Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode. 9

وانیہ نے کھسک کر کمرے میں پڑی ہوئی اکلوتی کرسی کا سہارا لیا تھا۔

اچانک بھیانک چرچراہٹ سے دروازہ کھلا تھا۔

وانیہ دم سادھ کر بیٹھی رہی ۔،خوف اور دہشت سے پورے جسم پر کپکپی طاری تھی.

آنے والا بڑے سکون سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر داخل ہو رہا تھا.. لہکن دنیا جہان کی خباثت اور درندگی اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھی.ووہ آیا

اور انتہائی خوبصورت آواز میں گنگنا رہا تھا ۔،

میری بھیگی بھیگی سی۔،
میری بھیگی بھیگی سی پلکوں پہ رہ گئے جیسے میرے سپنے بکھر کے۔،
جلے من تیرا بھی کسی کے ملن کو انامیکا تو بھی تڑپے

اس کے ہاتھ میں تیز دھار چاقو تھا۔ جو کے وہ کمرے کے دروازے سے بجا رہا تھا۔ بلکل ابنارملز کی طرح ۔،اس نے آکر کھڑکی کھولی تھی ۔،،

آٹھ بج چکے تھے ۔باہر اندھیرا تھا اور اندر بھی اس لئے اس نے سیور آن کیا تھا۔،

آخر وہ اندر آیا تھا ۔،اس کا چہرہ بہت بھیانک لگا وانیہ کو۔،

کتنا تڑپاتی ہے ناں یہ محبت ۔،،، تمہیں نہیں لگتا کہ اس سے نجات حاصل کر لینی چاہیے زندگی سے نجات حاصل کر کے۔،

اس کا لہجہ انتہائی سرد تھا ۔

تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی اپنے عاشق سے تو بڑی باتیں کرتی ہو ۔ وہ نفرت سے دھاڑا۔،

وانیہ تڑپی لیکن بےبس تھی ۔،

او،، سوری، سوری۔،،،، مجھے تو خیال ہی نہیں آیا ۔،اس نے کھینچ کر وانیہ کے منہ سے ٹیپ اتارا۔

وہ خود کو گھسیٹتی ہوئی اس سے ذرا سا دور ہوئی۔،اور سسکتے ہوئے بولی۔،

مم،،،، مجھے کیوں لائے ہو یہاں،،، چھوڑ دو مجھے،،، تم نے،،، تم نے مایا کو،،،،

اس سے آگے وہ بول نا پائی۔،

ہاں میں نے مارا اسے،، اطمینان قابلِ دید تھا ۔،جیسے کہ پتہ نہیں کتنی بہادری اور اچھائی کا کام کیا ہو اس نے

کیوں،، کیوں کیا تم نے ایسا۔،کیسے انسان ہو تم۔، بلکہ نہیں ۔،،،،تم تو انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہو ،،،وحشی درندے ہو تم ،،انسانیت کے نام پہ دھبہ ہو۔،

مقابل کا اطمینان قابلِ دید تھا۔،ایسی مسکراہٹ تھی چہرے پر جیسے تعریف ہو رہی ہو ،

جانے کہاں سے آئی تھی وانیہ میں اتنی ہمت کے وہ رونے گڑگڑانے کی بجائے اس سے الجھ پڑی،

کتنے منحوس ہو تم ۔،ہمارے خاندان کی ساری خوشیاں کھا گئے اور شفان،، شفان کی بھی،،

شفان کے نام سے اس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی ۔،

شٹ اپ ۔،جسٹ شٹ اپ ۔،،وہ دھاڑا،، نفرت ہے مجھے اس سے ،اس کے نام سے، اس کے وجود سے اس سے جڑے ہر رشتے سے اور،،،، اور تم سے

کیوں،، کیا بگاڑا ہے اس نے تمھارا اور میں نے،، وہ بے بسی سے بولی…

اس نے سب کچھ چھینا ہے میرا۔،میری محبت میرا جنون اور میرے جینے کا مقصد،، مایا کو چھینا ہے اس نے،،، میں اس کا سگا بھائی نہ تھا۔۔ بچپن سے ہی اسی سے عشق کیا۔،،لیکن اس نے کیا کیا۔،،اب وہ روتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ایسے اس کو اپنی کہانی سنا رہا تھا جیسے وانیہ کو پتہ نہیں کتنی دلچسپی ہو،

لیکن اس مایا نے،، ،سیف کی آنکھوں میں خون اتر آیا،،لہجے میں حقارت تھی… اس نے اس شفان کے لئے مجھے ٹھکرا دیا،،

کتنا بڑا گناہ کیا ناں اس نے..
،پھر،،، پھر میں نے اس کو اس کے گناہ کی سزا دے دی،اس کے لہجے میں حقارت اور نفرت تھی، اب صرف وہ بچا ہے جو اس گناہ میں برابر کا شریک تھا ۔،،میں اس سے اس کی ہر عزیز چیز چھین لوں گا، ہر خوشی،، سب کچھ،،،،، سب،،
تمھیں اس سے محبت نہیں کرنا چاہئے تھی،،

اس کے سرد الفاظ وانیہ کی رگوں میں سرسراہٹ پیدا کر گئے

اس نے وانیہ کے گال پر چاقو رکھا اور گویا ہوا..

بہت خوبصورت ہو تم،،، تمھارے پاس دو آپشن ہیں جانِ من،، یا تو یہیں سے میرے ساتھ چلو اور مجھ سے کورٹ میرج کرو یا پھر دردناک موت مرو۔،، وانیہ نے نفرت سے منہ دوسری طرف پھیر لیا..

اس نے سلاخ جیسے ہاتھوں سے اس کا منہ جکڑ کر اپنی طرف کیا، ۔

اب بولو۔، جلدی بولو۔،، اچھے بچوں کی طرح کے تم اس سے محبت نہیں کرتی اور تمھیں میرا پرپوزل قبول ہے ۔،

وہ بے آواز پلکوں کی جھالر نیچے گرائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ پر کچھ ناں بول پائی ۔،،

او مائی گاڈ۔،،کیا کیا تم اس سے محبت کرتی ہو،،؟

ہااااں، ہااااں،، ہااااااں،، کرتی ہوں……….. ۔،بہت محبت کرتی ہوں، ۔…..

وہ اس جانور سے،،، اپنی زندگی سے تنگ آ کر شیرنی کی طرح دھاڑی،،کہ پورے کمرے میں اس کی آواز گونج اٹھی ۔

کر تی ہوں اس سے محبت ۔،بے تحاشا،، بے پناہ ۔ ۔۔مار ڈالو مجھے تم،،…. اس زندگی سے اور اس دو ٹکے کی میری محبت سے آزاد کر دو……. اس روز روز کے تل تل مرنے سے تو اچھا ہے میں ایک ہی مرتبہ مر جاؤں ،،ویسے بھی زندگی عذاب بن گئی ہے میری۔،،😔😔

وہ رو رہی تھی،، تڑپ رہی تھی..

سیف نے زناٹے دار تھپڑ مارا تھا اسے۔،اس کا ہونٹ پھٹ گیا اور سر کرسی سے ٹکرا کر زخمی ہو گیا،
وہ بری طرح اپنے بال مٹھیوں میں پھینچ کر پاگلوں کی طرح یہاں وہاں چکر لگا رہا تھا…

نہیں ۔،،نہیں ۔،،نہیں،،، ایسے نہیں ،،،،،،،،،

،،گڑگڑاؤ میرے آگے ،،،روؤ،، چلاؤ،،
بھیک مانگو اپنی زندگی کی ،،
واسطے دو،،

بلکل ایسے جیسے اس نے مانگی تھی بھیک اپنی زندگی کی،،
اپنی محبت سے دستبردار ہو کر مجھ سے شادی کرنے کے وعدے کرنے لگی تھی،،، تمھیں بلکل ویسے کرنا ہے،،
پھر ملے گا مجھے سکون۔

میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی،،، وانیہ حقارت سے دھاڑی…

تو محبت اتنی شدید ہے کہ تم دستبردار ہونے کو تیار نہیں، تمہیں موت سے ڈر نہیں لگتا،

نہیں،، نہیں لگتا،، وہ جیسے پتھرا گئی تھی…

وہ دو زانو ہو کر اس کے پاس بیٹھا،، چہرے پر بھیانک شیطانی مسکراہٹ تھی۔ ہاتھ سے اس کا سکارف رفتہ رفتہ کھینچتے ہوئے بولا،، اب تم مجھے وہ کرنے پر مجبور کر رہی ہو جو میں ہر گز کرنا نہیں چاہتا ۔،،،

وانیہ کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز اٹھا اس کی بات سمجھ کر… خوف سے آنکھیں پھٹ پڑیں اور وجود کانپنے لگا،،
نہیں،، نہیں،، پلیز مجھے چھوڑ دو،، جانے دو مجھے،، میں بھیک مانگتی ہوں اپنی زندگی کی تم سے،، رحم کرو مجھ پر،، تمھیں خدا کا واسطہ ۔،،
میں پاؤں پکڑتی ہوں تمھارے،،

جب وانیہ اس کے حسب منشاء گڑگڑانے لگ گئی تو وہ زور زور سے قہقہے لگانے لگ پڑا۔

اف کتنا سکون ملا کتنے دنوں بعد،،،، وہ دیوار کی طرف رخ کیے کھڑا تھا،، اچانک مڑا اور چاقو کی لوہے کی دستی وانیہ کے سر میں ماری
۔
وانیہ کے منہ سے درد ناک چیخ نکلی تھی اور وہ دائیں کروٹ زمین پر جا گری۔، زخم سے خون ابل پڑا تھا،

سیف تیزاب کا ڈرم اس کے پاس لا رہا تھا ۔ وہ آنے والی موت کو اپنی طرف بڑھتے دیکھتے ہوئے بےہوش ہو گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،

شفان اور حارث اس کا پیچھا کرتے ہوئے شہر سے دور نکل آئے تھے ۔سنسان جگہ پر سڑک سے قریباً ہٹ کر ایک بڑا پرانا سا خالی مکان تھا جہاں سیف وانیہ کو لایا تھا ۔

انھوں نے پورا مکان گھیرے میں لے لیا تھا۔

پھر جب سیف وانیہ کو باندھ کر دوسرے کمرے میں آکر اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا،،

تب شفان حارث اور ان کی ٹیم وہ سب اندر تک گھس آئے تھے ۔دونوں کمروں کو کور کر لیا گیا تھا کمروں میں کھڑکیاں بھی تھیں لیکن بند تھیں وہ انتظار کرنے لگے۔،،ان دونوں نے اپنے موبائل فونز ریڈی کر لئے ۔

وہ سیف کا اقرار جرم ریکاڈ کرنا چاہتے تھے..

وانیہ کو ہوش آیا تھا،، کہ تبھی سیف دوسرے کمرے سے اس کمرے میں داخل ہوا..

اور شفان کی خوش قسمتی سے سیف نے کھڑکی کھولی اور سیور بھی آن کر دیا ۔

کھڑکی پر پردے بھی تھے جو ان کو کور کئے ہوئے تھے..

اب با آسانی وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتے تھے ۔،

اور پھر انھوں نے ساری ریکارڈنگ کی۔،

جب وہ چیخ چیخ کر اپنی محبت کا اعتراف کر رہی تھی تب حارث نے شکایتی نظروں سے شفان کی طرف دیکھا تو ون نظریں چرا گیا۔

شفان کو حیرت ہوئی تھی اس نازک لڑکی کی چٹان جیسی محبت پر۔

وہ. موت کو گلے لگانے کو تیار تھی لیکن اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھی..

اور مایا کے سر پر جب موت کے سائے منڈلائے تو وہ اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو تیار ہو گئی تھی لیکن وانیہ نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا. حیران کن… وہ حیرت سے گنگ ان دونوں کی محبت کا موازنہ کرنے لگا. وانیہ کا پلڑا بھاری تھا.

کئ دفعہ تو شفان سیف کے ظلم سے غصے سے بے قابو کر اندر جانے لگا اور جب اس نے وانیہ کے سکارف کو ہاتھ لگایا تو اس کا دل کیا وہ پوری دنیا کو آگ لگا دے.. سیف کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کووں کو کھلا دے…. لیکن حارث نے اسے دبوچے رکھا..

لیکن جب وہ تیزاب کا ڈرم اس کے پاس لایا اور ڈھکن کھول چکا تب حارث تیزی سے حرکت میں آیا۔،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،

سیف زمین پر پڑے ڈرم کا سکون سے ڈھکن کھول رہا تھا تب ایک سنسناتی گولی گھٹنے کے اوپر اس کی ٹانگ کو چیرتے ہوئے نکل گئی اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ پرے دیوار سے جا ٹکرایا ۔،اور کٹے بکرے کی طرح چنگھاڑنےلگا۔،،

حارث اور شفان اندر داخل ہوئے تھے حارث نے سیف کے اوپر پسٹل تان لی تاکہ وہ کوئی حرکت نا کر سکے،

شفان وانیہ کے اوپر دیوانہ وار جھکا اس کا سر اٹھا کر گود میں رکھا،،

وانیہ،،، وانی اٹھو آنکھیں کھولو خدا کے لئے میری جان پلیز آنکھیں کھولو . ،، اس نے نرمی سے اس گال تھپتپھائے
وہ دیوانوں کی طرح اسے پکار رہا تھا،،

سیف زور زور سے مکرو قہقہے لگانے لگ گیا ۔،

یہی،،،،،، یہی تڑپ دیکھنا چاہتا ہوں میں تمھارے چہرے پر شفان صاحب… کیسا لگا میرا دوسرا وار…. ہاہاہا ہاہاہا ۔،،

حارث نے غصے سے اسے ایک ٹھوکر رسید کی۔،لیکن وہ ہنستا رہا ۔،لیکن اس کی ہنسی غائب ہوئی تھی جب،،،،

وانیہ نے زرا سی آنکھیں کھولی تھیں اور اسے خود پر جھکے ہوئے پایا۔، ہاتھ بڑھا کر اسے چھو کر اس کے ہونے کا یقین کرنا چاہتی تھی ۔اس کے گال کو چھوا اور پھر بے ہوش ہو گئی ۔،

شفان نے بڑی شدت سے اسے اپنے سینے میں بھی چا.. اور قہر برساتی نگاہوں سے سیف کو دیکھا۔،

تم مجھے تڑپانا چاہتے تھے ناں۔، لیکن دیکھو کیسے بےوقوفوں کی طرح میرے جال میں پھنس گئے اور اب تڑپو گے تو تم۔، میری خوشیاں دیکھ کر۔، میں چیلنج کرتا ہوں تمھیں کے ایک مہینے کے اندر میں اس سے شادی کروں گا۔ اسے اپنی زندگی میں لاؤں گا… اسے اپنا بناؤں گا… تمھیں تل تل انگاروں پہ گھسیٹوں گا ۔، اگر اپنے اصلی اور ایک ہی باپ کے ہوئے تو روک کر دکھانا ۔،،

شفان کے ہر لفظ کے ساتھ سیف کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا اور وہ بری طرح اٹھ کر مارنے کو دوڑا اور مغلظات بکنے لگا، ۔لیکن حارث نے اسکی درگت بنائے رکھی…

شفان نے آہستگی سے وانیہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور لا کر پچھلی سیٹ پر لٹا دیا وہ۔اسے ہاسپٹل لایا۔،

سیف کو حراست میں لے کر حارث تھانے لے گیا تھا ۔