Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 10)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 10)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
جہان نے آگے بڑھ کر پری کے آنسو صاف کئے اور پریشانی سے اسے دیکھا جو گھبراتے ہوئے جہان کو دیکھ رہی تھی ۔
جہان نے دوبارہ غصے سے اس سیلزمین کو گھورا جسے دوسرے نے سہارے سے کھڑا کیا تھا ۔
پھر جھک کر پری کے پاؤں میں خود جوتا ڈالنے لگا ۔
ایک خوبصورت ریڈ ہیل والا شوز پہنا کر اس نے استفہامیہ نظروں سے پری کو دیکھا ۔
جو خاموشی سے نظریں جھکائے اپنے پاؤں کو دیکھ رہی تھی جو جہان نے نرمی و محبت سے پکڑا ہوا تھا ۔
“پسند آیا۔۔۔۔۔۔”اس نے مدھم لہجے میں پوچھا ۔
“پری نے گھبراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔
“ہمم۔۔۔۔ہم اور دیکھ لیتے ہیں “۔وہ محبت سے بولا۔
پاس کھڑے سیلزمین نے حیرت سے جہان کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے انتہائی غصے و جنونیت کا مظاہرہ کر رہا تھا اور اس وقت اس کے چہرے پر نرمی کے تاثرات تھے ۔
اس نے رشک سے پری کو دیکھا ۔
پھر جہان نے ایک اور گولڈن ہیل والا جوتا اسے پہنایا ۔
اس کے دودھیا پاؤں میں گولڈن جوتا بے انتہا جچ رہا تھا ۔
“یہ کیسا ہے۔۔۔۔”اس نے پوچھا ۔
“میں ۔۔۔۔میں یہ پہن کر گر جاؤں گی ۔۔۔۔”وہ گھبراتے ہوئے آہستگی سے بولی۔
جہان نے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا جو کانپ رہے تھے ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑا ۔
“ہمم۔۔۔۔۔میں تمہیں سنبھال لوں گا ۔
جہان شاہ اپنی زندگی کو کبھی گرنے نہیں دے گا۔یہ جہان شاہ کا تم سے وعدہ ہے ۔”وہ مدھم سرگوشی سے بولا ۔
اس کی آواز صرف پری تک پہنچی تھی ۔
پری نے حیا سے سنا اور بامشکل اپنے آپ کو کنٹرول کیا ؟
دل کی دھڑکن کی آواز اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔
جہان نے اپنے اردگرد دیکھا ۔
کئ لوگ وہاں کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے ۔
“جہان کی غصے سے گھورتی نگاہوں سے گھبرا کر تمام لوگ جلدی سے آگے بڑھ گئے ۔
“بھائی باقی رومینس گھرجا کر
“زمل شرارت سے بولی ۔
شوز لینے کے بعد وہ ایک جیولری شاپ میں چلے گئے ۔
۔
“جلدی سے لو جو بھی لینا ہے مجھے مغرب کی نماز ادا کرنے بھی جانا ہے “جہان نے کہا اور خود ایک نیکلس کو دیکھنے لگا ۔
“پری تم یہ لو گی ہر قیمت پر۔
انکار کی گنجائش نہیں ۔۔۔۔۔۔”وہ مدھم لہجے میں شدت پسندی سے بولا ۔وہ جانتا تھا پری کو
جیولری کا بالکل شوق ننہیں ہے اس لئے تھوڑا زور دے کر پری کو وہ نیکلس دکھاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
اس نیکلس کی چمک نے ایک لمحے کو پری کی آنکھوں کو چندھیا دیا تھا ۔
اسے جیولری کا شوق نہیں تھا اس لئے نفی میں سر ہلایا ۔
جہان کے چہرے کے تاثرات ایک لمحے۔میں بدلے۔
بلاشبہ وہ اپنے آپ کو بدل رہا تھا ۔
اپنے رب کے نزدیک ہو رہا تھا مگر اپنی کچھ عادتوں کو بدلنے میں جو پری کے لیے تھیں سخت مشکل ہو رہا تھا ۔
__________
پری نے اس کی طرف دیکھا جو نیلی آنکھوں سے بغور اسے دیکھ رہا تھا ۔
اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں اور جلدی سے زمل کے پاس چلی گئی ۔
جہان نے لب بھینچ کر اسے جاتے دیکھا ۔
اور نیکلس پیک کروانے لگا ۔
باقی کا سارا ٹائم اس کے چہرے پر دبیز خاموشی تھی ۔
عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ پری کے روم میں گیا ۔
ناک کرکے وہ اینٹر ہوا تو اسے دیکھ کر بےاختیار اس کی طرف بڑھا ۔
پری شاور لے کر ابھی نکلی تھی ۔
گیلے بالوں سے نکلتی پانی کی بوندوں کو ابھی ٹاول سے صاف کرنے لگی تھی کہ ڈور ناک ہوا ۔
وہ سمجھی شاید زمل ہو گی مگر جہان کو دیکھ کر گھبرا کر پیچھے ہوئی ۔
جہان آہستگی سے چلتا ہوا اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔
پری نے جلدی سے آگے بڑھ کر دوپٹہ لینا چاہا مگر جہان نے اسے بازو سے پکڑ کر سامنے کیا ۔
پری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
گھبراہٹ اور حیا سے وہ لرز اٹھی تھی ۔
جہان وہاں سنجیدہ موڈ سے آیا تھا ۔
مال میں جس طرح پری اس کی بات سنے بنا زمل کے پاس چلی گئی تھی اسے بےحد غصہ آیا تھا ۔
باقی کا سارا ٹائم بھی اس کا موڈ خراب رہا تھا ۔
مگر پری کو دیکھ کر جیسے سارا غصہ ختم ہو گیا تھا ۔
اس نے دیکھا پری کے گلے میں وہی پینڈنٹ تھا جو وہ اس رات پہنا کر گیا تھا ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر پینڈنٹ چھوا جس پر j لکھا ہوا تھا ۔
آنسو پری کے رخسار سے ہوتے ہوئے جہان کے ہاتھ پر گرے۔
جہان نے اس کے آنسو صاف کئے ۔
“تری آنکھیں بھی عجب مصیبت ہیں ۔۔
میں کوئی بات کہنے آیا تھا “
وہ پرفسوں لہجے میں مدھم سا بولا ۔
حیا سے پری کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔
جہان نے مسکرا کر اسے دیکھا اور آہستگی و نرمی سے اس کے چہرے پر شہادت کی انگلی رکھی ۔
“معلوم ہے تمہیں دیکھ کر میرے دل میں کیا بات آتی ہے ۔۔۔”
وہ مدھم سا بولا ۔
پری نے گھبرا کر اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔
جہان مدھم سا ہنسا ۔
“میرے دل میں آتا ہے ۔۔۔۔
فبای لا ئی ربّک ما تکزبان۔”
پری نے حیرت سے اسے دیکھا جو یہ کہہ کر اس کی پیشانی کو چوم رہا تھا ۔
اور باہر چلا گیا ۔
پری نے اس کے جاتے ہی جلدی سے ڈور لاک کیا ۔
اس نے بمشکل خود کو سنبھالا تھا ۔
اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا دل ابھی باہر نکل آ جائے گا ۔
“ڈیڈ مجھے آپ سے بات کرنی ہے”۔
وہ بولا تھا ۔
“خیریت ہے جہان”۔
انہوں نے پریشانی سے پوچھا ۔
“جی ڈیڈ میں چاہتا ہوں آپ پری سے پوچھ کر ہماری شادی کی اناؤنسمنٹ کر دیں “۔
وہ بولا تھا ۔
احمد شاہ نے ہنستے ہوئے دیکھا ۔
“ممم ۔۔۔۔ میرے بیٹے کو دلہا بننے کی کتنی جلدی ہے “انہوں نے مسکراتے ہوئے جہان کو چھیڑا ۔
جہان کھلکھلا کر ہنسا ۔
“میں آج ہی پری سے بات کرتا ہوں ۔۔۔۔”انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“ڈیڈ میں آج آپ سے کچھ شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔”اس نے سنجیدگی سے کہا ۔
“بولو جہان ۔۔۔۔۔”انہوں نے کہا ۔
“آج میں ایک بات جان گیا ہوں ۔۔۔۔
میں جان گیا ہوں کہ بابا سائیں نے پری سے میرا نکاح کیوں کروایا تھا اور اس میں ان کی کیا مصلحت تھی ۔۔۔۔”وہ دھیرے دھیرے بول رہا تھا ۔
احمد شاہ بھی حیرانی سے سن رہے تھے کہ آخر بابا سائیں کی وہ کیا مصلحت تھی جس کا آج تک کسی کو نہ پتا چلا تھا ۔
جہان نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا اور دوبارہ گویا ہوا۔۔۔۔
“وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں کسی گناہ کا مرتکب ہوں ۔
وہ پری کے لئے میری شدت پسندی جانتے تھے ۔
وہ جانتے تھے میں سب کے روکنے کے باوجود اس کے پاس جاؤں گا ۔
اس لئے انہوں نے مجھے پری سے نکاح جیسے پاکیزہ رشتے میں باندھ دیا ۔
انہوں نے ہم مجھے ایک بڑے گناہ سے بچا لیا ۔
انہوں نے میرے اندر کو جانچ لیا تھا ۔
اس نکاح میں ان کی یہ مصلحت تھی “۔
وہ آنکھیں بند کرکے آہستگی سے بول رہا تھا ۔
احمد شاہ حیرت سے سن رہے تھے ۔
جسے بات کو وہ کبھی نہ سمجھ پائے تھے آج جہان سمجھ گیا تھا ۔
انہوں نے بےاختیار اپنے رب کا شکر ادا کیا ۔
جبکہ جہان عب بھی آنکھیں بند کر کے سوچ رہا تھا کہ اگر اس کا پری سے نکاح نہ ہوا ہوتا اور وہ بغیر کسی تعلق کہ پری کو چھوتا تو کیا میرا رب مجھے معاف کرتا ۔۔۔۔۔
“الحمدللہ ۔۔۔
الحمدللہ ۔۔۔۔
میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھے اپنا برگزیدہ بندہ بنا ۔۔۔۔۔”وہ زیرِ لب بولا تھا ۔
احمد شاہ خاموشی سے بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
“جہان مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔”لاریب نے خوشامدی لہجے میں کہا ۔
“جہان جو ظہر کی نماز پڑھنے جا رہا تھا اس کی آواز پر ایک لمحے کو رکا ۔
لاریب کا بناوٹی لہجہ اس کا موڈ خراب کر رہا تھا ۔
“جلدی بولو ۔۔۔۔”اس نے کہا ۔
“جہان میں نے تمہیں بتانا تھا جتنا تم پری کو معصوم سمجھتے ہو وہ اتنی معصوم نہیں ہے ۔
وہ ایک انتہائی برے کریکٹر کی ہے ۔
جب تم یہاں نہیں تھے تو میں نے ایک بار دیکھا تھا اس کی برتھڈے کی رات کوئی لڑکا اس کے کمرے میں گیا تھا ۔
جہان جسے تم ایک پاکیزہ لڑکی سمجھتے ہو وہ ایسی نہیں بلکہ انتہائی مکار اور بری ہے ۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی جہان نے اسے زور سے تھپڑ مارا کہ وہ ایکدم پیچھے ہوئی ۔
“تمہارے ہمت کیسے ہوئی پری کے بارے میں اس قدر گھٹیا بات کی ۔۔۔۔۔اگر آج کے بعد اس کے بارے میں ایسی بات کی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔
پری کی پاکیزگی کے لئے مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ۔
جہان شاہ اپنی بیوی پر بےپناہ اعتبار کرتا ہے اور وہ ایسا اعتبار نہیں جو تم جیسی لوز کریکٹر جیسی لڑکی کی باتوں میں ق کر ختم ہو جائے ۔
تم کیا اگر پوری دنیا بھی اس کے بارے میں ایسا کہے گی جہان شاہ کبھی نہیں مانے گا مجھے اپنی بیوی پر خود سے زیادہ اعتبار ہے ۔۔۔۔”وہ دھاڑا تھا ۔
آنکھیں سرخ ہو گئیں تھیں ۔
لاریب ڈر کر فوراً اندر بھاگی۔
اس کی خود کی چال ہی الٹی پڑ گئی تھی ۔
جہان نے بمشکل خود کو قابو کیا اور نماز ادا کرنے چلا گیا ۔
سب ڈنر کر رہے تھے ۔
جہان پری کے سامنے والی چیئر پر بیٹھا تھا ۔
رات کے واقعے کے بعد پری اس کے سامنے نہیں آئی تھی اب بھی اس سے آنکھیں چرائے وہ خاموشی سے ڈنر کر رہی تھی ۔
“ڈیڈ مجھے آپ سب کو کچھ بتانا ہے ۔۔”اس نے سنجیدگی سے کہا ۔
نظریں البتہ پری پر تھیں ۔
لاریب کا رنگ اڑ گیا ۔
اگر جہان نے سب کو بتا دیا تو ۔۔۔۔اگر بتایا تو میں بھی سب کو بتا دوں گی کہ کوئی لڑکا پری کے روم میں آتا تھا ۔۔۔۔”اس نے نفرت سے سوچا ۔
سب نے نظریں اٹھا کر حیرانگی سے جہان کو دیکھا جو پری کو دیکھ رہا تھا ۔
“میں پچھلے پانچ سالوں میں کئی بار آپ سب کی غیر موجودگی میں یا رات کو پری کو دیکھنے آتا تھا جس بات کا پری کو بھی نہیں معلوم ۔۔۔۔”اس کی بات پر وہاں موجود تمام افراد نے بےیقینی سے جہان کو دیکھا ۔
پری نے بھی ایکدم اسے دیکھا تھا ۔
جو اسے نظروں کے حصار میں رکھے بولا تھا ۔
“ڈیڈ آپ کو سمجھ جانا چاہئے تھا کہ میں اتنی آسانی سے پری سے کیسے دور ہو سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سنجیدگی و متانت سے بولا تھا ۔۔۔
_________
“جہان یہ تم کیا کہہ رہے ہو “احمد شاہ حیرانی سے بولے۔
“ڈیڈ میں صحیح کہہ رہا ہوں ۔
مجھے لگا آپ سب کا بتانا مناسب ہے کیونکہ میں نہیں چاہتا کوئی بھی پری کے بارے میں غلط سوچے۔”اس نے سنجیدگی سے کہا اور جوس پی کر اٹھ گیا ۔
سب خاموشی سے اسے دیکھ کر رہ گئے ۔
اس کے جانے کے فوراً بعد پری بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی ۔
اسے کچھ وقت کی لئے تنہائی درکار تھی ۔
سب نے پریشانی سے اسے جاتے دیکھا ۔
جبکہ لاریب کے چہرے پر ڈر کے آثار تھے ۔
جو کچھ وہ پری کے خلاف غصے میں بول آئی تھی اب اسے پچھتاوا ہو رہا تھا ۔
“اگر جہان نے سب کو بتا دیا ۔۔۔۔۔” اس نے پریشانی سے سوچا ۔۔
جبکہ باقی سب سوچ رہے تھے کہ وہ کبھی جہان کو نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔۔
“جہان تم دعا کرو مجھے بھی میرا رب صراط مستقیم پر چلائے “سالار نے کہا ۔
اس وقت وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔
“میں دعا کرتا ہوں مگر تمہیں بھی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔”وہ بولا ۔
“مطلب میں کیسے کوشش کر سکتا ہوں ۔۔”سالار نے حیرانگی سے پوچھا ۔
“تمہیں میں ایک مثال دیتا ہوں ۔۔۔”جہان مسکرا کر بولا اور دوبارہ گویا ہوا ۔
“دیکھو اگر تم بیمار ہو اور تم مجھے کہو کہ میرے حصے کی میڈیسن تم کھا لو تو کیا تم ٹھیک ہو جاؤ گے ۔
جبکہ اگر میڈیسن میں کھاؤں گا تو تم تو بیمار ہی رہو گے ۔۔۔۔۔”جہان متانت سے بول رہا تھا جبکہ سالار دم بخود اس کی بات سن رہا تھا ۔
“بالکل اسی طرح اگر تم۔خود کو بہتر کرنے کی کوشش نہیں کرو گے تو ہم بھی تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتے ۔
ہر انسان خود کو بدل سکتا ہے کجا کہ وہ خود کوشش کرے ۔
بلاشبہ دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں اور ہم کیا دعا مانگتے ہیں ۔
اھدنا الصراط المستقیم
“
وہ بول رہا تھا اور سالار سن رہا تھا ۔
جبکہ اب جہان آنکھیں بند کر کے سوچ رہا تھا بلاشبہ یہ میری دعائیں ہی تھیں جو میرے رب نہ پری کے دل میں میری چاہت ڈالی۔
“جہان میں اپنے رب س بہت شرمندہ ہوں میں نے تو اتنا ٹائم ہو گیا نماز بھی نہیں پڑھی۔
“سالار شرمندگی سے بول رہا تھا ۔
“میں صبح قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا تو ایک بات نے مجھے میرے رب کے مزید قریب کر دیا ۔۔۔۔”۔ جہان بولا تو سالار دلچسپی سے سننے لگا ۔
“معلوم ہے میں تلاوت کر رہا تھا تو ساتھ ترجمہ بھی پڑھ رہا تھا ۔
اچانک میرا دل کیا کہ میں اتنا روؤں کے میرا رب میرے سارے گناہ معاف کردے ۔
قرآن پاک میں جہان بھی ہمیں عذاب کی وعید دی گئی ہے اور دوزخ کا بتایا گیا ہے تو بالکل اس کی اگلی آیات میں جنت کا ذکر ہے ۔
یعنی میرا رب کس قدر رحمان ہے کہ جہان اس نے ہمیں کسی چیز سے بچنے کی تلقین کی اس سے بالکل آگے ہمیں اس کا انعام بھی سنا دیا اگر تم پرہیزگار بنو گے اور اپنے رب کے احکامات پر عمل کرو گے تو تمہیں جنت میں داخل کیا جائے گا ۔
قرآن میں ہے کہ جنت میں نہریں بہہ رہی ہیں ۔
وہاں ہر طرف سکون ہو گا دودھ کی نہریں ۔۔۔۔
سبحان اللہ
میں سوچتا ہوں کیسے نہریں بہتی ہوں گی کیسا وہ سماں ہو گا ۔
ہم اپنے رب سے ملاقات کریں گے ۔۔
سبحان اللہ
سبحان اللہ
“۔
جہان اشتیاق آور جزب سے بول رہا تھا اور سالار یوں سن رہا تھا کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو گویا سماعت کا کام کر رہا ہو ۔
جہان چپ ہوا تو اس نے محسوس کیا جیسے کچھ غیر معمولی ہو جبکہ سالار بھی آنکھیں بند کر کے سن رہا تھا ۔
