Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Last updated: 25 May 2026
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 01)Mohabbat Fateh Alam (Episode 02)Mohabbat Fateh Alam (Episode 03)Mohabbat Fateh Alam (Episode 04)Mohabbat Fateh Alam (Episode 05)Mohabbat Fateh Alam (Episode 06,07)Mohabbat Fateh Alam (Episode 08)Mohabbat Fateh Alam (Episode 09)Mohabbat Fateh Alam (Episode 10)Mohabbat Fateh Alam (Episode 11)Mohabbat Fateh Alam (Episode 12)Mohabbat Fateh Alam (Episode 13)Mohabbat Fateh Alam (Episode 14)Mohabbat Fateh Alam (Last Episode)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
زمل نے گاڑی سے اتر کر پری کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گئی ۔ آمنہ شاہ نے پری کو روتے دیکھا تو فوراً آگے بڑھیں ۔ "کیا ہوا زمل, پری رو کیوں رہی ہے "انہوں نے پریشانی سے پوچھا تو زمل نے انہیں ساری بات بتائی تو وہ مزید پریشان ہو گئیں ۔ انہوں نے پری کو محبت سے چپ کروایا اور سینے سے لگا لیا ۔ "کوئی ڈریس نہیں لیا۔ "انہوں نے پری کا دھیان ہٹایا ۔ ""نہیں تائی جان "اس نے افسردگی سے بتایا ۔ چلو کوئی بات نہیں ۔کل رات کا فنکشن ہے ہم کل لے آئیں گے ۔"انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دی ۔ "اس کا مطلب ہم کل دوبارہ جائیں گے "زمل نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔ "لیکن اگر کل پھر کسی نے تنگ کیا تو۔۔۔"پری نے پریشانی سے کہا تو زمل شرارتی لہجے میں "تو وہ نیلی آنکھوں والا ہے نا "کہتے ہوئے بھاگ گئی ۔ آمنہ شاہ نے حیرانی سے دیکھا اور پوچھنے لگیں کون نیلی آنکھوں والا جس پر پری نے انہیں مختصراً سب بتایا ۔ "تائی جان مجھے کچھ کہنا ہے '" ہاں بولو بیٹا "انہوں نے محبت سے کہا ۔ "تائی جان مجھے اس شخص کو دیکھ کر یوں لگا جیسے وہ جہان ہے حالانکہ اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں مگر اس کی آواز بالکل جہان جیسی تھی "اس نے ڈرتے اور خوفزدہ لہجے میں پوچھا ۔یہ بات سن کر ایک لمحے کے لیے آمنہ شاہ چپ رہ گئیں پانچ سالوں سے بیٹے کی جدائی برداشت کر رہی تھیں ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے بیس سال کے جہان کی تصویر آ گئی جسے پانچ سالوں سے دیکھا تک نہ تھا ۔ جانے اب کیسا دکھتا ہو گا انہوں نے دکھ سے سوچا ۔ آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ جوان بیٹے کی جدائی ان کو اندر ہی اندر کمزور کر رہی تھی ۔
پری نے انہیں یوں یادوں میں کھوئے دیکھا تو آہستگی سے انہیں پکارا ۔ پری کے بلانے پر انہوں نے پری کی طرف دیکھا جس کی سلامتی اور بچاؤ کے لیے جوان بیٹے کی جدائی برداشت کر رہی تھیں ۔ "وہ جہان نہیں ہو سکتا وہ یہاں نہیں ہے لندن ہے ۔ تم پریشان مت ہو ۔ میری بیٹی پریشان اور روتے ہوئے اچھی نہیں لگتی ۔ "انہوں نے محبت سے اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔ پری ان کی اس قدر محبت پر مسکرا دی اور ان کے گلے لگ گئي ۔ "میں تھوڑا سا ریسٹ کر لوں بہت تھک گئی ہوں ۔ "وہ کہتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ پیچھے آمنہ شاہ جہان کو یاد کر رہی تھیں کہ جانے کب ان کی یہ سزا ختم ہو گی ۔ بیٹے کی جدائی نے ایک بار پھر ان کی آنکھیں نم کر دی تھیں ۔
شاہ ہاؤس کبھی مکینوں سے بھرا ہوتا تھا ۔ مصطفیٰ شاہ کے تین ہی بیٹے تھے ۔احمد شاہ ,حسن شاہ اور موسیٰ شاہ ۔ ا حمد شاہ جن کی بیوی آمنہ شاہ تھیں ۔ ان کا ایک بیٹا جہان شاہ اور بیٹی زمل شاہ تھیں ۔ حسن شاہ جن کی بیوی فاطمہ شاہ تھیں ۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی جو ان کی شادی کے سات سال بعد بہت منتوں مرادوں سے پیدا ہوئی تھی پار س شاہ جسے سب پری بلاتے تھے ۔ موسیٰ شاہ جن کی بیوی
صالحہ شاہ تھیں ان کی دو ہی بیٹیاں تھیں لاریب شاہ اور سونیا شاہ ۔ جہان شاہ پورے خاندان کا اکلوتا لڑکا تھا جسے حد درجہ محبت نے انتہائی ضدی اور بدتمیز بنا دیا ۔ جس چیز کا دل کیا اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا اس کے لیے چاہے کچھ بھی کرنا پڑے ۔ یہ سب اس کی فطرت میں شامل تھا ۔ اسی میں اس نے پری کو بھی شامل کر لیا ۔ رفتہ رفتہ اس کے جنون میں اس قدر اضافہ ہو گیا جس نے پورے شاہ ہاؤس کو ہلا کر رکھ دیا ۔پری دو سال کی تھی جب ایک کار ایکسڈنٹ میں حسن شاہ اور فاطمہ شاہ انتقال کر گئے تو شاہ ہاؤس پر قیامت ٹوٹ گئی تو پری کی تمام ذمہداری احمد شاہ نے لے لی اور آج اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی اسے احساس نہ ہونے دیا کہ وہ اس کے ماں باپ نہيں ہیں ۔
وہ پریشانی سے کمرے میں آ کر راکنگ چیئر پر بیٹھ گئی ۔ ذہن ابھی تک آج کے واقعے میں الجھا ہوا تھا ۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی ۔ رات کے کھانے پر زمل اسے اٹھانے آئی مگر اسے یوں سویا دیکھ کر واپس چلی گئی ۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔ گاڑی کی سپیڈ ظاہر کر رہی تھی کہ اسے کہیں پہنچنے کی بہت جلدی ہے اس کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی ۔ نیلی آنکھیں کسی خیال سے چمک رہی تھیں ۔ اس نے بلیک جینز کے اوپر بلیک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔ سر پر بلیک کیپ تھی ۔ چہرہ ہنوز رومال میں چھپا ہوا تھا ۔ صرف نیلی آنکھیں نظر آ رہی تھیں ۔ اس نے گاڑی شاہ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر روکی اور نکلا ۔ ہاتھوں میں کچھ پیکٹس پکڑے ہوئے تھے ۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھا ۔ دیوار کے پاس پہنچا تو نہایت مہارت سے دیوار پھلانگی اور اندر داخل ہو گیا ۔ گارڈز پہرہ دے رہے تھے مگر وہ یوں آگے بڑھ رہا تھا کہ ان خبر تک نہ ہوئی یا پھر شاید وہ اس سب کا عادی تھا ۔ بغیر قدموں کی چاپ کے وہ ایک دروازے کے سامنے رکا ۔ احتیاط سے اندر داخل ہوا ۔ سامنے چیئر پہ لیٹے وجود کو دیکھ کر ایک بے ساختہ مسکراہٹ ابھری تھی ۔نیلی آنکھيں اسے دیکھ کر چمک اٹھی تھیں ۔ اس نے سارے پیکٹس بیڈ پہ رکھے ۔ ٹائم دیکھا تو ایک بج رہا تھا ۔ اس نے اسے اپنے مضبوط بازؤوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اس پر بلینکٹ ڈال دیا اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا اور اسے محبت سے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوا ۔ وہ جانتا تھا وہ آج بھی اس سے دور بھاگتی ہے ۔ وہ اس کے کان کے پاس جھکا ۔"تم جتنا مرضی مجھ سے بھاگ لو ,تمہارا ہر راستہ ,ہر منزل جہان شاہ ہے ۔ کوئی بھی تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا ۔ جو جہان شاہ کا ہے وہ صرف اور صرف جہان شاہ کا ہے ۔ جتنا مجھ سے دور بھاگو گی اتنا ہی مجھے خود سے قریب پاؤ گی ۔" جزبات کی شدت سے اس کی آواز بھاری ہو گئی ۔ اس نے پاکٹ سے ایک پینڈنٹ نکالا جو ہارٹ شیپ کا تھا اور اس پر J لکھا تھا پری کو پہنا دیا ۔ پھر پیکٹس کھولے اور کچھ کرنے لگا ۔ اس کام کے بعد ایک پیکٹ سے ریڈ باربی ڈریس نکالا اور الماری میں لٹکا دیا ۔ ان سب سے فارغ ہو کر اس نے دوبارہ ایک نظر پری کو دیکھا اور جس طرح آیا تھا ویسے ہی کمرے سے نکل گیا ۔
