Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

خواب اور خوشبو
از واحبہ فاطمہ

Episode 13

کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھول کر وہ دیوانہ وار بیڈ کی طرف آیا.اس کے لہنگے کے سرخ رنگ سے شفان کو بے تحاشا وحشت ہوئی.اسے جابجا خون نظر آ رہا تھا.. دیوانگی اور جنون کی یہ کونسی انتہا تھی جو اس وقت شفان کے سر چڑھ کر بول رہی تھی…

. وہ جو سر جھکائے بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی.. اسے یوں بوکھلائے افتاں خیزاں اپنی طرف آتا دیکھ کر خوفزدہ سی ہو گئی

شفان نے اسے کلائی سے کھینچ کر بیڈ سے نیچے اتار کر اپنے مقابل کھڑا کیا… اس کے ہاتھ دیوانہ وار اس کا جسم ٹٹولنے لگے..

تم…. تم.. ٹھیک ہو ناں… تمھیں کوئی چوٹ تو نہیں لگی ناں… یہ خون کیوں ہے تمھارے جسم پر…. توڑ توڑ کر الفاظ ادا کرتا وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا…

وانیہ نے حیرت سے شفان کی طرف دیکھا… یہ وہ کیا بول رہا تھا… میں ٹھیک ہوں.. آپ کو کیا ہو گیا ہے… آااااااپ ٹھیک تو ناں..

شفان نے بہہہت سختی سے اسے خود میں بھینچ لیا.. وانیہ درد سے کسمسائی..آنکھیں نم ہو گئیں. اسے لگا آج اس کی پسلیاں ہی کڑک جائیں گی.

نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں… تم بھی ٹھیک نہیں ہو چلو ہوسپیٹل چلتے ہیں.. تم ٹھیک ہو جاؤ گی.. میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں… کچھ بھی نہیں.. تم میری ہو.. صرف میری…. میں تمھیں کہیں نہیں جانے دوں گا… کبھی نہیں

شش… شفان… مجھے درد ہو رہا ہے پلیز چھوڑیں.. وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی..

آہہہہہہہہہہہہہ…….. وانیہ کے چیخ مار کر جھنجھوڑنے پر وہ یکدم اپنے حواسوں میں لوٹا تھا..

وہ ٹھیک بلکل اس کے سامنے تھی اسکی تنے اعصاب زرا ڈھیلے پڑے..

میں ٹھیک ہوں… آپ کو کیا ہو گیا ہے… آاا… آااااااپ ٹھیک تو ہیں ناں وہ سسکی.

شفان نے نرمی سے ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ بھر کر اوپر اٹھایا…تم ٹھیک ہو تو میں بھی ٹھیک ہوں…میری جان. شفان نے اپنے لبوں سے اس کے آنسو چنے.

تم ریلیکس ہو جاؤ… اور آرام کرو.. مجھے کچھ ضروری کام ہے میں ابھی آتا ہوں پریشان مت ہونا.. اوکے
وانیہ نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلا دیا.

آپ کہاں……….

شششش… کوئی سوال نہیں بس آرام کرو…
یہ کہہ کر شفان نے اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا… اس کے ہوشربا حسن سے نظریں چرا کر الماری کی طرف بڑھا… الماری سے اپنی گن نکال کر وانیہ کی نظروں سے چپھا کر جو اس کی ہر سرگرمی دیکھ رہی تھی.. پینٹ کی جیب میں ڈالی.. کوٹ اور ٹائی اتار کر صوفے پر اچھالی..

اور کمرے سے نکلتا چلا گیا… کمرے کا باہر سے لاک لگا کر دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں سہلا کر خود کو ریلکس کرنے لگا…

غصہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے.. اس نے سیف کی بات پر دھیان دینے سے پہلے یہ کیوں نہ سوچا کہ وہ اس کے اپنے گھر میں اس کے پاس ہے. سکیورٹی بہت ٹائٹ ہے.. اس کے ایک تکے سے ہی وہ اپنا آپا کیوں کھو بیٹھا..

یہی تو وہ چاہتا ہے کہ شفان دماغ کا استعمال زیادہ نہ کرے.. اور ایسا وہ ہر گز نہیں ہونے دے سکتا… سیف نے غلط جگہ ٹکر لی تھی.
اس نے دوبارہ وہی نمبر ڈائل کیا جو کہ پہلی بیل پہ رسیو کر لیا گیا…

مقابل کے طنزیہ شیطانی قہقہے فون میں سے سنائی دئے..

کیوں کیسا لگا جھٹکا…. یہیں ہوں میں تمھارے آس پاس…

شفان کچھ نہ بولا تو وہ بھڑکا..

آ رہا ہوں میں ایک مرتبہ پھر سے تمھیں برباد کرنے.. اس کی آواز میں خباثت تھی… پہلے تم سے تمھارے جینے کی وجہ تمھاری آنکھوں کے سامنے چھینوں گا… اور پھر اب کی بار تمھیں بھی زندہ دفن کروں گا…

شفان کا قہقہہ فون میں بلند ہوا تو سیف نے فون ہٹا کر فون کو گھورا…

کتے صرف بھونک ہی سکتے ہیں… سیف یاور… جبکہ شیر کب شکار پر جھپٹ پڑیں..انھیں پتہ بھی نہیں چلتا… کونسی بل میں دبک کر بیٹھے ہو… پتہ ہے مجھے… تم کیا آؤ گے تم خالی بھونک سکتے… میرا انتظار کرو میں آ رہا ہوں… اور اس بار تمھارا سر ہی دھڑ سے الگ ہو گا… نہ کوئی عدالت نہ کاروائی..
باؤلے کتے ہوں یا انسان جو دوسرے انسانوں کو کاٹنے لگیں ان کا انجام آخر گولی ہی ہوتا ہے.

یہ کہہ کر شفان نے فون کاٹ دیا اور فون کر کے حارث کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا…

ریان اور ثمر کو الرٹ کر کے انھیں گھر کا خیال رکھنے کا کہہ کر وہ گھر سے گاڑی پر نکلا… اور حارث کے پاس پہنچا جو بار بار پورے علاقے کو سرچ کر رہا تھا..

شفان کیا ضرورت تھی یار بھابھی کو اکیلا چھوڑ کر آنے کی.. میں ہوں ناں… مانا کہ میری لاپرواہی سے وہ بھاگ نکلا پر کیا تمھیں مجھ پر اتنا بھی بھروسہ نہیں.. وہ خفا سا شفان سے بولا

نہیں.. ایسی کوئی بات نہیں مجھے تم پر پورا بھروسہ.. اس نے سنجیدگی سے کہا. لیکن میں ایک مرتبہ خود ہر طرف سے تسلی کرنا چاہتا ہوں. اپنے سکون کے لیے

پر یار بھابھی کو تمھاری ضرورت ہے.. اس وقت وہ خوفزدہ ہوں گی..

نہیں.. میں نے اسے کچھ نہیں بتایا.. وہ ٹھیک ہوگی.

پورے ایریے کا تفصیلی جائزہ لے کر وہ اس وقت پولیس اسٹیشن بیٹھے اگلا لائحہ عمل ترتیب دے رہے تھے…انھوں نے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات ڈسکس کی تھی..

ہر طرف سے تسلی کر کے شفان حارث سے مل کر ابھی نکلنے ہی والا تھا کہ ایک مرتبہ پھر فون کی گھنٹی بجی.

شفان نے حارث کو اشارہ کیا… حارث فوراً الرٹ ہوا.. اس نے فون یس کر کے سپیکر آن کیا. اور غرایا

بھونک……

آں….. آں…. آااااں…. کیسا لگا میرا شادی کا تحفہ دلہے میاں بہت افسوس کی بات نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر دلہا سڑکیں ناپتا پھر رہا ہے.. ہاہاہا ہاہاہا.فون سے مکروہ قہقہہ گونجا. میرے چند الفاظ میں اتنی طاقت تھی کہ تم نے اپنی فرسٹ ویڈنگ نائٹ سپوئیل کر دی..میرا مقصد ہی یہی تھا فرینڈ کے تم اس سے دور رہو.. وہ صرف میرا شکار ہے.. جب میرے پاس آئے تو بلکل ان چھوئی ہو…

شٹ اپ… یو باسٹرڈ..شفان ضبط کھوتے ہوئے دھاڑا کہ سیف نے فون کانوں سے دور کر لیا.. اپنی گندی زبان پر میری بیوی کا نام بھی لائے تو زبان گدی سے کھینچ کر چیل کووں کو کھلا دوں گا..

جب بولا تو لہجہ انتہائی سرد تھا… کس نے کہا کہ میری نائٹ سپوئیل ہو گئی…. ابھی جا رہا ہوں اپنی زندگی کے پاس… اگر مرد کے بچے ہو تو آؤ مجھے روک کے دکھاؤ…

یو……….. اس سے پہلے کہ سیف پھر بھونکنا شروع کرتا.. شفان نے موبائل پورے زور سے دیوار پر دے مارا.. ایک چھناکے سے موبائل چکنا چور ہو گیا.

ریلیکس یار.. کول ڈاؤن.. حارث نے اس کے کندھے تھپتھپائے..

میں ٹھیک ہوں… اٹس اوکے… اس نے اپنے تنے اعصاب ڈھیلے چھوڑے.. حارث سے معانقہ کیا اور گاڑی لے کر نکل آیا…

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

گھر پہنچا تو ریان اور ثمر بے چینی سے اس کے منتظر تھے.. رات کے 4 بج چکے تھے… اسے خوار ہوتے….

اس نے ریان کو تسلی دی اور مطمئن کر دیا کے سب کچھ ٹھیک ہے..

آپ دونوں جائیں آرام کرے.. سکیورٹی تسلی بخش ہے.. سب گارڈ حارث کے بھروسے مند آدمی ہیں.. میں بھی بہت تھک گیا ہوں پاپا آرام کروں گا…

اوکے بیٹا.. اللہ تعالیٰ بس ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگائے.. تینوں نے بیک وقت آمین کہا اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے…

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

شفان اپنے روم میں داخل ہوا تو ایک مسحور کن خوشبو اس کے حواسوں پر چھائی…. اس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے. اور ایک سکون اور سرشاری سی وجود میں پھیلی.

کمرے کا ماحول اس کے تمام احساسات اور جزبات جگا چکا تھا… ہر طرف تازہ گلابوں کی مہک تھی.. زیرو پاور کے بلب کی مدھم روشنی… گلابوں کی مسہری. اور پھولوں کے بیچ وہ نرم و ملائم اور گداز نازک سا وجود دنیا جہان سے بے خبر نیند کی وادی میں کھویا ہوا تھا.

وہ جہاں اسے لٹا کر گیا تھا وہ وہی پر سوئی ہوئی تھی.. سرخ لہنگے میں..برائیڈل میک اپ کے ساتھ.سر سے دوپٹہ اتار کر سینے پر پھیلایا ہوا تھا.. ایک ہاتھ سینے اور دوسرا تکیہ پر رکھے وہ نازک سی کانچ کی گڑیا لگ رہی تھی..

جیولری بھی نہیں اتاری تھی جس سے وہ نیند میں بھی کافی بے آرام دہ حالت میں لگ رہی تھی..
شفان قریب آیا…

وانیہ…. گھمبیر آواز سے اسے پکارا… وانیہ میری جان… شفان نے اسے بازوؤں سے ہلکے سے ہلایا..

وہ جو بے چین سی تھی نیند سے بوجھل سرخ آنکھیں نیم وا کی…

وانیہ اٹھو یار…اس رات کو کون پاگل سوتا ہے؟…. وہ اس پر جھکا بازوؤں سے ہلاتے جھنجھلایا ہوا سا بولا.

وانیہ کی آدھی آنکھیں اب پوری کھل چکیں تھی.. اسے خود پر جھکے دیکھ کر بوکھلائی… اور اٹھ کر بیٹھ گئی.