہا ۔
“تم رہنے دو ۔ شاہ کا تمہیں پتا ہے اگر اسے پتا چل گیا کہ کوئی لڑکا مجھے تنگ کرتا ہے وہ اس لڑکے کو زندہ نہیں چھوڑے گا “پری نے نفرت سے کہا ۔
کئی بار ایسا ہو چکا تھا اور ہر بار جہان ان کا وہ حال کرتا کہ خوف آتا تھا ۔
وقت گزرے کے ساتھ ساتھ وہ پری کے لئے مزید جنونی ہو گیا تھا کہ اس کا بس نہ چلتا کہ پری کو کہیں قید کر دے جہاں صرف وہی پری کو دیکھے اور کوئی پری کو نہ دیکھ پائے ۔ وہ پندرہ سال کی تھی مگر جہان کی نظروں میں جو اس کے لئے تاثر ہوتا وہ اسے اچھے سے سمجھتی تھی تبھی اس سے دور بھاگتی تھی ۔
وہ جتنا اس سے دور بھاگتی وہ اتنا ہی اس کے پاس آتا ۔
باہر سے گزرتے جہان نے ان کی باتیں سن لی تھیں ۔
اس کی نیلی آنکھوں میں سرخی چھا گئی ۔
ماتھے کی رگیں ابھر آئیں ۔
اس کے اندر کی وحشت یہ سوچ کر بڑھتی جا رہی تھی کہ کسی نے اس کی پری نظر اٹھا کر دیکھا ۔
اس کی بیس سالہ زندگی میں ایسا تب ہی ہوتا تھا جب بات پری کی ہوتی تھی ۔
اس نے غصے سے گاڑی نکالی اور کسی کو فون کرنے لگا ۔
جہان اس رات کافی دیر سے گھر آیا ۔ بارہ بجے کا وقت تھا ۔
اس کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا اور بازو بھی زخمی تھے ۔
ماتھے پر بھی پٹی کی ہوئی تھی ۔
اس نے پری کے دروازے پر دستک دی ۔
کمرے کی لائٹ آن تھی جہاں پری اور زمل صبح کے پیپر کی تیاری کر رہے تھے ۔
پری نے بیڈ سے اٹھ کر دروازہ کھولا ۔
سامنے کھڑے جہان کو دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ چیخ مارتی جہان نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور روم میں اینٹر ہو گیا ۔
زمل نے جب جہان کو اس حال میں دیکھا تو خوف سے رونے لگی ۔
“بھائی یہ کیسے ہوا اور آپ کا خون کیسے نکل رہا ہے “اس نے روتے ہوئے پوچھا ۔
جہان نے ایک نظر پری کو دیکھا جس کی آنکھوں میں خوف سے آنسو آگئے تھے ۔
“ایکسیڈنٹ ہوا ہے “اس نے پری کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
“کس سے ۔۔۔۔۔۔۔”پری نے بے اختیار پوچھا ۔
جانے کیوں اسے شک ہو رہا تھا کہ جہان نے آج ان کی باتیں سن لی تھیں ۔
“اسی لڑکے سے جس نے میری باربی کی طرف دیکھنے کی جرآت کی ۔ اور فکر مت کرو اب وہ تنگ نہیں کرے گا کیونکہ وہ آئ سی یو میں ہے اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں “۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر پری کے آنسو صاف کئے جو اس کی بات سن کر مزید روانی سے بہہ رہے تھے ۔
“تمہیں دیکھنے کا حق صرف جہان شاہ کے پاس ہے ۔ “اس نے اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا .
____________
“جہان کیا ہوا ہے اور یہ زخم کیسے آئے “اگلی صبح آمنہ شاہ نے پریشانی سے جہان سے پوچھا جو ناشتے کی ٹیبل پر آیا تھا ۔
“کچھ نہیں کل ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا “اس نے لاپرواہی سے کہا اور ناشتہ کرنے لگا ۔
اس کے اس لاپرواہ لہجے پر سب نے حیرت اور پریشانی سے اسے دیکھا ۔
پری نے بھی اسے حیرت سے دیکھا جو اطمینان سے ناشتہ کر رہا تھا ۔
“کیا شاہ کو درد نہیں ہو رہا “اس نے حیرت سے سوچا ۔
اسی وقت جہان نے اسے دیکھا ۔
نگاہیں ملنے پر جہان نے اس کی آنکھوں میں مچلتے سوال کو دیکھا ۔
اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ۔
پری نے اسے مسکراتے دیکھ کر جلدی سے سر جھکا لیا ۔
مگر وہ ابھی بھی پری کو دیکھے جا رہا تھا ۔
احمد شاہ نے اسے پری کو گھورتے دیکھا تو غصے سے اسے آواز دی ۔
پری اور زمل نے جلدی جلدی خدا حافظ کہا اور کالج کے لئے نکل گئیں ۔ باہر ڈرائیور ان کا انتظار کر رہا تھا ۔
“پری تم مجھ سے محبت کرتی ہو”اس نے پری سے پوچھا ۔
نیلی آنکھوں میں اک امید تھی ۔
“نہیں “اس نے دوٹوک جواب دیا اور مووی دیکھنے لگی ۔
“وجہ “ایک دم اس کا پرسکون چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ ہوا ۔
“میں تمہیں جواب دینے کی پابند نہیں “اس نے کہا اور دوبارہ مووی دیکھنے لگی ۔
“میری طرف دیکھو ۔ کیوں نہیں مجھ سے محبت کرتی ۔کیوں اتنی نفرت کرتی ہو۔تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا جو تمہاری بےگانگی پر میں روز مرتا ہوں “اس نے صوفے پر بیٹھی پری کو اپنی طرف کیا اور خود اس کے قدموں میں بیٹھ گیا ۔
“دور رہو مجھ سے “اس نے کمزور لہجے میں کانپتے ہوئے کہا ۔
“کیوں دور رہوں تم سے ۔ جس دن شاہ اپنی پری سے دور ہوا وہ دن شاہ کی زندگی کا آخری دن ہو گا ۔
اس نے پراذیت لہجے میں کہا ۔
اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے اور طویل لاؤنج میں ان کے سوا کوئی نہ تھا ۔
اسی وقت احمد شاہ لاؤنج میں اینٹر ہوئے ۔
ان کے ہاتھ میں ایک اینویلپ تھا ۔
“جہان تمیز کرو۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی پری کو ٹچ کرنے کی “انہوں نے غصے سے کہتے ہوئے پری کو اس سے علیحدہ کیا ۔
“کیوں نہیں ٹچ کر سکتا میں پری کو ۔ نہیں ری سکتا میں پری کے بغیر ۔”اس نے غصے سے کہا ۔
“میں نے تمہاری لندن کی ٹکٹ کروا دی ہے ابھی چار بجے تمہاری فلائٹ ہے اور جو کچھ بھی چاہیے ہوا وہاں سے لے لینا ۔ تمہاری ساری شاپنگ لندن میں خاور کروا دے گا ۔”انہوں نے اب نرمی سے کہا اور خود آمنہ شاہ کو بتانے چلے گئے ۔
جوان اور اکلوتے بیٹے کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے مگر وہ دن بدن پری کے لئے مشکل بنتا جا رہا تھا ۔
“نہیں جاؤں گا میں “اس نے ہٹ دھرمی سے کہا ۔
“اگر پری کو پانا چاہتے ہو تو پہلے اسٹڈیز کمپلیٹ کرو اور کچھ کر کے دکھاؤ ۔”انہوں نے سنجیدگی سے کہا ۔
جہان نے ان کی بات سن کر ازیت سے انہیں دیکھا ۔
وہ پری کے بغیر ایک سیکنڈ نہیں رہ سکتا تھا کجا کہ اتنے سال ۔۔۔۔۔
اس نے ایک فیصلہ کیا ۔
“مجھے منظور ہے “اس نے سرد لہجے میں کہا اور ایک نظر پری کو دیکھا جو بےیقینی سے احمد شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔”کیا جہان شاہ اپنی باربی کو دیکھے بغیر رہ سکتا ہے ۔ کبھی نہیں ۔۔۔۔۔”اس نے پراسرار مسکراہٹ سے سوچا ۔
فلائٹ سے ایک گھنٹہ پہلے وہ نکلا ۔
جاتے ہوئے وہ آخری بار پری کے کمرے میں آیا ۔ وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔
آنکھیں نم تھیں ۔
جہان کے اینٹر ہوتے ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
“میں جا رہا ہوں مگر میری ایک بات اپنے دل و دماغ میں بٹھا لو ۔تم میری امانت ہو ۔
اور اپنے آپ کو میرا پابند سمجھو۔
بہت جلد تمہیں مسز جہان شاہ بناؤں گا ۔
اور تم صرف شاہ کی ہو ۔ مجھ سے دور ہونے کی سوچنا بھی مت ۔
میں جا رہا ہوں مگر میری نظر تم پر ہی ہو گی ۔ ہر لمحہ ۔۔۔۔۔”اس نے پراسرار مسکراہٹ اور حق جتاتے ہوئے کہا ۔
البتہ آنکھیں شاہ کی بھی نم تھیں ۔
وھ کس اذیت میں تھا صرف وہی جانتا تھا ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کئے اور اس کے ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لئے ۔
پری ڈر کر کانپ رہی تھی کہ مزاحمت بھی نہ کر پائی ۔
وہ لندن پہنچ گیا ۔ جاتے ہوئے وہ کسی سے بھی نہ ملا ۔
اس نے اپنے بہت سے کانٹیکٹ بنائے جن کی مدد سے وہ ہر چھ ماہ بعد پاکستان ہوتا ۔
اس کے انہی کانٹیکٹس کی بدولت احمد شاہ بھی کبھی اس بات کو جان نہ پائے ۔
پری ابھی یونیورسٹی سے آئی تھی کہ اسے گھر میں کسی غیر معمولی چیز کا احساس ہوا مگر اسے معلوم نہ ہو سکا ۔
وہ پوری رات اس نے جاگتے ہوئے ماضی کی یادوں میں گزاری تھی ۔
وہ فریش ہو کر باھر آیا ۔
پری اپنے دھیان میں وہاں سے گزر رہی تھی کہ جب اسے مخصوص کلون کی مہک محسوس ہوئی ۔
اس نے بےاختیار دھڑکتے دل کے ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں شاہ فرصت سے بازو سینے پر لپیٹے چمکتی نیلی آنکھوں سے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
“شاہ “اس کے منہ سے بےاختیار نکلا جہاں مقابل کھڑا شخص اسے دیوانہ وار دیکھ رہا تھا .
____________
“شاہ تم یہاں کیا کر رہے ہو “اسی وقت آمنہ شاہ آئیں ۔
انہوں نے پری اور جہان کو دیکھا تو بے اختیار ڈر گئیں ۔
پری کو شاہ کی آمد سے بے خبر رکھا گیا تھا ۔
“میں کل واپس آ گیا ہوں “اس نے حیران کھڑی پری کو مسکراتے ہوئے بتایا ۔
پری نے شکایتی اور دکھ بھری نظروں سے آمنہ شاہ کی طرف دیکھا ۔
جبکہ آمنہ شاہ نے نظریں پھیر لیں اور ناشتے کی ٹیبل پر آنے کا کہہ کر چلی گئیں ۔
“تم نے مجھے مس کیا “اس نے مسکراتے ہوئے پری سے پوچھا جو وہاں سے جانے لگی تھی ۔
“میں جانتا ہوں تم نے مجھے مس کیا ہو گا مگر میرے سامنے اقرار نہیں کرو گی ۔”اس نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا ۔
پری کوئی جواب دئیے بغیر غصے سے آگے بڑھ گئی ۔
وہ وہیں مسکراتا کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا ۔
پری آمنہ شاہ کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھی تھی ۔
سب ناشتہ کر رہے تھے ۔
جہان جب آیا تو پری کو آمنہ شاہ کے ساتھ بیٹھے دیکھا ۔
“ماما جلدی اٹھیں مجھے کام ہے “اس نے جلدی سے آمنہ شاہ سے کہا ۔
آمنہ شاہ اس کے یوں بولنے پر فوراً چیئر سے اٹھیں تو جہان نے انہیں پکڑ کر ساتھ والی چیئر پر بٹھا دیا اور خود اس چیئر پر پری کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
“مجھے کوئی کام نہیں مجھے بس پری کے ساتھ بیٹھنا تھا “اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
جبکہ پری تو کیا تمام افراد اس کی بے باکی پر حیران رہ گئے ۔
پری ایکدم اٹھ کر جانے لگی تو جہان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ چیئر پر بٹھا دیا ۔
“ناشتہ کر کے جاؤ ورنہ میں اپنے ہاتھوں سے کرواؤں گا “اس نے زبردستی اسے کہا اور خود بھی ناشتہ کرنے لگا۔
پری اس وقت بہت بے بسی محسوس کر رہی تھی ۔ وہ بار بار پلکیں جھپک کر آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
اس بات کو وہاں موجود تمام افراد نے محسوس کیا ۔
احمد شاہ کو جہان پر بے حد غصہ آیا جس نے آتے ہی پرانی حرکتیں دوبارہ کرنا شروع کر دی تھیں ۔
“بھائی جان کیوں نہ جہان کے آنے کی خوشی میں کوئی فنکشن رکھا جائے “موسیٰ شاہ نے ماحول کی افسردگی کم کرنے کی کوشش کی ۔
ان کا لہجہ لاڈلے بھتیجے کی محبت سے پر تھا ۔
“ہاں رکھتے ہیں سب کو جہان کی واپسی کا معلوم ہو گیا ہے “انہوں نے کہا ۔
فنکشن کرنا ہے تو کریں مگر پری فنکشن میں شامل نہیں ہو گی “اس نے سرد لہجے میں کہا ۔
“وجہ “احمد شاہ نے غصے اور حیرانی سے پوچھا ۔
کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے علاوہ کوئی اور پری کو دیکھے “اس نے شدت پسند لہجے میں کہا ۔
اور ٹیبل سے اٹھ گیا ۔
جاتے جاتے پری سے بولا “فنکشن ٹائم اپنے روم میں رہنا “,
اور چلا گیا ۔
آمنہ شاہ نے پریشانی سے احمد شاہ کی طرف دیکھا ۔
“پری فنکشن اٹینڈ کرے گی “انہوں نے کہا اور جوس پینے لگے ۔
پری کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا کرے ۔
اس نے شکوہ کناں نظروں سے زمل کو دیکھا جس نے اسے اس سب بے خبر رکھا تھا ۔
زمل نے اسے یوں دیکھتے دیکھ کر نظریں چرا لیں ۔
“پری پلیز مان جاؤ نہ ۔ ماما نے منع کیا تھا کہ تم ٹینشن لو گی پہلے ہی ڈاکٹر نے تمہیں سٹریس لینے سے منع کیا ہے “۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے پری کو منا رہی تھی ۔
مگر پری کو بےحد دکھ تھا کہ اس سے ہر بات شیئر کرنے والی زمل نے اس سے اتنی بڑی بات چھپائی ۔
آنکھیں رو رو کر سرخ ہو گئی تھیں ۔
کافی دیر بعد جا کر پری مانی ۔
اسی وقت لاریب وہاں سے گزری ۔
صبح جو کچھ ناشتے کی ٹیبل پر ہوا اسے بھلائے نہ بھول رہا تھا ۔
“ہوں پہلے ادائیں دکھا کر دیوانہ کرتی ہیں پھر آنسو بہا کر معصوم بن جاتی ہیں “۔ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
اس کی بات سن کر زمل کو بےحد غصہ آیا ۔
جبکہ پری حیرت سے سن رہی تھی ۔
“آج کے بعد پری کو دوبارہ ایسا کچھ مت کہنا ورنہ جہان بھائی کو بتا دوں گی “زمل نے غصے سے کہا اور پری کا ہاتھ پکڑ کر لان سے کمرے میں آ گئی ۔
“پری پلیز ٹینشن نہیں لو ۔ اسے یوں بولنے کی عادت ہے اور پلیز رونا بند کرو “اس نے پریشانی سے پری سے کہا جو لاریب کی بات پر روئ جا رہی تھی ۔
اسی وقت جہان پری کے روم میں اینٹر ہوا مگر پری کو روتا دیکھ کر وہ جلدی سے آگے بڑھا ۔
“کیا ہوا ہے پری کیوں رو رہی ہو “اس نے غصے سے پوچھا ۔
“بھائی لاریب نے پری سے بہت غلط باتیں کہی ہیں “زمل نے جلدی سے جہان کو بتایا جو بے حد غصے میں آگیا تھا ۔
یہ سن کر وہ فوراً موسیٰ شاہ کے پورشن کی طرف بڑھا ۔
لاریب اپنی کسی دوست سے فون پر پری کے بارے میں بہت غلط باتیں کر رہی تھی ۔
جہان کے غصے کا گراف مزید بڑھ گیا ۔
اس نے آگے بڑھ کر زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا ۔
لاریب جو اس کی آمد سے بےخبر تھی اس افتاد پر حیران رہ گئی ۔
اور بےیقینی سے اپنے رخسار پر ہاتھ رکھا ۔
“اگر دوبارہ تمہاری وجہ سے پری کی آنکھوں میں آنسو آئے تو میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گی ۔ اور میری یہ لاسٹ وارننگ ہے “اس نے نفرت سے کہا اور چلا گیا ۔
“جہان تم سے میں اس تھپڑ کا بہت جلد بدلہ لوں گی “اس نے نفرت سے سوچا ۔
“جہان تم پلیز پری کو چھوڑ دو ۔ تم نے اسے بےحد دکھ دئيے ہیں “آمنہ شاہ نے آہستگی سے کہا ۔
جہان جو آرام سے آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہوا تھا ایک سیکنڈ میں اٹھ کھڑا ہوا ۔
“ماما آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے “اس کا پرسکون موڈ ایک دم غصے میں بدلا ۔
“پری میرے لئے نشہ ہے جس سے جدائی میری موت ہے “اس نے سرد لہجے میں کہا اور چیئر کو ٹھوکر مارتا ہوا باہر چلا گیا ۔
آمنہ شاہ پریشانی سے اسے جاتا دیکھتی رہیں ۔
شاہ ہاؤس بےحد خوبصورت لگ رہا تھا ۔
تمام گیسٹ آچکے تھے ۔
جہان سیاہ ڈنر ڈریس میں بےحد وجیہہ اور خوبرو لگ رہا تھا ۔
وہ سالار سے بات کر رہا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا ۔
وہاں موجود تمام لڑکیاں اسے دیوانہ وار دیکھ رہی تھیں ۔
اچانک سامنے کھڑے لڑکے نے اس کے پیچھے دیکھتے ہوئے ماشاءاللہ کہا ۔
اس نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا جہاں پری پنک میکسی میں زمل کے ساتھ کھڑی تھی ۔
اسے وہاں دیکھ کر جہان کا غصے سے رنگ سرخ ہوگیا ۔
نیلی آنکھیں سرخی لئے ہوئے تھیں ۔
کئی لوگ پری کو گھور رہے تھے جو اس کی برداشت سے باہر تھا ۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا گلاس زور سے فرش پر دے مارا جو کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔
گلاس گرنے کی آواز پر سب نے جہان کو دیکھا جو غصے سے پری کی طرف جا رہا تھا ۔
پری ڈر کر کانپتی ہوئی اسے اپنی طرف آتا دیکھ رہی تھی ۔
