Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 01)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 01)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
“پری, جلدی کرو دو گھنٹے ہو گئے ہیں اور تمہیں کوئی ڑریس ہی پسند نہیں آرہا ” ۔زمل نے اکتائے لہجے میں کہا ۔
“اب نہیں کوئی پسند آرہا تو کیا کروں آخر اپنی برتھ ڈے پہ پہننا ہے “۔اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے کہا ۔رور کھڑے کسی شخص کے چہرے پہ اسے دیکھ کے بےساختہ مسکراہٹ آئی تھی ۔
پری نے ادھر ادھر نظر ڈالی تو نظر اس شخص کی جانب گئی جو آس پاس سے بے خبر اسے دیوانہ وار دیکھ رہا تھا ۔ اس کی نگاہوں کی لپک اسے کس سے مشابہت دے رہی تھی ۔ اس کے دل کی دھڑکن بےساختہ تیز ہوئی ۔صبیح پیشانی پر ڈر سے پسینے کے قطرے نمودار ہوئے ۔ اس نے جلدی سے نظریں نیچے کیں۔ “نہیں یہ شخص وہ نہیں ہو سکتا ۔ اس نے زیر لب کہا ۔ نظر اٹھا کر دیکھا وہ ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا ۔
“زمل جلدی سے یہاں سے چلو “پری نے جلدی سے زمل کو کہا ۔ “پری کیا ہوا تمہارے ہاتھ ٹھنڈے کیوں ہو رہے ہیں ۔ کیا ہوا ہے بتاؤ نہ ۔ اور تم روکیوں رہی ہو ۔ ” زمل نے پریشانی سے پوچھا ۔ اسی اثناء میں پاس سے گزرتے دو لڑکوں نے انہیں دیکھ کر سیٹیاں مارنا شروع کر دیں ۔ دور کھڑے شخص کا مسکراتا چہرہ ایکدم غصے میں تبدیل ہوا ۔ غصے کی شدت سے ماتھے پے رگیں ابھر آئی تھیں ۔ ایک لڑکے نے پری کا ہاتھ پکڑ لیا جسے وہ روتے ہوئے چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔ زمل بھی پریشانی سے چیخیں مار رہی تھی ۔ اردگرد کھڑے لوگ تماشا دیکھ رہے تھے ۔ وہ غصے سے ان کے پاس گیا اور اس لڑکے کے چہرے پہ اس قدر زور سے مارا کے وہ ایک دم پیچھے کو گرا ۔ “تو کون ہے بے تیری ہمت کیسے ہوئ میرے دوست کو مارنے کی ۔” دوسرے لڑکے نے اس شخص کو غصے سے دیکھا جس نے چہرہ رومال سے چھپایا ہوا تھا اور صرف نیلی آنکھیں نظر آپ رہی تھیں ۔اس نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر اس کے منہ پر مکا مارا کے اس کے منہ سے خون نکلنے لگ گیا اور دور جا گرا ۔ اس شخص نے نیچے جھک کر دوبارہ پہلے لڑکے کو اٹھایا اور اس کے پیٹ میں ٹانگ ماری کے اس کی چیخیں پورے مال میں گو نجنے لگیں ۔ “اسے چھونے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی , شی از اونلی مائین , آج کے بعد یہاں دوبارہ نظرنہ آؤ ورنہ چلنے کے قابل نہیں رہو گے ” اس نے غرا تے ہوئے کہا ۔ایک نظر زمل کے حصار میں روتی پری کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کے کان میں ہیپی برتھڈے ان ایڈوانس مائے لائف کی سر گوشی کر کے چلا گیااس قدر پرفسوں لہجہ اسے کسی کی یاد دلا گیا ۔ اسے لگا جیسے یہ شخص وہی ہے ۔ زمل حیرانی سے اس شخص کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔ اس نے پری کا ہاتھ پکڑا اور مال سے نکل گئی ۔ تماشہ دیکھنے والے لوگ ابھی بھی کھڑے تھے ۔
دور کھڑے اس شخص نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا ۔
___________
زمل نے گاڑی سے اتر کر پری کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گئی ۔ آمنہ شاہ نے پری کو روتے دیکھا تو فوراً آگے بڑھیں ۔ “کیا ہوا زمل, پری رو کیوں رہی ہے “انہوں نے پریشانی سے پوچھا تو زمل نے انہیں ساری بات بتائی تو وہ مزید پریشان ہو گئیں ۔ انہوں نے پری کو محبت سے چپ کروایا اور سینے سے لگا لیا ۔ “کوئی ڈریس نہیں لیا۔ “انہوں نے پری کا دھیان ہٹایا ۔ “”نہیں تائی جان “اس نے افسردگی سے بتایا ۔ چلو کوئی بات نہیں ۔کل رات کا فنکشن ہے ہم کل لے آئیں گے ۔”انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دی ۔ “اس کا مطلب ہم کل دوبارہ جائیں گے “زمل نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔ “لیکن اگر کل پھر کسی نے تنگ کیا تو۔۔۔”پری نے پریشانی سے کہا تو زمل شرارتی لہجے میں “تو وہ نیلی آنکھوں والا ہے نا “کہتے ہوئے بھاگ گئی ۔ آمنہ شاہ نے حیرانی سے دیکھا اور پوچھنے لگیں کون نیلی آنکھوں والا جس پر پری نے انہیں مختصراً سب بتایا ۔ “تائی جان مجھے کچھ کہنا ہے ‘” ہاں بولو بیٹا “انہوں نے محبت سے کہا ۔ “تائی جان مجھے اس شخص کو دیکھ کر یوں لگا جیسے وہ جہان ہے حالانکہ اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں مگر اس کی آواز بالکل جہان جیسی تھی “اس نے ڈرتے اور خوفزدہ لہجے میں پوچھا ۔یہ بات سن کر ایک لمحے کے لیے آمنہ شاہ چپ رہ گئیں پانچ سالوں سے بیٹے کی جدائی برداشت کر رہی تھیں ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے بیس سال کے جہان کی تصویر آ گئی جسے پانچ سالوں سے دیکھا تک نہ تھا ۔ جانے اب کیسا دکھتا ہو گا انہوں نے دکھ سے سوچا ۔ آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ جوان بیٹے کی جدائی ان کو اندر ہی اندر کمزور کر رہی تھی ۔
پری نے انہیں یوں یادوں میں کھوئے دیکھا تو آہستگی سے انہیں پکارا ۔ پری کے بلانے پر انہوں نے پری کی طرف دیکھا جس کی سلامتی اور بچاؤ کے لیے جوان بیٹے کی جدائی برداشت کر رہی تھیں ۔ “وہ جہان نہیں ہو سکتا وہ یہاں نہیں ہے لندن ہے ۔ تم پریشان مت ہو ۔ میری بیٹی پریشان اور روتے ہوئے اچھی نہیں لگتی ۔ “انہوں نے محبت سے اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔ پری ان کی اس قدر محبت پر مسکرا دی اور ان کے گلے لگ گئي ۔ “میں تھوڑا سا ریسٹ کر لوں بہت تھک گئی ہوں ۔ “وہ کہتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ پیچھے آمنہ شاہ جہان کو یاد کر رہی تھیں کہ جانے کب ان کی یہ سزا ختم ہو گی ۔ بیٹے کی جدائی نے ایک بار پھر ان کی آنکھیں نم کر دی تھیں ۔
شاہ ہاؤس کبھی مکینوں سے بھرا ہوتا تھا ۔ مصطفیٰ شاہ کے تین ہی بیٹے تھے ۔احمد شاہ ,حسن شاہ اور موسیٰ شاہ ۔ ا حمد شاہ جن کی بیوی آمنہ شاہ تھیں ۔ ان کا ایک بیٹا جہان شاہ اور بیٹی زمل شاہ تھیں ۔ حسن شاہ جن کی بیوی فاطمہ شاہ تھیں ۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی جو ان کی شادی کے سات سال بعد بہت منتوں مرادوں سے پیدا ہوئی تھی پار س شاہ جسے سب پری بلاتے تھے ۔ موسیٰ شاہ جن کی بیوی
صالحہ شاہ تھیں ان کی دو ہی بیٹیاں تھیں لاریب شاہ اور سونیا شاہ ۔ جہان شاہ پورے خاندان کا اکلوتا لڑکا تھا جسے حد درجہ محبت نے انتہائی ضدی اور بدتمیز بنا دیا ۔ جس چیز کا دل کیا اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا اس کے لیے چاہے کچھ بھی کرنا پڑے ۔ یہ سب اس کی فطرت میں شامل تھا ۔ اسی میں اس نے پری کو بھی شامل کر لیا ۔ رفتہ رفتہ اس کے جنون میں اس قدر اضافہ ہو گیا جس نے پورے شاہ ہاؤس کو ہلا کر رکھ دیا ۔پری دو سال کی تھی جب ایک کار ایکسڈنٹ میں حسن شاہ اور فاطمہ شاہ انتقال کر گئے تو شاہ ہاؤس پر قیامت ٹوٹ گئی تو پری کی تمام ذمہداری احمد شاہ نے لے لی اور آج اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی اسے احساس نہ ہونے دیا کہ وہ اس کے ماں باپ نہيں ہیں ۔
وہ پریشانی سے کمرے میں آ کر راکنگ چیئر پر بیٹھ گئی ۔ ذہن ابھی تک آج کے واقعے میں الجھا ہوا تھا ۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی ۔ رات کے کھانے پر زمل اسے اٹھانے آئی مگر اسے یوں سویا دیکھ کر واپس چلی گئی ۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔ گاڑی کی سپیڈ ظاہر کر رہی تھی کہ اسے کہیں پہنچنے کی بہت جلدی ہے اس کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ تھی ۔ نیلی آنکھیں کسی خیال سے چمک رہی تھیں ۔ اس نے بلیک جینز کے اوپر بلیک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔ سر پر بلیک کیپ تھی ۔ چہرہ ہنوز رومال میں چھپا ہوا تھا ۔ صرف نیلی آنکھیں نظر آ رہی تھیں ۔ اس نے گاڑی شاہ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر روکی اور نکلا ۔ ہاتھوں میں کچھ پیکٹس پکڑے ہوئے تھے ۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھا ۔ دیوار کے پاس پہنچا تو نہایت مہارت سے دیوار پھلانگی اور اندر داخل ہو گیا ۔ گارڈز پہرہ دے رہے تھے مگر وہ یوں آگے بڑھ رہا تھا کہ ان خبر تک نہ ہوئی یا پھر شاید وہ اس سب کا عادی تھا ۔ بغیر قدموں کی چاپ کے وہ ایک دروازے کے سامنے رکا ۔ احتیاط سے اندر داخل ہوا ۔ سامنے چیئر پہ لیٹے وجود کو دیکھ کر ایک بے ساختہ مسکراہٹ ابھری تھی ۔نیلی آنکھيں اسے دیکھ کر چمک اٹھی تھیں ۔ اس نے سارے پیکٹس بیڈ پہ رکھے ۔ ٹائم دیکھا تو ایک بج رہا تھا ۔ اس نے اسے اپنے مضبوط بازؤوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اس پر بلینکٹ ڈال دیا اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا اور اسے محبت سے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوا ۔ وہ جانتا تھا وہ آج بھی اس سے دور بھاگتی ہے ۔ وہ اس کے کان کے پاس جھکا ۔”تم جتنا مرضی مجھ سے بھاگ لو ,تمہارا ہر راستہ ,ہر منزل جہان شاہ ہے ۔ کوئی بھی تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا ۔ جو جہان شاہ کا ہے وہ صرف اور صرف جہان شاہ کا ہے ۔ جتنا مجھ سے دور بھاگو گی اتنا ہی مجھے خود سے قریب پاؤ گی ۔” جزبات کی شدت سے اس کی آواز بھاری ہو گئی ۔ اس نے پاکٹ سے ایک پینڈنٹ نکالا جو ہارٹ شیپ کا تھا اور اس پر J لکھا تھا پری کو پہنا دیا ۔ پھر پیکٹس کھولے اور کچھ کرنے لگا ۔ اس کام کے بعد ایک پیکٹ سے ریڈ باربی ڈریس نکالا اور الماری میں لٹکا دیا ۔ ان سب سے فارغ ہو کر اس نے دوبارہ ایک نظر پری کو دیکھا اور جس طرح آیا تھا ویسے ہی کمرے سے نکل گیا ۔
___________
“ماما گڈ مارننگ ” زمل نے آمنہ شاہ کو مسکراتے ہوئے کہا ۔” گڈ مارننگ بیٹا ” انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
“کیا بات ہے پری نہیں اٹھی ابھی تک آج اس کی برتھڈے بھی ہے تم نے وش کر دیا تھا ؟”انہوں نے زمل سے پوچھا ۔ “جی ماما رات بارہ بجے میسج کر دیا تھا “۔
“آپ ناشتہ لگوائیں میں اسے دیکھتی ہوں “زمل کہتے ہوئے پری کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
“پری ” اسنے ابھی ڈور اوپن ہی کیا تھا مگر کمرے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی ۔ پورا کمرہ پھولوں کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا اور پری پرسکوں سو رہی تھی ۔
اس نے دوبارہ حیرانی سے سب دیکھا اور آگے بڑھ کر بیڈ کے پاس آگئی ۔ سائیڈ ٹیبل پر دیکھا تو سلیپنگ سپرے پڑا تھا ۔
اس نے پری کو جگانے کی کوشش کی ۔ کافی دیر تک آوازیں دینے سے اس کی آنکھ کھلی ۔ اس نے حیرانی سے ادھر ادھر دیکھا اور بیٹھنے کی کوشش کی مگر اسے ابھی بھی چکر آ رہے تھے ۔ زمل یوں ہی کھڑی حیرانی سے دیکھ رہی تھی ۔
پری نے اپنے آس پاس دیکھا اور ایکدم اٹھ کر زمل کے گلے لگ گئی ۔
“اف زمل ,واؤ تم نے یہ سب کیا ,اتنے پھول ,تھینکیو سو مچ اس سب کے لئے ,یہ میری لائف کی بیسٹ برتھڈے ہے “اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“پری,یہ سب میں نے نہيں کیا “زمل کو خود کی آواز اجنبی لگی ۔
“کیامطلب تم نے نہيں کیا تو اور کس نے کیا ہے “پری نے حیرانی اور پریشانی سے پوچھا ,۔
مجھے نہیں پتا ,میں تو ابھی آئ تو دیکھا تم سو رہی ہو اور سلیپنگ سپرے ٹیبل پر پڑا ہے “زمل نے پریشانی سے کہا ۔
ایکدم اس کی نظر پینڈنٹ پر پڑی اس نے ہاتھ بڑھا کر دیکھا جس پر j لکھا ہوا تھا ۔
پری نے جب اپنے گلے میں پینڈنٹ دیکھا تو اس پر jلکھا تھا ۔
“یہ کہاں سے آیا میں نے تو نہیں پہنا ہوا تھا اور اس پرj ,,,,,,,,,,,”اس نے اٹکتے ہوئے کہا ۔
“شاید جہان بھائی ,,,,,,,,,,,”زمل بس اتنا ہی کہہ پائ کہ پری نے رونا شروع کر دیا اور خوف سے کانپنے لگی ۔
زمل نے اسے یوں روتے دیکھا تو آمنہ شاہ کو آواز دینے لگی ۔
آمنہ شاہ جو ناشتہ لگا رہی تھیں زمل کی آواز پر فوراً کمرے میں آئیں تو دیکھا پری رو رہی ہے اور زمل چپ کروا رہی ہے ۔ اور کمرے میں ہر طرف پھول بکھرے ہوئے ہیں ۔
انہوں نے حیرانی سے سب دیکھا اور فوراً آگے بڑھ کر پری کو چپ کروانے لگیں ۔ “کیا ہوا ہے بیٹا رو کیوں رہی ہو “انہوں نے پوچھا ۔ تا ئ جان جہان آیا تھا اور اس نے یہ سب کیا ہے ,مجھے نہیں پتا کب ۔۔۔۔۔کیسے ۔۔۔۔میں سو رہی تھی “اس نے روتے ہوئے بے ربط جملے کہے۔
آمنہ شاہ نے حیرانی سے سنا ۔ “جہان آیا تھا , کیسے ۔۔۔۔ تمہیں کیسے پتا ۔۔۔۔”۔
پری نے گلے میں پہنا پینڈنٹ دکھایا جس پر j لکھا ہوا تھا ۔ انہیں سمجھ نہ آئی کہ آیا خوش ہوں کے بیٹا آیا تھا یا پریشان ہوں کہ وہ آج بھی ویسا ہی ضدی اور جنونی ہے کہ رات کو بغیر بتائے آیا اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد چلا گیا ۔ احمد شاہ بھی بزنس کے سلسلے میں امریکہ گئے ہوئے تھے ۔
انہوں نے پری کو چپ کروایا ۔ “ٹینشن نہیں لو تمہارے تایا دوپہر تک آ جائیں گے پھر اس مسئلے کا حل نکالتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔
جہان کا یہ قدم انہیں حیران اور پریشان کر گیا تھا ۔
موسیٰ شاہ اور ان کی فیملی بھی اپنے سسرال شادی پہ گئے تھے ۔
“چلو آؤ ناشتہ کرتے ہیں آج میری بیٹی کا سپیشل دن ہے پریشان نہ ہو , چلو آجاؤ ۔ “انہوں نے کہا تو پری فریش ہونے چلی گئی ۔
زمل یوں ہی کھڑی تھی ۔ “ماما کیا واقعی جہان بھائی ابھی بھی ویسے ہی ہیں “اس نے پوچھا ۔
انہوں نے بغیر کوئی جواب دئیے اسے ایک نظر دیکھا اور باہر چلی گئیں شاید اس کا جواب وہ دونوں جانتی تھیں کہ وہ کبھی نہیں بدل سکتا ۔ وہ جہان شاہ تھا اور جہان شاہ جس کے پیچھے پڑ جائے اسے ہر قیمت پر حاصل کرتا تھا ۔
وہ روم میں بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا ۔ وہ جانتا تھا اس کا ری ایکشن کیا ہو گا ۔ایکدم اس کے موبائل پہ رنگ ہوئی ۔ نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔ اس نے کال اٹینڈ کی ۔” مل گیا سکون تمہیں اسے پریشان کر کے ” دوسری طرف سالار نے طنزیہ پوچھا ۔ جہان ہنسا “ہاں آگیا “
“یار تجھے شرم آنی چاہیے یوں کسی لڑکی کے کمرے میں آدھی رات کو جاتے ہوئے “سالار زچ ہوتے ہوئے بولا ۔
“نہیں مجھے نہیں آتی اور ویسے بھی اپنوں کے پاس جاتے ہوئے شرمانا نہیں چاہیے “جہان نے مزاحیہ لہجے میں کہا ۔
“جہان تم ایک بار پھر اسے خود سے دور کر رہے ہو بہتر ہو گا دوبارہ اسے تنگ مت کرو “اس نے سمجھانے کی کوشش کی ۔
یہ سن کر جہان کی نیلی آنکھیں سرخ ہو گئیں “آج یہ بات کہہ دی ہے دوبارہ مت کہنا تم میرے دوست ہو اس لئے کہہ دیا اگر کوئی اور ہوتا تو وہ دوبارہ بولنے کے قابل نہ رہتا ۔”اس کے سرد لہجے پر سالار کے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے ۔ “پری صرف اور صرف جہان شاہ کی ہے جو کوئی اسے مجھ سے دور رکھنے کی کوشش کرے گا وہ اپنی زندگی سے دور ہو جائے گا آئندہ خیال رکھنا “اس نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا ۔ غصے کی شدت سے ماتھے کی رگیں ابھر آئی تھیں ۔ نیلی آنکھوں میں پراسراریت تھی
_________
“ماما جلدی کریں پھر ہمیں شاپنگ پہ بھی جانا ہے “زمل نے جلدی جلدی ناشتہ کرتے ہوئے کہا ۔
اس کی اس بےتابی پر پری اور آمنہ شاہ دونوں ہنس دئیے ۔
“بیٹاجی ,میں نے کل دوپہر پری کا ڈریس منگوا لیا تھا اور اس کی الماری میں میں رکھوا دیا ہے ۔”آمنہ شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“تائی جان آپ نے بتایا ہی نہیں ہم کل فضول میں گئے ۔ اگر نہ جاتے تو وہ سب نہ ہوتا “پری نے کہا ۔ ایک پل کے لئے سب خاموش رہ گئے ۔
“جلدی ناشتہ کرو پری پھر ہمیں ڈریس بھی دیکھنا ہے اور فنکشن کی تیاری بھی کرنی ہے “زمل نے سب کو خاموش دیکھ کر جلدی مچائی ۔
“ہاں چلو میں نے ناشتہ کر لیا ہے “پری نے کہا اور زمل کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ پیچھے آمنہ شاہ ملازموں کو کام کہنے لگیں کے آج کے فنکشن میں کسی چیز کی کمی نہ ہو اور سیکیورٹی مکمل ہو اور کوئی غیر متعلقہ شخص اندر نہ آئے ۔
مگر نہیں جانتی تھیں کہ جس بیٹے کی وجہ سے اتنے حفاظتی اقدامات کر رہی ہیں وہ ایسے کسی اقدام سے رکنے والا نہیں ۔
شاید ان کے اندر رات کے واقعے نے گہرا اثر ڈال دیا تھا ۔
وہ دونوں جلدی جلدی اندر آئیں تھیں ۔ الماری کھولی تو سامنے اس قدر خوبصورت ریڈ باربی فراک دیکھا تو ایک لمحے کے لئے دونوں سٹل ہو گئیں ۔
“واؤ “دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا اور دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے ہنس دیں ۔ وہ فراک اس قدر خوبصورت تھا کہ ان کی آنکھیں ہی نہیں ہٹ رہی تھیں یہ نہیں تھا کہ انہوں نے کبھی ایسے ڈریس نہیں پہنے تھے ۔ ان کے ڈریس لاہور کی بڑی بڑی بوتیکس سے آتے تھے مگر اس میں کچھ خاص تھا شاید کچھ ایسا جو لفظوں میں بیان نہ ہو پا رہا تھا ۔
“بس پھر فائنل ہوا تم فنکشن میں یہی پہنو گی ۔ “زمل نے کہا ۔ “چلو آؤ میرا ڈریس تو پاپا لائیں گے شام کی تیاری کر لیں کیونکہ شاہ تک تو چچاجان اور ان کی فیملی نے بھی آ جانا ہے۔ “زمل نے کہا ۔
“زمل میرا ایک کام کرو گی “پری نے اس سے کہا ۔
“ہاں بولو میری جان “زمل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
“پلیز میرے گلے سے پینڈنٹ اتار دو میں نے بہت کوشش کی مگر یہ نہیں اتر رہا ۔ پلیز ۔۔۔”اس نے آہستگی سے کہا ۔
زمل نے یہ سن اس کے گلے سے اتارنے کی کوشش کی مگر کافی دفعہ کوشش کے باوجود بھی نہ نکلا ۔
“آئی ایم سوری پری یہ کھل ہی نہیں رہا “زمل نے کہا ۔
اس سے پہلے کے پری کچھ کہتی ملازمہ نے آپ کر بتایا کہ بڑی بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں تو وہ باہر چلی گئیں ۔
وہ کہیں جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ ایکدم موبائل پہ رنگ ہوئی ۔ سالار کا نام دیکھ کر نیلی آنکھوں میں سرخی دوڑ گئی ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر کال اٹینڈ کی اور سرد آواز میں بولا “ہاں بولو کیوں کال کی ہے “۔
“معاف کر دے یاد غلطی سے منہ سے نکل گیا ۔ پلیز معاف کر دے ساری رات تجھے سوری کے میسجز کئے مگر مجال ہیں جہان شاہ نے اک نظر کرم مجھ پہ ڈالی ہو بس آخری دفعہ معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں بولوں گا ” سالار نے معزرت خواہ لہجے میں کہا ۔
“آخری بار ہے دوبارہ نہیں ۔۔۔۔۔۔”اس نے بھی نرم لہجے میں کہا ۔
“یار تو مان گیا اف الله تیرا شکر ہے نہیں تو میں سمجھا میں پریشانی سے آدھا آپ جاؤں گا “اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
“جہان مجھے تم سے کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔۔۔”سالار نے کہا ۔
“ہاں بولو ۔۔۔۔”
“کیا تمہیں یقین ہے وہ تمہارے والا ڈریس ہی پہنے گی ۔ اگر اس نے وہ نہ پہنا تو ۔۔۔۔۔۔”سالار نے حیرانی سے پوچھا ۔
“ہاں مجھے پتا ہے وہ وہی ڈریس پہنے گی ۔۔۔۔۔۔”اس نہیں مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
سالار کچھ نہ بولا ۔
“میں باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سالار نے کہا اور موبائل بند کر دیا ۔
اور وہ مسکراتے ہوئے باہر چلا گیا ۔ جانتا تھا کہ وہ باہر ہی ہے ۔ سالار اس کا دوست تھا اور جہان شاہ دوست کی رگ رگ سے واقف تھا کیونکہ پچھلے پانچ سالوں سے وہ اس کے ساتھ تھا ۔
وہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھا کیونکہ واپس آ کر اسے کہیں اور بھی جانا تھا ۔ جانتا تھا کہ فل سیکیورٹی ہو گی مگر جہان شاہ کو اس کی باربی کے پاس پہنچنے سے کون روک سکتا تھا ۔
