Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 14

وانیہ نے اس خود پر جھکے دیکھا تو بوکھلائی… اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی… نیند سے بھری خمار آلود، سوالیہ نگاہوں سے اپنے مجازی خدا کو دیکھا جو خود تھکن سے چور لگ رہا تھا

کیا یار…. تھکا ہارا آیا ہوں.. بھوک لگی ہے پلیز کھانا دے دو.. شفان نے بظاہر سنجیدگی سے کہا.. مسکراہٹ بمشکل دبائی..

شفان کو اس کی نیند بگھانے کا انوکھا بہانہ میسر ہو ہی گیا جبکہ وانیہ اتنی رات کو اس کی اس طرح فرمائش سے دنگ رہ گئی…

آپ کب آئے؟

ابھی……… .. پلیز کھانا دے دو یار…وہ بےچاری سی شکل بنا کر بولا تو وانیہ کو اٹھنا پڑا…

اور پھر… دنیا کے انوکھے دلہا دلہن آدھی رات کو کچن میں گھسے ہوئے تھے

شفان آ کر ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر گہری پر تپش نظروں سے اس کا سر تا پا جائزہ لینے لگا…. وہ جو کھانا اون میں گرم کر رہی تھی..بغیر دیکھے بھی اس کی معنی خیز نگاہیں خود پر محسوس کر کے بری طرح گھبرائی.

اس کا رخ اون کی طرف تھا.. دونوں کندھوں پر دوپٹہ پھیلایا ہوا تھا جبکہ اسٹائلش ہیر سٹائل بنائے ہوئے بال سارے آگے کی جانب گرائے گئے تھے جن میں موتی اور چھوٹے پھول لگے ہوئے تھے. پیچھے کا گلا کافی گہرا تھا جنھیں ڈوریوں سے باندھا گیا تھا..

اس کی سرسراتی، سلگتی نظر اپنی پیٹھ پر محسوس کر کے اس نے بلا وجہ دوپٹہ درست کرتے ہوئے سر پہ لیا اور اپنا مہکتا وجود چھپانے کی کوشش کی.

شفان کے چہرے پر بڑی بے ساختہ اور گہری مسکان آئی.

اس نے کھانا سرو کیا. نظریں جھکائے گھبرائی ہوئی سی وہ سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی.. وہ مڑ کر جانے لگی تو شفان نے اس کی کلائی تھام کر اپنے برابر کرسی پر بٹھایا.

پلیز یار… مجھے جوائن کرو.. ایسے تو مجھ سے نہیں کھایا جائیے گا… وہ پھر بیچارہ بنا..اچھا تم مجھے کھلاؤ. اس کی انوکھی فرمائش پر پھر وانیہ گھبرائی

پپ……… پلیز آپ خود کھا لیں ناں… وہ آہستگی سے منمنائی..

نہیں تم ہی کھلاؤ.. وہ ضدی ہوا.. پھر ناچار وانیہ نے اسے جیسے تیسے کھلایا اور چھوٹے چھوٹے نوالے خود بھی اس کی فرمائش پر لئے.. اس دوران بھی اس کی نرم گرم نظر نے اس کے وجود کا احاطہ کیے رکھا اور وانیہ نے بھی شرم کے بار سے نظریں جھکائے رکھیں..

کھانا ختم ہوا تو وانیہ نے سکھ کا سانس لیا..

وہ اس کا ہاتھ تھامے کمرے میں داخل ہوا…. وانیہ ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی… شفان نے مڑ کر لاک لگایا.

وہ بوجھل قدم اٹھاتا بلکل اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا..

May I?
وہ جو جیولری اتار رہی تھی اس کی اجازت طلب کرنے پر سر جھکا گئی..

چوڑیاں اور کنکن تو وہ اتار چکی تھی.
شفان نے نرمی سے اس کے گلے سے نیکلس اتارا… پھر ائیر رنگ اتارے..

وہ اس کے پیچھے اتنے قریب تھا کہ اس کی گرم سانسوں کی لو دیتی تپش وانیہ کی گردن پر پڑ رہی تھی. اس کی پیٹھ اس کے چوڑے کسرتی سینے سے ٹکرا رہی تھی.

پھر شفان نے نرمی سے اس کے بالوں سے پھول اور موتی چنے.. اپنی پینٹ کی پاکٹ سے ایک نفیس سا پینڈینٹ نکالا جس میں چھوٹا سا دل بنا ہوا تھا… اور چھوٹے چھوٹے ہیروں سے S. لکھا ہوا تھا.

پینڈینٹ اس کی گردن میں پہنایا…

یہ تمھاری منہ دکھائی.. شفان نے اسے کندھوں سے تھام کر کہا..پھر شفان کے ہاتھ اس اپنی ڈوریوں میں الجھے محسوس ہوئے تو وہ ایکدم گھبرائی.. پلٹ کر دیوار کے ساتھ کمر لگا لی..

اس کی اس معصوم حرکت پر شفان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی جاں نثار کرنے والی آواز میں اسے پکارا.

وانی…….. میری جان….. جزبات سے بوجھل آواز گھمبیر ہوئی
جج……… جی وہ ہلکے سے کپکپا رہی تھی.

بھوک تو مٹ گئی یار پر میری پیاس کون بجھائے گا… وہ شرارت پر آمادہ ہوا.

مم……میں . پانی لاتی ہوں.. وہ جانے لگی تو شفان نے دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ دئیے.. اس نے الجھ کر سر اوپر اٹھایا تو شفان کی نظریں اپنے ہونٹوں پر دیکھ کر اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر پانی پانی ہو گئی.

مم……. مجھ…… مجھے نیند آ رہی ہے.. وہ… وہ ڈریس چینج کرنا ہے.

اوکے ٹھیک ہے… جانے دوں گا اور سونے بھی دوں گا پر ایک شرط پر

وانیہ نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا… بے یقینی سے اسے دیکھا.. اس کی اتنی شرافت وانیہ کو ہضم نہیں ہوئی

کک……….. کونسی سی شرط……..

تم شرط مانو گی؟
جج………….جی

اور اگر ڈر گئی؟ شرط نہ مانی تو؟……….. تو سزا میری مرضی کی… انداز چیلنجنگ تھا… وانیہ دونوں طرف سے پھنس چکی تھی. کہاں وہ اتنا چالاک اور کہاں وہ معصوم سی

بتائیں….. کیا شرط ہے..وہ آہستہ سے بولی

اوکے ناؤ…………… کس می……….

وہ پوری جان سے کانپی… کہ شفان اسے نا تھامتا تو وہ نیچے ہی جا پڑتی..

شفان نےاس کا دوپٹہ نرمی سے اتار کر صوفے پر رکھا اور اسی نرمی سے اسے گود میں اٹھایا… لا کر بیڈ کے درمیان بٹھایا اور خود بھی اس کے بلکل قریب دوزانو ہو کر بیٹھ گیا..

تو جلدی سے بتاؤ میری جان… شرط پوری کرنی ہے کہ سزا بھگتنی ہے؟

مرتا کیا نا کرتا کہ مصداق… وانیہ نے نیند سے بوجھل آنکھوں سے آہستہ سے کہا.

آااااااپ. آپ اپنی آنکھیں بب…..بند . کریں

اوکے. شفان تو خوشی سے جھوم اٹھتا لیکن خود کو کنٹرول کیے زور سے آنکھیں بند کر لیں

وانیہ شرماتی… جھجھکتی تھوڑا اوپر کو ہوئی.. اس کی خوشبو شفان کو پاگل کیے دے رہی تھی… لیکن اسے تنگ کرنا بھی بے حد اچھا لگ رہا تھا…

وانیہ نے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھے…

شفان کو گداز سا لمس اپنے کندھوں پر محسوس ہوا.. تو مسکراہٹ بہت گہری ہو گئی.

پھر یکدم پھولوں سے بھی نازک سا لمس اپنی دائیں گال پر محسوس ہوا….. اور خاموشی چھا گئی..

یہ کیا تھا…. اس نے آنکھیں کھول کر نروٹھے پن سے کہا…

کک…………… کس.. وہ نظریں جھکائے بولی

یہ کس تھی… اس کی آنکھیں پھیلی… میں نے تمھیں یہ نہیں کہا تھا کے بچوں کی طرح میری گال چومو… شرط کس کی لگی تھی…. اور کس یہاں ہوتی ہے میری پاگل بیوی.. اس نے انگلی سے معصومیت سے اپنے ہونٹوں کی طرف اشارہ کیا.

Now come on complete your bet…..

وانیہ بری پھنسی تھی..

آآپ.. جان بوجھ کر مجھے تنگ کر رہے ہیں… وہ منہ بنا کر بولی

نہیں میری جان تنگ تو تم مجھے کر رہی ہو.. وہ بھی شدید قسم کا…..
Now come on do it….

آاااااااانکھیں….اس نے ھاتھ مروڑتے پھر کہا..

شفان نے جھٹ سے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں.

وہ پھر اس کے قریب آئی… جھجھکتے ہوئے اس کی کالر سے شرٹ مضبوطی سے تھامی.. اور اپنے نرم اور نازک لب اس کے لبوں پر رکھے…..

شفان تو اس کے شرٹ پکڑنے سے ہی مدہوش اور بے خود سا ہو گیا تھا… اس پر قیامت وہ نرم گرم لمس اپنے لبوں پر ملتے ہی پاگل ہو گیا…… اس سے پہلے وہ فوراً دور ہٹ کر اس کی جان لیتی..

شفان نے مضبوطی سے ایک ہاتھ سے اس کمر کو حصار میں لیتے ہوئے خود میں بھینچا. اور دوسرا ہاتھ اس کے بالوں میں پھنسایا. اسے بیڈ پر گرا کر اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا…..

وانیہ بھی خود سپردگی کے عالم میں اور اس میں سمٹ گئی… اس کی شدتوں اور محبتوں میں پور پور ڈوبنے لگی..

وہ دونوں خوش قسمت تھے جنہیں محبت نے یہ خراج بخشا تھا… کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ہو گئے تھے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے…

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اگلے دن 9 بجے وانیہ کی آنکھ کھلی تو خود کو شفان کے مضبوط حصار میں پایا….

کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا… اس نے آہستگی سے اپنا پورا زور لگا کر شفان کا خود پر سے بازو ہٹایا… اور آٹھ کر بیٹھ گئی.

غور سے زرا جھک کر شفان کا خوبصورت چہرہ دیکھا جو نیند میں بلکل کسی معصوم سے بچے کی طرح لگ رہا تھا.. ورنہ جاگتے میں تو اکثر خود ایک سائکائٹرسٹ ہونے کے باوجود اپنا ٹیمپر جلد ہی لوز کر لیا کرتا تھا..اس نے جھک کر اس کے کان پر اپنے لب رکھے اور آہستہ سے کہا
سائیکو..

وہ عشق تھا اس کا…. اس کی بچپن کی محبت… اس کا سب کچھ.. سوچا نہیں تھا کہ تقدیر یوں بھی مہربان ہو جائے گی اس پر.. وہ اپنی قسمت پر نازاں ہوئی.. زرا جھک کر عقیدت سے اس کی گال پر اپنے لب رکھے

اس نے اسے شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے بھی کئی بار دیکھا تھا… لیکن رات تو اس نے شفان کا انوکھا ہی روپ ملاحظہ کیا تھا. رات کا سوچ کر وہ پھر سرخ ہوئی..

اس نے نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا..ایک مرتبہ پھر اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھ کر پیچھے ہٹنے والی تھی کہ شفان اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حائل کرتا ہوا بولا.

یہ چوری چوری کیا ہو رہا ہے جانم….. اس نے شرارت سے بند آنکھیں کھولیں.. .. میں تو اس وقت سے جاگ رہا ہوں جب سے میرا سکون میری بانہوں سے نکل کر دور ہوا مجھ سے.. بےحد شرارتی لہجہ تھا

وہ ڈر کر ایک دم اچھلی. توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے… ایک مرتبہ پھر اس کے سینے میں جا سمائی.

آپ بہت برے ہیں.. قسم سے.. وہ منہ بنا کر بولی.

شفان نے ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر سر زرا سا اونچا کیا دوسرے ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کیے وہ بے حد دلچسپی سے اپنی زندگی کی طرف دیکھ رہا تھا.

اچھاااااا… تو میں نے کیا برا کر دیا اپنی جانم کے ساتھ؟….

آپ اس وقت سے مجھے چھپ کر دیکھ رہے ہیں.وہ نروٹھے پن سے گویا ہوئی.. مجھے جی بھر کر دیکھنے بھی نہیں دیا اور پیار………… وہ روانی میں کیا بول رہی تھی احساس ہونے پر ہونٹ سختی سے دانتوں نیچے دبایا

شفان کا قہقہہ بےساختہ تھا… وہ شرم سے لال ہوتی اسی کے سینے میں اپنا منہ چھپا گئی.

شفان نے اچانک کروٹ بدل کر اسے نیچے گرایا اور خود اس پر قابض ہوتا بولا

تو کس نے کہا ہے جانِ شفان کے پیار نہ کرو.. صرف اور صرف تمھارا ہوں.. پورے حق سے ڈنکے کی چوٹ پہ کرو پیار.. وہ معنی خیز سا بولا تو وانیہ نے ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا..

وہ پھر زندگی سے بھر پور ہنسی ہنس دیا… اچھا ادھر دیکھو… میری طرف…… اس نے اس کے ہاتھ ہٹا کر تکیہ سے لگائے…

کرو پیار مجھے….. میں پھر آنکھیں بند کر لیتا ہوں…

جی نہیں… میں اب آپ کی باتوں میں نہیں آنے والی.. نا ہی آپ کے جال میں پھنسوں گی.. وہ معصومیت سے بولی..

شفان کی مسکراہٹ گہری ہوئی… حالانکہ ڈئیر وائفی اس وقت تم پوری طرح میرے جال میں ہی پھنسی ہوئی ہو. وہ اسے اس کی سچویشن یاد دلاتا بولا.

اچھا چھوڑیں ناں…. سب بریک فاسٹ پر ویٹ کر رہیے ہوں گے… وہ اس کے حصار میں کسمسائی.

نہیں پہلے مجھے میرا بریک فاسٹ کرنے دو.. یہ کہہ کر وہ اس کی گردن پر لب رکھتے ہوئے جھکا…

وانیہ کی ایک مرتبہ پھر بولتی بند ہوئی… وہ گردن سے ہوتے ہوئے اس کے لبوں تک آیا….کئی پل محبت کا جام پیتے ہوئے بیت گئے

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

دروازے پر ہلکی دستک ہوئی تو وانیہ بری طرح ہڑبڑائی جبکہ شفان نارمل سا اس سے دور ہوتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا..

وانیہ آٹھ کر فریش ہونے چلی گئی… شفان نے دروازہ کھولا تو سامنے میرب بھابھی تھی..دونوں اندر آئے

اسلام و علیکم…. دیور جی… نئی زندگی کی صبح مبارک ہو. میرب نے مسکراتے ہوئے اسے وش کیا
شکریہ بھابھی….. اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا.

میں دیور بعد میں پہلے آپ کا لاڈلا بھائی ہوں.
اس کی بات پر میرب مسکرا دی

پھپھو اور تانیہ رات ہی اپنے گھر واپس چلیں گئی تھیں… ہمارے بے حد اصرار پر بھی نہیں رکیں اب ناشتہ لے کر آئیں ہیں تم لوگ جلدی سے فریش ہو کر آ جاؤ..

جیسا آپ کا حکم میم……. میرب کہتی ہوئی واپس چلی گئی… اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ بیڈ سے غائب تھی.. شفان کی مسکراہٹ بے ساختہ تھی.

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ ڈائینگ ٹیبل پر آئے تو سب موجود تھے…. وانیہ سمیرا اور تانی کے گلے ملی…. سب بے حد خوش تھے..

خوشگوار ماحول میں بریک فاسٹ ہوا… میرب اور ثمر شفان سے چھیڑ چھاڑ میں مصروف رہے.. تانی اور نمی کی نوک جھونک جاری رہی. سارا، سمیرا اور ریان اپنے بچوں کی بلائیں لیتے نہیں تھک رہے تھے

ناشتہ کے بعد سمیرا نے شفان کے سر پہ بم پھوڑا….

شفان ہم وانیہ کو لے کر جا رہے ہیں..رات کو بیگم کو واپس لے آنا بھئی مکلاوے کی بھی تو رسم باقی ہے. . رات کا ڈنر سب ادھر ہی کریں گے…

شفان نے دل میں مکلاوے کی رسم بنانے والے پر لعنت بھیجی… بظاہر مسکرا کر بجھے دل کے ساتھ روہانسا سا بولا
جی پھپھو جیسا آپ مناسب سمجھیں…

اس کے اس انداز پر سب نے اپنی ہنسی دبائی…

جاو وانیہ اپنے لئے رات کا ڈریس لے آؤ… سارا نے اسے روم میں بھیجا تو شفان بھی بہانے سے اٹھ آیا..

وانیہ الماری میں سے ڈریس نکال رہی تھیں جب شفان اس کے پیچھے ہی آن دھمکا…

یار وائفی یہ کیا ظلم ہے……. وہ روہانسا ہوا

وانیہ کو ہنسی آئی… کیا ہوا ہے؟ اس نے بمشکل ہنسی دبا کر کہا

لوگ نوبیاہتا جوڑے کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں.. یہاں تو الٹا ہی ہے.. وہ منہ بنا کر بولا

آپ بھی ناں………….. رات تک کے لیے ہی جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے تھوڑی جا رہی ہوں… وانیہ نے اس چھیڑا

اے……………. شفان نے ڈریس نکالتے ہوئے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا….. آواز میں سختی تھی اور ماتھے پر ڈھیر سارے بل..

آج یہ بات منہ سے نکالی… تم نے کہی اور میں نے سن لی… آئندہ کے بعد یہ بات سنی میں نے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا.

وانیہ ڈرنے کی بجائے اندر تک سرشار ہوئی… وہ اس کے معاملے میں اتنا شدت پسند ہو چلا تھا وانیہ کو یہ بات سکون پہنچاتی تھی..

اچھاااااا….. کیا کریں گے آپ…….. وہ صاف اسے چڑا رہی تھی جانتی تھی اب وہ جانے والی ہے کچھ ہی دیر میں تو شفان ہاتھ ملتا رہ جائے گا…

تو….. وہ پر سوچ ہوا… تو رات والی ڈوز بڑھ جائے گی… برداشت نہیں کر پاؤ گی میری شدتیں… شفان نے اسے دھمکایا

اچھااااااا..کب .. میں تو جا رہی ہوں.. وانیہ نے پھر چھیڑا اور بمشکل اپنی ہنسی دبائی… وہ ڈریس اور اپنی ضروری چیزیں نکال چکی تھی اب وہاں سے بھاگنے کا سوچ رہی تھی

اچھاااااا…….. اب جا رہی ہو رات کو تو یہیں ہو گی ناں میری دسترس میں…

امی میں آ ہی رہی تھی.. وانیہ نے دروازے کی طرف دیکھ کر بولا تو شفان جو وانیہ کا راستہ روک کر کھڑا تھا بوکھلا کر پیچھے ہٹا… مڑ کر دیکھا تو دروازے پر سمیرا تو کیا کوئی بھی موجود نہیں تھا…

وانیہ دروازے کی طرف دوڑی… کھلکھلا کر ہنسی… شفان نے غصے سے منہ پر بدلا لینے والے سٹائل میں ہاتھ پھیرا

رات کی رات کو دیکھی جائے گی ڈئیر ہبی… چھوٹی سی ناک چڑا کر بولی…. وہ اسے منہ چڑاتی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی.

شفان کی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ لبوں پر بکھر گئی…