Khuwab Or Khusbhu By Wahiba Fatima Readelle50090

Khuwab Or Khusbhu By Wahiba Fatima Readelle50090 Last updated: 16 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Or Khushbu

By Wahiba Fatima

وہ بھاگ کر اوپر پہنچی تو کانپ اٹھی۔ مایا کے کمرے کے سامنے بڑے ہال میں میرب بے ہوش پڑی تھی، وہ پھٹی پھٹی آنکھیں لیے تھوڑا آگے بڑھی

آگے کا منظر بے انتہا بھیانک تھا ۔اس کی روح کانپ گئی اور رونگٹے کھڑے ہوئے تھے. پورا جسم جیسے زلزلوں کی زد میں آیا تھا. ۔صرف ایک نظر ہی دیکھ پائی اور بے یقینی اور دہشت کے مارے چہرے پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں زور سے بھینچیں تھیں،

اندر خون کی ندی بہہ رہی تھی، بیوٹیشن کمرے کے ایک کونے میں بے ہوش پڑی تھی ۔

جبکہ دلہن کی تیزاب سے مسخ شدہ لاش صوفے پر پڑی تھی ۔کسی تیز دھار آلے سے گلا کاٹا گیا تھا ۔

اتنے میں بھگدڑ مچی تھی ۔ریان،سارا سمیرہ اور میرب کے پاپا ہال میں پہنچے تھے، ان کے پیچھے شفان ،ایس پی حارث اور کئ پولیس آفیسر اندر داخل ہوئے تھے ۔

ایک پولیس آفیسر نے باقی کسی کو بھی اندر آنے سے روکا ہوا تھا۔شفان نے کُلا اتار کر پھینکا تھا، اور پاگلوں کی طرح سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر آیا کے تبھی ریان ثمر اور مایا کے پاپا نے اسے اندر جانے سے روکتے ہوئے سختی سے دبوچ لیا تھا ۔

کتنا کم وقت لگا تھا خوشیوں کے لمحوں کو ماتم میں بدلتے ہوئے ۔شفان فرش پر گھٹنوں کے بل گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا سب بے تحاشا رو رہے تھے ۔یہ کیا ہوا تھا ان کے ساتھ..

۔مایا کی ماما غش کھا کر بے ہوش ہو گئی تھی ۔ میرب بھی ہوش میں آ کر چلائے جا رہی تھی ۔ مایا کا بھائی سیف بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا ۔سب سے پہلے یہ ہولناک منظر اسی نے ہی دیکھا تھا ۔اسی نے پولیس کو انفارم کیا تھا۔

پولیس اندر اپنی انویسٹیگیشن میں مصروف تھی ۔

وانیہ دیوار سے لگی بے تحاشا رو رہی تھی ساتھ سمیرہ بھی کھڑی تھی ۔وہ دیوانوں کی طرح روتے ہوئے شفان کو دیکھ رہی تھی کہ کتنا دردناک تھا اپنے عشق کو یوں تڑپتے ہوئے دیکھنا کہ اچانک شفان نے خاموش ہو کر وانیہ کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا تھا، اس وقت اس کی زہنی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔ وہ دندناتا ہوا وانیہ کے مقابل آ کر کھڑا ہوا تھا، وہ اس کے جارحانہ تیور دیکھ کر سہمی تھی،،

تم،،،، تم کیوں اتنا سجی سنوری ہوئی ہو کس بات کی اتنی خوشی ہے ۔ سب ہق دق اسے دیکھ رہے تھے ۔ وانیہ نے ادھر ادھر دیکھ کر بے حد بے بسی اور بیچارگی کے ساتھ کہا یہاں سب ہی تیار تھے،، اکیلی میں،،،،،،

شٹ اپ،،،،، وہ دھاڑا،، وا نیہ سہم گئی اور بلک بلک ہاتھوں میں منہ چھپا کے رو دی یہی چاہتی تھی ناں تم،،،، لو دیکھ لو ہو گیا ۔۔اب یہ جھوٹے آنسو کیوں بہا رہی ہو ۔جاؤ جا کے جشن مناؤ،،،،تھمارے تو دل کی مراد پوری ہوئی ہے. راہ کا کانٹا جو صاف ہو گیا..

چٹاخ،،،، ریان نے زور کا طمانچہ مار کر شفان کو ہوش دلانے کی کوشش کی۔ سب ہکا بکا رہ گئے تھے اس کے اس عمل سے۔

پاپا یہ یہی چاہتی تھی ۔وہ پھر بے قابو ہوا،،، ثمر اور حارث نے اسے زور کے پکڑا ہوا تھا

شفان تم ہوش میں نہیں ہو بکواس بند کرو ۔اور بند کرو یہ تماشا ۔ ریان بھی دھاڑے تھے،، پاپا اس کو کہیں یہاں سے چلی جائے ۔میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔دفعہ ہو جاؤ... میری زندگی سے دور چلی جاؤ.. تمھاری بددعا ؤں نے برباد کر دیا مجھے.. وہ پاگلوں کی طرح اپنے بال مٹھیوں میں دبوچے فرش پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.

وانیہ نے ایک بےبس نگاہ سمیرہ پر ڈالی اور وہاں سے بھاگی۔۔ بے تحاشہ روتے ہوئے وہ نیچے اتری اور باہر آگئ۔

دو اجنبی نگاہوں نے اس کا آخر تک اور بڑی گہرائی سے تعاقب کیا تھا۔

کتنی بدنصیب تھی مایا۔، وہ زندگی کے اس موڑ پہ تھی جہاں 99پر آ کر زندگی ہار گئی تھی اور ایک سانپ نے اسے کٹ کر دیا تھا ۔ اس کی آخری خواہش پوری ہوئی تھی، اپنے پاپا کے گھر سے رخصت ہونے کی ۔۔اور اگر قیامت آنی تھی تو جو مایا کے ساتھ ہوا پھر وہ کیا تھا ۔؟؟؟؟؟؟

وہ باہر لان میں آئی تو سامنے تانی کھڑی رو رہی تھی لیکن وانیہ کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر چونکی،، وانی کیا ہوا؟؟؟؟ بتاو تو سہی،،، اور مایا کو کیا ہوا،، تانی پلیز ۔،مجھے یہاں سے۔،،، لے جاؤ ۔،۔،،میں مر،، جاؤں گی۔۔رو رو کر اس کی ہچکی بندھ گئی تھی ۔

تانی بےحد پریشان ہوتی اس سنبھالتی ہوئی گھر لے آئی ۔۔