Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Fateh Alam (Episode 14)

Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat

جہان جب دوبارہ آیا تو اس کے ساتھ سالار کی فیملی بھی تھی ۔

“موم آپ یہاں ۔۔۔۔”سالار حیرانی سے آگی بڑھا ۔۔۔

“پھر سب سے ملنے لگا ۔

“آج میرے بیٹے کا نکاح ہے ہم نے تو آنا ہی تھا “۔

سالار کی موم نے مسکراتے ھوئے کہا جس پر سالار کو ایکدم جھٹکا لگا ۔,

اس نے حیرانی سے جہان کو دیکھا جو اسے دیکھ کر شرارت سے مسکرا رہا تھا ۔

“جہان سچ میں ۔۔۔۔۔”وہ پرجوش ہوتا جہان کو بولا ۔

جہان نے ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔

سالار ایک دم اس کے سینے سے آلگا اور اسے زور سے بھینچا ۔

جبکہ سب حیرانی سے اس کی خوشی دیکھ رہے تھے ۔

سالار نے جلدی سے زمل کو دیکھا جو پری کے ساتھ بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔

نگاہیں ملنے پر اس نے فوراً نظریں جھکا لیں جس پر سالار کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آ گئی ۔

سب اس بات سے بےخبر تھے ابھی مزید سرپرائز بھی ہے ۔

اس ی وقت احمد شاہ کے ساتھ مولوی صاحب آئے ۔

جہان

اٹھ کر ان کی طرف بڑھا ۔

جبکہ سالار کی فیملی اب زمل کے ساتھ ساتھ باقی سب سے مل رہی تھی ۔

؁؁؁؁

“مولوی صاحب نکاح شروع کریں ۔”موسیٰ

شاہ نے کہا ۔

جس پر مولوی صاحب نے جہان اور پری کا نکاح پڑھانا شروع کیا ۔

“میں نے کہا تھا نہ تمہیں پوری دنیا کے سامنے اپناؤں گا ۔

آج سب گواہ ہیں تم میری ہو ۔۔۔۔۔”جہان نے آہستگی سے پری کے کان میں سرگوشی کی ۔

جس پر پری کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔

“مولوی صاحب جلدی اس کا نکاح پڑھا کر میرا پڑھائیں “سالار بےچینی سے بولا جس پر سب ہنس دئیے ۔

مولوی صاحب بھی مسکرا کر نکاح پڑھانے لگے ۔

پری سے جب پوچھا گیا تو بےساختہ اس کے آنسو نکلنے لگے ۔

زندگی کے سارے پل آنکھوں میں دوڑنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہان کی دیوانگی ,اس کا جنوں جو اس کے اعتماد اور کانفیڈنس کو ختم کر گیا تھا ۔

اس کا درد,تکلیف جو جہان کی وجہ سے اسے ملتا ۔۔۔۔۔۔۔

آج وہی اس کی زندگی کا کل مختار بن گیا تھا ۔

جہان نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔

اس نے آہستگی سے قبول ہے کہا ۔

تین دفعہ قبول ہے بولنے پر سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے ۔

احمد شاہ اور موسیٰ شاہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

آمنہ شاہ اور باقی سب نے بھی اسے خوب پیار کیا ۔

ان کے نکاح کے بعد زمل اور لاریب کا نکاح پڑھایا گیا ۔

سالار نے اتنی تیزی سے قبول ہے بولا جیسے کوئی پیچھے پڑا ہو ۔

سب نے اس کا خوب ریکارڈ لگایا ۔

سالار کھل کر مسکرایا ۔

آج بالاآخر اس نے اپنی محبت پا لی تھی ۔

“گائیز۔۔۔۔۔۔۔ابھی مزید سرپرائز باقی ہے ۔۔۔۔۔”جہان نے شرارت سے کہا ۔

نکاح کے بعد نیلی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی ۔

جاندار مسکراہٹ چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی ۔

“بھئی آج میکال اور علی کا بھی نکاح ہے ۔۔۔۔۔۔۔”جہان ہنستے ہوئے بولا ۔

جس پر سب حیران رہ گئے ۔

“میکال اور لاریب جبکہ علی اور سونیا کا نکاح ہونا قرار پایا تھا ۔

سب کے ایجاب و قبول کے بعد لڑکوں نے بھنگڑا ڈالنا شروع کیا ۔

لڑکیوں کے چہروں پر حیا سے بھرپور مسکراہٹ تھی ۔

پہلے تو سب شرماتی رہیں مگر ایکدم زمل بولی ۔

“بھئی چھوڑو شرمانا اکلوتے بھائی کی شادی ہے اس میں بھی شرمانے کی وجہ سے انجوائے نہ کریں ۔ ۔۔۔۔۔”اس نے کہا اور پری کو تنگ کرنے لگیں ۔

؁؁؁؁

“بھائی پورے دو لاکھ ۔۔۔۔

آخر کو اتنی خوبصورت بیوی ملی ہے ۔۔۔۔”زمل نے دودھ پلائی کے لئے پیسے مانگے تو جہان ھنس دیا ۔

“بھئی بیوی تو اب مجھے مل گئی اس لئے تم لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں کیوں بیوی جی۔۔۔۔۔۔”شرارت سے بولتے ہوئے آخر میں پری سے بولا ۔

پری نے شرمیلے لہجے میں نفی میں سر ہلایا ۔

سب مسکرا دئیے ۔

“بھئی ان سے نہ مانگئے ہم سے مانگئے ۔۔۔۔۔۔۔جو مانگیں گی ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سالار نے مسکرآتے ہوئے کہا ۔

نکاح کے بعد یہ ان کے پہلی گفتگو تھی۔

زمل نے اسے غصے سے گھورا۔

جس پر اس نے فوراً ڈرنے کی ایکٹنگ کی ۔

بالآخر کافی بحث کے بعد جہان نے اسے چیک نکال کر دے دیا ۔

انہوں نے خوشی سے بہت سی دعائیں دیں ۔

“کیا ہے ۔۔۔۔۔۔”میکال جو کب سے لاریب کو دیکھ رہا تھا بالآخر تنگ آ کر لاریب نے اسے دیکھا ۔

“بھئی بیوی کو دیکھنے میں ٹیکس تھوڑی لگتا ہے ۔۔۔”وہ مسکینیت سے بولا ۔

جس پر لاریب نے اسے گھورا۔

“قسم سے پوری ظالم حسینہ لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔”وہ یوں لاچارگی سے بولا کہ لاریب نے چہرہ موڑ لیا ۔

اسے یوں مسکراتے دیکھ کر میکال بھی دل سے ہنسا ۔

؁؁؁؁

“سب ہی اپنی بیویوں کے ساتھ بزی ہیں بس میری بیوی ہی مجھے لفٹ نہیں کروا رہی “علی مسکراتے ہوئے بولا تو سونیا نے شرما کر چہرہ جھکا لیا ۔

“معلوم ہے تمہاری اس معصومیت نے مجھے تم سے محبت کرنے پر مجبور کیا ہے ۔

میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا ۔۔”علی نے جزب سے کہا تو سونیا نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔

“میں بھی تمہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔”اس نے شرمیلے لہجے میں کہا تو علی کھل کر ہنس دیا ۔

؁؁؁؁

“یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔

اور یہ پھول کس لئے ۔۔۔۔”جہان نے دلچسپی سے زمل سے پوچھا جو ایک شیشے کے بڑے سے باؤل کو اٹھائے کھڑی تھی ۔

باؤل سرخ پھولوں کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا ۔

”ہمم۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی یہ ایک رسم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس باؤل میں ایک رنگ ہے جو ان پتیوں میں چھپی ہے ۔

آپ اور پری میں سے جو پہلے ڈھونڈ لے گا وہ فاتح ہو گا اور جو ہار جائے گا اسے جیتنے والے کی ایک وش پوری کرنی ہو گی ۔۔۔۔”زمل نے تفصیلی جواب دیا ۔

سب ان کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا جبکہ سونیا ان کی پکس بنا رہی تھی ۔

جہان نے دلچسپی سے سنا ۔

”مطلب مجھے ہر قیمت پر جیتنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

“چلو بیوی میری وش پوری کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔۔”وہ شرارت سے بولا ۔

جبکہ پری سب کے سامنے یوں طرزِ مخاطب پر حیا سے سمٹ گئی مگر مجال ہے جہان شاہ اثر لے ۔

یوں باؤل سامنے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔

“چلو بھئی ٹائم سٹارٹ ناؤ۔۔۔۔۔۔

“زمل کے کہنے کی دیر تھی جہان اور پری نے ہاتھ پھولوں کے اندر ڈال کر رنگ ڈھونڈنی شروع کی۔

اسی میں کئی پتیاں باؤل سے نکل کر ٹیبل پر گر گئیں ۔

لڑکیاں پری کوجبکہ سارے لڑکے جہان پکآر رہے تھے ۔

چند سیکنڈز بعد جہان نے رنگ ڈھونڈ کر باہر نکال لی اور سارے لڑکے شور کرنے لگے ۔

“جہان کی کیا وش ہو گی “یہ سوچ کر پری پریشان ہو گئی تھی ۔

“اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلیں بھائی اب وش بتائیں ۔۔۔۔”زمل ہنستے ہوئے بولی ۔

“ہمممممم۔۔۔۔۔۔۔

میری وش یہ ہے کہ بیوی تم بتاؤ تمہیں مجھ میں کیا چیز اٹریکٹ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولا ۔

اسںکے ب ولنے پر سب نے خوب شور کیا ۔

“میں کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔”پری گھبراتے ہوئے آہستگی سے بولی ۔

”بھئی بتانا تو ہو گا “۔علی

بولا ۔

“مجھے ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔جہان کی نیلی آنکھیں اچھی لگتی ہیں ۔۔۔۔۔”وہ بمشکل بولی۔

جسے سن کر جہان کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آ گئی تھی ۔

“لڑکیو جو رسم کرنی ہے جلدی کرو ۔۔۔۔۔

میں اپنی بیوی کا چہرہ دیکھنے کے لئے بےتاب ہوں ۔۔۔۔”جہان بولا تھا ۔

سب کے سامنے یوں بولنے پر پری نے مزید گردن جھکا لی ۔

جبکہ باقی سب اب ذومعنی فقرے بول رہے تھے ۔

جہان نے محبت سے اسے دیکھا ۔

__________

“چلو بھئی کافی ٹائم ہو گیا ہے ۔

رخصتی ہو جانی چاہئے ۔۔۔”احمد شاہ نے آ کر کہا ۔

جبکہ باقی سب اب اٹھ کر آگے بڑھے تھے ۔

یہ سن کر پری کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ۔

اس کی کیفیت سمجھ کر جہان نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔

جسے اس نے چھڑانے کی ناکام کوشش کی ۔

“چلو بھئی ۔۔۔۔۔۔”صالحہ شاہ نے کہا اور پری کو چادر سے ڈھانپا۔

؁؁؁؁

“پری ٹینشن نہیں لینا بیٹا ۔

میں جانتی ہوں آپ بہت نروس ہو مگر اب یہ حقیقت ہے کہ آپ شاہ کی بیوی ہو ۔

شاہ نے ہمیشہ آپ کو چاہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ہوسکتا ہے وہ آپ کی بےاعتبنائی پر کچھ کہے مگر آپ اسے منا لینا ۔

مجھے یقین ہے میری بیٹی بہت سمجھداری کا مظاہرہ کرے گی ۔

بیٹا مرد کی فطرت ہے کہ وہ نہ برداشت نہیں کرتا مگر شاہ نے ہمیشہ خود کو آپ کے سامنے جھکایا ہے ۔

آپ کے لئے وہ ہم سب سے جدا ہوا ۔

پری آپ سمجھ رہی ہو نہ جو میں کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔”آمنہ شاہ نے پری کو تفصیلی سمجھاتے ہوئے کہا ۔

پری نے آہستگی سے سر ہلایا۔

“تائی جان مجھے ڈر لگ رہا ہے “پری نے بمشکل انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا ۔

آمنہ شاہ اس کی کیفیت سمجھ کر مسکرا دیں ۔

وہ جانتی تھیں پری بہت شرمیلی ہے ۔

“میں چلتی ہوں جہان کو بھیجتی ہوں ۔”انہوں نے محبت سے کہا اور باہر چلی گئیں ۔

ان کے جانے کے بعد پری نے سر اٹھا کر روم کو دیکھا ۔

پورا بیڈ سرخ پھولوں سے ڈھکا ہوا تھا ۔

سرخ جالی دار پردے بیڈ کے اردگرد لٹک رہے تھے ۔

دیواروں پر خوبصورت بکے لگے ہوئے تھے ۔

ان پھولوں کی خوشبو کے باوجود پری اس خوشبو میں جہان کے مخصوص کلون کی مہک محسوس کر رہی تھی ۔

آنے والے لمحات کو سوچ کر حیا سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔

جہان اس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کا نام تھا ۔

؁؁؁؁

“جہان کہاں ہے ۔۔۔۔۔”آمنہ شاہ نے باہر نکل کر لڑکیوں سے پوچھا جو دروازے کے آگے کھڑی تھیں ۔

جبکہ پاس ہی سارے لڑکے بھی تھے ۔

“پھپھو جان جہان گیسٹ روم میں نوافل ادا کر رہا ہے ۔۔۔”میکال نے بتایا ۔

جسے سن کر سںب حیران رہ گئے ۔

اتنی دیر میں جہان بھی آ گیا ۔

“جہان تم۔نفل پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔”سائرہ شاہ نے حیرت سے پوچھا ۔

جہان یہ سن کر ہلکا سا مسکرایا ۔

“اتنی دعاؤں کے بعد مجھے میری محبت ملی ہے اب اپنے رب کا شکر ادا کرنا تو میرا فرض بنتا ہے ۔۔۔۔”وہ مسکراتے ہوئے متانت سے بولا ۔

سب نے بےاختیار پری کی قسمت پر رشک کیا ۔

“تم سب کیوں ڈور سے چپکی ہوئی ہو ۔۔۔۔۔

اب جاؤ میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہو گی ۔۔۔۔”وہ لاچاری سے بولا ۔

جسے سن کر سب ہنس دیئے ۔

“ہمم۔۔۔۔۔۔۔بھائی اندر جانے کا ٹیکس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔”زمل شرارت سے بولی۔

“کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسا ٹیکس ہے ۔۔۔۔۔

میں تو نہیں دوں گا ۔۔۔۔۔”وہ بولا ۔

”تو آپ اندر بھی نہیں جا پائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔”لاریب نے ہنستے ہوئے کہا ۔

“اچھا کیا لو گے تم سب ۔۔۔۔”وہ معصومیت سے بولا ۔

“پھر۔۔۔۔۔آپ ہم سب کو ہماری مرضی کی شاپنگ کروائیں گے جتنی مرضی ہم کریں آپ منع نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔”سونیا نے کہا ۔

“چلو ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔پری کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں یہ تو صرف شاپنگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔”وہ محبت سے بولا ۔

‘:ہو۔۔۔۔ہہو۔۔۔۔۔۔۔۔”سب ہنسے۔

لڑکیاں خوشی سے سائیڈ پر ہو گئیں ۔

جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اینٹر ہو گیا ۔

؁؁؁؁

“ڈور کھلنے کی آواز سن کر پری جلدی سے گردن جھکا گئی ۔

جہان جاندار مسکراہٹ سے اندر داخل ہوا ۔

سرخ پھولوں کے درمیان گردن جھکائے بیٹھی وہ کوئی پھول ہی لگ رہی تھی ۔

نیلی آنکھیں محبت سے چمک رہی تھیں ۔

اسے قریب آتے دیکھ کر پری کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔

ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے تھے ۔

جہان محبت سے چلتا ہوا اس کے پاس پہنچا ۔

“اسلام علیکُم ۔۔۔۔۔۔۔”نئی زندگی مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی و محبت سے آہستگی سے بولا اور اس کے پاس بیٹھ گیا ۔

کچھ پل اسے دیکھتا رہا پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگھٹ اٹھایا ۔

ہمیشہ سے میک اپ سے مبرا چہرہ آج کس قدر دلنشیں لگ رہا تھا ۔

حیا سے بوجھل پلکیں جہان کے دل کی دھڑکن تیز کر رہی تھیں ۔

”فبای لائ ربکما تکزبان۔۔۔۔”وہ جزبات سے بوجھل لہجے میں بولا ۔

آج مجھے لگ رہا ہے جیسے میرے رب نے مجھے دنیا میں ہی جنت کی حور عطا کر دی ہو ۔۔۔۔”وہ شدت سے بولا ۔

ہاتھ بڑھا کر اس کا کانپتا ہاتھ تھاما اور اپنے سینے پر رکھا ۔

“کیا میرے دل کی دھڑکن تمہارے نام نہیں لے رہی ۔۔۔۔۔

کیا میرے دل کی دھڑکن گواہ نہیں میں نے تمہیں کس شدت سے چاہا ہے ۔۔۔۔

کیا آج بھی تم میرا یقین نہیں کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری شاہ تمہیں کتنا چاہتا ہے یہ بتانے کے لئے الفاظ نہیں ہیں ۔۔۔۔۔

مگر مجھے یقین ہے میری محبت ,میری شدتیں,میری دیوانگی تمہیں مجبور کر دے گی کہ تم میرا یقین کرو۔۔۔۔۔مجھے چاہو۔۔۔۔۔۔۔”شدت سے بولتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *