Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat NovelR50694 Mohabbat Fateh Alam (Episode 05)
Rate this Novel
Mohabbat Fateh Alam (Episode 05)
Mohabbat Fateh Alam by Nimra Liaquat
سب نے حیرانی سے اسے پری کی طرف دیوانہ وار جاتے دیکھا ۔
سالار بھی اس کے پیچھے گیا مبادا وہ اپنا کوئی نقصان نہ کر لے ۔
“تمہیں میں نے منع کیا تھا نہ تم نہیں آؤ گی “اس نے غصے میں اپنے مضبوط ہاتھوں سے اسے بازوؤں سے پکڑتے ہوئے کہا ۔
اس کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ درد کی شدت سے پری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔
اس نے بمشکل اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا ۔
جہان کی سرد آواز پر وہ ڈر کر کانپ رہی تھی ۔
“جواب دو ۔ منع کیا تھا نہ ۔۔۔”وہ چپخا۔
سالار نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ۔
تمام گیسٹ یہ سب دیکھ کر حیران ہو رہے تھے ۔
موسیٰ شاہ اور احمد شاہ جلدی سے ان کی طرف آئے ۔
“جہان چھوڑو اسے ۔ پاگل ہو گئے ہو کیا ۔”انہوں نے دبے دبے لہجے میں کہا ۔
جانتے تھے کہ اگر مزید کچھ کہا تو وہ ہتھے سے اکھڑ جائے گا ۔
“میں نے اسے منع کیا تھا ۔ پھر کیوں آئی ۔ جواب دو “وہ چیخا۔
“پری کو میں لے کر آیا ہوں ۔وہ اپنے روم میں کیوں رہے ۔
اس کا بھی پورا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارے “احمد شاہ نے نرمی سے کہا ۔
مگر وہ ان کی کوئی بات سنے بغیر تھوڑا آگے ہوا اور پری کو بازوؤں میں اٹھایا اور اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
وہاں موجود تمام افراد کا تعلق ہائی سوسائٹی سے تھا ۔
ان میں احمد شاہ اور موسیٰ شاہ کے بزنس پارٹنر بھی تھے ۔
جو بڑی دلچسپی سے جہان شاہ کی پوزیسونس دیکھ رہے تھے ۔
مگر وہاں موجود تمام صنف نازک جن میں لاریب شاہ بھی تھی حسد کی آگ میں جل رہی تھیں ۔
شاید جانتی نہیں تھیں کہ حسد کی آگ ایسی آگ ہے جو انسان کو خود کو لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔
احمد شاہ اور موسیٰ شاہ تمام گیسٹ سے معزرت کرنے لگے
وہ اسے اٹھا کر اپنے کمرے میں لایا اور بیڈ پر بٹھا دیا ۔
پری نے روتے ہوئے جلدی سے بیڈ سے اترنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے کمرے میں جا سکے ۔
جہان جو وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اس نے جا کر ڈور اندر سے لاک کر دیا ۔
اور پری کو دوبارہ پکڑ کر بیڈ پر بٹھا دیا ۔
پری کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا ۔
جہان نے بھرپور نظروں سے اسے دیکھا ۔
وہ اس وقت بےحد غصے میں تھا مگر پری کے آنسو جیسے اس کا سارا غصہ بہا کر لے گئے ۔
وہ نیچے جھکا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔
پری نے ڈر کر اس کے ہاتھ پیچھے کرنے چاہے مگر کامیاب نہ ہوئی ۔
جہان وہیں اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
اس کے ںیٹھنے پر پری فوراً دور ہونے لگی مگر جہان نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا ۔
اور پاکٹ سے سیل نکال کر سالار کا نمبر ڈائل کیا ۔
سالار نے پہلی بیل پر کال اٹینڈ کی جب جہان بولا ۔
“جو لڑکا ہمارے پیچھے کھڑا تھا اس کا سارا بائیو ڈیٹا معلوم کرو ۔ کل صبح تک مجھے ہر قیمت پر ملنا چاہیے “۔
پری نے ڈر کر اس کی طرف دیکھا ۔
اس کا دل یہ بات سن کر مزید گھبرا گیا ۔
اس کا جسم سن ہو رہا تھا ۔
“جہان نہيں بدلا “اس نے سوچا تو پیشانی پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں ۔
“جہان تو ٹھیک ہے نہ ۔ پارس ٹھیک ہے ۔ تو نے اسے کچھ کہا تو نہیں ۔”سالار جلدی سے بولا ۔
“ہاں تمہاری بھابھی ٹھیک ہے ۔ میں اسے کچھ کہہ سکتا ہوں ” حہان شرارتی مسکراہٹ سے بولا تو دوسری طرف سالار کھلکھلا کر ہنسا اور فون بند کر دیا ۔
پری خود کو یوں بلانے پر شرم اور حیا سے چہرہ جھکا گئی ۔
نم آنکھيں جھکی ہوئی اس قدر خوبصورت لگ رہی تھیں کہ جہان پاگل ہو رہا تھا ۔
اس کی نگاہوں کی تپش پری کے حواس گم کر رہی تھی ۔
جہان نے اسے یوں پزل ہوتے دیکھا تو کھل کر ہنس دیا ۔
بڑے عرصے بعد وہ یوں ہنسا تھا ۔
نیلی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی ۔
میں جارہا ہوں اور زمل کو بھیجتا ہوں روم سے باہر مت جانا ۔ “جہان نے مسکرا کر نرمی سے کہا اوراس باہر بڑھ گیا
جہان کے جانے کے بعد اس نے سر اٹھا کر روم کو دیکھا ۔وہ آٹھ سال بعد اس روم میں تھی جس میں کبھی نہ آنے کا عہد کیا تھا ۔
پورے شاہ ہاؤس میں سب سے خوبصورت روم جہان کا تھا ۔
جہان کے روم میں ریڈ کلر نمایاں تھا ۔
ریڈ کرٹنز ,ریڈ ہی جہازی سائز بیڈ کی بیڈ شیٹ,بیڈ کے ساتھ ریڈ جالی دار پردے , ریڈ کارپٹ۔ اس کا روم شاہ ہاؤس کا ڈریم روم تھا ۔
وہ جہان کے روم میں ہے یہ سوچ کر ہی اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا ۔
اور جہان کا اسے اٹھا کر کمرے میں لانا اور وہاں موجود تمام افراد کا اسے دلچسپی سے دیکھنا اسے بھلائے نہ بھول رہا تھا ۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں تھی کہ ڈور اوپن ہوا اور زمل اینٹر ہوئی ۔
“پری ۔ آئم سوری ۔ باہر جو کچھ بھی جہان بھائی نے کیا “اس نے معزرت خواہ لہجے میں کہتے ہوئے پری کو گلے سے لگا لیا ۔
اور روم میں نظر دوڑائی تو بے اختیار منہ سے واؤ نکلا ۔
“پری تمہیں پتا ہے جہان بھائی کے روم میں ریڈ کلر نمایاں کیوں ہے ” ۔
زمل نے معنی خیز مسکراہٹ سے پوچھا ۔
تو پری نے اسے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
“کیونکہ تمہیں ریڈ کلر پسند ہے “زمل نے ہنستے ہوئے بتایا ۔
جس پر پری نے حیا سے چہرہ جھکا لیا ۔
اور زمل اسے یوں دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس دی۔
یہ ان تمام سالوں میں جہان کے بارے میں ان کی پہلی باضابطہ گفتگو تھی ورنہ ہر بار پری جہان کا نام سنتے ہی اٹھ جاتی تھی ۔
“پری مجھے تم سے جیلسی ہو رہی ہے کاش مجھے بھی کوئی یوں ہی چاہے “ذمل نے افسوس سے کہا ۔
جس پر پری نے بےاختیار سوچا کہ کوئی اس سے پوچھے اس نے جہان کے جنون میں کتنی تکلیفیں اٹھائی ہیں ۔
ایکدم زمل کی نگاہ اسٹڈی کے ڈور پر پڑی۔
“ارے یہ کیا ۔ ہم تو یہاں نہیں آئے جہان بھائی نے کبھی آنے نہیں دیا ۔ آؤ دیکھتے ہیں ۔
زمل نے تجسس سے کہا ۔
پری نے نفی میں سر ہلایا ۔
مگر زمل نے زبردستی اس کا ہاتھ تھاما اور لے گئی ۔
ڈور اوپن کیا تو دونوں کی آنکھیں جیسے چندھیا گئیں ۔
پورا روم پری کی تصویروں سے بھرا ہوا تھا ۔
ان میں پری کے بچپن کی ہر برتھڈے کی غرض ہر فنکشن کی پکس تھیں ۔
اور ان میں وہ پکس بھی تھیں جب جہان لندن تھا مگر یہاں وہ تھیں ۔
“مگر یہ یہاں کیسے ؟”اس نے بامشکل پوچھا ورنہ اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا ۔
“پری میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ جہان بھائی اتنی آسانی سے تمہیں چھوڑ کر نہیں جانے والے ۔مگر اب سمجھ آگئی وہ ہر بار تمہارے ہر فنکشن میں ہوتے تھے مگر کسی کو بھی معلوم نہ ہوتا تھا۔”
زمل نے مسکراتے ہوئے تفصیلی جواب دیا ۔
پری کچھ کہہ نہ سکی ۔
آج پہلی بار وہ اپنے دل کو سمجھ نہ پا رہی تھی ۔
آج اس کی دھڑکنیں کچھ ایسا بول رہی تھیں جو اس سے پہلے نہ بولا تھا ۔
شاہ کی دیوانگی ,اس کا جنون, اس کی محبت کی شدت ,اس کی پوزیسونیس اس کے لئے آنسوؤں اور تکلیف کا باعث بنتی تھی ۔
مگر دل آج کچھ اور کہہ رہا تھا ۔ کچھ الگ ,کچھ نیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے دل کی حالت سے بے خبر زمل ویسے ہی بول رہی تھی ۔
مگر پری نہیں جانتی تھی جس دل میں جہان کے لئے کچھ نیا جزبہ بن رہا ہے جہان اپنی جنونیت کے ہاتھوں اسے خود ہی تباہ کر دے گا ۔
فنکشن کے اختتام پر احمد شاہ اور موسیٰ شاہ نے جہان کو بہت ڈانٹا اور ناراض ہوئے مگر وہ جہان ہی کیا جو کسی بات کے لئے اثر لے ۔
احمد شاہ کو جی بھر کے اس کی ہٹ دھرمی اور بے باکی پر غصہ آیا ۔
مگر وہ ان کی ہر بات پر یوں مسکرا رہا تھا جیسے وہ جوکس سنا رہے ہوں ۔
جس سے احمد شاہ کے غصے میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔
“تمہاری انہی حرکتوں کی وجہ سے مجھے پری کے رشتے کی فکر ہے “احمد شاہ نے پریشانی سے پیشانی مسلتے ھوئے کہا ۔
جس پر حہان کا مسکراتا چہرہ ایکدم سنجیدہ ہوا ۔
“آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے پری کی شادی مجھ سے ہی ہو گی کیا آپ بھول گئے آپ نے اس رات جو کچھ مجھے کہا تھا “اس نے سرد لہجے میں کہا ۔
اور ایسی بات غلطی سے بھی دوبارہ مت کہئیے گا ۔”اس نے دوٹوک کہا اور کمرے میں چلا گیا جہاں اب پری تو نہیں تھی مگر اس کی خوشبو ضرور تھی جسے صرف جہان پہچانتا تھا ۔
روم
میں آینٹر ہوتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکہ سامنے بیڈ پر پری اور زمل سو رہے تھے ۔
زمل نے جہان کے کہنے پر پری کو جانے نہ دیا ۔
جہان نے ٹائم دیکھا تو رات کے تین بج رہے تھے ۔
وہ بیڈ کے اس سائیڈ کی طرف بڑھا جہاں پری سو رہی تھی ۔
_______
لیمپ کی مدھم روشنی میں وہ آگے بڑھا ۔
پری بےخبر سو رہی تھی ۔روم میں فسوں خیز خاموشی تھی ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس پہنچا اور پاس بیٹھ گیا ۔
پری کی موجودگی اس کے لئے بےحد اہمیت رکھتی تھی ۔
مدھم روشنی میں اس کے چہرے کی معصومیت جہان کو دیوانہ کر رہی تھی ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوا جیسے اس کی موجودگی محسوس کرنا چاہ رہا ہو ۔
شاہ کی نیلی آنکھوں کی چمک دیدنی تھی ۔
اس نے اٹھ کر پری پر کمفرٹر صحیح کیا اور چینج کرنے چلا گیا ۔
چینج کرنے کے بعد اس نے راکنگ چیئر کو کھینچ کر بیڈ کے پاس کیا اور اس پر بیٹھ گیا اور پارس کو دیکھنے لگا ۔
“اگر پری کچھ دیر کے لئے اس کے روم میں ہے تو وہ وقت دور نہیں جب وہ ہمیشہ کے لئے اس روم میں ہو گی “شاہ نے مسکرا کر سوچا ۔
اور اپنی ہی دیوانگی پر بےاختیار ہنسا ۔
وہ جانتا تھا وہ پوری رات اسے یوں ہی دیکھتے گزارے گا ۔
یکدم پری نیند میں کسمسا ئی
۔
شاید نیند میں بھی اسے اپنے چہرے پر کسی کی نگاہوں کی تپش محسوس ہو رہی تھی ۔
یہ چیز اس کی معصومیت کی گواہ تھی ۔
جہان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور وہ پرسکون ہو کر دوبارہ گہری نیند سو گئی ۔
جبکہ جہان باقی پوری رات یوں ہی اس کا ہاتھ پکڑے بیٹھا رہا ۔
صبح پری کی آنکھ کھلی تو اس نے بےاختیار اپنے اردگرد دیکھا ۔
سائیڈ پر بیٹھے جہان کو دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
“صبح بخیر زندگی “وہ مدھم لہجے میں بولا ۔
پری گھبرا کر اٹھی اور اپنا ہاتھ کھینچا ۔
گھبراہٹ کے مارے اس سے کچھ بولا بھی نہ جا رہا تھا ۔
اس نے جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر جوتے پہنے اور باہر کی طرف بڑھی۔
“پری میری بات سنو۔۔۔۔۔”جہان نے جلدی سے کہا ۔
اور آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑا ۔
“چھوڑو مجھے ۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ” وہ روتے ہوئے بولی ۔
“میں نے کچھ نہیں کیا ۔ اور تم مجھے غلط کیوں سمجھ رہی ہو ” جہان نرمی سے بولا ۔
وہ اسے جانتا تھا اتنا کہ پری خود بھی نہیں جانتی تھی ۔
وہ اس کے چہرے کے تاثرات اور اس کے رونے کی وجہ جان کر مبہم مسکرایا ۔
“میں نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا ۔ اگر کچھ کرنا ہوتا تو تب کرتا جب بنا اجازت تمہارے روم میں شب کو آتا تھا ۔ “جہان نے سنجیدگی سے کہا ۔
“پری تم میری امانت ہو ۔
تمہیں میں پوری دنیا کے سامنے اپناؤں گا ۔ یہ تمہارے شاہ کا تم سے وعدہ ہے “۔ جہان نے کہا نرمی سے اس کے آنسو صاف کئے اور باہر نکل گیا ۔
پری سٹل کھڑی اسے جاتے دیکھتے رہی ۔
تیزی سے نکلتے آنسو بےدردی سے صاف کئے ۔
اسے جہان سے جتنی بھی نفرت تھی مگر جہان کی سچائی پر بھی یقین تھا ۔
اس نے بےخبر سوئی زمل کو اٹھایا اور خود باہر نکل گئی اور چپکے سے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی ۔
روم میں آکر اس نے ڈور لاک کیا ۔
اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی ۔
اسے رات سے زمل پر بےحد غصہ تھا جس نے اسے جہان کے روم سے آنے نہ دیا تھا جس وجہ سے وہ زمل سے بےحد ناراض ہو گئی تھی ۔
وہ انہی سوچوں میں تھی کہ میسج ٹون بجی ۔
اس نے دیکھا تو جہان کا میسج تھا ۔
“اگر رو رہی ہو تو ایک منٹ میں چپ کر جاؤ اور آکر ناشتہ کرو ورنہ میں تمہیں گود میں اٹھا کر یہاں لاؤں گا میں پانچ منٹ ویٹ کروں گا ۔ ورنہ جو ہو گا تم خود ذمہدار ہو گی ‘”۔
اس نے جلدی سے آنسو صاف کئیے اور فریش ہونے چلی گئی ۔
جانتی تھی اگر پانچ منٹ سے ایک سیکنڈ بھی لیٹ ہوئی تو جہان واقعی میں آ جائے گا ۔
“میں آج سے بزنس جوائن کر رہا ہوں اور آج آپکی جگہ میں اسلامآباد جا رہا ہوں میٹنگ کے لئے “اس نے ایکدم احمد شاہ سے کہا کے سب چونک کر حیرانی سے اسے دیکھنے لگے ۔
احمد شاہ نے صرف حیرانی سے سر ہلایا۔
پری کو جلدی جلدی آتے دیکھ کر جہان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ۔
اس نے چیئر سے اٹھ کر پری کو اپنی چیئر پر بٹھایا اور خود چلا گیا ۔
پری نے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔
احمد شاہ نے غصے سے جہان کی بےباکی کو دیکھا ۔
جبکہ زمل چہرہ جھکا کر مسکرا رہی تھی ۔
جب سے اس نے جہان کی اسٹڈی می پری کی پکس دیکھی تھیں وہ پری کو تنگ کرنے کا کوئی موقع جانے نہ دیتی تھی ۔
اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے پری کو دیکھا ۔
پری نے غصے سے اسے گھورا ۔
جبکہ زمل یوں ہی مسکراتی رہی…
