Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 03)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 03)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
“پری بیٹا,
کیسیطبیعت ہے اب آپ کی ؟ “آمنہ شاہ نے محبت سے پوچھا اور اس کے پاس بیٹھ گئیں ۔
“میں ٹھیک ہوں تائی جان”اس نے نقاہت زدہ لہجے میں کہا ۔
اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ جہان کے بارے میں بتا دے مگر وہ جانتی تھی کہ اس کے بعد کچھ ٹھیک نہیں ہو گا ۔ اس لیے خاموش رہی ۔
زمل مسلسل اسے خود سے الجھتے دیکھ رہی تھی مگر کچھ نہ بولی ۔
آمنہ شاہ نے اسے آرام کرنے کا کہا اور زمل کو اس کا دھیان رکھنے کا کہہ کر آ گئیں ۔
پری بھی آنکھیں موند کر لیٹ گئی ۔
وہ زمل کے سوالوں کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی ۔
اس نے لندن میں سارا کام وائنڈاپ کر لیا تھا ۔
آج اسے لندن آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا ۔
اور کل اسے پاکستان واپس لوٹ جانا تھا ۔
اس نے موبائل پکڑا اور ایک نمبر پش کرنے لگا ۔
اس کے چہرے پر پر اسرار مسکراہٹ تھی ۔
دوسری طرف سے کال اٹینڈ کی جا چکی تھی ۔
“آداب عرض ہے ڈیڈ ” اس نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تھا جسے سن کر اس نے قہقہ لگایا ۔
“وہ کیا ہے نہ کہ میں واپس کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ شاندار سا استقبال کریں ۔ ” اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
دوسری طرف سے ایک بار پھر کچھ سخت کہا گیا تھا جس پر اس کا مسکراتا چہرہ سنجیدہ ہوا ۔
“میں آپ سے پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں ۔ اوکے اور پری کو بھی بتا دیجئے گا کہ اس کا شاہ اس کیلئے واپس آپ رہا ہے ۔ “اس نے دوٹوک کہا اور موبائل بند کر دیا ۔
“ا وکے تو میں واپس آ رہا ہوں پری ۔ ایک بار پھر ۔۔۔۔۔۔
اس بار تمہیں مجھ سے ہر قیمت پر محبت کرنی ہو گی ۔ “اس نے تصور میں پری سے کہا اور مسکراتا ہوا باہر بڑھ گیا ۔
“کیا ہوا آپ اتنے پریشان کیوں ہیں “آمنہ شاہ جو کمرے میں آئیں اور احمد شاہ کو پریشانی سے کمرے میں ٹہلتے دیکھا تو پریشانی سے پوچھا ۔
“جہان واپس کر رہا ہے “انہوں نے پریشانی سے کہا ۔
“جہان واپس آرہا ہے “انہوں نے بےیقینی سے پوچھا ۔ “ہاں کل آپ رہا ہے ۔ میں نہيں چاہتا کہ پری کو ابھی پتا چلے ۔ ویسے بھی اس کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ ویسا ہی ضدی اور بدتمیز ہے ۔” انہوں نے کہا ۔
آمنہ شاہ تو ابھی تک بے یقین تھیں ۔
کل وہ جہان سے ملیں گی ۔ یہ سوچ کر ہی ان کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔
اکلوتے جوان بیٹے کی جدائی کا غم ان سے بڑھ کر کون سمجھ سکتا تھا ۔
شام تک پورے شاہ ہاؤس میں جہان کی واپسی کی خبر پھیل چکی تھی ۔
اس بات کی ہر ممکن کوشش کی گئی کہ پری کو اس سب کا علم نہ ہو ۔
وہ مسلسل دشوار گزار راستے پر بھاگتی جا رہی تھی ۔
وہ مسلسل اس کے پیچھے تھا ۔
“پری رک جاؤ ۔ گر جاؤ گی ۔
پری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پری۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے آوازیں دیتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔
ایکدم اس کا پاؤں پھسلا ۔ اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی اس نے اسے اپنے مضبوط حصار میں لیا اور وہ دونوں نیچے گرتے چلے گئے ۔
نیچے گرتے ہی اسے شدید چوٹیں لگیں مگر اس کے حصار میں ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہی ۔
خون اس کے جسم سے نکل کر پھیل رہا تھا مگر اسے جیسے پروا ہی نہ تھی ۔
“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا “اس نہیں آہستہ سے کہا اور بے ہوش ہو گیا ۔
“شاہ ” اس نے روتے ہوئے کہا ۔
“شاہ۔۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے اسے بلا رہی تھی ۔
“شاہ ۔۔۔۔۔۔” ۔
زمل جو اس کے پاس ہی سو رہی تھی ۔
پری کو یوں نیند میں شاہ کو بلاتے دیکھا تو پریشان ہو گئی ۔
“پری کیا ہوا ہے ” اس نے نیند میں روتی پری کو ہلایا ۔
پری ایکدم نیند سے اٹھی ۔
زمل ۔۔۔۔۔۔وہ شاہ ۔۔۔۔
وہ میری وجہ سے گر گیا ۔۔۔۔۔
اسے خونننن۔۔۔۔۔۔۔۔خون نکل رہا ہے ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔شاہ۔۔۔۔۔۔۔”۔
وہ مسلسل روتے ہوئے یہی بولے جا رہی تھی ۔
“کچھ نہیں ہوا جہان بھائی کو ۔۔۔۔۔
سب ٹھیک ہے ” ۔
زمل نے اسے گلے لگایا اور اسے چپ کروانے لگی ۔
اس وقت اسے یوں روتا دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اسی جہان کے لئے رو رہی ہے جس کی پرچھائ سے بھی وہ دور بھاگتی ہے ۔
,
اگلے روز شاہ ہاؤس میں معمول سے زیادہ چہل پہل تھی ۔
تمام ملازمین مصروف تھے۔
آج پانچ سالوں بعد شاہ ہاؤس کا اکلوتا وارث آپ رہا تھا ۔
آمنہ شاہ کب سے لان میں چکر لگا رہی تھیں ۔
ایکدم گارڈ نے دروازہ کھولا تو گاڑی اندر داخل ہوئی ۔
باودری ملازم نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔
جس میں سے ایک انتہائی خوبصورت اور وجیہہ نیلی آنکھوں والا نوجوان نکلا ۔ اس کی سحر انگیز شخصیت وہاں موجود تمام لوگوں پر چھائی ہوئی تھی آمنہ شا ہ جلدی سے آگے بڑھیں ۔
___________
“جہان , میرا بیٹا “
انہوں نے روتے ہوئے اسے گلے لگایا ۔
جہان بےتاثر چہرے سے کھڑا تھا ۔
اس کے انداز میں کوئی گرمجوشی نہ تھی ۔ وہ اس وقت جس اذیت میں تھا ,وہی جانتا تھا ۔
اس کی آنکھوں کے سامنے پانچ سال پہلے کا واقعہ آیا جب اسے شب کے اندھیرے میں جانے کا کہا گیا تھا ۔
آمنہ شاہ اسے روتے ہوئے چوم رہی تھیں ۔
یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
سب لوگ اسے حیرانی اور مسرت سے دیکھ رہے تھے جو ایک بیس سالہ نوجوان سے پچیس سالہ مظبوط مرد بن چکا تھا ۔
احمد شاہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا ۔
اس کے بعد سب باری باری اس سے ملے ۔
اس کے چہرے پر پھیلے بیزاری کے تاثر نے سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا ۔
زمل تو اسے دیکھ کر خوش ہو رہی تھی ۔
مگر ان سب میں موجود ایک فرد تھا جس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی لاریب شاہ ۔
جہان کو دیکھتے ہی وہ پاگل ہو رہی تھی ۔
جہان نے ایک طائرانہ نگاہ اپنے اردگرد ڈالی ۔
سب لاؤنج کی طرف بڑھ رہے تھے جب اس کی سرد آواز پر سب پلٹے ۔
“پری کہاں ہے ؟” ۔
“اوہ سمجھ گیا ,یقیناً میری آمد سے اسے بےخبر رکھا گیا ہو گا “۔
اس نے طنزیہ مسکراہٹ سے پوچھا ۔
“وہ یونیورسٹی گئی ہے ” آمنہ شاہ نے آہستہ آواز میں کہا ۔
“تو باقی سب کیوں نہیں گئے ۔ کیا انہوں نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے یا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
وہ پے درپے طنز کے تیر چلانے لگا ۔
احمد شاہ نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا ۔
“اندر چلو سب”انہوں نے غصے سے کہا اور آگے بڑھ گئے ۔
“سر یہ بیگ کہاں رکھوں “ملازم نے پوچھا ۔
“میرے سر پر ۔۔۔۔۔”اس نے غصے سے کہا جس پر ملازم بےطرح گھبرا گیا ۔ وہ ان کا خاندانی ملازم تھا اور شروع سے جہان کے غصے سے ڈرتا تھا ۔
آمنہ شاہ نے اسے یوں ڈرتے دیکھا تو نرمی سے ملازم کو کہنے لگیں کے جہان کے کمرے میں رکھ آؤ ۔
اور مڑ کر جہان کو دیکھا جو تیزی سے چلتا ہوا اپنے روم کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
جہان کا یہ رویہ اور انداز انہیں اندر ہی اندر ڈرا رہا تھا ۔
وہ اپنے روم میں داخل ہوا ۔
اس کے چہرے پر اذیت آمیز تاثر تھا ۔
ملازم بیگ رکھ کر جارہا تھا جب اس نے کہا کہ سب کو کہہ دو مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے ورنہ انجام کا ذمہ دار وہ خود ہو گا ۔
ملازم یا سنتے ہی باہر بھاگ گیا ۔ ۔
وہ چلتا ہوا کمرے سے ملحقہ اسٹڈی میں داخل ہوا ۔ یہاں آنے کی کسی کو بھی اجازت نہ تھی ۔
اس نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی جس سے ساری اسٹڈی روشنی میں نہا گئی ۔
ہلکی ہلکی دھول تھی ۔ کیونکہ وہاں کوئی نہیں آتا تھا اس لیے دھول بھی زیادہ نہ تھی ۔
اسٹڈی میں ہر طرف پری کی تصویریں لگیں ہوئی تھیں ۔ اس کے بچپن کی ۔, اس کے ہر برتھڈے کی غرض دیوار کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ تھا جہاں کوئی تصویر نہ ہو ۔
وہ چلتا ہوا آگے بڑھا اور چیئر پر بیٹھ گیا ۔اسے یہاں آکر ایک سکون ملتا تھا ۔
اس نے آنکھیں موند لیں۔ ماضی ایک فلم کی طرح اس کی آنکھوں میں دوڑنے لگایا ۔
دس سال کا بچہ اپنی باربی سے کھیلنے کے لئے بے چین تھا ۔
جبکہ وہ زمل کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی ۔
اس نے غصے سے پانچ سالہ زمل اور پری کو گڑیا کے گھر سے کھیلتے دیکھا ۔
اور آگے بڑھ زور سے ٹانگ مار کر گڑیا گھر کو توڑ دیا ۔
پری اور زمل رونے لگیں ۔
ان کے رونے کی آواز سن کر احمد شاہ باہر آئے جہاں وہ دونوں رو رہیں تھیں اور جہان ہنس رہا تھا ۔
زمل نے روتے ہوئے انہیں بتایا جس پر انہوں نے غصے میں جہان کے تھپڑ ماردیا ۔
مگر نہیں جانتے تھے کہ یہ تھپڑ آگے ان کے لیے کیا کیا مسئلے لے کر آئے گا ۔
“کیوں تنگ کر رہے ہو انہیں “انہوں نے غصے سے جہان کو کہا جو بدتمیزی کر رہا تھا ۔
آپ کو کوئی مسئلہ , میں پری سے کھیلنا چاہتا ہوں اور آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔”اس نے بدتمیزی سے چیختے ہوئے کہا ۔
“وہ تم جیسے بدتمیز کے ساتھ نہیں جائے گی “انہوں نے کہا اور افسوس سے دیکھا جسے ان کی حد درجہ محبت نے بدتمیز اور ضدی بنا دیا تھا ۔
“آپ بھی لکھ لیں احمد شاہ ۔۔۔۔
پری ہمیشہ میرے ساتھ ہی رہے گی اور میرے ساتھ ہی کھیلے گی ۔ اگر کوئی درمیان میں آیا تو اس کا وہی حال کروں گا جو اس گڑیا گھر کا کیا ہے “اس نے انگلی دکھاتے ہوئے کہا اور یہ جا وہ جا ۔
احمد شاہ حیرانی سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے کہ کیا یہ ایک دس سالہ بچے نے بات کہی ہے ۔
اور پری اور زمل کو چپ کروانے لگے ۔
اور ساتھ فون کر کے ایک نئے گڑیا گھر کا آرڈر دیا۔
وہ سب شام کی چائے کے لئے لان میں بیٹھے ہوئے تھے اور ملازم چائے سرو کر رہے تھے ۔
جب گارڈ نے آکر اطلاع دی کہ کوئی ہمدانی صاحب ملنے آئے ہیں ۔
موسیٰ شاہ چونک گئے کیونکہ ہمدانی صاحب ایک بزنس مین تھے ۔
سوائے جہان کے سب بچے وہاں کھیل رہے تھے ۔
ہمدانی صاحب کی گاڑی اندر اینٹر ہوئی اور اس میں سے ایک باوقار شخص اترا جبکہ ان کے پیچھے پیچھے ایک چودہ سال کا بچہ بھی تھا ۔
اس بچے کا سر پھٹا ہوا تھا اور کافی زخمی بھی تھا ۔
احمد شاہ نے اٹھ کر ان کا استقبال کیا ۔
“احمد شاہ , میں نے صرف آپکی دوستی کا لحاظ کیا ہے نہیں تو آپ کے بیٹے کے خلاف سخت ایکشن لیتا” ۔
انہوں نے کہا ۔
“یہ جہان نے کیا ہے “انہوں نے حیرت سے اس زخمی بچے کو دیکھا ۔
“جی سکول میں ۔۔۔۔۔۔”انہوں نے کہا ۔
احمد شاہ اس کی ضدی اور جھگڑالو طبیعت سے واقف تھے مگر انہیں امید نہ تھی کہ جہان ایسا بھی کوئی قدم اٹھائے گا ۔
انہوں نے ملازم سے کہہ کر اسے کمرے سے بلوایا ۔
“جہان ,کیا تم نے اس بچے کو زخمی کیا ہے ۔۔۔”انہوں نے پوچھا ۔
“یس ڈیڈ ۔۔۔۔”اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“مگر کیوں ۔۔۔”۔
“ڈیڈ اس نے میری پری کو دھکا دیا تھا اس لیے میں نے اسے مزہ چکھایا ہے کہ جو میری پری کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے گا اس کی آنکھیں نکال لوں گا ۔ اور ویسے بھی ابھی تو میں نے اسے بس ہاتھ ہی لگایا ہے ۔ ہے نا ۔۔۔۔”اس نے ضدی لہجے میں کہا اور آخر میں مسکراتے ہوئے اس لڑکے کی طرف دیکھنے لگا ۔
اس کا جواب سن کر احمد شاہ کے چہرے پر سرخی چھا گئی ۔
وہاں موجود تمام لوگ اس پندرہ سالہ لڑکے کے لہجے کی مضبوطی پر حیران رہ گئے ۔
__________
“جہان تم کیا کہہ رہے ہو ۔ تمہیں بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے کیا ؟”
احمد شاہ نے غصے سے کہا ۔
جہان دن بدن بدتمیز اور مزید ضدی ہوتا جا رہا تھا ۔
انہوں نے ہمدانی صاحب سے معزرت کی ۔ اور ملازم سے کہہ کر ریفریشمنٹ کے لئے کچھ منگوانے لگے ۔
جہان غصے سے انہیں گھورنے لگا اور پیر پٹختا وہاں سے چلا گیا ۔
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے وہ پہلے سے زیادہ پری کے معاملے میں ٹچی ہوتا جا رہا تھا ۔
اس کی پوزیسونس پری کو بھی تکلیف دپتی تھی ۔
اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے وہ جہان سے ڈرنے اور نفرت کرنے لگی ۔
وجہ کہ جہان اس کے ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتا۔ ۔
“پری مجھ سے باتیں کرو ۔”
اس نے ضدی لہجے میں پری سے کہا جو کمپیوٹر پر گیم کھیل رہی تھی ۔
“نہیں مجھے تم سے باتیں نہیں کرنی “اس نے کہا اور دوبارہ گیم کھیلنے لگی ۔
اس کی بات سن کر جہان کو غصہ آ گیا ۔
“کیوں نہیں بات کرنی مجھ سے “اس نے غصے سے کہا اور کمپیوٹر کو ٹیبل سے نیچے دے مارا۔
“اگر میرے لیے ٹائم نہیں تو کس اور پر بھی ٹائم نہیں لگا سکتی ۔ سمجھی تم۔”اس نے چیختے ہوئے کہا ۔
اس کی اونچی آواز سن کر ملازمہ بھاگتی ہوئی آئی مگر یہ سب کچھ دیکھ کر آمنہ شاہ کو بلانے چلی گئی ۔
آمنہ شاہ جلدی سے پری کے کمرے میں آئیں جہاں پری رو رہی تھی اور جہان غصے میں چیخ رہا تھا ۔
“جہان کیا ہوا ہے ” انہوں نے حیرانی سے پوچھا ۔
اور آگے بڑھ کر پری کو چپ کروانے لگیں ۔
“آپ سائیڈ پر ہوں میں خود پری کو چپ کرواتا ہوں ۔
اس نے انہیں سائیڈ پر کیا اور پری کو بازوؤں سے پکڑ کر چپ کروانے لگا ۔
“تم رو نہیں پلیز مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔”اس نے پریشانی اور اذیت سے کہا ۔
یہ سچ تھا وہ پری کو روتے نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
مگر ہر بار اس کے آنسوؤں کا سبب وہ خود ہوتا تھا ۔
“کیوں تمہیں کیوں تکلیف ہوتی ہے میرے رونے سے ۔ اب میں اور روؤں گی “پری نے کہا ۔
“خبردار اگر مزید ایک آنسو بھی بہایا ورنہ اچھا نہیں ہو گا ۔”اس نے خطرناک سنجیدہ لہجے میں کہا ۔
اس کی ایسی بات پر پری ڈر کر آمنہ شاہ سے چمٹ گئی ۔
“تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی اور مجھ سے ڈرتی کیوں ہو “۔ اس نے ایک بار پھر غصے سے پوچھا ۔
“جہان تمیز سے بات کرو ۔ بہن ہے وہ تمہاری “۔ آمنہ شاہ نے ڈانٹتے ہوئے کہا ۔
اس وقت موسیٰ شاہ اور احمد شاہ کسی کانفرنس میں گئے ہوئے تھے اس زمل صالحہ شاہ کے پورشن میں تھی ۔ ؟”کیا کہا آپ نے ؟”اس نے حیرت سے کہا ۔
“پری اور میری بہن ۔ ۔۔۔۔۔۔
نو ۔۔۔۔۔۔
نیور۔۔۔۔۔۔پری میری بہن نہیں ہے ۔ آپ نے سوچا بھی کیسے ۔
میں پری سے محبت کرتا ہوں ۔ پری میرا عشق ہے میری دیوانگی ہے میری محبت ہے ۔ سنا آپ نے ۔۔۔۔۔”اس نے چیختے ہوئے کہا ۔
جبکہ اس کی بات سن کر آمنہ شاہ اسے حیرت سے دیکھنے لگیں ۔
“جہان تمہاری عمر ہی کیا ہے اور تم ایسی باتیں سوچ بھی کیسے سکتے ہو “انہوں نے حیرانی سے کہا ۔
“میں اٹھارہ سال کا ہوں اور پری تیرہ سال کی ہے ۔
اور میں کیوں نہیں سوچ سکتا ۔ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میری ایک بات دھیان سے سن لیں اور تم بھی سن لو ۔۔۔۔”اس نے آمنہ شاہ کے ساتھ لگی کھڑی پری سے کہا جو اس کی باتیں سن کر اسے نفرت سے دیکھ رہی تھی ۔
“پری صرف اور صرف جہان کی ہے اور جو کوئی ہمارے درمیان آئے گا اسے میں چھوڑوں گا نہیں ۔ “انگلی دکھاتے ہوئے کہا اور غصے میں باہر چلا گیا ۔
آمنہ شاہ کو سمجھ نہیں آپ رہی تھی کہ وہ کیا کریں ۔
جہان کا لہجہ اس کے ارادے کی مضبوطی کا گواہ تھا ۔
انہوں نے ملازمہ کو آواز دی کہ وہ کمرہ صاف کردے۔
